Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • دہشت گرد کمانڈر کا علاج کرنے والے دو ڈاکٹر گرفتار

    دہشت گرد کمانڈر کا علاج کرنے والے دو ڈاکٹر گرفتار

    صادق آباد، پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے بلوچستان کے مبینہ دہشت گرد کمانڈر کے علاج میں مبینہ طور پر ملوث دو ڈاکٹروں کو گرفتار کرلیا ہے۔ پولیس کے مطابق زخمی دہشت گرد کمانڈر کے علاج کا کوئی سرکاری یا نجی ریکارڈ اسپتال سے برآمد نہیں ہوسکا۔

    صادق آباد کے سول اسپتال سے تعلق رکھنے والے سرجن ڈاکٹر راؤ ندیم اور ڈاکٹر عثمان کو پولیس نے اس وقت حراست میں لیا جب انہیں اطلاع ملی کہ دونوں نے اپنے نجی اسپتال میں بلوچستان کے دہشت گرد کمانڈر فاروق کا علاج کیا ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق اطلاع ملنے پر ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ نجی اسپتال پر چھاپہ مارا، تاہم وہاں زخمی دہشت گرد کے علاج سے متعلق کوئی ثبوت یا ریکارڈ دستیاب نہیں ہوا۔پولیس کا کہنا ہے کہ جانچ پڑتال کے دوران اسپتال کے عملے اور ڈاکٹروں نے مزاحمت کی اور پولیس اہلکاروں کو اسپتال سے باہر نکال دیا، جس کے بعد حالات کشیدہ ہوگئے۔

    واقعے کے بعد پولیس نے دونوں ڈاکٹروں سمیت اسپتال کے عملے کے چھ سے زائد افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔پولیس حکام کے مطابق واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے اور یہ بھی معلوم کیا جا رہا ہے کہ زخمی دہشت گرد کمانڈر فاروق کہاں منتقل ہوا اور اس کے دیگر ساتھی کہاں روپوش ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں بعض شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمانڈر فاروق حالیہ دنوں میں بلوچستان سے فرار ہو کر پنجاب کے مختلف شہروں میں روپوش تھا، جہاں اس نے طبی امداد حاصل کرنے کی کوشش کی۔

  • جسٹس جہانگیری ڈگری کیس ، اسلام آباد ہائیکورٹ کا دو رکنی بنچ ٹوٹ گیا

    جسٹس جہانگیری ڈگری کیس ، اسلام آباد ہائیکورٹ کا دو رکنی بنچ ٹوٹ گیا

    جسٹس جہانگیری ڈگری کیس میں آج ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، جب اسلام آباد ہائیکورٹ کا سماعت کرنے والا دو رکنی بنچ ٹوٹ گیا۔

    تفصیلات کے مطابق، جسٹس خادم حسین سومرو نے دورانِ سماعت کیس سننے سے معذرت کرلی، جس کے نتیجے میں بنچ تحلیل ہوگیا۔ اس کیس کی سماعت چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس خادم حسین سومرو پر مشتمل دو رکنی بینچ کر رہا تھا۔ذرائع کے مطابق، اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کی جانب سے کیس میں فریق بننے کی متفرق درخواست بھی سماعت کے لیے مقرر تھی۔ تاہم، دورانِ کارروائی جب جسٹس خادم حسین سومرو نے خود کو سماعت سے الگ کیا تو بنچ ٹوٹ گیا اور سماعت بغیر کسی مزید کارروائی کے ملتوی کر دی گئی۔

    قانونی ماہرین کے مطابق، بنچ کے ٹوٹنے کے بعد اب نیا بینچ تشکیل دیا جائے گا جو کیس کی آئندہ سماعت کرے گا۔ اس پیش رفت کے بعد کیس کی کارروائی میں مزید تاخیر کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب کی افغان باشندوں کی نشاندہی کیلئے مساجد میں اعلان کرانے کی ہدایت

    وزیراعلیٰ پنجاب کی افغان باشندوں کی نشاندہی کیلئے مساجد میں اعلان کرانے کی ہدایت

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی نشاندہی کیلئے مساجد میں اعلان کرانے کی ہدایت کی گئی۔

