Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • مودی کی 75 ویں سالگرہ،مبشر لقمان نے بی جے پی ،آرایس ایس اختلافات کو کیا بے نقاب

    مودی کی 75 ویں سالگرہ،مبشر لقمان نے بی جے پی ،آرایس ایس اختلافات کو کیا بے نقاب

    سینئر صحافی و اینکر پرسن،پروگرام کھرا سچ کے میزبان مبشر لقمان نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی 75 ویں سالگرہ پر بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی اور آر ایس ایس کے اندرونی اختلافات کو بے نقاب کیا ہے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آر ایس ایس اور بی جے پی کی ایک روایت ہے کہ ان کے بڑے رہنما 75 سال کی عمر میں عہدہ چھوڑ دیتے ہیں۔ آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے 9 جولائی کو یہ بات کھلے عام کہی تھی کہ اس روایت پر عمل کیا جانا چاہیے۔ تاہم نریندر مودی اپنی پوزیشن پر قائم رہنے کے خواہاں ہیں اور یہی وجہ ہے کہ پارٹی کے اندر کشیدگی اور اختلافات جنم لے رہے ہیں،’اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا مودی اپنی ضد پر قائم رہ کر پارٹی کو تقسیم کی طرف لے جائیں گے اور بھارت کو مزید مسائل میں دھکیلیں گے یا پھر سیاسی دباؤ کے سامنے جھکیں گے؟ اس کا جواب صرف وقت دے گا

    مبشر لقمان نے نریندر مودی کی سالگرہ کے حوالے سے ایک اور پہلو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ 17 ستمبر کو ہی متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے بانی الطاف حسین کی سالگرہ بھی آتی ہے،مودی اور الطاف حسین دونوں ہی جھوٹ اور فریب کے علمبردار، سخت گیر نظریات کے پیروکار اور انسانیت دشمن رویوں کے حامل رہنما ہیں، 17 ستمبر کو پیدا ہونے والی ایک اور اہم شخصیت سابق اسرائیلی صدر چیم ہرتزوگ بھی ہیں، جو 1983 سے 1993 تک اسرائیل کے صدر رہے۔ وہ موجودہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے سیاسی سرپرست تھے، جب کہ ان کے صاحبزادے اسحاق ہرتزوگ آج اسرائیل کے صدر ہیں۔

  • راولپنڈی میں 50 سالہ خاتون کو  مٹی کا تیل چھڑک کر زندہ جلا دیا گیا

    راولپنڈی میں 50 سالہ خاتون کو مٹی کا تیل چھڑک کر زندہ جلا دیا گیا

    راولپنڈی میں 50 سالہ خاتون کو مبینہ طور پر ان کے دیور نے مٹی کا تیل چھڑک کر زندہ جلا دیا پولیس نے ملزم کو گرفتار کر کے اس کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے،

    ابتدائی طور پر ملزم نے دعویٰ کیا کہ واقعہ کمپریسر پھٹنے سے پیش آیا، تاہم پولیس کی تحقیقات کے بعد انکشاف ہوا کہ 2 روز قبل دھمیال میں خاتون کو آگ لگا کر جلایا گیا تھا،واقعے کی اطلاع ملنے پر سٹی پولیس افسر (سی پی او) سید خالد حمدانی نے نوٹس لیا اور فوری طور پر مقدمہ درج کرنے اور ملزم کو گرفتار کرنے کا حکم دیا، مقتولہ کے دیور کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہونے پر رپورٹ میں قتل کی دفعہ شامل کر دی گئی ہے،قائداعظم کالونی دھمیال کے رہائشی 23 سالہ محمد شہزاد احمد بھٹی نے فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کرائی، انہوں نے بیان دیا کہ وہ کام پر تھے جب انہیں اپنے چچا کی کال موصول ہوئی، جس میں بتایا گیا کہ ان کی والدہ کمپریسر پھٹنے کے باعث جل گئی ہیں۔

