Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ترقی اسی معاشرے میں ممکن ہے جہاں امن اور سلامتی ہو،وزیراعظم

    ترقی اسی معاشرے میں ممکن ہے جہاں امن اور سلامتی ہو،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ افغان حکومت کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرے تو پاکستان تعاون کیلئے تیار ہے۔

    بین الاپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا امن و استحکام ہی پائیدار ترقی کی بنیاد ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ ترقی اسی معاشرے میں ممکن ہے جہاں امن اور سلامتی ہو،پاکستان نے بھی کئی بار امن دشمن کارروائیوں کا سامنا کیا، ہم نے ہمیشہ استحکام اور دفاع وطن میں عزم کا مظاہرہ کیا، ہماری مسلح افواج نے بہترین پیشہ وارانہ کارکردگی سے دشمن کے عزائم ناکام بنائے، اس سال مئی میں مشرقی سرحد پر بلا اشتعال جارحیت کی گئی جبکہ گزشتہ ماہ افغان سرزمین سے پاکستانی چوکیوں پر حملے ہوئے جن کا پاکستان نے ٹھوس اور فیصلہ کن جواب دیا، دنیا بھر میں جاری تنازعات نے امن کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے، افغانستان کو سمجھنا ہو گا کہ کالعدم ٹی ٹی پی کی حمایت سے امن حاصل نہیں ہوگا، افغان حکومت ٹی ٹی پی و دیگر گروہوں کے خلاف موثر کارروائی کرے تو پاکستان تعاون کیلئے تیار ہے۔

    خیال رہے کہ اسلام آباد میں جاری دو روزہ بین الاپارلیمانی کانفرنس میں آذربائیجان، ازبکستان، کینیا، فلسطین، مراکش، روانڈا، لائبیریا، بارباڈوس اور نیپال کے وفود کانفرنس میں شریک ہیں، کانفرنس کا مقصد عالمی امن، ترقی اور بین الاقوامی پارلیمانی روابط کے فروغ کو مضبوط بنانا ہے۔

  • بھارتی فالس فلیگ آپریشنز کی تاریخ پھر بے نقاب،ہر حملے کے پیچھے خود بھارت

    بھارتی فالس فلیگ آپریشنز کی تاریخ پھر بے نقاب،ہر حملے کے پیچھے خود بھارت

    بھارتی فالس فلیگ آپریشنز کی تاریخ پھر بے نقاب۔ ہر بڑے حملے کے پیچھے خود بھارتی ہاتھ سامنے آنے لگے

    بھارتی پولیس رپورٹ کے مطابق 2007 کی سمجھوتہ ایکسپریس پر حملہ دراصل ہندو انتہا پسندوں نے کیا، جس کا الزام جھوٹا پاکستان پر لگایا گیا، ہندو انتہا پسند اسیمانند کی گرفتاری نے سنسنی پھیلا دی۔ اس نے عدالت میں اعتراف کیا کہ سمجھوتہ ایکسپریس، اجمیر دھماکوں اور مالیگاؤں بلاسٹ سب ’’ہندو تنظیموں‘‘ کے پلان تھے، سابق بھارتی سی بی آئی افسر نے انکشاف کیا کہ بھارتی حکومتیں خود پارلیمنٹ اور 26/11 ممبئی حملے منظم کرتی رہیں،خصوصی تفتیشی ٹیم (SIT) کے افسر نے حلفاً عدالت کو بتایا کہ ان حملوں کا مقصد سیاسی فائدہ اور عالمی ہمدردی حاصل کرنا تھا،سابق گورنر جموں و کشمیر ستیاپال سنگھ نے پلوامہ حملے کو "منصوبہ بند سازش” قرار دیا، ان کے بقول حملے کا فائدہ براہِ راست بی جے پی کو پہنچا،چٹّی سنگھ پورہ قتل عام، جس میں 35 سکھ مارے گئے، اس کا الزام بھی پاکستان پر لگایا گیا، مگر دہلی کی عدالت نے دونوں پاکستانی شہریوں کو بری کر دیا، سابق ڈی جی پنجاب پولیس کے ایس گِل نے بیان دیا تھا کہ "بھارتی ایجنسیاں داخلی سیاست کے لیے فالس فلیگ آپریشنز میں ملوث رہی ہیں”

