Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • لال قلعہ کے قریب دھماکہ کے بعد ممبئی،بہار سمیت بھارت بھر میں ہائی الرٹ جاری

    لال قلعہ کے قریب دھماکہ کے بعد ممبئی،بہار سمیت بھارت بھر میں ہائی الرٹ جاری

    پیر کی شب بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے تاریخی لال قلعہ کے قریب ایک کار میں ہونے والے شدید دھماکے کے نتیجے میں 13 افراد ہلاک اور 24 زخمی ہوگئے۔ دھماکہ اتنی شدت کا تھا کہ اردگرد کھڑی گاڑیاں بھی شعلوں کی لپیٹ میں آگئیں، جبکہ جائے وقوعہ پر تباہی کے دل دہلا دینے والے مناظر دیکھنے میں آئے۔

    عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ لال قلعہ میٹرو اسٹیشن کے گیٹ نمبر 1 کے باہر کھڑی ایک سفید ہنڈائی i20 کار میں ہوا جس کا رجسٹریشن نمبر ہریانہ کا تھا اور وہ ایک شخص ندیم کے نام پر رجسٹرڈ تھی۔ دھماکے کے فوراً بعد قریبی گاڑیوں میں آگ لگ گئی، ایک وین کے دروازے اڑ گئے جبکہ کئی لاشیں بری طرح جھلس گئیں۔دہلی پولیس کمشنر ستیش گولچا نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا “شام 6 بج کر 52 منٹ پر ایک گاڑی لال بتی پر رکی تھی کہ اچانک دھماکہ ہوا۔ دھماکے سے قریبی گاڑیاں بھی متاثر ہوئیں۔ کچھ افراد ہلاک ہوئے ہیں، کچھ زخمی۔ صورتحال پر مکمل نظر رکھی جارہی ہے۔ وزیر داخلہ امیت شاہ نے رابطہ کیا ہے اور تمام معلومات انہیں فراہم کی جارہی ہیں۔”وزیر داخلہ امیت شاہ نے اس واقعے پر فوری طور پر وزیر اعظم نریندر مودی کو بریفنگ دی۔ مودی نے دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین سے اظہارِ افسوس اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی۔

    ذرائع کے مطابق ترجیح زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کی ہے۔ تقریباً دو درجن ایمبولینسز موقع پر پہنچ گئیں جبکہ علاقے کو مکمل طور پر سیل کردیا گیا ہے۔ بعد ازاں فورینزک اور ٹیکنیکل ٹیمیں شواہد اکٹھے کریں گی۔

    نئی دہلی کے تاریخی لال قلعے کے قریب کار میں ہونے والے دھماکے کے بعد ملک بھر میں ہائی الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔دھماکے کے بعد ممبئی سمیت پورے مہاراشٹرا میں سیکیورٹی سخت کردی گئی ہے۔ سیکیورٹی اداروں کے مطابق اہم تنصیبات، ریلوے اسٹیشنوں، ایئرپورٹس، اور مذہبی مقامات پر اضافی نفری تعینات کردی گئی ہے۔ حساس مقامات پر چیکنگ کے عمل میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔الیکشن کے پیشِ نظر بہار میں بھی ہائی الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔ اسی طرح اترپردیش اور دہرہ دون کے تمام اضلاع کی پولیس کو گشت بڑھانے، حساس علاقوں میں چوکسی رکھنے اور غیر معمولی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ لکھنؤ سے جاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ہر ضلع میں گشت اور ناکہ بندی میں اضافہ کیا جائے۔دھماکے کے بعد بھارت۔نیپال سرحد پر بھی سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ بارڈر سیکیورٹی فورس (BSF) اور مقامی پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ سرحد پار کرنے والے تمام افراد کی سخت نگرانی کی جائے۔ انٹیلی جنس اداروں نے بھی سرحدی علاقوں میں اپنی موجودگی بڑھا دی ہے۔راجستھان میں بھی ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے ڈی جی پی راجیو شرما نے تمام ریجنل انسپکٹر جنرلز، ضلع پولیس سربراہان اور حساس تھانوں کو چوکنا رہنے کی ہدایت دی ہے۔ سرحدی اضلاع میں خصوصی نگرانی کی جا رہی ہے جبکہ دوسرے صوبوں سے آنے والی گاڑیوں کی مکمل تلاشی لی جا رہی ہے۔

  • پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی،جے یو آئی کا ایکشن،سینیٹر کو پارٹی سے نکال دیا

    پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی،جے یو آئی کا ایکشن،سینیٹر کو پارٹی سے نکال دیا

    جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) نے سینیٹر احمد خان کو پارٹی سے نکال دیا۔

    جے یو آئی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق 27 ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دینے پر احمد خان کو پارٹی سے خارج کیا گیا ہے۔جے یو آئی کا کہنا ہےکہ احمد خان فوری طور پر سینیٹ کی نشست سے مستعفی ہوجائیں، احمد خان نے استعفیٰ نہ دیا تو نااہلی کے لیے الیکشن کمیشن سے رجوع کریں گے۔

    خیال رہےکہ سینیٹ نے 27 ویں آئینی ترمیم منظور کرلی ہے۔ 64 ارکان نے ترمیمی بل کے حق میں ووٹ دیا جب کہ مخالفت میں کوئی ووٹ نہ آیا،پی ٹی آئی کے سینیٹر سیف اللہ ابڑو اور جے یو آئی کے احمد خان نے بھی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا،بعد ازاں سینٹ میں خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے مستعفی ہونےکا اعلان کردیا اور اب جے یو آئی نے احمد خان کو پارٹی سے نکال دیا.

  • دہلی سلنڈر دھماکہ،مودی سرکار کا ایک اور فالس فلیگ آپریشن

    دہلی سلنڈر دھماکہ،مودی سرکار کا ایک اور فالس فلیگ آپریشن

    بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں اسرائیلی سفارتخانے کے قریب دھماکہ ہوا ہے

    سوشل میڈیا اور بعض سیاسی و صحافتی حلقوں میں یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ یہ واقعہ کسی بیرونی حملے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک "فالس فلیگ آپریشن” ہو سکتا ہے، جسے مبینہ طور پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت نے سیاسی مقاصد کے لیے ترتیب دیا۔ذرائع کے مطابق، دھماکہ سفارتخانے کے قریب ایک مصروف سڑک پر ہوا، جس کی آواز دور تک سنی گئی۔ پولیس اور بم ڈسپوزل اسکواڈ نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی بھارتی حکومت نے انتخابی ادوار میں ایسے مشتبہ واقعات کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا۔ ان کے مطابق، حالیہ دھماکہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب بہار کے انتخابات کے پہلے مرحلے میں بی جے پی کو غیر متوقع نتائج کا سامنا کرنا پڑا۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ممکن ہے اس واقعے کو عوامی ہمدردی حاصل کرنے اور اپوزیشن کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جائے۔

    یاد رہے کہ بھارت میں 2019 کے پلوامہ حملے کے بعد بی جے پی نے قومی سلامتی کے بیانیے کو بھرپور طریقے سے انتخابی مہم میں شامل کیا تھا، جس کے نتیجے میں اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔ اب ایک بار پھر انتخابی ماحول میں اسی نوعیت کا واقعہ سامنے آنا کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔دہلی پولیس نے تصدیق کی ہے کہ یہ سلنڈر دھماکہ تھا تاہم اسکے بعد بھارتی میڈیا پر بلیک آؤٹ کر دیا گیا،واقعہ کے بعداسرائیلی سفارتخانے کی سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

  • کیڈٹ کالج وانا پر دہشت گرد حملے کی کوشش ناکام

    کیڈٹ کالج وانا پر دہشت گرد حملے کی کوشش ناکام

    جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں فتنۂ خوارج کی جانب سے کیڈٹ کالج وانا پر دہشت گرد حملے کی کوشش سیکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دی۔

