Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • سندھ حکومت چاہتی ہے کہ گندم کی مارکیٹ میں موجودگی کو یقینی بنایا جائے،وزیراعلیٰ سندھ

    سندھ حکومت چاہتی ہے کہ گندم کی مارکیٹ میں موجودگی کو یقینی بنایا جائے،وزیراعلیٰ سندھ

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت گندم کی رلیز پالیسی پر اجلاس ہوا

    اجلاس میں وزیر زراعت محمد بخش مہر، وزیر مخدوم محبوب الزمان اور دیگر شریک ہوئے،وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت چاہتی ہے کہ گندم کی مارکیٹ میں موجودگی کو یقینی بنایا جائے،مارکیٹ میں گندم ہوگی تو آٹا یا روٹی کی قیمت مستحکم رہے گی، سندھ میں اس وقت 12 لاکھ ٹن گندم موجود ہے،وزیر خوراک نے اجلاس میں بتایا کہ نجی شعبےمیں کے پاس بھی 6 لاکھ ٹن دستیاب ہے، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ساڑھے چار ماہ کے لئے یہ گندم کافی ہے، اسی دوران نئی فصل آ جائے گی، گندم کے ذخیرہ کی پالیسی بنا کر منظوری لیں، میں گندم رلیز پالیسی اور اس کی قیمت اسی ہفتے طے کرنا چاہتا ہوں، گندم کی پیداروار بڑھانے کے لیے 25 ایکڑ والوں کو حکومت سپورٹ کر رہی ہے،ہم 25 ایکڑ والے کاشتکاروں کو ایک بیگ ڈی اے پی اور 2 بیگ یوریا کے دینے جا رہے ہیںسپورٹ پرائس مقرر کرنا چاہتا ہوں تاکہ گندم کی اچھی فصل لگے،

  • مریم نواز کے بیانات،پیپلز پارٹی کا قومی اسمبلی سے واک آؤٹ

    مریم نواز کے بیانات،پیپلز پارٹی کا قومی اسمبلی سے واک آؤٹ

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے بیان پر وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پیپلز پارٹی سے معذرت کر لی۔

    قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ گھر کے بڑے اس مسئلے کو بیٹھ کر حل کر لیں گے، پیپلز پارٹی کا احتجاج ہمارے گھر کا معاملہ ہے۔ سیاست میں گرما گرمی چلتی رہتی ہے۔

    پیپلزپارٹی کے نوید قمر نے قومی اسمبلی میں کھڑے ہو کر دھمکی دی ہے ہم حکومت سے الگ ہوکر اپوزیشن میں بیٹھ جائیں گے،اسکے ساتھ ہی پیپلزپارٹی کے ارکان قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کرگئے ،اپوزیشن اراکین کو مخاطب کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ وہ خوش نہ ہوں، ان کی خواہش پوری نہیں ہو گی، اتحاد جاری رہے گااعظم نذیر نے طارق فضل چوہدری اور طلال چوہدری کو پی پی اراکین کو منانے بھیج دیا،جس کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی نے قومی اسمبلی کا اجلاس کل تک ملتوی کر دیا۔

    واضح رہے کہ مریم نواز نے فیصل آباد میں تقریب سے خطاب میں ایک بار پھر مخالفین کو آڑے ہاتھوں لیا،ان کا کہنا تھا کہ ہر چیز کا علاج بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام نہیں ہوتا، این ایف سی کے پیسے سب کو یکساں ملتے ہیں، آپ اپنے پیسے کہاں لگاتے ہیں،نجاب نہریں نکالنے کی بات کرے تو تکلیف ہو جاتی ہے، پانی چوری نہیں کرنا تھا، چولستان کی زمین کو آباد کرنا تھا۔

  • انسانی سمگلنگ کیس،صارم برنی کی درخواست ضمانت مسترد

    انسانی سمگلنگ کیس،صارم برنی کی درخواست ضمانت مسترد

    دستاویزات میں ردوبدل اور انسانی اسمگلنگ کیس میں صارم برنی کی درخواست ضمانت مسترد کردی گئی۔

