Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • وزیراعظم  شہباز شریف کی ریاض میں ورلڈ اکنامک فورم  کے صدرسے ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف کی ریاض میں ورلڈ اکنامک فورم کے صدرسے ملاقات

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ریاض میں منعقدہ فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو کے موقع پر ورلڈ اکنامک فورم (WEF) کے صدر اور چیف ایگزیکٹیو بورگا بغینڈے (Børge Brende) سے ملاقات ہوئی۔

    یہ ملاقات عالمی اقتصادی فورم کی قیادت کی درخواست پر ہوئی، تاکہ وزیراعظم کو آئندہ سال جنوری میں ڈیووس میں ہونے والے عالمی اقتصادی فورم کے سالانہ اجلاس کی باضابطہ دعوت دی جا سکے۔ وزیراعظم نے پاکستان اور عالمی اقتصادی فورم کے مابین مضبوط روابط کو سراہا اور فورم کے عالمی سطح پر کاروباری اور جدت پسند نیٹ ورک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو مزید گہرا کرنے میں پاکستان کی دلچسپی کا اظہار کیا۔ 2026 کے عالمی اقتصادی فورم کے سالانہ اجلاس کی دعوت کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ آئندہ برس ڈیووس میں پاکستان بھرپور نمائندگی کرے گا۔ پاکستان کی معیشت کے بارے میں گفتگو کرتے کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے حکومت کی ساختی اقتصادی اصلاحات پر روشنی ڈالی جن کی استحکام، مالیاتی نظم و ضبط، سرمایہ کاری اور ڈیجیٹل تبدیلی پر خصوصی توجہ مرکوز ہے۔ انہوں نے گزشتہ 18 مہینوں میں بہتر میکرو اکنامک اشاریوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ حکومت کی توجہ برآمدات کے فروغ، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ، نوجوان افرادی قوت اور آئی ٹی کے شعبوں میں ترقی پر مرکوز ہے۔

    وزیراعظم نے پاکستان کی زرعی معیشت کے لیے انتہائی ضروری غذائی تحفظ کے مضبوط نظام پر عالمی اقتصادی فورم کی شراکت کا خیرمقدم کیا اور خوشحالی کے راستے کے طور پر امن کی اہمیت پر زور دیا۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے مابین روابط کے لیے ایک اہم پل ہے۔ بورگا بغینڈے نے عالمی اقتصادی فورم کے ساتھ پاکستان کے فعال کردار پر وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ باہمی طور پر فائدہ مند شراکت داری کو فروغ دینے میں پاکستان کی جانب سے مسلسل حمایت کیلئے پر امید ہیں۔

  • بھارتی جریدے کا 20 ہزار پاکستانی فوجی غزہ بھیجنے کا  من گھڑت دعویٰ

    بھارتی جریدے کا 20 ہزار پاکستانی فوجی غزہ بھیجنے کا من گھڑت دعویٰ

    بھارتی میڈیا کی جانب سے پاکستان کے 20 ہزار فوجیوں کو غزہ بھیجنے کے مبینہ منصوبے سے متعلق دعویٰ جھوٹا اور بے بنیاد ثابت ہوا ہے۔ باوثوق ذرائع نے اس بھارتی جریدے کی رپورٹ کو ’’من گھڑت، گمراہ کن اور پروپیگنڈے پر مبنی‘‘ قرار دیتے ہوئے اس کی سختی سے تردید کی ہے۔

    ذرائع کے مطابق بھارتی رپورٹ میں جسے ’’انٹیلی جنس لیک‘‘ قرار دیا گیا تھا، وہ دراصل من گھڑت معلومات پر مبنی ہے اور اس کا کسی سرکاری یا عسکری سطح پر کوئی وجود نہیں۔ ذرائع نے واضح کیا کہ نہ تو پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) اور نہ ہی دفترِ خارجہ کی جانب سے غزہ میں کسی فوجی مشن، تعیناتی یا امن فورس سے متعلق کوئی اعلان، تائید یا اشارہ دیا گیا ہے۔

