Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • گلگت بلتستان کی ترقی، خودمختاری اور آئینی حقوق کے لیے پرعزم ہیں،بلاول

    گلگت بلتستان کی ترقی، خودمختاری اور آئینی حقوق کے لیے پرعزم ہیں،بلاول

    پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نےڈوگرہ راج سے گلگت بلتستان کی آزادی کی سالگرہ پر پیغام جاری کیا ہے

    چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گلگت بلتستان کے عوام کو ڈوگرہ راج سے آزادی کی سالگرہ پر مبارکباد د ی اور کہا کہ آج سے 78 سال قبل گلگت بلتستان کے غیور عوام نے تاریخ کا ایک سنہری باب رقم کیا،یکم نومبر 1947 کو گلگت بلتستان کے عوام نے جرات، استقامت اور قربانیوں سے اپنی آزادی حاصل کی، گلگت بلتستان کے عوام کی یہ روح پاکستان کے اتحاد، ایمان اور استقامت کے مثالی جذبے کی عکاس ہے،قائدِ عوام اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے وژن کے تحت گلگت بلتستان کی ترقی، خودمختاری اور آئینی حقوق کے لیے پرعزم ہیں،پیپلز پارٹی ہی وہ جماعت ہے جس نے پہلی بار گلگت بلتستان کو سیاسی شناخت اور خود مختاری دی،گلگت بلتستان کے عوام ہمارے شمالی سرحدی خطے کے محافظ اور پاکستان کے قومی وجود کا لازمی حصہ ہیں، یقین ہے کہ پوری قوم مل کر ایک مضبوط، جامع اور خوشحال پاکستان کی تعمیر کے سفر کو جاری رکھے گی

  • یوم آزادی گلگت بلتستان کی مناسبت سے آئی ایس پی آر کا نغمہ ریلیز

    یوم آزادی گلگت بلتستان کی مناسبت سے آئی ایس پی آر کا نغمہ ریلیز

    یوم آزادی گلگت بلتستان کی مناسبت سے آئی ایس پی آر نے خوبصورت نغمہ ریلیز کر دیا

    گلگت بلتستان کے نوجوان گلوکاروں کی آواز میں وطن سے محبت کا والہانہ انداز، نغمہ کے بول ہیں "پاکستان کی شان – گلگت بلتستان”یہ نغمہ گلگت بلتستان کا وطنِ عزیزسے لازوال رشتہ اور محبت کی بہترین عکاسی کرتا ہے،یہ گیت اُن جانثاروں کی بھی یاد دلاتا ہے جنہوں نے مادرِ وطن کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے،نغمہ میں اس امر کابھی ذکر کیا گیا ہے کہ جس نے بھی اس ملک کی جانب میلی نگاہ ڈالی اسکو ذلت ورسوائی کا سامنا کرنا پڑا،نغمہ میں اس بات کی بھی ترویج کی گئی کہ ہمیں اپنی تمام تر ذاتی رنجشوں کو بُھلا کر اس ملک کے مستقبل کوپیشِ نظر رکھنا چاہیئے

    ہم ایک عظیم قوم ہیں اور اس وطن کی سرفرازی کے لئے ہمیں اتحاد، محبت اور بھائی چارہ کی فضا کو قائم کرنا ہوگا

  • سندھ کی خدمت کا سلسلہ جاری رہے گا۔شرجیل میمن

    سندھ کی خدمت کا سلسلہ جاری رہے گا۔شرجیل میمن

    حیدرآباد: سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے راول ہائوس راہوکی، ٹنڈو جام میں اپنے حلقے کے عوام سے ملاقات کی۔