    کراچی کی وفاقی اینٹی کرپشن عدالت میں دستاویزات میں ردوبدل اور انسانی اسمگلنگ کے کیس میں صارم برنی کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی،وفاقی اینٹی کرپشن عدالت نے سماعت کے بعد صارم برنی کی درخواست ضمانت مسترد کردی۔

    واضح رہے کہ صارم برنی کی درخواست ضمانت جوڈیشل مجسٹریٹ اور ہائیکورٹ سے بھی مسترد ہوچکی ہے،اس حوالے سے پراسیکیوشن کا کہنا ہے کہ ملزم صارم برنی گزشتہ ایک سال سے جیل میں ہے، ڈیڑھ ماہ پہلے مقدمہ وفاقی اینٹی کرپشن عدالت میں منتقل کیاگیا تھا۔

  • کشمیر کے غیور عوام نے مفاد پرست عناصرکی احتجاجی کال کو مسترد کردیا

    کشمیر کے غیور عوام نے مفاد پرست عناصرکی احتجاجی کال کو مسترد کردیا

    آزاد کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے دی گئی احتجاجی کال عوام نے یکسر مسترد کر دی۔ ذرائع کے مطابق احتجاجی کال کے باوجود تمام بڑے شہروں میں بازار اور کاروباری مراکز کھلے رہے جبکہ زندگی معمول کے مطابق رواں دواں رہی۔

    راولاکوٹ، چناری، شاردہ نیلم، مظفرآباد اور دیگر شہروں میں دکانیں کھلی رہیں اور شہری اپنے روزمرہ کے کاموں میں مصروف رہے۔ اس موقع پر کسی بھی قسم کے ہنگامہ آرائی یا توڑ پھوڑ کے واقعات پیش نہیں آئے۔ذرائع نے بتایا کہ عوامی ردِعمل نے ثابت کر دیا ہے کہ کشمیری عوام کسی بھی مفاد پرست گروہ کے بہکاوے میں نہیں آئیں گے۔ عوام نے پرامن رہ کر یہ پیغام دیا ہے کہ وہ اپنی جان و مال کے تحفظ اور خطے کے امن کو سب سے مقدم سمجھتے ہیں۔

    سیکورٹی اداروں کے مطابق عوام کی جان و مال کا تحفظ ان کی اولین ترجیح ہے اور کسی کو بھی اپنے مذموم عزائم کے تحت عوامی املاک کو نقصان پہنچانے یا معمولاتِ زندگی کو متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ادھر مبصرین کا کہنا ہے کہ احتجاجی کال کی ناکامی اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ کشمیری عوام انتشار نہیں بلکہ ترقی، امن اور استحکام چاہتے ہیں۔

  • تہوار میں جانے کے لئے پرواز میں تاخیر،گوا ایئر پورٹ رقص گراؤنڈ بن گیا

    تہوار میں جانے کے لئے پرواز میں تاخیر،گوا ایئر پورٹ رقص گراؤنڈ بن گیا

    نوراتری کے رنگ میں رنگے گجرات کے مسافروں نے گوا ایئرپورٹ کو رقص گراؤنڈ میں بدل ڈالا۔ سورت جانے والی پرواز کی پانچ گھنٹے تاخیر کے باوجود نہ صرف مسافروں کے چہروں کی خوشیاں برقرار رہیں بلکہ انہوں نے روایتی رقص گربا کرکے سب کو محظوظ کر دیا۔

