Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • سیلاب ،مسلم ویمن لیگ کی رہنما و خواتین رضاکار بھی متحرک

    سیلاب ،مسلم ویمن لیگ کی رہنما و خواتین رضاکار بھی متحرک

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں مسلم ویمن لیگ کی رہنما و خواتین رضاکار بھی متحرک ہیں،مسلم ویمن لیگ کی جانب سے سیلاب متاثرہ اضلاع میں خیمہ بستیوں میں خواتین میں راشن، کپڑے،دیگر سامان تقسیم کیا گیا جبکہ گلگت ،سکردو کے سیلاب متاثرین کے لئے بھی امدادی سامان کی بڑی کھیپ بھجوائی گئی، مسلم ویمن لیگ کی سیکرٹری جنرل عفت سعید امدادی کاموں کی نگرانی کر رہی ہیں اور خود سیلاب متاثرہ علاقوں میں آگے بڑھ کر کام کر رہی ہیں

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو کی ہدایت پر سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی کاروائیاں جاری ہیں، کشتیوں کے ذریعے شہریوں کو ریسکیو،کرنے کے علاوہ پکی پکائی خوراک،خشک راشن کی تقسیم ،میڈیکل کیمپوں پر مریضوں کا علاج معالجہ جاری ہے،مرکزی مسلم لیگ کے خواتین ونگ مسلم ویمن لیگ بھی سیلاب متاثرہ اضلاع میں متحرک ہے، مسلم ویمن لیگ کی سیکرٹری جنرل عفت سعید کی قیادت میں سیکرٹری جنرل مسلم ویمن لیگ لاہور طیبہ نصیر، سیکرٹری جنرل مسلم گرلز لیگ شازیہ رحمان و دیگر خواتین رہنماؤں نے خواتین رضاکاروں کے ہمراہ سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور خواتین سے ملاقات کی، کپڑے، بچوں میں تحائف ،راشن تقسیم کیا، مسلم ویمن لیگ کی جانب سے سیلاب متاثرہ علاقوں لاہور ،اوکاڑہ ،سیالکوٹ ،شیخو پورہ ،ملتان ،بہاولپور ،بہاولنگر و دیگر میں امدادی سرگرمیاں‌جاری ہیں،مسلم ویمن لیگ کی جانب سے مرکزی مسلم لیگ خیمہ بستیوں میں مقیم خواتین اور بچوں کے لئے کھانا،برتن، کپڑے و دیگر اشیاء تقسیم کی گئیں،خیمہ بستیوں‌میں مسلم ویمن لیگ کی جانب سے حاملہ خواتین کےلئے خصوصی نگہداشت کا انتظام کیا گیا ہے،مسلم ویمن لیگ کی جانب سے گلگت کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی پیکج بھی روانہ کیا ہے جس میں سو خاندانوں کے لئے خشک راشن،150 بستر،150 تکیے، 100 سلنڈر، گیس پائپ 600 فٹ،چولہے کے ریگولیٹر 100، چارپائیاں 25،برتن ،بالٹیاں 100،کھیس 50، سکول بیگ گفٹس 10، پیرا شوٹ بیگ 200، چٹائیاں 100،چٹائی والی جائے نماز 50، توا 100،خواتین،بچوں کے کپڑے،جائے نماز شامل تھیں، مسلم ویمن لیگ کی جانب سے دو کشتیاں بھی سیلاب متاثرین کو ریسکیو کرنے کے لئے شعبہ خدمت خلق مرکزی مسلم لیگ کے حوالے کی گئیں، موہلنوال کی خیمہ بستی میں مسلم ویمن لیگ کی جانب سے کھانے کی تقسیم کے علاوہ جائے نمازیں، کھیس،کمبل تقسیم کئے گئے، بچوں‌کو تحائف دیئے گئے ،اوکاڑہ منڈی احمد آباد اٹاری کے مقام پر ، بہاولنگر ہیڈ سلیمانکی کے مقام پر مسلم ویمن لیگ کی رہنماؤں نے کشتیوں میں بیٹھ کر بستیوں اور گاؤں میں جا کر خواتین میں کھانا اور کپڑے تقسیم کیے، مسلم ویمن لیگ کی جانب سے چھ ہزار سے زائد افراد کو کھانا اور دس ہزار سے زائد خواتین ،بچوں میں سوٹ تقسیم کئے گئے،