    ملاقات کے دوران بڑی تعداد میں مقامی رہنماؤں، پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنان اور عام شہریوں نے شرکت کی۔ عوام نے وزیر کو اپنے مسائل، شکایات اور علاقے میں درپیش مختلف مشکلات سے آگاہ کیا۔شرجیل انعام میمن نے شہریوں کی باتیں غور سے سنیں اور موقع پر ہی متعلقہ محکموں کے افسران کو عوامی مسائل کے فوری حل کے احکامات جاری کیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ عوام کی خدمت کو عبادت سمجھتی ہے اور پیپلز پارٹی کی قیادت ہمیشہ عوام کے ساتھ کھڑی رہی ہے۔سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت عوام کی بے لوث خدمت پر یقین رکھتی ہے، اور عوام ہی ہماری اولین ترجیح ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کا نصب العین ہمیشہ عوام کی فلاح و بہبود، ترقی، اور خوشحالی رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کسی بھی مشکل وقت میں عوام کو اکیلا نہیں چھوڑے گی، چاہے وہ قدرتی آفات ہوں، معاشی دباؤ ہو یا سماجی مسائل، حکومت ہر ممکن مدد فراہم کرے گی، پیپلز پارٹی کا مقصد اقتدار نہیں بلکہ عوامی خدمت ہے، اور اسی جذبے کے تحت ہم صوبے کے ہر کونے میں ترقیاتی منصوبے جاری رکھے ہوئے ہیں۔سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے مزید کہا کہ عوام کے تعاون اور اعتماد سے ہی حکومت اپنی پالیسیوں کو کامیابی سے آگے بڑھا سکتی ہے، وہ ذاتی طور پر اپنے حلقے کے عوام کے مسائل سے بخوبی واقف ہیں اور ان کے حل کے لیے مسلسل کوشاں ہیں۔شرجیل انعام میمن نے کہا کہ وہ عوام سے رابطہ برقرار رکھیں گے تاکہ ہر مسئلے کو زمینی سطح پر حل کیا جا سکے، پیپلز پارٹی عوامی طاقت سے وجود میں آئی ہے اور اسی طاقت کے ذریعے سندھ کی خدمت کا سلسلہ جاری رہے گا۔

  • سی ٹی ڈی کی کاروائی،18 دہشت گرد گرفتار

    سی ٹی ڈی کی کاروائی،18 دہشت گرد گرفتار

    محکمۂ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی جانب سے لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں کی گئی کارروائیوں کے دوران 18 دہشت گردوں کو گرفتار لیا گیا۔

    سی ٹی ڈی کے ترجمان کے مطابق انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں لاہور، منڈی بہاالدین، خوشاب، بہاولپور، ٹوبہ ٹیک سنگھ، گوجرانوالہ، نارووال، پاکپتن اور بھکر میں کی گئیں،کارروائیوں کے دوران ایک خطرناک دہشت گرد تنظیم کے اہم رکن کو بھی گرفتار کیا گیا ہے، دہشت گرد پنجاب کے ایک شہر میں دہشت گردی کی پلاننگ کر چکا تھا،سی ٹی ڈی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں سے دھماکا خیز مواد، ای آئی ڈی اور 3 ڈیٹونیٹر بھی برآمد ہوئے ہیں

  • شوہر نے کی خاتون ساتھی کے ساتھ زیادتی،بیوی نے بنائی "ویڈیو،کیا گیا بلیک میل

    شوہر نے کی خاتون ساتھی کے ساتھ زیادتی،بیوی نے بنائی "ویڈیو،کیا گیا بلیک میل

    ممبئی کے پوش علاقے پنویل میں ایک انتہائی دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک انشورنس کمپنی میں برانچ منیجر کے طور پر کام کرنے والے شخص نے اپنی خاتون ساتھی کو بے ہوش کر کے زیادتی کا نشانہ بنایا، جبکہ اس کی بیوی نے پورے واقعے کی ویڈیو بنائی۔ بعد ازاں میاں بیوی نے اس ویڈیو کی بنیاد پر متاثرہ خاتون کو بلیک میل کرتے ہوئے لاکھوں روپے بھتہ وصول کیا۔