    مایور نامی ایک مسافر کام کے سلسلے میں گوا گئے تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ وہ سورت جلد واپس لوٹ کر نوراتری کی تقریبات، خصوصاً گربا، میں شریک ہوں۔ انہوں نے پہلے ٹرین کا ٹکٹ بک کیا تھا لیکن تاخیر کی وجہ سے اسے منسوخ کر کے ہوائی جہاز کا انتخاب کیا۔ تاہم، سورت جانے والی یہ پرواز بھی اتوار کی شام پانچ بجے روانگی کے بجائے تکنیکی مسئلے کے سبب کئی گھنٹے لیٹ ہو گئی۔پرواز کی تاخیر نے جب مسافروں کو بے چین کیا تو مایور نے ایک فضائی میزبان سے سورت جلد پہنچنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ اسی گفتگو نے خوشی کا نیا دروازہ کھول دیا۔ فضائی عملے نے فوری طور پر اسپیکر کا انتظام کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ایئرپورٹ ہال گربا کے رنگوں میں ڈوب گیا۔

    سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خواتین و حضرات روایتی دھنوں پر تالیاں بجاتے، دائرے کی شکل میں گھومتے اور رقص کرتے نظر آ رہے ہیں۔ ایک شخص دائرے کے درمیان موجود لوگوں کو آواز دے کر رقص کا دائرہ مزید بڑا کرنے کا کہتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ مسافر شامل ہو سکیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ایئرلائن عملے کے کچھ افراد بھی مسافروں کے ساتھ شامل ہوئے اور گربا کے تال میل پر اپنے قدموں سے خوشی کا اظہار کیا۔ پس منظر میں موجود دیگر مسافر، جو اپنی اپنی پروازوں کے منتظر تھے، یہ سماں دیکھ کر جھوم اٹھے اور داد دی۔

  • ٹرمپ کی پالیسی میں بڑی تبدیلی، بھارت پر دباؤ، پاکستان سے قربت

    ٹرمپ کی پالیسی میں بڑی تبدیلی، بھارت پر دباؤ، پاکستان سے قربت

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جہاں ایک جانب بھارت کے ساتھ تعلقات کو مسلسل دھچکے دیے ہیں، وہیں دوسری جانب پاکستان کے ساتھ روابط میں غیر معمولی تیزی دکھائی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا میں یہ ’’ری بیلنسنگ‘‘ وقتی حکمت عملی ہے یا طویل المدتی پالیسی، اس پر ابھی واضح نہیں کہا جا سکتا۔

    ٹرمپ نے بھارت کو تجارتی محاذ پر سخت نشانہ بنایا ہے۔ امریکی زرعی اور ڈیری لابیوں کے دباؤ پر وہ بھارت کی سرخ لکیریں توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق اس میں کسی اصولی موقف کے بجائے امریکی طاقت کا مظاہرہ شامل ہے۔ یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا سے یک طرفہ رعایتیں حاصل کرنے کے بعد ٹرمپ اسی نوعیت کی کامیابی بھارت کے خلاف دکھانا چاہتے ہیں، مگر نئی دہلی اس دباؤ کو قبول کرنے سے انکاری ہے۔روس سے رعایتی نرخوں پر تیل کی خریداری روکنے کے لیے بھارت پر 25 فیصد اضافی ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے، جسے صرف تجارتی نہیں بلکہ سیاسی ہتھیار بھی قرار دیا جا رہا ہے۔امریکہ نے ایران کی بندرگاہ چابہار پر بھی پابندیاں لگا دی ہیں، جہاں بھارت نے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام نہ صرف بھارت کے مفادات کو نقصان پہنچا رہا ہے بلکہ بالواسطہ طور پر چین اور پاکستان کے گوادر پورٹ کے حق میں جا رہا ہے۔ یہی گوادر ’’بیلٹ اینڈ روڈ‘‘ منصوبے کا اہم حصہ ہے جو چین کو خلیجی خطے تک رسائی دیتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ٹرمپ بھارت سے اس وقت ناخوش ہوئے جب اس نے ’’آپریشن سندور‘‘ کے بعد جنگ بندی کا سہرا انہیں دینے سے انکار کر دیا۔ پاکستان نے نہ صرف ٹرمپ کو اس جنگ بندی کا کریڈٹ دیا بلکہ باضابطہ طور پر انہیں نوبل انعام کے لیے نامزد بھی کر دیا۔ اس سے ٹرمپ کا جھکاؤ مزید اسلام آباد کی جانب بڑھ گیا۔ٹرمپ بارہا کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کر چکے ہیں، جسے بھارت مسترد کرتا آیا ہے۔ تاہم یہ بیانات پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کرنے کی امریکی کوشش کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔امریکی صدر کی نئی پالیسی میں سعودی عرب بھی شامل ہے، جہاں پاکستان کو سکیورٹی پارٹنر بنانے کے لیے ایک دفاعی معاہدہ طے پایا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے پیچھے امریکی رضامندی لازمی شامل ہے کیونکہ سعودی سلامتی ہمیشہ امریکی ہتھیاروں اور اڈوں پر انحصار کرتی رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں پاکستان کی فوجی صلاحیتیں سعودی فنڈنگ سے مزید بڑھ سکتی ہیں۔