    وزیرا علیٰ پنجاب مریم نواز کی زیرِ صدارت صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر اجلاس ہوا جس میں افغان باشندوں سمیت کسی بھی غیر ملکی کو پراپرٹی کرائے پر دینے والوں کیخلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا گیا،اجلاس میں گھر، دکان، فیکٹری، ہوٹل، پیٹرول پمپ وغیرہ کرائے پر دینے کی روزانہ رپورٹ طلب کرتے ہوئے غیر قانونی طور مقیم افغان باشندوں کی نشاندہی کے لیے مساجد میں اعلانات کرانے کی ہدایت دی گئی،اجلاس میں پٹواری، نمبردار اور متعلقہ علاقے کے ایس ایچ او کو غیر ملکیوں کو دی گئی پراپرٹی کی رپورٹ کرنے کے ذمہ دار قرار دیتے ہوئے تمام اضلاع میں غیر قانونی طور پر مقیم غیرملکیوں سے متعلق فیلڈ سروے کرانے پر اتفاق کیا گیا۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب کی زیر صدارت اجلاس میں وزٹ ویزے یا غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہو کر ملازمت کرنے والے غیر ملکیوں کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا.اجلاس میں غیر قانونی طور مقیم افغان باشندوں کی نشاندہی کے لیے مساجد میں اعلانات کرانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی طور پر ملازمت کرنے والے افغان باشندوں کو بھی قانونی کارروائی کا سامنا کرنا ہو گا،متعلقہ حکام کی جانب سے اجلاس کو بریف کیا گیا کہ افغان باشندوں کی نشاندہی کے لیے چہرے سے شناخت کی جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے،اجلاس کو بتایا گیا کہ خانیوال میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کو پراپرٹی کرائے پر دینے پر5 مقدمے درج کیے جا چکے ہیں، صوبے بھر کے تمام اضلاع میں افغان شہریوں کے لیے 45 ہولڈنگ سینٹر قائم کر دیے گئے ہیں، غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کو قیام، طعام اور طورخم بارڈر تک ٹرانسپورٹ دی جا رہی ہے۔

  • افغانستان کی ہٹ دھرمی،پاک افغانستان مذاکرات بے نتیجہ اختتام پذیر

    افغانستان کی ہٹ دھرمی،پاک افغانستان مذاکرات بے نتیجہ اختتام پذیر

    ترکی میں ہونے والے پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ مذاکرات کسی حتمی نتیجے کے بغیر ختم ہوگئے۔

    ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات افغان وفد کے غیرتعاون اور دفاعی رویّے کے باعث کسی پیش رفت تک نہ پہنچ سکے۔ مذاکرات کے دوران افغان وفد کے بعض ارکان نے اشتعال انگیز گفتگو کی، براہِ راست سوالات سے گریز کیا اور کئی مواقع پر نامناسب زبان استعمال کی۔ذرائع نے بتایا کہ قطری اور ترک ثالث بھی افغان وفد کے رویے پر حیران رہ گئے اور انھوں نے بالواسطہ طور پر اس امر پر افسوس ظاہر کیا کہ ایک ایسا فریق جس سے مثبت اور تعمیری رویہ کی توقع تھی، اس نے مکمل طور پر غیرسنجیدگی کا مظاہرہ کیا۔

    ذرائع کے مطابق زیادہ تر نکات پر تفصیلی بات چیت ہوئی، تاہم ایک اہم سیکیورٹی معاملے پر اختلافات پیدا ہوگئے۔ افغان وفد بار بار پاکستان کے بنیادی مطالبے ، یعنی افغان سرزمین سے پاکستان پر ہونے والے حملوں کی روک تھام کے لیے مؤثر، قابلِ تصدیق اقدامات سے گریز کرتا رہا۔ان کے جوابات غیر واضح اور قانونی موشگافیوں پر مبنی تھے، نہ کہ عملی اقدامات پر۔

    ایک باخبر پاکستانی ذریعے نے بتایا “افغان وفد نے بارہا ٹھوس اور قابلِ عمل اقدامات سے گریز کیا۔ ان کی مبہم یقین دہانیاں اور ذمہ داری قبول کرنے سے انکار نے مذاکرات کو نقصان پہنچایا۔”ذرائع کے مطابق پاکستان نے دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور سرحد پار نقل و حرکت کے شواہد پیش کیے، مگر افغان نمائندوں نے ان شواہد پر سوال اٹھانے کی بجائے بحث کو سیاسی اور طریقۂ کار کے معاملات کی طرف موڑ دیا۔مذاکرات کے دوران افغان وفد مسلسل کابل سے رابطے میں رہا، جس نے مذاکراتی عمل کو غیر مستحکم کیا اور کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے میں رکاوٹ ڈالی۔