    علاوہ ازیں‌،پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی سیلاب متاثرہ اضلاع میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، مرکزی سیکرٹری جنرل سیف اللہ قصوری،جوائنٹ سیکرٹری قاری محمد یعقوب شیخ ،چیئرمین خدمت خلق شفیق الرحمان سمیت مرکزی قیادت سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کے لئے موجود ہے، کشتیوں کے ذریعے متاثرین،سامان ریسکیو کرنے کے علاوہ پکی پکائی خوراک،خشک راشن ،برتن، جانوروں کے لئے چارے کی تقسیم کا عمل جاری ہے،پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو کی ہدایت پر مرکزی مسلم لیگ کی سیلاب متاثرہ علاقوں میں وسیع پیمانے پر ریسکیو، ریلیف اور بحالی کی سرگرمیاں جاری ہیں۔ مختلف اضلاع میں قائم کردہ خیمہ بستیاں، میڈیکل کیمپس، فری اسکول، راشن و کھانے کی تقسیم کے علاوہ خواتین و بچوں میں تحائف کی تقسیم، خیمہ بستیوں میں سکولز کے قیام کا عمل جاری ہے،پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری سیف اللہ قصوری نے لودھراں میں قائم ماڈل خیمہ بستی کا دورہ کیا، جہاں ڈاکٹر محمد صفی اللہ کمبوہ نے استقبالیہ کیمپ انہیں امدادی سرگرمیوں پر بریفنگ دی۔ اس موقع پر عمران لیاقت بھٹی،محمد راشد علی سندھو بھی ان کے ہمراہ تھے۔خیمہ بستی میں رہائشی خیمے، میڈیکل سہولیات، مدد گار سکول اور جانوروں کے لیے علیحدہ جگہ قائم کی گئی ہے۔ مرکزی رہنما قاری محمد یعقوب شیخ نے دورے کے دوران سیلاب متاثرہ بچوں میں گفٹس تقسیم کیے، اس موقع پر محمد زکریا، مظہر الحق خان، حافظ اسماعیل اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔انجینئر حارث ڈار نے بہاول نگر کے امدادی کیمپ اور الکریم خیمہ بستی کا دورہ کیا ، مسلم سٹوڈنٹس لیگ کی جانب سے خیمہ بستیوں میں مدد گار سکول بنائے گئے ہیں،احسان اللہ منصور، ارشد نواب اور دیگر رہنماؤں نے مختلف اسکولز کا دورہ کیا اور تعلیمی معیار اور سہولیات کا جائزہ لیا،برائٹ سکول اینڈ مونٹیسوری سسٹم کے پرنسپل مظفر حسین اور وائس پرنسپل انیلہ تبسم نے لودھراں خیمہ بستی کا دورہ کیا، جہاں طلبہ و طالبات کے لیے ناشتہ، بسکٹ اور ٹافیاں تقسیم کی گئیں۔پاکپتن میں روزانہ کی بنیاد پر سو سے زائد خاندانوں کو خشک راشن فراہم کیا جا رہا ہے۔ قصور،اوکاڑہ،بہاولپور،ملتان،سیالکوٹ جلال پور پیر والا،سیت پور ،علی پور سمیت تمام متاثرہ علاقوں میں متاثرین کو پکا پکایا کھانا، بیڈ شیٹس، روزمرہ کا سامان اور صاف پانی مہیا کیا جا رہا ہے۔بورے والا میں قائم فلڈ ریلیف کیمپ 26ویں روز بھی فعال رہا، جہاں کھانے، پانی، ادویات اور جانوروں کے چارے کی سہولت موجود ہے۔ مرکزی مسلم لیگ اسلام آباد کی ٹیم نے مظفر گڑھ (تحصیل علی پور) میں فری میڈیکل کیمپ قائم کیا، جہاں سینکڑوں مریضوں کا چیک اپ اور مفت ادویات فراہم کی گئیں۔ مسلم ویمن لیگ گجرات کی خواتین، کوآرڈینیٹر ام محسن کی سربراہی میں امدادی گودام پہنچیں اور سامان کی پیکنگ و تقسیم میں فعال کردار ادا کیا۔

