Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • گورنمنٹ ملی دارالاطفال گرلز ہائی سکول راجگڑھ میں یوم اقبال کے سلسلہ میں تقریب

    گورنمنٹ ملی دارالاطفال گرلز ہائی سکول راجگڑھ میں یوم اقبال کے سلسلہ میں تقریب

    گورنمنٹ ملی دارالاطفال گرلز ہائی سکول راجگڑھ لاہور میں یوم اقبال کے سلسلہ میں ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا ،
    تقریب میں طالبات نے ٹیبلو ،تقریری مقابلوں میں حصہ لیا، تقریری مقابلوں میں پہلی پوزیشن سکول کونسل راجگڑھ کی صدر ام حبیبہ نے لی،تقریب کے اختتام پر انعامات تقسیم کئے گئے

    یوم اقبال کے سلسلہ میں تقریب سے گورنمنٹ ملی دارالاطفال گرلز ہائی سکول راجگڑھ کی پرنسپل ڈاکٹر شوکت اقبال نے خطاب کیا، اس موقع پر طالبات اور انکے والدین کی بڑی تعداد موجود تھی، سکول کونسل راجگڑھ کی صدر ام حبیبہ کی والدہ نے بطور مہمان خصوصی تقریب میں شرکت کی، تقریب میں اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مائرہ شیخ نے سرانجام دیئے، سعدیہ روحی کی زیر نگرانی تقریب میں طالبات نے مفکر پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی مسلم امہ اور پاکستان کے لیے کی جانے والی خدمات پر انہیں اپنے انداز میں خراج عقیدت پیش کیا۔منعقدہ تقریب میں علامہ اقبال کی زندگی کے مختلف موضوعات پر طالبات نے اپنے فن خطابت کے جوہر دکھائے۔تقریری مقابلے میں سکول کونسل راجگڑھ کی صدر ام حبیبہ نے اول پوزیشن حاصل کی،دوسری پوزیشن قرت العین، تیسری پوزیشن عائشہ نے حاصل کی،انگریزی میں تقریر کرنے والی طالبہ خدیجہ کو بھی خصوصی انعام دیا گیا،تقریب کے اختتام پر پوزیشن ہولڈرز میں انعامات تقسیم کئے گئے،تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پرنسپل ڈاکٹر شوکت اقبال،عذرا پروین،سدرہ و دیگر نے کہا کہ علامہ اقبال نے مسلمانوں کو خود ہی کا درس دیا اور کہا کہ موجودہ تمام مسائل کا حل قران اور سیرت النبی پر عمل پیرا ہونے میں پنہاں ہے۔مفکر پاکستان ڈاکٹر علامہ اقبال ہر زمانے کے شاعر ہیں اور ان کا کلام افاقی ہے۔ کلام اقبال خوابوں کے تحفظ کا نام ہے۔اقبال کے نظریات کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔آج کے سوشل میڈیا دور میں علامہ اقبال کے نظریات کے پرچار کے لیے ہر سطح پر ہنگامی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

  • اسلام آباد میں دہشت گردی کا حملہ ریاست کو پیغام سمجھنا چاہیے،خواجہ آصف

    اسلام آباد میں دہشت گردی کا حملہ ریاست کو پیغام سمجھنا چاہیے،خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردانہ کارروائیوں کا بھرپور جواب دے گا، دہشت گردانہ کارروائیاں نہ سرحدی اور نہ ہی شہری علاقوں میں برداشت کی جائیں گی۔

    اسلام آباد کچہری دھماکے پر صحافیوں سے گفتگو میں خواجہ آصف کا کہنا تھاکہ اندازہ تھا ہم پر پریشر ڈالنے کےلیے اس قسم کی کوئی حرکت کی جائےگی،اب تک دہشتگردی سرحدی علاقوں تک محدود تھی، اسلام آباد میں دہشت گردی کا حملہ ریاست کو پیغام سمجھنا چاہیے، افغان حکومت افغانستان میں بیٹھے دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہی ہے، اسلام آباد میں دہشت گردانہ حملےسے ہمیں پیغام دیا گیا آپ کے تمام علاقے ہماری زد میں ہیں، ہماری عوام اور افواج دہشت گردی کےخلاف قربانیاں دے رہے ہیں، پاکستان دہشت گردانہ کارروائیوں کا بھرپور جواب دے گا، دہشت گردانہ کارروائیاں نہ سرحدی اور نہ ہی شہری علاقوں میں برداشت کی جائیں گی، افغان حکومت سے کامیاب ڈائیلاگ کی تھوڑی سے امید تھی لیکن اس حملے کے بعد دیکھنا پڑے گا، ان حالات میں ریاست کو سنجیدہ ہوکر سوچنا ہوگا، کالعدم ٹی ٹی پی کے سارے چیلے کابل میں بیٹھے ہیں، کابل حکومت کس طرح ان کی ذمہ داری قبول نہیں کرسکتی۔

