Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پاکستان دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے،ایاز صادق

    پاکستان دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے،ایاز صادق

    اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ایران کے ڈپٹی اسپیکر علی نیکزاد کی سربراہی میں پارلیمانی وفد سے ملاقات ہوئی ہے

    ملاقات میں پاک ایران تعلقات، پارلیمانی تعاون، اقتصادی شراکت داری اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔اسپیکر سردار ایاز صادق نے علاقائی استحکام اور ترقی کے لیے تعاون کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔اسپیکر سردار ایاز صادق کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ایران برادرانہ ہمسایہ ممالک ہیں، جو مشترکہ تاریخ، مذہب اور ثقافت کے مضبوط رشتوں سے جڑے ہیں، اسپیکر سردار ایاز صادق نے ایرانی اسپیکر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف کے حالیہ دورے کو دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے اور پارلیمانی رابطوں کو فروغ دینے میں اہم سنگ میل قرار دیا۔دونوں رہنماؤں نے پارلیمانی سطح پر تعاون بڑھانے اور عوامی رابطوں کو فروغ دینے پر زور دیا۔ملاقات میں مسلم ممالک کے درمیان اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

    اسپیکر سردار ایاز صادق کا کہنا تھا کہ پاکستان ایرانی عوام کے لیے دوسرا گھر ہے،بھارت کے ساتھ جنگ میں ایران کی حمایت پر پاکستان شکر گزار ہے، پاکستان نے 7 رافیل طیارے مار گرائے اور بھارت کو شکست دی، پاکستان ہمیشہ امن اور تنازعات کے پرامن حل کا خواہاں ہے، افغانستان کی سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہورہی ہے،پاکستان دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے،اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو پارلیمنٹ نے یک زبان قرارداد کے ذریعے اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی، ایران اور پاکستان کے مشترکہ دشمن بھی ہیں، جن میں اسرائیل شامل ہے،ایران کو اسرائیل کو منہ توڑ جواب دینے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں،

    اسپیکر سردار ایاز صادق نے ایرانی ڈپٹی اسپیکر کے اگلے پانچ سال کے ترقیاتی پروگرام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ایرانی ڈپٹی اسپیکر نے اسلام آباد میں حالیہ دھماکے میں جاں بحق ہونے والوں کے لیے تعزیت کا اظہار کیا۔ایرانی ڈپٹی اسپیکر نے پاکستان کی بارہ روزہ جنگ میں حمایت کو سراہا اور اسے یادگار قرار دیا۔اور کہا کہ ایران اور پاکستان کے مابین مختلف شعبوں میں تعاون کو بڑھانے کے وسیع مواقع موجود ہیں،ملاقات میں پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے بھی شرکت کی۔

  • 40 فیصد پاکستانی دوسری شادی کے حامی

    40 فیصد پاکستانی دوسری شادی کے حامی

    گیلپ پاکستان کے تازہ ترین سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ ملک کی بالغ آبادی میں 40 فیصد پاکستانی دوسری شادی کے حق میں جبکہ 60 فیصد اس کے مخالف ہیں۔ یہ اعداد و شمار ملک میں خاندانی، سماجی اور مذہبی رویّوں میں جاری بحث کو ایک نئی جہت دیتے ہیں۔

    سروے کے مطابق، مخالفین نے واضح طور پر کہا کہ وہ کسی بھی صورت دوسری شادی کی اجازت نہیں دیتے اور اسے غیر ضروری یا معاشرتی مسائل کا باعث سمجھتے ہیں۔ ان افراد کا مؤقف تھا کہ موجودہ معاشی حالات، سماجی دباؤ اور خاندانی تنازعات کے باعث ایک سے زیادہ شادیوں کا رواج مسائل کو بڑھا سکتا ہے۔دوسری جانب، حمایت کرنے والے 40 فیصد پاکستانیوں نے یہ رائے دی کہ اگر کوئی مرد مالی طور پر مستحکم ہو، اور پہلی بیوی کے حقوق متاثر نہ ہوں تو اسلامی تعلیمات کے مطابق دوسری شادی جائز ہے۔ ان کے مطابق، مذہب نے مرد کو اجازت دی ہے بشرطِ انصاف، اس لیے اس حق کو منفی نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے۔

