Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • سیلاب اور مرکزی مسلم لیگ کاریسکیو و ریلیف آپریشن

    سیلاب اور مرکزی مسلم لیگ کاریسکیو و ریلیف آپریشن

    قدرتی آفات انسان کے لیے نہ صرف آزمائش ہوتی ہیں بلکہ اس کے صبر، حوصلے اور قربانی کے جذبے کی کسوٹی بھی، جب بادل پھٹتے ہیں، ندی نالے دریا بن جاتے ہیں، پہاڑوں سے گرتا پانی بستیاں بہا لے جاتا ہے، تو زمین پر انسان کی فانی حیثیت کا منظرنامہ آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے۔ کچھ ایسا ہی عالم رواں برس خیبر پختونخوا کےعلاقوں باجوڑ، بونیر، سوات، مینگورہ، گلگت اور سکردو میں دیکھنے کو ملا، جہاں شدید سیلاب نے قیامت صغریٰ برپا کر دی،یہ وہ لمحے ہوتے ہیں جب انسانیت، بھائی چارے، اور خدمت خلق کے جذبے کی حقیقی روح سامنے آتی ہے ،پاکستان مرکزی مسلم لیگ اپنے منشور خدمت کی سیاست کو عملی جامہ پہناتے ہوئے 15 اگست سے سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہے.خدمتِ خلق مرکزی مسلم لیگ کے چیئرمین، شفیق الرحمان وڑائچ، بونیر میں آنے والے ہولناک سیلاب کی اطلاع ملتے ہی مرکزی مسلم لیگ خیبر پختونخوا کے صدر عارف اللہ خٹک کے ہمراہ فوری متاثرہ علاقے پہنچےاورحالات کا باریک بینی سے جائزہ لیا اورمرکزی قیادت کو نقصانات پر بریفنگ دی۔مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو ، سیکرٹری جنرل سیف اللہ قصوری،نائب صدر حافظ طلحہ سعید،سیکرٹری قاری محمد یعقوب شیخ اور پنجاب کے صدر محمد سرور چوہدری کی ہدایت پر لاہور ،اسلام آباد،فیصل آباد،راولپنڈی، گوجرانوالہ، شیخوپورہ، سیالکوٹ اور پنجاب کے دیگر اضلاع جبکہ فیصل ندیم کی ہدایت پر کراچی ،حیدرآباد اور دیگر شہروں سے مرکزی مسلم لیگ کے رہنما اور رضاکار انصارکا کردار نبھاتے ہوئے، سیلاب سے متاثرہ خیبر پختونخوا کے علاقوں میں پہنچے۔ جہاں انہوں نے ریسکیو اور ریلیف آپریشن میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، انسانیت کی خدمت کو اپنا شعار بنایا اور مصیبت کی گھڑی میں متاثرین کے زخموں پر مرہم رکھا،گھروں کی صفائی کی، کیچڑ نکالا،متاثرین کے گھروں تک کھانا پہنچایا، مرکزی مسلم لیگ کی مرکزی، صوبائی قیادت محمد سرور چوہدری، حمید الحسن، انجینئر حارث ڈار، حافظ یاور آفتاب،عمران لیاقت بھٹی،عبدالغفار منصور،شیخ فیاض احمد،احسان اللہ منصور،فیصل ندیم،انس محصی،عبدالغفار،انس و دیگر بھی سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریسکیو و ریلیف آپریشن کے لیے پہنچے،مرکزی مسلم لیگ لاہور کے سیکرٹری جنرل مزمل اقبال ہاشمی،فیصل آباد کے سیکرٹری جنرل احسن تارڑ،راولپنڈی کے انجینئر مبین صدیقی، گوجرانوالہ کے محمد راشد سندھو،کراچی سے مرکزی مسلم لیگ کراچی کے صدر احمد ندیم اعوان،حیدر آبار سے عقیل لغاری و دیگر مرکزی مسلم لیگ کے رضاکاروں کے ہمراہ ریسکیو و ریلیف آپریشن میں مصروف رہے.

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی جانب سےخیبر پختونخوا ،گلگت کے سیلاب متاثرہ علاقوں باجوڑ، بونیر، مینگورہ، سوات، اورگلگت،سکردو میں مجموعی طور پر 25 ہزار سے زائد خاندانوں میں خشک راشن تقسیم کیا جا چکا ہے، مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے 7 لاکھ سے زائد افراد میں پکا پکایاکھانا تقسیم کیاگیا ہے ،مرکزی مسلم لیگ کی 32میڈیکل ٹیمیں،250ڈاکٹر، پیرا میڈیکل سٹاف خدمت میں مصروف ہیں،مرکزی مسلم لیگ کے 450 میڈیکل کیمپوں میں6 لاکھ سے زائد مریضوں کا علاج معالجہ کیا جا چکا ہے،سیلاب متاثرین میں 30 ہزار سے زائد بستر،چار ہزار مچھر دانیاں، آٹھ ہزار گھروں میں برتن تقسیم کئے گئے ہیں،مرکزی مسلم لیگ کے رضاکاروں نے 2000 سے زائد گھروں کا ملبہ صاف کر دیا گیا،مرکزی مسلم لیگ نے گھروں کی صفائی کیلیے مرکزی مسلم لیگ نے 6000 بیلچے،4000 ہاتھ ٹرالی تقسیم کر دی،گلگت بلتستان کے دوردراز علاقوں میں سیلاب سے تباہی ہوئی، مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم گلگت پہنچے، مرکزی مسلم لیگ گلگت کے رہنما مقصود حسین سندھو، عبدالرشید ترابی بھی متاثرہ علاقوں میں خدمت انسانیت میں مصروف رہے، خشک راشن ،خوراک کی تقسیم کے علاوہ گلگت میں ایک لاکھ فٹ پانی کا پائپ منگوا کر دے دیا،غذر میں مصنوعی جھیل بننے سے راستوں کی بندش ہوئی تو فری بوٹ سروس بھی شروع کی گئی،مرکزی مسلم لیگ کراچی کی جانب سے گلگت کے متاثرین کے لئے امداد کی خصوصی کھیپ پہنچائی گئی،