    یاد رہے: امریکی صدر کلنٹن کے دورہ بھارت کے دوران چٹہ سنگھ پورہ سانحہ پیش آیا، جسے عالمی توجہ حاصل کرنے کے لیے سیاسی طور پر استعمال کیا گیا،دفاعی ماہرین کے مطابق اُڑی حملہ بھی اندرونی منصوبہ بندی کا حصہ تھا. وفاقی وزیر خواجہ آصف کے مطابق "اُڑی اٹیک ایک اندرونی کارروائی تھی”ٹائمز آف انڈیا کے مطابق سابق آر ایس ایس کارکن یشونت شنڈے نے عدالت میں حلفیہ بیان دیا کہ "سنگھ پریوار نے بم دھماکوں کے ذریعے بی جے پی کو جتوانے میں کردار ادا کیا”رابرٹ وادرا نے حالیہ بیان میں پہلگام حملے کو "ہندوتوا ایجنڈا” سے جوڑا، بی جے پی حکومت نے ان کے بیان پر سخت ردعمل دیا،پہلگام حملے میں بھی بغیر کسی ثبوت کے بھارت نے پاکستان سے جنگ کا آغاز کردیا۔ تمام حملے حیران کن طور پر بھارتی انتخابات کے قریب ہوتے ہیں

    حقائق واضح ہیں: پارلیمنٹ حملہ، پلوامہ، اُڑی، سمجھوتہ ایکسپریس، چٹہ سنگھ پورہ، سب ایک ہی کہانی کے مختلف ابواب ہیں.مقصد، سیاسی فائدہ اور پاکستان پر الزام،عالمی ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت کے فالس فلیگ آپریشنز کی آزاد بین الاقوامی تحقیقات کرائی جائیں تاکہ خطے کا امن یرغمال نہ رہے

  • نئی دہلی دھماکہ،اگلےروز مودی کی ووٹ کی اپیل،سیاسی فائدے کی کوشش

    نئی دہلی دھماکہ،اگلےروز مودی کی ووٹ کی اپیل،سیاسی فائدے کی کوشش

    بھارت میں ایک بار پھر سیاسی اور سکیورٹی واقعات کے درمیان حیران کن مماثلت سامنے آ رہی ہے۔ نئی دہلی میں ہونے والے دھماکے کے اگلے ہی روز بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے ووٹ مانگنے شروع کر دیئے،مودی نے ایکس پوسٹ میں بہار انتخابات کے لئے ووٹ مانگے ہیں

    سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ دھماکے کے فوراً بعد مودی کا "قومی سلامتی” اور "دہشت گردی کے خطرے” کو موضوع بنانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ موجودہ حکومت ایک بار پھر سکیورٹی واقعات کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ذرائع کے مطابق بہار اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو واضح شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اسی کے بعد اچانک ایک مبینہ "دہشت گرد نیٹ ورک” کے پکڑے جانے کا اعلان کیا گیا، اور پھر نئی دہلی کے لال قلعہ کے قریب کار دھماکہ پیش آیا۔

    اس دھماکے نے نہ صرف دارالحکومت میں خوف و ہراس پھیلا دیا بلکہ بھارتی میڈیا، "گودی میڈیا” نے فوراً "پاکستانی ہاتھ” اور "دہشت گردی کے بڑھتے خطرات” کے بیانیے کو نمایاں انداز میں پیش کرنا شروع کر دیا۔سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تمام واقعات ایک طے شدہ بیانیہ تشکیل دیتے ہیں یعنی پہلے کسی سکیورٹی خطرے یا واقعے کو ابھارا جائے، پھر میڈیا کے ذریعے جذبات کو بھڑکایا جائے، اور آخر میں حکمران جماعت "قومی سلامتی” کے نام پر عوام سے ووٹ مانگے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ بین الاقوامی سطح پر اس طرح کے واقعات پر اب سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ کئی غیر ملکی میڈیا اداروں نے حالیہ دھماکے، اس کے بعد کی سیاسی سرگرمیوں اور حکومت کے فوری ردعمل کو "ممکنہ فالس فلیگ آپریشن” کے تناظر میں دیکھنا شروع کر دیا ہے۔