    جنوبی وزیرستان کے کیڈٹ کالج وانا پر دہشت گردوں نے بزدلانہ حملہ کیا جسے سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا اور 2 خوارج ہلاک کر دیے۔ترجمان پاک فوج کے مطابق بھارتی سرپرستی یافتہ گروپ فتنہ الخوارج نے جنوبی وزیرستان کے کیڈٹ کالج وانا پر حملہ کیا،حملہ آوروں نے پریمیئر سکیورٹی کو توڑنے کی کوشش کی، تاہم سکیورٹی فورسز نے حملہ آور کے منصوبوں کو تیزی سے ناکام بنایا،مایوسی میں حملہ آوروں نے مین گیٹ پر ایک بارودی گاڑی ٹکرادی، دھماکے سے مرکزی گیٹ اور ملحقہ انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا، بھارتی سرپرستی یافتہ 2 خوارج ہلاک کردیے گئے، 3 خوارج کالج کے احاطے میں داخل ہوئے ، تینوں خوارج اب کالج کے ایڈمنسٹریٹو بلاک میں محصور ہیں، خوارج اے پی ایس میں وحشیانہ اقدام کی طرز پر دہشت گردی دہرانے کی کوشش کررہے تھے۔

    خوارج نے اے پی ایس میں وحشیانہ اقدام کی طرز پر دہشت گردی دہرانے کی کوشش کی،ترجمان پاک فوج
    آئی ایس پی آر کے مطابق کالج کے اندر چھپے خوارج افغانستان میں اپنے آقاؤں اور ہینڈلرز کے ساتھ رابطے میں ہیں، خوارج افغانستان اپنے ہینڈلرز سے ہدایات وصول کر رہے ہیں، پاکستان دہشت گردوں اور افغانستان میں موجود ان کی قیادت کے خلاف جواب کا حق محفوظ رکھتا ہے۔خوارج کا ہدف قبائلی علاقوں کی نوجوان نسل میں خوف پھیلانا ہے، افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی افغان طالبان کے دعوؤں کے برعکس ہے،بھارتی سرپرستی یافتہ خوارج کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے، عزمِ استحکام کے تحت بلا روک ٹوک انسدادِ دہشت گردی اقدامات جاری رکھیں گے، ملک سے بیرونی سرپرستی یافتہ دہشت گردی کا خاتمہ ممکن بنایا جائے گا۔

    یاد رہے کہ کیڈٹ کالج وانا مقامی قبائل کی درخواست پر قائم کیا گیا ایک اہم تعلیمی ادارہ ہے جہاں محسود اور وزیر قبائل کے بچے بڑی تعداد میں زیرِ تعلیم ہیں۔ ادارہ نوجوانوں کو اعلیٰ معیار کی تعلیم فراہم کر رہا ہے اور اس کے فارغ التحصیل طلبہ ملک کے مختلف شعبوں میں اہم عہدوں پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

  • نسیم شاہ کے حجرے پر فائرنگ

    لوئردیر میں قومی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر نسیم شاہ کے حجرے پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے۔

    پولیس کے مطابق فائرنگ سے حجرے کا مین گیٹ،کھڑکیاں اور گاڑی کو جزوی طور پر نقصان پہنچا،پولیس نے بتایا کہ فائرنگ واقعے کا مقدمہ درج کرلیاگیا ہے،پولیس کے مطابق فائرنگ واقعے کے بعد 5 مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔سیاسی رہنماؤں نے نسیم شاہ کے حجرے پر فائرنگ کے واقعہ کی مذمتکی ہے اور ملزمان کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے

  • نئی دہلی دھماکہ سلنڈر دھماکہ ،دہشتگردی کے شواہد نہیں ملے،نئی دہلی پولیس کی تصدیق