    خیال رہے کہ اسلام آباد کچہری کے باہر خودکش دھماکے میں 12 افراد شہید اور 30 زخمی ہوگئے۔ کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔

  • دہشتگردی کیخلاف جنگ، صفوں میں اتحاد پیدا کریں،تابش قیوم

    دہشتگردی کیخلاف جنگ، صفوں میں اتحاد پیدا کریں،تابش قیوم

    مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم نے کہا ہے کہ اسلام آباد کچہری خود کش حملہ،وانا کیڈٹ کالج پر حملہ قابل مذمت ہیں،دہشت گردی کے خلاف قوم متحد ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک ہو کر ہی جیتی جا سکتی ہے،شہدا کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی صحتیابی کےلئے دعا گو ہیں

    تابش قیوم کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک بار پھر دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے،اسلام آباد کچہری کے اندر ایک خوفناک خود کش حملہ ہوا جس میں معصوم لوگوں کو شہید کیا گیا، وانا کے اندر کیڈٹ کالج پر حملہ کیا گیا جس میں سینکٹروں کیڈٹس،بچے جن میں سے کئی کو نکال لیا گیا، کئی محصور ہیں،یہ دونوں واقعات قابل مذمت ہیں،ضرورت اس امر کی ہے کہ ان حالات میں صفوں میں اتحاد پیدا کریں،بیانیوں، گفتگو،جذبات کے اظہار میں یہ یاد رکھیں کہ پاکستان کو پہلے دن سےجو قوتیں تسلیم نہیں کرتی تھیں وہی آج اس دہشت گردی کی پشت پناہی پر موجود ہیں،وہ لوگ جو اسلام کے دائرہ کار سے نکل چکے ہیں، مسلمانوں کا قتل عام کرتے ہیں، وہی پاکستانیوں پر بھی حملے کر رہے ہیں، ہم حالت جنگ میں ہیں، اپنی صفوں میں‌اتحاد پیدا کرنا ہے،ہمیں منظم، متحد ہو کر ایک قوم بن کر سیکورٹی اداروں کے پیچھے کھڑا ہونا ہے، اللہ تعالیٰ پاکستان کی حفاظت فرمائے، شہدا کے اللہ تعالیٰ درجات بلند، لواحقین کو صبر جمیل دے، آمین

  • جارجیا میں ترک فوجی طیارہ تباہ، سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری

    جارجیا میں ترک فوجی طیارہ تباہ، سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری

    ترک وزارتِ دفاع کے مطابق ترکیے کا ایک فوجی کارگو طیارہ سی 130 (C-130) جارجیا میں المناک حادثے کا شکار ہو کر تباہ ہو گیا۔

    وزارتِ دفاع نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ یہ طیارہ آذربائیجان سے اڑان بھرنے کے بعد ترکیے واپس جا رہا تھا جب وہ جارجیا کی فضائی حدود میں گر کر تباہ ہوگیا۔وزارتِ دفاع کے مطابق جارجیا کے حکام کے تعاون سے سرچ اینڈ ریسکیو (تلاش و بچاؤ) کارروائیاں فوری طور پر شروع کر دی گئی ہیں۔ ترک فوج اور جارجین ایمرجنسی سروسز کے اہلکار جائے حادثہ پر پہنچ کر ملبے تک رسائی کی کوششوں میں مصروف ہیں۔تاہم اب تک حادثے کی وجوہات یا ممکنہ جانی نقصان کے بارے میں کوئی تفصیلی معلومات جاری نہیں کی گئیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر حادثے کی جگہ کو سیل کر دیا گیا ہے اور تفتیشی ٹیمیں پرواز کے ڈیٹا ریکارڈر (بلیک باکس) کی تلاش میں ہیں تاکہ حادثے کی نوعیت اور اسباب کا تعین کیا جا سکے۔

