Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • "عطائے ارمغانِ عقیدت”   آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی تقریب

    "عطائے ارمغانِ عقیدت” آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی تقریب

    آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) کے زیرِ اہتمام اپنی نوعیت کی منفرد اور باوقار ادبی و روحانی تقریب "عطائے ارمغانِ عقیدت” لاہور کے معروف ہوٹل پاک ہیری ٹیج میں منعقد ہوئی۔

    یہ تقریب خصوصی طور پر مقابلہ "آپ ﷺ کے نام خط” میں شریک ہونے والے نمایاں پوزیشن ہولڈرز اور شرکاء کی حوصلہ افزائی کے لیے منعقد کی گئی، جس میں ممتاز ادبی، صحافتی اور علمی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کی سعادت حافظ محمد زاہد نے حاصل کی، جبکہ فائزہ شہزاد اور حفصہ خالد نے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کر کے محفل کو روحانیت سے معطر کر دیا۔ نظامت کے فرائض معروف اینکر و لکھاری سمیرا شفق نے نہایت وقار اور سلیقے سے انجام دیے۔مقابلے کے نتائج کے اعلان کے موقع پر یہ خوشخبری بھی سنائی گئی کہ شرکاء میں مجموعی طور پر 1,95,000 روپے کے انعامات تقسیم کیے جائیں گے، جن میں 85,000 روپے نقد اور 1,15,000 روپے مالیت کی کتابیں شامل ہیں۔بانی تنظیم ایم ایم علی نے اپنے افتتاحی خطاب میں اس ادبی و روحانی روایت کو آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “اپووا کا مقصد قلمکاروں کو عزت، پہچان اور فکری ہم آہنگی فراہم کرنا ہے۔”تقریب کی صدارت معروف ادبی شخصیت ناصر بشیر نے کی جبکہ سرپرستی سینئر وائس چیئرمین ملک یعقوب اعوان نے انجام دی۔

    مہمانانِ خصوصی میں محمد مرتضیٰ کھوکھر، رائے منظور ناصر، کاشف منظور، ایم اے شہزاد خان، اشفاق احمد خان، راشد محمود، ڈاکٹر فضیلت بانو، شہزاد چوہدری، اختر عباس، شہزاد نیر، ریاض احمد احسان، ندیم نظر اور چوہدری غلام غوث شامل تھے۔تقریب میں ثوبیہ راجپوت، قرۃ العین خالد اور ماہ نور طاہر سمیت کئی ادبی شخصیات نے پُراثر خطابات کیے، جن میں عشقِ رسول ﷺ، ادب کی سماجی ذمہ داری اور نوجوان نسل میں فکری بیداری جیسے اہم موضوعات زیرِ بحث آئے۔آخر میں بانی اپووا ایم ایم علی نے تقریب کے کامیاب انعقاد میں معاونت کرنے والی تمام شخصیات کا شکریہ ادا کیا،

    تقریب سے قبل شرکاء کے لیے پرتکلف لاہوری ناشتے کا اہتمام کیا گیا، جبکہ اختتامی لمحات میں یومِ اقبال کی مناسبت سے کیک کاٹا گیا۔ اس موقع پر تنظیم کی فعال رکن فرسہ رانا کی سالگرہ کا کیک بھی کاٹا گیا،

  • اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں جلد بلدیاتی الیکشن کرانے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے وفاقی دارالحکومت میں جلد بلدیاتی انتخابات کروانے کی درخواست پر سماعت کی جس دوران الیکشن کمیشن کے ڈی جی لاء اور اسسٹنٹ اٹارنی سمیت دیگر متعلقہ حکام عدالت میں پیش ہوئے،دوران سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ لوکل گورنمنٹ الیکشن نہ ہونے سے نظام کا بیڑا غرق ہوگیا، نہ کوئی پراپرٹی ٹیکس لگ سکتاہے اور نہ ہی کوئی کام سیدھا ہورہا ہے، عدالتی فیصلوں کی مسلسل خلاف ورزی ہورہی ہے۔