    پاکستانی آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو وائٹ ہاؤس میں نجی دعوت دینا اور امریکی جنرل کا پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کوششوں کو سراہنا اسی پالیسی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ حتیٰ کہ پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کو ’’ایٹمی تحفظ‘‘ کی پیشکش پر بھی واشنگٹن نے خاموشی اختیار کی ہے۔معاشی محاذ پر پاکستان نے بلوچستان میں رئیراَرتھ (Rare Earths) دھاتوں کی کان کنی کے حقوق امریکا کو دینے کی پیشکش کی ہے۔ اگرچہ یہ ایک طویل اور پیچیدہ منصوبہ ہے، لیکن امریکی کمپنی کے ساتھ ابتدائی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ’’پاکستان کرپٹو کونسل‘‘ اور وائٹ ہاؤس کے قریبی کاروباری حلقوں کے درمیان کرپٹو کرنسی کے معاملات بھی زیرِ بحث ہیں۔

    ماہرین کے مطابق ٹرمپ نے سیاسی، عسکری اور معاشی کارڈز کو دوبارہ ترتیب دے کر جنوبی ایشیا میں ایک نئی سفارتی بساط بچھائی ہے، جس سے بھارت کے مفادات کو زبردست چیلنج لاحق ہے جبکہ پاکستان کو ایک نئی بین الاقوامی اہمیت مل رہی ہے۔

  • کوئٹہ،ایف سی ہیڈ کوارٹر پر فتنۃ الہندوستان کا حملہ ناکام،خود کش سمیت 5 جہنم واصل

    کوئٹہ،ایف سی ہیڈ کوارٹر پر فتنۃ الہندوستان کا حملہ ناکام،خود کش سمیت 5 جہنم واصل

    کوئٹہ، ایف سی ہیڈ کوارٹر پر دہشت گردوں کا حملہ سیکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا۔ کوئٹہ میں بھارتی پراکسی فتنہ الہندوستان کی جانب سے کیے گئے خودکش حملے میں خودکش حملہ آور کے علاوہ 5 دہشت گرد جہنم واصل ہو گئے ہیں۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دھماکے میں 2 ایف سی جوان بھی زخمی ہوئے جبکہ تمام دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے ہیں،سیکیورٹی ذرائع کا بتانا ہے کہ حملہ آور ایف سی کی وردی میں ملبوس تھے جو سب مارے گئے ہیں۔پاکستان کی بہادر فورسز نے ایک بار پھر دشمن کے ناپاک عزائم خاک میں ملا دیے۔

    پولیس کے مطابق کوئٹہ میں زرغون روڈ پر دھماکے کے نتیجے میں 8 افراد شہید جن میں فرنٹیئر کور کے 3 اہلکار بھی شامل ہیں۔

    قومی وطن پارٹی کے چئرمین آفتاب خان شیر پاؤ کا کہنا ہے کہ کوئٹہ ایف سی ہیڈکواٹر دھماکہ اور فائرنگ کے نتیجہ میں کئی افراد کی ہلاکت اور درجنوں کے زخمی ہونے کی خبر نہایت ہولناک ہے۔ میری تمام ہمدردیاں غمزدہ خاندانوں کے ساتھ ہیں۔ دہشتگردی کے واقعات ایک تسلسل سے جاری ہیں، جو کہ روزمرہ زندگی اور معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا رہی ہے۔ میں بارہا اس امر کا اعادہ کرچکا ہوں کہ شدت پسندی کی بیخ کنی صرف اور صرف نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عمل کرنے میں ہی پنہاں ہے۔

