Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • سپریم کورٹ کی کینٹین میں سلنڈر دھماکا،متعدد افراد زخمی

    سپریم کورٹ کی کینٹین میں سلنڈر دھماکا،متعدد افراد زخمی

    سپریم کورٹ کی کینٹین میں سلینڈر کے باعث دھماکے سے متعدد افراد زخمی ہو گئے۔

    سلینڈر دھماکے میں زخمی ہونے والوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ کی ٹیم بھی سپریم کورٹ پہنچ گئی ہے اور ٹیم نے شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں،دھماکا اے سی گیس پلانٹ کی مرمت کے دوران ہوا، دھماکے کے باعث کینیٹین میں فرنیچر کو بھی نقصان پہنچا جبکہ متعلقہ حکام کی جانب سے دھماکے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں،ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکا اس قدر زوردار تھا کہ عدالتوں میں موجود وکلاء بھی اپنے کمروں سے باہر آگئے، سلینڈر دھماکے سے سپریم کورٹ کی کورٹ نمبر 6 بھی متاثر ہوئی ہے۔

  • نیپال میں برفانی تودہ گرنے سے غیر ملکی کوہ پیما سمیت 3 افراد ہلاک، 4 لاپتا

    نیپال میں برفانی تودہ گرنے سے غیر ملکی کوہ پیما سمیت 3 افراد ہلاک، 4 لاپتا

    کٹھمنڈو: شمال مشرقی نیپال میں ہمالیہ کی ایک بلند چوٹی پر پیش آنے والے المناک حادثے میں ایک غیر ملکی کوہ پیما سمیت 3 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ 4 کوہ پیما تاحال لاپتا ہیں۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق حادثہ نیپال کے ہمالیائی علاقے کانچن جنگا کے قریب پیش آیا جہاں اچانک برفانی تودہ گرنے سے کوہ پیماؤں کا ایک گروپ اس کی زد میں آگیا۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک فرانسیسی شہری اور دو نیپالی گائیڈ شامل ہیں۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ برفانی تودہ گرنے کے وقت کوہ پیماؤں کی ٹیم چوٹی کی جانب بڑھ رہی تھی کہ اچانک تودہ ان پر آن گرا، جس کے نتیجے میں موقع پر ہی تین افراد جاں بحق ہوگئے۔پولیس کے مطابق حادثے میں 4 مقامی گائیڈ زخمی بھی ہوئے جنہیں قریبی گاؤں منتقل کرکے طبی امداد فراہم کی گئی، اور اب ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جارہی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق مزید 4 غیر ملکی کوہ پیما دو اطالوی، ایک جرمن اور ایک کینیڈین حادثے کے بعد سے لاپتا ہیں۔ ریسکیو ٹیموں نے شدید موسم اور دشوار گزار راستوں کے باوجود تلاش کا کام شروع کردیا ہے، تاہم حکام کو خدشہ ہے کہ ممکنہ طور پر وہ بھی برفانی تودے کی نذر ہوچکے ہیں۔نیپال کے محکمہ سیاحت کے مطابق حادثے کے مقام پر برفانی تودے کے بعد موسم مزید خراب ہوگیا ہے، جس سے امدادی کارروائیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ جیسے ہی موسم بہتر ہوگا، تلاش کے عمل کو مزید تیز کیا جائے گا۔یاد رہے کہ نیپال میں ہر سال درجنوں مقامی و غیر ملکی کوہ پیما ہمالیائی پہاڑوں کی بلندیوں کو سر کرنے کی کوشش میں شدید موسمی حالات اور برفانی تودوں کے باعث اپنی جانیں گنوا بیٹھتے ہیں۔

  • حالیہ سیلاب سے وقتی طور پر معیشت کمزور ہوئی ،وزیر خزانہ

    حالیہ سیلاب سے وقتی طور پر معیشت کمزور ہوئی ،وزیر خزانہ

    وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ پاکستانی معیشت درست سمت کی جانب گامزن ہے اور بلیو اکانومی ملکی معیشت کےلیے گیم چینجر ثابت ہوگی۔