    دفاعی ماہرین کے مطابق سی 130 طیارہ فوجی نقل و حمل اور انسانی امداد کی فراہمی میں استعمال ہونے والا مضبوط اور بھروسہ مند جہاز سمجھا جاتا ہے، تاہم خراب موسم، فنی خرابی یا نیویگیشنل غلطی جیسی وجوہات کسی بھی حادثے کا سبب بن سکتی ہیں۔ترک وزارتِ دفاع نے اس افسوسناک واقعے پر غم و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جیسے ہی مزید تفصیلات سامنے آئیں گی، عوام کو آگاہ کیا جائے گا۔

  • کیڈٹ کالج وانا، دہشت گردوں کےبزدلانہ حملہ  کیخلاف طلبہ کےحوصلے بلند

    کیڈٹ کالج وانا، دہشت گردوں کےبزدلانہ حملہ کیخلاف طلبہ کےحوصلے بلند

    وانا کیڈٹ کالج پر فتنہ الخوارج کی جانب سے ناکام حملہ ،ریسکیو کیے گئے کیڈٹس کی ویڈیو منظر عام پر آ گئی

    کیڈٹ کالج وانا میں فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کےبزدلانہ حملہ کیخلاف طلبہ کےحوصلے بلند ہیں،کیڈٹ کالج وانا کے طالب علم کا کہنا ہے کہ میں 12ویں جماعت کا طالبعلم اور وزیرستان کے ایک معمولی خاندان سے تعلق رکھتا ہوں، پاک فوج نے ہمارے لیے یہ کیڈٹ کالج بنایا ہے تاکہ ہمیں تعلیم، امن اور ترقی مل سکے، یہ بزدل دہشت گرد ہمیشہ چاہتے تھے کہ وزیرستان کے بچے تعلیم سے محروم رہیں ، یہ بزدل دہشت گرد ہمیشہ چاہتے ہیں کہ بچوں کو تعلیم سے محروم رکھ کر اپنے شیطانی خیالات نافذ کر سکیں،ان دہشت گردوں نے ایک بار پھر کوشش کی مگر ناکام رہے اور ہمیشہ ناکام رہیں گے،

    طلبا کا کہنا ہے کہ پاک آرمی نے ہماری حفاظت کی اور الحمدللہ تمام طلباء محفوظ ہیں ،طلباء کے مطابق کیڈٹ کالج پر فتنہء الخوارج کے شرپسندوں کو سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ہلاک کیا، سیکیورٹی فورسز نہیں بہادری سے دہشت گردوں کا حملہ پسپا کیا۔ پاک آرمی نے ہماری حفاظت کی اور الحمدللہ، تمام طلباء محفوظ ہیں۔

    کیڈٹ کالج وانا میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کو فتنہ الخوارج کی جانب سے بزدلانہ حملے کا نشانہ بنانے پر مقامی افراد کا شدید ردعمل سامنے آیا ہے،مقامی افراد کا کہنا ہے کہ یہ دہشت گرد دراصل پختونوں اور قبائل کو تعلیم سے دور رکھنا چاہتے ہیں، فوج نے بروقت کارروائی کرکے سینکڑوں طلباء کو ریسکیو کیا اور معصوم جانو کی حفاظت کو ممکن بنایا،افغانستان میں موجود طالبان ریجیم ہم پختونوں کو تعلیم سے محروم رکھنا چاہتی ہے، پاک فوج کی جانب سے قبائلی علاقوں میں نوجوان کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے لیے کیڈٹ کالج بنائے گئے ہیں۔اس حملے کی کوشش سے یہ واضح ہوگیا کہ دشمن (فتنہ الخوارج ) وانا اور قبائلی عوام کو تعلیم سے محروم رکھنا چاہتے ہیں،