  • زبانِ سیاست یا زہرِ دشمن،تحریر:یوسف صدیقی

    زبانِ سیاست یا زہرِ دشمن،تحریر:یوسف صدیقی

    عمران خان کا حالیہ بیان ملاحظہ کیجیے:
    "سب سے پہلے افغان حکومت کو سنگین دھمکیاں دی گئیں، پھر مذہبی، اخلاقی اور پناہ گزینوں کے عالمی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تین نسلوں سے پاکستان میں مقیم افغان بھائیوں کو دھکے دے کر ملک سے نکالا گیا۔ اس کے بعد افغانستان کی سرزمین پر حملے کیے گئے اور اب یہ کہہ کر کہ ‘دہشت گرد آ گئے ہیں’ قبائلی علاقوں میں آپریشن لانچ کر دیے گئے۔ ان پالیسیوں کی وجہ سے ہر جانب ہمارے ہی لوگ شہید ہو رہے ہیں۔ پولیس اہلکار، فوجی اور عام بے گناہ لوگ جو شہید ہو رہے ہیں سب ہمارے اپنے ہیں۔ اس طرز عمل سے کبھی امن قائم نہیں ہوتا، پائیدار امن ہمیشہ بات چیت سے قائم ہوتا ہے۔

    افغانوں اور قبائلی عوام کے ساتھ بھی 9/11 کی طرز پر ہی ایک فالس فلیگ رچایا جا رہا ہے۔ جب سے عاصم منیر کو چارج ملا ہے، افغانستان کے ساتھ تعلقات جان بوجھ کر بگاڑے جا رہے ہیں اور انہیں مسلسل پاکستان سے جنگ شروع کرنے پر اکسايا جا رہا ہے تاکہ موجودہ افغان حکومت کی مخالفت الی کو خوش کیا جا سکے اور مغرب کے سامنے ایک ‘نجات دہندہ’ بننے کی کوشش کی جائے۔”

    یہ الفاظ پڑھ کر میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ
    عمران خان کی زبان ایک سنجیدہ قومی رہنما کی بجائے ایک مایوس سیاستدان کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اقتدار سے محرومی کے بعد وہ اپنی ناکامیوں کا ملبہ ریاستی اداروں پر ڈالنے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ ناقدین کے مطابق یہ رویہ قوم میں جھگڑا اور بے اعتمادی بڑھانے والا ہے، جبکہ مسئلے کے حل کی طرف توجہ کم ہے۔

    افغان مہاجرین کا مسئلہ پیچیدہ ہے۔ پاکستان نے چار دہائیوں تک افغانوں کو پناہ دی؛ یہ خاندان یہاں بس گئے، یہاں کے معاشرے کا حصہ بنے۔ مگر اسی عرصے میں کچھ کیمپوں اور بستیوں میں منشیات، اسمگلنگ اور چھوٹے جرائم کے نیٹ ورک بھی ابھرے۔ سرکاری رپورٹس اور بعض عدالتی فیصلوں نے یہ بات اجاگر کی کہ شناختی دستاویزات کے معاملے میں بے ضابطگیاں ہوئیں۔ یہ حقائق عوام کے تحفظ کے سوالات کو جُھٹلا نہیں سکتے۔

    سوال بنیادی ہے: جب کسی ملک کے شہریوں کی جان و مال خطرے میں ہو تو ریاست کی ذمہ داری کیا ہو گی؟ کیا حکومت اپنے شہریوں کی حفاظت ترک کر کے غیر محدود پالیسی اختیار کرے؟ یہ اخلاقی اور سیاسی بحث جذباتی ہمدردی سے علیحدہ ہو کر ترتیب سے ہونی چاہیے۔ جب کوئی سابق وزیراعظم مہاجرین کے دفاع میں کھڑا ہوتا ہے تو اسے ریاست کی بنیادی ذمہ داری — عوام کی حفاظت — کو بھی مدِ نظر رکھنا چاہیے۔

    "فالس فلیگ” کا الزام سنگین ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات دشمن قوتوں کے پروپیگنڈے کو تقویت دیتے ہیں۔ پاکستان کی فوج اور پولیس نے ملک کے مختلف حصوں میں دہشت گردی کے خلاف سخت قربانیاں دیں۔ سوات، وزیرستان، بلوچستان اور کراچی کے محاذوں پر سینکڑوں جوان اور افسران نے جانیں دیں۔ یہ سب قربانیاں محض کوئی ڈرامہ نہیں ہو سکتیں۔ ایسے الزامات شہداء کے اہلِ خانہ کے لیے تکلیف کا باعث بنتے ہیں اور قومی جذبہ متاثر ہوتا ہے۔

