Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • سابق خاتون ایم پی اے کا بیٹا سنوکر کلب سے جوا کھیلتے ہوئے گرفتار

    سابق خاتون ایم پی اے کا بیٹا سنوکر کلب سے جوا کھیلتے ہوئے گرفتار

    سابقہ ایم پی اے خاتون پر مبینہ پولیس تشدد کا معاملہ،ڈی آئی جی آپریشنز نےمبینہ واقعہ کا نوٹس لے لیا اور انکوائری کا حکم دے دیا
    ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے انکوائری 48 گھنٹے میں مکمل کرنے کا حکم دیا،مبینہ واقعہ کی تمام شواہد بشمول ویڈیوز سے انکوائری کرنے کا حکم دیا گیا،ترجمان کے مطابق مبینہ تشدد کی انکوائری شروع، دیگر تمام الزامات حقائق کے منافی ہیں،خاتون ایم پی اے کا بیٹا سنوکر کلب میں جوا کھیلتے گرفتار ہوا،ارسلان دو روز قبل 90 سنوکر کلب میں 12 دیگر ملزمان کے ساتھ رنگے ہاتھوں گرفتار ہوا، مذکورہ سنوکر کلب اور گرفتار دیگر ملزمان سابقہ جوئے میں ریکارڈ یافتہ ہیں،خاتون کا ایک بیٹا گزشہ ماہ موٹر سائیکل سے گر کر جاں بحق ہوا جس کا مقدمہ درج ہے، سنوکر کلب سے دوسرے بیٹے کی گرفتاری کو پہلے بیٹے کے مقدمہ قتل پر دباو سے جوڑنا بے بنیاد ہےخاتون ایم پی اے نے بیٹے کو چھڑوانے کے لیے دباو ڈالنے کی کوشش کی،سابق ایم پی اے اور اس کے شوہر نے بیٹے کو چھڑوانے کے لیے پولیس والوں سے شدید بدسلوکی کی، وزیر اعلی پنجاب کی ہدایت کے مطابق قانون سب کے لیے برابر ہے،بغیر تصدیق الزام تراشی پر مبنی یک طرفہ خبر چلانا افسوسناک ہے

    قبل ازیں سابق رکن اسمبلی سمیرا کومل کے بیٹے پر مزنگ پولیس نے جوا کھیلنے کا مقدمہ درج کر لیا،سمیرا کومل نے دعویٰ کیا تھا کہ میرے بیٹے کو جھوٹے مقدمے میں نامز د کیا گیا ،بیٹا ارسلان گھر کے باہر کھڑا تھا، پولیس پکڑ کر لے گئی۔شوہر کے ساتھ تھانے گئی تو پولیس نے دونوں پر تشدد کیا۔ایک ماہ پہلے دوسرے بیٹے کو قتل کر دیا گیا، انصاف نہیں ملا

  • حاملہ کترینہ کیف کی تصویریں منظر عام پر

    حاملہ کترینہ کیف کی تصویریں منظر عام پر

    بالی ووڈ کی معروف اور خوبصورت اداکارہ کترینہ کیف ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئیں، تاہم اس بار وجہ اُن کی نئی فلم یا فیشن فوٹو شوٹ نہیں بلکہ اُن کی وائرل ہونے والی تصاویر ہیں۔

    بھارتی میڈیا پورٹل نے کترینہ کیف کی چند نجی تصاویر شیئر کی ہیں جن میں وہ اپنے ممبئی کے اپارٹمنٹ کی بالکونی میں کھڑی نظر آرہی ہیں۔ تصاویر میں اُن کے خدوخال سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ممکنہ طور پر حاملہ ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، 42 سالہ اداکارہ اس وقت تین ماہ کی امید سے ہیں۔ان تصاویر کے وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر مداحوں اور صارفین کی جانب سے مخلوط ردعمل سامنے آیا۔ کئی صارفین نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کترینہ کیف کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا، جبکہ متعدد صارفین نے میڈیا پورٹل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا کہ اس نے ایک خاتون اداکارہ کی ذاتی زندگی اور پرائیویسی کی کھلی خلاف ورزی کی ہے۔

