Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • خوارج کی جانب سے مسجدوں کو فتنہ انگیزی کے لیے استعمال کرنے کا ہولناک انکشاف

    خوارج کی جانب سے مسجدوں کو فتنہ انگیزی کے لیے استعمال کرنے کا ہولناک انکشاف

    خوارج کی جانب سے مسجدوں کو فتنہ انگیزی کے لیے استعمال کرنے کا ہولناک انکشاف سامنے آیا ہے

    شمالی وزیرستان کے زنگوٹی گاؤں میں سیکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشن کے دوران ہتھیار ڈالنے والے خوارجی عبد الصمد کا انکشافی بیان سامنے آیا ہے، خوارجی عبدالصمد کا کہنا ہے کہ سال 2020 سے طالبان کے ساتھ منسلک ہوں،خوارج مساجد کو فساد کے لیے استعمال کرتے ہیں،خوارج مسجدوں میں لوگوں کو فوج کے خلاف اکساتے، اور مائنز استعمال کرنے کی ہدایات دیتے ہیں ،خوارج کی جانب سے مساجد میں بدکاری کی جاتی تھی جس کو دیکھ کر میرا دل دہل گیا تھا،خوارج مسجد کی حرمت پامال کرتے، وہاں ویڈیوز چلاتے اور ناچ گانا کیا کرتے تھے، مسجدوں میں آئی ای ڈیز بھی تیار کرتے تھے جن کو بعد میں سیکیورٹی فورسز کے خلاف استعمال کرتے، افغانستان سے غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہوا،پاکستان میں داخل ہونے کے بعد زنگوٹی حرسین کی ایک مسجد میں کمانڈر اسد کے گروپ سے ملا، اسد ملا نے گروپ کے لیے بچوں کو اپنے ساتھ رکھا اور انہیں غلط کاموں کے لیے استعمال کیا،مسجد میں بم بنانے کے دوران گندی اور فحش ویڈیوز چلتی رہتی تھی، اور گانوں کا اہتمام بھی ہوتا تھا، امیر لوگوں سے زبردستی بھتہ وصول کرتے اور انہی پیسوں سے افغانستان سے ہتھیار خریدتے،خوارج مساجد کی بے حرمتی، بھتہ خوری اور قتل کرتے ہیں، یہ اسلام نہیں،فوج سے جب ملا تو دل خوش ہو گیا، اب اگر میں واپس بھی لوٹا تو ان کے پاس نہیں جاؤں گا، اپنے بچوں کو ان عناصر سے دور رکھیں اور فوج کے ساتھ تعاون کریں،

  • چونڈہ کا میدان، بھارتی ٹینکوں کا قبرستان

    چونڈہ کا میدان، بھارتی ٹینکوں کا قبرستان

    چونڈہ کا میدان، بھارتی ٹینکوں کا قبرستان

    جنگ عظیم دوئم کے بعد چونڈہ کی جنگ ٹینکوں کی سب سے بڑی لڑائی مانی جاتی ہے،تقریباً چھے سو سے زائد بھارتی ٹینک اور 2 ہزار سے زائد پیدل سپاہ نے چونڈہ پر قبضے کے ناکام ارادہ سے حملہ کیا،پاکستانی آرٹلری نے ہیبت ناک بمباری سے دشمن کی صفوں کو تہس نہس کر ڈالا،پاکستانی ٹینک یونٹ کے بے باک ایڈوانس، آرٹلری کی تباہ کن بمباری اور پاکستانی انفنٹری کی ثابت قدمی کے آگے تین بھارتی ڈویژن بے بس ہو گئے،بھارتی فوج سینکڑوں لاشیں چھوڑ کر دم دبا کر بھاگ نکلی،تقریباً 8 سو کے قریب بھارتی فوجی جہنم واصل جبکہ ایک ہزار سے زائد قیدی بنا لئے گئے،بھارتی فرست آرمرڈ ڈویژن 180 ٹینکوں کو تباہ کروا کر بھی پاکستانی سپاہیوں کے آہنی عزم کو توڑ نہ سکا،عبرتناک شکست کے بعد بھارتی آرمرڈ ڈویژن بارڈر کی طرف پسپا ہو کر لوٹ گیا