    گیلپ کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق جنس کی بنیاد پر واضح فرق سامنے آیا۔ مردوں میں 50 فیصد نے دوسری شادی کے حق میں رائے دی، جب کہ خواتین میں یہ شرح صرف 30 فیصد رہی۔ماہرینِ کا کہنا ہے کہ اس طرح کے سروے معاشرے کے بدلتے رویوں کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ ان کے مطابق، شہری علاقوں میں خواتین کی تعلیم اور معاشی خودمختاری میں اضافہ دوسری شادی کی مخالفت کو بڑھا رہا ہے، جبکہ دیہی علاقوں میں روایتی نظریات اب بھی نمایاں طور پر موجود ہیں۔گیلپ پاکستان کے مطابق یہ سروے حال ہی میں ملک کے مختلف صوبوں کے شہری و دیہی علاقوں میں کیا گیا، جس میں ہزاروں بالغ مرد و خواتین نے حصہ لیا۔

  • مودی سرکار کا جھوٹا بیانیہ بھارتی عوام نے رد کر دیا

    مودی سرکار کا جھوٹا بیانیہ بھارتی عوام نے رد کر دیا

    مودی سرکار کا اپنے مذموم ارادوں کے حصول کے لئے بنایا گیا جھوٹا بیانیہ بھارتی عوام نے رد کر دیا۔

    سوشل میڈیا پر بھارتی عوام نے مودی کے جنگی جنون اور اس حوالہ سے ایک اور فالس فلیگ ڈرامہ کا پردہ فاش کرتے ہوئے کہا کہ ” بہار میں الیکشن کے ایک اہم دور سے پہلے ایک دھماکا کروادیا گیا ہے،بھارتی شہری نے کہا کہ بہار الیکشن پر اس دھماکے سے بی جے پی کو کوئی فائدہ نہیں ہوسکے گا۔ ” پلوامہ، اڑی ، پہلگام اور اب لال قلعہ یہ سارے حملے بی جے پی کے دور اور الیکشن کے قریب ہی کیوں ہوتے ہیں؟” "بہار الیکشن کے قریب ایک اور حملہ بی جے پی کا پرانا ہتھکنڈہ ہے”۔،بھارتی شہری کا کہنا تھا کہ "انتخابات کے دوران ہمدردی کا ووٹ پیدا کرنے کیلئے دہلی میں ایک فالس فلیگ آپریشن کا بہترین انتظام کیا گیا”۔ "بہار کے انتخابات کا پہلا مرحلہ بی جے پی کو پسند نہیں آیا تو ایک بار پھر گندی سیاسی حکمت عملی اختیار کی گئی ہے”۔پلوامہ، اڑی ،پٹھان کوٹ ،پہلگام اور اب دہلی حملہ بھارتی عوام مودی کے اوچھے ہتھکنڈوں کو پہچان چکی ہے۔بغیر کسی شواہد اور تحقیقات کے کسی بھی فالس فلیگ یا سیکیورٹی ناکامی کا الزام پاکستان پر لگانا بھارت کا وطیرہ بن چکا ہے جسے بھارتی شہری بھی اچھی طرح جان چکے ہیں۔

  • جہاں بھی عوامی مشکلات ہیں انہیں حل کیا جارہا ہے۔شرجیل میمن

    جہاں بھی عوامی مشکلات ہیں انہیں حل کیا جارہا ہے۔شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کراچی میں جاری ترقیاتی منصوبے شہری سہولت اور مستقبل کی پائیدار ترقی کیلئے اہم ہوں گے، عوام تعاون کریں، بہت جلد ترقیاتی منصوبوں کے نتائج محسوس کریں گے۔

    شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ کے فور منصوبہ عوام سےکیا گیا وہ وعدہ ہے جس کے تحت صاف اور وافر پانی فراہم کیا جائےگا، سندھ حکومت کے تمام ادارے مکمل ہم آہنگی سے کام کر رہے ہیں، عزیز بھٹی پارک سے اردو یونیورسٹی تک پانی کی پائپ لائن بچھانے کا مقصد سہولت فراہم کرنا ہے، وقتی طور پر ٹریفک کی مشکلات ضرور ہیں مگر یہ مستقل حل کی طرف پیشرفت ہے، عوام سے اپیل ہے کہ تعاون کریں، یہ منصوبے اُن ہی کے بہتر مستقبل کے لیے ہیں،کے فور، ریڈ لائن اور دیگر ترقیاتی منصوبے تعمیراتی سرگرمیاں نہیں سندھ حکومت کا وژن ہیں، ان منصوبوں کا مقصد کراچی کو جدید اور سہولیات سے آراستہ شہر میں تبدیل کرنا ہے، تمام منصوبوں کی رفتار تیز کی ہے اور جہاں بھی عوامی مشکلات ہیں انہیں حل کیا جارہا ہے۔

    شرجیل میمن کا مزید کہنا تھا سندھ حکومت عوامی خدمت کے جذبے سے کام کر رہی ہے، بہت جلد کراچی کے شہری ان منصوبوں کے مثبت نتائج خود محسوس کریں گے۔

