Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • وفاقی ٹیکس محتسب مشتاق سکھیرا کوفوری بحال کرنے کا حکم

    وفاقی ٹیکس محتسب مشتاق سکھیرا کوفوری بحال کرنے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی ٹیکس محتسب مشتاق سکھیرا کوفوری بحال کرنے کا حکم دے دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے فیصلہ سنادیا، گزشتہ ماہ بیس اگست کو عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا تھا.

    اسلام آباد ہائیکورٹ کےچیف جسٹس اطہرمن اللہ نےفریقین کےدلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کیا ،اٹارنی جنرل انور منصور اورمشتاق سکھیراکے وکیل نے اپنےدلائل مکمل کرلیے ،مشتاق سکھیراکی برطرفی کے خلاف حکم امتناع فیصلہ سنائے جانےتک برقرار ہے.

    وفاقی ٹیکس محتسب مشتاق سکھیرا کی برطرفی، عدالت میں جواب جمع

    قبل ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے حکومت نے مشتاق سکھیرا کی برطرفی پر جواب جمع کروایا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ محتسب کی تقرری صرف صدر کا اختیار ہے،وزیراعظم کی سفارش کی ضرورت نہیں،صدر نے اپنی مرضی سے جو تقرری کرنا تھی وہ وزیراعظم کی سفارش پر کی،مشتاق سکھیرا کی بطور وفاقی ٹیکس محتسب تقرری قانون کے مطابق نہیں .

    جواب میں مزید کہا گیا کہ وفاقی ٹیکس محتسب کو سپریم جوڈیشل کونسل کے ذریعے ہٹانا ضروری نہیں،تقرری قانون کے مطابق نہ ہونے پر شوکاز جاری کرنا بھی ضروری نہیں، 30 اگست 2017 کو صدر نے وزیراعظم کی سفارش پر تقرر کیا.

    جواب میں مزید کہا گیا کہ آرڈیننس 2000 کی شق 3(1) کے مطابق صدر پاکستان کوتقرری کا اختیار ہے،2000کےآرڈیننس ،محتسب ایکٹ2013 میں تقرری کیلیےوزیراعظم کی سفارش کا ذکرنہیں.

    صدر مملکت کی منظوری، وفاقی ٹیکس محتسب مشتاق سکھیرا کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

    صدر مملکت کی منظوری کے بعد وزارت قانون و انصاف نے وفاقی ٹیکس محتسب کی برطرفی کا نوٹی فکیشن جاری کردیا ہے۔ مشتاق احمد سکھیرا 2017 سے وفاقی ٹیکس محتسب تعینات تھے جبکہ وہ اس سے پہلے آئی جی پنجاب بھی رہ چکے ہیں۔

     

    وزارت قانون و انصاف کی جانب سے مشتاق سکھیرا کا 31 اگست 2017 کو بطور وفاقی ٹیکس محتسب تعیناتی کا نوٹی فکیشن واپس لے لیا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ برس سابق آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا پر سانحہ ماڈل ٹاؤن کی بھی فرد جرم عائد کی گئی تھی. جب سانحہ ماڈل ٹاؤن ہوا تھا تو اس وقت مشتاق سکھیرا پنجاب پولیس کے سربراہ تھے.

  • سابق وزیر سبطین خان کی رہائی کا پروانہ آج جاری ہوگا

    سابق وزیر سبطین خان کی رہائی کا پروانہ آج جاری ہوگا

    تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی،سابق وزیر سبطین خان کی رہائی کا پروانہ آج جاری ہوگا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق صوبائی وزیرسبطین خان کی جانب سے50لاکھ روپے کے 2حفاظتی مچلکے آج عدالت  میں جمع کرائے جائیں گے ،گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ نے ایم پی اےسبطین خان کی ضمانت منظور کی تھی ،سبطین خان کی ضمانت پنجاب معدنیات کرپشن کیس میں منظور کی گئی.