  • مودی کی جمہوریت کے نام پر الیکشن کمیشن کی ملی بھگت سے دھوکہ دہی بے نقاب

    مودی کی جمہوریت کے نام پر الیکشن کمیشن کی ملی بھگت سے دھوکہ دہی بے نقاب

    مودی کی جمہوریت کے نام پر الیکشن کمیشن کی ملی بھگت سے دھوکہ دہی بے نقاب ہو گئی.

    بھارتی الیکشن کمیشن فرائض کے برعکس ہندوتوا نظریے کا آلہ کار ہے،مودی کی شرمناک حکومت اور جانبدار الیکشن کمیشن عوامی مینڈیٹ کےقاتل بن چکے ہیں، بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ” راہول گاندھی نے بھارتی الیکشن کمشنر پر جمہوریت کو قتل کرنےوالوں کی حفاظت کا الزام لگا دیا” اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے کہا کہ "الیکشن کمیشن ووٹ چوروں کو بچا رہا ہے جو جمہوریت کا قتل کر رہے ہیں،ووٹرز کے نام جان بوجھ کر حذف یا شامل کیے گئے تاکہ بی جے پی کو ریاستی انتخابات میں جتوایا جا سکے،ہمارے الزامات سو فیصد ثبوت کے ساتھ ہیں، مگر الیکشن کمیشن نے کوئی کارروائی نہیں کی، کرناٹک کے الانڈ حلقے میں6ہزار سے زائد ووٹرز کے نام حذف کیے گئے جو کانگریس کے مضبوط علاقے تھے،یہ نام زیادہ تر اقلیتی اور پسماندہ طبقات کے لوگوں کے تھے جو کانگریس کے حامی تھے، کرائم ڈیپارٹمنٹ نے 18 ماہ میں18خطوط الیکشن کمیشن کو لکھے مگر کوئی جواب نہیں ملا، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے مطالبہ کرتا ہوں کہ ایک ہفتے کے اندر تفصیلات جاری کریں،مہاراشٹر کے راجورہ حلقے میں 6,850 جعلی نام ووٹر لسٹ میں شامل کیے گئے،

    بی بی سی کے مطابق کمیشن نے مہاراشٹرا کے راجورہ حلقے کے الزامات پر کوئی جواب نہیں دیا،سابق چیف الیکشن کمشنرز نے کہا انتخابی عمل کی ساکھ پر شکوک و شبہات دور کرنا کمیشن کی ذمہ داری ہے ،

    بی جے پی حکومت اور الیکشن کمیشن کی گٹھ جوڑ نے بھارتی جمہوریت کو دفن کر دیا،مودی کے سفاک راج میں انتخابی دھاندلی عوامی رائے کو دبانے اور آمریت مسلط کرنے کا کھلا ثبوت ہے.

  • سکھ برادری کا  کینیڈا میں احتجاج ،بھارت کے خفیہ نیٹ ورکس کا عالمی سطح پر پردہ چاک

    سکھ برادری کا کینیڈا میں احتجاج ،بھارت کے خفیہ نیٹ ورکس کا عالمی سطح پر پردہ چاک

    سکھ برادری کا کینیڈا میں احتجاج ،بھارت کے خفیہ نیٹ ورکس کا عالمی سطح پر پردہ چاک

    ہندوتوا نظریہ کے تحت مودی کی سفاکی قتل و غارت سے خالصتان جدوجہد دبانے کی کوشش میں مصروف عمل ہے،خالصتان تحریک کے رہنماؤں کے مطابق ’’ بھارت میں سکھ رہنماؤں کے قتل کی عالمی سطح پر سازشیں کی جا رہی ہیں‘‘کینیڈین سرزمین پر بھارتی جاسوسی اور دھونس کی جواب دہی کے لیے سکھ برادری کا احتجاج جاری ہے،سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ کے مطابق ’’خالصتان تنظیم سِکھز فار جسٹس کا وینکورمیں بھارتی قونصلیٹ کے سامنے احتجاج کا اعلان کیا ہے ‘‘،سکھز فار جسٹس کا کہنا ہے کہ بھارت خالصتان تحریک کو دہشتگرد کہتا ہے جبکہ اصل دہشتگرد نئی دہلی اور بھارتی مشنز میں بیٹھے ہیں،