    ایک غیر ملکی تجزیہ کار نے لکھا "یہ حیرت انگیز اتفاق نہیں بلکہ ایک مخصوص سیاسی حکمتِ عملی دکھائی دیتی ہے ، پہلے شکست، پھر دھماکہ، اور پھر انتخابی نعروں میں وطن پرستی کا شور،دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے مودی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ انتخابی نقصان سے توجہ ہٹانے کے لیے "خوف اور دشمنی” کی سیاست کر رہی ہے۔

  • دہلی کار دھماکہ، عینی شاہدین اور سرکاری بیانیہ میں تضاد

    دہلی کار دھماکہ، عینی شاہدین اور سرکاری بیانیہ میں تضاد

    10 نومبر کی شام تقریباً سات بجے دہلی کے تاریخی لال قلعہ میٹرو اسٹیشن کے قریب ایک کار میں ہونے والے زوردار دھماکے نے دارالحکومت کو لرزا دیا۔ اس واقعے میں آٹھ افراد جاں بحق اور چوبیس سے زائد زخمی ہوئے۔

    دھماکے کے بعد فائر بریگیڈ، پولیس اور این ایس جی کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں، جبکہ علاقے کو فوراً سیل کر کے دہلی، اتر پردیش اور ہریانہ میں ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا۔سرکاری ذرائع کے مطابق دھماکہ ایک Hyundai i20 کار میں ہوا جس کی نمبر پلیٹ ہریانہ کی تھی۔ وزیرِ داخلہ امیت شاہ نے واقعے کو "سنگین واقعہ” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام پہلوؤں دہشت گردی، حادثہ یا تکنیکی خرابی پر تحقیقات جاری ہیں۔تاہم، عینی شاہدین کے بیانات میں قابلِ ذکر تضاد سامنے آیا ہے۔ ایک مقامی شہری، جو جائے وقوعہ پر سب سے پہلے پہنچا، نے دعویٰ کیا کہ دھماکہ جس گاڑی میں ہوا وہ Maruti Suzuki تھی، نہ کہ i20۔ اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے جس میں وہ گاڑی کے چھوٹے سائز اور ماڈل کی وضاحت کرتا ہے۔

    گاڑی کی ملکیت پر بھی ابہام پایا جاتا ہے۔ابتدائی رپورٹس میں کہا گیا کہ کار نڈیم نامی شخص کے نام پر رجسٹرڈ تھی جو فرید آباد (ہریانہ) کا رہائشی ہے۔ بعد ازاں بعض میڈیا اداروں نے دعویٰ کیا کہ گاڑی سلمان نامی شخص کی تھی، جس نے حال ہی میں اسے فروخت کیا تھا لیکن رجسٹریشن اب تک تبدیل نہیں ہوئی تھی۔دوسری جانب، سرکاری بیانیہ میں اچانک ایک نیا نام سامنے آیا – طارق (پلوامہ، جمّوں و کشمیر) جس سے واقعے کو دہشت گردی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم، اس دعوے کی کوئی حتمی تصدیق اب تک نہیں کی گئی۔

    ابتدائی طور پر کئی عینی شاہدین نے شبہ ظاہر کیا کہ ممکن ہے یہ دھماکہ CNG سلنڈر پھٹنے سے ہوا ہو، کیونکہ جائے وقوعہ سے کسی واضح دھماکہ خیز مواد یا "آئی ای ڈی” کے آثار نہیں ملے۔ماہرین کے مطابق اگر یہ دہشت گرد حملہ ہوتا تو عام طور پر حملہ آور موقع سے فرار ہوتے، مگر اس واقعے میں گاڑی میں سوار تمام افراد موقع پر ہلاک ہو گئے۔

    سوالات جو ابھی تک جواب طلب ہیں،گاڑی کا درست ماڈل اور مالک کون ہے؟دھماکہ بم سے ہوا یا سلنڈر پھٹا؟اگر دہشت گردی تھی تو حملہ آوروں کی شناخت کیا ہے؟جائے وقوعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج اب تک کیوں جاری نہیں کی گئی؟

    سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ واقعے کی تفتیش میں تضادات اور جلدبازی نے عوامی شکوک کو بڑھا دیا ہے۔ بعض حلقے خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ انتخابات سے قبل خوف اور نفرت کا ماحول پیدا کرنے کے لیے واقعے کو سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے۔

  • اجیت ڈوول کے دور میں بھارت سے 30 سے زائد حملے

    اجیت ڈوول کے دور میں بھارت سے 30 سے زائد حملے

    بھارت کے قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوول، جنہوں نے مئی 2014 میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں، نے ملک کو "آہنی سکیورٹی” دینے کا وعدہ کیا تھا۔ مگر ایک دہائی گزرنے کے بعد ملک خون میں نہا گیا ہے۔ کشمیر سے کیرالا تک، نکسلیوں سے لے کر داعش کے حامیوں تک، درجنوں دہشت گرد حملوں نے بھارت کو لرزا کر رکھ دیا ہے۔

    80 سالہ ڈوول اب بھی عہدے پر براجمان ہیں،مسلسل حملے ہو رہے ہیں لیکن مودی اجیت کو نہیں ہٹا رہے،
    اہم دہشت گرد حملوں کی فہرست (2014 تا 2025)
    بنگلور بم دھماکہ (دسمبر 2014): چرچ کے قریب دھماکہ، 1 ہلاک، 5 زخمی۔
    جموں حملہ (مارچ 2015): اسکول پر حملہ، 6 ہلاک، 10 زخمی۔
    گرداسپور (جولائی 2015): پولیس پوسٹ پر فائرنگ، 10 ہلاک۔
    پٹھانکوٹ ایئربیس محاصرہ (جنوری 2016): 7 فوجی ہلاک۔
    پلوامہ، پمپور، اور اُڑی حملے (2016): درجنوں فوجی مارے گئے۔
    سکما نکسلی حملہ (اپریل 2017): 26 اہلکار ہلاک۔
    پلوامہ خودکش حملہ (فروری 2019): 40 سی آر پی ایف اہلکارہلاک
    گچھی رولی بم حملہ (مئی 2019): 16 ہلاک۔
    سکما-بیجاپور جھڑپ (اپریل 2021): 22 فوجی مارے گئے۔
    جموں ڈرون حملہ (جون 2021): فوجی ہوائی اڈے پر دھماکے۔
    کوچی کنونشن بم دھماکہ (اکتوبر 2023): 3 ہلاک، 36 زخمی۔
    ریاسی یاتریوں پر حملہ (جون 2024): 9 ہلاک، 41 زخمی۔
    پہلگام قتلِ عام (اپریل 2025): 26 سیاح ہلاک۔
    دہلی لال قلعہ دھماکہ (نومبر 2025): 8 ہلاک، 30 زخمی۔

    گزشتہ دس برسوں میں 500 سے زائد افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔2015 سے 2025 کے دوران وادی کشمیر میں درجنوں کشمیری پنڈت نشانہ بنے، جس سے اقلیتی برادری کا اعتماد بری طرح متزلزل ہو گیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اجیت ڈوول کے دور میں داخلی حملوں میں کمی کے بجائے اضافہ دیکھنے میں آیا۔

  • دہلی کار دھماکہ،کانگریس نے مودی سرکار پر اٹھائے سوالات

    دہلی کار دھماکہ،کانگریس نے مودی سرکار پر اٹھائے سوالات

    کانگریس پارٹی کے ایم ایل اے ایچ ڈی راگناتھ نے دہلی کار دھماکے کی تحقیقات پر مودی حکومت پر سوالات اٹھا دیے۔

    راگناتھ نے کہا کہ کار میں سی این جی سلنڈر دھماکےکی جگہ پر وزیر داخلہ کا دورہ غیر متوقع تھا،انہوں نے کہا کہ امونیم نائٹریٹ کی باقیات کی تحقیقات غلط طریقے سے کی گئی کیونکہ اس علاقے کو سیل نہیں کیا گیا تھا، راگناتھ نے سوال اٹھایا کہ جب دہلی میں سی سی ٹی وی کی وسیع نگرانی ہے تو کئی گھنٹے بعد بھی کار سے متعلق معلومات جاری کیوں نہیں کی گئیں،انہوں نے مودی سرکار سے واقعے کی تحقیقات کے حوالے سے اصل حقائق سامنے لانے کا مطالبہ کردیا۔