    نئی دہلی دھماکہ سلنڈر دھماکہ ،دہشتگردی کے شواہد نہیں ملے،نئی دہلی پولیس کی تصدیق

    نئی دہلی پولیس کا ابتدائی بیان سامنے آ گیا، نئی دہلی میں سلینڈر دھماکہ ہوا

    دہلی پولیس کے مطابق دھماکہ میں کسی قسم کی دہشتگردی کے کوئی شواہد نہیں ملے۔ دھماکہ کا ابتدائی تجزیہ ثابت کر رہا ہے کہ گاڑی میں موجود گیس سلینڈر میں دھماکہ ہوا۔ گیس سلینڈر دھماکے سے نئی دہلی میں 8 افراد ہلاک ہوئے،زرائع کے مطابق دہلی پولیس پر ابتدائی بیان تبدیل کرنے کے لئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔دہلی پولیس اپنے بیان پر ڈٹ گئی۔ یہ سلینڈر دھماکہ ہی ہے۔ بھارتی میڈیا دہلی پولیس کا ابتدائی بیان نشر کرنے کے بعد بلیک آؤٹ کرنے لگا۔

    واضح رہے کہ بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں لال قلعہ میٹرو اسٹیشن کےقریب دھماکے کی اطلاع موصول ہوئی ہے ،لال قلعہ میٹرو اسٹیشن کے گیٹ نمبر 1 کے قریب گاڑی میں دھماکہ ہونےکی اطلاعات ہیں دھماکے کی اطلاع پر قانون نافذ کرنے والے ادارے موقع پر پہنچ گئے

  • 27ویں آئینی ترمیم سینیٹ سے منظور

    27ویں آئینی ترمیم سینیٹ سے منظور

    سینیٹ نے 27 ویں آئینی ترمیم منظور کرلی

    وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے سینیٹ میں آئینی ترمیمی بل پیش کرنے کی تحریک پیش کی۔ اس دوران پی ٹی آئی ارکان نے چیئرمین سینیٹ کے ڈائس کے سامنے احتجاج کیا،پی ٹی آئی کے سیف اللہ ابڑو نشست پر بیٹھے رہے اور احتجاج میں شریک نہیں ہوئے،ستائیسویں آئینی ترمیمی پیش کرنے کی تحریک پر ایوان میں ووٹنگ ہوئی تو سیف اللہ ابڑو آئینی ترمیم پیش کرنے کی تحریک کے حق میں کھڑے ہوئے،جے یو آئی کے احمد خان بھی تحریک کے حق میں کھڑے ہو ئے۔ 64 ارکان سینیٹ نے ستائسیویں آئینی ترمیم کی 59 شقوں کی مرحلہ وار منظوری دی۔ سینیٹ ارکان نے نشستوں سے کھڑے ہوکر ووٹنگ میں حصہ لیا، 27 ویں آئینی ترمیمی بل سینیٹ سے حتمی منظوری کیلئے پیش کیا گیا، آئینی ترمیمی بل منظوری کیلئے اعظم نذیر تارڑ نے پیش کیا،سینیٹ اراکین نے 27 ویں ترمیم کے حق یا مخالفت میں لابیز میں جا کر ووٹ دیا اور یوں 64 ارکان نے ترمیمی بل کے حق میں ووٹ دیا جبکہ مخالفت میں کوئی ووٹ نہ آیا۔

    چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے رولنگ دی کہ 27 ویں آئینی ترمیمی بل سینیٹ سے منظور کرلیا، 27 ویں آئینی ترمیمی بل کے حق میں 64 ووٹ آئے جبکہ آئینی ترمیم کے خلاف کوئی ووٹ نہیں آیا،آئینی ترمیمی بل پر ووٹنگ کے بعد سیف اللہ ابڑو اور احمد خان ایوان میں واپس نہیں آئے۔