    بھارتی قونصلیٹ کے باہر تاریخی احتجاج کرنے کے لیے سِکھز فار جسٹس نے میڈیا ایڈوائزری بھی جاری کر دی،میڈیا ایڈوائزری میں کہا گیا کہ خالصتان کے حامی بھارتی قونصلیٹ کے باہر تاریخی ’’احتجاج ‘‘ کریں گے ، میڈیا ایڈوائزری کے مطابق 18 ستمبر 2023 کو کینیڈین وزیرِاعظم جسٹن ٹروڈو نے اعلان کیا تھا کہ ” ہردیپ سنگھ نجرکے قتل میں بھارتی ایجنٹوں کے کردار کی تحقیقات کی جا رہی ہیں”میڈیا ایڈوائزری کے مطابق بھارتی قونصلیٹ آج بھی خفیہ جاسوس نیٹ ورکس اور نگرانی کے ذریعے خالصتان تحریک کے حامیوں کو نشانہ بنا رہا ہے،خطرے کی سنگینی پر کینیڈین پولیس نے ہردیب سنگھ نجر کے قتل کے گواہ اندرجیت سنگھ گوسل کو تحفظ کی پیشکش بھی کی،

    سکھ برادری نے اعلان کیا ہے کہ ہردیب سنگھ نجر کا خون سکھ مزاحمت کا نعرہ بن چکا ہے، سکھوں کی عالمی جدوجہد انصاف ملنے تک نہیں رکے گی،

    1984ءسے آج تک بھارت نے سکھ برادری کو ظلم، فریب اور تشدد کے سوا کچھ نہیں دیا،بھارت نے سفارت خانوں کو خفیہ کمانڈ سینٹرز میں تبدیل کرکے بیرون ملک سکھوں کو نشانہ بنایا،کینیڈا میں ہردیب سنگھ نجر کا قتل بھارت کی سرحد پار دہشت گردی کو بے نقاب کرتا ہے،امریکہ اور برطانیہ میں سکھ رہنماؤں پر حملے بھارتی ریاستی منصوبہ بندی کا حصہ ہیں،مودی کے ظلم و بربریت کیخلاف خالصتان تحریک اب عالمی تحریک کا روپ دھار چکی ہے

  • بھارت کاپاکستانی ٹیم کو نئے تنازع میں ملوث کرنے کی کوشش

    بھارت کاپاکستانی ٹیم کو نئے تنازع میں ملوث کرنے کی کوشش

    ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ میں ہینڈ شیک تنازع ختم ہونے کے 24 گھنٹے بعد بھارتی میڈیا اور آئی سی سی میں کام کرنے والے بھارتی افسران نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کو ایک اور تنازع میں ملوث کرنے کی کوشش کی ہے۔

    جیو ٹی وی کے مطابق آئی سی سی کی جانب سےمیچ ریفری کی معذرت کے دوران ویڈیو بنانے اور اسے میڈیا میں ریلیز کرنے پر اعتراض کیا گیا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق دبئی میں بدھ کو متحدہ عرب امارات کے خلاف ایشیا کپ کے میچ سے قبل جب آئی سی سی حکام، ٹیم انتظامیہ کی موجودگی میں میچ ریفری اینڈی پائی کرافٹ نے معذرت کی، اس وقت پاکستانی ٹیم کے میڈیا منیجر نعیم گیلانی نے ٹورنامنٹ کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پلیئرز میچ آفیشلز ایریا میں فلم بندی کی۔

