Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • سابق وزیراعظم نواز شریف لندن روانہ، دو ہفتے قیام متوقع

    سابق وزیراعظم نواز شریف لندن روانہ، دو ہفتے قیام متوقع

    لاہور: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف غیر ملکی ایئرلائن کے ذریعے لندن روانہ ہو گئے ہیں۔

    نواز شریف آج جاتی امرا رائیونڈ سے روانہ ہوئے اور علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچے، جہاں سے وہ قطر ایئرویز کی پرواز کے ذریعے لندن کے لیے رختِ سفر باندھ گئے۔ نواز شریف لندن میں تقریباً دو ہفتے قیام کریں گے اور اس دوران اپنا باقاعدہ طبی معائنہ بھی کروائیں گے۔

    واضح رہے کہ کچھ روز قبل نواز شریف نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف نیوروسائنسز میں چیک اپ کروایا تھا، جس دوران ان کی گردن کی ایم آر آئی بھی کی گئی۔ ڈاکٹرز کے مطابق انہیں پٹھوں میں درد اور کھنچاؤ کی شکایت ہے، جس کے مزید علاج اور فالو اپ کے لیے وہ لندن روانہ ہوئے ہیں۔

  • یقینی بنائیں بیٹیوں‌کو سروائیکل کینسر کی ویکسین ضرور لگے،آصفہ بھٹو

    یقینی بنائیں بیٹیوں‌کو سروائیکل کینسر کی ویکسین ضرور لگے،آصفہ بھٹو

    خاتون اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے سروائیکل کینسر سے بچاؤ کی ویکسین کی قومی مہم کو پاکستان کے لئے ایک سنگ میل قرار دیدیا

    آصفہ بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ہم پہلی مرتبہ لڑکیوں کو ایچ پی وی وائرس سے بچاؤ کی ویکسین لگانے کی قومی مہم کا آغاز کررہے ہیں،سروائیکل کینسر وہ واحد کینسر ہے جس سے ویکسین کے ذریعے بچاؤ ممکن ہےمیں تمام والدین سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کی 9 سے 14 سال کی بیٹیوں کو سروائیکل کینسر کی ویکسین ضرور لگے، آئیے مل کر اپنی بیٹیوں کے لیے ایک صحت مند مستقبل یقینی بنائیں،

    سروائیکل کینسر ایک قابلِ علاج بیماری ہے اور آج ہمارے پاس یہ موقع ہے کہ ہم اپنی بیٹیوں کو اس سے محفوظ بنا سکیں۔ 15 ستمبر سے 27 ستمبر 2025 تک، حکومتِ سندھ ای پی آئی سندھ کے تعاون سے ہیومن پاپیلوما وائرس (HPV) ویکسینیشن مہم کا آغاز کر رہی ہے۔یہ صرف ایک مہم نہیں، بلکہ تحفظ کا وعدہ ہے، اپنی بیٹیوں سے عہد ہے اور آنے والی نسلوں میں سرمایہ کاری ہے۔ والدین، اساتذہ اور کمیونٹی سب کو مل کر یہ ذمہ داری نبھانی ہے تاکہ ہر بیٹی کو وہ ڈھال دی جا سکے جس کی وہ مستحق ہے۔ آئیں مل جل کر سروائیکل کینسر کے خاتمے کو حقیقت بنائیں اور ایک صحت مند، پُرامید اور مضبوط مستقبل کی بنیاد رکھیں۔

  • خاتون کی ڈلیوری رائیڈر پر تھپڑوں کی بارش

    خاتون کی ڈلیوری رائیڈر پر تھپڑوں کی بارش

    لکھنؤ کی ایک مصروف شاہراہ پر پیش آنے والے روڈ ریج واقعے نے پورے بھارت میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی۔ ہفتے کے روز ایک خاتون کی جانب سے پیزا ڈلیوری ایجنٹ کو معمولی حادثے کے بعد تھپڑ مارنے اور 30 ہزار روپے ہرجانے کا مطالبہ کرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔

    یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ڈلیوری رائیڈر اپنی موٹر سائیکل پر بھیڑ بھاڑ والی سڑک سے گزر رہا تھا کہ اچانک خاتون کی گاڑی سے معمولی ٹکرا ہوگئی۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خاتون نے غصے میں آ کر نہ صرف ڈلیوری بوائے کو زور دار تھپڑ رسید کیا بلکہ اس کا موبائل فون چھیننے کی بھی کوشش کی۔خاتون نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: "روڈ پہ جاؤ گے تو کچھ بھی کرو گے؟ اگر گاڑی چلانی نہیں آتی تو چلاتے کیوں ہو؟ پہلے فون کر اور پیسہ منگوا۔” اس دوران وہ بار بار 30 ہزار روپے فوری طور پر ادا کرنے کا مطالبہ کرتی رہیں اور قانونی کارروائی کی دھمکی بھی دیتی رہیں۔

    دوسری جانب بے بس اور خوفزدہ ڈلیوری رائیڈر اپنی صفائی پیش کرنے کی کوشش کرتا رہا مگر خاتون کا غصہ کم نہ ہوا۔ معاملہ بڑھنے پر قریبی ڈلیوری رائیڈرز بھی موقع پر پہنچ گئے اور صورتحال کو قابو میں لانے کی کوشش کی۔ عینی شاہدین نے مداخلت کرتے ہوئے خاتون کو سمجھایا کہ کسی کو تھپڑ مارنے کا حق کسی کو حاصل نہیں۔ تاہم خاتون نے الٹا جواب دیتے ہوئے کہا: "آپ مجھے لیکچر مت دیجیے، اگر اس نے نقصان کیا ہے تو یہی پیسے دے گا، آپ پولیس بلائیے۔” ویڈیو، جسے ایک عینی شاہد نے ریکارڈ کر کے ٹوئٹر پر شیئر کیا، چند ہی گھنٹوں میں ہزاروں ویوز حاصل کر چکی ہے اور شدید عوامی ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔ایک صارف نے لکھا: "اس عورت کو فوری طور پر گرفتار کیا جانا چاہیے، یہ سراسر تشدد ہے۔”دوسرے نے کہا: "محض ایک معمولی حادثے پر غریب شخص کی تذلیل کرنا انتہائی شرمناک حرکت ہے۔”ایک اور نے تبصرہ کیا: "ڈلیوری بوائے کو تھپڑ مارنا اور 30 ہزار روپے کا مطالبہ انتہائی افسوسناک عمل ہے۔ ایسے رویے نہ صرف غلط مثال قائم کرتے ہیں بلکہ معصوم محنت کشوں کی عزتِ نفس کو بھی مجروح کرتے ہیں۔”

  • کھیل میں سیاست گھسیٹنا اصل روح کے منافی ہے،محسن نقوی

    کھیل میں سیاست گھسیٹنا اصل روح کے منافی ہے،محسن نقوی

    ایشیا کپ کے پاک بھارت میچ میں بھارت کی جانب سے اسپورٹسمین شپ کی خلاف ورزی پر صدر ایشین کرکٹ کونسل ( اے سی سی) اور چئیرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) محسن نقوی کا رد عمل سامنے آگیا۔

    محسن نقوی نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں بھارت کی جانب سے اسپورٹسمین شپ کی خلاف ورزی پر انتہائی مایوسی کا اظہار کیاکہا ،کھیل میں سیاست گھسیٹنا اصل روح کے منافی ہے، امید ہے آئندہ فتوحات کو تمام ٹیمیں خوش اسلوبی اور وقار کے ساتھ منائیں گی

    یاد رہے کہ ایشیا کپ کے دبئی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے پاک بھارت میچ میں بھارت کی جانب سے کھیل کے آداب کی کھلی خلاف ورزی سامنے آئی، جب بھارتی ٹیم نے پاکستان کے ساتھ روایتی ہینڈ شیک سے انکار کر دیا تھا، پی سی بی کے مطابق پاکستانی ٹیم کے منیجر نوید اکرم چیمہ نے میچ ریفری کے رویے پر باقاعدہ احتجاج ریکارڈ کروا دیا جبکہ ٹیم مینجر کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ بھارتی کھلاڑیوں کا ہاتھ نہ ملانا اسپورٹس مین اسپرٹ کے خلاف ہے،کپتان سلمان علی آغا نے بھی بھارتی رویے کے خلاف اختتامی تقریب میں احتجاجاً شرکت نہیں کی، اس حوالے سے ذرائع نے دعویٰ کیا کہ اختتامی تقریب میں نہ جانے کی وجہ یہ تھی کہ تقریب کے پریزنٹیٹرکا تعلق بھارت سے تھا۔