    سابق صوبائی وزیر سبطین خان کی ضمانت منظور

    سابق صوبائی وزیر سبطین خان کی درخواست ضمانت منظور کر لی گئی، عدالت نے انہیں رہا کرنے کا حکم دے دیا ،لاہور ہائیکورٹ نے ممبر صوبائی اسمبلی سبطین خان کی ضمانت بعد از گرفتاری منظور کرلی ،لاہورہائی کورٹ نے سبطین خان کی ضمانت50لاکھ روپےمچلکوں کے عوض منظور کی

    سبطین خان کو نیب نے گرفتار کیا ہوا تھا وہ جوڈیشل ریمانڈ پر تھے، سبطین خان پر الزام ہے کہ انہوں نے 2007 میں جب چوہدری برادران اقتدار میں تھے بطور وزیر چنیوٹ میں معدنی وسائل کا ٹھیکہ دیا اور اروبوں رپے کی کرپشن کی،.

    واضح رہے کہ نیب نے سبطین خان کو گرفتار کیا تو انہوں نے وزارت سے استعفیٰ دے دیا. صوبائی وزیر جنگلات سبطین خان نے سیاست کا آغاز 90 کی دہائی میں کیا، وہ 1990 سے 93 سے پنجاب اسمبلی کے رکن رہے اور ساتھ میں صوبائی وزیر جیل خانہ جات بھی تھے، چوہدری برادران کی جب حکومت بنی تو وہ وزیر معدنیات بنے، گزشتہ الیکشن میں صوبائی وزیر جنگلات سبطین خان تحریک انصاف میں شامل ہوئے اور الیکشن جیتے، تحریک انصاف نے انہیں صوبائی وزیر بنا یا تھا.

  • آپ نے کہا زرداری کو فریج دو، جیل حکام نے ڈبے دے دیئے، وکیل کا عدالت میں بیان

    آپ نے کہا زرداری کو فریج دو، جیل حکام نے ڈبے دے دیئے، وکیل کا عدالت میں بیان

    احتساب عدالت اسلام آباد میں جعلی اکاؤنٹس کیس کی سماعت آج ہونی ہے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق صدر آصف زرداری کو احتساب عدالت میں پیش کیا جائے گا، آصف زرداری کے وکلاء عدالت میں پہنچ چکے ہیں، سابق صدر آصف زرداری اور فریال تالپور کو تاحال پیش نہ کیا جا سکا .

    آصف زرداری کے وکیل لطیف کھوسہ نے پھر جیل میں اے سی کا معاملہ اٹھا دیا ،لطیف کھوسہ کا عدالت میں کہنا تھا کہ دالت نے کہا تھا اے سی دیں لیکن اے سی نہیں دیا گیا،آپ نے کہا فریج دیں لیکن انہوں نے برف کے ڈبے دے دیئے، زرداری کے دوسرے وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ہمیں ابھی تک ریفرنس کی کاپی بھی نہیں ملی، جس پر عدالت نے کہا کہ ریفرنس کی نقول موجود ہیں آپ کو بھی ابھی دے دیتے ہیں،

     

    جیل سے نکلنے کا بہانہ، سیاسی لیڈر ہوتے ہیں بیمار، باغی ٹی وی کی خصوصی رپورٹ

    واضح رہے کہ سابق صدر آصف زرداری بھی اڈیالہ جیل میں ہیں انہیں نیب نے جعلی اکاؤنٹ کیس میں گرفتار کیا اور اب وہ جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں، آصف زرداری کی بھی جیل میں طبیعت خراب ہو چکی ہے، انہیں میڈیکل بورڈ کے مشورہ پر پمز میں منتقل کیا گیا تھا لیکن ایک روز پمز میں ان کے ٹیسٹ کروانے کے بعد دوبارہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے، پمزکے ترجمان کا کہنا تھا کہ آصف زرداری کی طبیعت بہتر ہے انہیں مزید ہسپتال میں رہنے کی ضرورت نہیں،ڈاکٹرز کے مطابق آصف زرداری کے تمام ٹیسٹ کلیئر ہیں اور انہیں فزیو تھراپسٹ کی ضرورت ہے

     

    میں ملنے گئی تو زرداری وہیل چیئر سے اٹھے، پولیس نے کہا دفعہ ہو جاؤ، آصفہ بھٹو

    آصف زرداری کا طبی معائنہ، کونسی بیماری اور ڈاکٹر نے کیا تجویز کیاِ؟

    ہسپتال سے جیل منتقل کئے جانے پر پیپلز پارٹی نے شدید احتجاج کیا ہے اور ایوان بالا میں تحریک بھی جمع کروا دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آصف زرداری کی طبیعت ٹھیک نہیں اس لئے انہیں ہسپتال منتقل کیا جائے.