    آئی سی سی نے بدھ کو ہونے والے میچ سے قبل کھلاڑیوں اور میچ آفیشلز ایریا (پی ایم او اے) کے پروٹو کول کی’بدانتظامی‘ اور’متعدد خلاف ورزیوں‘ کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ کو ایک ای میل بھیجی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی سی سی کے سی ای او سنجوگ گپتا نے پی سی بی کو لکھا ہے کہ پاکستانی ٹیم انتظامیہ کے ایک رکن میچ کے دن پی ایم او اے کی بار بار خلاف ورزیوں کے قصوروار قرار پائے ہیں۔

  • بس بہت ہوگیا، اب ایک دوسرے کو ٹارگٹ کرنا بند کریں،بیرسٹر گوہر

    بس بہت ہوگیا، اب ایک دوسرے کو ٹارگٹ کرنا بند کریں،بیرسٹر گوہر

    تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کو کلاؤڈ برسٹ کی طرح سزائیں ہوئیں۔

    پشاور ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی رہنماؤں عمر ایوب، شبلی فراز اور عبدالطیف کی نااہلی سے متعلق درخواستوں پر سماعت ہوئی،دوران سماعت بیرسٹر گوہر نے دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ کلاؤڈ برسٹ کی طرح پی ٹی آئی رہنماؤں کو سزائیں ہوئیں ، ہم نااہلی کے فیصلوں سے بہت متاثر ہوئے، بس بہت ہوگیا، اب ایک دوسرے کو ٹارگٹ کرنا بند کریں،بیرسٹر گوہر نے عدالت میں الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دینے کی استدعا بھی کی۔

    یاد رہے کہ انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی جلاؤ گھیراؤ کیس میں عمر ایوب اور شبلی فراز سمیت کئی پی ٹی آئی رہنماؤں کو سزائیں سنائی تھیں، الیکشن کمیشن نے عدالتی احکامات کے بعد قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈرز عمر ایوب اور شبلی فراز سمیت کئی رہنماؤں کو نااہل قرار دے دیا تھا،

  • ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران سے پاکستان فیڈریشن آف کالمسٹ کے وفد کی ملاقات

    ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران سے پاکستان فیڈریشن آف کالمسٹ کے وفد کی ملاقات

    پاکستان فیڈریشن آف کالمسٹ اینڈ ڈیجیٹل میڈیا کے صدر ملک محمد سلمان کی قیادت میں سینئر صحافیوں، اینکرز،کالم نگاروں کے وفد نے ڈی آئی جی آپریشنزلاہور محمد فیصل کامران سے ملاقات کی، وفد میں روزنامہ سرزمین کے چیف ایڈیٹر صفدرعلی خان، روزنامہ طاقت کے ایڈیٹر محمد اویس رازی،مشرق میگزین کے ایڈیٹر ساجد خان، سنو ٹی وی کے اینکر طارق حفیظ بزمی،ٹی وی ٹوڈے کے اینکر عابد نصیر،سنو ٹی وی مارننگ شو کے میزبان عزیر ملک،کالم نگار نئی بات حافظ ذوہیب طیب،کالم نگار نوائے وقت حمزہ نوید چوہدری، نیو ٹی وی کی اینکر ردا جمشید،ایکسپریس ٹی وی کی اینکر سنیہ اسحاق، خبریں ڈیجیٹل کی اینکر خوشبو افضال، اینکر،سوشل میڈیا ایکٹوسٹ سعدیہ مقصود، ایڈیٹر باغی ٹی وی ممتاز اعوان شامل تھے.