    اس موقع پر الیکشن کمیشن کے ڈی جی لاء نے عدالت کو بتایا کہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 میں کی گئی ترامیم میں کچھ پیچیدگیاں ہیں،اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے کہا کہ بلدیاتی الیکشن سے متعلق قانون سازی کی وجہ سے الیکشن تاخیر کا شکار ہوا، ترمیم اور قانون سازی کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے،جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ابھی پارلیمان آئین کی تشریح میں مصروف ہے اور کوئی ترمیم مشکل ہے، اےجی صاحب، ہرغلط کام کا دفاع نہیں کیاجاسکتا، جب غلط قانون بنتے ہیں تو بعد میں انہیں صفر پر واپس لانا ہوتا ہے جس قانون میں بہت غلطیاں ہوتی ہیں اسے واپس لانے میں وقت لگتا ہے،بعد ازاں عدالت نے اسلام آباد میں جلد بلدیاتی الیکشن کرانے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

  • 27 ویں آئینی ترمیم،قائمہ کمیٹی کی رپورٹ سینیٹ میں پیش

    27 ویں آئینی ترمیم،قائمہ کمیٹی کی رپورٹ سینیٹ میں پیش

    27 ویں آئینی ترمیم سے متعلق پارلیمان کے دونوں ایوانوں کی مشترکہ قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کی رپورٹ سینیٹ میں پیش کردی گئی۔

    چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں 27 ویں ترمیم کے معاملے پر سینیٹ کا اجلاس جاری ہے،دوران اجلاس سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کی رپورٹ سینیٹ میں پیش کی جس میں 27 ویں آئینی ترمیم کا بل شامل ہے،اس موقع پر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ مسودے میں کچھ ترامیم کی گئی ہیں، آئینی ترمیم تھی کہ آئینی عدالت قائم کی جائے، کمیٹی نے آئینی کورٹ بنانے کو متفقہ طور پر منظور کیا تاہم کچھ ترامیم کیں،آئینی ترامیم میں تمام صوبوں کی کورٹ شامل ہیں، ہائیکورٹ کا بھی آئینی کورٹ میں حصہ ہو گا، ہائیکورٹ کا جج آئینی عدالت کے لیے نامزد ہوگاجس کےلیے کمیٹی نےکہا ہے اس کی اہلیت 7کی بجائے 5سال ہوگی، سپریم کورٹ کے پاس از خود نوٹس کا اختیار تھا ، ازخود نوٹس کے لیے تجویزکیا ہےکہ آئینی عدالت تب اس پرکام کرےگی جب کوئی اس کے لیے درخواست دے،جج کی ہائیکورٹ سے دوسری ہائیکورٹ ٹرانسفر جوڈیشل کمیشن پاکستان کے ذریعے ہوگی، اگرجج ٹرانسفر سے انکار کرے تو سپریم جوڈیشل کونسل کے پاس ریفرنس فائل ہوگا جب کہ جج کو انکار کی وجوہات بتانے کا موقع دیا جائے گا، صدارتی استثنیٰ تب قابل عمل نہیں ہوگا جب وہ پبلک آفس ہولڈر ہوجائے۔

    دوسری جانب اپوزیشن نے سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی اجلاس میں بھی ووٹنگ کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے،ذرائع کا کہنا ہےکہ 27 ویں ترمیم پر ووٹنگ کے بائیکاٹ کا فیصلہ اپوزیشن مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں کیا گیا، سینیٹ اور قومی اسمبلی میں ووٹنگ سے قبل احتجاج کیا جائے گا۔

  • پاک فوج کیخلاف وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا بیان غلیظ ترین ہے ،اختیار ولی خان

    پاک فوج کیخلاف وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا بیان غلیظ ترین ہے ،اختیار ولی خان

    وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی خان نے وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخواسہیل آفریدی کے بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے

    اختیار ولی خان کا کہنا تھا کہ پاک فوج کیخلاف وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا بیان غلیظ ترین ہے ،وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا اُس پاک فوج پر الزام لگا رہے ہیں جس کو حرمین شریفین کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے ،وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا اُس فوج کی توہین کر رہے ہیں، جس نے ماضی میں بھی حرمین شریفین کی خدمت کی اور حملے ناکام بنائے ،وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا پاکستان کیلئے جانیں قربان کرنے والوں کی توہین کر رہے ہیں ،پاک فوج کے سینکڑوں افسران اور ہزاروں جوان پاکستان کے پرچم میں لپٹے گھر جاتے ہیں تو ان کی مائیں فخر محسوس کرتی ہیں ،یہ وہ فوج ہے جو دشمنوں کے خلاف سینہ تان کر لڑتی ہے،وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا ان کے خلاف نفرت پھیلانا چاہتے ہیں ،وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کے بیان میں دشمنوں خصوصاََ انڈیا اور اسرائیل کی بو آ رہی ہے ،وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا ملک کے دشمنوں کیساتھ کھڑے نظر آ رہے ہیں، خیبر پختونخوا اور پاکستان کے ساتھ نہیں ،وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا پاکستان کے عوام، پاک فوج اور خیبر پختونخوا کے لوگوں سے معافی مانگیں ،وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا ڈیورنڈ لائن کے پار کی ترجمانی بند کریں ،تیراہ میں تیار منشیات نوجوانوں کو تباہ کر رہی ہے اور وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا اس میں ملوث ہیں پہلےاس کاروبار کو بند کروائیں ،آپ کی کابینہ کے وزراء کی گاڑیاں منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہیں پہلے ان کو برطرف کریں ،پاک فوج کیخلاف بیانات قابلِ برداشت نہیں، اپنے محافظوں کیخلاف کسی کو بولنے نہیں دیں گے ،

  • معروف پروفیسر ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہراکی وفات،وزیراعظم کا اظہار افسوس

    معروف پروفیسر ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہراکی وفات،وزیراعظم کا اظہار افسوس

    معروف پروفیسر ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا انتقال کر گئی ہیں۔

    پاکستانی ڈرامہ نگار، ٹی وی ڈرامہ سیریل کے مصنف اور شاعر اصغر ندیم سید نے ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا کے انتقال کی تصدیق کی ہے۔اصغر ندیم سید نے عارفہ سیدہ کے انتقال پر گہرے دُکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا کا انتقال لاہور میں ہوا، اِن کی کی نمازِ جنازہ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا،عارفہ سیدہ زہرا نے ایم اے اردو گورنمنٹ کالج لاہور سے کیا تھا، انہوں نے ایسٹ ویسٹ سینٹر، یونیورسٹی آف ہوائی سے تاریخ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی حاصل کی،عارفہ سیدہ 1986ء تا 2009ء تک گورنمنٹ کالج فار ویمن گلبرگ لاہور کی پرنسپل رہیں۔ وہ 7 زبانوں پر عبور رکھتی تھیں،عارفہ سیدہ تعلیمی، انتظامی، سماجی اور ثقافتی کمیٹیوں کی رُکن بھی رہیں۔

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرہ کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مرحومہ کی ارود زبان کے فروغ و ترویج، تدریس اور تحقیق کے میدان میں خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے،وزیرِ اعظم نے مرحومہ کی مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر کی دعا بھی کی ہے۔الحمرا کے چیئرمین رضی احمد نے ڈاکٹر عارفہ سیدہ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اُنہوں نے اردو زبان کو تہذیب اور تحقیق کا موضوع بنایا،رضی احمد نے کہا کہ نامور ادیبہ و دانشور ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرا زبان وادب کا درخشندہ ستارہ تھیں، عارفہ سیدہ نے چالیس سال سے زائد عرصہ تدریسی خدمات انجام دیں۔

  • 27 ویں‌ترمیم،منظوری سے قبل ہی فیصل واوڈا مٹھائی لے آئے

    27 ویں‌ترمیم،منظوری سے قبل ہی فیصل واوڈا مٹھائی لے آئے

    27 ویں ترمیم کی منظوری سے قبل ہی سینیٹر فیصل واوڈا مٹھائی کی ٹوکری لے کر پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے۔

    27 ویں ترمیم کی ممکنہ منظوری کے موقع پر فیصل واوڈا کی جانب سے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں کو مٹھائی کھلائی گئی،اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ میں ایڈوانس مٹھائی کھانے آیا ہوں، نوکری کے ساتھ نخرا نہیں چلے گا،ڈیفنس لائن کو مزید ہم نے مضبوط کرنا ہے، جتنی چیزیں ہو رہی ہیں وہ ہٹ کے نہیں ہو رہیں، جو چیز اس صدر کے لیے ہوگی وہ آگے کے لیے بھی ہوگی، آپ 27 ویں ترمیم کی مٹھائی کھائیں اور 28 ویں کی تیاری کریں۔