  • دہلی دھماکے کے بعد بھارتی میڈیا کی بوکھلاہٹ، ثبوتوں کے بغیر پاکستان پر الزام تراشی

    دہلی دھماکے کے بعد بھارتی میڈیا کی بوکھلاہٹ، ثبوتوں کے بغیر پاکستان پر الزام تراشی

    بھارت کے دارالحکومت دہلی میں ہونے والے دھماکے کے بعد بھارتی میڈیا اور سیاسی حلقوں کی جانب سے حسبِ روایت پاکستان پر الزام تراشی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ دھماکے کی تحقیقات ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں، تاہم بھارتی چینلز اور تجزیہ کاروں نے بغیر کسی ثبوت کے پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرانا شروع کر دیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق دہلی کے حساس علاقے میں ہونے والا یہ دھماکہ شام کے وقت پیش آیا، جس میں چند افراد زخمی ہوئے۔ پولیس اور تفتیشی ادارے جائے وقوعہ کا جائزہ لے رہے ہیں، مگر ابھی تک کوئی حتمی شواہد سامنے نہیں آئے۔ اس کے باوجود بھارتی میڈیا نے واقعے کو سیاسی رنگ دیتے ہوئے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا مہم شروع کر دی ہے۔سوشل میڈیا صارفین نے بھارتی میڈیا کے اس رویے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ مختلف صارفین نے کہا کہ بھارت ہر داخلی مسئلے کا الزام پاکستان پر ڈال کر اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔ ایک صارف نے لکھا “ہر بار جب بھارت کے اندر کوئی واقعہ ہوتا ہے، فوراً پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرا دیا جاتا ہے، مگر بعد میں حقیقت کچھ اور نکلتی ہے۔”کئی صارفین نے دہلی دھماکے کو “فالس فلیگ آپریشن” قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت اپنے سیاسی مقاصد کے لیے ایسے واقعات کو استعمال کرتی ہے تاکہ عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹائی جا سکے۔

    پاکستانی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کے اس طرزِ عمل سے خطے میں کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بغیر ثبوت الزام تراشی نہ صرف غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین کے منافی بھی ہے۔

  • دہلی دھماکہ،بھارتیوں نے بھی انتخابی فالس فلیگ قرار دے دیا

    دہلی دھماکہ،بھارتیوں نے بھی انتخابی فالس فلیگ قرار دے دیا

    بھارتی سیاسی رہنماؤں اور صحافیوں نے نئی دہلی دھماکے کو انتخابی فالس فلیگ قرار دے دیا، بی جے پی حکومت پر انگلیاں اٹھنے لگیں

    بھارتی صحافی شالنی شکلہ نے کہا: "ہر بار جب بی جے پی بحران میں آتی ہے، دہشتگردی یا بلاسٹ کا نیا ڈرامہ رچایا جاتا ہے، فوراً پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرا دیا جاتا ہے”،کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ پردیوت بوردولوی کا انکشاف: "یہ سب بہار انتخابات سے پہلے کا ایک متوقع سیاسی اقدام تھا”،صحافی روی نیر نے لکھا: "بہار الیکشن کے دوران بی جے پی کمزور پوزیشن پر ہے، مزید ایسے دھماکوں کی توقع ہے”بھارتی شہری سوال اٹھانے لگے: "ہر انتخاب سے پہلے بم دھماکے کیوں ہوتے ہیں؟ آخر فائدہ کس کو ہوتا ہے؟”