    قابلِ توجہ یہ بھی ہے کہ قبائلی علاقوں میں آپریشنز کے دوران جانی نقصان ہوا۔ یہ ایک تکلیف دہ حقیقت ہے۔ مگر سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ اگر دہشت گرد دوبارہ آزادانہ انداز میں قدم جما لیں تو ریاست کا ردِ عمل کیا ہوگا؟ ماضی میں بعض مذاکراتی تجربات نے یہ دکھایا کہ عبوری مفاہمت کے بعد کچھ گروہیں دوبارہ طاقت پکڑ گئیں۔ اسکول، پولیس چوکیوں اور عام شہریوں پر حملوں کی قیمت ہمیشہ عام آدمی نے ادا کی ہے۔ کیا ہم وہی خطرہ دہرانا چاہتے ہیں؟

    جنرل عاصم منیر کے حوالے سے جو الفاظ استعمال کیے گئے، وہ ایک اور حساس موضوع ہیں۔ پالیسی پر تنقید جمہوریت کا حصہ ہو سکتی ہے، مگر فوج کی نیت پر براہِ راست شبہات اٹھانا انتہائی نازک امر ہے۔ ناقدین کے نزدیک اس قسم کے الزامات اداروں اور عوام کے درمیان دراڑ پیدا کر سکتے ہیں۔ پالیسیوں کی شفافیت پر سوال اٹھائیں، شواہد مانگیں، مگر ایسے بیانات جو اداروں کی نیت کو مشکوک کریں، ان کے نتائج سنجیدہ ہو سکتے ہیں۔

    ایک بات سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ عمران خان اکثر اپنی سیاسی ناکامیوں کا ملبہ فوج یا اداروں پر ڈالتے آئے ہیں۔ ان کے دورِ اقتدار میں اقتصادی مشکلات، مہنگائی اور گورننس کے مسائل واضح رہے۔ جب وہ اقتدار میں تھے تو کئی چیلنجز کا حل فراہم کرنے میں ناکام رہے؛ اب جب وہ جیل میں ہیں تو ہر مسئلے کا ذمہ دار ادارہ قرار دینا آسانی بن گیا ہے۔ یہ بیانیہ کسی قومی رہنما کے بجائے ذاتی انا کی عکاسی کرتا دکھائی دیتا ہے، جس کے منفی نتائج طویل المدت ہوتے ہیں۔

    بار بار یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ پالیسیاں "مغرب کو خوش کرنے” کے لیے بنائی جا رہی ہیں۔ دشمن ممالک اسی طرزِ بیان کے ذریعے پاکستان کو کمزور یا کنٹرولڈ دکھانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ کسی معتبر سیاستدان کے منہ سے اس بیانیے کی تکرار، ناقدین کے نزدیک، ملکی ساکھ کو نقصان پہنچاتی ہے اور بین الاقوامی سطح پر غلط تاثر پیدا کرتی ہے۔قوم کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ اسے کس سیاسی قیادت پر اعتماد کرنا چاہیے۔ کیا وہ ایسے لیڈر کو برداشت کرے گی جو ہر مسئلے کا ذمہ دار ریاستی اداروں کو ٹھہراتا ہے؟ کیا وہ ایسے بیانات قبول کرے گی جو اداروں اور عوام کے درمیان شکوک و شبہات کو ہوا دیں؟ پاکستان کی سلامتی کسی فرد یا سیاسی جماعت سے بڑی ہے۔ ادارے مضبوط رہیں تو ریاست مضبوط رہے گی؛ اور مضبوط ریاستی ادارے ہی ملک کو درپیش خطرات سے نبردآزما رہ سکتے ہیں۔

  • وزیر اعظم سرکاری دورے پر سعودی عرب روانہ

    وزیر اعظم سرکاری دورے پر سعودی عرب روانہ

    ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی دعوت پر وزیراعظم محمد شہباز شریف مملکت سعودی عرب کے سرکاری دورے پر اسلام آباد سے ریاض کیلئے روانہ ہو گئے،

    نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف، وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب، وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ ، وفاقی وزیر ماحولیات مصدق ملک اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی وزیرِ اعظم کے ہمراہ ہیں. دورے کے دوران وزیراعظم سعودی ولی عہد سے ملاقات کریں گے جس میں پاکستان سعودی عرب تعلقات کے تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ دونوں رہنما باہمی دلچسپی کی علاقائی اور عالمی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔

  • وزیر اعظم   کا پاکستان ٹی وی ڈیجیٹل  کا دورہ ،انگریزی چینل کا افتتاح

    وزیر اعظم کا پاکستان ٹی وی ڈیجیٹل کا دورہ ،انگریزی چینل کا افتتاح

    وزیر اعظم نے پاکستان ٹیلیویژن میں قائم کردہ پاکستان ٹی وی ڈیجیٹل کے قیام کی تختی کی نقاب کشائی کی اور بعد ازاں ڈیجیٹل چینل کی باقاعدہ نشریات کے آغاز کا افتتاح بھی کیا.

    اس موقع پر وزیر اطلاعات و نشریات عطاللہ تارڑ اور سیکرٹری اطلاعات عنبرین جان اور دیگر اعلی حکام موجود تھے.وزیر اعظم نے نئے چینل کے مختلف سیکشن کا دورہ بھی کیا، وہاں کام کرنے والے نوجوانوں سے بات چیت کی. وزیر اعظم نے نوجوانوں کے جذبے کی تعریف کی اور کہا کہ بیرونی بیانیہ کی جنگ میں انکا کردار انتہائی اہم ہے. اس ڈیجیٹل چینل کے آغاز کا بنیادی مقصد مسلسل حقیقی خبریں فراہم کرتے ہوئے پاکستان کے بارے میں ہونے والی غلط بیانی اور پروپیگنڈے کا مؤثر جواب دینا ہے۔

    وزیر اعظم نے پاکستان ٹی وی ڈیجیٹل کی نشریات کے لیے اپنا پہلا انٹرویو بھی ریکارڈ کروایا.افتتاح کے موقع پر وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے وزیر اعظم کو پاکستان ٹی وی ڈیجیٹل کے اغراض و مقاصد سے آگاہ کیا.انھوں نے بتایا کہ پاکستان ٹی وی ڈیجیٹل عالمی سامعین کو پاکستان کے لیے ایک فعال اور مستند آواز فراہم کرنے، معلومات کے فرق کو ختم کرنے اور عوامی سفارت کاری کے لیے انگریزی زبان کے ایک پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گا۔ پلیٹ فارم کا اسٹریٹجک مقصد پاکستان کی جانب سے دنیا سے بات کرنا اور سب سے پہلے اپنی خبر پہنچانا ہے. یہ تمام خبریں اور معلومات پاکستان کے حوالے سے اہم امور کا احاطہ کریں گی جیسے کہ بین الاقوامی امور، ثقافتی بصیرت، اور اقتصادی پیش رفت اور تجزیے، یہ سب ایک منفرد پاکستانی تناظر کے ساتھ پیش کیے جائیں گے۔

    ایک مستعد پروڈکشن ورک فلو کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ اندرون ملک رپورٹنگ کو مربوط کرے گا جبکہ فری لانسرز کا ایک عالمی نیٹ ورک اور Reuters اور Associated Press (AP) جیسی معروف وائر سروسز کے ساتھ شراکت داری، پاکستان ٹی وی ڈیجیٹل کی ریئیل ٹائم، تصدیق شدہ اور اعلیٰ معیار کی کوریج کو یقینی بنائے گا۔
    مغربی و بھارتی اثر زدہ علاقائی میڈیا میں جاری یک طرفہ بیانیے کا توڑ کرے گا۔وزیر اطلاعات نے کہا کی پاکستان ڈیجیٹل ٹی وی بڑی خبروں کا مرکز ہے۔ جیسا کہ وہ ایک پاکستانی زاویے سے دیکھی جاتی ہیں۔

  • بنوں کے 23 ماہی گیر عمان کے سمندر میں حادثے کا شکار

    بنوں کے 23 ماہی گیر عمان کے سمندر میں حادثے کا شکار

    بنوں کے علاقے خوجڑی کے 23 ماہی گیر عمان کی سمندری حدود میں حادثے کا شکار ہوگئے، جن میں سے ایک کو زندہ بچا لیا گیا ہے جبکہ 22 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق یہ ماہی گیر 6 ستمبر کو گوادر سے لانچ پر مچھلیاں پکڑنے کے لیے عمان گئے تھے۔ حادثہ اس وقت پیش آیا جب لانچ کے کمپریسر میں اچانک آگ بھڑک اٹھی جس نے پوری کشتی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس دوران قریبی بحری جہاز کے عملے نے ایک ماہی گیر کو زندہ بچالیا تاہم باقی 22 افراد کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔بنوں سے رکنِ قومی اسمبلی مولانا نسیم علی شاہ نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ حادثے کے بعد سے لاپتہ ماہی گیروں کی تلاش جاری ہے۔ انہوں نے حکومت پاکستان سے اپیل کی کہ عمانی حکام کے ساتھ فوری رابطہ کرکے لاپتہ افراد کو تلاش کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

