Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پاک افغان مذاکرات،افغانستان کی ہٹ دھرمی،پاکستان کی آخری کوشش جاری

    پاک افغان مذاکرات،افغانستان کی ہٹ دھرمی،پاکستان کی آخری کوشش جاری

    استنبول میں پاکستان اور افغان طالبان کے مذاکرات کا تیسرا راؤنڈ. تیسرے دن مذاکرات 18 گھنٹے تک جاری رہے۔

    18 گھنٹوں کے دوران افغان طالبان کے وفد نے متعدد بار پاکستان کے خوارج (TTP) اور دہشت گردی کہ خلاف مصدق اور یقینی کاروائی کے منطقی اور جائز مطالبے سے اتفاق کیا۔ ذرائع کے مطابق میزبانوں کی موجودگی میں بھی افغان وفد نے اس مرکزی مسئلے کو تسلیم کیا۔ تاہم ہر مرتبہ کابل سے ملنے والی ہدایات کے باعث افغان طالبان کے وفد کا مؤقف بدل جاتا۔مذاکرات کے دوران کابل سے ملنے والے غیر منطقی اور نا جائز مشورے ہی بات چیت کے بے نتیجہ رہنے کے ذمہ دار ہیں۔تاہم پاکستان اور میزبان انتہائی مدبرانہ اور سنجیدہ طریقے سے اب بھی ان پیچیدہ معاملات کو حل کرنا چاہتے ہیں۔اب بھی ایک آخری کوشش جاری ہے کے باوجود طالبان کی ہٹ دھرمی کسی طرح اس معاملے کو منطق اور بات چیت سے حل کر لیا جائے اور مذاکرات ایک آخری دور کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

    ترکی میں ہونے والے مذاکراتی عمل سے افغانستان کی ممکنہ دستبرداری کی اصل وجہ اب واضح ہو گئی ہے، افغان مذاکراتی وفد تو مطالبات مان رہا ہے لیکن، طالبان کے اندر موجود قندھار، کابل اور خوست کی گروہ بندی کی وجہ سے بات کسی طرف مکمل نہیں ہورہی. کسی نقطے پر قندھاری گروپ رضامند ہو جاتا ہے تو کابلی گروپ کے اختلافات سامنے آجاتے ہیں. زمینی حقائق اور رابطوں کی پیچیدگی سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ افغان حکومت کے مختلف گروہ بھارت سے رابطہ میں ہیں اور مذاکرات کے حوالے سے ہدایات لے رہے ہیں.ثالث ممالک اور انکی طرف سے مذاکراتی کمیٹی میں شامل عہدیداران کا بھی اتفاق ہے کہ پاکستان کے مطالبات نا صرف جائز ہیں بلکہ خطے میں امن و امان اور ترقی کے لئے پاکستان کا موقف دُرست ہے.

  • سندھ ہائیکورٹ کا کراچی کی مخدوش عمارتوں کے اسٹرکچر کا دوبارہ جانچ کروانے کا حکم

    سندھ ہائیکورٹ کا کراچی کی مخدوش عمارتوں کے اسٹرکچر کا دوبارہ جانچ کروانے کا حکم

    سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کی جانب سے مخدوش عمارتوں کو سیل کرنے کے معاملے پر سندھ ہائیکورٹ نے آزاد ماہر سے عمارتوں کے اسٹرکچر کی جانچ کروانے کا حکم دیا ہے۔