  • شادی کے لئے بھارت آنے والی امریکی خاتون قتل ، لاش جلا دی گئی

    شادی کے لئے بھارت آنے والی امریکی خاتون قتل ، لاش جلا دی گئی

    شادی کیلئے بھارت آنے والی امریکی خاتون کو قتل کر کے لاش جلا دی گئی ہے۔

    خبررساں ادارے کے مطابق 71 سالہ بھارتی نژاد امریکی خاتون کو قتل کیا گیا جو بھارتی ریاست پنجاب کے شہر لدھیانہ میں مقیم برطانوی شخص سے شادی کیلئے آئی تھیں۔ مقتولہ کو مبینہ طور پر اسی 75 سالہ شخص نے قتل کیا ہے جو اس سے شادی کرنے والا تھا۔بھارتی میڈیا کے مطابق اگرچہ قتل کا واقعہ جولائی میں پیش آیا تھا تاہم اس وقت خبروں کی زینت بنا جب مقتولہ روپندر کور پنڈھر کی بہن نے اس کا فون بند ہونے پر گمشدگی کی شکایت درج کروائی۔مقتولہ کی بہن کمل کور خیرہ کو شک ہوا اور اُنہوں نے 28 جولائی کو نئی دہلی میں امریکی سفارتخانے کو مطلع کیا۔ سفارتخانے نے مقامی پولیس سے معاملے کی تحقیقات کرنے کو کہا۔تحقیقات کے دوران پتا چلا کہ لدھیانہ میں برطانیہ سے تعلق رکھنے والے شخص چرن جیت سنگھ گریوال نے خود اس مقتولہ کو بھارت بلایا تھا ، دونوں کی شادی ہونے والی تھی لیکن چرن جیت سنگھ گریوال نے مبینہ طور پر اسے قتل کر دیا۔پولیس نے سب سے پہلے سکھج یت سنگھ سونو کو قتل کے الزام میں گرفتار کیا جس نے اعتراف جرم کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ اس نے خاتون کو اپنے گھر میں قتل کیا اور اس کی لاش کو اسٹور روم میں جلا دیا۔پولیس کے مطابق ملزم نے چرن جیت سنگھ گریوال کے حکم پر قتل کیا جس کیلئے 50 لاکھ روپے کی ادائیگی کی گئی تھی ، مقتولہ نے بھارت آمد سے قبل چرن جیت سنگھ کو بڑی رقم منتقل کی تھی۔

  • آج سعودی عرب میں جو عزت ملی دنیا دیکھتی رہ گئی، مریم نواز

    آج سعودی عرب میں جو عزت ملی دنیا دیکھتی رہ گئی، مریم نواز

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہےکہ ایک وزیراعظم ہوا کرتا تھا جس کو الٹی سیدھی حرکتوں پر جہاز سے اتار دیا گیا کہ بھائی اترو جاؤ اور آج جب شہباز شریف کا جہاز سعودی ائیر اسپیس میں آیا تو اسے سعودی جنگی جہازوں نے سلامی دی۔