    یاد رہے کہ کترینہ کیف اور وکی کوشل نے 9 دسمبر 2021ء کو راجستھان کے ایک شاندار ریزورٹ میں شاہی انداز میں شادی کی تھی۔ شادی کے کچھ عرصے بعد ہی ان کے والدین بننے کی افواہیں گردش میں آگئی تھیں، تاہم اس وقت دونوں نے ایسی خبروں کی تردید کی تھی۔تاہم حال ہی میں کترینہ کیف نے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ کے ذریعے ایک خوشگوار تصویر شیئر کی، جس کے بعد مداحوں نے قیاس آرائیاں شروع کر دیں کہ اداکارہ جلد اپنے پہلے بچے کی خوشخبری سنانے والی ہیں۔

  • پاکستان اور کویت کے درمیان مہمند ڈیم ہائیڈرو پاورمنصوبے کے دوسرے قرض پروگرام پر دستخط

    پاکستان اور کویت کے درمیان مہمند ڈیم ہائیڈرو پاورمنصوبے کے دوسرے قرض پروگرام پر دستخط

    : پاکستان اور کویت فنڈ فار اکنامک ڈویلپمنٹ (کے ایف اے ای ڈی) کے درمیان مہمند ڈیم ہائیڈرو پاور منصوبے کے لئے دوسرے قرض پروگرام پر دستخط ہوگئے۔ دستخط کی یہ تقریب وزارت اقتصادی امور میں منعقد ہوئی۔ اس پروگرام کے تحت پاکستان کو 7.5 ملین کویتی دینار (25 ملین امریکی ڈالر) ملیں گے۔

    پاکستان کی جانب سے معاہدے پر سیکرٹری وزارت اقتصادی امور محمد حمیر کریم نے دستخط کئے۔ اس تقریب میں کویتی سفارتخانے کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن فہد حشام سمیت وزارت اقتصادی امور اور واپڈا کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
    اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سیکرٹری وزارت اقتصادی امور نے کویتی حکومت اور کے ایف ای اے ڈی کا پاکستان کے ترقیاتی ایجنڈے میں مسلسل تعاون پر تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ حمیر کریم نے مزید کہا کہ یہ رعایتی مالی امداد پاکستان اور کویت کے درمیان برادرانہ تعلقات اور پائیدار شراکت کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے توانائی، پانی اور سماجی شعبے کے منصوبوں میں کویت فنڈ کی مالی معاونت کو سراہا جو پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔

    یاد رہے کہ مئی 2024 میں ہونے والے پاکستان-کویت مشترکہ وزارتی کمیشن کے پانچویں اجلاس کے دوران، پاکستان نے کویت فنڈ سے مہمند ڈیم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے لیے کل 30 ملین کویتی دینار (100 ملین امریکی ڈالر) کے فنانسنگ معاہدے پر جلد دستخط کرنے کی درخواست کی تھی، جو چار مساوی قسطوں میں جاری کی جائے گی۔ جون 2024 میں قرض کے پہلے معاہدے پر دستخط کے بعد، آج کے دستخط اس عزم کے دوسرے مرحلے کی نشاندہی کرتے ہیں۔
    سیکرٹری اقتصادی امور محمد حمیر کریم نے حکام کو بتایا کہ یہ منصوبہ آسانی سے آگے بڑھ رہا ہے اور دوسرے قرض کے تحت اس اہم منصوبے پر تعمیراتی سرگرمیوں میں مزید تیزی آئے گی، جس کا مقصد پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کو بڑھانا، صاف توانائی پیدا کرنا، پشاور شہر کو پینے کے پانی کی فراہمی اور پاکستان میں سیلاب پر قابو پانا ہے۔ انہوں نے قرض کے تیسرے معاہدے پر جلد دستخط کرنے پر بھی زور دیا اور کویت فنڈ کو پاکستان میں دیگر ترجیحی ترقیاتی منصوبوں کے لیے اضافی فنانسنگ پر غور کرنے کی دعوت دی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، کویتی سفارتخانے کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن فہد ہشام نے دوطرفہ اقتصادی تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے اپنی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا اور پاکستان کے ترقیاتی اقدامات کے لیے کے ایف ای اے ڈی کی مسلسل حمایت کا یقین دلایا۔

  • وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کے داخلے پر نئی پابندیاں عائد

    وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کے داخلے پر نئی پابندیاں عائد

    امریکی صدر کے دفتر، وائٹ ہاؤس، نے صحافیوں کے داخلے سے متعلق نئی اور سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اب کسی بھی صحافی کو پریس سیکرٹری یا دیگر اعلیٰ حکام کے دفاتر میں بغیر اجازت داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔ نئی پالیسی کے تحت وائٹ ہاؤس کے "اپر پریس روم” میں داخلہ صرف پیشگی اپائنٹمنٹ کے ذریعے ممکن بنایا گیا ہے۔وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد حساس معلومات کے تحفظ اور سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانا ہے۔اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ صحافیوں کو اب ملاقات یا بریفنگ کے لیے پہلے سے وقت لینا ہوگا، تاکہ دفتر میں موجود افسران اور سیکیورٹی اہلکار انتظامات کو بہتر طور پر یقینی بنا سکیں۔

    یاد رہے کہ گزشتہ ماہ پینٹاگون میں بھی اسی نوعیت کی پابندیاں عائد کی گئی تھیں، جن کے تحت میڈیا نمائندوں کی آزادانہ رسائی محدود کر دی گئی تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس کا حالیہ فیصلہ میڈیا اور حکومتی اداروں کے درمیان تعلقات پر اثر انداز ہو سکتا ہے، جب کہ صحافتی تنظیموں نے اس پالیسی پر اظہارِ تشویش کیا ہے۔کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی حکومت کی یہ نئی پالیسی معلومات کے بہاؤ کو محدود کرنے کا باعث بن سکتی ہے، تاہم وائٹ ہاؤس کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام قومی سلامتی اور داخلی نظم و ضبط کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔

  • ڈنمارک کی مصنوعی ذہانت کے دور میں انسانی شناخت کو قانونی تحفظ دینے کی کوشش

    ڈنمارک کی مصنوعی ذہانت کے دور میں انسانی شناخت کو قانونی تحفظ دینے کی کوشش

    ڈنمارک نے ایک انقلابی تجویز پیش کر کے دنیا بھر میں ڈیجیٹل حقوق کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ نئی کاپی رائٹ قانون سازی کے تحت ہر شہری کو اپنی شناخت، چہرے، آواز اور جسمانی ڈیٹا پر مکمل قانونی ملکیت دی جائے گی۔ اس کا مطلب ہے کہ کوئی بھی کمپنی یا مصنوعی ذہانت (AI) سسٹم کسی شخص کے خدوخال، آواز یا جسمانی انداز کو بغیر اجازت استعمال نہیں کر سکے گا۔

    یہ تجویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں ڈیپ فیک (Deepfake) ٹیکنالوجی تیزی سے عام ہو رہی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے کسی شخص کی مشابہت پر مبنی جعلی ویڈیوز یا آوازیں بنائی جاتی ہیں، جنہیں دھوکہ دہی، جعلی خبروں اور سیاسی مہمات میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ڈنمارک کی حکومت کے مطابق، کسی فرد کا ظاہری خدوخال اور آواز بھی دانشورانہ ملکیت کے زمرے میں آنا چاہیے۔ اس طرح اگر کسی کی شناخت کا غلط استعمال کیا جائے تو متاثرہ شخص قانونی طور پر معاوضہ یا ویڈیو ہٹانے کا مطالبہ کر سکے گا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ قانون منظور ہو گیا تو یہ دنیا بھر کے لیے ڈیجیٹل انسانی حقوق کا ایک نیا نمونہ ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ قدم واضح پیغام دیتا ہے کہ "انسانی شناخت محض ڈیٹا نہیں، بلکہ قابلِ احترام ملکیت ہے۔”