    بھارتی آبی جارحیت کے نتیجے میں پنجاب کے 25 اضلاع سیلاب سے متاثر ہوئے،پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار ریسکیو و ریلیف آپریشن کے لئے پنجاب بھر میں متحرک ہیں، پنجاب میں سیلاب آیا تو خیبر پختونخوا کے مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار پیچھے نہ رہے، پنجاب کے سیلاب متاثرہ اضلاع میں 86 ہزار سے زائد شہریوں کو کشتی سروس کے ذریعے ریسکیو کیا گیا،25 لاکھ 40 ہزار سے زائد افراد میں پکی پکائی خوراک تقسیم کی جا چکی ہے، میڈیکل کیمپوں میں19 لاکھ 40ہزار سے زائد مریضوں کا علاج معالجہ کیا جا چکا ہے،46 ہزار سے زائد خاندانوں میں خشک راشن تقسیم کیا جا چکا ہے،سیلاب متاثرہ تمام اضلاع میں کشتی سروس جاری ہے .بہاولپور،اوکاڑہ، مظفر گڑھ، جلال پور پیر والا،ملتان میں بھی خیمہ بستیاں قائم کی گئی ہیں،چیئرمین خدمت خلق مرکزی مسلم لیگ شفیق الرحمان وڑائچ امدادی کاموں کی نگرانی کر رہے ہیں،لاہور،قصور،سیالکوٹ، ننکانہ، چنیوٹ، شیخوپورہ، سرگودھا، پنڈی بھٹیاں، وزیرآباد، نارووال،جہلم،اوکاڑہ،بہاولپور، بہاولنگر، حافظ آباد،منڈی بہاؤالدین، گجرات، ساہیوال، ملتان،جھنگ،مظفر گڑھ،بوریوالہ،پاکپتن،گوجرانوالہ،ٹوبہ ٹیک سنگھ میں مرکزی مسلم لیگ کے 10 ہزار سے زائد ریسکیو و ریلیف آپریشن میں مصروف عمل ہیں، سیلاب متاثرین ،انکے سامان، جانوروں کو کشتیوں کے ذریعے ریسکیو کیا جا رہا ہے جبکہ متاثرین میں پکی پکائی خوراک کی تقسیم کا عمل بھی جاری ہے

    مرکزی مسلم لیگ کی سیلاب متاثرہ اضلاع میں 14 خیمہ بستیاں قائم ہیں،مرکز ی مسلم لیگ کی خیمہ بستیوں میں24 ہزار سے زائد افراد مقیم ہیں، خیمہ بستیوں میں میڈیکل کیمپ بھی قائم ، مریضوں کا مفت علاج معالجہ کیا جا رہا ہے،جلال پور پیروالا میں خیمہ بستی سیلابی پانی کی زد میں آ گئی، لاہور،قصور،بہاولپور،مظفر گڑھ،ملتان، لودھراں، جلال پور پیروالا سمیت 14 خیمہ بستیاں قائم کی گئی ہیں،مرکزی مسلم لیگ کی خیمہ بستیوں میں خواتین ،بچے بھی مقیم،تین وقت کا کھانا فراہم کیا جا رہا ہے،لاہور کی خیم بستی میں بچوں کے لئے سکول بھی قائم،خواتین کے لئے الگ واش رومز بناے گئے ہیں،مرکزی مسلم لیگ کی خیمہ بستیوں میں نماز کی ادائیگی کے لئے مساجدبھی قائم کی گئی ہیں، خیمہ بستیوں‌میں مقیم بچوں میں مسلم سٹوڈنٹس لیگ کی جانب سے گفٹ بھی تقسیم کئے گئے ہیں،موہلنوال کی خیمہ بستی میں 5 بچوں کی پیدائش ،مٹھائی تقسیم کی گئی،مسلم ویمن لیگ کی جانب سے خیمہ بستی میں خواتین میں کپڑے و دیگر اشیا بھی تقسیم کی گئیں،جلال پور پیر والا ،مرکزی مسلم لیگ کی خیمہ سٹی کوسیلاب نے اپنی لپیٹ میں لے لیا،سینکڑوں خیموں پر مشتمل خیمہ بستی مکمل طور پر پانی میں ڈوب گئی۔مرکزی مسلم لیگ کے رضاکاروں نےمتاثرہ خاندانوں کو بروقت محفوظ‌مقام پر منتقل کر دیا،مسلم ویمن لیگ کی جانب سے سیلاب متاثرین کو ریسکیو کرنے کے لئے دو کشتیاں خدمت خلق کے حوالے کر دیں،مولانا طارق جمیل فاؤنڈیشن نے بھی کشتیاں مرکزی مسلم لیگ کے رضاکاروں کے حوالے کیں.

    دریائے سندھ میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافے کے باعث مرکزی مسلم لیگ نے ریسکیو آپریشن مزید تیز کردیا ہے۔ متعدد متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔مرکزی مسلم لیگ سندھ کے رضاکاروں نے گھوٹکی کے علاقے امیر بخش چاچڑ گوٹھ، لوپ بند اور کچے کے مختلف دیہات سے ہندو کمیونٹی سمیت درجنوں خاندانوں کو ریسکیو کرکے محفوظ مقامات تک پہنچایا۔مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے اس وقت گڈو، کشمور، گھوٹکی، منڈو دیرو، روہڑی اور دریائے سندھ کے دیگر متاثرہ مقامات پر ریسکیو کے ساتھ ساتھ ریلیف سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔ کچے کے علاقوں میں میڈیکل کیمپ قائم کرکے متاثرین کو علاج معالجے اور ادویات کی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔مرکزی مسلم لیگ کا کہنا ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں کسی بھی خاندان کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور ریلیف آپریشن بھرپور انداز میں جاری رکھا جائے گا