    کراچی کے اولڈسٹی ایریا کی مختلف عمارتوں کے مکینوں کی عمارتیں سیل کرنےکے خلاف درخواستوں پر سماعت سندھ ہائیکورٹ میں ہوئی جہاں ایس بی سی اے کی ٹیکنیکل کمیٹی کے اراکین عدالت میں پیش ہوئے،سماعت کے دوران جسٹس اقبال کلہوڑو نے کہا کہ لوگ شکایت کر رہےہیں کہ عمارتوں کو مخدوش کہہ کر لوگوں کو نکالا جا رہا ہے، ٹیکنیکل کمیٹی کسی عمارت کے مخدوش ہونے کا تعین کیسےکرتی ہے، رکن کمیٹی نے کہا کہ کمیٹی کی رپورٹ پر اعتماد نہیں تو تھرڈ پارٹی ماہرین سے معائنہ کروایا جا سکتا ہے، عدالت نے سوال کیا آپ ایس بی سی اےکا حصہ نہیں، بطور آزاد ماہر آپ کو کتنے پیسے ملتے ہیں، رکن نے بتایا آنے جانے کے لیے 5 ہزار روپے ملتے ہیں، اس پر جج نے کہا یہ آگے سے 50 ہزار پکڑتے ہوں گے،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ عمارت کا معائنہ کرنے کے لیے ناظر مقرر کیا جائے، اگر ناظر قرار دے دیں کہ عمارت مخدوش ہے تو کیس واپس لے لیں گے، ایس بی سی اے کی کمیٹی بدنیتی پر عمارتوں کو مخدوش قرار دے رہی ہے۔

    عدالت نے کہا کہ ٹیکنیکل کمیٹی پر اعتراض کی صورت میں آزاد ماہر کی خدمات لی جا سکتی ہیں، آپ لوگ دوبارہ عمارت کا معائنہ کیوں نہیں کر لیت، اس پر وکیل نے کہا کہ عمارت کا دو بار معائنہ کیا جاچکا ہے تاہم اس موقع پر وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ایس بی سی اے کی رپورٹ میں جو تصاویر ہیں وہ ہماری بلڈنگ کی نہیں ہیں،بعد ازاں عدالت نے درخواست گزار کی کارروائی سے روکنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ایس بی سی اے کو ہدایت کی کہ کسی آزاد ماہر سے عمارت کے اسٹرکچر کی جانچ کروائی جائے جبکہ سیل عمارتوں سے رہائشیوں کو سامان نکالنے کی اجازت دیں

  • لاہور میں پولیس بھی ڈاکے ڈالنے لگی، ڈکیتی کے بعد اہلکارگرفتار

    لاہور میں پولیس بھی ڈاکے ڈالنے لگی، ڈکیتی کے بعد اہلکارگرفتار

    لاہور: صوبائی دارالحکومت کے علاقے شاہدرہ میں شہری سے ڈکیتی کی واردات میں ملوث پولیس افسر نکلنے پر قانون نافذ کرنے والے اداروں میں ہلچل مچ گئی۔ ملزم کی شناخت سب انسپکٹر عمار کے نام سے ہوئی ہے، جسے سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق، ملزم سب انسپکٹر عمار تھانہ نیو انارکلی آپریشنز وِنگ میں تعینات تھا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ تقریباً 10 روز قبل اس نے اپنے ایک ساتھی جو ایک ریکارڈ یافتہ ڈاکو بتایا جا رہا ہے کے ساتھ مل کر اسلامیہ کالونی کے علاقے میں ایک شہری کو لوٹا۔ واردات کے دوران شہری سے 4 لاکھ 70 ہزار روپے نقدی چھین لی گئی تھی۔واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر آنے کے بعد ایس پی سٹی نے معاملے کا سخت نوٹس لیا اور ایک خصوصی تفتیشی ٹیم تشکیل دی۔ ٹیم نے مستی گیٹ پولیس کے تعاون سے مؤثر کارروائی کرتے ہوئے سب انسپکٹر عمار کو گرفتار کر لیا۔

    پولیس حکام کے مطابق، ابتدائی تفتیش میں ملزم نے جرم کا اعتراف کر لیا ہے جبکہ اس کے ساتھی کی تلاش کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ مزید تفتیش اور شواہد اکٹھے کرنے کے لیے ملزم کو سی سی ڈی کے حوالے کر دیا گیا ہے۔پولیس کے اعلیٰ افسران نے اس افسوسناک واقعے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وردی کی آڑ میں جرم کرنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ شہریوں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ ایسے عناصر کو مثالی سزا دی جائے تاکہ قانون کے محافظ دوبارہ عوام کا اعتماد حاصل کر سکیں۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی سالگرہ،زندگی کی 52 بہاریں دیکھ لیں

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی سالگرہ،زندگی کی 52 بہاریں دیکھ لیں