    ڈی آئی جی آپریشنز آفس پہنچنے پر میڈیا وفد کا پرتپاک خیر مقدم کیا گیا،ڈی آئی جی آپریشنز لاہور محمد فیصل کامران نے میڈیا وفد کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ لاہور میں جرائم کی شرح میں مسلسل کمی ہو رہی ہے،پولیس میں اصلاحات لا رہے ہیں، خدمت مرکزعوام کی خدمت کر رہے ہیں، تھانوں کو عوام اپنا گھر سمجھیں،تمام مقدمات میرٹ پر درج کیے جاتے ہیں،مقدمہ درج نہ ہونے پر ایس ایچ او کو معطل کر دیا جاتا ہے،عوام کے ذہنوں سےپولیس کا ڈر ختم کرنے کے لئے،پولیس کی جدید اصلاحات اجاگر کرنے کے لئے میڈیا پل کا کردار ادا کرے،صحافی پولیس پر تنقید کریں لیکن بلیک میلنگ والا دھندہ چھوڑیں،پولیس سرکار کی ملازم ہے،جوئے کے اڈے، قحبہ خانوں کے خلاف کاروائیاں جاری رہیں گی،جائز کام کے لئے کسی سفارش کی ضرورت نہیں،میرا دفتر عوام کےلئے کھلا ہے، میرے دفتر سمیت تمام تھانوں اور جمعہ میں مساجد کو کھلی کچہریوں کا سلسلہ شروع کیا ہے تا کہ عوام اور پولیس کے مابین روابط میں بہتری آ سکے،صحافی تجاویز دیں عمل کریں گے،جرائم پیشہ عناصر کے لئے لاہور میں اب کوئی جگہ نہیں،جرائم میں شرح کی کمی لاہور پولیس کی مسلسل محنت کا نتیجہ ہے،پولیس امن و امان کے قیام کے لئے قربانیاں دے رہی ہے،لاہور کو محفوظ ترین شہر بنا دیا،دنیا بھی لاہور پولیس کے اقدامات کو تسلیم کر رہی ہے.

    ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران کا مزید کہنا تھا کہ لاہور پولیس شہر میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہے اور ہر قسم کے دباؤ اور پریشر گروپس کو بالائے طاق رکھ کر میرٹ کی بالادستی کو یقینی بنایا جا رہا ہے،لاہور پولیس نے گزشتہ ڈیڑھ سال میں جرائم کے خلاف مثالی کامیابیاں حاصل کی ہیں، جن میں نہ صرف جرائم کی شرح میں نمایاں کمی واقع ہوئی بلکہ منشیات کے خلاف تاریخی کارروائیاں بھی عمل میں لائی گئیں،لاہور پولیس کی کامیابیوں میں پنجاب حکومت اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی واضح پالیسیوں اور مکمل سرپرستی کا کلیدی کردار ہے،انہوں نے آئی جی پولیس پنجاب اور سی سی پی او لاہور کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا، جن کی براہِ راست نگرانی اور رہنمائی سے پولیس کو بہتر نتائج دینے میں مدد ملی۔

    ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے دوران بریفنگ سیف سٹی اتھارٹی کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ رواں سال کے پہلے 8 ماہ میں صرف 17,276 مقدمات رپورٹ ہوئے، جب کہ 2023 میں یہ تعداد 58,014 اور 2022 میں 34,684 تھی، دورانِ ڈکیتی قتل کی وارداتوں میں 65 فیصد کمی آئی ہے۔ رواں سال صرف 6 کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ گزشتہ سال 17 واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔دیگر جرائم میں بھی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، صرف جرائم پیشہ افراد کے خلاف ہی نہیں بلکہ پولیس کے اندرونی نظام میں بھی احتساب کا عمل مزید سخت کیا گیا ہے۔ جو افسران یا اہلکار نااہلی یا غفلت کے مرتکب پائے گئے ان کے خلاف سخت کارروائیاں کی گئیں،لاہور پولیس ہر گزرتے دن کو پچھلے سے بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ جرائم میں مزید کمی لا کر "کرائم فری انڈیکس” میں مزید بہتری لائی جائے گی تاکہ لاہور کو حکومت پنجاب کے وژن کے مطابق "محفوظ اور پُرامن شہر” بنایا جا سکے،اس ضمن میں میڈیا کا کردار انتہائی اہم ہے، میڈیا پولیس کی کارکردگی کو عوام کے سامنے لائے اور ایک پل کا کردار ادا کرے.