    آئینی آئینی ترمیم کے تحت صدر کے خلاف تاحیات ،گورنر کے خلاف اس کی مدت تک کوئی کرمنل کارروائی نہیں ہوگی۔آئینی ترمیم میں کہا گیا کہ صدر کو تاحیات اور گورنر کے خلاف اس کی مدت تک کسی عدالت سے گرفتاری کا آرڈر جاری نہیں ہوگا، صدر پر استثنا کا اطلاق تب نہیں ہوگاجب صدارتی مدت کے بعد کسی پبلک آفس کا عہدیدار بن جائیں۔آئینی ترمیم کے مطابق وفاقی آئینی عدالت میں صوبوں سے برابر ججز اور اسلام آباد ہائیکورٹ سے کم از کم ایک جج ہوگا، اسلام آباد سے ججز کی تعداد ، صوبوں کے ججز سے زیادہ نہیں ہو گی۔آئینی ترمیم کے مطابق آئینی عدالت تب از خود نوٹس لے گی جب کوئی اس کے لیے درخواست دے، ہائیکورٹ جج کی ایک ہائیکورٹ سے دوسری میں ٹرانسفرجوڈیشل کمیشن کے ذریعے ہو گی،جج ٹرانسفر سے انکار کرے تو سپریم جوڈیشل کونسل کے پاس ریفرنس فائل ہو گا، جج کو ٹرانسفر سے انکار کی وجوہات بتانے کا موقع دیا جائے گا۔

  • خیبر پختونخوا، سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں،20 خارجی ہلاک

    خیبر پختونخوا، سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں،20 خارجی ہلاک

    سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا میں 2 مختلف کارروائیاں کرتے ہوئے 20 خوارجی ہلاک کردیے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کے مطابق کارروائیاں 8 اور 9 نومبر کو کی گئیں، شمالی وزیرستان کے ضلع شوال میں آپریشن کے دوران بھارتی سپانسرڈ 8 خارجی مارے گئے،ترجمان پاک فوج کاکہنا ہے کہ درہ آدم خیل میں شدید فائرنگ کے تبادلے میں 12 خوارج ہلاک کر دیے گئے، مزید بھارتی سپانسرڈ دہشت گردوں کی موجودگی کے خدشے کے باعث کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

  • جسٹس منصور علی شاہ کا چیف جسٹس کو خط،آئینی ترمیم پرعدلیہ سے باضابطہ مشاورت کا مطالبہ

    جسٹس منصور علی شاہ کا چیف جسٹس کو خط،آئینی ترمیم پرعدلیہ سے باضابطہ مشاورت کا مطالبہ

    سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصور علی شاہ نے27 ویں آئینی ترمیم پر چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کو ایک اور خط لکھا ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے خط میں مجوزہ آئینی ترمیم پرعدلیہ سے باضابطہ مشاورت کا مطالبہ کیا ہے.خط میں جسٹس منصور کا کہنا ہےکہ چیف جسٹس پاکستان بطور عدلیہ سربراہ فوری ایگزیکٹو سے رابطہ کریں، واضح کریں آئینی عدالتوں کے ججز سے مشاورت کے بغیر ترمیم نہیں ہو سکتی، آئینی عدالتوں کے ججز پر مشتمل ایک کنونشن بھی بلایا جاسکتا ہے، آپ اس ادارے کے اینڈمنسٹریٹر نہیں گارڈین بھی ہیں، یہ لمحہ آپ سے لیڈرشپ دکھانے کا تقاضہ کرتا ہے۔ عدلیہ اگر متحد نہ ہوئی تو اس کی آزادی اور فیصلے دونوں متاثرہوں گے۔ تاریخ خاموش رہنے والوں کو نہیں، آئین کی سربلندی کے لیےکھڑے ہونے والوں کو یاد رکھتی ہے۔

    خط میں چیف جسٹس پاکستان سےتمام آئینی عدالتوں کے جج صاحبان کا اجلاس بلانےکی سفارش کی گئی ہے۔ خط میں سپریم کورٹ،ہائی کورٹس اور وفاقی شرعی عدالت سے باضابطہ مشاورت کی تجویز دی گئی ہے،خط میں جسٹس منصور نے کہا ہےکہ عدلیہ کا ادارہ جاتی مؤقف تحریری طور پر حکومت اور پارلیمان کوبھجوایا جائے۔ جب تک مشاورت مکمل نہ ہو،حکومت کو ترمیم پیش نہ کرنے سے آگاہ کیاجائے، میری گزارش اختلاف نہیں، ادارہ جاتی یکجہتی کی اپیل ہے۔ یہ خط کسی فرد کےخلاف نہیں،آئین کی سربلندی اور عدلیہ کی خودمختاری کے حق میں ہے۔ آئین پرخاموشی اختیارکرنا آئینی حلف کی روح کو مجروح کرےگا۔ آئندہ نسلوں کے لیے خودمختار اور باوقار عدلیہ کی حفاظت سب کی ذمہ داری ہے،