  • ترمیم کے حوالے سے ہمارے پاس ووٹ پورے ہیں۔خواجہ‌آصف

    ترمیم کے حوالے سے ہمارے پاس ووٹ پورے ہیں۔خواجہ‌آصف

    وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کا کہنا ہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے حکومت کے پاس ووٹ پورے ہیں۔

    پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا ووٹ ڈالنے کے لیےکسی بھی رکن کا پارلیمان میں حاضر ہونا ضروری ہے، ترمیم کے حوالے سے ہمارے پاس ووٹ پورے ہیں،وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ ان شاءاللہ آج ہی سینیٹ سے 27ویں ترمیم منظور ہو جائے گی۔

    حکومت نے بحث کے بعد 27ویں ترمیم کے مسودے کو حتمی شکل دے دی۔ اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ کچھ تبدیلیاں تھیں وہ کرلیں۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پارلیمنٹ لابی میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 27 ویں ترمیم کا مسودہ پرنٹنگ کیلئے بھیج دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اے این پی کے ساتھ مذاکرات چل رہے ہیں، پختونخوا کے نام پر بعد میں بات ہوگی، ایمل ولی ہمارے بھائی ہیں۔

    خیال رہے کہ گزشتہ روز سینیٹ اور قومی اسمبلی کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی برائے قانون و انصاف نے 27 ویں آئینی ترمیم کی تمام 49 شقوں کی منظوری دیدی تھی جس کے بعد اس بات کا قوی امکان ہے کہ آج سینیٹ اجلاس میں آئینی ترمیم پیش کی جائے گی۔ذرائع کا بتانا ہے کہ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ سینیٹ میں 27 ویں آئینی ترمیم پیش کریں گے۔

  • پاکستان کو دنیا کے ساتھ قدم ملا کر چلنا ہوگا،وزیراعظم

    پاکستان کو دنیا کے ساتھ قدم ملا کر چلنا ہوگا،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ معیشت کو کیش لیس کرنے کیلئے جاری اقدامات کا ملکی معیشت کی پائیدار ترقی میں کلیدی کردار ہو گا، مکمل طور پر کیش لیس معیشت اور غیر رسمی معیشت کے خاتمے کیلئے دیہی علاقوں میں آگاہی بڑھائی جائے.

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت کیش لیس معیشت کے جاری اقدامات پر جائزہ اجلاس ہوا.وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پوری دنیا ڈیجیٹل معیشت کی جانب تیزی سے گامزن ہے، پاکستان کو دنیا کے ساتھ قدم ملا کر چلنا ہوگا.روز اول سے پاکستان کو ڈیجیٹل نیشن بنانے کیلئے اقدامات کو ترجیح دی جسکے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں.رمضان المبارک میں ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ مستحقین کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقوم ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے بھیجی گئیں.کیش لیس معیشت کے ذریعے گورننس کی بہتری اور کرپشن میں خاطر خواہ کمی آئے گی. کیش لیس معیشت کے وضح کردہ اہداف کا معینہ مدت میں حصول یقینی بنایا جائے. موجودہ پیش رفت اطمینان بخش ہے جسکے لئے وزارت خزانہ، وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی، ایف بی آر، اسٹیٹ بینک اور متعلقہ تمام ادارے لائق تحسین ہیں.

    اجلاس میں وفاقی وزراء احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، شزہ فاطمہ خواجہ، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، چیئرمین نادرا لیفٹینینٹ جنرل محمد منیر افسر، چیرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی. اجلاس کو وزیرِ اعظم کے کیش لیس معیشت کے ویژن کے تحت حکومتی اقدامات پر پیش رفت سے آگاہ کیا گیا. اجلاس کو بتایا گیا کہ بجلی اور گیس کے بلز پر راست QR کوڈز کے ذریعے انکی ادائیگی کو کیش لیس کیا جارہا ہے جس کی بدولت اربوں روپے کے بلوں کی ادائیگی اب ڈیجیٹل نظام کے ذریعے ممکن ہوئی ہے. وزیر اعظم کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ایک کروڑ ڈیجیٹل والٹس پر پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا. اجلاس کو بتایا گیا کہ والٹس رواں ماہ کے اختتام تک مکمل طور پر فعال ہو جائیں گے اور مستحقین کو رقوم کی آئندہ قسط اسی کے ذریعے بھیجی جائے گی. مزید بتایا گیا کہ اسلام آباد میں سرکاری سروسز کے حصول کیلئے قائم موبائل ایپلی کیشن کو راست کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے اور ادائیگیاں اسکی کے ذریعے کی جارہی ہیں. اسلام آباد میں نئے کاروبار کھولنے کیلئے لائسنس کو ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے اور موجودہ تمام دکانوں پر راست QR کوڈز کے ذریعے ادائیگیوں کی سہولت فراہم کردی گئی ہے. مزید یہ کہ ملک میں ڈیجیٹل بینکس کے قیام کیلئے لائسنس جاری کئے جارہے ہیں.