  • دہلی دھماکہ گیس سلنڈر دھماکہ ہی تھا،ماہرین کی رپورٹ

    دہلی دھماکہ گیس سلنڈر دھماکہ ہی تھا،ماہرین کی رپورٹ

    دہلی کے لال قلعے کے قریب ہونے والے حالیہ دھماکے کے بارے میں ایک بیلسٹک ماہر کی ابتدائی تکنیکی رپورٹ سامنے آئی ہے جس کے مطابق دھماکہ کسی ہائی ایکسپلوسِو مواد کا نتیجہ نہیں بلکہ گیس سلنڈر یا ایندھن کے دھماکے سے مشابہ ہے۔

    ماہر کے مطابق، جائے وقوعہ سے حاصل شواہد اور دھماکے کے اثرات "دہشت گردی کے بم دھماکے” کے عمومی مظاہر سے مطابقت نہیں رکھتے۔رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ اگر یہ ہائی ایکسپلوسِو جیسے RDX یا TNT پر مبنی دھماکہ ہوتا تو اس کے اثرات کچھ اس طرح ہوتے،
    زمین پر گہرا گڑھا (crater) بنتا۔اردگرد کی عمارتیں اور گاڑیاں شدید جھٹکے سے تباہ ہوتیں۔ہر سمت میں شاک ویو (Shockwave) کے اثرات نمایاں ہوتے۔دھاتوں پر مائیکرو سوراخ اور ٹکڑوں کے نشانات پائے جاتے۔ماہر کا کہنا ہے کہ دہلی دھماکے کی جگہ پر ان میں سے کوئی علامت نہیں ملی۔ زمین محفوظ ہے، کوئی گڑھا نہیں بنا، اور نقصان زیادہ تر آگ اور حرارت سے ہوا ہے۔

    جائے وقوعہ کے شواہد کیا بتاتے ہیں؟
    دھماکے کے بعد شدید آگ اور دھواں اٹھا۔گاڑیوں پر جلنے کے نشانات اور شیشے ٹوٹنے کے آثار ملے۔کوئی لوہے کے ٹکڑے یا شریپنل (shrapnel) نہیں ملے جو دہشت گردی کے بموں میں عام طور پر استعمال ہوتے ہیں۔دھماکے کا دائرہ محدود اور سمتی (directional) تھا، جبکہ ہائی ایکسپلوسِو دھماکوں میں نقصان چاروں طرف یکساں ہوتا ہے۔

    ماہر کے مطابق "ہائی ایکسپلوسِو دھماکے 7000 میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے پھٹتے ہیں، جب کہ گیس سلنڈر یا ایندھن کے دھماکے میں یہ عمل نسبتاً سست ہوتا ہے اور زیادہ تر حرارت و شعلوں کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ دہلی کے واقعے میں "دھماکہ نہیں بلکہ آتشزدگی نما دھماکہ (Deflagration)” ہوا ، یعنی جلنے کا عمل تیز ہوا مگر کسی قسم کی فوجی یا دہشت گردانہ نوعیت کی تباہی نہیں ہوئی۔

    رپورٹ کے آخر میں ماہر نے کہا "تمام فزیکل شواہد ایک ہی سمت اشارہ کرتے ہیں، یہ گیس سلنڈر یا ایندھن کے دھماکے کا نتیجہ ہے، نہ کہ کسی دہشت گردی کے بم کا۔ جب تک فرانزک لیبارٹری (FSL) کی رپورٹ میں RDX، PETN یا TNT کے شواہد نہ مل جائیں، اسے ‘دہشت گرد حملہ’ قرار دینا سائنسی طور پر درست نہیں۔”

  • گووندا بے ہوش ہو گئے، ہسپتال منتقل

    گووندا بے ہوش ہو گئے، ہسپتال منتقل

    بالی وڈ سپر اسٹار گووندا کو ممبئی میں واقع اپنی رہائش گاہ میں بے ہوش ہوجانے کے بعد اسپتال منتقل کردیا گیا۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق 61 سالہ گووندا کی گزشتہ رات ان کے گھر پر اچانک طبیعت بگڑگئی جس کے بعد انہیں جوہو کے کریٹیکل کیئر اسپتال میں داخل کروایا گیا ہے،گووندا کے دیرینہ دوست اور قانونی مشیر للت بندل نے بھارتی میڈیا کو بتایا کہ گزشتہ شب انہیں گووندا کے گھر پر بے ہوش ہوجانے کی اطلاع دی گئی ، طبیعت اچانک بگڑنے پر گووندا کو اسپتال منتقل کیا گیا، اس دوران ان کے چند ٹیسٹ بھی کیے گئے جن کے نتائج کا انتظار ہے، گووندا فی الحال ڈاکٹروں کی نگرانی میں ہیں اور ان کی طبیعت بہتر ہورہی ہے‘۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل گووندا لیجنڈری اداکار دھرمیندر کی عیادت کرنے بریچ کینڈی اسپتال پہنچے تھے جس کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر سامنے آئی تھی۔