    جب پاکستان نے مطالبہ کیا کہ افغان حکومت اپنی سرزمین سے ہونے والے حملوں کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کرے، تو افغان وفد نے یہ کہہ کر ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا کہ “یہ گروہ ہمارے مؤثر کنٹرول میں نہیں”۔یہ مؤقف ترک اور قطری ثالثوں کے لیے غیرمتوقع تھا جنہوں نے امید کی تھی کہ افغانستان باہمی تعاون پر آمادہ ہوگا۔

    پاکستانی وفد نے واضح کیا کہ اگر افغان سرزمین سے دہشت گرد حملے جاری رہے تو پاکستان اپنی خودمختاری اور عوام کے دفاع کے لیے ضروری اقدامات اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔یہ انتباہ ایک سنجیدہ مگر متناسب ردعمل کے طور پر دیا گیا، جس کا مقصد صرف اپنے عوام کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

    افغان وفد نے تجویز دی کہ اگر افغانستان کچھ یقین دہانیاں دیتا ہے تو پاکستان بھی افغان فضائی حدود کی خلاف ورزی نہ کرنے اور کسی تیسرے ملک کو اپنے فضائی راستے افغانستان کے خلاف استعمال کرنے سے روکنے کی ضمانت دے۔اسلام آباد نے وضاحت کی کہ ایسے معاملات، خصوصاً تیسرے ملک کی یکطرفہ کارروائیوں پر، پاکستان ضمانت نہیں دے سکتا ، اور نہ ہی پاکستان اس دہشت گردی کا ذمہ دار بن سکتا ہے جو افغان سرزمین سے شروع ہوتی ہے۔

    ذرائع کے مطابق جب افغان وفد نے فضائی حدود کے مسئلے کو اٹھایا تو پاکستانی وفد کے سربراہ جنرل شہاب اسلم نے دوٹوک انداز میں کہا کہ “سرزمین کے غلط استعمال کو روکنے کی بنیادی ذمہ داری اسی ملک کی ہے جس کی سرزمین استعمال ہورہی ہے۔”جنرل شہاب نے زور دیا کہ پاکستان نے ٹھوس شواہد پیش کیے ہیں جن میں سرحد پار نقل و حرکت، اڈوں اور کمانڈ روابط کی تفصیلات شامل ہیں۔انھوں نے کہا کہ پاکستان محض زبانی یقین دہانیوں کے بجائے زمینی اقدامات چاہتا ہے۔

    ایک اعلیٰ سطحی ذریعے کے مطابق مذاکرات 27 اور 28 اکتوبر کی درمیانی شب 18 گھنٹے جاری رہے۔ تین مرتبہ معاہدے کا مسودہ دونوں فریقین نے منظور کیا، مگر ہر بار افغان وفد نے کابل سے فون پر ہدایات لینے کے بعد معاہدے سے پیچھے ہٹ گیا۔ذرائع کے مطابق تیسری مرتبہ جب معاہدہ طے پایا تو جنرل شہاب نے افغان وفد سے پوچھا “اسلام میں کہا گیا ہے کہ جو بات تین مرتبہ کہی یا مانی جائے، وہ حتمی تصور ہوتی ہے۔ کیا اب یہ حتمی ہے؟”افغان وفد نے جواب دیا: “جی، ہم اتفاق کرتے ہیں۔”لیکن دستخط سے چند لمحے قبل، کابل سے فون آنے کے بعد افغان وفد دوبارہ پیچھے ہٹ گیا۔یہ منظر دیکھ کر قطری اور ترک ثالثوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا “اللہ ان لوگوں کو ہدایت دے اور معاف فرمائے۔”

    ذرائع کے مطابق استنبول مذاکرات، قطر میں ہونے والے مذاکرات کے تقریباً ایک ہفتے بعد شروع ہوئے اور تین دن جاری رہے ،پہلے دن 19 گھنٹے، دوسرے دن 11 گھنٹے، اور تیسرے دن 18 گھنٹے۔پاکستان کا اصولی مؤقف یہی رہا کہ افغان طالبان تحریک طالبان پاکستان (TTP) اور بلوچ لبریشن آرمی (BLA) کی سرپرستی ختم کریں اور اپنی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔مذاکرات کے دوران کئی مواقع پر افغان وفد نے پاکستانی دلائل سے اتفاق کیا، مگر ہر بار کابل کی ہدایت ملنے کے بعد وہ اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹ گیا۔یہ طرزِعمل اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ اصل رکاوٹ افغان دارالحکومت سے آنے والی ہدایات اور رویے میں ہے۔