    ڈنمارک کی اس تاریخی کوشش سے یہ بات بھی ابھر کر سامنے آتی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں اپنی شناخت کا تحفظ پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔

  • پولیس وردیاں پہن کر ڈکیتی کرنے والے 4 ڈاکو مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک

    پولیس وردیاں پہن کر ڈکیتی کرنے والے 4 ڈاکو مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک

    پشاور کے علاقے میراکچھوڑی مہرگل کلے میں پولیس مقابلے کے دوران 4 ڈاکو ہلاک ہو گئے

    پولیس کے مطابق ڈاکوؤں کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پہنچی تو ملزمان نے فائرنگ کر دی، جوابی فائرنگ سے گینگ کےچاروں ڈاکو ہلاک ہوگئے. ہلاک ملزمان 2003 سے پولیس کی وردی میں وارداتیں کرتے تھے، ڈاکوؤں نے ڈاکٹر کےگھر سےکروڑوں روپے اور زیورات بھی لوٹے تھے۔

    ایس ایس پی آپریشنز پشاور مسعود احمد بنگش نے اس حوالے سے بتایا کہ ہلاک چاروں ڈاکووں کی شناخت ہوگئی ہے، 3 ڈاکوؤں کا تعلق افغانستان سے ہے،ہلاک ڈاکوپشاور، راولپنڈی، نوشہرہ اور دیگراضلاع کی پولیس کو انتہائی مطلوب تھے، ڈاکووں نےحالیہ دنوں میں دو بڑی وارداتیں کی تھیں، ڈاکوؤں سے کلاشنکوف، رائفل ، 2 پستول اور موٹر سائیکلیں برآمد ہوئیں۔

  • پیپلزپارٹی کی سیاست کشمیر کے مسائل کے حل کیلئے ہے، بلاول

    پیپلزپارٹی کی سیاست کشمیر کے مسائل کے حل کیلئے ہے، بلاول

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی وہ واحد جماعت ہے جو نہ صرف آزاد جموں و کشمیر بلکہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی بین الاقوامی سطح پر مؤثر انداز میں نمائندگی کر سکتی ہے، اور ہم کشمیری عوام کے خلاف ہونے والی ہر سازش کا منہ توڑ جواب دیں گے۔

    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں پیپلزپارٹی آزاد جموں و کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا، بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ پی پی پی شعبہ خواتین کی مرکزی صدر فریال تالپور بھی اجلاس میں موجود تھیں،اجلاس میں آزاد جموں و کشمیر کی سیاسی صورت حال پر بات چیت کی گئی، بلاول بھٹو زرداری کو آزاد جموں و کشمیر کے نمائندوں نے عوامی مسائل سے آگاہ کیا، بلاول بھٹو زرداری اور پیپلزپارٹی آزاد جموں و کشمیر کے رہنماؤں کے درمیان تنظیمی امور میں بہتری کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا، اجلاس میں سابق وزیراعظم اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف بھی موجود تھے، اجلاس میں چوہدری محمد یاسین، فیصل ممتاز راٹھور، چوہدری لطیف اکبر، سردار جاوید ایوب اور سردار محمد یعقوب خان شریک تھے، میاں عبدالوحید، جاوید اقبال بندھانوی، سید باذل نقوی، سردار ضیاء قمر، چوہدری قاسم مجید اور چوہدری عامر یاسین بھی اجلاس میں موجودتھے،اجلاس میں عامر غفار لون، چوہدری علی شان، جاوید بٹ، رفیق نیر، سردار احمد صغیر، نبیلہ ایوب اور دیگر بھی شریک تھے، عبدالماجد خان، عاصم شریف، چوہدری محمد اکبر، سردار فہیم اختر ربانی، یاسر سلطان اور چوہدری محمد اخلاق بھی اجلاس میں موجود تھے، اجلاس میں چوہدری محمد ارشد، سردار محمد حسین، ملک ظفر اور چوہدری محمد رشید شریک تھے، چوہدری پرویز اشرف، چوہدری محمد ریاض اور سردار تنویر الیاس خان نے بھی بطور خصوصی مدعوئین اجلاس میں شرکت کی