    پاکستان انٹرنیشنل میری ٹائم ایکسپو 2025 سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا معاشی استحکام کے لیے ڈھائی سال میں ٹھوس اقدامات کئے گئے، تین گلوبل ریٹنگ ایجنسی نے پاکستان کے معاشی اقدامات کی تعریف کی ہے،پاکستانی معیشت درست سمت میں گامزن ہے، تجارت اور معیشت کے استحکام کے لیے دوست ممالک کا تعاون حاصل ہے،کراچی، گوادر اور پورٹ قاسم کی بندرگاہوں کو جدید بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، بلیو اکانومی پاکستانی معیشت کے لیے گیم چینجر ثابت ہو گی،میری ٹائم کانفرنس کا مقصد یہ بھی ہے کہ بیرونی سرمایہ کاروں پر راغب کیا جائے، بیلو اکنامی پاکستان کی معشیت میں معاون ثابت ہو سکتی ہے، آنے والے وقتوں میں بلیو اکنامی کے ذریعے معاشی اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں، میں یقین دلاتا ہو کہ بلیو اکنامی کے حوالے پالیسی مسائل حل کیے جائیں گے،پاکستان میں حالیہ سیلاب سے وقتی طور پر معیشت کمزور ہوئی تھی، دنیا کے بہترین معاشی ادارے پاکستان کی بڑھتی معشیت کی تعریف کر رہے ہیں۔

  • بلوچستان،خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات، سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں

    بلوچستان،خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات، سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں

    ملک کے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں کی کارروائیوں اور سیکیورٹی فورسز کے آپریشنز میں کئی اہم واقعات پیش آئے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے اضلاع میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کے نتیجے میں متعدد دہشت گرد مارے گئے، جبکہ کچھ واقعات میں سیکیورٹی اہلکار اور شہری بھی زخمی یا شہید ہوئے۔

    مقامی ذرائع کے مطابق جھاؤ کے علاقے میں پاکستانی فورسز کے قافلے پر دہشت گردوں نے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں تین گاڑیاں تباہ ہو گئیں۔ فائرنگ اور دھماکوں کا سلسلہ تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہا، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیموں نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے تاہم سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

    سیکیورٹی حکام کے مطابق بلوچستان لبریشن آرمی کا اہم کمانڈر عبدالخالق عرف وادو خفیہ آپریشن کے دوران مارا گیا۔ وہ ایران سرحد کے قریب ایک قصبے میں مقیم تھا اور تنظیم کی اسلحہ و منشیات کی سپلائی چین کا نگران تھا۔حکام کا کہنا ہے کہ عبدالخالق کی ہلاکت سے بی ایل اے کے مالیاتی اور لاجسٹک نیٹ ورک کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔

    موسیٰ خیل کے علاقے رارا شام میں سیکیورٹی فورسز کے ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران دو دہشت گرد کمانڈر، اصغر خان اور فیروز خان، ہلاک ہو گئے۔دونوں افراد علاقے میں متعدد دہشت گرد حملوں میں ملوث تھے، جن میں 26 اگست 2024 کا وہ سانحہ بھی شامل ہے جس میں 23 مسافروں کو بسوں سے اتار کر قتل کیا گیا تھا۔

    وسطی کرم کے گاؤں جدرا خرکی میں دہشت گردوں کی فائر کی گئی مارٹر گولہ باری سے ایک شہری جاں بحق اور ایک زخمی ہوا۔ پولیس کے مطابق علاقے میں اس نوعیت کے حملے پہلے بھی ہو چکے ہیں۔سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے تین دہشت گردوں کو ہلاک اور چار کو زخمی کر دیا۔آپریشن کے دوران بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔ضلع پولیس افسر (DPO) بنوں وقار احمد خان کے قافلے پر مامش خیل کے مقام پر گھات لگا کر حملہ کیا گیا، جس میں پانچ پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔ڈی پی او محفوظ رہے۔

    مقامی عمائدین کی کوششوں سے تحریک طالبان پاکستان (TTP) نے کمر خیل کے علاقے سے انخلا پر آمادگی ظاہر کر دی۔ذرائع کے مطابق عمائدین نے شدت پسندوں کو 4 اگست کے اس تحریری معاہدے کی یاد دہانی کرائی جس میں شہری علاقوں کے استعمال سے اجتناب پر اتفاق ہوا تھا۔گزشتہ جھڑپوں میں کئی شہری جاں بحق اور گھروں کو نقصان پہنچا۔ شدت پسندوں نے چند روز میں علاقے سے نکلنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