    سرگودھا میں الیکٹرک بسوں کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں مریم نواز نے کہا کہ آج سرگودھا کے لیے 33 بسوں کا تحفہ لائی ہوں، شہر کے لیے 60 بسیں رکھی ہیں، سرگودھا ڈویژن کو 105 بسوں کا تحفہ دیں گے،حیرانی ہوئی کہ پورے سرگودھا ڈویژن میں دل کے امراض کا کوئی اسپتال نہیں، میں نے اسی روز فیصلہ کیا اور سرگودھا میں نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیولوجی پر کام شروع کرانے کا فیصلہ کیا، آج نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیولوجی نے کام شروع کردیا ہے، دل کے امراض میں مبتلا لوگوں کو اب فیصل آباداور ڈویژن سے دور جانے کی ضرورت نہیں، پنجاب میں بدترین سیلاب آیا، تین دریاؤں میں تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب آیا، سیلاب کے باعث27 شہر اور 5 ہزار سے زائدگاؤں متاثر ہوئے، اگر ہماری تیاری نہ ہوتی تو بہت بڑا نقصان ہونے کا اندیشہ تھا، ہم نے 25 لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقام پر پہنچایا، متاثرین کو خیموں میں آباد کیا اور خوراک فراہم کی، 22 لاکھ سے زائد مویشیوں کو بھی محفوظ مقام پر پہنچایا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک وزیراعظم ہوا کرتا تھا جس کو الٹی سیدھی حرکتوں پر جہاز سے اتار دیا گیا کہ بھائی اترو جاؤ، آج جب شہباز شریف کا جہاز سعودی ائیر اسپیس میں آیا تو اسے سعودی جنگی جہازوں نے سلامی دی، یہ جنگی جہازوں کی سلامی کسی سیاسی لیڈر کو نہیں بلکہ پاکستان کو دی گئی ہے،اڈیالا میں موجود شخص کو نہیں پتا کہ پاکستان اب آگے بڑھ گیا، وہ قصہ دیرینہ ہے، شہباز شریف کی تذلیل کرنے کوشش کی گئی، آج سعودی عرب میں جو عزت ملی دنیا دیکھتی رہ گئی، سعودی عرب نےکہا کہ پاکستان پر حملہ سعودی عرب پر حملہ تصور ہوگا، کبھی دیکھی ہے اتنی بڑی سفارتی کامیابی، سعودی عرب کے ساتھ کانٹریکٹ ایک کاغذ کا ٹکڑا نہیں، یہ دفاعی معاہدہ بہت بڑا کارنامہ ہے، حرمین شریفین کی پاسبانی کا شرف پاکستان کو ملا ہے۔

  • جسٹس طارق محمود جہانگیری سپریم کورٹ پہنچ گئے

    جسٹس طارق محمود جہانگیری سپریم کورٹ پہنچ گئے

    عہدے سے ہٹانے کے معاملے پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری سپریم کورٹ پہنچ گئے۔

    ذرائع کے مطابق جسٹس طارق جہانگیری کا سپریم کورٹ میں اپنا کیس خود لڑنے کا امکان ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ جسٹس طارق محمودجہانگیری سپریم کورٹ میں اپیل دائرکریں گے،جسٹس سردار اعجاز اسحاق، جسٹس ثمن امتیاز، جسٹس بابرستار اور جسٹس محسن اختر کیانی بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے،پانچوں ججز سپریم کورٹ میں جسٹس طارق جہانگیری کو کام سے روکنے کے خلاف درخواست دائر کرنے کے لیے آئے ہیں۔ ججز سائلین کے لیے مختص گیٹ سے وزیٹرز پاس لے کر سپریم کورٹ داخل ہوئے

  • جی ایچ کیو حملہ کیس،عمران خان ویڈیو لنک کے ذریعے پیش،کاروائی کا بائیکاٹ

    جی ایچ کیو حملہ کیس،عمران خان ویڈیو لنک کے ذریعے پیش،کاروائی کا بائیکاٹ

    بانی پی ٹی آئی عمران خان نے جی ایچ کیو حملہ کیس میں ویڈیو لنک کے ذریعے کارروائی کا بائیکاٹ کردیا۔

    راولپنڈی کی انسداد دہشتگردی عدالت میں جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت ہوئی جس سلسلے میں عمران خان کو ویڈیو لنک پر عدالت میں پیش کیا گیا تاہم انہوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے کارروائی کا بائیکاٹ کردیا،سماعت سےقبل عمران خان کو 3 مرتبہ ویڈیو لنک پر پیشی کے لیے پیغام بھیجا گیا، ساڑھے 10 بجے پہلی بار رابطے پر بتایا گیا کہ وہ 11بجے ویڈیو لنک پر پیش ہوں گے، 11 بجے رابطہ کرنے پر بتایا گیا کہ عمران خان پیش ہو رہے ہیں، 11بجکر 25 منٹ پر رابطہ کرنے پر وہ ویڈیولنک پر پیش ہوئے،سماعت کے دوران وکیل صفائی فیصل ملک نے عمران خان سے اکیلے میں بات کرنے کی استدعا کی جس پر عدالت نے ان کی وکیل صفائی سے بات کرائی تاہم عمران خان نے مقدمہ اور قانونی نکات کی بجائے سیاسی گفتگو شروع کردی،اس موقع پر وکلا صفائی نے عمران خان کوبتایا کہ ویڈیو لنک نوٹیفکیشن کو ہائیکورٹ چیلنج کررہے ہیں، آپ کی اس نوٹیفکیشن پرکیا ہدایت ہے، اس پر عمران خان نے وکلا کو عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کرنے کا کہہ دیا،عمران خان کی ہدایت کے بعد وکلا صفائی عدالت سے باہر چلے گئے تاہم عدالت نے سماعت جاری رکھتے ہوئے گواہان کے بیانات ریکارڈ کرنا شروع کردیے۔