  • سیلاب ہمیں ایک بار پھر زراعت اور معیشت میں پیچھے دھکیل گیا ،احسن اقبال

    سیلاب ہمیں ایک بار پھر زراعت اور معیشت میں پیچھے دھکیل گیا ،احسن اقبال

    وفاقی وزیر برائے ترقی و منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ سیلاب سے پنجاب کی معیشت کو 500 ارب روپے کا نقصان ہوا۔

    بھینیاں میں متاثرین کو امدادی سامان تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال نے بتایا کہ سیلاب سے پنجاب کو 500 ارب روپے کے نقصانات کا ابتدائی تخمینہ لگایا گیا ہے، سیلاب کے نتیجے میں پنجاب کی لاکھوں ایکڑ اراضی تباہ ہو گئی جبکہ 4.3 فیصد زرعی رقبہ اور 45 لاکھ افراد متاثر ہوئے، حالیہ سیلاب ہمیں ایک بار پھر زراعت اور معیشت میں پیچھے دھکیل گیا ہے تاہم حکومت اس بار بیرونی امداد یا قرضوں کے بجائے خود انحصاری پر توجہ دے گی، کشکول کو خدا حافظ کہیں گے۔

    وفاقی وزیر احسن اقبال نے مزید کہا کہ 2025 کے سیلاب نے ہمیں ایک بار پھر یہ دکھایا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی مستقبل کا خطرہ نہیں بلکہ ایک موجودہ حقیقت ہے، آج کی تقسیم صرف ریلیف سامان کی فراہمی نہیں ہے، یہ یکجہتی اور امید کا پیغام ہے۔

    دوسری جانب ریلیف کمشنر پنجاب کا کہنا ہے کہ شدید سیلابی صورتِ حال سے 4 ہزار 700 دیہات متاثر ہوئے اور 104 افراد جاں بحق ہو چکے، آج چاروں صوبوں کے زرعی محکموں کا اجلاس بلایا ہے،مزید برآں کل سے مون سون کے گیارہویں اسپیل کا الرٹ جاری کردیا گیا ہے جس کے تحت پنجاب کے بالائی علاقوں میں بارشوں کا امکان اور ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔

  • وفاقی حکومت کے 16 ماہ میں قرض کی تفصیلات سامنے آ گئیں

    وفاقی حکومت کے 16 ماہ میں قرض کی تفصیلات سامنے آ گئیں

    وفاقی حکومت کی جانب سے پہلے 16 مہینوں میں لیے جانے والے قرض کی تفصیلات سامنے آگئیں۔

    موجودہ حکومت کے ابتدائی 16 مہینوں کے دوران قرضوں میں13078 ارب روپےکا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، وفاقی حکومت کےقرضوں میں یہ اضافہ مارچ 2024 سے لیکر جون 2025کےدوران ہوا،نجی ٹی وی کے مطابق سٹیٹ بینک آف پاکستان کی دستاویز کے مطا بق مارچ 2024 سے جون 2025 کے 16 مہینوں کے دوران وفاقی حکومت کے مقامی قرضے میں 11ہزار796ارب روپے اور بیرونی قرضے میں 1282رب روپےکا اضافہ ہوا جس کے بعد وفاقی حکومت کا قرضہ جون 2025 تک بڑھ کر 77 ہزار 888 ارب روپے ہوگیا جبکہ فروری2024 تک وفاقی حکومت کے قرضے 64 ہزار 810 ارب روپے تھے،دستاویز کے مطابق فروری2024 تک مرکزی حکومت کا مقامی قرضہ42 ہزار 675 ارب روپے تھاجو جون 2025 تک بڑھ کر 54 ہزار 471 ارب روپے ہوا، اسی طرح فروری2024 تک وفاقی حکومت کا بیرونی قرضہ 22 ہزار 134ارب روپے تھا اور جون2025 تک مرکزی حکومت کا بیرونی قرضہ 23 ہزار417 ارب روپے کی سطح پر پہنچ چکا ہے۔

    واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی دستاویزات کے مطابق جون 2025 تک پاکستان پر مجموعی قرضے اور واجبات 94 ہزار 197 ارب روپے ہو چکےاور گزشتہ ایک مالی سال 2024۔25 کےدوران ملکی قرضوں اور واجبات میں 8 ہزار 740 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

  • مسلم سٹوڈنٹس لیگ کے  سیلاب متاثرین کی خیمہ بستیوں میں سکول قائم

    مسلم سٹوڈنٹس لیگ کے سیلاب متاثرین کی خیمہ بستیوں میں سکول قائم

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں،لاہور،باجوڑ،بہاولپور کی خیمہ بستی میں مسلم سٹوڈنٹس لیگ نے سکول قائم کر دیئے،مددگار سکولوں میں سینکڑوں بچے زیر تعلیم ہیں ،جلال پور پیر والا،علی پور سمیت دیگر علاقوں میں سیلاب متاثرین کو کشتیوں کے ذریعے ریسکیو کیا جا رہا ہے، متاثرین میں کھانے خشک راشن کی تقسیم کا عمل بھی جاری ہے

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو کی ہدایت پر سیلاب متاثرہ اضلاع میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں،مسلم اسٹوڈنٹس لیگ بھی سیلاب متاثرہ علاقوں میں متحرک ہے، مسلم سٹوڈنٹس لیگ نے سیلاب متاثرین کی خیمہ بستیوں لاہور، باجوڑ،بہاولپور میں مددگار اسکول قائم کر دیئے ہیں،سیلا ب متاثرہ بچوں‌کو سکولوں میں تعلیم دی جا رہی ہے، مسلم سٹوڈنٹس لیگ کی جانب سے سکولوں میں زیر تعلیم بچوں کو سکول بیگ، کتابیں، کاپیاں تحفتا دی گئی ہیں، مسلم سٹوڈنٹس لیگ کی مددگار ٹیم نے لاہور،موہلنوال میں خیمہ بستی میں سکول کے بعد باجوڑ خیبر پختونخواہ میں مددگار سکول قائم کیا جس کی افتتاحی تقریب میں اسسٹنٹ کمشنر خار باجوڑ کلیم جان، صدر مسلم سٹوڈنٹس لیگ انس محصی، جنرل سیکرٹری ایم ایس ایل عمر عباس، صدر مددگار ٹیم حماد عبدالرزاق، کو آڈینیٹر ایم ایس ایل کے پی کے معاویہ اعجاز اور دیگر معزز شخصیات نے خصوصی شرکت کی۔اس موقع پر متاثرہ بچوں میں قرآن مجید کے ساتھ ساتھ ایجوکیشنل گفٹس بھی تقسیم کیے گئے۔بہاولپور میں خیمہ بستی میں مددگار اسکول کے افتتاح کے موقع پر صدر مسلم سٹوڈنٹس لیگ انس محصی اور علاقائی معزز شخصیات نے خصوصی شرکت کی۔اس موقع پر انس محصی کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لئے مسلم سٹوڈنٹس لیگ کے نوجوان بھی متحرک ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ سیلاب متاثرین کے بچوں کی تعلیم کے لئے وقت ضائع نہ ہو اسی لئے خیمہ بستیوں میں ہی سکول بنائے گئے ہیں ،مسلم سٹوڈنٹس لیگ کی جانب سے دیگر خیمہ بستیوں میں بھی مددگار سکول بنائے جائیں گے.

  • سیلاب متاثرین ریسکیو، ،طارق جمیل فاؤنڈیشن کی کشتیاں مرکزی مسلم لیگ کے حوالے

    سیلاب متاثرین ریسکیو، ،طارق جمیل فاؤنڈیشن کی کشتیاں مرکزی مسلم لیگ کے حوالے

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ نےسیلاب متاثرہ اضلاع میں 14 خیمہ بستیاں قائم کر دیں ،خیمہ بستیوں میں24 ہزار سے زائد افراد مقیم ہیں، طارق جمیل فاؤنڈیشن کی جانب سے دو کشتیاں خدمت خلق کے رضاکاروں کے حوالے کر دی گئیں، مسلم ویمن لیگ نے بھی دو کشتیاں سیلاب متاثرہ علاقوں میں بھجوا دیں،جلال پور پیروالا میں مرکزی مسلم لیگ سندھ کی جانب سے لگائی گئی بستی میں سیلابی ریلا آنے سے متاثرین کو دوسرے مقام پر منتقل کر دیا گیا.