    ذرائع نے مزید کہا کہ پاکستان کا فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کی حمایت میں مؤقف ہمیشہ سے ’’واضح، اصولی اور غیر متزلزل‘‘ رہا ہے، جو کسی بھی وقتی سیاسی یا علاقائی مصلحت سے مشروط نہیں۔ پاکستان ہر بین الاقوامی فورم پر فلسطینی ریاست کے قیام اور اسرائیلی جارحیت کے خاتمے کے لیے آواز بلند کرتا رہا ہے۔

    وزارتِ اطلاعات و نشریات نے بھی بھارتی رپورٹ کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے نہ کبھی اسرائیل کو تسلیم کیا ہے، نہ ہی کسی سطح پر اسرائیل یا اس کے اتحادیوں کے ساتھ فوجی تعیناتی یا تعاون پر کوئی بات ہوئی۔ بھارتی میڈیا کی یہ خبر پاکستان کے خلاف منفی تاثر پھیلانے اور فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے کی ایک کوشش ہے۔ ایسے پروپیگنڈے کا مقصد صرف خطے میں انتشار اور غلط فہمیاں پیدا کرنا ہے۔‘‘ماہرینِ خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارتی میڈیا کا یہ دعویٰ دراصل جنوبی ایشیا میں پاکستان مخالف بیانیہ مضبوط کرنے کی مہم کا حصہ ہے، جو ہر بین الاقوامی انسانی بحران میں پاکستان کا نام شامل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

  • آئین کی بیخ کنی، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا سزا یافتہ سے مشاورت کا مطالبہ،جمہوری روایات کا جنازہ

    آئین کی بیخ کنی، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا سزا یافتہ سے مشاورت کا مطالبہ،جمہوری روایات کا جنازہ

    خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے صوبائی اُمور چلانے سے قبل ایک سزا یافتہ قیدی سے مشاورت کے مطالبے نے سنگین آئینی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ ماہرینِ قانون کے مطابق وزیراعلیٰ کا یہ اقدام نہ صرف آئینِ پاکستان کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ اُن کے عہدے کے حلف سے بھی متصادم ہے۔

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے آئین کے آرٹیکل 130(5) اور تیسرے شیڈول کے تحت یہ حلف اٹھایا کہ وہ ’’دیانتداری، وفاداری اور آئین و قانون کے مطابق‘‘ صوبے کے اُمور چلائیں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک سزا یافتہ اور نااہل شخص سے صوبائی پالیسیوں یا فیصلوں کے حوالے سے مشاورت کرنا، اس حلف کی براہِ راست خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

    آئین کے مطابق وزیراعلیٰ کو صوبے کے انتظامی معاملات میں مکمل خودمختاری حاصل ہے۔ کسی بھی بیرونی یا نااہل فرد سے رہنمائی لینا یا اُس کے احکامات پر عمل درآمد کرنا صوبائی خودمختاری اور آئینی دائرہ کار کو نقصان پہنچاتا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا یہ طرزِ عمل آئینی اداروں کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہے۔

    سپریم کورٹ آف پاکستان کے متعدد فیصلوں میں یہ بات واضح کی جاچکی ہے کہ آئین کے آرٹیکلز 62 اور 63 کے تحت نااہل قرار دیا گیا شخص کسی سیاسی جماعت کا سربراہ یا پارلیمانی اُمور کا کنٹرولر نہیں بن سکتا۔ عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کے مطابق، ایسی نااہلی سیاسی قیادت کے تمام عہدوں پر لاگو ہوتی ہے۔عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے میں واضح کیا گیا کہ عمران خان کی 2022 کی نااہلی اُنہیں 2027 تک کسی بھی سیاسی یا تنظیمی عہدے کے اہل نہیں بناتی۔ نہ آئینِ پاکستان اور نہ ہی کوئی صوبائی قانون وزیراعلیٰ کو پابند کرتا ہے کہ وہ کسی سیاسی رہنما، بالخصوص ایک سزا یافتہ اور نااہل شخص، سے مشورہ کرے۔ ایسا مطالبہ آئینی اور اخلاقی دونوں لحاظ سے غلط ہے۔