    دوسری جانب ماہی گیروں کے اہل خانہ شدید کرب اور بے چینی میں مبتلا ہیں۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ عمان میں پاکستانی سفارت خانے سے مسلسل رابطہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن تاحال کوئی مدد یا تسلی بخش جواب نہیں ملا۔ متاثرہ خاندانوں نے حکومت پاکستان اور عمانی حکومت سے اپیل کی ہے کہ فوری طور پر سرچ آپریشن شروع کرکے ان کے پیاروں کو تلاش کیا جائے۔

  • ایران،رہائشی عمارت میں خوفناک دھماکہ،6 افراد کی موت

    ایران،رہائشی عمارت میں خوفناک دھماکہ،6 افراد کی موت

    ایرانی شہر اہواز میں ایک رہائشی عمارت میں خوفناک گیس دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 6 افراد جاں بحق ہوگئے۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق دھماکا پیر کی صبح اس وقت ہوا جب عمارت کے اندر گیس لیک ہونے کے باعث اچانک آگ بھڑک اٹھی اور زوردار دھماکے سے پوری عمارت زمین بوس ہوگئی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دھماکے سے قریبی عمارتوں کی کھڑکیاں ٹوٹ گئیں جبکہ آس پاس کھڑی کئی گاڑیاں بھی متاثر ہوئیں۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی جس کے باعث علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ریسکیو اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچ گئیں اور ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں شروع کردیں۔ اب تک ملبے سے 6 لاشیں نکالی جاچکی ہیں جبکہ متعدد افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

    حکام کے مطابق زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں کچھ کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ دھماکے کے بعد عمارت مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہے اور ملبہ ہٹانے کا عمل جاری ہے۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق واقعہ گیس لیکج کے باعث پیش آیا تاہم ایرانی حکام نے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے تاکہ دھماکے کی اصل وجوہات سامنے آسکیں۔علاقے کو سیکیورٹی اداروں نے گھیرے میں لے لیا ہے اور حادثے سے متاثرہ مقام پر عام شہریوں کے داخلے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔

  • تربت،کیش وین سے ڈاکو 22 کروڑ لوٹ کر فرار

    تربت،کیش وین سے ڈاکو 22 کروڑ لوٹ کر فرار

    بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے تربت میں نامعلوم مسلح افراد نے نجی سیکیورٹی کمپنی کی کیش وین کو لوٹ لیا، جس کے نتیجے میں 22 کروڑ روپے سے زائد کی خطیر رقم ڈاکو اپنے ساتھ لے کر فرار ہوگئے۔

    تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ تربت کے نواحی علاقے دشت کے قریب تربت-گوادر شاہراہ پر پیش آیا، جہاں نجی سیکیورٹی کمپنی کی وین 2 نجی بینکوں کا کیش لے کر تربت سے گوادر جا رہی تھی۔ اسی دوران متعدد مسلح افراد نے وین کو اسلحے کے زور پر روک لیا،لیویز حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان نے عملے کو یرغمال بنا کر وین میں موجود کیش پر قبضہ کیا اور بھاری رقم لوٹنے کے بعد موقع سے فرار ہوگئے۔ حکام کے مطابق وین میں 22 کروڑ روپے سے زائد رقم موجود تھی جسے ڈاکو ساتھ لے گئے۔واقعے کے بعد لیویز فورس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کی ناکا بندی کر کے ملزمان کی تلاش شروع کردی گئی ہے۔ تاہم تاحال کسی گرفتاری یا برآمدگی کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