    آج 28 اکتوبر کو وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کی سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ وہ 28 اکتوبر 1973 کو لاہور میں پیدا ہوئیں اور اس وقت ملک کی تاریخ رقم کرنے والی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ پنجاب ہیں۔ فروری 2024 کے عام انتخابات کے بعد جب وہ اس منصب پر فائز ہوئیں تو انھوں نے شفاف طرزِ حکمرانی، عوامی خدمت اور گڈ گورننس کے نئے رجحانات متعارف کروائے۔

    مریم نواز کا تعلق پاکستان کے معروف سیاسی خانوادے شریف خاندان سے ہے۔ انہوں نے عملی سیاست کا آغاز ابتدا میں خاموشی سے کیا، جب وہ اپنے والد، سابق وزیراعظم نواز شریف کی معاونت میں مصروف رہتی تھیں۔ اس دوران ان کے پاس کوئی عوامی یا جماعتی عہدہ نہیں تھا، اور وہ پسِ پردہ سیاسی و تنظیمی امور میں شریک رہتی رہیں۔2012 میں مریم نواز پہلی بار اس وقت سیاسی منظرنامے پر نمایاں ہوئیں جب مسلم لیگ (ن) نے انہیں 2013 کے عام انتخابات کی مہم کا انچارج مقرر کیا۔ الیکشن کے بعد انہیں وزیر اعظم یوتھ پروگرام کی چیئرپرسن بنایا گیا، تاہم 2014 میں لاہور ہائی کورٹ میں اس تقرری کو چیلنج کیے جانے کے بعد انہوں نے عہدہ چھوڑ دیا۔

    مریم نواز نے اپنی پہلی آزادانہ انتخابی مہم 2017 میں اپنی والدہ بیگم کلثوم نواز کے لیے لاہور کے حلقہ این اے-120 میں چلائی۔ یہ الیکشن اس وقت منعقد ہوا جب سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں نواز شریف کو وزارتِ عظمیٰ سے نااہل قرار دے دیا گیا تھا،بیگم کلثوم نواز اس وقت علاج کے لیے لندن میں زیرِ علاج تھیں، چنانچہ مریم نواز نے تنِ تنہا اپنی والدہ کے لیے مہم چلائی۔ مخالفانہ سیاسی فضا، عدالتی دباؤ اور بدترین تنقید کے باوجود انہوں نے نہ صرف انتخابی میدان میں ڈٹ کر مقابلہ کیا بلکہ اپنی والدہ کے لیے نشست بھی جیت لی۔ اس کامیابی نے مریم نواز کو ملک بھر میں ایک مضبوط اور جرات مند سیاسی رہنما کے طور پر منوایا۔

    1999 کی فوجی بغاوت کے بعد شریف خاندان کو جلاوطن کر دیا گیا۔ مریم نواز نے اپنے خاندان کے ساتھ وہ دن سعودی عرب میں گزارے اور 2007 میں وطن واپسی کے بعد ایک نئے سیاسی دور کا آغاز کیا،پانامہ پیپرز کیس کے دوران جب نواز شریف کو نااہل قرار دیا گیا، تو مریم نواز نے ن لیگ کی مزاحمتی سیاست کی قیادت سنبھالی۔ وہ اپنے والد کے ہمراہ عدالتوں، میڈیا اور عوامی دباؤ کے درمیان ڈٹ کر کھڑی رہیں۔2018 میں جب نواز شریف اور مریم نواز کو سزا سنائی گئی، تو وہ اپنے والد کے ساتھ وطن واپس آئیں اور گرفتاری پیش کی۔ جیل میں قید کے دوران ان کی والدہ کا لندن میں انتقال ہو گیا، جس پر انہیں صرف پانچ دن کی پیرول پر رہائی ملی۔ اس سانحے کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور اپنی والدہ کے مشن کو جاری رکھا۔مریم نواز نے مسلم لیگ (ن) کو روایتی سیاست سے نکال کر جدید سیاسی اظہار اور پاپولر سیاست کی سمت گامزن کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا کو پارٹی کی تنظیم اور عوامی رابطے کا موثر ذریعہ بنایا۔ ان کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) کا سوشل میڈیا سیل پاکستان کی سب سے منظم ڈیجیٹل سیاسی ٹیم کے طور پر سامنے آیا،انہوں نے مسلم لیگ (ن) میں ایک جدید، تعلیم یافتہ اور عملیت پسند سوچ کو فروغ دیا، جس نے نوجوانوں کو پارٹی کے قریب کیا۔