    اس کے باوجود پاکستان نے ترکی اور قطر کی درخواست پر مذاکرات کا سلسلہ مزید جاری رکھنے پر آمادگی ظاہر کی۔
    یہ پاکستان کی سنجیدگی، استقامت اور خطے کے امن کے لیے خلوصِ نیت کا واضح ثبوت ہے۔اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے افغانستان کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا ہوں گی، تاکہ کسی بھی قسم کا خطرہ دوبارہ سر نہ اٹھا سکے جو عالمی امن کے لیے چیلنج بن جائے۔

  • مذاکرات کی ناکامی،طالبان کی دھڑے بندی،مالی مفادات رکاوٹ

    مذاکرات کی ناکامی،طالبان کی دھڑے بندی،مالی مفادات رکاوٹ

    استنبول میں ہونے والے پاکستان اور افغان عبوری حکومت کے درمیان مذاکرات کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔ بظاہر یہ تاثر دیا گیا کہ مذاکراتی عمل میں تعطل سفارتی وجوہات کی بنا پر پیدا ہوا، مگر درحقیقت اس ناکامی کے پس پردہ کہانی بالکل مختلف ہے۔ معتبر ذرائع کے مطابق مذاکرات کی ناکامی کا اصل سبب افغان حکومت کے اندرونی دھڑے، مالی مفادات اور پسِ پردہ طاقت کی کشمکش تھی، نہ کہ پاکستان کی کوئی سفارتی غلطی۔

    ذرائع کے مطابق استنبول مذاکرات کے پہلے ہی سیشن سے یہ واضح ہوگیا تھا کہ افغان وفد کسی ایک مؤقف پر متحد نہیں۔وفد کے اندر تین بڑے گروہ قندھار، کابل اور خوست اپنی اپنی ہدایات کے مطابق بات کر رہے تھے۔ ان میں سے ہر ایک کو مختلف داخلی قوتوں کی جانب سے الگ الگ پیغامات دیے جا رہے تھے، جس کے باعث وفد میں ہم آہنگی کا فقدان نمایاں تھا۔مذاکرات اس وقت فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوئے جب فریقین نے ٹی ٹی پی کی محفوظ پناہ گاہوں سے متعلق تحریری ضمانتوں پر بات شروع کی۔ذرائع کے مطابق قندھار دھڑے نے خاموشی سے اس تجویز پر رضامندی کا عندیہ دے دیا تھا، مگر وقفے کے دوران کابل گروپ نے اچانک ایک نئی اور غیر متفقہ شرط پیش کردی جب تک امریکہ اس معاہدے میں بطور باضابطہ ضامن شامل نہیں ہوتا، کوئی بھی معاہدہ دستخط نہیں کیا جائے گا

    یہ مطالبہ نہ صرف غیر متوقع تھا بلکہ مذاکراتی ایجنڈے میں شامل بھی نہیں تھا۔ اس اچانک تبدیلی نے ترکی اور قطر کے ثالثوں کو حیران کردیا۔ افغان سوشل میڈیا پر اس دوران امریکی ڈرونز کی سرگرمیوں کی خبریں چلنے لگیں، جس سے ظاہر ہوا کہ یہ مطالبہ محض سکیورٹی کے لیے نہیں بلکہ مالی مفادات کے لیے کیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق کابل گروپ دراصل ان مذاکرات کو سکیورٹی فریم ورک سے ہٹا کر ایک مالیاتی معاہدے میں تبدیل کرنا چاہتا تھا۔ان کا مقصد یہ تھا کہ اگر امریکہ کو شامل کیا جائے تو طالبان حکومت “امریکی تعاون” کا دعویٰ کرسکے،واشنگٹن کے ذریعے “معاشی امداد” کی راہیں دوبارہ کھل سکیں،اور داخلی دھڑوں پر دباؤ کم کیا جا سکے

    دوسرے الفاظ میں افغان حکومت کے بعض دھڑے ٹی ٹی پی کے مسئلے کو ایک مالی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے تھے تاکہ ڈالر کی ترسیل دوبارہ شروع ہوسکے۔

    مذاکرات کے دوران افغان وفد کی بدنظمی سب کے سامنے آشکار ہوگئی۔عینی شاہدین کے مطابق ایک نمائندہ ہاتھ سے لکھے چِٹ پر باہر بیٹھے شخص سے ہدایات لے رہا تھا، جبکہ دوسرا بار بار فون کالز کے لیے کمرہ چھوڑ کر جا رہا تھا۔ان کالز کے بعد پہلے سے طے شدہ نکات اچانک “زیرِ نظرِ ثانی” قرار دیے گئےمتصدیق شدہ شقوں کو دوبارہ “کھولا” گیا،اور مذاکرات کی رفتار جان بوجھ کر سست کر دی گئی،ثالثوں کے مطابق یہ سب کچھ اس لیے کیا گیا تاکہ بیرونی عناصر، خصوصاً بھارت کو وقت دے کر عمل میں شامل کیا جا سکے۔