    حکام نے مزید بتایا کہ معاملے کی تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے جبکہ قریبی علاقوں میں سرچ آپریشن بھی شروع کردیا گیا ہے۔ تربت اور گوادر کے درمیان اہم شاہراہ پر دن دہاڑے ہونے والی اس بڑی ڈکیتی نے شہریوں اور کاروباری حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔

  • کچا ڈوب گیا ،ڈاکو باہر آئے ہوں گے،آپریشن تیز کیا جائے،وزیراعلیٰ سندھ

    کچا ڈوب گیا ،ڈاکو باہر آئے ہوں گے،آپریشن تیز کیا جائے،وزیراعلیٰ سندھ

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن مزید تیز کرنے کے احکامات جاری کردیے۔

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر قیادت کچے کے علاقوں میں آپریشن سے متعلق اجلاس ہوا۔ جس میں صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، چیف سیکرٹری آصف حیدر شاہ، آئی جی پولیس غلام نبی میمن، سیکرٹری داخلہ اقبال میمن اور دیگر نے شرکت کی،اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت کی کہ کچا ڈوب گیا ہے اور قانون شکن کچے سے باہر آئے ہوں گے، ان کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن مزید تیز کیے جائیں۔

    وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار اور انسپکٹر جنرل پولیس غلام نبی میمن نے بریفنگ میں بتایا کہ اکتوبر 2024ء سے ٹیکنالوجی کے ذریعے کچے میں آپریشن تیز کیا گیا اور انٹیلی جنس کی بنیاد پر 760 ٹارگٹڈ آپریشن اور 352 سرچ آپریشن کیے ہیں، آپریشن میں مارے گئے ڈکیت میں 10 سکھر، 14 گھوٹکی، 46 کشمور اور 89 شکارپور کے شامل ہیں۔ 823 ڈکیتوں کو گرفتار کیا اور 8 اشتہاری ڈکیت مارے گئے۔ آپریشن کے دوران 962 مختلف نوعیت کے ہتھیار برآمد کیے گئے۔

    وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ کچے کے علاقوں میں ترقیاتی کاموں کا منصوبہ بنائیں۔انہوں نے چیف سیکرٹری کو ہدایت کی کہ کچے میں سڑکیں، اسکول، اسپتال، ڈسپنسری اور ٹرانسپورٹ کی سہولیات فراہم کی جائیں۔

  • سیلابی صورتحال، نقصانات کا تفصیلی تخمینہ لگائیں ،وزیراعظم

    سیلابی صورتحال، نقصانات کا تفصیلی تخمینہ لگائیں ،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کے زیر صدارت شدید بارشوں اور حالیہ سیلاب کے پیش نظر ملک بھر میں نقصانات کے ازالے کے لیے جائزہ اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے تمام متعلقہ اداروں کو سیلاب اور بارش زدہ علاقوں میں جانی و مالی نقصانات اور فصلوں، ذرائع مواصلات اور لائف سٹاک میں ہونے والے نقصانات کا جامع اور حقیقت پسندانہ تخمینہ لگانے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس موقع پر کہا کہ مکمل تخمینے کے بعد ہی حکومت بحالی کے کاموں کی جامع حکمت عملی مرتب دے گی تاکہ موثر انداز میں متاثرہ علاقوں اور لوگوں کی بحالی پر کام کیا جا سکے۔ وزیراعظم نے تمام وفاقی اور متعلقہ صوبائی اداروں کو باہمی ہم آہنگی اور بھرپور تعاون سے کام کرنے کی ہدایت کی. اجلاس میں وزیراعظم کو چیئرمین این ڈی ایم اے سمیت دیگر متعلقہ اداروں کی طرف سے سیلابی صورتحال میں اب تک کیے جانے والے تعمیر و بحالی کے کاموں پر بریفنگ دی گئی۔ وزیر اعظم کو بتایا گیا کی گنے، کپاس اور چاول کی فصلوں کے نقصانات کے تخمینے پر کام کا آغاز کر دیا گیا ہے، اور آئندہ دس سے پندرہ دنوں پانی کی مقدار کم ہونے پر اس پر کام مکمل کرلیا جائے گا.

    اجلاس میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک، وفاقی وزیر برائے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ احسن اقبال، وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وفاقی وزیر برائے اکنامک افیئرز ڈیویژن احد خان چیمہ، تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز، چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک اور دیگر متعلقہ سرکاری اداروں کے عہدے داران نے شرکت کی