    2024 کے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) نے پنجاب اسمبلی میں اکثریت حاصل کی اور مریم نواز کو صوبے کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ منتخب کیا۔ ان کا یہ انتخاب نہ صرف ایک تاریخی سنگِ میل تھا بلکہ پاکستانی سیاست میں خواتین کی قیادت کی علامت بھی بن گیا،وہ اپنے والد میاں نواز شریف، چچا شہباز شریف اور کزن حمزہ شہباز کے بعد شریف خاندان کی چوتھی شخصیت ہیں جو صوبہ پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ پر فائز ہوئیں،وزیر اعلیٰ بننے کے بعد انہوں نے گورننس میں شفافیت، ڈیجیٹل اصلاحات، تعلیم و صحت کے منصوبوں اور خواتین کی ترقی کے لیے کئی اقدامات کیے۔ عوامی سطح پر ان کا نعرہ "پنجاب کی بیٹی، پنجاب کی ماں” آج ایک سیاسی شناخت بن چکا ہے۔

    مریم نواز نے 1992 میں کیپٹن (ر) صفدر اعوان سے شادی کی۔ ان کے تین بچے ہیں مہرالنساء، جنید اور ماہنور، مریم نواز شریف خاندان کے اس حصے سے تعلق رکھتی ہیں جس نے ملکی سیاست میں کئی دہائیوں تک مرکزی کردار ادا کیا۔ مریم نواز کا سیاسی سفر جدوجہد، قربانی اور استقامت سے عبارت ہے۔ وہ آج نہ صرف پاکستان کی سب سے بااثر خواتین رہنماؤں میں شمار ہوتی ہیں بلکہ ایک ایسی سیاست دان کے طور پر جانی جاتی ہیں جنہوں نے مشکلات میں بھی امید کی شمع روشن رکھی۔

    وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ زاہد بخاری نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کیلئے سالگرہ کے موقع پر تہنیتی پیغام جاری کیا اور کہا کہ پنجاب کی عوام کو اتنے تحفے دینے کا شکریہ۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر عظمیٰ بخاری نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی عوام کی خدمت کے بارے میں تیار کردہ خصوصی ویڈیو بھی جاری کی،ان کا کہنا تھا کہ ہم آپ کی لمبی زندگی، صحت اور عوام کی اس سے بڑھ کر خدمت کیلئے دعا گو ہیں۔

  • بھارت میں داعش سر اٹھانے لگی،سیکورٹی ادارے پریشان

    بھارت میں داعش سر اٹھانے لگی،سیکورٹی ادارے پریشان

    پونے میں سافٹ ویئر انجینئر کی گرفتاری: القاعدہ اور داعش سے مبینہ روابط بے نقاب، مہاراشٹر اے ٹی ایس کی بڑی کارروائی

    مہاراشٹر کے اینٹی ٹیررازم اسکواڈ نے پیر کے روز ایک اہم کارروائی کے دوران پونے سے ایک سافٹ ویئر انجینئر کو گرفتار کرلیا ہے، جس پر القاعدہ اور دیگر شدت پسند گروہوں سے روابط رکھنے کا الزام ہے۔ گرفتار شخص کی شناخت زبیر ہنگارےکر کے نام سے ہوئی ہے۔

    اے ٹی ایس کے مطابق ملزم گزشتہ ایک ماہ سے ان کی نگرانی میں تھا اور اسے پونے کے کوندھوا علاقے سے گرفتار کیا گیا۔ گرفتاری کے بعد اسے عدالت میں پیش کیا گیا جہاں خصوصی عدالت نے اسے 4 نومبر تک پولیس ریمانڈ پر بھیج دیا۔پولیس کے مطابق زبیر ہنگارےکر پر الزام ہے کہ وہ نوجوانوں کو انتہا پسندی کی جانب راغب کرنے اور مہاراشٹر سمیت دیگر شہروں میں ممکنہ دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث تھا۔تحقیقات کے دوران پولیس نے اس کے گھر سے ایسے مواد اور ڈیجیٹل دستاویزات برآمد کی ہیں جنہیں شدت پسند نظریات کی تبلیغ اور نوجوانوں کی ذہن سازی کے لیے استعمال کیا جارہا تھا۔