  • متنازعہ ٹویٹ کیس،ایمان مزاری پر فردجرم عائد

    متنازعہ ٹویٹ کیس،ایمان مزاری پر فردجرم عائد

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کیخلاف متنازعہ ٹویٹ کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے

    ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کیخلاف ٹرائل کا باقاعدہ آغاز ہوگیا ہے۔ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر فرد جرم عائد کردی گئی ہے،ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے فرد جرم عائد کی۔ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ فرد جرم کے وقت کورٹ روم میں موجود نہیں تھے۔ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کیجانب سے معاون وکیل عدالت میں پیش ہوئے،عدالت نے استفسار کیا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کدھر ہیں؟ معاون وکیل نے عدالت کو بتایا کہ وہ عدالت میں پیش ہوئے تھے اب راولپنڈی پیشی پر گئے ہیں۔ عدالت نے استفسار کیا کہ یہ کس سے اجازت لیکر گئے ہیں،عدالت کیجانب سے فرد جرم پڑھ کر سنائی گئی۔ معاون وکیل نے استدعا کی کہ عدالت فرد جرم کی کاپی فراہم کردے۔ جج محمد افضل مجوکہ نے ریمارکس دیے کہ آپ طریقہ کار کے ذریعے نقل کیلئے اپلائی کریں۔ عدالت نے ڈیڑھ بجے استغاثہ کے گواہان کو طلب کر لیا۔ عدالت نے کیس کی سماعت میں ڈیڑھ بجے تک وقفہ کردیا۔

  • 2026 میں پاکستان میں مہنگائی 6 فیصد تک بڑھنے کا امکان ہے،ایشیائی ترقیاتی بینک

    2026 میں پاکستان میں مہنگائی 6 فیصد تک بڑھنے کا امکان ہے،ایشیائی ترقیاتی بینک

    ایشیائی ترقیاتی بینک نے ایشیائی ترقیاتی آؤٹ لک رپورٹ جاری کردی۔

    ایشیائی ترقیاتی بینک کی رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان کی معیشت درمیانی مدت میں ترقی کی راہ پر گامزن ہے، مالی سال 2026 میں جی ڈی پی گروتھ 3 فیصد رہنے کا امکان ہے جب کہ پالیسی ریفارمز اور استحکام سے معیشت میں بہتری جاری رہے گی، 2026 میں مہنگائی 6 فیصد تک بڑھنے کا امکان ہے، گیس ٹیرف میں اضافے سے بھی مہنگائی میں اضافہ ہوگا جب کہ مرکزی بینک مہنگائی کنٹرول کرنے کے لیے محتاط مانیٹری پالیسی اپنائے گا،آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پاکستان میں معاشی اصلاحات میں پیشرفت ہوئی، پاکستان کی ترقی کے امکانات مثبت لیکن ڈھانچہ جاتی چیلنجز برقرار ہیں جب کہ تعمیراتی شعبے کے لیے بجٹ میں دی گئی مراعات جزوی طور پر نقصانات کم کریں گی،بار بار آنے والی قدرتی آفات اور حالیہ سیلاب ترقی کیلئے خطرہ ہیں، سیلاب سے انفرا اسٹرکچر اور زرعی اراضی کو نقصان، شرح نمو پر دباؤ ڈالے گا جب کہ سیلاب سے سپلائی چین متاثر اور خوراک کی قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اصلاحات اور پالیسی عملدرآمد سے معیشتی رفتار اور اعتماد برقرار رکھا جا سکتا ہے، مالی سال 2026 میں امریکا پاکستان تجارتی معاہدے سے کاروباری اعتماد بحال ہونے کا امکان ہے جب کہ بیرونی زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور سرمایہ کاری میں اضافہ متوقع ہے۔