    سوشل میڈیا پر ہزاروں صارفین نے بی جے پی پر سیاسی مفاد کے لیے فالس فلیگ آپریشنز کے الزامات لگا دیے،بھارتی صحافی رویندر کپور اور سربھی ایم نے تمام بڑے دہشت گرد حملوں کو ’’بی جے پی حکومت‘‘ سے جوڑا، پٹھان کوٹ، پلوامہ، پہلگام اور اب لال قلعہ دھماکہ،سابق آر ایس ایس رہنما یشونت شنڈے کے عدالتی حلفیہ بیان کا حوالہ دوبارہ زیرِ بحث "سنگھ پریوار نے انتخابی فائدے کے لیے بم دھماکے کروائے”بھارتی اخبار Coastal Digest نے بھی تصدیق کی تھی کہ "سنگھ پریوار ملک بھر میں دھماکے کروا کر بی جے پی کو فائدہ پہنچاتا رہا ہے”بھارتی صحافی کلکی نے کہا: "بی جے پی حکومت نے دہلی میں اپنے ہی شہریوں پر بم گرائے تاکہ احتجاج روکے جائیں۔ یہ دہشتگردی ہے”

    عوامی ردِعمل میں سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ امت شاہ کے وزیرِ داخلہ بننے کے بعد ہر بڑا حملہ بی جے پی حکومت کے دور میں ہی کیوں ہوتا ہے؟تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لال قلعہ دھماکے کے فوراً بعد پاکستان کو ملوث ٹھہرانا بی جے پی کا پرانا حربہ ہے۔ مقصد صرف انتخابی ہمدردی حاصل کرنا ہے،بھارتی عوام کا نیا بیانیہ اب سامنے آ گیا: ’’یہ دھماکے پاکستان نہیں، سیاست کی فیکٹریاں کروا رہی ہیں‘‘

  • لال قلعہ کے قریب دھماکہ،بھارتی حکومت،میڈیا کا پروپیگنڈہ ایک بار پھر بے نقاب

    لال قلعہ کے قریب دھماکہ،بھارتی حکومت،میڈیا کا پروپیگنڈہ ایک بار پھر بے نقاب

    گزشتہ چند گھنٹوں میں ہندوستانی سرکاری اور پرو حکومتی میڈیا میں شائع ہونے والے الزامات نے ایک بار پھر سرحد پار “دہشت گردی” کے بیانیے کو زور پکڑنے کا موقع فراہم کیا۔ دہلی کے لال قلعے کے قریب کار دھماکے اور اسی کے بعد جاری کیے گئے دعوؤں کے تناظر میں یہ رپورٹ اُن دعوٰیوں، شواہد کی کمی، اعداد و شمار میں تضاد اور ممکنہ پروپیگنڈا پیٹرن کا تجزیہ پیش کرتی ہے۔

    ہندوستانی اداکاروں اور میڈیا کے مطابق بھارتی فورسز نے ایل او سی کے قریب دراندازی کی ایک کوشش ناکام بنائی، دو عسکریت پسند ہلاک ہوئے اور بعد ازاں بڑے پیمانے پر چھاپوں میں مجموعی طور پر 2,563 کلو گرام امونیم نائٹریٹ اور تقریباً 2,900 کلو گرام IED/دھماکہ خیز مواد ضبط کیا گیا ، جسے باضابطہ طور پر ایک “جال” یا ماڈیول کا حصہ قرار دیا گیا اور اس کا تعلق مبینہ طور پر جیشِ محمد سے جوڑا گیا ہے۔ اسی اثنا میں دہلی میں ایک کار دھماکہ بھی ہوا جس نے متعدد ہلاکتیں ہوئیں

    بھارتی مختلف نیوز سروسز اور پرو حکومتی اکاؤنٹس نے ضبط کیے جانے والے مادّوں کی مقدار کے بارے میں مختلف اعداد دیے ، کچھ نے 2,563 کلو گرام، دوسرے نے 2,900 کلو گرام اور تیسری جگہ مختلف اعداد سامنے آئے۔ ان دعووں کے ساتھ جو شکلیں اور بیانات شائع کیے گئے، ان میں کسی بھی طرح کی آزاد، غیرجانبدار فرانزک رپورٹس، لیبارٹری کے نتائج، یا چین آف کسٹڈی کی دستاویزات منظر عام پر نہیں آئیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے کلپس اور تصاویر کی صداقت بھی تفتیش کے بغیر ثابت نہیں کی گئی۔ اس تضاد اور شواہد کی عدم موجودگی نے حقائق کی آزاد تصدیق میں رکاوٹ کھڑی کر دی ہے۔