    اسی کیس سے متعلق کارروائی میں 27 اکتوبر کو پونے ریلوے اسٹیشن پر چنئی ایکسپریس سے چار مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔ اس سے قبل 9 اکتوبر کو اے ٹی ایس نے پونے کے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے تھے، جہاں سے الیکٹرانک آلات، دستاویزات اور دیگر شواہد برآمد کیے گئے جو علاقے میں ایک وسیع دہشت گرد نیٹ ورک کی موجودگی کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔

    پونے کی یہ کارروائی حال ہی میں دہلی کے صادق نگر سے محمد عدنان خان عرف ابو محارب (19 سال) اور بھوپال سے عدنان خان عرف ابو محمد (20 سال) کی گرفتاری کے بعد عمل میں آئی ہے۔یہ دونوں نوجوان مبینہ طور پر اسلامک اسٹیٹ (داعش) کے آن لائن ونگ سے وابستہ تھے۔ پولیس ذرائع کے مطابق دونوں کی آن لائن ذہن سازی (ریڈیکلائزیشن) شام میں موجود ایک ہینڈلر کے ذریعے کی گئی تھی۔

    تحقیقاتی اداروں کا کہنا ہے کہ دونوں نوجوان شام میں موجود داعش کے ایک رکن کو رپورٹ کرتے تھے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ داعش نے شام میں دوبارہ منظم ہوکر اپنی سرگرمیاں تیز کردی ہیں۔اطلاعات کے مطابق 2025 میں داعش کے 115 حملے ریکارڈ کیے گئے ہیں، جو گزشتہ سال کے 72 حملوں کے مقابلے میں واضح اضافہ ہے۔

    انٹیلی جنس بیورو (IB) کے افسران کے مطابق، داعش نے اپنی آن لائن موجودگی کو از سرِ نو منظم کیا ہے اور ہندوستان میں اس کی سرگرمیاں شام سے چلائی جا رہی ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ گروپ سوشل میڈیا، انکرپٹڈ میسجنگ ایپس اور ویب فورمز کے ذریعے بھارتی نوجوانوں کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

  • کسانوں کے خون میں  نہایا بھارت، مودی کے ‘شائننگ انڈیا’ کا اصل چہرہ

    کسانوں کے خون میں نہایا بھارت، مودی کے ‘شائننگ انڈیا’ کا اصل چہرہ

    مودی کے دور حکومت میں بھارت میں ظالم طاقتور، انصاف ناپید اور غریب بے بس ہو گیا

    ظالم مودی کی زیرِ اقتدار بھارت میں کسان معاشی دباؤ کے ساتھ ساتھ سیاسی جبر کا بھی شکار ہیں،مدھیہ پردیش میں بی جے پی لیڈر کی جانب سے کسان کو جیپ تلے کچلنا کسانوں پر تشدد کی تازہ مثال ہے ، بھارتی جریدے انڈیا ٹو ڈے کی رپورٹ کے مطابق ؛ مدھیہ پردیش کے گاؤں گنیش پورہ میں بی جے پی رہنما نے زمین بیچنے سے انکار پر کسان پر جیپ چڑھا کر قتل کر دیا،مہندرا نگر نے ساتھیوں کیساتھ ملکر رام سواروپ کو ڈنڈوں سے مارا، خواتین پر بدترین تشدد کیا اور گولیاں چلائیں ، اسلحہ کے زور پر زخمی کسان کو ہسپتال لے جانے کی اجازت بھی نہیں دی گئی،

    گنیش پورہ کے مقامی افراد نے بتایا کہ؛ بی جے پی رہنماؤں نے ڈرا دھمکا کر 25 کسانوں کو زبردستی سستے داموں زمین بیجنے اور گاؤں چھوڑنے پر مجبور کیا،کانگریسی ایم ایل اے رشی اگروال نے مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ؛بی جے پی انتظامیہ کی سرپرستی میں مدھیہ پردیش میں تشدد، لوٹ مار اور عصمت دری کے واقعات بڑھ گئے