    مسلم اسٹوڈنٹس لیگ بھی سیلاب متاثرہ علاقوں میں متحرک ہے، مسلم سٹوڈنٹس لیگ نے سیلاب متاثرین کی خیمہ بستیوں لاہور، باجوڑ،بہاولپور میں مددگار اسکول قائم کر دیئے ہیں،سیلا ب متاثرہ بچوں‌کو سکولوں میں تعلیم دی جا رہی ہے، مسلم سٹوڈنٹس لیگ کی جانب سے سکولوں میں زیر تعلیم بچوں کو سکول بیگ، کتابیں، کاپیاں تحفتا دی گئی ہیں، مسلم سٹوڈنٹس لیگ کی مددگار ٹیم نے لاہور،موہلنوال میں خیمہ بستی میں سکول کے بعد باجوڑ خیبر پختونخواہ میں مددگار سکول قائم کیا جس کی افتتاحی تقریب میں اسسٹنٹ کمشنر خار باجوڑ کلیم جان، صدر مسلم سٹوڈنٹس لیگ انس محصی، جنرل سیکرٹری ایم ایس ایل عمر عباس، صدر مددگار ٹیم حماد عبدالرزاق، کو آڈینیٹر ایم ایس ایل کے پی کے معاویہ اعجاز اور دیگر معزز شخصیات نے خصوصی شرکت کی۔اس موقع پر متاثرہ بچوں میں قرآن مجید کے ساتھ ساتھ ایجوکیشنل گفٹس بھی تقسیم کیے گئے۔بہاولپور میں خیمہ بستی میں مددگار اسکول کے افتتاح کے موقع پر صدر مسلم سٹوڈنٹس لیگ انس محصی اور علاقائی معزز شخصیات نے خصوصی شرکت کی۔اس موقع پر انس محصی کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لئے مسلم سٹوڈنٹس لیگ کے نوجوان بھی متحرک ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ سیلاب متاثرین کے بچوں کی تعلیم کے لئے وقت ضائع نہ ہو اسی لئے خیمہ بستیوں میں ہی سکول بنائے گئے ہیں ،مسلم سٹوڈنٹس لیگ کی جانب سے دیگر خیمہ بستیوں میں بھی مددگار سکول بنائے جائیں گے.

    قدرتی آفات کے اس المناک موسم میں پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی بے لوث خدمت کی سرگرمیاں ایک دیگر سیاسی جماعتوں کے لئے ایک روشن مثال ہیں جو ووٹ لے کر عوام کو بھول جاتی ہیں،خیبر پختونخوا سے گلگت اور پھر پنجاب میں سیلاب متاثرہ علاقوں میں مرکزی مسلم لیگ کے رضاکاروں کی شب و روز جدوجہد، متاثرین کی مدد ٹوٹے دلوں کا سہارا بنی، آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب اس کارِ خیر کا حصہ بنیں، اور متاثرین کے دکھ بانٹیں، آئیے، قدم سے قدم ملا کر ہم بھی مرکزی مسلم لیگ کے خدمت کے اس قافلے کا حصہ بنیں۔
    Markazi Muslim League Expands Rescue Operation in Jalalpur and Alipur; Hindu Community Families Rescued

    Markazi Muslim League Expands Rescue Operation in Jalalpur and Alipur; Hindu Community Families Rescued

    Markazi Muslim League Expands Rescue Operation in Jalalpur and Alipur; Hindu Community Families Rescued

    Markazi Muslim League Expands Rescue Operation in Jalalpur and Alipur; Hindu Community Families Rescued

    Markazi Muslim League Expands Rescue Operation in Jalalpur and Alipur; Hindu Community Families Rescued

    Markazi Muslim League Expands Rescue Operation in Jalalpur and Alipur; Hindu Community Families Rescued

  • اپووا کا نعتیہ مشاعرہ،رپورٹ:مدیحہ کنول

    اپووا کا نعتیہ مشاعرہ،رپورٹ:مدیحہ کنول

    آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام، حضور اقدس حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے 1500 ویں سالانہ جشنِ ولادت کے بابرکت سلسلے میں، ہوٹل پاک ہیری ٹیج میں ایک پرنور محفل کا انعقاد ہوا، جہاں عشقِ رسول ﷺ کی خوشبو ہر سو بکھر رہی تھی۔ یہ محفل محض ایک تقریب نہیں تھی بلکہ ایمان کو تازہ کرنے والی ایک روحانی نشست تھی۔ اس پورے پروگرام کی نظامت کے فرائض جنرل سیکرٹری اپووامدیحہ کنول نے اس خوبصورتی سے انجام دیے کہ سامعین کی توجہ شروع سے آخر تک قائم رہی۔ اس بابرکت محفل کی نگرانی ایم ایم علی کر رہے تھے جبکہ اس کی سرپرستی کا اعزاز ملک یعقوب اعوان کے حصے میں آیا۔​اس نعتیہ مشاعرے کے صدارت، نہایت محترم اور سینئر شاعر ناصر بشیر نےکی ، جن کی موجودگی نے اس محفل کو مزید وقار بخشا۔

    سب سے پہلے تلاوتِ کلامِ پاک کی سعادت سفیان علی فاروقی نے حاصل کی اور اپنی پرسوزآواز کی بدولت پورے ہال میں ایک روحانیت کی فضا قائم کر دی۔ ان کے بعد نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کرنے کے لیے خنیس الرحمان اسٹیج پر جلوہ افروز ہوئے اور اپنے دلنشیں انداز میں نعت سنا کر حاضرین کے دلوں کو عشقِ رسول ﷺ کی تپش سے گرمایا۔​اس کے بعد، ملک بھر سے آئے ہوئے شعرائے کرام کی ایک کہکشاں نے نبی اکرم ﷺ کی شان میں اپنے جذبوں کا اظہار کیا۔ ہر شاعر نے عشقِ رسول ﷺ میں ڈوب کر اپنا کلام پیش کیا اور سامعین سے خوب داد و تحسین وصول کی۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے ہر نعت کے ساتھ اس پرنور محفل میں انوار کی بارش ہو رہی ہو۔ کلام پیش کرنے کے بعد، کچھ مہمانانِ گرامی نے اس بابرکت محفل سے خطاب کیا اور نعتیہ شاعری کی اہمیت پر ایسی روشنی ڈالی کہ ایمان مزید تازہ ہو گیا۔​اس روح پرور تقریب سے پہلے، تمام مہمانانِ گرامی کے لیے اپووا کے سنیئر وائس چیئرمین ملک یعقوب کی طرف سے پُرتکلف لاہوری ناشتے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ مشاعرے کےآخر میں، صدرِ محفل ناصر بشیر نے اپنا کلام پیش کیا جسے تمام حاضرین نے بہت سراہا، اور یوں ان کی سرپرستی میں یہ بہترین تقریب اپنے اختتام کو پہنچی۔ یہ مشاعرہ نہ صرف ایک ادبی محفل تھی بلکہ عشقِ رسول ﷺ کو اجاگر کرنے کا ایک بہترین ذریعہ بھی ثابت ہوا۔