    پولیس کے مطابق مرکزی ملزم کی شناخت پردیپ نام دیو نرلے کے نام سے ہوئی ہے جو اندھیری میں ایک معروف انشورنس کمپنی میں برانچ منیجر کے طور پر خدمات انجام دے رہا تھا۔ اس کی بیوی رینوکا نرلے اور بھائی پروین نرلے بھی اس گھناؤنے جرم میں شریک ہیں۔ تینوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ بیوی اور بھائی تاحال مفرور ہیں۔ پولیس ان کی تلاش کے لیے چھاپے مار رہی ہے۔پولیس رپورٹ کے مطابق ملزم اور متاثرہ خاتون کی ملاقات ایک آن لائن کمپنی میٹنگ کے دوران ہوئی تھی۔ دونوں کے درمیان کام سے متعلق تعلق وقت کے ساتھ ذاتی رشتے میں بدل گیا۔ کچھ عرصے بعد جب خاتون واپس ممبئی آئیں تو ملزم نے انہیں اپنے گھر بلایا۔خاتون کی شکایت کے مطابق، وہاں پہنچنے پر پردیپ نے انہیں کوئی مشروب پیش کیا جس میں نشہ آور مواد شامل تھا۔ بے ہوشی کی حالت میں اس نے زیادتی کی، جبکہ اس کی بیوی رینوکا نرلے نے اس پورے واقعے کی ویڈیو فلمائی۔پولیس کے مطابق ریپ کے بعد میاں بیوی نے متاثرہ خاتون کو ویڈیو دکھا کر بلیک میل کرنا شروع کر دیا۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر وہ رقم ادا نہ کرے تو ویڈیو کو سوشل میڈیا پر وائرل کر دیا جائے گا۔ خوف اور شرمندگی کے باعث خاتون نے لاکھوں روپے انہیں ادا کیے۔ تاہم، مسلسل دباؤ اور دھمکیوں سے تنگ آ کر بالآخر خاتون نے پولیس سے رجوع کیا۔

    پولیس نے متاثرہ خاتون کی درخواست پر ملزموں کے خلاف بھارتی تعزیرات کی دفعات کے تحت زیادتی، بلیک میلنگ، اور بھتہ خوری کے الزامات میں مقدمہ درج کیا ہے۔ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزموں نے منصوبہ بندی کے تحت خاتون کو نشانہ بنایا۔ پولیس ٹیموں نے ملزموں کے ممکنہ ٹھکانوں پر چھاپے مارے ہیں اور قوی امکان ہے کہ جلد ہی انہیں گرفتار کر لیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق، پولیس نے متاثرہ خاتون کا بیان قلم بند کر لیا ہے اور ڈیجیٹل شواہد (ویڈیو و دیگر مواد) بھی تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مزید انکشافات آئندہ دنوں میں سامنے آئیں گے۔

  • پاکستان اور جرمنی جمہوریت، برداشت اور پارلیمانی طرزِ حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں،مریم نواز

    پاکستان اور جرمنی جمہوریت، برداشت اور پارلیمانی طرزِ حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں،مریم نواز

    وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے جرمن پارلیمنٹ کی رکن دِریا تُرک نَخباؤر (DERYA TÜRK-NACHBAUR) نے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات، پارلیمانی تعاون، ویمن ایمپاورمنٹ، تعلیم، یوتھ ایکسچینج پروگرام، ماحولیات اور کلین انرجی کے منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    وزیرِاعلیٰ مریم نواز شریف نے مہمان پارلیمنٹیرین کا پرتپاک خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے تاریخی اور ثقافتی دل لاہور میں جرمنی کے معزز مہمانوں کا خیرمقدم کرنا میرے لیے باعثِ اعزاز ہے۔ انہوں نے فریڈرک ایبرٹ فاؤنڈیشن کی 100 ویں سالگرہ پر مبارکباد دی اور پاکستان میں اس کی 35 سالہ خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ فاؤنڈیشن نے پاکستان اور جرمنی میں جمہوریت، سماجی انصاف اور مکالمے کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے،مریم نواز شریف نے کہا کہ پاکستان اور جرمنی جمہوریت، برداشت اور پارلیمانی طرزِ حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں جو ترقی و امن کی بنیاد ہیں۔ انہوں نے فلڈ کے دوران جرمنی کی جانب سے اظہارِ ہمدردی و یکجہتی کو دونوں ممالک کی دیرینہ دوستی کی علامت قرار دیا۔وزیرِاعلیٰ نے کہا کہ پنجاب جرمنی کی رینیو ایبل انرجی، زرعی ٹیکنالوجی، آئی ٹی سروسز اور کلین مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں سرمایہ کاری کا خیرمقدم کرتا ہے،انہوں نے نوجوانوں کی روزگار صلاحیت بڑھانے کے لیے جرمنی کے ڈوال ووکیشنل ٹریننگ ماڈل کو اپنانے کی خواہش ظاہر کی۔ مریم نواز شریف نے کہا کہ تعلیم حکومتِ پنجاب کے اصلاحاتی ایجنڈے کا بنیادی ستون ہے، نصاب کی جدت، ڈیجیٹل لرننگ اور عالمی تحقیقی روابط کے فروغ پر بھرپور کام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دس ہزار سے زائد پاکستانی طلبہ جرمن جامعات میں زیرِ تعلیم ہیں،خواتین کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خواتین کی بااختیاری پنجاب کی سماجی پالیسی کا مرکزی جزو ہے، ای بائیک سکیم، ہونہار سکالرشپ پروگرام اور ویمن اینکلیوز منصوبے خواتین کی محفوظ اور باعزت معاشی شرکت کو یقینی بنا رہے ہیں۔وزیرِاعلیٰ نے کہا کہ پنجاب کے تاریخی ورثے جیسے بادشاہی مسجد، لاہور قلعہ، شالامار گارڈن اور داتا دربار مشترکہ تہذیبی سرمائے کی علامت ہیں۔ ثقافتی تعاون مؤثر سفارت کاری ہے اور ہم جرمن اداروں کے ساتھ مشترکہ فن و ثقافت منصوبوں کا خیرمقدم کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور جرمنی امن، ترقی اور انسانی وقار کی مشترکہ اقدار کے حامل ہیں، ہم پارلیمانی روابط، پائیدار ترقی اور تعاون کے ذریعے پاک جرمن دوستی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہیں۔

  • یکم نومبر 1984،بھارت کی تاریخ کا سیاہ باب،سکھ برادری انتہا پسند گروہوں کا نشانہ

    یکم نومبر 1984،بھارت کی تاریخ کا سیاہ باب،سکھ برادری انتہا پسند گروہوں کا نشانہ

    یکم نومبر 1984، بھارت کی تاریخ کا وہ سیاہ باب ہے جب اندرا گاندھی کے قتل کے بعد پورے ہندوستان میں سکھوں کے خلاف ظلم و بربریت کا سلسلہ شروع ہوا۔ 31 اکتوبر 1984 کو اندرا گاندھی کے قتل کے فوراً بعد دہلی سمیت مختلف شہروں میں انتہاء پسند ہندو گروہوں نے منظم انداز میں سکھ برادری کو نشانہ بنایا۔

    ان ہولناک واقعات کے دوران ہزاروں سکھوں کو بے دردی سے قتل کیا گیا جبکہ سینکڑوں خواتین کی عصمت دری کی گئی۔ عالمی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس قتلِ عام کو بھارت کی تاریخ کا شرمناک واقعہ قرار دیا۔عالمی جریدے ڈپلومیٹ کے مطابق، انتہاء پسند ہندوؤں نے ووٹنگ لسٹوں کے ذریعے سکھوں کے نام اور پتے معلوم کیے اور رات کی تاریکی میں ان کے گھروں کی نشاندہی کی۔ اگلے دن منظم حملوں میں سکھ مکینوں کو نہ صرف قتل کیا گیا بلکہ ان کے گھروں کو بھی آگ لگا دی گئی،شواہد سے ثابت ہوا کہ یہ تمام کارروائیاں بھارتی حکومت کی خاموش حمایت اور سرپرستی میں کی گئیں۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق سکھوں کے خلاف باضابطہ طور پر نسل کشی کی مہم چلائی گئی جو تین دن تک بلا روک ٹوک جاری رہی۔یہ ظلم و بربریت محض 1984 تک محدود نہیں رہی۔ بھارت میں اس سے قبل 1969 میں گجرات، 1984 میں امرتسر، اور 2000 میں چٹی سنگھ پورہ میں بھی سکھوں کے خلاف فسادات کیے گئے۔