    ہووید کے علاقے سے چند روز قبل اغوا کیے گئے اسپیشل برانچ اہلکار شفیع اللہ خان کو مقامی عمائدین کی کوششوں سے بازیاب کرا لیا گیا۔ذرائع کے مطابق مقامی امن کمیٹی نے شدت پسندوں کے کمانڈر کے رشتہ داروں کو حراست میں لینے کے بعد جرگہ کے ذریعے رہائی ممکن بنائی۔

    بوشیرا کے علاقے میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں سعیداللہ نامی شخص شدید زخمی ہو گیا۔پولیس کے مطابق دھماکہ کھیتوں میں نصب دیسی ساختہ بارودی مواد سے ہوا، جس کی تحقیقات جاری ہیں۔سفید قبر کے علاقے میں 18 سالہ لڑکی کو مبینہ طور پر اُس کے داماد نے قتل کر دیا۔متوفیہ کے والد نے پولیس کو بتایا کہ ملزم نے غیرت کے نام پر قتل کا اعتراف خود فون پر کیا۔پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے، تاہم ملزم فرار ہے۔

    کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اور پولیس کے مشترکہ آپریشن میں تخت نصرتی کے علاقے مدکی روڈ پر ایک دہشت گرد مارا گیا۔
    ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق دہشت گرد گاڑیوں کو روک کر تلاشی لے رہے تھے جب فورسز کے پہنچنے پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔مارے گئے دہشت گرد کی شناخت جاری ہے، جبکہ اسلحہ و بارود برآمد ہوا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے سرحد پار سے دراندازی کی کوشش ناکام بناتے ہوئے دو دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔مارے جانے والوں میں ایک افغان شہری قاسم شامل ہے جو سابق افغان بارڈر پولیس اہلکار تھا۔کارروائی کے بعد علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

    طورخم سرحد تیسرے روز بھی افغان مہاجرین کی واپسی کے لیے کھلی رہی۔گزشتہ تین روز میں 19 ہزار 343 افراد افغانستان واپس جا چکے ہیں، جن میں خواتین، بچے اور بزرگ شامل ہیں۔انتظامیہ نے واپسی کے عمل کو منظم اور محفوظ بنانے کے لیے اضافی انتظامات کیے ہیں۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق باجوڑ میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران داعش خراسان کے اہم کمانڈر ضیاء الدین عرف ابراہیم ادریس کو ہلاک کر دیا گیا۔وہ تحریک انصاف کے رہنما ریحان زیب اور عوامی نیشنل پارٹی کے مولانا خان زیب سمیت متعدد اہم شخصیات کے قتل میں ملوث تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ضیاء الدین افغانستان میں قید تھا اور طالبان کی حکومت کے بعد رہا ہو کر 2023 میں پاکستان آیا تھا تاکہ داعش خراسان کا نیٹ ورک دوبارہ منظم کر سکے۔حکام کے مطابق اس کی ہلاکت سے تنظیم کو بڑا دھچکا لگا ہے۔

  • پاکستان فلم انڈسٹری کی معروف شخصیت چوہدری کامران اعجاز چل بسے

    پاکستان فلم انڈسٹری کی معروف شخصیت چوہدری کامران اعجاز چل بسے

    لاہور: پاکستان فلم انڈسٹری کی ممتاز اور قابلِ احترام شخصیت، نامور فلم پروڈیوسر اور ڈسٹری بیوٹر چوہدری کامران اعجاز طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ ان کی وفات کی خبر نے فلمی دنیا کے تمام حلقوں کو گہرے صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔

    خاندانی ذرائع کے مطابق چوہدری کامران اعجاز کو کچھ عرصہ قبل برین ہیمرج کا سامنا ہوا تھا، جس کے بعد وہ زیرِ علاج تھے۔ ڈاکٹروں کی بھرپور کوششوں کے باوجود وہ صحت یاب نہ ہو سکے اور خالقِ حقیقی سے جا ملے۔چوہدری کامران اعجاز نے اپنی زندگی فلمی دنیا کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ وہ کئی دہائیوں تک پاکستان فلم انڈسٹری کے ساتھ منسلک رہے اور متعدد کامیاب فلمیں پروڈیوس کیں جن میں مشہور فلمیں "سلطنت”, "بھائی لوگ” اور دیگر شامل ہیں۔ ان کے کام کو نہ صرف ناظرین بلکہ فلمی ماہرین نے بھی بے حد سراہا۔