  • اسلام آباد دھماکا،7 لاشوں کا پوسٹ مارٹم مکمل،10 شہدا کی شناخت

    اسلام آباد دھماکا،7 لاشوں کا پوسٹ مارٹم مکمل،10 شہدا کی شناخت

    منگل کو جی الیون کچہری میں ہونے والے خودکش حملے میں جاں بحق 7 افراد کی لاشوں کا پوسٹ مارٹم مکمل کرلیا گیا۔

    پمز انتظامیہ کے مطابق پوسٹ مارٹم کے بعد میتیں ورثا کے حوالے کردی گئیں جن میں وکیل زبیر اسلم گھمن کی میت بھی ورثا کے حوالے کردی گئی ہے،اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہےکہ 10 شہدا کی شناخت ہوچکی ہے اور تاحال 2 کی شناخت نہیں ہوسکی، 36 زخمیوں کو پمزاسپتال لایا گیا اور 18 زخمیوں کو طبی امداد کے بعد ڈسچارج کردیا گیا، 14 زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔پمز اسپتال کے ڈاکٹر مبشر کے مطابق دھماکے میں زخمی ہونے والے 4 افراد کی حالت تشویشناک ہے۔

    دوسری جانب اسلام آباد کچہری میں دھماکے کے بعد ریڈ زون میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ اور اطراف میں سکیورٹی ہائی الرٹ جاری کردیا گیا ہے، چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے مرکزی گیٹ پر رک کر سکیورٹی کا جائزہ لیا جہاں انہوں نے ہائیکورٹ کے دوسرے گیٹ پر بھی پولیس کی گاڑی کھڑی کرنے کی ہدایت کی،اسلام آباد ہائیکورٹ کےباہر کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو کھڑے ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔

  • صدرِ مملکت اور وزیراعظم کی اہم ملاقات، ملکی سیاسی،سیکورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال

    صدرِ مملکت اور وزیراعظم کی اہم ملاقات، ملکی سیاسی،سیکورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال

    اسلام آباد میں ایوانِ صدر میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی جس میں ملک کی مجموعی سیاسی، اقتصادی اور سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق ملاقات نہایت پُرمغز اور نتیجہ خیز رہی، جس میں ملک میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ صدرِ مملکت اور وزیراعظم نے ان واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ غیر ملکی پشت پناہی یافتہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی، اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک یہ آپریشنز نہیں رکیں گے۔دونوں قائدین نے ملک میں امن و امان کے قیام کے لیے قومی اتفاقِ رائے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اس مقصد کے لیے تمام ادارے، حکومت اور عوام ایک پیج پر ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے دشمن ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کے درپے ہیں لیکن قوم کے اتحاد، حوصلے اور عزم کے سامنے ان کی تمام سازشیں ناکام ہوں گی۔

    ملاقات میں چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، وفاقی وزراء سید محسن رضا نقوی، چوہدری سالک حسین، اعظم نذیر تارڑ، خالد حسین مگسی اور عبدالعلیم خان بھی موجود تھے۔شرکاء نے حالیہ دنوں میں دہشت گردی کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں اور خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ ریاست دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھے گی۔

  • اسلام آباد خودکش حملے پر   چین، ایران اور آسٹریلیا کی مذمت

    اسلام آباد خودکش حملے پر چین، ایران اور آسٹریلیا کی مذمت

    اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس کے قریب ہونے والے خودکش حملے کی عالمی سطح پر شدید مذمت کی جا رہی ہے۔ چین، ایران اور آسٹریلیا نے اس المناک واقعے پر گہرے دکھ اور متاثرین سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ حملے میں اب تک 12 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں

    اسلام آباد میں چینی سفارت خانے کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ “چین کار بم دھماکے میں جاں بحق ہونے والوں کے لیے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتا ہے۔”بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ حملہ “قابلِ مذمت اور انسانیت دشمن عمل ہے”۔ ترجمان نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چین پاکستان کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شانہ بشانہ کھڑا ہے۔