  • پنجاب حکومت  تباہ حال صوبے کی عوام پر دھیان دے۔پلوشہ خان

    پنجاب حکومت تباہ حال صوبے کی عوام پر دھیان دے۔پلوشہ خان

    پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما سینیٹر پلوشہ خان نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت صوبائیت کا کارڈ کھیلنے کے بجائے تباہ حال صوبے کی عوام پر دھیان دے۔

    پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت سیلاب کی تباہ کاریوں پر توجہ دینے کے بجائے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے میں مصروف ہے۔چیئرمین بلاول بھٹو مستقل سیلاب زدگان کو ریلیف دینے کی بات کر رہے ہیں، وزیراعظم پاکستان نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے مطالبے پر زرعی ایمرجنسی نافذ کی،پنجاب حکومت یہ وضاحت کرے کہ زرعی ایمرجنسی میں کسان کو کیا ریلیف دیا گیا ہے؟ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے مطالبے کے بعد وزیراعظم نے سیلاب متاثرین کے بجلی کے بل معاف کرنے کا اعلان کیا، وفاقی حکومت بی آئی ایس پی کے ذریعے متاثرین کو ریلیف دینے سے کیوں گھبرا رہی ہے،پنجاب حکومت یہ بھی بتائے کہ وہ بین الاقوامی امداد لینے سے کیوں گریزاں ہے؟وفاقی و صوبائی حکومتِ پنجاب سیلاب متاثرین کی مکمل بحالی کے عمل کو یقینی بنائے،پاکستان پیپلزپارٹی چاروں صوبوں کی عوام کی نمائندہ جماعت ہے، پنجاب کے عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔ پاکستان پیپلزپارٹی سیلاب سے متاثرہ صوبوں سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور پنجاب کے لیے یکساں فکر مند ہے۔

  • بھارتی فوج کے افسران پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں،ترجمان پاک فوج

    بھارتی فوج کے افسران پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں،ترجمان پاک فوج

    ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے ہمارے پاس مستند شواہد موجود ہیں کہ غیر قانونی افغان باشندے اور بھارتی فوج کے افسران پاکستان میں ہونے والی دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں۔

    جرمن جریدے کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا افغان مہاجرین کو پناہ کی بنیادی وجوہات غیر ملکی مداخلت اور خانہ جنگی تھی، وہ وجوہات اب موجود نہیں ہیـں، پاکستان نے 40 سال تک لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کی، افغان مہاجرین کی باعزت واپسی کے لیے منظم اقدامات کیےگئےہیں، پاکستان نے انسانی بنیادوں پرافغان مہاجرین کے انخلاءکی ڈیڈلائن میں متعدد بار توسیع کی، ہمارے پاس مستند شواہد ہیں کہ غیر قانونی افغان باشندے دہشت گردی اور سنگین جرائم میں ملوث ہیں، ایک سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بھارت میں پرتشدد واقعات بھارتی حکومت کی بڑھتی انتہاء پسند پالیسیوں کا نتیجہ ہیں، بھارت اپنے اندرونی مسائل کو بیرونی جبکہ بیرونی مسائل کو اندرونی مسئلہ بنا کر پیش کرتا ہے،بھارت ریاستی سرپرستی میں پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہے، بھارتی فوجی افسران کے پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد ہیں، پاکستان بھارتی دہشت گردی کے ثبوت اقوام عالم کے سامنے متعدد مرتبہ پیش بھی کر چکا ہے،بھارتی ریاستی ادارے بشمول آرمی شدت پسند سیاسی نظریات کے زیر اثر ہیں جبکہ پاکستان کی ریاست تمام غیرریاستی عناصرکوبلا تفریق مستردکرتی ہے، پاکستان میں کسی بھی جیش یا مسلح جتھوں کیلئے کوئی جگہ نہیں، ریاست کے علاوہ کوئی گروہ یا شخص جہاد کا اعلان کرنے کا اختیار نہیں رکھتا،پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن اسٹیٹ کا کردار ادا کیا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بےپناہ قربانیاں دیں، امریکی انخلا کے بعد افغانستان میں چھوڑے گئے امریکی ہتھیار دہشت گردی میں استعمال ہو رہے ہیں، امریکا بھی اس اسلحے کے دہشت گردانہ کارروائیوں میں استعمال پر تشویش کا اظہار کر چکا ہے۔

    ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا معرکہ حق کے دوران امریکی صدر ٹرمپ کا قائدانہ کردار اسٹریٹجک لیڈر کے طور پر سامنے آیا، امریکا نےکالعدم مجید بریگیڈ کوعالمی دہشت گرد تنظیم قرار دیا، بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے متعدد ہلاک دہشت گرد نام نہاد مسنگ پرسنز کی فہرست میں بھی شامل تھے،پاکستان کے برادر ملک چین کے ساتھ بھی تعمیری اور اسٹریٹجک تعلقات ہیں،

  • اپووا کا اعلیٰ سطحی اجلاس، نویں سالانہ تربیتی ورکشاپ نومبر میں منعقد کرنے کا فیصلہ

    اپووا کا اعلیٰ سطحی اجلاس، نویں سالانہ تربیتی ورکشاپ نومبر میں منعقد کرنے کا فیصلہ

    آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) کا ایک اہم اور اعلیٰ سطحی اجلاس لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا، جس کی صدارت بانی و صدر ایم ایم علی نے کی۔

    اجلاس میں تنظیم کے سینئر وائس چیئرمین ملک یعقوب اعوان سمیت دیگر مرکزی و فعال عہدیداران، ممبران اور نمائندہ شخصیات نے شرکت کی۔اجلاس کا مقصد تنظیم کی آئندہ سرگرمیوں پر غور و خوض، گذشتہ کارکردگی کا جائزہ اور آئندہ منصوبہ بندی تھا۔ شرکاء نے متفقہ طور پر اس بات کا اعادہ کیا کہ اپووا کی تعلیمی و ادبی خدمات کو مزید وسعت دی جائے گی، اور اس ضمن میں سالانہ تربیتی ورکشاپ کو مسلسل نویں سال بھی بھرپور انداز میں منعقد کیا جائے گا۔اپووا کے بانی صدر ایم ایم علی نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ نویں سالانہ تربیتی ورکشاپ نومبر کے دوسرے ہفتے میں منعقد کرنے کا حتمی فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ورکشاپ کا بنیادی مقصد نوجوان لکھاریوں، محققین، اساتذہ اور ادبی ذوق رکھنے والے افراد کی تربیت اور ان کی صلاحیتوں کو نکھارنا ہے۔

    اجلاس میں شامل دیگر اہم شرکاء میں حافظ محمد زاہد، سفیان فاروقی، اسلم سیال، محمد بلال، ممتاز اعوان، طارق نوید، ایمن سعید، لاریب اقراء، مدیحہ کنول، اور عروج درانی شامل تھے، جنہوں نے اپنی قیمتی آراء اور تجاویز سے اجلاس کو مؤثر بنانے میں کردار ادا کیا۔شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ ورکشاپ میں نہ صرف ملک بھر سے ابھرتے ہوئے لکھاریوں کو موقع دیا جائے بلکہ معروف ادبی شخصیات کو بھی مدعو کیا جائے تاکہ نوجوانوں کو سیکھنے کا بہتر ماحول فراہم ہو۔اجلاس کے اختتام پر بتایا گیا کہ ورکشاپ کی حتمی تاریخ اور دن کا باقاعدہ اعلان جلد کر دیا جائے گا۔ صدر اپووا ایم ایم علی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اللہ کے فضل سے اس بار بھی ورکشاپ اپنے معیار، اثر اور کامیابی کے حوالے سے ایک یادگار علمی و ادبی سرگرمی ثابت ہو گی۔