    مودی سرکار کی ناکام پالیسیوں نے بھارت کے کسانوں کو قرض، بھوک اور خودکشیوں پر مجبور کر دیا ہے

  • پاکستان کے معاشی استحکام کا انقلابی سفر، بھارتی  ویب سائٹ کی رپورٹ میں بھی اعتراف

    پاکستان کے معاشی استحکام کا انقلابی سفر، بھارتی ویب سائٹ کی رپورٹ میں بھی اعتراف

    پاکستان کے معاشی استحکام کا انقلابی سفر، بھارتی ویب سائٹ کی رپورٹ میں بھی اعتراف سامنے آ گیا

    2023 سے2025 تک پاکستان نے جنوبی ایشیا میں شاندار میکرو اکنامک تبدیلی کی مثال قائم کر دی،حکومت کی مؤثر معاشی پالیسیوں کا بھارتی ویب سائٹ ساؤتھ ا یشیا مانیٹر نے بھی اعتراف کر لیا، بہترین داخلی اصلاحات اور آئی ایم ایف بیل آؤٹ پیکچ نے پاکستان کے ڈیفالٹ سے معاشی استحکام کی بنیاد رکھی ، بھارتی ویب سائٹ ساؤتھ ایشیا مانیٹر کی رپورٹ کے مطابق ایس آئی ایف سی فریم ورک کے ذریعے پاکستان کی عالمی سطح پر مؤثر اقتصادی سفارت کاری بحالی کی بنیاد ہے،ایس آئی ایف سی نے کان کنی، توانائی آ ئی ٹی ،زراعت میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ، پاکستان نے سی پیک کے نئے مرحلے میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کیساتھ معدنیات و توانائی کے منصوبے شروع کیے، جون 2024 میں چین کے ساتھ کان کنی اور توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا،پاکستان اکنامک سروے 2025-2024 کے اعداد و شمار بھی پاکستانی مالیاتی اشار یوں میں نمایاں بہتری کے عکاس ہیں، پاکستان کی جی ڈی پی 3 فیصد پرائمری سرپلس کے ساتھ چوبیس سالوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ،پاکستانی محصولات میں 36.7 فیصد ، آئی سی ٹی برآمدات میں 23.7 فیصد اضافہ ہوا،افراط زر پچھلے سال 17.3 فیصد سے اپریل 2025 میں نمایاں کمی کے ساتھ 0.3 فیصد پر آ گیا، 2025کے اوائل میں ماہانہ ترسیلات زر 3.8 سے 4.0 بلین امریکی ڈالر کے درمیان رہیں، پاکستان کی سٹاک مارکیٹ نے امریکہ، فرانس اور چین کی اہم مارکیٹوں کے ساتھ مل کر عروج حاصل کیا،

    پاکستان کا معاشی اور علاقائی مالیاتی استحکام ابھرتی معیشتوں میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کیلئے بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے

  • 9 مئی سمیت 5 مقدمات میں عمران خان کی ضمانت میں توسیع

    9 مئی سمیت 5 مقدمات میں عمران خان کی ضمانت میں توسیع

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے پولیس کو 9 مئی سمیت 5 مقدمات میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی گرفتاری سے روک دیا۔

    بانی پی ٹی آئی کے خلاف 9 مئی، اقدام قتل، جعلی رسیدوں سمیت دیگر مقدمات درج ہیں جبکہ بشریٰ بی بی کے خلاف مبینہ جعلی رسیدیں جمع کروانے پر مقدمہ درج ہے،بانی پی ٹی آئی اور دیگر کے خلاف 9 مئی سمیت 5 کیسز کی سماعت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد کے جج افضل مجوکہ نے کی،عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ضمانت قبل از گرفتاری میں توسیع کرتے ہوئے 25 نومبر تک متعلقہ مقدمات میں دونوں کی گرفتاری روک دی،ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے اگلی سماعت میں عمران خان کو عدالت میں یا بذریعہ ویڈیو لنک پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ضمانت کی درخواستوں پر سماعت 25 نومبر تک ملتوی کردی۔