  • کینیڈا نے بھارتی لارنس بشنوئی گینگ کو دہشت گرد قرار دے دیا

    کینیڈا نے بھارتی لارنس بشنوئی گینگ کو دہشت گرد قرار دے دیا

    کینیڈا نے بھارت کے ایک خطرناک گینگ ’’لارنس بشنوئی گروپ‘‘ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے۔ اس گروپ پر الزام ہے کہ یہ قتل، فائرنگ اور آتشزنی کے ذریعے عوام کو ڈراتا اور ان سے بھتہ وصول کرتا ہے، اس گینگ کے بھارتی حکمران جماعت بی جے پی سے تعلقات کے دعوے بھی سامنے آتے رہے ہیں۔

    برطانوی خبر رساں ادارے “دی گارجئین“ کے مبطابق، کینیڈا کے وفاقی وزیر برائے پبلک سیفٹی گیری اننداسنگری نے پیر کو اعلان کیا کہ اس فیصلے کے بعد حکام کو کینیڈا میں موجود اس گینگ کے اثاثے ضبط کرنے اور اس کی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے مزید طاقتور قانونی سہولتیں حاصل ہو جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ بشنوئی گروپ کینیڈا میں بسنے والی کمیونٹی کے لیے غیر محفوظ ماحول پیدا کر رہا تھا، یہ گروپ خاص طور پر نمایاں سماجی شخصیات، کاروباری افراد اور ثقافتی رہنماؤں کو نشانہ بناتا ہے۔یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کینیڈا اور بھارت کے درمیان ایک عرصے سے سفارتی کشیدگی جاری ہے۔

    کینیڈا کی پولیس نے یہ نتیجہ نکالا تھا کہ بھارت نے لارنس بشنوئی گینگ کی مدد سے نمایاں سکھ رہنما اور کینیڈین شہری ہردیپ سنگھ نِجّار کے قتل کی منصوبہ بندی کی اور ہدایت دی تھی۔لارنس بشنوئی کا شمار اس وقت بھارت کے سب سے بڑے اور خوفناک مافیا سرغناؤں میں ہوتا ہے۔ لارنس تقریباً دس سال سے بھارتی جیل میں قید ہے لیکن اس کے گینگ کی کارروائیاں بھارت سے نکل کر دنیا بھر میں پھیل چکی ہیں۔اس گروہ کو پنجابی گلوکار سدھو موسے والا اور بھارتی سیاست دان بابا صدیقی کے قتل سے بھی جوڑا جاتا ہے۔

    کینیڈا کی رائل ماؤنٹڈ پولیس نے گزشتہ سال بھارت پر یہ الزام بھی لگایا تھا کہ بھارتی سفارت کار کینیڈا میں غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں، جن میں سکھوں کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے۔ پولیس نے واضح طور پر کہا کہ بشنوئی گروپ بھارتی حکومت کے ایجنٹس کے ساتھ رابطے میں تھا۔دہشت گرد قرار دیے جانے کے بعد اب کینیڈا میں کسی بھی فرد یا ادارے کے لیے اس گروہ کے ساتھ مالی لین دین یا اس کی مدد کرنا جرم ہوگا۔کینیڈین پولیس کے مطابق نِجّار قتل سمیت کئی وارداتوں میں آٹھ افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں جبکہ درجنوں لوگ بھتہ خوری اور قتل کی کوششوں کے کیسز میں پکڑے گئے ہیں۔

    ورلڈ سکھ آرگنائزیشن نے کینیڈین حکومت کے اس اقدام کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ اس گینگ کی سرگرمیوں کی وجہ سے بے شمار کاروباری حضرات مسلسل دھمکیوں اور بھتہ خوری کا شکار رہے ہیں۔تنظیم نے مزید کہا کہ یہ پہلا اہم قدم ہے مگر ضروری ہے کہ اس تشدد کے اصل ماسٹر مائنڈز کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