    چوہدری کامران اعجاز نہ صرف ایک پروڈیوسر بلکہ ایک متحرک منتظم بھی تھے۔ وہ فلم انڈسٹری کی مختلف تنظیموں کے صدر رہ چکے تھے اور فلمی صنعت کی ترقی و بحالی کے لیے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔انہوں نے رائل پارک، لاہور کو فلم انڈسٹری کے لیے ایک سرگرم مرکز کی حیثیت دی، جہاں فلم ساز، ہدایت کار، اداکار اور تکنیکی ماہرین ہمیشہ ان کے تعاون اور رہنمائی سے مستفید ہوتے رہے۔ ان کی کاوشوں سے یہ علاقہ فلمی سرگرمیوں کا دل بن گیا۔چوہدری کامران اعجاز کی وفات سے پاکستان فلم انڈسٹری ایک بڑی اور تجربہ کار شخصیت سے محروم ہو گئی ہے۔ ان کے چاہنے والوں، ساتھی فنکاروں اور فلمی برادری نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کے لیے دعائے مغفرت کی ہے۔

    چوہدری کامران اعجاز کی نماز جنازہ آج بروز منگل بعد از نماز ظہر ان کی رہائش گاہ نت ٹاؤن ،سٹریٹ نمبر 2، ہاؤس نمبر 2 نزد نیب آفس، 1122 آفس ، ٹھوکر نیاز بیگ لاہورادا کی جائے گی.

  • لگتا ہےسعودی عرب ابراہیمی معاہدے میں شامل ہوجائےگا،ٹرمپ

    لگتا ہےسعودی عرب ابراہیمی معاہدے میں شامل ہوجائےگا،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر سعودی عرب کے ابراہیمی معاہدے میں شامل ہونے کا امکان ظاہر کردیا۔

    امریکی ٹی وی پروگرام 60 منٹس میں اینکر نے سوال کیا کہ کیا سعودی عرب فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر ابراہیمی معاہدے میں شامل ہوجائے گا،اینکر کے سوال پر صدر ٹرمپ نے جواب دیا کہ انہیں لگتا ہےکہ سعودی عرب ابراہیمی معاہدے میں شامل ہوجائےگا، ہم حل نکال لیں گے۔ دو ریاستی حل پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں یقین نہیں کہ آیا یہ دو ریاستی حل ہوگاکیونکہ یہ اسرائیل اور مجھ پر منحصر ہے۔

    دوسری جانب وائٹ ہاؤس حکا م نے تصدیق کی ہےکہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان 18 نومبر کو وائٹ ہاؤس کا دورہ کریں گے۔ حکام نے بتایا کہ سعودی ولی عہد اور صدر ٹرمپ کی ملاقات کے دوران دوطرفہ تعلقات اور علاقائی معاملات پر گفتگو ہوگی۔امریکی میڈیا کے مطابق یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب صدر ٹرمپ سعودی عرب پر ابراہیمی معاہدے میں شامل ہونے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔

  • خیبرپختونخوا میں بارشوں اور برفباری کا امکان، الرٹ جاری

    خیبرپختونخوا میں بارشوں اور برفباری کا امکان، الرٹ جاری

    پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) خیبرپختونخوا نے صوبے کے مختلف علاقوں میں آج سے بارشوں اور برفباری کے امکانات کے پیشِ نظر الرٹ جاری کردیا ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق 5 نومبر تک صوبے کے مختلف اضلاع میں وقفے وقفے سے ہلکی اور درمیانی شدت کی بارشوں کے ساتھ بالائی پہاڑی علاقوں میں برفباری کا امکان ہے۔

    محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کے بعد پی ڈی ایم اے نے تمام ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کیے جائیں۔ متعلقہ محکموں کو مشینری، ریسکیو ٹیموں اور ایمرجنسی اسٹاف کو ہمہ وقت تیار رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں فوری کارروائی کی جاسکے۔ادارے نے خبردار کیا ہے کہ پہاڑی علاقوں میں بارشوں اور برفباری کے باعث لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ موجود ہے، جس کے نتیجے میں بعض مقامات پر سڑکوں کی بندش کا امکان ہے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور محکمہ موسمیات و ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں۔پی ڈی ایم اے کے مطابق تمام متعلقہ ادارے اور ریسکیو ٹیمیں کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال کے لیے الرٹ پر ہیں، جبکہ عوام کو یقین دلایا گیا ہے کہ کسی بھی مشکل کی صورت میں فوری امدادی کارروائیاں کی جائیں گی۔

  • معروف بھارتی صحافی رعنا ایوب  کو جان سے مارنے کی دھمکیاں

    معروف بھارتی صحافی رعنا ایوب کو جان سے مارنے کی دھمکیاں

    معروف بھارتی تحقیقاتی صحافی اور انسانی حقوق کی علمبردار رعنا ایوب کو ایک بار پھر جان سے مارنے کی سنگین دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق، دھمکیاں بین الاقوامی نمبر سے ویڈیو اور فون کالز کے ذریعے دی گئیں، جن میں ایک نامعلوم شخص نے رعنا ایوب سے مطالبہ کیا کہ وہ 1984 کے سکھ فسادات پر ایک کالم لکھیں، بصورتِ دیگر وہ اور ان کے والد سنگین نتائج کے لیے تیار رہیں۔رپورٹس کے مطابق، ملزم نے دھمکی آمیز گفتگو کے دوران نازیبا زبان استعمال کی اور یہ دعویٰ کیا کہ اگر رعنا ایوب نے اس کی بات نہ مانی تو انہیں ’’خاموش‘‘ کر دیا جائے گا۔ صحافی کے اہلِ خانہ نے ان دھمکیوں کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ان کے تحفظ کے لیے واضح خطرہ ہے۔

    رعنا ایوب، جو بھارت میں اقلیتوں اور انسانی حقوق کے معاملات پر بے باک انداز میں آواز اٹھانے کے لیے جانی جاتی ہیں، اس سے قبل بھی کئی مرتبہ آن لائن ہراسانی، نفرت انگیز مہمات اور جھوٹے مقدمات کا سامنا کر چکی ہیں۔دوسری جانب بین الاقوامی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (CPJ) نے بھارتی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ رعنا ایوب اور ان کے خاندان کی فوری سکیورٹی یقینی بنائیں۔ تنظیم نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’صحافیوں کے خلاف خوف و دہشت کی فضا پیدا کرنا آزادیِ صحافت پر حملہ ہے، اور بھارتی حکومت کو چاہیے کہ ذمہ دار عناصر کی فوری شناخت اور گرفتاری یقینی بنائے۔‘‘ بھارت میں گزشتہ چند برسوں کے دوران آزادیٔ اظہار پر قدغنیں اور صحافیوں کے خلاف دھمکیوں کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو عالمی سطح پر تشویش کا باعث بن رہا ہے۔

    رعنا ایوب نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے پیغام میں کہا کہ وہ ان دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں بلکہ سچ بولنے کے اپنے مشن پر قائم ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس معاملے کی شکایت متعلقہ حکام کو درج کروا چکی ہیں۔

  • ٹی ٹی پی باز نہ آئی، نام بدل کر دہشتگردی کی کاروائیاں شروع

    ٹی ٹی پی باز نہ آئی، نام بدل کر دہشتگردی کی کاروائیاں شروع

    تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے افغان طالبان کے دباؤ کے بعد اپنے بعض روایتی نام چھوڑ کر مختلف نئے ناموں کے تحت کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس فیصلہ کے پیچھے ترکی میں طے پانے والے کسی معاہدے اور افغان طالبان کی جانب سے دھرائے جانے والے سیاسی و عسکری اثر و رسوخ کا ہاتھ ہے۔