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے پیپلزپارٹی آزاد جموں و کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہم کشمیر میں حکومت بنانے اور سنبھالنے کی پوزیشن میں آگئے ہیں، اس اسمبلی کا جو وقت رہتا ہے یہ پیپلزپارٹی کیلیےامتحان ہوگا، ہماری کوشش ہوگی کہ کشمیر کے عوام کے مطالبات پرعمل درآمد ہو، نئے قائد ایوان کا نام عدم اعتماد کی تحریک جمع کرواتے وقت سامنے لایا جائے گا، ایک سیاسی سازش کی وجہ سے کشمیر میں ایک خلا پیدا کیا گیا، پیپلز پارٹی واحد جماعت ہے جو ملکی اور عالمی سطح پر کشمیر کی نمائندگی کر سکتی ہے، اپنے پارلیمانی ساتھیوں اور نئے شامل ہونے والے ساتھیوں کا شکر گزار ہوں، کوشش ہوگی کشمیری عوام کی امنگوں پر پورا اتریں، کشمیریوں سے وعدہ کرتا ہوں ان کو مایوس نہیں کروں گا، کشمیریوں کے جو مسائل ہیں ان کا سیاسی حل ہے، پیپلزپارٹی اور کشمیر کی تاریخ سب کے سامنے ہے، پیپلزپارٹی کی سیاست کشمیر کے مسائل کے حل کیلئے ہے، کشمیر کا مسئلہ ملک اور دنیا بھر میں اجاگر کیا ہے، تین نسلوں سے کشمیریوں کا مقدمہ دنیا بھر میں لڑ رہے ہیں، فخر ہے کہ بطور وزیر خارجہ کمشیریوں کی جدوجہد کو آگے لیکر چلا، پی ٹی آئی کی حکومت میں پیپلزپارٹی کے امیدواروں نے حالات کا مقابلہ کیا، آزاد کشمیر میں ہماری جیت کو شکست میں تبدیل کیا گیا، پیپلز پارٹی پھر بھی پیچھے نہیں ہٹی جگہ جگہ عوام کی نمائندگی کی۔

  • شاہ محمود قریشی سے پی ٹی آئی چھوڑنے والے سابق اراکین اسمبلی کی ملاقات

    شاہ محمود قریشی سے پی ٹی آئی چھوڑنے والے سابق اراکین اسمبلی کی ملاقات

    وائس چئیرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی سے پی ٹی آئی کے سابق اراکین اسمبلی کی ملاقات ہوئی ہے

    ملاقاتیوں میں فواد چوہدری ، عمران اسماعیل اور محمود مولوی شامل تھے،شاہ محمود کو علاج کیلئے پی کے ایل آئی اسپتال لایا گیا تھا جہاں رہنماؤں کی ملاقات ہوئی،ملاقات میں مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، شاہ محمود قریشی سرجری کیلئے28 اکتوبر سے اسپتال میں زیر علاج ہیں،شاہ محمود قریشی کے پتے میں پتھری بتائی جارہی ہے،
    شاہ محمود قریشی کے گال بلیڈر کی سرجری ہونی ہے، شاہ محمود قریشی سے پی ٹی آئی رہنما ملنے نہ گئے تاہم سابق پی ٹی آئی رہنما ملنے پہنچ گئے،

  • فلک جاوید کی ضمانت کی درخواست مسترد

    فلک جاوید کی ضمانت کی درخواست مسترد

    سیشن عدالت نے صوبائی وزیر کی جعلی ویڈیو اپ لوڈ کرنے کے مقدمے میں سوشل میڈیا ایکٹوسٹ فلک جاوید کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی ۔