  • بھارت میں 7993 سکولوں میں ایک بھی طالب علم نہیں، پھر بھی 20 ہزار اساتذہ تعینات

    بھارت میں 7993 سکولوں میں ایک بھی طالب علم نہیں، پھر بھی 20 ہزار اساتذہ تعینات

    بھارت کے تعلیمی نظام کے بارے میں ایک چونکا دینے والی رپورٹ سامنے آئی ہے۔ بھارت کی وزارتِ تعلیم کی تازہ رپورٹ "یو ڈی آئی ایس ای” کے مطابق، پورے ملک میں 7993 ایسے اسکول موجود ہیں جہاں تعلیمی سال 2024-25 میں ایک بھی بچہ داخل نہیں ہوا۔ یعنی یہ اسکول مکمل طور پر خالی ہیں لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ان اسکولوں میں 20817 اساتذہ اب بھی تعینات ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق، سب سے زیادہ خالی اسکول مغربی بنگال میں ہیں۔ وہاں 3812 اسکول ایسے ہیں جہاں کوئی طالب علم نہیں، مگر 17965 اساتذہ وہاں موجود ہیں۔اس کے بعد تلنگانہ دوسرے نمبر پر ہے، جہاں 2245 اسکول خالی ہیں اور 1016 اساتذہ وہاں کام کر رہے ہیں۔تیسرے نمبر پر مدھیہ پردیش ہے، جہاں 463 اسکول بغیر طلبہ کے چل رہے ہیں، جن میں 223 اساتذہ تعینات ہیں۔جبکہ اترپردیش میں بھی 81 اسکول ایسے ہیں جن میں کوئی طالب علم نہیں۔

    یہ صورتحال دیکھتے ہوئے کئی بھارتی ریاستوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ان خالی اسکولوں کو قریبی اسکولوں میں ضم کر دیں تاکہ اساتذہ اور وسائل کا بہتر استعمال ہو سکے اور سرکاری پیسہ ضائع نہ ہو۔وزارتِ تعلیم کے ایک سینئر افسر کے مطابق، اسکولوں کا انتظام ریاستی حکومتوں کے اختیار میں ہے، اور تمام ریاستوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ زیروانرولمنٹ اسکولوں کو بند یا ضم کریں۔

    2023-24 میں پورے بھارت میں 12954 اسکول خالی تھے، لیکن 2024-25 میں یہ تعداد کم ہو کر 7993 رہ گئی ہے ، یعنی تقریباً 38 فیصد کمی آئی ہے ، بھارت میں اگرچہ خالی اسکولوں کی تعداد کم ہوئی ہے، لیکن اب بھی ہزاروں اسکول بغیر طلبہ کے موجود ہیں، جو حکومت کے لیے ایک بڑا تعلیمی چیلنج بنے ہوئے ہیں۔

  • یہ ہے بھارت،برازیلین خاتون ماڈل کے ساتھ ڈیلیوری بوائے کی زیادتی

    یہ ہے بھارت،برازیلین خاتون ماڈل کے ساتھ ڈیلیوری بوائے کی زیادتی

    بھارت میں ایک برازیلین خاتون ماڈل کے ساتھ ہراسانی کا واقعہ پیش آیا ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ 17 اکتوبر کو ریاست کرناٹکا کے شہر بینگلورو میں پیش آیا جہاں ایک برازیلین ماڈل خاتون ہوٹل میں رہائش پذیر تھی جہاں اسے ایک پارسل دینے کے لیے آنے والے ڈلیوری ایجنٹ کی جانب سےجنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا،رپورٹ کے مطابق پولیس کو دی جانے و الی درخواست میں کہا گیا ہے کہ خاتون ماڈل نے ایک آن لائن ایپ سے کھانا آرڈر کیا تھا جسے ڈلیور کرنے کے لیے آنے والے لڑکے نے خاتون کو نامناسب انداز میں چھوا اور ان سے بدتمیزی کی،ڈپٹی کمشنر پولیس نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ملزم کمار راؤ کالج کا طالب علم ہے اور پارٹ ٹائم ڈلیوری ایجنٹ کے طور پر کام کرتا ہے جب کہ نوجوان ملزم کو ہراسانی کی درخواست موصول ہونے کے بعد اسی دن گرفتار کرلیا گیا تھا۔