    مشاعرے میں حمزہ ارشد،چوہدری غلام غوث،حاجی عبدلطیف ،عافیہ بزمی،سائرہ حمید تشنہ،معروف شاعرہ ثوبیہ خان نیازی،معروف شاعرہ رقیہ غزل،معروف شاعرہ عروج درانی اور سنیئر شاعر مشتاق قمر نے اپنا اپنا نعتیہ کلام سنانے کی سعادت حاصل کی۔

    نعتیہ مشاعرے کے بعد دوسرے سیشن آغاز ہوا جس سے معروف دانشور و ادبی شخصیت ریاض احمد احسان،استاد ،تربیت کار اور معروف لکھاری اشفاق احمد خان ،ڈی ایس پی شہزادی گلفام،اور اپووا کے سنیئر وائس چیئرمین ملک یعقوب اعوان نے خطاب کیا اورنبی اکرم ﷺ کی تعلیمات پر روشنی ڈالی تقریب کے اختتام پر اپووا قصور کے کو آرڈنیٹر اور معروف صحافی طارق نوید کی طرف سے تمام شرکاء میں قصور کی مشہور سوغات قصوری اندرسے تقسیم کئے گئے۔دیگر شرکاء میں محمد اسلم سیال،ایمن سعید ،لاریب اقرء،غلام زادہ نعمان صابری،عبدلصمد مظفر،محمد بلال، معروف صحافی مہر اشتیاق احمد، معروف کالم نگار فیصل رمضان اعوان ،محمد ہشام ہاشمی،صائمہ محمد علی ، سنئیر صحافی غلام زہرہ،نمرہ امین،خولہ رضویہ سمیت کثیر تعداد میں خواتین و حضرات نے شرکت کی۔

  • جلال پور،علی پور میں مرکزی مسلم لیگ کا ریسکیو آپریشن وسیع،ہندو برادری کے خاندان ریسکیو

    جلال پور،علی پور میں مرکزی مسلم لیگ کا ریسکیو آپریشن وسیع،ہندو برادری کے خاندان ریسکیو

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں،جلال پور پیر والا،علی پور سمیت دریائے سندھ میں پانی کے اضافے پرریسکیو آپریشن تیز کردیا گیا،گھوٹکی امیر بخش چاچڑ گوٹھ اور لوپ بند سے ہندو برادری کے خاندانوں کو بھی محفوظ مقام پرمنتقل کیا گیا، متاثرہ اضلاع میں 16 خیمہ بستیوں میں 24 ہزار سے زائد سیلاب متاثرین مقیم ہیں، کشتیوں کے ذریعے 86 ہزار سے زائد افراد کو ریسکیو کر کے محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا، 25 لاکھ 40 ہزار سے زائد افراد میں پکی پکائی خوراک تقسیم کی جا چکی ہے، خدمت خلق مرکزی مسلم لیگ کے چیئرمین شفیق الرحمان وڑائچ امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کر رہے ہیں،

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو کی ہدایت پرپنجاب کے سیلاب متاثرہ اضلاع میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں،جلال پور پیر والا ،علی پور میں مرکزی مسلم لیگ نے ریسکیو و ریلیف آپریشن وسیع کر دیا، مزید کشتیاں پہنچ گئیں،شہریوں کو ریسکیو کرنے کے علاوہ کھانا بھی پہنچایا جا رہا ہے،دریائے سندھ میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافے کے باعث مرکزی مسلم لیگ نے ریسکیو آپریشن مزید تیز کردیا ہے۔ متعدد متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔مرکزی مسلم لیگ سندھ کے رضاکاروں نے گھوٹکی کے علاقے امیر بخش چاچڑ گوٹھ، لوپ بند اور کچے کے مختلف دیہات سے ہندو کمیونٹی سمیت درجنوں خاندانوں کو ریسکیو کرکے محفوظ مقامات تک پہنچایا۔ گڈو، کشمور، گھوٹکی، منڈو دیرو، روہڑی اور دریائے سندھ کے دیگر متاثرہ مقامات پر ریسکیو کے ساتھ ساتھ ریلیف سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔ کچے کے علاقوں میں میڈیکل کیمپ قائم کرکے متاثرین کو علاج معالجے اور ادویات کی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں،پنجاب ،سندھ کے سیلاب متاثرہ اضلاع میں مرکزی مسلم لیگ کے رضاکاروں نے 66 کشتیوں کے ذریعے 86 ہزار سے زائد افراد کو ریسکیو کیاجبکہ گھریلو سامان ،جانوروں کو بھی کشتیوں‌کے ذریعے محفوظ مقام پر منتقل کیا، کشتیوں کے ذریعے سیلاب متاثرین تک کھانا بھی پہنچایا جا رہا ہے،مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے سیلاب متاثرین میں پکی پکائی خوراک کی تقسیم کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اب تک 25 لاکھ 40 ہزار افراد میں کھانا تقسیم کیا جا چکا ہے،جبکہ 96 ہزار چار سو خاندانوں میں خشک راشن بھی تقسیم کیا گیا ہے خشک راشن میں آٹا، چاول، دالیں، گھی،چینی سمیت دیگر اشیا شامل ہیں،مرکزی مسلم لیگ کے میڈیکل کیمپوں میں 19 لاکھ ہزار 40 ہزارمریضوں کا علاج معالجہ اور مفت ادویات دی گئیں،46 ہزار سے زائد متاثرین میں گھریلو سامان،برتن، 8ہزار بستر،16500 مچھر دانیاں بھی تقسیم کی گئیں،