    گزشتہ روز پشاور کے نواحی علاقے جنا کوڑ میں ہونے والے حملے کی ذمہ داری "تحریکِ طالبان لبیک فورس” نے قبول کی ہے، اور اس کا ترجمان غازی ممتاز قادری نامزد کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں سیکورٹی حکام نے ابھی تک اس دعوے کی آزادانہ تصدیق کرنے سے گریز کیا ہے اور واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔جس ایکس اکاؤنٹ سے پوسٹ کی گئی تھی بعد ازاں اس پوسٹ کو ڈیلیٹ کر دیا گیا،

    باخبر ذرائع کے مطابق ٹی ٹی پی صف بندی اور شناخت چھپانے کے لیے مختلف نام استعمال کر رہی ہے تاکہ افغان طالبان کے دباؤ، بین الاقوامی نظرِ عامہ اور سکیورٹی اداروں کی توجہ سے بچا جا سکے۔دوسری جانب تحریک لبیک کو تنظیم بنانا اور ممتاز قادری مرحوم کے نام پر ترجمان بنانا تحریک لبیک کے کارکنوں کو ورغلانے کی کوشش ہےتاکہ وہ بھی ٹی ٹی پی کے ساتھ شامل ہوکر حملے شروع کر دیں،جبکہ باقی تنظیموں کے نام بیت المقدس وغیرہ پر رکھنے کا مقصد ہے کہ جن لوگوں کو فلسطین یا غزہ سے ہمدردی ہے اور وہ وہاں پر اسرائیل کے خلاف مزاحمت چاہتے ہیں وہ بھی ان کے ساتھ شامل ہو جائے اور اسرائیل کی بجائے پاکستان کے خلاف جنگ شروع کردے ، ماضی میں ٹی ٹی پی نے مختلف نام اختیار کیے جانے کی تاریخ موجود ہے، انصار الشریعہ، انصار الجہاد، جیش المہدی، جیش بیت المقدس، جیش الافغان، وغیرہ اور اب اسی طرزِ عمل کے تحت نئے نام اپنائے جا رہے ہیں۔تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایسے نام رکھنے سے وہ دنیا کی سطح پر براہِ راست شناخت سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں اور افغان طالبان کے دباؤ کے اثرات سے بھی کچھ حد تک بچاؤ ممکن ہوتا ہے۔ تاہم، یہ ماہرین اس خدشے کا اظہار بھی کر رہے ہیں کہ اس طریقِ کار سے اندرونی انتشار، فرقہ وارانہ فسادات اور بیرونی مداخلت کے بہانے بڑھ سکتے ہیں۔

    تجزیہ نگاروں اور سکیورٹی مبصرین کے مطابق ناموں کی تبدیلی کے ذریعے کارروائیوں کی شناخت چھپانے کی کوشش سے دہشت گرد گروہ اپنی کارروائیوں کو منطقی و نظریاتی لیبل دے کر مقامی بھرتی اور حمایت حاصل کر سکتے ہیں۔نئی تنظیمی صف بندی سے علاقائی استحکام متاثر ہو سکتا ہے اور اندرونی سکیورٹی چیلنج بڑھے گا۔ماہرین سفارش کرتے ہیں کہ حکومت اور سکیورٹی ادارے حملوں کی شفاف اور فوری تفتیش کریں اور ذمہ دار عناصر کو بے نقاب کریں۔سوشل میڈیا اور اطلاعاتی ذرائع پر گردش کرنے والے دعوؤں کی صداقت کی جانچ کرائیں تاکہ غلط معلومات و پروپیگنڈے کو بروقت روکا جا سکے۔مقامی کمیونیٹیز اور مذہبی قائدین کے ساتھ رابطے مضبوط کیے جائیں تاکہ تشدد کے بیانیے کی روک تھام ممکن ہو۔

  • بھارتی اداکارہ کا بھائی میجر (ر) وکرانت کمار یو اے ای میں گرفتار،دہلی ہائیکورٹ میں درخواست

    بھارتی اداکارہ کا بھائی میجر (ر) وکرانت کمار یو اے ای میں گرفتار،دہلی ہائیکورٹ میں درخواست

    دہلی ہائیکورٹ میں بالی ووڈ اداکارہ سلینا جیٹلی کی جانب سے دائر کردہ ایک درخواست پر سماعت ہوئی، جس میں انہوں نے اپنے بھائی میجر (ریٹائرڈ) وکرانت کمار جیٹلی کی مدد کے لیے عدالت کی مداخلت کی اپیل کی ہے۔ اداکارہ کے مطابق ان کے بھائی کو ستمبر 2024 سے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں مبینہ طور پر قومی سلامتی کے خدشات کے تحت حراست میں رکھا گیا ہے۔