    اجلاس کو بتایا گیا کہ ان اقدامات سے اب تک ملک کی 68 فیصد آبادی کی فنانشل انکلوژن کرلی گئی ہے جبکہ آئندہ برس اس میں مزید اضافہ کیا جائے گا. وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ مالی شمولیت کا دائرہ کار مزید بڑھایا جائے. اجلاس کو آئندہ برس کے اہداف کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی. وزیرِ اعظم نے کیش لیس معیشت کے حوالے سے اقدامات کی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وضح کردہ اہداف کو معینہ مدت میں پورا کرنے کی ہدایت کی.

  • بہت مشکل سوال ہے تو ہم وفاقی آئینی عدالت  بھجوا  دیتے ہیں،جسٹس منصور کے ریمارکس

    بہت مشکل سوال ہے تو ہم وفاقی آئینی عدالت بھجوا دیتے ہیں،جسٹس منصور کے ریمارکس

    سپریم کورٹ، وفاقی آئینی عدالت سے متعلق جسٹس منصور علی شاہ کے دلچسپ ریمارکس سامنے آئے ہیں

    محکمہ لائیو اسٹاک پنجاب سے منسلک ڈاکٹر اعظم علی کی ترقی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عقیل عباسی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے سماعت کی،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ میرے موکل کو نظرانداز کرکے جونیئر افسران کو ترقی دی گئی، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہمیں دستاویزات سے دیکھا دیں جونیئرز کو ترقی دی گئی اور آپکے موکل کو نظرانداز کیا گیا، اگر کوئی بہت مشکل سوال ہے تو ہم وفاقی آئینی عدالت بھجوا دیتے ہیں،ہم تو ویسے بھی بیچارے ایسے ہی ہیں یہاں، ریمارکس پر کمرہ عدالت میں قہقہے گونج اٹھے، عدالت نے درخواست مسترد کردی

  • 27 ویں آئینی ترمیم،سینیٹ کا اجلاس جاری

    27 ویں آئینی ترمیم،سینیٹ کا اجلاس جاری

    اسلام آباد: 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے معاملے پر سینیٹ کا اجلاس جاری ہے۔

    پریزائیڈنگ افسر منظور کاکڑ کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس جاری ہے جس میں سینیٹرز اظہار خیال کررہے ہیں۔

    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار بھی پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے جہاں صحافیوں نے ان سے سوال کیا کہ کیا سینیٹ میں نمبر پورے ہیں؟اس پر اسحاق ڈار نے کہا کہ انشاء اللہ ہیں۔ اسحاق ڈار سے سوال کیا گیا کہ کیا سینیٹر جان بلیدی صاحب مان گئے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا جب ووٹنگ ہوگی تو پتا چل جائے گا۔

    دوسری جانب حکومتی اور اتحادی اراکین کے درمیان بند کمرے کا اجلاس سینیٹر اعظم نظیر تارڑ کے چیمبر میں جاری ہے،اجلاس میں ججوں کے ٹرانسفر، کیسوں کے ٹرانسفر اور آرٹیکل 243 پر مشاورت کی جا رہی ہے،ذرائع کے مطابق اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، اعظم نظیر، شیری رحمن اور نوید قمر شامل ہیں،سینیٹر انوشے رحمن ایوان بالا میں نمبر گیم پورے کرنے کے لیے متحرک ہیں،ذرائع کے مطابق سینیٹر انوشہ رحمن بار بار سینیٹ ہال اور میٹنگ والے بند کمرے کے چکر لگا رہی ہیں،ریاض الحق نے بھی اجلاس میں شرکت کی

    خیال رہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم کی پارلیمانی کمیٹی سے منظوری کے بعد آج سینیٹ میں اس کی منظوری کا امکان ہے۔