  • لاہور پولیس کا کمال،جرائم کی پیش گوئی،روک تھام کیلیے "پنجاب ایمرجنسی اے آئی” سسٹم متعارف

    لاہور پولیس کا کمال،جرائم کی پیش گوئی،روک تھام کیلیے "پنجاب ایمرجنسی اے آئی” سسٹم متعارف

    لاہور پولیس نے جرائم کی پیشگی روک تھام اور مؤثر نگرانی کے لیے جدید آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) پر مبنی سسٹم "پنجاب ایمرجنسی اے آئی” کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ یہ اقدام لاہور کو محفوظ تر بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے، جس کا مقصد شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو مزید مؤثر بنانا ہے۔

    ڈی آئی جی آپریشنز لاہور محمد فیصل کامران نے اس جدید سسٹم کے حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ لاہور میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس کا سہرا پولیس کی جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ حکمت عملی کے سر ہے۔ انہوں نے یہ بات پاکستان فیڈرل کونسل آف کالمسٹ کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔فیصل کامران کا کہنا تھا کہ پنجاب ایمرجنسی اے آئی سسٹم ایک ایسا جدید پلیٹ فارم ہے جو جرائم کی ممکنہ جگہ، وقت اور نوعیت کی پیشگی نشاندہی کرتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے لاہور پولیس متعدد علاقوں میں ڈکیتی، چوری اور دیگر جرائم کو ہونے سے پہلے ہی روکنے میں کامیاب ہوئی ہے،یہ سسٹم مختلف ڈیٹا ذرائع جیسے ماضی کے جرائم، لوکیشن کے رجحانات، جرائم کے اوقات، اور دیگر عوامل کا تجزیہ کرکے ان علاقوں کی نشاندہی کرتا ہے جہاں جرائم کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، ان علاقوں کو "ہاٹ اسپٹس” قرار دے کر پولیس وہاں پہلے سے ہی گشت اور نفری بڑھا دیتی ہے، یہ نیا اے آئی سسٹم لاہور میں "سمارٹ پولیسنگ” کے ایک نئے دور کا آغاز ہے، جہاں فیصلے ڈیٹا بیسڈ اور پیشگی معلومات پر مبنی ہوں گے اس سے پولیس فورس کو جرائم کے خلاف بروقت ردعمل دینے کی صلاحیت میں اضافہ ہو گا،اگرچہ "پنجاب ایمرجنسی اے آئی” کی نشاندہی کی گئی جگہوں پر ہر بار جرائم کا وقوع پذیر ہونا سو فیصد یقینی نہیں ہوتا، لیکن متعدد کیسز میں سسٹم کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر کامیاب کارروائیاں کی گئی ہیں ،لاہور پولیس کا یہ قدم نہ صرف ٹیکنالوجی کے استعمال کی ایک بہترین مثال ہے بلکہ پاکستان میں پیشگی جرائم کنٹرول کے حوالے سے ایک سنگ میل بھی ہے۔ اگر یہ ماڈل کامیابی سے چلتا رہا، تو یہ دیگر شہروں کے لیے بھی ایک قابل تقلید مثال بن سکتا ہے۔

  • بنکاک ائیرپورٹ،پاکستانی شہری پر چینی خاتون کو چھونے کا الزام

    بنکاک ائیرپورٹ،پاکستانی شہری پر چینی خاتون کو چھونے کا الزام

    بنکاک: تھائی لینڈ کے بین الاقوامی ایئرپورٹ پر ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آیا جہاں ایک چینی خاتون مسافر نے الزام لگایا کہ پاکستانی نوجوان نے اسے مبینہ طور پر چھوا ہے۔ واقعے کی ویڈیو سوشل سائٹ "ریڈاٹ” پر شیئر ہوتے ہی تیزی سے وائرل ہوگئی اور سوشل میڈیا صارفین میں شدید بحث چھڑ گئی۔