    عدالت نے وزارتِ خارجہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ سلینا جیٹلی اور ان کے بھائی کے درمیان رابطے کو یقینی بنائے، اور ساتھ ہی میجر وکرانت جیٹلی اور ان کی اہلیہ (جو یو اے ای میں مقیم ہیں) کے درمیان بھی رابطہ بحال کرانے کے اقدامات کرے۔ عدالت نے وزارتِ خارجہ سے اس معاملے پر ایک اسٹیٹس رپورٹ بھی طلب کی ہے۔سماعت کے دوران سلینا جیٹلی خود عدالت میں موجود تھیں۔ بعد ازاں انہوں نے انسٹاگرام پر ایک طویل پیغام میں عدالت کے فیصلے کو "امید کی کرن” قرار دیا۔

    درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ چونکہ وکرانت جیٹلی بھارتی شہری ہیں، اس لیے حکومت ہند پر لازم ہے کہ وہ انہیں قانونی مدد فراہم کرے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سلینا جیٹلی اپنے بھائی کی واحد قریبی رشتہ دار ہیں۔درخواست میں کہا گیا کہ گزشتہ ایک سال سے اہل خانہ نے بھارتی سفارت خانے، قونصل خانے اور وزیرِ خارجہ سے متعدد بار رابطہ کیا، تاہم تاحال ان کے بھائی کی حالت یا قانونی حیثیت سے متعلق کوئی خاطر خواہ معلومات نہیں دی گئیں۔یہ کیس جسٹس سچن دتّا کی عدالت میں زیرِ سماعت ہے، جب کہ اگلی سماعت 4 دسمبر کو مقرر کی گئی ہے۔

    سماعت کے بعد سلینا جیٹلی نے انسٹاگرام پر دہلی ہائیکورٹ کے باہر سے ایک جذباتی پیغام شیئر کیا کہا،”طویل اور تھکا دینے والے 14 ماہ کے بعد بالآخر مجھے اندھیری سرنگ کے آخر میں روشنی نظر آئی ہے۔ میں دہلی ہائیکورٹ سے باہر آئی ہوں جہاں میری درخواست پر سماعت ہوئی۔”انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے بھائی نو ماہ تک لاپتہ رہے اور بعد ازاں حراست میں لے لیے گئے۔”آپ نے ہمارے لیے لڑائی لڑی بھائی، اب ہماری باری ہے کہ ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہوں۔ عدالت کی ہدایت میرے لیے امید کی کرن ہے۔”انہوں نے حکومت ہند سے اپیل کی کہ وہ ملک کے محافظوں کے لیے آواز اٹھائے "ایک سال سے میں اپنے بھائی کے بارے میں جواب تلاش کر رہی ہوں۔ اب میں اپنی حکومت سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ انہیں محفوظ واپس لائے۔ میرا یقین صرف اپنی حکومت پر ہے، اور مجھے یقین ہے کہ وہ ایک ایسے سپاہی کی حفاظت کرے گی جس نے اپنی جوانی قوم کے نام وقف کی۔”سلینا جیٹلی نے بتایا کہ ان کے بھائی چوتھی نسل کے فوجی ہیں، جنہیں چیف آف آرمی اسٹاف کی جانب سے بہادری کے تمغے سے نوازا گیا تھا۔

    درخواست میں مزید استدعا کی گئی کہ بھارتی حکومت قانونی و مالی امداد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ سفارتی ذرائع سے فوری اقدامات کرے تاکہ وکرانت جیٹلی کو مناسب طبی سہولیات اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دیکھ بھال فراہم کی جا سکے۔عدالت سے یہ بھی گزارش کی گئی کہ بھارتی سفارت خانہ ان کی فلاح و بہبود کی باقاعدہ نگرانی کرے اور یو اے ای حکام کے ساتھ رابطے میں رہے تاکہ زیرِ حراست بھارتی شہری کے حقوق کو بین الاقوامی قانون اور 1963 کے ویانا کنونشن برائے قونصلر تعلقات کے مطابق یقینی بنایا جا سکے۔