    دوسری جانب کیڈٹ کالج وانا کی صورتحال کے تازہ ترین ویڈیو مناظرسامنے آ گئے،سیکورٹی فورسز کی جانب سے بچوں کو ریسکیو کرتے دیکھا جا سکتا ہے ،اب تک 350 افراد کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا ہے، جبکہ تمام کیڈٹس محفوظ ہیں، سیکیورٹی فورسز کا آپریشن نہایت احتیاط اور حکمتِ عملی سے جاری ہے۔ آئی جی فرنٹیئر کور خیبر پختونخوا ساؤتھ ، کیڈٹ کالج وانا میں آپریشن کی خود نگرانی کر رہے ہیں،کالج میں اس وقت بھی 300 کے قریب افراد موجود ہیں ،افغان خوارج کی کالج میں موجودگی کے باعث کیڈٹس کی جانوں کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے سیکیورٹی فورسز دہشتگردوں کے خلاف نہایت احتیاط سے آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔آخر دہشتگرد کے خاتمے تک سیکیورٹی فورسز کا آپریشن جاری رہے گا،

  • کیڈٹ کالج وانا،تمام طلبا،اساتذہ کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا

    کیڈٹ کالج وانا،تمام طلبا،اساتذہ کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا

    کیڈٹ کالج وانا کی صورتحال کے تازہ ترین ویڈیو مناظرسامنے آگئے اور سکیورٹی فورسز نے کالج میں موجود تمام طلبہ اور اساتذہ کو بحفاظت ریسکیو کر لیا۔

    سکیورٹی فورسز کی جانب سے بچوں کو ریسکیو کرتے ہوئےدیکھا جاسکتا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق کالج میں موجود تمام طلبہ اور اساتذہ کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا۔سکیورٹی نے بتایاکہ کیڈٹ کالج پر حملے کے وقت 525 کیڈٹس سمیت تقریباً 650 افراد موجود تھے۔سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسزکا آپریشن نہایت احتیاط اورحکمتِ عملی سے جاری ہے۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان خوارج کی کالج میں موجودگی اور کیڈٹس کی جانوں کی حفاظت کے پیش نظر آپریشن احتیاط سے کیا جارہا تھا۔سکیورٹی ذرائع نے بتایاکہ اب آپریشن جامع طریقے سے حتمی انجام کو پہنچایا جائے گا، آخری خوارج کو ہلاک کرنے تک سکیورٹی آپریشن جاری رہے گا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق تمام طلبہ اور اساتذہ کے حوصلے بلند ہیں۔

    خیال رہے کہ گزشتہ روز افغان خوارج نےکالج کے مرکزی گیٹ سے بارود سےبھری گاڑی ٹکرا دی تھی، دھماکے سےکالج کا مرکزی گیٹ گرگیا اورقریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچاتھا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق وانا کیڈٹ کالج پر حملہ کرنے والے خوارجیوں کا تعلق افغانستان سے بتایاگیا ہے اور حملہ آور ٹیلیفون پر وہیں سے ہدایات لے رہے ہیں، خوارج ایک عمارت میں چھپے ہیں جو کیڈٹس کی رہائش سے بہت دور ہے۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج کے جوانوں نے فوری کارروائی میں 2 خوارجیوں کو ہلاک کردیا تھا، سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر فیصلہ کن کلیئرنس آپریشن شروع کر رکھا ہے، آخری دہشتگرد کے خاتمے تک سکیورٹی فورسز کا آپریشن جاری رہے گا۔

  • اسلام آباد دھماکےکی ابتدائی رپورٹ تیار،حملہ آور نے چادر اوڑھ رکھی تھی

    اسلام آباد دھماکےکی ابتدائی رپورٹ تیار،حملہ آور نے چادر اوڑھ رکھی تھی

    اسلام آباد کچہری خودکش حملے کی ابتدائی رپورٹ تیار کرلی گئی۔

    تحقیقاتی اداروں نے خودکش حملے کی ابتدائی رپورٹ تیار کرلی جس کے مطابق خودکش حملہ آور باجوڑ میں رہائش پذیر تھا،ابتدائی رپورٹ کے مطابق خودکش حملہ آور جمعہ کے روز اسلام آباد پہنچا، حملہ آور پیرودھائی سے موٹر سائیکل پر جی الیون کچہری آیا،ذرائع کےمطابق ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا کہ خودکش حملہ آور نے چادر اوڑھی ہوئی تھی۔

    دوسری جانب آئی جی اسلام آباد کا کہنا ہے کہ دھماکے میں 8 کلو گرام تک بارودی مواد اور بال بیرنگز استعمال کیے گئے ، ابھی تک جو شواہد اکٹھے کیے گئے اس کے مطابق حملہ آور ایک ہی تھا،ایک موٹر سائیکل اور گاڑی کو مشکوک تصور کیا جا رہا ہے، کیمروں کی بیک ٹریکنگ سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں، فارنزک، سی ٹی ڈی، انویسٹی گیشن، سیف سٹی اور حساس ادارے شواہد کا جائزہ لے رہے ہیں۔