    آصف زرداری پیچیدہ بیماریوں میں مبتلا ہیں، راجہ پرویز اشرف

  • خورشید شاہ کو آج پیش کیا جائے گا عدالت

    خورشید شاہ کو آج پیش کیا جائے گا عدالت

    پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ کو راہداری ریمانڈ کے لیےآج احتساب عدالت پیش کیا جائے گا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سید خورشید شاہ کو احتساب عدالت اسلام آباد کے جج محمد بشیر کے روبرو پیش کیا جائے گا ،نیب حکام خورشید شاہ کے راہداری ریمانڈ کی استدعا کریں گے،

    نالائق حکومت کو برداشت نہیں‌ کریں گے، بلاول کا اعلان، خورشید شاہ کی گرفتاری کی وجہ بھی بتا دی

    واضح رہے کہ نیب نے خورشید شاہ کو گزشتہ روز بنی گالہ سے گرفتار کیا تھا،خورشید شاہ پر آمدن سے زائد اثاثہ جات کا الزام ہے.

     

    حکومت کو ہٹانے میں سب کا ساتھ دیں گے، خورشید شاہ کا اعلان

    پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ نے نیب میں پیش ہونے سے معذرت کر لی، خورشید شاہ نے نیب کو لکھے گئے خط میں کہا کہ قومی اسمبلی اجلاس کے باعث پیش نہیں ہوسکتا، تا ہم آج نیب نے انہیں گرفتار کر لیا خورشید شاہ کو ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا ہے

    نیب سکھر نے خورشید شاہ کے خلاف 7 اگست کو انکوائری کا آغاز کیا تھا۔

    نیب تحقیقات کے بعد خورشید شاہ کے لئے ایک اور مشکل

  • ایک اور بڑی گرفتاری، خورشید شاہ گرفتار

    ایک اور بڑی گرفتاری، خورشید شاہ گرفتار

    خورشید شاہ کو نیب نے گرفتار کر لیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نیب پنڈی نے پیپلز پارٹی کےرہنما خورشید شاہ کو گرفتار کر لیا ہے، خورشید شاہ کو آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں گرفتار کیا گیا ہے، خورشید شاہ کی گرفتاری کا نیب سکھر کو بتا دیا جائے گا، آج نیب میں وہ پیش نہیں ہوئے تھے.

    حکومت کو ہٹانے میں سب کا ساتھ دیں گے، خورشید شاہ کا اعلان

    پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ نے نیب میں پیش ہونے سے معذرت کر لی، خورشید شاہ نے نیب کو لکھے گئے خط میں کہا کہ قومی اسمبلی اجلاس کے باعث پیش نہیں ہوسکتا، تا ہم آج نیب نے انہیں گرفتار کر لیا خورشید شاہ کو ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا ہے

    نیب سکھر نے خورشید شاہ کے خلاف 7 اگست کو انکوائری کا آغاز کیا تھا۔

    نیب تحقیقات کے بعد خورشید شاہ کے لئے ایک اور مشکل

     

  • میڈیا ٹربیونلز کے قیام کے فیصلے کو مسترد کرتے ہیں،بلاول زرداری

    میڈیا ٹربیونلز کے قیام کے فیصلے کو مسترد کرتے ہیں،بلاول زرداری

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کہا ہے کہ میڈیا ٹربیونلز کے قیام کے فیصلے کو مسترد کرتے ہیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حکومت کی جانب سے میڈیا ٹربیونلز کے قیام کے اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ میڈیا ٹربیونلز مخالفین کی آواز کو دبانے کے لئے قائم کیے جا رہے ہیں، پہلے نیب کے ذریعے سیاسی مخالفین کو دبایا گیا ، میڈیا ٹربیونلز کے قیام کے حکومتی فیصلے کومسترد کرتے ہیں.