    مرکزی مسلم لیگ کا تحصیل علی پور میں ریسکیو اور ریلیف آپریشن مسلسل جاری ہے۔ مرکزی مسلم لیگ کے رضاکاروں نے دشوار گزار راستوں سے گزر کر متاثرین تک کھانا اور امدادی سامان پہنچایا۔ ماہر آئی ٹی پروفیشنلز،سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ماسٹر فہیم اور سدرہ نسیم بھی مرکزی مسلم لیگ کے رضاکاروں کے ہمراہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں، بہاولپور میں مرکزی مسلم لیگ کے جوائنٹ سیکریٹری قاری یعقوب شیخ، شیخ فیاض احمد، اور رانا سیف اللہ کی قیادت میں خیمہ بستیوں میں راشن، ناشتہ اور گفٹ پیک تقسیم کیے گئے۔ حاصل پور، جلال پور پیروالا اور لیاقت پور میں میڈیکل کیمپس کا انعقاد کیا گیا جہاں ڈاکٹر ضیاء الرحمن اور ڈاکٹر نور مصطفیٰ نے سینکڑوں مریضوں کا معائنہ کیا اور مفت ادویات فراہم کی گئیں۔گجرات کے محلہ شفیع آباد میں فری میڈیکل کیمپ لگایا گیا۔ گوجرانوالہ اور فیصل آباد سے امدادی قافلے متاثرہ علاقوں کی طرف روانہ کیے گئے۔مرکزی مسلم لیگ سیالکوٹ کے رضاکار بھی سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں اعجاز نصر کی قیادت میں مصروف ہیں،مرکزی مسلم لیگ فیصل آباد کی جانب سے جھنگ اور جلال پور پیروالا میں خشک راشن، مچھر دانیاں، اور دو نئی بوٹ سروسز کا آغاز کیا گیا۔ اوکاڑہ میں دریائے ستلج کے مقام پر 350 خاندانوں کو راشن مہیا کیا گیا۔عارفوالا میں 300 افراد میں پکا پکایا کھانا تقسیم کیا گیا۔ گوجرہ (ٹوبہ ٹیک سنگھ) میں خشک راشن، بچوں کے لیے تحائف، کھجوریں، اور جانوروں کے لیے چارہ و خشک ایندھن تقسیم کیا گیا۔جلال پور پیر والا میں شعبہ خدمت خلق سندھ کے زیر انتظام ماڈل خیمہ بستی میں بچوں کے لیے جھولوں اور پلے لینڈ کا اہتمام کیا گیا، تاکہ متاثرہ ننھے بچوں کو ذہنی سکون اور خوشی فراہم کی جا سکے۔مرکزی مسلم لیگ راولپنڈی کی جانب سے انجینئر مبین صدیقی کی قیادت میں 25 واں قافلہ بہاولپور روانہ کیا گیا، جس میں راشن، جانوروں کے لیے چارہ، اور دیگر ضروری اشیاء شامل تھیں۔

  • ٹک ٹاکر سامعہ حجاب ،حسن میں صلح کے بعد حسن کی ضمانت منظور

    ٹک ٹاکر سامعہ حجاب ،حسن میں صلح کے بعد حسن کی ضمانت منظور

    ٹک ٹاکر سامعہ حجاب اور ملزم حسن زاہد کے درمیان صلح، عدالت نے ضمانت منظور کرلی

    اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس میں ٹک ٹاکر سامعہ حجاب کو مبینہ طور پر اغوا اور دھمکیاں دینے کے کیس کی سماعت ہوئی، جس دوران عدالت میں دونوں فریقین کے درمیان صلح ہوگئی۔سماعت کے دوران سامعہ حجاب نے اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ ان کا معاملہ ملزم حسن زاہد کے ساتھ طے پا گیا ہے۔ جج عامر ضیا نے استفسار کیا کہ کیا واقعی فریقین کے درمیان معاملات حل ہوچکے ہیں، جس پر سامعہ نے جواب دیا کہ جی ہاں، اب مزید کسی قانونی کارروائی کی ضرورت نہیں۔جج نے سامعہ حجاب سے پوچھا کہ کیا وہ کیس کی مزید پیروی کرنا چاہتی ہیں؟ اس پر انہوں نے کہا کہ وہ اپنا کیس واپس لے رہی ہیں اور انہیں ملزم کے ضمانت پر رہائی یا بری ہونے پر کوئی اعتراض نہیں۔

    عدالت نے فریقین کے بیانات سننے کے بعد ملزم حسن زاہد کی ضمانت منظور کرتے ہوئے 20،20 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض رہائی کا حکم جاری کردیا۔

    یاد رہے کہ ملزم حسن زاہد کے خلاف تھانہ شالیمار اسلام آباد میں اغوا اور دھمکیوں کے دو مقدمات درج تھے، تاہم اب صلح کے باعث ان مقدمات کی پیروی ختم کردی گئی ہے۔یہ پیش رفت سوشل میڈیا پر زیر بحث کیس کے ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، جہاں گزشتہ دنوں سامعہ حجاب نے اپنے تحفظ کے حوالے سے خدشات ظاہر کیے تھے۔ تاہم عدالت میں صلح کے بعد معاملہ بظاہر ختم ہوگیا ہے۔

  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کی رضوان رضی کا یوٹیوب چینل بند کرنے کی سفارش

    سینیٹ قائمہ کمیٹی کی رضوان رضی کا یوٹیوب چینل بند کرنے کی سفارش

    اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قواعد و ضوابط و استحقاق کا اجلاس پیر کے روز پارلیمنٹ ہاؤس میں چیئرمین سینیٹر سید وقار مہدی کی زیرصدارت منعقد ہوا، جس میں قومی یکجہتی، ادارہ جاتی احتساب اور عوامی نظم و ضبط سے متعلق اہم معاملات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں سینیٹر دوست علی جیسر، سعدیہ عباسی، اسد قاسم، پلوشہ محمد زئی خان، دوستین خان ڈومکی، شہادت اعوان، جام سیف اللہ خان، جان محمد اور نواب عمر فاروق سمیت متعلقہ محکموں کے سینئر نمائندے شریک ہوئے۔

    کمیٹی نے معروف وی لاگر ،سینئر صحافی و تجزیہ کار رضوان رضی کی جانب سے قومی الیکٹرانک میڈیا پر نشر ہونے والے وی لاگ کا سخت نوٹس لیا، جس میں سندھی برادری کے خلاف نفرت انگیز مواد شامل تھا اور جس نے وفاقی ہم آہنگی کو نقصان پہنچایا۔ اگرچہ پی ٹی وی نے رضوان رضی کی خدمات ختم کر دی ہیں، تاہم کمیٹی نے اس اقدام کو "ناکافی سزا” قرار دیا۔کمیٹی نے سفارش کی کہ رضوان رضی کو بلیک لسٹ کیا جائے، اس کا یوٹیوب چینل پی ٹی اے کے ذریعے بند کیا جائے اور اس کے سابقہ مواد کا بھی مکمل ریکارڈ چیک کیا جائے۔ معاملے کو مزید تفصیلی تحقیقات کے لیے مؤخر کر دیا گیا۔