    خیبر پختونخوا پاکستان کا ایک نہایت اہم اور حساس صوبہ ہے۔ اس کی انتظامیہ کو ذاتی وفاداریوں یا سیاسی احکامات کی زنجیروں میں جکڑنا نہ صرف قانون و حکمرانی کی توہین ہے بلکہ ریاستی اداروں کے اختیار کو بھی چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کو اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے فیصلے کرنے چاہئیں۔ کسی سزا یافتہ یا نااہل شخص کے احکامات پر عمل درآمد کرنا ’’ریاستی اداروں کی بلیک میلنگ‘‘ کے مترادف ہے اور یہ طرزِ عمل آئین، قانون اور جمہوری روایات تینوں کے خلاف ہے۔

    سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر، آئینِ پاکستان ہر وزیراعلیٰ کو پابند کرتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں مکمل خودمختاری اور قانونی تقاضوں کے تحت ادا کرے۔ کسی بھی نااہل یا سزا یافتہ شخص سے رہنمائی لینا نہ صرف غیر آئینی بلکہ جمہوری اقدار کی نفی کے مترادف ہے۔

  • کسی کو مالی بے ضابطگی اور بے ایمانی نہیں کرنے دیں گے،علیم خان

    کسی کو مالی بے ضابطگی اور بے ایمانی نہیں کرنے دیں گے،علیم خان

    وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی زیرصدارت این ایچ اے کا اعلیٰ سطح اجلاس ہوا، وفاقی وزیر مواصلات نے این ایچ اے کو موجودہ پالیسی میں تبدیلی لانے کی ہدایت کردی۔

    اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ یکم نومبر سے کسی پرانے منصوبے کی مرمت کے نام پر پیسے جاری نہیں ہوں گے، سیکریٹری مواصلات، چیئرمین این ایچ اے اور سینئر افسران پر مشتمل اعلیٰ اختیاراتی بورڈ تشکیل دیدیا گیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ آئندہ این ایچ اے کے ہر نئے منصوبے پر بورڈ فیصلہ کرے گا، محکمے میں کسی کو مالی بے ضابطگی اور بے ایمانی نہیں کرنے دیں گے، افسران یا کنٹریکٹرز کو غیرضروری اضافی فنڈز نہیں ملیں گے۔عبدالعلیم خان کا کہنا ہے کہ ہر اسکیم نیا منصوبہ ہوگا اور کوئی فرد واحد اس کا فیصلہ نہیں کرے گا۔

    وفاقی وزیر مواصلات نے بوگس اور عرصہ دراز سے زیر التواء منصوبوں کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ افسران چیئرمین این ایچ اے کو منصوبوں کا بریک اپ پیش کریں، ہر منصوبے کا تھرڈ پارٹی ای ویلیوایشن کا فیصلہ کیا گیا ہے، کسی سے رعایت نہیں ہوگی۔وفاقی وزیر مواصلات کو اجلاس میں این ایچ اے کے اہم منصوبوں اور محکمانہ امور پر رپورٹ پیش کی گئی، ادارے کے سالانہ مینٹی ننس پلان پر تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔چیئرمین این ایچ اے نے ممبران کو تمام اسکیموں کی رپورٹ 3 دن میں پیش کرنے کی ہدایت کردی، وفاقی سیکریٹری مواصلات نے افسران کو وفاقی وزیر کی ہدایات پر من و عن عمل کرنے کا حکم دیدیا۔