    تفصیلات کے مطابق، ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ چند مردوں نے ایک پاکستانی نوجوان کو پکڑ رکھا ہے جس دوران چھڑانے کی کوشش میں اس کی شرٹ بھی پھٹ جاتی ہے۔ دوسری جانب چینی خاتون بار بار اپنا الزام دہراتی رہی اور کہتی سنائی دیتی ہے کہ "اس نے میرے جسم کو چھوا ہے، پولیس کو بلاؤ۔”الزام کا نشانہ بننے والے نوجوان نے اپنا نام احسن بتایا اور کہا "میں پاکستانی ہوں، میں نے آپ کو نہیں چھوا۔ اگر آپ کو برا لگا تو معذرت چاہتا ہوں۔”تاہم انگریزی نہ سمجھنے کی وجہ سے وہ بار بار ہاتھ جوڑ کر پولیس نہ بلانے کی درخواست کرتا رہا۔

    چینی خاتون اپنے مؤقف پر ڈٹی رہی اور کہتی رہی کہ اسے تکلیف پہنچی ہے، لہٰذا صرف معافی کافی نہیں۔ ویڈیو کے آخر میں ایئرپورٹ کی سیکیورٹی کو معاملہ سنبھالنے کے لیے مداخلت کرنا پڑتی ہے۔ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ آیا خاتون نے آخرکار معذرت قبول کی یا پاکستانی نوجوان کو پولیس کیس کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم سوشل میڈیا پر اس واقعے نے مختلف آراء کو جنم دیا ہے۔ کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ غیر ملکی ایئرپورٹ پر پاکستانیوں کو خاص احتیاط کرنی چاہیے، جبکہ دیگر کے مطابق بغیر شواہد کے کسی پر الزام لگانا بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔

  • ٹک ٹاک پر فحش مواد،50 سے زائد افراد گرفتار

    ٹک ٹاک پر فحش مواد،50 سے زائد افراد گرفتار

    خیبرپختونخوا پولیس نے سوشل میڈیا پر نازیبا اور فحش ویڈیوز شیئر کرنے والوں کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے جس کے دوران اب تک 50 سے زائد افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان کی جانب سے اپنے اعمال پر شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے ویڈیوز بھی جاری کی گئی ہیں۔

    ایس ایس پی مسعود احمد نے میڈیا کو بتایا کہ پولیس کو عوامی شکایات موصول ہوئیں جن میں کہا گیا کہ کچھ افراد، بالخصوص خواتین اور نوجوان، ٹک ٹاک سمیت دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نازیبا اور فحش مواد پھیلا رہے ہیں۔ ان شکایات پر فوری کارروائی کرتے ہوئے متعدد مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ایس ایس پی کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر اس قسم کے مواد کی اشاعت سے معاشرے میں منفی رجحانات فروغ پاتے ہیں اور نئی نسل پر بھی اس کے برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوام سے اپیل ہے کہ اگر کسی کے پاس ایسے افراد یا گروپس کے بارے میں مزید شواہد یا معلومات ہوں تو پولیس کو فراہم کریں تاکہ ان عناصر کے خلاف مزید سخت کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

    پولیس حکام کے مطابق حراست میں لیے گئے افراد کی نشاندہی کے بعد ان کے موبائل فونز اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے بھی شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کچھ افراد جان بوجھ کر ایسے مواد کو وائرل کرتے تھے تاکہ زیادہ سے زیادہ فالوورز اور شہرت حاصل کر سکیں۔ایس ایس پی مسعود احمد نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ خیبرپختونخوا میں اس طرح کی فحاشی اور بے حیائی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور معاشرتی اقدار کو داغدار کرنے والے افراد کو قانون کے مطابق سخت سزائیں دی جائیں گی۔