    قطری اور ترک ثالثوں نے نجی طور پر تین نکات پر اتفاق کیا ،پاکستان کے مطالبات مکمل طور پر جائز اور عالمی سفارتی اصولوں کے مطابق ہیں۔افغان وفد کی رکاوٹ کسی پالیسی یا اصولی مسئلے کی نہیں بلکہ اندرونی غیر یقینی کی وجہ سے ہے۔کابل دھڑا جان بوجھ کر معاملے کو واشنگٹن کی جانب موڑنا چاہتا ہے تاکہ مالی دباؤ کو کم کیا جا سکے۔

    استنبول مذاکرات کی ناکامی کی بنیادی وجوہات درج ذیل ہیں ،افغان حکومت کے اندر اختلافات اور دھڑے بندی،کابل گروپ کی کوشش کہ امریکہ کو شامل کرکے ڈالر کی آمد دوبارہ شروع کی جائے،اور طالبان کا ٹی ٹی پی کو بطور “سیاسی کرنسی” استعمال کرنے کا فیصلہ

    ماہرین کے مطابق جب تک کابل انتظامیہ اپنے اندرونی اختلافات ختم نہیں کرتی، اور دہشت گردی کو سیاسی یا مالی مفاد کے آلے کے طور پر استعمال کرنا بند نہیں کرتی، اس وقت تک پاکستان یا کسی بھی ثالث کے لیے کوئی حقیقی پیش رفت ممکن نہیں

  • پاکستان میں رواں مالی سال مہنگائی 7.2 فیصد رہنے کا امکان،ورلڈ بینک

    پاکستان میں رواں مالی سال مہنگائی 7.2 فیصد رہنے کا امکان،ورلڈ بینک

    عالمی بینک نے پاکستان ڈیولپمنٹ اپ ڈیٹ رپورٹ 2025 جاری کردی

    عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال پاکستان کی معاشی شرح نمو 3 فیصد رہنے کا امکان ہے جب کہ اگلے سال معاشی ترقی بڑھ کر 3.4 فیصد تک جانے کی پیشگوئی کی گئی ہے،رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ اس سال غربت کی شرح 21.5 فیصد رہنے کا امکان ہے جب کہ غربت میں کمی اور معیار زندگی میں بہتری کے لیے معاشی ترقی میں بہتری پر زور دیا گیا ہے،عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں رواں مالی سال مہنگائی 7.2 فیصد رہنے کا امکان ہے اور اگلے مالی سال مہنگائی کم ہوکر 6.8 فیصد تک محدود رہنےکا تخمینہ ہے،رپورٹ میں مزید بتایاگیا ہےکہ پاکستان میں ہرسال 16لاکھ نوجوان روزگارکے حصول کیلئے مارکیٹ میں آرہے ہیں،رپورٹ کے مطابق عالمی بینک نے مختلف شعبوں میں جامع اصلاحات پر بھی زور دیا اور رپورٹ میں ریونیو میں اضافہ، سرمایہ کاری اور کاروبار کے لیے سازگار ماحول کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    عالمی بینک کی رپورٹ میں ایکسچینج ریٹ، سرکاری شعبے میں اصلاحات، برآمدات بڑھانے پر بھی زور دیا گیا ہے جب کہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے برآمدات میں اضافہ ضروری قرار دیا گیا ہے،رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ پاکستان کے برآمدی شعبے کو کئی مشکلات اور رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

  • ڈکی بھائی کی اہلیہ کی مدعیت میں 8 این سی سی آئی اے افسران کے خلاف مقدمہ

    ڈکی بھائی کی اہلیہ کی مدعیت میں 8 این سی سی آئی اے افسران کے خلاف مقدمہ

    وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے اینٹی کرپشن سرکل لاہور نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے نو افسران کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال، رشوت اور بلیک میلنگ کے سنگین الزامات پر مقدمہ درج کرلیا ہے۔ یہ مقدمہ معروف یوٹیوبر سعدالرحمٰن عرف ڈکی بھائی کی اہلیہ اروب جتوئی کی شکایت پر درج کیا گیا۔