  • گلگت بلتستان میں عام انتخابات کیلئے تاریخ کا اعلان

    گلگت بلتستان میں عام انتخابات کیلئے تاریخ کا اعلان

    گلگت بلتستان میں عام انتخابات کیلئے تاریخ کا اعلان کردیا گیا۔

    چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز خان کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی اور حکومت کی مدت 24 نومبر کو مکمل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان اسمبلی کے عام انتخابات فروری 2026 میں ہونگے، اسمبلی انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔راجہ شہباز خان کا کہنا ہے کہ 9 لاکھ 91 سے زائد ووٹرز کی لسٹ بن گئی ہے، فروری 2026ء میں گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کیلئے آج سے تمام اسسٹنٹ کمشنرز کو ووٹر لسٹیں روانہ کردی گئی ہیں۔چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان نے کہا کہ اسمبلی کے 25 انتخابی حلقوں میں ووٹر لسٹیں کل سے آویزاں ہوں گی۔

  • "مادری زبان میں تعلیم بچے کی فکری نشوونما ،تخلیقی صلاحیتوں کی بنیاد ہے،سید سردار علی شاہ

    "مادری زبان میں تعلیم بچے کی فکری نشوونما ،تخلیقی صلاحیتوں کی بنیاد ہے،سید سردار علی شاہ

    وزیرِ تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ نے کہا ہے کہ علم کی حقیقی منتقلی ہمیشہ زبان کے ذریعے ہی ممکن ہوئی ہے، اور زبانِ تدریس بچے کی سیکھنے، سمجھنے اور اظہار کی صلاحیت پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ وہ کراچی میں DARE-RC اور یو کے انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ کے اشتراک سے منعقدہ پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کر رہے تھے۔

    اس اہم اجلاس میں ماہرینِ تعلیم، اساتذہ، والدین، پالیسی سازوں اور سماجی تنظیموں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ مکالمے میں زبان و تعلیم کی پالیسی میں والدین، اساتذہ اور کمیونٹی کے کردار پر تفصیلی گفتگو کی گئی،وزیرِ تعلیم سندھ نے اپنے خطاب میں کہا کہ کثیراللسانی معاشرے میں تعلیم کو مؤثر پالیسی کے ذریعے فروغ دیا جا سکتا ہے، جس کی بنیاد زبان ہے۔ انہوں نے کہا کہ مادری زبان میں تعلیم نہ صرف بچوں کے اعتماد میں اضافہ کرتی ہے بلکہ ان کی تعلیمی کارکردگی کو بھی بہتر بناتی ہے۔

    سید سردار علی شاہ نے کہا کہ مؤثر تعلیمی پالیسی والدین اور اساتذہ کی مشاورت کے بغیر ممکن نہیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ مقامی زبانوں کا فروغ ثقافتی شناخت کے استحکام کا ذریعہ ہے۔ ان کے مطابق، "ہمارے خطے کی زبانوں میں مساوات، رواداری، احترام اور برداشت جیسے موضوعات پر بھرپور لٹریچر موجود ہے، جو سماجی ہم آہنگی کی بنیاد بن سکتا ہے۔”وزیرِ تعلیم سندھ نے اس موقع پر بتایا کہ مادری زبان میں تعلیم کے فروغ کے لیے سندھ حکومت نے ٹھوس اقدامات کیے ہیں، جو ملک کے دیگر صوبوں سے مختلف اور نمایاں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں مادری زبان میں تعلیم کو فروغ دینے کے لیے قانون بھی موجود ہے، جس کے تحت ابتدائی جماعتوں میں بچوں کو ان کی مادری زبان میں تعلیم دی جا رہی ہے۔سید سردار علی شاہ نے کہا کہ کمیونٹی کی شمولیت کے بغیر زبانوں اور مادری زبان میں تعلیم کو فروغ دینا ممکن نہیں۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ بچوں کو زبان اور ثقافت سے جوڑیں۔ ان کے مطابق، "بدقسمتی سے والدین نے انگریزی کو اہلیت کا معیار سمجھ کر بچوں کی تخلیقی سوچ کو محدود کر دیا ہے۔ اگر بچوں کو مادری زبان اور ثقافت سے دور کر دیا گیا تو وہ دوبارہ اس سے واپس جڑ نہیں پائیں گے۔”

    اجلاس کے اختتام پر مقررین نے سندھ حکومت کے تعلیمی اصلاحات کے اقدامات کو سراہا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ زبان پر مبنی تعلیم کو قومی پالیسیوں میں مرکزی حیثیت دی جائے تاکہ ہر بچے کو اپنی شناخت اور زبان کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے کا موقع مل سکے۔