    قبل ازیں وزیراعظم کی مشیر برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آزادی اظہار رائے کے بنیادی، آئینی اور جمہوری حق پر کامل یقین رکھتی ہے۔میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہے،اس کی آزادی اور آواز کو مزید طاقتور بنانے کے لیے پرعزم ہیں

    حکومت مریم نواز سے متعلق الیکشن کمیشن کے فیصلہ کو چیلنج کرے گی، فردوس عاشق اعوان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ پیمرا کے احتسابی عمل کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا تھا کہ اسے حکومت کنٹرول کرتی ہے۔ خصوصی میڈیا ٹریبونلز بنانے جا رہے ہیں تا کہ مقدمات کا جلد فیصلہ ممکن ہوسکے۔ اعلی عدلیہ کے زیر سرپرستی کام کریں گے۔

    میڈیا ٹربیونلز اعلیٰ عدلیہ کی سرپرستی میں کام کریں گے، ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان

    ڈاکٹر فردسوس عاشق اعوان نے مزید کہا کہ یہ میڈیا ٹریبونلز نہ صرف نئے کیسوں پر فیصلہ کریں گے بلکہ پیمرا اور دیگر عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات بھی انہی ٹریبونلز کو منتقل کردیے جائیں گے۔یہ ٹریبونلز نئے اور زیرالتوا مقدمات کا 90 دن میں فیصلہ کریں گے۔

  • طالبان سے کب ملاقات طے تھی؟ وزیراعظم نے خود ہی بتا دیا

    طالبان سے کب ملاقات طے تھی؟ وزیراعظم نے خود ہی بتا دیا

    وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اگرافغان الیکشن میں طالبان نےحصہ نہ لیا تویہ بڑی بدقسمتی ہوگی،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے طورخم بارڈر 24 گھنٹے کھلا رکھنے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے معاشی حالات ٹھیک کرنے ہیں جب تک امن نہ ہو معاشی حالات ٹھیک نہیں ہو سکتے، خیبر پختونخواہ دہشت گردی سے زیادہ متاثر ہوا ہے، پاکستان کو امن کی ضرورت ہے، ہمسایوں سے تعلقات بہتر کریں یہ ہماری خواہش تھی، افغانستان سے اچھی بات چیت ہوئی، تعلقات بہتر کیے، مذکرات میں رکاوٹ آنا بدقسمتی ہے، ہم پورا زور لگائیں گے کہ مذاکرات ہوں اور امن ہو.

    وزیراعظم نے طورخم بارڈر24 گھنٹے کھلا رکھنے کا افتتاح کردیا

    جو مرضی ہو جائے کسی کو این آر او نہیں دینا، وزیراعظم کا ایک بار پھر دبنگ اعلان

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ طالبان کے ساتھ ڈیل ہونے کے بعد میں نے طالبان سے ملنا تھا، یہ بات فائنل تھی اب بھی کوشش کریں گے کہ مذاکرات آگے چلیں، پیرکوامریکی صدرڈونلڈٹرمپ کے ساتھ میری ملاقات ہوگی،

    موجودہ صورتحال میں مودی سرکارکے ساتھ مذاکرات نہیں ہوسکتے،وزیراعظم

     

     

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کابل میں حملے کے بعد افغان طالبان کے ساتھ امن مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کردیا۔ امریکہ اور افغان طالبان کے حوالے سے چند ہفتے  قبل ہی باغی ٹی وی نے مذاکرات ناکام ہونے کی پشین گوئی کردی تھی اور بالآخر پھر وہی ہوا

    دوحہ مذاکرات ناکام ، افغان طالبان کے ساتھ اتفاق رائے نہیں ہوسکا- امریکی صدر سچ بول گئے

    امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی صدر نے اپنے پیغام میں لکھا کہ طالبان رہنماؤں اورافغان صدر کیساتھ الگ الگ ملاقاتیں ہونی تھیں، جب کہ کیمپ ڈیوڈ میں افغان طالبان رہنماؤں کیساتھ خفیہ ملاقات بھی طے تھی جس کو منسوخ کرتا ہوں، انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے غلط بیعانہ بنانے کیلیے افغان طالبان نے کابل حملے کا اعتراف کیا جس میں ہمارے ایک عظیم سپاہی سمیت 11 افراد کو ہلاک کردیا۔