    2019 میں کسانوں کے احتجاج کے دوران نریندر مودی حکومت نے ہزاروں سکھ مظاہرین کو گرفتار کیا۔ بیرونِ ملک مقیم سکھ رہنماؤں کو بھی بھارتی ایجنسیوں کی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔18 جون 2023 کو سکھ رہنماء ہردیپ سنگھ نجر کو کینیڈا میں قتل کر دیا گیا، جس کے بارے میں کینیڈا کے سابق وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے بھارتی حکومت کے ملوث ہونے کی تصدیق کی،ان حقائق سے واضح ہوتا ہے کہ سکھوں کے خلاف بھارتی ریاستی مظالم صرف بھارت کے اندر نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی جاری ہیں، جس سے بھارت کا چہرہ ایک بار پھر اقلیت دشمن ملک کے طور پر دنیا کے سامنے بے نقاب ہوا ہے۔

  • فلسطینی قیدی پر تشدد کی ویڈیو لیک کیس،اسرائیلی فوج کی چیف لیگل افسر مستعفی

    فلسطینی قیدی پر تشدد کی ویڈیو لیک کیس،اسرائیلی فوج کی چیف لیگل افسر مستعفی

    اسرائیلی فوج کی اعلیٰ قانونی افسر (چیف ایڈووکیٹ جنرل) میجر جنرل یفات ٹومر یروشلمی نے جمعہ کے روز اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کا استعفیٰ اس مجرمانہ تحقیقات کے بعد سامنے آیا ہے جو اس ویڈیو کے لیک ہونے پر کی جا رہی تھی جس میں اسرائیلی فوجی ایک فلسطینی قیدی کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بناتے دکھائی دیتے ہیں۔

    میجر جنرل یفات ٹومر یروشلمی نے اپنے استعفے میں لکھا کہ انہوں نے اگست 2024 میں اس ویڈیو کے افشا ہونے کی منظوری دی تھی، جس کے باعث اب وہ مزید اس عہدے پر کام نہیں کر سکتیں۔ویڈیو کے منظرِ عام پر آنے کے بعد اسرائیلی فوج نے پانچ فوجیوں کے خلاف مجرمانہ کارروائی شروع کی، جس کے بعد ملک میں ایک بڑی ہلچل پیدا ہو گئی۔ دائیں بازو کے سیاستدانوں اور قوم پرست گروہوں نے اس کارروائی کی مخالفت کرتے ہوئے احتجاج کیا۔ کچھ مظاہرین نے اس واقعے کے بعد دو فوجی اڈوں پر دھاوا بھی بولا جب تحقیقاتی ٹیم نے فوجیوں کو تفتیش کے لیے طلب کیا۔

    لیک ہونے والی ویڈیو اسرائیل کے صدی تیمن (Sde Teiman) حراستی مرکز کی ہے جہاں ان فلسطینیوں کو رکھا گیا ہے جو یا تو 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے میں ملوث تھے یا بعد ازاں غزہ کی لڑائی میں گرفتار کیے گئے۔ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ چند فوجی ایک فلسطینی قیدی کو ایک طرف لے جا کر اس کے گرد جمع ہو جاتے ہیں، ایک فوجی کتے کو قیدی پر چھوڑا جاتا ہے جبکہ باقی اپنی ڈھالوں سے منظر چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔

    اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاتز نے رواں ہفتے بتایا کہ ویڈیو کے لیک ہونے پر جاری مجرمانہ تحقیقات کے دوران میجر جنرل یروشلمی کو جبری رخصت پر بھیج دیا گیا تھا۔یروشلمی نے اپنے دفاع میں کہا کہ انہوں نے یہ اقدام اس لیے اٹھایا تاکہ فوج کے قانونی شعبے کو ’’جھوٹے پروپیگنڈے‘‘ سے بچایا جا سکے، کیونکہ جنگ کے دوران فوج کے قانونی ادارے کو جان بوجھ کر بدنام کیا جا رہا تھا۔انہوں نے اپنے استعفے میں لکھا "صدی تیمن کے قیدی یقیناً بدترین دہشت گرد ہیں، مگر اس حقیقت سے یہ ذمہ داری ختم نہیں ہوتی کہ کسی بھی قیدی کے ساتھ غیر انسانی سلوک نہیں کیا جا سکتا۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اب یہ بنیادی اصول سب کو قائل نہیں کرتا۔”

    وزیرِ دفاع کاتز نے ان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "جو کوئی اسرائیلی فوجیوں کے خلاف جھوٹے الزامات لگاتا ہے وہ اسرائیلی فوج کی وردی پہننے کا اہل نہیں۔”دوسری جانب اسرائیلی پولیس کے وزیر ایتمار بن گویر نے ان کے استعفے کو خوش آئند قرار دیا اور فوجی قانونی افسران کے خلاف مزید تحقیقات کا مطالبہ کیا۔بن گویر نے اپنی ایک ویڈیو بھی شیئر کی جس میں وہ فلسطینی قیدیوں کے اوپر کھڑے نظر آ رہے تھے، جو بندھے ہوئے حالت میں فرش پر لیٹے تھے۔ انہوں نے کہا کہ "یہ وہ حملہ آور ہیں جو 7 اکتوبر کے قاتلانہ حملوں میں شامل تھے، اور انہیں سزائے موت ملنی چاہیے۔”

    غزہ جنگ بندی کے تحت رواں ماہ تقریباً 1,700 فلسطینی قیدی رہا کیے گئے، بدلے میں 20 اسرائیلی یرغمالیوں کو آزاد کیا گیا۔ کچھ رہائی پانے والے اسرائیلی قیدیوں نے دعویٰ کیا کہ حماس کے جنگجوؤں نے ان پر بن گویر کے بیانات کے بدلے تشدد کیا۔بن گویر نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ "یہ سب حماس کے مفاد میں پھیلائی گئی کہانیاں ہیں۔”

    بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے صدی تیمن کیمپ اور دیگر اسرائیلی حراستی مراکز میں فلسطینی قیدیوں پر بدترین تشدد، بھوک اور غیر انسانی رویے کی رپورٹس جاری کی ہیں۔اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات کی "درجنوں تحقیقات” جاری ہیں، تاہم وہ اسے "نظامی مسئلہ” تسلیم کرنے سے انکار کرتی ہے۔

  • بھارت نژاد بزنس مین کی 500 ملین ڈالر کی دھوکہ دہی

    بھارت نژاد بزنس مین کی 500 ملین ڈالر کی دھوکہ دہی

    عالمی مالیاتی دنیا میں بھارتی نژاد بزنس مین کی جانب سے فراڈ کہانی سامنے آئی ہے، بھارتی نژاد ٹیلی کام ایگزیکٹو بانکم برہم بھت پر الزام ہے کہ اس نے بلیک راک کی پرائیویٹ کریڈٹ یونٹ اور کئی بڑے مالیاتی اداروں کو 500 ملین ڈالر (آدھا ارب ڈالر) کے قرض فراڈ میں الجھا دیا۔