  • کینیا میں چھوٹا طیارہ گر کر تباہ، تمام 12 افراد کی ہلاکت کا خدشہ

    کینیا میں چھوٹا طیارہ گر کر تباہ، تمام 12 افراد کی ہلاکت کا خدشہ

    کینیا کے جنوبی ساحلی علاقے کوالے کاؤنٹی میں ایک چھوٹا طیارہ المناک حادثے کا شکار ہو کر تباہ ہوگیا، جس کے نتیجے میں سوار تمام 12 افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    کینیا سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق حادثہ منگل کی صبح پیش آیا جب ایک نجی کمپنی کا چھوٹا طیارہ ٹیک آف کے چند منٹ بعد ہی زمین سے ٹکرا گیا۔ حادثے کے فوراً بعد طیارے میں شدید آگ بھڑک اٹھی، جس نے چند لمحوں میں پورے جہاز کو لپیٹ میں لے لیا۔کوالے کاؤنٹی کے کمشنر جولیئس کاریئوکی نے مقامی میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ طیارے میں سوار تمام 12 افراد غیر ملکی سیاح تھے۔ تاہم حکام ابھی تک ان کی شناخت اور قومیت کا تعین کرنے میں مصروف ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ حادثے کے مقام پر ریسکیو ٹیمیں پہنچ چکی ہیں مگر اب تک کسی بھی شخص کے زندہ بچنے کے آثار نہیں ملے۔

    عینی شاہدین کے مطابق طیارے نے مقامی ہوائی پٹی سے پرواز بھری تھی اور کچھ ہی دیر بعد توازن کھو بیٹھا۔ اس کے بعد طیارہ جنگل کے علاقے میں جا گرا اور زور دار دھماکے کے ساتھ تباہ ہوگیا۔فائر بریگیڈ، پولیس اور مقامی ریسکیو اہلکاروں نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر آگ پر قابو پا لیا ہے جبکہ لاشوں کی تلاش اور شناخت کا عمل جاری ہے۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثے کی ممکنہ وجہ تکنیکی خرابی بتائی جا رہی ہے، تاہم حتمی وجوہات جاننے کے لیے سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔

  • پنجاب کے کسان کا استحصال نہیں ہونے دیں گے، چوہدری ذوالفقار علی اولکھ

    پنجاب کے کسان کا استحصال نہیں ہونے دیں گے، چوہدری ذوالفقار علی اولکھ

    مرکزی کسان لیگ کے چیئرمین چوہدری ذوالفقار علی اولکھ نے کہا ہے کہ پنجاب کے کسان کا استحصال نہیں ہونے دیں گے، حکومت کی جانب سے گندم کی قیمت 3500 روپے فی من مسترد کرتے ہیں، کسان کو اس کا جائز حق ملنا چاہیے،مارکیٹ میں آٹا، چینی سمیت دیگر اشیا کی قیمتوں میں اضافہ حکومتی نااہلی ہے

    چوہدری ذوالفقار علی اولکھ کا کہنا تھا کہ کسان ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، لیکن افسوس کہ ہمیشہ کسان کو اس کے حقوق نہیں ملتے،محنت کش طبقے کو اس کا جائز حق نہیں دیا جاتا،3500 روپے فی من گندم کی قیمت سے کسان کی لاگت کی قیمت ہی پوری نہیں ہو گی، پنجاب حکومت گندم کی قیمتوں کا کسانوں کے ساتھ مشاورت کر کے از سر نو تعین کرے، مرکزی مسلم لیگ کسانوں کی آواز بنے گی اور انکے جائز حقوق کے لئے انکے شانہ بشانہ کھڑی ہو گی،پنجاب میں سیلاب میں کسانوں کی فصلیں،زمینیں تباہ ہو گئیں،حکومت کسانوں کو اس ضمن میں بھی ریلیف دے، مارکیٹ میں آٹا، چینی، سبزیوں اور دیگر اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ حکومت کی نااہلی اور ناقص معاشی پالیسیوں کا نتیجہ ہے،حکومت صرف اجلاسوں کے روئیداد کی بجائے غریب آدمی کو ریلیف دے.