    کمیٹی نے چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کی مسلسل دوسری بار غیر حاضری پر شدید ناراضی کا اظہار کیا۔ اجلاس میں ہاؤس نمبر 622، اسٹریٹ نمبر 99، سیکٹر I-10/4 اسلام آباد کی جعلی الاٹمنٹ اور فائل غائب ہونے کے معاملے پر بحث ہونا تھی۔چیئرمین وقار مہدی نے کہا "کیا وہ چیئرمین ایف بی آر سے زیادہ مصروف ہیں جو آج یہاں موجود ہیں؟ یہ رویہ ناقابلِ قبول ہے۔ اگلی بار سخت کارروائی ہوگی۔”انہوں نے سی ڈی اے کی جانب سے پہلے غلط معلومات دینے اور بعد میں غیر حاضری کو "ادارہ جاتی بددیانتی” قرار دیا۔

    قائداعظم یونیورسٹی ہاسٹلز سے طلبہ کی بے دخلی اور امن و امان کی صورتحال پر بھی غور کیا گیا۔ قائم مقام وائس چانسلر ظفر نواز جسپال نے انکشاف کیا کہ 14 ہاسٹلز میں غیر قانونی رہائش پذیر افراد مقیم تھے اور ایک ایمبولینس کے ذریعے منشیات اسمگل کی جارہی تھیں۔سینیٹرز نے اس انکشاف پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور آئی جی اسلام آباد کی غیر موجودگی پر سوال اٹھائے۔ وقار مہدی نے کہا "جب منشیات ایمبولینس کے ذریعے اسمگل ہو رہی تھیں تو آپ کی سیکیورٹی کہاں تھی؟”اس معاملے پر ہاسٹلز کی بے دخلی، غیر قانونی قیام اور منشیات کی ترسیل کی تحقیقات کے لیے ذیلی کمیٹی تشکیل دی گئی۔

    کمیٹی نے سابق وائس چیئرمین پلاننگ کمیشن ڈاکٹر ندیم الحق کی جانب سے روزنامہ ’دی نیوز‘ میں باقاعدہ کالمز شائع کرنے پر تشویش کا اظہار کیا۔ سینیٹر سعدیہ عباسی نے کہا”ایک سزا یافتہ شخص، جس نے خواتین کی تضحیک کی، اسے روزانہ عوامی پلیٹ فارم کیسے دیا جا رہا ہے؟ یہ زیرو ٹالرنس پالیسی کے منافی ہے۔”معاملہ مزید تحقیقات کے لیے مؤخر کرتے ہوئے ان کی سزا اور سزاؤں کے ریکارڈ طلب کرنے کی ہدایت دی گئی۔

  • بلاول بھٹو زرداری کا فودان یونیورسٹی شنگھائی کا دورہ،خطاب

    بلاول بھٹو زرداری کا فودان یونیورسٹی شنگھائی کا دورہ،خطاب

    شنگھائی: پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے چین کے شہر شنگھائی میں 120 سالہ قدیم فودان یونیورسٹی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے یونیورسٹی کی اعلیٰ انتظامیہ، اساتذہ اور طلباء سے ملاقاتیں کیں اور پاک چین تعلقات پر تفصیلی گفتگو کی۔

    دورے کے دوران بلاول بھٹو زرداری کی ملاقات فودان یونیورسٹی کے نائب صدر ڈاکٹر چن زھیمِن سے ہوئی، جس میں بین الاقوامی تعلقات عامہ، علاقائی تعاون اور تعلیمی روابط کے فروغ سمیت مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے پاک چین تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور تعلیمی و تحقیقی میدان میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔بعد ازاں بلاول بھٹو زرداری نے فودان یونیورسٹی کے طلباء سے خطاب کیا۔ ان کا موضوع "پاک چین دوستی: ماضی، حال اور مستقبل” تھا۔ خطاب سے قبل انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل اسٹڈیز کے اسسٹنٹ ڈین پروفیسر سَن ڈے گانگ نے تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا خیر مقدم کیا۔

    اپنے خطاب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی وقت کی کسوٹی پر ہمیشہ پوری اتری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ماضی میں دونوں ملکوں نے مشکل ترین حالات میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا اور آج بھی دونوں ممالک کی شراکت داری خطے کے امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے بنیاد فراہم کر رہی ہے۔ بلاول نے اس بات پر زور دیا کہ مستقبل میں بھی نوجوان نسل کو اس دوستی کو آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری نے طلباء کے سوالات کے جوابات بھی دیے، جن میں عالمی تعلقات، علاقائی استحکام اور اقتصادی تعاون سے متعلق مختلف امور شامل تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ صرف مشترکہ حکمت عملی اور تعاون کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

  • گھوٹکی،سیلاب سے قادرپورگیس فیلڈ کے 10کنویں متاثر،گیس کی سپلائی معطل

    گھوٹکی،سیلاب سے قادرپورگیس فیلڈ کے 10کنویں متاثر،گیس کی سپلائی معطل

    ملک کے بالائی علاقوں میں مسلسل بارشوں اور دریائے سندھ میں پانی کے غیر معمولی اضافے کے باعث سیلابی صورتحال سنگین ہوگئی ہے۔ لاڑکانہ، گھوٹکی اور کشمور کے اضلاع میں ہزاروں افراد متاثر اور وسیع رقبہ زیرِ آب آگیا۔

    لاڑکانہ میں زمینداری بند میں 100 فٹ چوڑا شگاف پڑنے کے نتیجے میں سیلابی پانی کا تیز ریلا درگاہ ملوک شاہ بخاری میں داخل ہوگیا، جس کے بعد پانی تیزی سے زرعی زمینوں اور آبادیوں کی طرف بڑھ رہا ہے۔ مقامی زمینداروں اور رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اگر شگاف بند نہ ہوا تو مزید سینکڑوں ایکڑ رقبہ اور درجنوں دیہات متاثر ہوسکتے ہیں۔ادھر گھوٹکی میں قادرپور گیس فیلڈ کے 10 کنویں سیلابی پانی سے متاثر ہوکر بند ہوگئے، جس کے باعث علاقے میں گیس کی فراہمی معطل ہوگئی ہے۔ توانائی کے ماہرین کے مطابق گیس کی بندش سے ملکی سطح پر بھی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال قابو میں آتے ہی متاثرہ کنوؤں کی بحالی کا عمل شروع کیا جائے گا۔