  • پنجاب کے 27 اضلاع، 64 تحصیل میں 3775 دیہات سیلاب سے متاثر

    پنجاب کے 27 اضلاع، 64 تحصیل میں 3775 دیہات سیلاب سے متاثر

    پنجاب حکومت نے سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں ڈسٹرکٹ اور تحصیل کی سطح پر فلڈ ریلیف کمیٹیاں اور سیلاب متاثرین کیلئے سروے فارم، موبائل ایپ اور مانیٹرنگ ڈیش بورڈ قائم کرنے پر بریفنگ دی گئی،اجلاس میں صوبے بھر میں سیلاب متاثرین کی بحالی کا آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا جب کہ سیلاب متاثرین کی امداد کے لیے آسان ترین طریقہ کار وضع کرنے کی ہدایت بھی کی گئی،اس موقع پر ریونیو ڈپارٹمنٹ نے اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب کے 27 اضلاع، 64 تحصیل میں 3775 دیہات سیلاب سے متاثر ہوئے، سیلاب سے 63 ہزار 200 پکے اور 3 لاکھ 9 ہزار 684کچے مکانا ت متاثر ہوئے، سیلاب متاثرین کے سروے کیلئے ٹیم میں اربن یونٹ، ریونیو، زراعت اور آرمی کے نمائندے شامل ہوں گے۔

    مریم نواز نے سیلاب متاثرہ علاقوں میں سڑکوں، پلوں اورانفرا اسٹرکچر کی فوری بحالی کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ حکومت سیلاب متاثرین کی بھر پورامداد کیلئے یکسو ہے، حکومت کو سیلاب متاثرین تک خود پہنچنا چاہی، سیلاب متاثرین کو امداد کی ترسیل کیلئے زیادہ کیمپ اورپوائنٹس قائم کیے جائیں، ہر فرد کے نقصان کا ازالہ کریں گے تاکہ کوئی ریلیف سے محروم نہ رہے.

  • سیلاب زدہ علاقوں سے پانی نکلنا شروع ہو گیا ہے،ڈی جی پی ڈی ایم اے

    سیلاب زدہ علاقوں سے پانی نکلنا شروع ہو گیا ہے،ڈی جی پی ڈی ایم اے

    لاہور: ڈائریکٹر جنرل پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) عرفان علی کاٹھیا نے اعلان کیا ہے کہ صوبے میں مون سون کا سیزن باضابطہ طور پر ختم ہو گیا ہے اور آئندہ ہفتے بارش کا کوئی امکان نہیں ہے۔

    لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا تھا کہ مون سون کے اختتام کے بعد سیلاب زدہ علاقوں میں پانی اترنا شروع ہو گیا ہے، کئی اضلاع میں پانی کی سطح کم ہونے کے باعث کشتیاں بھی آپریشنل نہیں رہیں۔ ان کے مطابق مرالہ سے لے کر پنجند تک دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے اور کہیں بھی بند توڑنے کی نوبت نہیں آئی۔عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ سیلابی صورتحال کے دوران تمام اداروں نے مل کر کام کیا، جس کے نتیجے میں بڑے انسانی نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا۔ ان کے مطابق پنجاب کے 28 اضلاع میں مجموعی طور پر 4 ہزار 755 دیہات متاثر ہوئے، جن میں سب سے زیادہ متاثرہ علاقے علی پور، ملتان اور جلال پور رہے۔

    انہوں نے کہا کہ 24 لاکھ 82 ہزار ایکڑ زرعی رقبہ زیرِ آب آیا، جس میں چاول کی فصل کو 15 فیصد اور گنے کی فصل کو 22 فیصد نقصان پہنچا۔ تاہم محکمہ زراعت کی مدد سے مویشیوں کو چارہ فراہم کیا گیا اور لائیو اسٹاک کو بڑی حد تک بچایا گیا۔ڈی جی پی ڈی ایم اے نے مزید بتایا کہ متاثرہ افراد کے علاج کے لیے 425 میڈیکل کیمپس قائم کیے گئے، جہاں طبی سہولیات فراہم کی گئیں۔ تاہم گزشتہ روز سانپ کے کاٹنے سے ایک شخص جان کی بازی ہار گیا۔انہوں نے یہ بھی تصدیق کی کہ رواں سیلابی صورتحال کے دوران مجموعی طور پر 123 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ ہزاروں افراد کو بروقت ریسکیو آپریشن کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