    یہ انکشاف امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل کی خصوصی رپورٹ میں ہوا ہے، جس کے مطابق بلیک راک کی ذیلی کمپنی HPS انویسٹمنٹ پارٹنرز سمیت متعدد قرض دہندگان نے الزام عائد کیا ہے کہ برہم بھت نے اپنی کمپنیوں براڈ بینڈ ٹیلی کام (Broadband Telecom) اور بریج وائس (Bridgevoice) کے ذریعے جعلی انوائسز اور جھوٹے اکاؤنٹس بنا کر بینکوں سے بھاری قرضے حاصل کیے، اور پھر رقوم کو بھارت اور ماریشس کے آف شور اکاؤنٹس میں منتقل کر دیا۔رپورٹ کے مطابق برہم بھت کی کمپنیوں پر قرض دہندگان کا واجب الادا قرضہ 500 ملین ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔مقدمے میں کہا گیا ہے کہ یہ فراڈ نہایت منظم انداز میں کیا گیا، جہاں کمپنیوں کے مالی گوشوارے محض کاغذی خوشحالی کا دھوکہ تھے۔

    فرانسیسی بینک BNP Paribas نے بھی HPS کے ذریعے دئیے گئے قرضوں کی فنانسنگ میں کردار ادا کیا تھا، تاہم بینک نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔یہ اسکینڈل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بلیک راک نے رواں سال HPS انویسٹمنٹ پارٹنرز کو خرید کر پرائیویٹ کریڈٹ مارکیٹ میں اپنی توسیع شروع کی تھی۔ HPS نے ستمبر 2020 سے برہم بھت سے وابستہ کمپنیوں کو قرض دینا شروع کیا، جو بعد میں بڑھ کر 385 ملین ڈالر سے 430 ملین ڈالر (2021–2024) تک پہنچ گیا۔ذرائع کے مطابق BNP Paribas نے برہم بھت کے نیٹ ورک کی کمپنیوں، بالخصوص Carriox Capital اور اس کی ذیلی اداروں، کو دیے گئے قرضوں کا تقریباً آدھا حصہ فنانس کیا۔

    وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق جولائی 2025 میں HPS کے ایک ملازم نے کمپنی کے کلائنٹس کے ای میل ایڈریسز میں مشکوک مماثلت دیکھی۔تحقیق سے پتا چلا کہ یہ ای میلز جعلی ڈومینز سے بنائی گئی تھیں، جو اصلی ٹیلی کام کمپنیوں سے مشابہ دکھائی دیتی تھیں۔مزید جانچ پر یہ بھی سامنے آیا کہ کئی ای میلز اور دستاویزات مکمل طور پر جعلی تھیں۔جب HPS کے حکام نے بانکم برہم بھت سے رابطہ کیا تو اس نے پہلے تشویش کو نظرانداز کیا اور پھر فون کالز کا جواب دینا بند کر دیا۔ایک HPS اہلکار نے جب گارڈن سٹی (نیو یارک) میں کمپنی کے دفاتر کا دورہ کیا تو دفاتر بند اور سنسان پائے گئے۔قریب کے کرایہ داروں نے بھی تصدیق کی کہ کئی ہفتوں سے کوئی ملازم دفتر میں داخل نہیں ہوا۔

    برہم بھت کی رہائش گاہ پر دو BMW، ایک Porsche، ایک Tesla اور ایک Audi کھڑی دیکھی گئیں، جبکہ دروازے کے باہر ایک بند پیکج گرد سے اٹا ہوا پایا گیا۔فراڈ کے انکشاف کے بعد HPS نے امریکی لا فرم Quinn Emanuel اور اکاؤنٹنگ فرم CBIZ کی خدمات حاصل کیں۔تحقیقات سے معلوم ہوا کہ گزشتہ دو سالوں میں جمع کیے گئے تمام کسٹمر ای میلز جعلی تھے، اور کئی کانٹریکٹس 2018 سے جعلی دستاویزات پر مبنی تھے۔ایک نمایاں مثال بیلجیئم کی ٹیلی کام کمپنی BICS کی تھی، جس نے جولائی میں باقاعدہ تحریری طور پر تصدیق کی کہ ہمیں برہم بھت کی کمپنی کی جانب سے موصولہ ای میلز سے کوئی تعلق نہیں، یہ ایک واضح فراڈ کی کوشش تھی۔