    وائٹ ہاوس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا کہ میں فوری طور پر طالبان کے ساتھ ہونے والی ملاقات اور مذاکرات کو منسوخ کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کیا طالبان اپنی مذاکرات کی پوزیشن کو مستحکم کرنے کیلیے اتنے سارے لوگوں کو مار ڈالیں گے؟ انہوں نے بہت برا کیا۔

    مذاکرات کی منسوخی، طالبان نے بھی اعلان کردیا، کہا اب امریکا کا ہو گا جانی و مالی نقصان

    دوسری طرف امریکی صدر نے دعوی کیا کہ افغان طالبان اور امریکی نمائندوں کے درمیان اب تک کی بات چیت اچھی رہی ہے۔ اس سے قبل افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اعلان کیا تھا کہ قطر میں افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات کی منسوخی کے اعلان کے بعد طالبان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر امریکا مذاکرات منسوخ کرتا ہے تو اس کا زیادہ نقصان اسے ہی ہوگا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر کی جانب سے مذاکرات کی منسوخی کے اعلان کا سب سے زیادہ نقصان خود امریکا کی جان اور مال کا ہوگا۔ طالبان نے گزشتہ 18 سال کی جدوجہد میں یہ ثابت کر دیا ہے کہ جب تک افغانستان سے تمام بین الاقوامی افواج کا انخلا نہیں ہوتا، وہ کسی دوسری چیز پر مطمئن نہیں ہوں گے۔ اس ہدف کے حصول تک جنگ جاری رہے گی۔

     

    پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے مذاکرات کی معطلی پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے مخلصانہ طور پر مشترکہ ذمہ داری کے تحت افغان امن عمل میں سہولت کار کا کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان نے تمام فریقین پر زور بھی دیا ہے کہ صبر و تحمل اور مخلصانہ طریقہ سے امن عمل کو آگے بڑھایا جائے۔ پاکستان حالیہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

    ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ایک بار پھر واضح کرتے ہیں کہ افغانستان کے مسئلہ کا حل سیاسی ہے۔ تمام فریقین پر زور دیتے ہیں کہ وہ جلد از جلد مذاکرات کی مزی پر آکر افغان مسئلے کا سیاسی حل تلاش کریں

  • موجودہ صورتحال میں مودی سرکارکے ساتھ  مذاکرات نہیں ہوسکتے،وزیراعظم

    موجودہ صورتحال میں مودی سرکارکے ساتھ مذاکرات نہیں ہوسکتے،وزیراعظم

    وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آرٹیکل 370 کی واپسی ،مقبوضہ کشمیرسے کرفیواٹھائے بغیر بھارت سے مذاکرات کا کوئی امکان نہیں .

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق طورخم بارڈر کی افتتاح تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ طالبان کے ساتھ ڈیل ہونے کے بعد میں نے طالبان سے ملنا تھا، یہ بات فائنل تھی اب بھی کوشش کریں گے کہ مذاکرات آگے چلیں، پیرکوامریکی صدرڈونلڈٹرمپ کےساتھ میری ملاقات ہوگی،

    وزیراعظم نے طورخم بارڈر24 گھنٹے کھلا رکھنے کا افتتاح کردیا

    وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ بھارت کے اوپر قبضہ ہو گیا ہے، دنیا کے معاشرے میں ماڈریٹ لوگ ہوتے ہیں، بھارت پر ہندووں کا قبضہ ہو گیا ہے، انتہا پسند ذہبن کی کشمیر میں 45 دن کرفیو رکھ سکتا ہے، آر ایس ایس کی پالیسی مسلمانوں سے نفرت کی ہے، بھارت کے 20 کروڑ مسلمانوں سے جو کچھ ہورہا ہے اس سے لگتا ہے کہ وہاں نارمل حکومت نہیں، جب تک خصوصی حیثیت والا قانون نہیں اٹھاتے بات چیت نہیں ہو گی. اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کشمیر کی آواز اٹھاؤں گا ،جنرل اسمبلی میں مسئلہ کشمیرمنفرداندازمیں اٹھاوَں گا،موجودہ صورتحال میں مودی سرکارکے ساتھ مذاکرات نہیں ہوسکتے،