  • فیلڈ مارشل  سید عاصم منیر کا مصر، اردن اور سعودی عرب کا تاریخی دورہ

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا مصر، اردن اور سعودی عرب کا تاریخی دورہ

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نےمصر، اردن اور سعودی عرب کا تاریخی دورہ کیا ہے،

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا اہم عرب ممالک کا دورہ کامیاب ملٹری ڈپلومیسی کی شاندار مثال ہے،مصر، اردن اور سعودی قیادت نے پاکستان کی مسلح افواج پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے،فیلڈ مارشل کے ان اہم دوروں میں انسداد دہشت گردی، دفاعی تعاون اور انٹیلی جنس اشتراک پر اہم بات چیت کی گئی ،فیلڈ مارشل کا دورہ مسلم ممالک کے مابین عسکری اتحاد اور یکجہتی کی مضبوط علامت ہے،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ان دورں سے پاکستان کا خطے میں امن، استحکام اور مشترکہ سلامتی کے لیے کلیدی کردار اجاگر ہوا ہے، آرمی چیف کی فعال عسکری سفارتکاری پاکستان کے عالمی وقار میں اضافہ کا باعث ہے،معرکہ حق کے بعد کامیاب ملٹری ڈپلومیسی کی بدولت پاکستان عالمی افق پر اپنے مضبوط اور با وقار تشخص کے ساتھ ابھر رہا ہے

  • بینک مکرمہ لمیٹڈ کا 9 ماہ میں ایک ارب 75 کروڑ روپے منافع

    بینک مکرمہ لمیٹڈ کا 9 ماہ میں ایک ارب 75 کروڑ روپے منافع

    کراچی: بینک مکرمہ لمیٹڈ (BML) نے رواں سال کے پہلے 9 ماہ (اختتام 30 ستمبر 2025) کے دوران ٹیکس سے قبل 1.75 ارب روپے منافع کما کر اپنی شاندار مالیاتی بحالی کا تسلسل برقرار رکھا ہے، جب کہ گزشتہ سال اسی مدت میں بینک کو 5.05 ارب روپے کا نقصان ہوا تھا۔ یہ ایک غیر معمولی بہتری ہے جو 6.80 ارب روپے کے ٹرن اراونڈ کو ظاہر کرتی ہے۔

    یہ کامیابی بینک کی مالیاتی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے، کیونکہ جون 2025 میں ختم ہونے والے چھ ماہ کے دوران بینک نے 1.44 ارب روپے کا منافع ظاہر کیا تھا — جو تقریباً ایک دہائی بعد بینک کا پہلا مثبت مالی نتیجہ تھا۔رواں 9 ماہ کے دوران ٹیکس کے بعد منافع 0.861 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں 3.18 ارب روپے کا خسارہ درج کیا گیا تھا۔

    بینک کی مجموعی آمدنی میں 2.18 ارب روپے کا اضافہ ہوا جبکہ نان فنڈ انکم (غیر سودی آمدنی) میں 8 فیصد اضافہ ہو کر 2.95 ارب روپے تک جا پہنچی۔ یہ بہتری سمجھدار سرمایہ کاری، ڈپازٹ مینجمنٹ میں نظم و ضبط اور سرمایہ جاتی منافع میں اضافے کی مرہونِ منت رہی۔30 ستمبر 2025 تک بینک کے ڈپازٹس 165.58 ارب روپے رہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 1.92 فیصد یا 3.11 ارب روپے کا اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔ اوسط بنیاد پر ڈپازٹ پورٹ فولیو میں 7.28 فیصد (11.51 ارب روپے) اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو مستحکم فنڈنگ اور بیلنس شیٹ کی مضبوطی پر بینک کی توجہ کو ظاہر کرتا ہے۔بینک نے سخت مسابقتی مالیاتی مارکیٹ کے باوجود CASA مکس (کرنٹ اور سیونگ اکاؤنٹس کا تناسب) میں بہتری لاتے ہوئے 94.58 فیصد تک بڑھایا، جو گزشتہ سال 89.59 فیصد تھا۔ نتیجتاً اوسط ڈپازٹ لاگت 7.20 فیصد رہی، جو بینک کی مالی کارکردگی کا مظہر ہے۔