    ایف آئی آر کے مطابق ڈکی بھائی کے خلاف سوشل میڈیا پر جوئے کی ایپس کے فروغ سے متعلق مقدمہ کی تفتیش لاہور این سی سی آئی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر شعیب ریاض کو سونپی گئی تھی۔ دورانِ تفتیش انکشاف ہوا کہ مذکورہ افسر نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے ڈکی بھائی کے اہلخانہ سے 90 لاکھ روپے رشوت وصول کی۔ایف آئی آر میں درج ہے کہ شعیب ریاض نے یہ رقم مختلف طریقوں سے حاصل کی، جن میں شیخوپورہ میں سلمان عزیز کے ذریعے 60 لاکھ روپے نقد جبکہ 3 لاکھ روپے کے تین چیک شہباز نامی فرنٹ مین کے ذریعے وصول کیے گئے۔ مزید یہ کہ ملزم نے ڈکی بھائی کے اکاؤنٹ سے 3 لاکھ 26 ہزار 420 ڈالرز اپنے اکاؤنٹ میں بائنانس (Binance) کے ذریعے منتقل کیے۔مقدمے میں ایڈیشنل ڈائریکٹر سرفراز،ڈپٹی ڈائریکٹر (قائم مقام انچارج) زوار احمد،اسسٹنٹ ڈائریکٹر شعیب ریاض،اسسٹنٹ ڈائریکٹر مجتبیٰ ظفر،سب انسپکٹر علی رضا،سب انسپکٹر یاسر رمضان،ڈپٹی ڈائریکٹر اسلام آباد محمد عثمان،ڈپٹی ڈائریکٹر اسلام آباد ایاز خان،فرنٹ مین سلمان عزیز نامزد افسران ہیں،

    ان میں سے متعدد افسران کئی دنوں سے “لاپتہ” تھے، تاہم گزشتہ روز ایف آئی اے نے ان کی گرفتاری ظاہر کر دی۔یہ مقدمہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 109 اور 161 کے تحت درج کیا گیا ہے، جن کا تعلق بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور رشوت سے ہے۔ مزید برآں، انسدادِ بدعنوانی ایکٹ 1947 کی شق 5(2) کے تحت بھی کارروائی شامل ہے، جو سرکاری اہلکاروں کی مجرمانہ بدعنوانی سے متعلق ہے۔

    آج عدالت میں گرفتار چھ افسران کے وکیل بیریسٹر میاں علی اشفاق نے ایک درخواست دائر کی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ملزمان کو گرفتار کر کے نہ ان کے اہلخانہ اور نہ ہی وکلا کو ملاقات کی اجازت دی جا رہی ہے۔درخواست میں کہا گیا کہ ایف آئی اے نے ایف آئی آر کی کاپی دینے سے بھی انکار کر دیا، جو آئین کے آرٹیکل 10-اے کے خلاف ہے۔ وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ گرفتار افسران کو فوری طور پر عدالت کے روبرو پیش کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں تاکہ ان کے بنیادی حقوق محفوظ رہیں۔درخواست میں مزید کہا گیا کہ ملزمان کو 24 گھنٹوں کے اندر عدالت میں پیش کرنا قانونی تقاضہ ہے، بصورتِ دیگر یہ غیر قانونی حراست کے زمرے میں آتا ہے۔

    ذرائع کے مطابق، گرفتار ہونے والے افسران میں ایڈیشنل ڈائریکٹر سرفراز کو گزشتہ ماہ مختلف تنازعات کے باعث ان کے عہدے سے ہٹا کر اسلام آباد ہیڈکوارٹر رپورٹ کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔یہ تنازعات متعدد یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز (جن میں ڈکی بھائی اور رجب بٹ شامل ہیں) کے خلاف کارروائیوں، وکلاء کے ساتھ تنازعے اور لاہور کے بعض صحافیوں سے اختلافات سے متعلق تھے۔

    دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ نے جمعے کے روز لاپتہ ڈپٹی ڈائریکٹر محمد عثمان کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر پولیس کو ایک ہفتے کی مہلت دی تھی۔ محمد عثمان کی اہلیہ روزینہ عثمان نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ 14 اکتوبر کو چار مسلح افراد ان کے شوہر کو اغوا کر کے لے گئے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ بعد ازاں خود روزینہ عثمان بھی لاپتہ ہو گئیں، جس پر عدالت نے دونوں کے حوالے سے پولیس سے تازہ رپورٹ طلب کر لی۔