    خیال رہے کہ اسلام آباد کے جی الیون سیکٹر میں کچہری کے نزدیک خودکش دھماکے کے نتیجے میں 12 افراد شہید اور متعدد زخمی ہوگئے اسلام آباد میں منگل کی دوپہر تقریباً ساڑھے بارہ بجے جی الیون سیکٹر کی کچہری کے نزدیک زور دار دھماکا ہوا جس کی آواز دور دور تک سنی گئی۔پولیس کا کہنا ہےکہ موٹر سائیکل پر سوار خودکش حملہ آور پولیس کی گاڑی کے قریب پہنچا اور اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا، دھماکے سے قریب کھڑی گاڑیوں میں آگ لگ گئی جب کہ خودکش حملہ آور کے اعضا اڑ کر کچہری کے اندر جاگرے

  • اسلام آباد دھماکہ سے قبل افغانستان سے سوشل میڈیا پوسٹس،سوالات کھڑے ہو گئے

    اسلام آباد دھماکہ سے قبل افغانستان سے سوشل میڈیا پوسٹس،سوالات کھڑے ہو گئے

    اسلام آباد کچہری دھماکے سے قبل افغانستان سےکی جانے والی سوشل میڈیا پوسٹس نےکئی سوالات کھڑے کردیے ہیں۔

    اسلام آباد کچہری میں دھماکا لگ بھگ سہ پہر 12 بج کر 45 منٹ پر ہوا، لیکن افغانستان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر صبح سویرے سے بازگشت سنائی دی جارہی تھی،ذرائع کے مطابق طالبان کے ایک ایکس اکاؤنٹ خراسان العربی کی طرف سے اسلام آباد دھماکے کے ساتھ ہی جاری ہونے والی پوسٹ گھناؤنے عزائم کی عکاسی کرتی ہے۔ 6 بج کر 45 منٹ پر افغان طالبان سے منسلک ایکس اکاؤنٹ سے "coming soon Islamabad” جیسی پوسٹ دیکھی گئیں۔ذرائع کے مطابق اسی طرح کے دھمکی آمیز پیغامات افغان ملٹری پریڈ کے موقع پربھی کیے گئے تھے، جس میں لاہور پر افغان جھنڈا لہرانے اور اسلام آبادکو جلانےکی باتیں کی گئی تھیں۔

    ذرائع کا کہنا ہےکہ افغان ایکس اکاؤنٹ “آماج نیوز” نےاپنی 2 نومبر کو کی جانے والی پوسٹ میں ان دھمکی آمیز پیغامات کوپوسٹ کیا تھا۔ذرائع کا کہنا ہےکہ اسلام آباد اور نئی دہلی میں دھماکے پاکستان مخالف ممالک کی ملی بھگت ہے جن کا مشترکہ مقصد پاکستان کو نقصان پہچانا ہے۔

  • اسلام آباد دھماکہ قابل مذمت ، دشمن عناصر کی سازشیں ناکام بنائیں گے، خالد مسعود سندھو

    اسلام آباد دھماکہ قابل مذمت ، دشمن عناصر کی سازشیں ناکام بنائیں گے، خالد مسعود سندھو

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ اسلام آباد جی الیون کچہری کے قریب دھماکہ قابل مذمت ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ اتحاد سے ہی جیتی جا سکتی ہے، شہدا کے لئے دعائے مغفرت،زخمیوں کی صحتیابی کے لئے دعا گو ہیں

    خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ اسلام آباد دھماکہ دشمنوں کی پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی مذموم کوشش ہے،تاہم پوری قوم متحد ہے اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سیکورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے،ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلام آباد سمیت تمام صوبوں میں سیکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کیے جائیں،دہشتگردی ناقابلِ معافی جرم ہے اور اس کے مرتکب عناصر کو کسی قسم کی رعایت نہیں ملنی چاہیے، دھماکے میں شہید ہونے والے افراد کے اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار،زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعاگو ہیں۔