    اسلام آباد میں آسٹریلوی ہائی کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ آسٹریلیا اس سانحے پر پاکستان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔اعلامیے میں کہا گیا کہ “ہم اس المناک واقعے میں جاں بحق ہونے والوں کے اہلِ خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں، اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں۔”ہائی کمیشن نے عوام کے تحفظ کے لیے سرگرم پاکستانی سیکیورٹی اداروں اور اہلکاروں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے دہشت گردی کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    ایرانی سفیر کی جانب سے جاری سخت ترین الفاظ میں مذمتی بیان میں کہا گیا ہے کہ “میں اسلام آباد کے علاقے جی-11 میں ہونے والے اس غیر انسانی اور بزدلانہ دہشت گرد حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہوں جس نے 12 معصوم شہریوں کی جان لی اور 36 کو زخمی کر دیا۔”ایرانی بیان میں مزید کہا گیا کہ “دہشت گردی دراصل ان بزدل عناصر کا مذموم ہتھکنڈہ ہے جو خطے کے امن اور پائیدار ترقی کے راستے میں رکاوٹ ڈالنا چاہتے ہیں۔ یہ لعنت ایک مشترکہ علاقائی چیلنج ہے جسے بیرونی سازشوں اور بین الاقوامی دہشت گردی کے نیٹ ورکس نے مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔”ایران نے زور دیا کہ تمام ممالک کو “دہشت گردی اور انتہا پسندی کی جڑیں اکھاڑنے کے لیے اجتماعی اور متحدہ اقدامات” کرنے ہوں گے تاکہ خطے میں دیرپا امن و استحکام قائم ہو سکے۔ایرانی حکومت نے جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین سے گہری ہمدردی اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ “اللہ تعالیٰ شہداء کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور غمزدہ خاندانوں کو صبر و استقامت دے۔”

    دفاعی تجزیہ کاروں نے اسلام آباد اور وانا میں ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملوں کو بھارت اور افغان طالبان کے گٹھ جوڑ کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق خطے میں حالیہ واقعات پاکستان کے امن کو غیر مستحکم کرنے کی منظم کوششوں کا تسلسل ہیں، جن کا مقصد علاقائی سطح پر انتشار اور پاکستان کے اندر عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ “پاکستان کے دشمن عناصر ایک مرتبہ پھر دہشت گردی کو بطور ہتھیار استعمال کر کے ہمارے امن اور ترقی کے سفر کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن قوم اور ریاستی ادارے متحد ہیں اور ان سازشوں کو ناکام بنائیں گے۔”

  • اسلام آباد دھماکے کے بعد لاہور میں سکیورٹی مزید سخت، شہر بھر میں کڑی نگرانی

    اسلام آباد دھماکے کے بعد لاہور میں سکیورٹی مزید سخت، شہر بھر میں کڑی نگرانی

    اسلام آباد دھماکے کے بعد لاہور پولیس نے شہر میں سکیورٹی کے غیر معمولی اقدامات کرتے ہوئے حساس مقامات کے گرد حفاظتی انتظامات مزید سخت کر دیے ہیں۔ اس سلسلے میں شہر کے تمام داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندی میں اضافہ کیا گیا ہے جبکہ ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے سرچ اینڈ سویپ آپریشنز میں مزید تیزی لانے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

    پولیس کے مطابق ڈولفن اسکواڈ اور پیرو فورس کو شہر کے مختلف علاقوں میں اضافی گشت کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ تخریب کاری یا غیر معمولی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔ڈی آئی جی آپریشنز نے فیلڈ ٹیموں کو پارکنگ ایریاز، عوامی مقامات اور تجارتی مراکز میں گاڑیوں کی سخت چیکنگ یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ اسی طرح عدالتوں، سرکاری دفاتر اور دیگر حساس عمارتوں کے اطراف بھی چیکنگ کے عمل میں مزید سختی کا حکم دیا گیا ہے۔احکامات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تمام ڈویژنل ایس پیز اور فیلڈ افسران خود سکیورٹی انتظامات کی مانیٹرنگ فیلڈ میں موجود رہ کر کریں، تاکہ کسی بھی غفلت یا لاپرواہی کا فوری سدباب ہو سکے۔

    ڈی آئی جی فیصل کامران نے واضح کیا کہ مشکوک افراد یا گاڑیوں کے بغیر شناخت داخلے پر زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ لاہور پولیس شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر الرٹ ہے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے تمام فورسز ہائی الرٹ ہیں۔انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی، مشکوک شخص یا لاوارث اشیاء کی اطلاع فوری طور پر پولیس ہیلپ لائن 15 پر دیں تاکہ بروقت کارروائی ممکن ہو سکے۔