    کشمور میں دریائے سندھ میں گڈو بیراج کے مقام پر پانی کے بہاؤ میں مزید اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں اس وقت اونچے درجے کا سیلاب برقرار ہے۔ فلڈ کنٹرول ذرائع کے مطابق اگلے 48 گھنٹوں میں پانی کا دباؤ سکھر بیراج تک پہنچنے کا امکان ہے۔ تاہم انتظامیہ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ گڈو بیراج کو فی الحال کوئی خطرہ نہیں۔انتظامیہ کے مطابق اب تک کچے کے علاقوں سے 30 ہزار افراد محفوظ مقامات پر منتقل کیے جاچکے ہیں، تاہم درجنوں دیہات اب بھی زیرِ آب ہیں اور وہاں کے باسی مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں۔ خاص طور پر گھوٹکی کی تحصیل جان محمد علی کے گردونواح میں کئی بستیاں ڈوب گئی ہیں جبکہ متاثرین کا کہنا ہے کہ سرکاری سطح پر انخلا کا عمل تیز نہیں ہوا، جس کی وجہ سے لوگ اپنی مدد آپ کے تحت نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر دریائے سندھ میں پانی کی سطح مزید بلند ہوئی تو نہ صرف زرعی معیشت کو شدید نقصان پہنچے گا بلکہ گیس اور بجلی کی فراہمی پر بھی منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

  • اسلام آباد، راولپنڈی کے درمیان جدید اور تیز رفتار ٹرین چلانے کا فیصلہ

    اسلام آباد، راولپنڈی کے درمیان جدید اور تیز رفتار ٹرین چلانے کا فیصلہ

    وفاقی حکومت نے جڑواں شہروں اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان عوام کو تیز، آرام دہ اور جدید سفری سہولت فراہم کرنے کے لیے ہائی اسپیڈ ٹرین چلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

    جیو نیوز کے مطابق یہ فیصلہ وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر ریلوے حنیف عباسی کی زیر صدارت اہم اجلاس میں کیا گیا، جس میں منصوبے کے خدوخال اور فریم ورک پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں مارگلہ اسٹیشن اسلام آباد سے راولپنڈی صدر اسٹیشن تک ریل منصوبے کو جلد از جلد مکمل کرنے پر اتفاق ہوا، جبکہ منصوبے کے فریم ورک ایگریمنٹ کو آئندہ ہفتے حتمی شکل دے کر دستخط کیے جائیں گے۔اعلامیے کے مطابق اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان یہ سفر صرف 20 منٹ میں طے ہوگا، جس سے نہ صرف قیمتی وقت اور ایندھن کی بچت ہوگی بلکہ سڑکوں پر بڑھتے ٹریفک کے دباؤ میں بھی خاطر خواہ کمی آئے گی۔ جدید ٹیکنالوجی سے لیس یہ ٹرین شہریوں کو بین الاقوامی معیار کی سہولت فراہم کرے گی۔اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ تیز رفتار ٹرین کے لیے ریل ٹریک وزارت ریلوے فراہم کرے گی جبکہ ریل سروس کا انتظام کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے سپرد ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ جدید ترین ٹرینیں درآمد کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا تاکہ عوام کو عالمی معیار کی سفری سہولت میسر آسکے۔

    وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا کہ "جڑواں شہروں کے درمیان ریل سروس کا آغاز عوامی فلاح کا ایک بہترین منصوبہ ہوگا، جس سے شہری صرف 20 منٹ میں تیز اور آسان سفر کر سکیں گے۔”وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس منصوبے کو وزیراعظم کے عوامی ریلیف کے وژن کا عکاس قرار دیتے ہوئے کہا کہ "منصوبے کی تکمیل سے ہزاروں شہریوں کو جدید، محفوظ اور معیاری سفری سہولت حاصل ہوگی، جو کہ وفاقی دارالحکومت اور راولپنڈی کے درمیان آمد و رفت کو نئی جہت دے گی۔”

  • شہر میں منافقت نہیں چلنے دوں گا،مرتضیٰ وہاب جماعت اسلامی پر برس پڑے

    شہر میں منافقت نہیں چلنے دوں گا،مرتضیٰ وہاب جماعت اسلامی پر برس پڑے

    میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے بلدیہ عظمیٰ کراچی میں اپوزیشن جماعتِ اسلامی کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات پر شدید ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس شہر میں منافقت برداشت نہیں کریں گے اور ضرورت پڑی تو سخت زبان میں جواب دیں گے۔

    میڈیا سے گفتگو کے دوران مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ جماعتِ اسلامی کے رہنماؤں کی جانب سے پھیلائی جانے والی غلط معلومات سے شہر کا تاثر خراب ہو رہا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر پی ٹی آئی رہنما حلیم عادل شیخ کے اس دعوے کو مسترد کیا کہ حب کینال بہہ گئی ہے۔ اُن کے مطابق پانی کے دباؤ کے باعث حب کینال کا 20 میٹر حصہ متاثر ہوا تھا جس کی مرمت 48 گھنٹوں کے اندر کر دی گئی اور حب کینال سے پانی کی سپلائی گزشتہ روز بحال کر دی گئی تھی۔مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلاف پر غلط بیانی کی جاتی ہے جس سے شہر کا تاثر خراب ہوتا ہے سیاست ضرور کریں لیکن لوگوں کو گمراہ نہ کریں۔ پیپلز پارٹی نے نہ صرف دعوے کیے ہیں بلکہ عملی طور پر کام بھی شروع کیا ہے اور وہ کام دکھائیں گے بھی۔ شاہراہِ بھٹو کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا: پہلا حصہ قیوم آباد سے شاہ فیصل کالونی تک، دوسرا شاہ فیصل سے قائد آباد تک (جہاں ٹریفک رواں دواں ہے اور روزانہ تقریباً 11 ہزار گاڑیاں گزر رہی ہیں) اور تیسرا قائد آباد سے کاٹھور تک جو زیر تعمیر ہے۔ زیرِ تعمیر حصے کے 150 تا 200 میٹر کا حصہ متاثر ہوا اور اس پر کام جاری ہے۔ مرتضیٰ وہاب نے طنزاً کہا کہ ہمارے ہاں ہر شخص انجینئر بن جاتا ہے اور کچھ لوگ شرارتاً وہاں پہنچ گئے تھے۔انہوں نے ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ "جلال پور پیروالا، ملتان میں بھی موٹروے کا حصہ پانی کے دباؤ کی وجہ سے بہہ گیا” مطلب یہ کہ بعض واقعات قدرتی یا تکنیکی اسباب کی وجہ سے ہوتے ہیں، مگر سیاسی پروپیگنڈہ کرنا درست نہیں۔