    بینک مکرمہ نے اخراجات پر سخت کنٹرول برقرار رکھتے ہوئے آپریٹنگ اخراجات میں اضافہ صرف 7.2 فیصد تک محدود رکھا۔کل نان مارک اپ اخراجات 6.39 ارب روپے رہے جو گزشتہ سال کے 5.96 ارب روپے سے معمولی زیادہ ہیں۔ریکوری کے میدان میں بھی بینک نے غیر معمولی کارکردگی دکھائی۔ گزشتہ تین سالوں کی مضبوط کارکردگی کو برقرار رکھتے ہوئے 2025 میں 5.99 ارب روپے کی نیٹ پروویژن ریورسل حاصل کی گئی، جو گزشتہ سال کے 0.97 ارب روپے کے مقابلے میں چھ گنا زیادہ ہے۔اسی بنیاد پر بینک کے نان پرفارمنگ لونز (NPLs) دسمبر 2024 کے 34.19 ارب روپے سے گھٹ کر ستمبر 2025 میں 28.88 ارب روپے تک آگئے — جو بینکنگ انڈسٹری میں سب سے بڑی ریکوریز میں شمار ہوتی ہے۔نتیجتاً گراس NPL ریشو 69.95 فیصد سے کم ہو کر 63.57 فیصد رہ گیا جبکہ کوریج ریشو 95.49 فیصد پر مستحکم رہی۔

    بینک مکرمہ لمیٹڈ اب پوری کیپٹل کمپلائنس کے قریب ہے۔ اس کامیابی میں اسپانسر شیئر ہولڈرز کا بھرپور کردار شامل ہے، جنہوں نے نہ صرف مالی معاونت کی بلکہ اپنی کمپنی "گلوبل ہیلی” (Global Haly) کو 26 ارب روپے مالیت کے ساتھ بینک میں ضم کرنے کی تجویز دی ہے۔مزید برآں، 5 ارب روپے ایڈوانس شیئر کیپٹل انویسٹمنٹ کو ایکوئٹی شیئرز میں تبدیل کر کے MCR کمپلائنس یقینی بنائی جا رہی ہے۔بینک نے اپنی جائیداد Cullinan Tower کو 12 ارب روپے میں فروخت کیا، جس میں سے 1 ارب روپے کی ابتدائی رقم وصول ہو چکی ہے — اس سے بینک کی ایکویٹی مزید مضبوط ہوگی۔اسی طرح ایک بڑے کاروباری گروپ سے وابستہ نان پرفارمنگ لونز کے تصفیے کے حتمی مراحل جاری ہیں، جس سے بینک کی مالی پوزیشن مزید مستحکم ہونے کی توقع ہے۔

    بینک مکرمہ لمیٹڈ انتظامیہ کے مطابق ادارہ نامیاتی ترقی (organic growth)، عملی نظم و ضبط اور اسٹریٹجک پالیسیوں پر عمل پیرا رہتے ہوئے سال 2025 کا اختتام ریکارڈ مالی نتائج کے ساتھ کرنے کی پوزیشن میں ہے۔یہ کارکردگی نہ صرف بینک کے مالی استحکام کی بحالی کو ظاہر کرتی ہے بلکہ یہ موثر حکمرانی، واضح وژن، اور اسپانسرز و بورڈ آف ڈائریکٹرز کے غیر متزلزل عزم کا عملی ثبوت بھی ہے۔بینک مکرمہ لمیٹڈ اب ایک بار پھر پاکستان کے بینکاری شعبے میں ایک مستحکم، منافع بخش اور قابلِ اعتماد ادارہ بن کر ابھر رہا ہے۔