  • آپریشن سندور میں ہزیمت کے بعد بھارتی فالس فلیگ ڈرامہ بے نقاب

    آپریشن سندور میں ہزیمت کے بعد بھارتی فالس فلیگ ڈرامہ بے نقاب

    پرانی ( Playbook) کے مطابق بھارتی فالس فلیگ ڈرامہ بے نقاب

    10 اکتوبر 2025 کو نئی دہلی میں لال قلعے کے قریب ایک کار میں دھماکہ ہوا، سیکورٹی ذرائع کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں آٹھ افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے,اس واقعہ کو بی بی سی سمیت بین الاقوامی میڈیا اداروں نے بھی رپورٹ کیا، حسبِ روایت، بغیر کسی ٹھوس شواہد کے بھارتی میڈیا اور را سے منسلک سوشل میڈیا اکاونٹس نے فوری طور پر الزام پاکستان پر لگانا شروع کر دیا، واقعہ کے فوری بعد بھارتی میڈیا نے ایک منظم انداز میں گمراہ کن پروپیگنڈا مہم کا آغاز کر دیا، اہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب محض ایک اتفاق تھا یا ایک منظم کارروائی یا پرانی ( Playbook)، ابتدائی طور پر پولیس نے اس دھماکے کو گیس سلنڈر پھٹنے کا نتیجہ قرار دیا، وقت گزرنے کے ساتھ پولیس کے بیانات میں تضادات سامنے آنے لگے,ابتدائی تحقیقات میں یہ بھی کہا گیا کہ جائے وقوعہ سے آر ڈی ایکس اوراسپلنٹرزکے شواہد نہیں ملے، واقعے کے فوراً بعد را سے منسلک سوشل میڈیا پر ایسے اکاؤنٹس فعال ہوئے جو ماضی میں بھی پاکستان کے خلاف گمراہ کن مہمات کا حصہ رہے ہیں،بھارتی سیاسی اور عسکری قیادت کے حالیہ بیانات سے واضح ہے کہ بھارت ایک اور فالس فلیگ کی تیاری میں مصروف ہے,

    2 اکتوبر کو بھارتی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے سرکریک کے حوالے سے جارحانہ اور گمراہ کن بیان دیا, 3 اکتوبر کو بھارتی آرمی چیف نے پاکستان کے خلاف دھمکی آمیز بیانات دیے, 3 اکتوبرکو بھارتی ایئر فورس چیف نے جہازوں کے بارے میں بے بنیاد پروپیگنڈا کیا، اسی دن بھارتی وزارتِ خارجہ نے کشمیر کی صورتحال پر جھوٹے اور گمراہ کن بیانات جاری کیے, 7 اکتوبر 2025کو بھارتی میڈیا نے لشکرِ طیبہ اور(ISKP) کے مابین مبینہ اتحاد کی جھوٹی خبریں نشر کرنا شروع کر دیں،5 نومبر کو این ڈی ٹی وی اور دیگر بھارتی چینلز نے جھوٹے حملوں کی خبریں نشر کر کے پاکستان مخالف مہم تیز کر دی, 9 نومبر کو آر ایس ایس کے سربراہ نے ایک اشتعال انگیز تقریر میں پاکستان کے خلاف انتہائی سخت اور دھمکی آمیز لہجہ اختیار کیا ,30 اکتوبر سے 10 نومبر تک بھارت نے مغربی سرحد کے قریب ٹرائی سروسز کے نام سے فوجی مشقوں کا آغاز کیا، 10 نومبر کو بھارتی میڈیا نے 29 کلوگرام بارودی مواد برآمد ہونے اور سری نگر میں ممکنہ دہشتگرد حملے کی وارننگ پوسٹروں کی خبریں چلانا شروع کر دیں،ان تمام اقدامات کے بعد بھارتی میڈیا نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ مختلف ریاستوں سے چار ڈاکٹروں کو گرفتار کیا گیا ہے، یہ تمام شواہد ایک ہی سمت اشارہ کرتے ہیں کہ بھارت اپنی اندرونی ناکامیوں اور بہار کے انتخابات میں کمزور سیاسی پوزیشن سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے ایک نئی مہم چلا رہا ہے, ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک بار پھر جھوٹے بیانیے کے ذریعے عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے, پاکستان مخالف منظم پروپیگنڈا کا مقصد آپریشن سندور میں ہزیمت کے بعد ایک اور فالس فلیگ کا ڈرامہ ہے,