  • 27ویں آئینی ترمیم،پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے ایک ایک سینیٹر کا حق میں ووٹ

    27ویں آئینی ترمیم،پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے ایک ایک سینیٹر کا حق میں ووٹ

    مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم کے مسودے کی منظوری کے لیے سینیٹ کا اجلاس جاری ہے، وزیر قانون اعظم نذیر تاررڑ نے آئینی ترمیمی بل پیش کرنے کی تحریک پیش کر دی۔

    سینیٹ میں 27 ویں آئینی ترمیم کی شق وار منظوری کا عمل مکمل۔ 59 شقوں کی منظوری دی گئی،شق وار منظوری کے بعد وفاقی وزیرقانون اعظم نذیر نے 27ویں آئینی ترمیمی بل حتمی منظوری کے لیے پیش کر دیا ہے، ووٹ ڈالنے کے لئے ارکان الگ الگ لابی میں جائیں گے، چیئرمین نے ڈویژن سے پہلے دو منٹ کے لیے گھنٹیاں بجانے کا حکم دیدیا، دو منٹ بعد ایوان کے دروازے بند کردیے جائیں گے ۔

    چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی سینیٹ اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں، ستائیسویں آئینی ترمیم پیش کرنے کی تحریک پر ایوان میں ووٹنگ جاری ہے، 64 ارکان سینیٹ نے ستائسیویں آئینی ترمیم کی شق 2 کے حق میں ووٹ دے دیا، اپوزیشن ارکان بائیکاٹ کرکے سینیٹ سے واک آؤٹ کرگئے، پی ٹی آئی سینیٹر سیف اللّٰہ ابڑو اور احمد خان نے ترمیم کے حق میں ووٹ دیا،

    اپوزیشن نے سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی اجلاس میں بھی ووٹنگ کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے، اپوزیشن ارکان نے کہا کہ ایوان میں گنتی کے بغیر کیسے ترمیم ہو سکتی ہے؟پی ٹی آئی ارکان نے چیئرمین سینیٹ کے ڈائس کے سامنے احتجاج کیا، سینیٹر سیف اللّٰہ ابڑو نشست پر بیٹھے رہے، احتجاج میں شریک نہیں ہوئے، پی ٹی آئی سینیٹر سیف اللّٰہ ابڑو آئینی ترمیم پیش کرنے کی تحریک کے حق میں کھڑے ہوئے، جے یو آئی کے احمد خان بھی تحریک کے حق میں کھڑے ہو گئے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ 27 ویں ترمیم پر ووٹنگ کے بائیکاٹ کا فیصلہ اپوزیشن مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں کیا گیا، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں ووٹنگ سے قبل احتجاج کیا جائے گا۔اس سے قبل قائمہ کمیٹی قانون و انصاف نے رپورٹ سینیٹ میں پیش کی جس میں 27ویں آئینی ترمیم کا مسودہ بھی شامل ہے۔ رپورٹ فاروق ایچ نائیک نے پیش کی۔اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ مسودہ میں کچھ ترامیم کی گئی ہیں، سپریم کورٹ کے پاس از خود نوٹس کا اختیار تھا، ازخود نوٹس کے لیے تجویز کیا ہے کہ آئینی عدالت تب اس پر کام کرے گی جب کوئی اس کے لیے درخواست دے۔انہوں نے کہا کہ جج کی ہائی کورٹ سے دوسری ہائی کورٹ ٹرانسفر جوڈیشنل کمیشن پاکستان کے ذریعے ہوگی، اگر جج ٹرانسفر سے انکار کرے تو سپریم جوڈیشل کونسل کے پاس ریفرنس فائل ہوگا، جج کو انکار کی وجوہات بتانے کا موقع دیا جائے گا، صدارتی استثنیٰ تب قابل عمل نہیں ہوگا جب وہ پبلک آفس ہولڈر ہو جائے۔