    جو مرضی ہو جائے کسی کو این آر او نہیں دینا، وزیراعظم کا ایک بار پھر دبنگ اعلان

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ کوئی بھی پاکستان سے بھارت جا کر کشمیر کے لئے لڑے گا یا جہاد کرے گا تو وہ کشمیریوں سے دشمنی کرے گا، انہوں نے 9 لاکھ فوج رکھی ہوئی ہے ان کو بہانہ چاہئے، وہ کہتے ہیں کہ کشمیری ہمارے ساتھ ہیں پاکستان لوگ بھیج رہا ہے، اگر یہاں سے کوئی بھی گیا تو بھارت کو موقع مل جائے گا اور وہ دنیا کے سامنے واویلا کرے گا کہ پاکستان کشمیر کا مسئلہ خراب رہا ہے، 1965 کے بعد پہلی بار کشمیر پر سلامتی کونسل میں بات ہوئی. اگر کسی نے یہاں سے کوئی حرکت کی تو وہ پاکستان اور کشمیر کا دشمن ہو گا

    وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ 2300 ارب روپیہ قبائلی علاقے کے لیے رکھا ہے، ہماری کوشش ہے کہ کسی طرح مہنگائی نہ ہو،

  • جو مرضی ہو جائے کسی کو این آر او نہیں دینا، وزیراعظم کا ایک بار پھر دبنگ اعلان

    جو مرضی ہو جائے کسی کو این آر او نہیں دینا، وزیراعظم کا ایک بار پھر دبنگ اعلان

    وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ طورخم بارڈر ایریا سے وسطی ایشیائی ریاستیں بھی مستفید ہوں گی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق طورخم بارڈر پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ٹریڈ زیادہ ہونے سے اس علاقے کی زندگیاں بدل جائیں گی، علاقے میں تبدیلی آ‌جائے گی، پاکستان اور خاص طور پر پختونخواہ کو فائدہ ہو گا، روزگار سب کو ملے گا، جیسے ہی کھولا تجارت میں 50 فیصد اضافہ ہوا، سہولیات بہتر ہوئیں تو علاقے میں خوشحالی آئے گی.

    وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کا رویہ سنجیدہ نہیں، کشمیر کے لئے پارلیمنٹ کا سیشن منایا گیا لیکن اپوزیشن نے یکجہتی نہیں کی ، ان کا ایجنڈہ ہے کہ این آر او دیا جائے، وہ بلیک میل کرنا چاہتے ہیں کہ میں پریشر میں آؤں اور مشرف کی طرح این آر دوں ،پچھلے دس برسوں میں 24 ہزار ارب قرضہ دو این آر او کی وجہ سے ہوا، جب وہ واپس آئے تو اور زیادہ قرضہ چڑھا، جو بلیک میل کر رہے ہیں ان کے دور کے کیسز ہیں.

    وزیراعظم نے طورخم بارڈر24 گھنٹے کھلا رکھنے کا افتتاح کردیا

    وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ جو مرضی ہو جائے، کسی کو این آر او نہیں دینا، انہوں نے بے دردی سے ملک کو لوٹا، مہنگائی نواز شریف و زرداری کی وجہ سے ہے.

    وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ ملک کے معاشی حالات ٹھیک کرنے ہیں جب تک امن نہ ہو معاشی حالات ٹھیک نہیں ہو سکتے، خیبر پختونخواہ دہشت گردی سے زیادہ متاثر ہوا ہے، پاکستان کو امن کی ضرورت ہے، ہمسایوں سے تعلقات بہتر کریں یہ ہماری خواہش تھی، افغانستان سے اچھی بات چیت ہوئی، تعلقات بہتر کیے، مذکرات میں رکاوٹ آنا بدقسمتی ہے، ہم پورا زور لگائیں گے کہ مذاکرات ہوں اور امن ہو.

    وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ بھارت کے اوپر قبضہ ہو گیا ہے، دنیا کے معاشرے میں ماڈریٹ لوگ ہوتے ہیں، بھارت پر ہندووں کا قبضہ ہو گیا ہے، انتہا پسند ذہبن کی کشمیر میں 45 دن کرفیو رکھ سکتا ہے، آر ایس ایس کی پالیسی مسلمانوں سے نفرت کی ہے، بھارت کے 20 کروڑ مسلمانوں سے جو کچھ ہورہا ہے اس سے لگتا ہے کہ وہاں نارمل حکومت نہیں، جب تک خصوصی حیثیت والا قانون نہیں اٹھاتے بات چیت نہیں ہو گی. اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کشمیر کی آواز اٹھاؤں گا

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ کوئی بھی پاکستان سے بھارت جا کر کشمیر کے لئے لڑے گا یا جہاد کرے گا تو وہ کشمیریوں سے دشمنی کرے گا، انہوں نے 9 لاکھ فوج رکھی ہوئی ہے ان کو بہانہ چاہئے، وہ کہتے ہیں کہ کشمیری ہمارے ساتھ ہیں پاکستان لوگ بھیج رہا ہے، اگر یہاں سے کوئی بھی گیا تو بھارت کو موقع مل جائے گا اور وہ دنیا کے سامنے واویلا کرے گا کہ پاکستان کشمیر کا مسئلہ خراب رہا ہے، 1965 کے بعد پہلی بار کشمیر پر سلامتی کونسل میں بات ہوئی. اگر کسی نے یہاں سے کوئی حرکت کی تو وہ پاکستان اور کشمیر کا دشمن ہو گا

    وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ گھوٹکی میں جو ہو گیا وہ جان بوجھ کر کیا گیا مذمت کرتا ہوں ،اقوام متحدہ میں جانا ہے ایسے وقت میں جان بوجھ کر کیا گیا، اقلیتیں برابر کی شہری ہیں اور رہیں گی.

  • وزیراعظم نے طورخم بارڈر24 گھنٹے کھلا رکھنے کا افتتاح کردیا

    وزیراعظم نے طورخم بارڈر24 گھنٹے کھلا رکھنے کا افتتاح کردیا

    وزیراعظم عمران خان طورخم پہنچ گئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے طور خم بارڈر کو 24 گھنٹے کھلا رکھنے کا افتتاح کر دیا، اس موقر پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ محمود خان و دیگر بھی موجود تھے، وزیراعظم عمران خان کے طور خم پہنچنے پر ان کا بھر پور استقبال کیا گیا، اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے

    وزیراعظم عمران خان طورخم بارڈر پر پاک افغان دوستی اسپتال کا بھی افتتاح کریں گے ،وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہیں

    طور خم پر سرحد اس ماہ کی بائیس تاریخ سے آزمائشی بنیادوں پر 24 گھنٹے کےلئے کھول دی گئی تھی۔ طورخم ٹرمینل منصوبےپر16ارب روپے کی لاگت آئی ہے

    باب پاکستان جسے پہلےطورخم گیٹ کہا جاتا تھا کے افتتاح کے حوالہ سے انتظامات مکمل ہیں، طورخم بارڈر کا افتتاح تین روز قبل ہونا تھا تا ہم تین روز قبل شمالی وزیرستان میں پاک فوج کے جوانوں پر دہشت گردوں کی فائرنگ کے بعد یہ تقریب ملتوی کر دی گئی تھی. طورخم گیٹ صبح سات بجے سے شام آٹھ بجے تک کھلتا ہے اور رات کو بند رہتا ہے. وزیراعظم عمران خان نے چند ماہ قبل کہاتھا کہ طورخم گیٹ کو چوبیس گھنٹے کھلا رکھا جائے گا ،اسی تقریب میں وزیراعظم شرکت کریں گے.

    طورخم گیٹ کی افتتاحی تقریب، وزیراعظم کریں گے افتتاح،افغان وفد بھی ہو گا شریک

    واضح رہے کہ تین سال قبل پاکستان نے افغان سرحد سے منسلک علاقے طورخم پر بنانے گئے نئے گیٹ کا نام ‘طورخم گیٹ’ سے تبدیل کرکے بابِ پاکستان رکھ دیا ہے۔ اس گیٹ کی تعمیر کےد وران پاکستان فرنٹیئر کور کے میجر جنرل جواد چنگیزی حملے میں شہید ہو گئے تھے. طورخم گیٹ کی تعمیرات کا کام 2014 سے شروع ہوا تھا لیکن افغان حکام کی جانب سے تحفظات کے باعث تاخیر کا سامنا کرنا پڑا تھا،