    یہ وہی حکمتِ عملی معلوم ہوتی ہے جو ماضی میں بھی دیکھی گئی: دھمکی کا شور ، ایک منظر نامہ (انکاؤنٹر/دراندازی) مبینہ شہادتیں/ثبوت کا اعلان، بڑے پیمانے پر چھاپے اور گرفتاریاں۔ پچھلے سالوں میں سوپور، پلوامہ اور پہلگام جیسے واقعات کے بعد بھی اسی رنگ میں بیانات اور کارروائیاں سامنے آئیں، جن پر بین الاقوامی سطح پر آزاد تصدیق طلب رہی یا بعد ازاں سوال اٹھائے گئے۔ کئی مبصرین اور حقوقِ انسانی گروپس کا ماننا ہے کہ ایسے واقعات کو مقامی آبادی اور اختلافِ رائے کو دباتے ہوئے داخلی ایجنڈے کو تقویت دینے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    ان دعووں کے فوراﹰ بعد کشمیری علاقوں میں بڑے پیمانے پر چھاپے، گرفتاریوں اور تفتیشی کارروائیوں کی خبریں آئیں۔ ایسے آپریشنز میں اکثر آزاد اور غیرجانبدار مبصرین کی رسائی محدود رہتی ہے، جس کی وجہ سے انسانی حقوق کے حلقے خدشات ظاہر کرتے رہے ہیں کہ “دہشت گردی” کا لیبل مقامی آبادی کے خلاف اجتماعی سزا کے تناظر میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ ایسے حالات میں شفافیت اور ثالثی جانچ کا فقدان خطرناک نتائج کو جنم دے سکتا ہے۔

    اہم بین الاقوامی خبر رساں ادارے اور غیر جانبدار تجزیہ کار اس وقت تک مکمل، آزادانہ تصدیق کی تائید نہیں کر رہے جن بیانات کو بھارتی سرکاری ذرائع بڑے پیمانے پر پیش کر رہے ہیں۔ لال قلعہ کے واقعہ کی خبریں تو بین الاقوامی سطح پر رپورٹ ہو رہی ہیں، مگر منسلک دعووں ، خصوصاً ضبط ہونے والے مادّوں اور ان کے مبینہ روابط کی آزاد تصدیق ابھی دستیاب نہیں ہے۔ لہٰذا دعووں کو بطورِ حقائق قبول کرنے سے پہلے شواہد کا باضابطہ، شفاف اعلان ضروری ہے۔

    بھارتی حکام نے بڑی مقدار میں دھماکہ خیز مادّہ ضبط کیے جانے اور دراندازی ناکام بنانے کے بارے میں دعوے کیے ہیں، تاہم اعداد و شمار میں مستقل مزاجی اور آزاد فرانزک شواہد دستیاب نہیں۔ دہلی کے ریڈ فورٹ کے نزدیکی کار دھماکے کی خبریں بین الاقوامی ایجنسیوں نے رپورٹ کی ہیں، مگر اس واقعہ اور ضبطی/انکاؤنٹر کے بیچ تعلق کو ثابت کرنے کے لیے مزید شفاف شواہد درکار ہیں۔ گذشتہ تجربات اور بیانیے دیکھ کر امکان ہے کہ سیاسی/سیکیورٹی ایجنڈے کے تناظر میں بیانیے کو ایک خاص سمت میں ہموار کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آبادی اور انسانی حقوق پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ حقیقت جاننے کا واحد راستہ ہے، آزاد، غیرجانبدار فرانزک جانچ، شواہد کی مکمل دستاویزات، اور چین آف کسٹڈی کی تفصیلات عوام کے سامنے رکھی جائیں۔ جب تک یہ شفافیت نہیں آتی، مباحثے اور قانونی کارروائیوں کو جذبات یا پراپیگنڈا پر مبنی بیانیوں کے بجائے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر چلانا چاہیے۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں اور آزاد میڈیا کو بھی آزادانہ رسائی دینی چاہیے تاکہ حقائق کو چھان کر عوام تک پہنچایا جا سکے۔