    ڈان نیوز کے مطابق جب نیشنل سائبر کرائم ایجنسی کے ترجمان سے مؤقف جاننے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک “انتہائی سنگین اور حساس معاملہ” ہے۔تاہم ذرائع کے مطابق افسران کی گرفتاری اور غائب ہونے کا معاملہ سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی مالی سرگرمیوں کی تحقیقات سے جڑا ہوا ہے۔

  • سی سی ڈی کے رات گئے 4 مبینہ مقابلوں میں مجموعی طور پر 6 ملزمان ہلاک

    سی سی ڈی کے رات گئے 4 مبینہ مقابلوں میں مجموعی طور پر 6 ملزمان ہلاک

    لاہور میں سی سی ڈی کے رات گئے 4 مبینہ مقابلوں میں مجموعی طور پر 6 ملزمان ہلاک ہوگئے۔

    سی سی ڈی حکام مطابق مبینہ مقابلے نشترکالونی، گرین ٹاون، ہربنس پورہ، رنگ روڈ کے قریب ہوئے۔سی سی ڈی ماڈل ٹاؤن ٹیم اشتہاریوں کی گرفتاری کیلئے نشترکالونی پہنچی، ملزمان نے فائرنگ کردی، فائرنگ کے تبادلے میں 2 ملزمان اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔ گرین ٹاؤن میں مبینہ مقابلے کے دوران زیر حراست ملزم اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوا۔سول لائنز میں 3 ملزمان ہلاک ہوئے، ملزمان رنگ روڈ کے قریب شہریوں سے لوٹ مار کررہے تھے۔

  • پاک بھارت جنگ بندی میں امریکی صدر کے کردار کے تعمیری کردار کے معترف ہیں، رضوان شیخ

    پاک بھارت جنگ بندی میں امریکی صدر کے کردار کے تعمیری کردار کے معترف ہیں، رضوان شیخ

    امریکہ میں سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ نے”فیوچر سیکیورٹی سمٹ 2025″ سے خطاب کیا ہے

    سمٹ کا انعقاد معروف امریکی تھنک ٹینک نیو امریکا، اریزونا سٹیٹ یونیورسٹی اور سیکیورٹی اینڈ ڈیفنس پلس کے اشتراک سے کیا گیا،سفیر پاکستان نے پاک امریکہ تعلقات کے مستقبل ، موحولیاتی تبدیلی کے مشترکہ چیلنج، معرکہ حق، مسئلہ کشمیر، پاک چین دوستی ، دہشت گردوں کی جانب سے افغان سرزمین کا استعمال، دہشت گردی کی عفریت کے خاتمے کے لئے پاکستان کی کوششوں ، اور یوکرائن سمیت عالمی معاملات پر اظہار خیال کیا
    سمٹ سے سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ نے خطاب میں کہا کہ پاکستان ماحولیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے، ماحولیاتی تبدیلی پاکستان کے لئے وجودی خطرہ ہے، ماحولیاتی تبدیلی کے نتیجے میں قدرتی آفات سے پاکستان کی ترقی متاثر ہوئی ہے، ماحولیاتی تبدیلی سے متاثرہ عوام کو معاشی تحفظ کی فراہمی کے لئے کوشش جاری ہے، ماحولیاتی تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنے کے لئے آئی ایم ایف اور عالمی بنک کے ساتھ کام کر رہے ہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بعد پاکستان ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف فرنٹ لائن ریاست کا کردار ادا کر رہا ہے، حالیہ سیلابوں سے متاثرہ عوام کو ریلیف کی فراہمی کے لئے اپنے وسائل برؤے کار لا رہے ہیں

    سفیر پاکستان نے معرکہ حق کے حوالے سے تفصیلی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے اپنی انتظامی ناکامیوں اور سیاسی مجبوریوں کے پیش نظر پہلگام واقعے کا ملبہ پاکستان پر ڈالنا چاہا۔ دنیا دو جوہری ریاستوں کے درمیان تصادم کی متحمل نہیں ہو سکتی، پاک بھارت جنگ بندی میں امریکی صدر کے کردار کے تعمیری کردار کے معترف ہیں، صدر ٹرمپ پاک دنیا کے دیگر حصوں میں امن قائم کرنے کے لئے کوشاں ہیں، اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا حل خطے میں مستقل امن کا ضامن ہوگا،پاکستان اور امریکہ آبادی کے اعتبار سے دنیا کے دو بڑے ملک ہیں، آبادی کے لحاظ سے دو بڑے ملکوں کے درمیان اچھے تعلقات ناگزیر ہیں۔ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات تاریخی تناظر میں خوش آئند ترین سطح پر ہیں، دونوں ملکوں نے مل کر مختلف چیلنجز کا مقابلہ کیا ہے، سی پیک کو خطے کی معاشی ترقی کے تناظر میں دیکھا جائے، پاکستان ماضی کی طرح چین اور امریکہ کے درمیان تعمیری کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہے، افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی سے پاکستان سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے، اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرنے اور اسے حل کرنے کی ضرورت ہے، پاکستان امن کا خواہاں ہے تاہم اپنی عوام کی سلامتی کو دہشت گردوں کے رحم کرم پر نہیں چھوڑ سکتا، پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد کو بین الاقوامی بارڈر کے طور پر لیا جانا تاریخی حقیقت ہے، یوکرائن میں امن کے حوالے سے جاری کوششوں کے حوالے سے پرامید ہیں