    ایڈیشنل سیشن جج ڈاکٹر ساجدہ احمد چودھری نے محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا دیا ، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ این سی سی آئی اے نے حقائق کے برعکس مقدمہ درج کیا ، جعلی ویڈیو اپ لوڈ کرنے میں ملوث نہیں ، جسمانی ریمانڈ میں بھی کوئی چیز برآمد نہیں ہوئی ، سیاسی بنیادوں پر مقدمے میں نامزد کیاگیا ۔ عدالت ضمانت بعدازگرفتاری منظور کرے ،پراسکیوٹر نے دلائل دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ ملزمہ نے صوبائی وزیر کی جعلی ویڈیو اپ لوڈ کرکے کردار کشی کی ہے ، صوبائی وزیر کو ذہنی کوفت کا سامنا کرنا پڑا ، ملزمہ کے خلاف ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔ نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی نے ملزمہ کے خلاف مقدمہ درج کررکھا ہے۔

  • لاہور کے ہسپتال میں خاتون کا پوسٹ مارٹم مرد سے کروائے جانے کا انکشاف

    لاہور کے ہسپتال میں خاتون کا پوسٹ مارٹم مرد سے کروائے جانے کا انکشاف

    لاہور کے جنرل ہسپتال میں بدعنوانی، بدنظمی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا انکشاف ہوا ہے۔
    جنرل ہسپتال کے مردہ خانے میں خواتین کے پوسٹمارٹم اب غیر تربیت یافتہ اور مرد عملے کے ذریعے کیے جا رہے ہیں، ڈاکٹر کی غیر موجودگی میں ہیلپر خاتون کا پوسٹ مارٹم کر رہا ہے، جبکہ لاش پر ٹانکے لگانے والا شخص نہ ڈاکٹر ہے اور نہ ہی جنرل ہسپتال کا ملازم۔ یہ دونوں عمل قانونی اور طبی طور پر غیر مجاز ہیں، حساس پوسٹمارٹم کے عمل کے لیے غیر متعلقہ افراد کو بھی خواتین کی لاشوں کا معائنہ کرنے پر مامور کیا گیا۔ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ سرکاری ہسپتال کے ڈاکٹر دوہری ملازمت میں مصروف ہیں ، جہنوں نے ہیلپر کو پیسوں پر اپنی جگہ کام پر رکھا ہوا ہے۔ڈان نیوز کی خبر پر پرنسپل جنرل ہسپتال نے انکوائری ٹیم تشکیل دے دی جب کہ صوبائی وزیر صحت نے بھی واقعے کا نوٹس لے لیا۔

    لاہور کی ہسپتال میں خاتون کا پوسٹ مارٹم مرد کی جانب سے کیا جانا لمحہ فکریہ ہے،عفت سعید
    مرکزی مسلم لیگ شعبہ خواتین کی رہنما عفت سعید نے کہا ہےکہ لاہور کی ہسپتال میں خاتون کا پوسٹ مارٹم مرد کی جانب سے کیا جانا لمحہ فکریہ ہے، ایک طرف پنجاب کے ہسپتالوں میں تمام سہولیات کے دعوے کئے جاتے ہیں تو دوسری جانب خواتین کے پوسٹ مارٹم مردوں سے کروائےجا رہے، شریعت کی رو سے اور اخلاقی طور پر ایسا کسی صورت درست نہیں، مرد خاتون کا پوسٹ مارٹم نہیں کر سکتا،اسلامی تعلیمات کے مطابق، عورت اور مرد دونوں کے لیے حیا، پردہ اور جسمانی حرمت کا خاص خیال رکھا گیا ہے، کسی خاتون کے جسم کا معائنہ خاتون ڈاکٹر کو ہی کرنا چاہیے، پوسٹ مارٹم کے دوران خاتون ڈاکٹر کو بھی سترپوشی کا خیال کرنا چاہئے،خاتون ڈاکٹر نہ ہو تو مرد ڈاکٹر سے خاتون کا پوسٹ مارٹم کروانا کسی صورت درست نہیں،ضرورت اس امر کی ہے کہ خواتین کے پوسٹ مارٹم صرف خواتین میڈیکل آفیسرز سے کروانے کے لیے واضح پالیسی بنائی جائے،مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات کی روک تھام کے لیے میڈیکل لیگل فریم ورک کو اسلامی رہنما اصولوں کے مطابق ازسر نو ترتیب دیا جائے،لاہور کے اس مرد کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے جس نے خاتون کا پوسٹ مارٹم کیا.