    مقدمے کے مطابق برہم بھت نے ایک ایسا مالیاتی تاثر پیدا کیا جس میں تمام اثاثے محض کاغذی تھے، حقیقت میں ان کا کوئی وجود نہیں تھا۔،مزید الزامات کے مطابق اس نے ان جعلی اثاثوں کے نام پر حاصل کی گئی رقم بھارت اور ماریشس کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کر دی۔

    یہ اسکینڈل عالمی مالیاتی مارکیٹ میں ایک بڑا دھچکا سمجھا جا رہا ہے، خاص طور پر اس وقت جب بلیک راک جیسی بڑی کمپنی پرائیویٹ کریڈٹ مارکیٹ میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھا رہی تھی۔مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ڈیجیٹل دستاویزات پر اندھا اعتماد اور کمزور مالیاتی جانچ کے خطرات کو اجاگر کرتا ہے۔رپورٹ کے مطابق امریکی عدالت میں دائر مقدمہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، تاہم اگر الزامات درست ثابت ہوئے تو یہ امریکی مالیاتی تاریخ کے بڑے بین الاقوامی قرض فراڈز میں سے ایک قرار دیا جائے گا۔

  • پاکستان کے آلودہ ترین شہروں میں لاہور تیسرے نمبر پر

    پاکستان کے آلودہ ترین شہروں میں لاہور تیسرے نمبر پر

    بھارت سے آنے والی آلودہ مشرقی ہواؤں کے سبب پنجاب کے وسطی علاقوں میں فضائی آلودگی خطرناک حد تک بڑھ گئی۔

    محکمہ ماحولیات پنجاب کے مطابق بھارت سے آنےوالی آلودہ مشرقی ہوائیں لاہور کے فضائی معیار پر اثر انداز ہو رہی ہیں، اس دوران لاہور کا اوسط اے کیو آئی 320 تا 360 تک رہنے کا امکان ہے،محکمہ ماحولیات پنجاب کا بتانا ہے کہ پاکستان کے آلودہ ترین شہروں میں لاہور تیسرے نمبر پر ہے، لاہور کا ائیر کوالٹی انڈیکس 450 ریکارڈ کیا گیا ہے ، فضا میں آلودگی کی شرح بلند مگر قابو میں ہے تاہم لاہور میں دوپہر ایک بجے سے 5 بجے تک فضائی معیار میں بہتری کا امکان ہے، فضائی معیار کی نگرانی کرنے والی بین الاقوامی ویب سائٹ کے مطابق، لاہور سیکرٹریٹ میں 1018، ساندہ روڈ پر 997 اور راوی روڈ پر 820 پارٹیکولیٹ میٹر ریکارڈ کیے گئے ہیں، لاہور کے مختلف علاقوں میں فضا انتہائی مضر صحت ہے جس کے پیش نظر ماہرین نے شہریوں کو ماسک کے استعمال اور بغیر ضرورت گھروں سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت جاری کی ہے،دوسری جانب برکی روڈ، شاہدرہ، ملتان روڈ، جی ٹی روڈ، ایجرٹن روڈ پر اے کیو آئی 500 ریکارڈ کیا گیا گیا، اسی طرح ڈیرہ غازی خان اور قصور بھی ملک کے آلودہ ترین شہروں میں شامل ہیں، ڈی جی خان اور قصور میں ائیرکوالٹی انڈیکس 500 ریکارڈ کیا گیا، قصور میں 286 ، رائے ونڈ میں 601، گوجرانوالہ میں 442، لاہور میں 398، فیصل آباد میں 337 اور شیخوپورہ میں 358پارٹیکولیٹ میٹر ریکارڈ کیا گیا۔