    مرتضیٰ وہاب مزید بولے کہ یہ جنگ پیپلز پارٹی کی ذاتی جنگ نہیں بلکہ شہر اور صوبے کے مفاد کی جنگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کبھی ان کے جماعتی بھائی کہتے تھے کہ اختیارات اور وسائل نہیں، جس پر مرتضیٰ وہاب نے ڈپٹی میئر سلمان مراد سے کہا کہ "انہیں 27 ارب روپے دے دیں”۔ اُنھوں نے بتایا کہ بعد ازاں بعض حلقوں نے اعتراف کیا کہ پیسے زیادہ تر تنخواہوں پر خرچ ہو جاتے ہیں، مگر پھر بھی کام کا آغاز کیا گیا۔مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ وہ پہلے خاموش رہے لیکن اب خاموشی نہیں برتنا چاہتے اور جماعتِ اسلامی کو بےنقاب کریں گے۔ "یہ میرے شہر کا معاملہ ہے، شہر میں منافقت نہیں چل سکتی” میئر نے کہا کہ جماعتِ اسلامی نے بدلے ہوئے دور میں خود شہر کی سڑکوں کو کمرشلائز کیا تھا اور اسی وجہ سے آج سیوریج سمیت متعدد انفراسٹرکچر مسائل سامنے ہیں۔ اُن کے مطابق 2003 میں شہر کے ماسٹر پلان میں جو تبدیلیاں کی گئی وہی مسائل پیدا کرنے کی وجہ بنیں۔ مزید کہا گیا کہ جماعتِ اسلامی نے ماضی میں شہر کی شاہراہوں کو کمرشلائز کرنے کی اجازت دی تھی۔

    بلدیہ کے خلاف جماعتِ اسلامی کی طرف سے کیے گئے مقدمات اور پارکس کو کمرشل کرنے کے الزامات کے بارے میں میئر نے دفاع کیا کہ پہلے شہر کے کئی پارک "چرسیوں کی آماجگاہ” بنے ہوئے تھے اور وہاں غیر اخلاقی سرگرمیاں ہوتی تھیں، اس لیے کے ایم سی نے پارکس میں کھیل اور تفریحی سرگرمیاں بحال کرنے کا فیصلہ کیا جو عوامی مفاد میں تھا۔ مثال کے طور پر باغِ ابنِ قیسم بند پڑا تھا، مگر اب وہاں کھیل کود کی سرگرمیاں شروع کی گئی ہیں اور پارک بحال ہو گیا ہے۔میئر نے مزید کہا کہ بعض ٹاؤن چیئرمینز نے پارکوں کو غیر مناسب طریقے سے دیگر مقاصد کے لیے دے دیا "ایک ٹاؤن چیئرمین نے پارک کو کبڈی والوں کے حوالے کیا، ایک نے پارک یونیورسٹی کو دے دیا” اس طرح کے فیصلوں پر بھی سخت تنقید کی گئی۔مرتضیٰ وہاب نے اپیل کی کہ سیاستدان منفی بیانی اور الزام تراشی سے باہر نکلیں اور مل کر شہر کے لیے کام کریں۔ اُنھوں نے کہا کہ وہ عام طور پر پریس کانفرنسز صرف ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے کرتے ہیں، مگر جماعتِ اسلامی کے مستقل اعتراضات اور تنقید کی وجہ سے اُنھوں نے جواب دینا ضروری سمجھا۔ آخر میں انہوں نے جماعتِ اسلامی کے رہنما حافظ نعیم الرحمان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ لاہور میں ہیں اور حقائق معلوم نہیں تو آئیں، وہ خود اُنہیں حقائق بتا دیں گے "نعیم بھائی میرے بڑے ہیں، آپ بولیں تو آپ کے پاس آ جاتا ہوں”۔

  • وزیراعظم  ایک روزہ سرکاری دورے پر قطر کے دارالحکومت دوحہ پہنچ گئے

    وزیراعظم ایک روزہ سرکاری دورے پر قطر کے دارالحکومت دوحہ پہنچ گئے

    وزیراعظم محمد شہباز شریف ایک روزہ سرکاری دورے پر قطر کے دارالحکومت دوحہ پہنچ گئے

    دوحہ ائیرپورٹ پر قطر کے وزیر ثقافت عزت مآب شیخ عبد الرحمن بن حمد بن جاسم بن حمد ال ثانی نے وزیراعظم اور پاکستانی وفد کا استقبال کیا،وزیر اعظم محمد شہباز شریف دوحہ میں منعقد ہونے والی ہنگامی عرب اسلامی سربراہی کانفرنس میں شرکت کے لئے پہنچے ہیں،یہ سربراہی اجلاس دوحہ پر اسرائیل کے فضائی حملوں اور فلسطین میں انسانی حقوق کی پامالی کی مسلسل بگڑتی ہوئی صورتحال پر غور کرنے کے لیے بلایا گیا ہے،نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور معاون خصوصی سید طارق فاطمی وزیراعظم کے ساتھ اعلیٰ سطحی وفد میں شامل ہیں

    پاکستان قطر کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور قطر اور دیگر علاقائی ریاستوں کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتا ہے۔ قطر کے ساتھ اظہار یکجہتی اور علاقائی اتحاد کے لیے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے 11 ستمبر 2025 کو دوحہ کا دورہ کیا اور قطر کی سلامتی اور خودمختاری کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت اور مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے اس کے عزم کا اظہار کرنے کے لیے قطری قیادت سے ملاقات کی۔ 15 ستمبر کو دوحہ میں منعقد ہونے والے ہنگامی اجلاس میں وزیراعظم پاکستان اور دیگر مسلمان ممالک کے سربراہان کی شرکت امت مسلمہ میں مضبوط اتحاد اور علاقائی امن قائم کرنے کے غیر متزلزل عزم کا مظہر ہے۔