    بھارت اپنی ناکامیوں کو چھپانے اور الزام تراشی کے لیے آپر یشن سندور کے خاتمے کے فوراً بعد اس بیانیے کو آگے بڑھا رہا ہے نام نہاد ایل او سی کی دراندازی اور د ھماکہ خیز مواد کا قبضہ ایک من گھڑت پرو پیگنڈہ ہے جس کا مقصد پاکستان کو ایک جارح کے طور پر پیش کرنا اور مقبو ضہ کشمیر میں ہندوستان کی فوجی تعمیر کو جائز قرار دینا ہے۔ دھمکیاں تیار کرکے اور شہریوں کو مجرم بنا کر، بھارت کا مقصد انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو چھپانا اور کشمیریوں کی حق خود ارادیت کی جدوجہد کو دبانا ہے۔

  • مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر اور معروف کالم نگار عرفان صدیقی چل بسے

    مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر اور معروف کالم نگار عرفان صدیقی چل بسے

    حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر اور معروف کالم نگار عرفان صدیقی طبعی مشکلات کے باعث انتقال کر گئے۔

    عرفان صدیقی دو ہفتے سے علیل تھے اور اسلام آباد کے نجی اسپتال میں زیر علاج تھے۔عرفان صدیقی پارلیمنٹ کے ایوان بالا میں حکمران جماعت کے پارلیمانی لیڈر کے فرائض سرانجام دے رہے تھے اور ان کی سینیٹ میں مدت مارچ 2027ء تک تھی۔ ان کی وفات سے نہ صرف پارلیمانی حلقوں میں غم کا ماحول ہے بلکہ سیاسی اور ادبی دنیا بھی سوگوار ہے۔

    عرفان صدیقی صدر مسلم لیگ (ن) نواز شریف کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے اور پارٹی میں ایک اہم کردار ادا کرتے آئے۔ وہ خارجہ امور کی سینیٹ کمیٹی کے چیئرپرسن بھی تھے اور اس کے علاوہ بزنس ایڈوائزری، ہیومن رائٹس، انفارمیشن و براڈ کاسٹنگ، داخلہ اور منشیات کنٹرول سمیت مختلف سینیٹ کمیٹیوں کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔سینیٹر عرفان صدیقی کی سیاسی بصیرت اور ادبی خدمات کو نہ صرف مسلم لیگ (ن) بلکہ ملک بھر میں سراہا جاتا رہا ہے۔ ان کے انتقال پر سیاسی و سماجی حلقوں میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

    صدر مملکت آصف علی زرداری کا سینیٹر عرفان صدیقی کے انتقال پر اظہارِ تعزیت
    صدر مملکت آصف علی زرداری نے سینیٹ میں پاکستان مسلم لیگ ( ن) کے پارلیمانی قائد عرفان صدیقی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔صدر مملکت نے ان کے خاندان سے اظہار ھمدردی کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم کی پاکستان میں جمہوریت کے لیے بے پناہ خدمات ہیں۔صدر نے عرفان صدیقی کے ایصالِ ثواب کیلیے دعا کی اور ان کے خاندان سے اظہارِ ہمدردی کیا۔

    وزیراعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، حمزہ شہباز،وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں نے بھی عرفان صدیقی کی وفات پر اظہار افسوس کیا ہے.

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نےسینیٹر عرفان صدیقی کے انتقال پر اظہار افسوس کیا ہے،وزیرداخلہ نے سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کیا ہے،وزیرداخلہ نے سینیٹر عرفان صدیقی کی صحافتی و سیاسی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ سینیٹر عرفان صدیقی مرحوم صحافت کے ساتھ سیاست میں بھی اعلی روایات کے علمبردار تھے،عرفان صدیقی مرحوم کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔اللہ تعالٰی مرحوم کی روح کو جوار رحمت میں جگہ دے اور سوگوار خاندان کو صبر جمیل عطافرمائے۔

    سینیٹر عرفان صدیقی صاحبزادے عمران صدیقی نے بتایا ہے اسلام آباد کے ایچ الیون قبرستان میں نماز جنازہ ہو گا اور نماز جنازہ کے وقت کا اعلان صبح کیا جائے گا