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو کی ہدایت پر سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں،لاہور،قصور،بہاولپور،مظفر گڑھ،ملتان، لودھراں، جلال پور پیروالا سمیت 14 خیمہ بستیاں قائم کی گئی ہیں،خیمہ بستیوں‌میں‌خواتین، بچوں سمیت 24 ہزار سے زائد افراد مقیم ہیں، خیمہ بستیوں میں متاثرین کوتین وقت کھانا فراہم کیا جا رہا ہے، خیمہ بستیوں میں میڈیکل کیمپ بھی قائم کئے گئے ہیں جہاں مریضوں کا مفت علاج معالجہ کیا جا رہا ہے،لاہور کی خیم بستی میں بچوں کے لئے سکول بھی قائم کیا گیا ہے ،خواتین کے لئے خیمہ بستیوں میں الگ سے واش رومز بنائے گئے ہیں ، مرکزی مسلم لیگ کی خیمہ بستیوں میں نماز کی ادائیگی کے لئے مساجدبھی بنائی گئی ہیں، جہاں پانچ وقت کی نماز باجماعت ادا کی جاتی ہے،خیمہ بستیوں‌میں مقیم بچوں میں مسلم سٹوڈنٹس لیگ کی جانب سے گفٹ بھی تقسیم کئے گئےہیں.موہلنوال کی خیمہ بستی میں 5 بچوں کی پیدائش ہوئی ہے جس پر مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے مبارکباد دی گئی اور مٹھائی بھی تقسیم کی گئی.مسلم ویمن لیگ کی جانب سے خیمہ بستی میں خواتین میں کپڑے و دیگر اشیا بھی تقسیم کی گئیں.

    جلال پور پیر والا میں تباہ کن سیلاب نے مرکزی مسلم لیگ سندھ کی جانب سے قائم ماڈل خیمہ سٹی کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا،سینکڑوں خیموں پر مشتمل خیمہ بستی میں مسجد، اسکول،خواتین و مردوں کے لیے علیحدہ باتھ رومز بھی تعمیر کیے گئے تھے۔ مکمل طور پر پانی میں ڈوب گئی۔مرکزی مسلم لیگ کے رضاکاروں نےمتاثرہ خاندانوں کو بروقت محفوظ‌مقام پر منتقل کر دیا، مسلم ویمن لیگ کی جانب سے سیلاب متاثرین کو ریسکیو کرنے کے لئے دو کشتیاں خدمت خلق کے حوالے کی گئی ہیں، مولانا طارق جمیل فاؤنڈیشن نے بھی سیلاب متاثرین کو ریسکیو کرنے کے لئے کشتیاں مرکزی مسلم لیگ کے رضاکاروں کے حوالے کیں،مرکزی مسلم لیگ کے رضاکاروں کی جانب سے سیلاب متاثرہ اضلاع میں متاثرین کو ریسکیو کر کے محفوظ مقام پر منتقل کرنے،کھانے،راشن کی تقسیم اور میڈیکل کیمپوں پر علاج معالجے کا سلسلہ جاری ہے.

  • وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کی 12 بہادر شہداء کی نماز جنازہ میں شرکت

    وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کی 12 بہادر شہداء کی نماز جنازہ میں شرکت

    وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیف آف آرمی اسٹاف کا دورہ بنوں ،وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل نے دہشت گردی سے متعلق اہم اور اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کی،

    وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل نے جنوبی وزیرستان آپریشن میں 12 بہادر شہداء کی نماز جنازہ میں بھی شرکت کی، وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کا بھرپور جواب جاری رہے گا اور اس میں کسی قسم کا کوئی ابہام برداشت نہیں کیا جائے گا، پاکستان میں دہشت گردی کرنے والے دہشت گردوں کے سرغنہ اور سہولت کار افغانستان میں ہیں اور ان کی پُشت پنائی ہندوستان کر رہا ہے، افغانستان کو واضح کر دیا گیا ہے کے خارجیوں اور پاکستان میں سے ایک کا انتخاب کر لیں، دہشت گردی کے واقعات میں افغان باشندے شامل ہیں جو افغانستان سے پار آ کر پاکستان میں دہشت گردی کر رہے ہیں۔ غیر قانونی طور پر پاکستان میں مقیم افغان باشندوں کا جلد انخلا انتہائی اہم ہے ،پاکستانی قوم دہشت گردی کے معاملے پر سیاست اور گمراہ کن بیانیے کو مکمل طور پر رد کرتی ہے، جو بھی خارجیوں اور ہندوستان کی دہشت گرد پراکسیوں کی سہولت کاری اور معاملہ فہمی کی بات کرتا ہے وہ انہی کا اعلیٰ کار ہے اور اُسے بھی اسی زبان میں جواب دیا جائے گا جس کا وہ حق دار ہے، اکستان اور بالخصوص خیبر پختونخوا کے غیور عوام، ریاست اور افواج پاکستان کے ساتھ ملکر ہندوستان کی ان پراکسیوں کے خلاف بنیان مرصوص کی طرح متحد ہیں،دہشت گردی کے خلاف مزید مؤثر جواب دینے کے لئے جو ضروری انتظامی اور قانونی اقدامات کرنے پڑے وہ فوراً کریں گے –

    وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل نے بنوں سی ایم ایچ میں زخمیوں کی عیادت بھی کی مپشاور کے کور کمامڈر نے علاقے کی سیکورٹی صورتحال پر تفصیلاً بریف کیا ،وزیر اعظم کا چیف آف آرمی اسٹاف نے بنوں کنٹونمنٹ میں استقبال کیا

  • عباسی شہید اسپتال میں لفٹ حادثہ، صحافی بال بال بچ گئے

    عباسی شہید اسپتال میں لفٹ حادثہ، صحافی بال بال بچ گئے

    کراچی: میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کی موجودگی میں عباسی شہید اسپتال میں پیش آنے والا لفٹ حادثہ بڑے سانحے سے ٹل گیا۔

    تفصیلات کے مطابق اسپتال میں ایک تقریب کے دوران لفٹ اچانک گر گئی، جس میں متعدد صحافی، ٹی وی چینلز کے کیمرہ مین اور ایک خاتون صحافی بھی سوار تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق لفٹ تیسری منزل سے پہلی منزل پر آ کر رکی لیکن جھٹکے کے باعث دروازہ اٹک گیا، جس کے باعث لفٹ مکمل طور پر گرنے سے بچ گئی اور صحافی محفوظ رہے۔ریسکیو عملے نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے لفٹ کا دروازہ کھول کر اندر پھنسے صحافیوں کو باہر نکالا۔ موقع پر موجود صحافیوں نے بتایا کہ حادثہ چند لمحوں کے فرق سے بڑے سانحے میں بدل سکتا تھا کیونکہ اس سے کچھ ہی دیر قبل میئر کراچی مرتضیٰ وہاب اسی لفٹ کے ذریعے نیچے اترے تھے۔

    یاد رہے کہ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ رواں برس فروری میں بھی میئر کراچی مرتضیٰ وہاب عباسی شہید اسپتال پہنچے تھے تو وہاں کی لفٹ میں پھنس گئے تھے۔ اس وقت لفٹ چوتھی منزل سے تیزی کے ساتھ پہلی منزل پر آ کر رک گئی تھی، تاہم خوش قسمتی سے میئر، ڈپٹی میئر اور دیگر 15 افراد محفوظ رہے تھے۔

    اسپتال کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ لفٹوں کی مرمت اور دیکھ بھال کے لیے بارہا شکایات درج کرائی گئی ہیں، تاہم ابھی تک مستقل حل فراہم نہیں کیا گیا۔ شہری حلقوں اور صحافتی تنظیموں نے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اسپتال میں نصب لفٹوں کو فوری طور پر قابلِ استعمال اور محفوظ بنایا جائے تاکہ مستقبل میں کسی بڑے سانحے سے بچا جا سکے۔