  • کندھ کوٹ پل منصوبے کی پیش رفت پر وزیراعلیٰ سندھ  کی زیر صدارت اجلاس

    کندھ کوٹ پل منصوبے کی پیش رفت پر وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت اجلاس

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرِ صدارت گھوٹکی–کندھ کوٹ پل منصوبے کی پیش رفت سے متعلق ایک اہم اجلاس وزیراعلیٰ ہاؤس کراچی میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار، وزیر ورکس اینڈ سروسز علی حسن زرداری، وزیراعلیٰ کے معاونِ خاص سید قاسم نوید، چیف سیکریٹری سید آصف حیدر شاہ، آئی جی سندھ غلام نبی میمن اور دیگر اعلیٰ افسران شریک ہوئے۔

    اجلاس میں گھوٹکی–کندھ کوٹ پل منصوبے پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ یہ منصوبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) کے تحت تعمیر کیا جا رہا ہے اور اس کی تکمیل سے سندھ، پنجاب اور بلوچستان کے درمیان تجارتی و معاشی روابط میں نمایاں بہتری آئے گی۔وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "گھوٹکی–کندھ کوٹ پل ایک تاریخی اور نمایاں منصوبہ ہے جو تینوں صوبوں کے عوام کو قریب لائے گا اور علاقائی ترقی و ہم آہنگی میں سنگ میل ثابت ہوگا۔”انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں سیکیورٹی خدشات کے باعث منصوبے پر کام سست روی کا شکار رہا، تاہم اب امن و امان کی صورتحال بہتر ہو چکی ہے، لہٰذا منصوبے پر کام کی رفتار میں تیزی لائی جائے۔ وزیراعلیٰ نے ورکس اینڈ سروسز ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت دی کہ "مجھے گھوٹکی–کندھ کوٹ پل کا کام تیز رفتاری سے چاہیئے اور 2026ء کے آخر تک منصوبہ مکمل ہونا چاہئے۔”

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ گھوٹکی–کندھ کوٹ پل 12.15 کلومیٹر طویل ہوگا، جو ملک کی سب سے بڑی برج (Bridge) قرار پائے گا۔ گھوٹکی کی جانب سے 10.4 کلومیٹر اور کندھ کوٹ کی سمت سے 8.1 کلومیٹر تک رسائی سڑکیں تعمیر کی جا چکی ہیں، جبکہ جاڑی واہ، گھوٹکی فیڈر کینال اور طبی مائنر پر پل بھی مکمل ہو چکے ہیں۔مزید بتایا گیا کہ منصوبے کے لیے 38 پائپ کلورٹس کی تعمیر بھی مکمل کر لی گئی ہے۔ صوبائی وزیر ورکس اینڈ سروسز علی حسن زرداری نے اجلاس میں آگاہ کیا کہ منصوبہ PPP موڈ پر تعمیر ہو رہا ہے اور ابتدائی منصوبے کے مطابق 2028ء میں مکمل ہونا تھا، تاہم وزیراعلیٰ کی ہدایت کے بعد اسے 2026ء کے آخر تک مکمل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے متعلقہ محکموں کو حکم دیا کہ "کانٹریکٹر نومبر کے پہلے ہفتے سے پل پر دن رات کام شروع کرے اور باقاعدگی سے پیش رفت رپورٹ پیش کرے۔”انہوں نے زور دیا کہ اگر تعمیراتی عمل بغیر کسی تعطل کے جاری رکھا گیا تو پل 2026ء میں ہی مکمل کیا جا سکتا ہے، جو نہ صرف سندھ بلکہ پورے ملک کے لیے ترقی اور رابطے کی نئی راہیں کھول دے گا۔