Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ریچھ کے حملے کے بعد  قرۃ العین بلوچ کی ٹیم کا باضابطہ بیان جاری

    ریچھ کے حملے کے بعد قرۃ العین بلوچ کی ٹیم کا باضابطہ بیان جاری

    پاکستان کی مقبول ترین گلوکارہ قرۃ العین بلوچ کی ٹیم نے ان کی صحت سے متعلق پہلا باضابطہ بیان جاری کردیا۔

    قرۃ العین بلوچ کے انسٹاگرام پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ گلوکارہ حال ہی میں بلتستان کے سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے کام کرنے گئی تھیں جہاں وہ جامع ڈیزاسٹر ریسپانس سروسز (سی ڈی آر ایس) کے ہمراہ متاثرہ دیہات میں امدادی سرگرمیوں میں شریک تھیں، 4 ستمبر کی رات جب گلوکارہ خیمے میں سورہی تھیں، اس وقت ان پر بھورے ریچھ نے حملہ کیا تاہم سی ڈی آر ایس ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ریچھ کو بھگا دیا۔

    قرۃ العین بلوچ کو فوراً قریبی طبی مرکز منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے تصدیق کی کہ ان کی حالت خطرے سے باہر ہے اور کوئی فریکچر نہیں ہوا، وہ تیزی سے صحتیاب ہورہی ہیں،گلوکارہ کی ٹیم نے مداحوں سے دعاؤں کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت ان کی پرائیویسی کا خیال رکھیں کیونکہ گلوکارہ کو مکمل آرام کی ضرورت ہے جب کہ تمام عوامی سرگرمیوں کو ان کی صحت یابی تک ملتوی کردیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ یہ واقعہ گلگت بلتستان کے دیوسائی نیشنل پارک میں پیش آیا، جو بلند و بالا سطح مرتفع پر واقع ہے اور نایاب ہمالیائی بھورے ریچھوں کا مسکن ہے،گلگت بلتستان پولیس کے مطابق قرۃ العین بلوچ اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ دیوسائی کے کیمپنگ ایریا میں موجود تھیں، جب اچانک ایک بھورا ریچھ حملہ آور ہوا اور ان کے دونوں بازو زخمی کر دیے تاہم ان کا کیمرہ مین اور دوسرا ساتھی محفوظ رہے۔

  • سیلاب موج مستی والی چیز نہیں، پانی کا بہاو بہت تیز ہے،عظمیٰ بخاری

    سیلاب موج مستی والی چیز نہیں، پانی کا بہاو بہت تیز ہے،عظمیٰ بخاری

    وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے پنجاب میں سیلابی صورتحال بگڑ رہی ہے، سیلاب جنوبی پنجاب کے علاقوں میں پہنچ چکا ہے اور بارشیں بھی غضب ڈھا رہی ہیں۔

    لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا سیلاب متاثرین کو بارش اور پانی سے مشکلات ہو رہی ہیں، حکومت نے اتنی بڑی آفت میں بہترین کام کیا، ملکی تاریخ میں مثال نہیں ملتی، وزیر اعلیٰ مریم نواز بڑے ریلیف پیکج کا اعلان کرنے جا رہی ہیں، سیلاب کے باعث پنجاب مں اب تک 60 افراد جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں، 4 ہزار335 دیہات اور 42 لاکھ افراد متاثر ہیں، 18 لاکھ 581 ایکٹر زرعی رقبہ متاثر ہوا جس کے باعث دالیں سبزیاں مہنگی ہوئی ہیں۔ 21 لاکھ افراد اور ساڑھے 15 لاکھ مویشیوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا،جن علاقوں میں ڈینگی مچھر کی شکایات ہیں وہاں اسپرےکرائے جا رہے ہیں، انتظامیہ کے ساتھ لوگ تعاون کریں، جہاں پانی کم ہونا شروع ہوا ہے وہاں انتظامیہ کی اجازت کے بغیر نہ جائیں۔

    عظمیٰ بخاری کا مزید کہنا تھا کہ سیلاب کے پانی پر کسی کا کوئی اختیار نہیں ہے، پنجاب میں سیلابی صورتحال بگڑ رہی ہے، چار ماہ سے نہ مون سون ختم ہو رہا ہے نہ لوگوں کی پریشانیاں، جنوبی پنجاب کے علاقوں میں سیلاب پہنچ گیا ہے، بارشیں بھی غضب ڈھا رہی ہیں،خان بیلا اور جلالپور کے علاقوں میں ایمرجنسی کی صورتحال تھی، لیکن ہمارے لوگ شاید سیلاب کو بھی سنجیدہ نہیں لے رہے، سیلاب کوئی دیکھنے یا فن کرنے کی چیز نہیں، لوگ سوشل میڈیا پر وڈیوز ڈال رہے ہیں اور پانی میں مستیاں کر رہے ہیں، یہ سیلاب موج مستی والی چیز نہیں، پانی کا بہاو بہت تیز ہے،سیلاب زدہ علاقوں میں ڈینگی نے بھی سر اٹھانا شروع کر دیا ہے، عوام سے اپیل ہے ڈینگی کے حوالے سے احتیاطی تدابیر اختیار کریں، سیلاب زدہ علاقوں میں فیومیگیشن ہورہی ہے۔

  • بھارتی میڈیا ایک بار پھر فالس فلیگ آپریشنز کی فضاء ہموار کرنے میں مصروف

    بھارتی میڈیا ایک بار پھر فالس فلیگ آپریشنز کی فضاء ہموار کرنے میں مصروف

    بھارتی میڈیا ایک بار پھر فالس فلیگ آپریشنز کی فضاء ہموار کرنے میں مصروف ہے۔ذرائع کے مطابق ممبئی کے نائر ہسپتال کو موصول ہونے والی بم دھمکی ایک اور فالس فلیگ کے سکرپٹ کا حصہ ہے۔

    دہشتگردی کی پے درپے اطلاع کا بھارتی میڈیا پر آنامنظم پراپیگنڈے کی نشاندہی کرتا ہے۔ذرائع نے بتایا ہے کہ بھارتی میڈیا کی جانب سے اس طرح کی خبروں کا تسلسل بھارتی حکومت کی اندرونی ناکامیوں سے توجہ ہٹانا ہے۔ای میل اور فون کال کے ذریعے بم کی اطلاع دینا اور فوری سیکیورٹی ردعمل دکھانا طے شدہ سکرپٹ کا حصہ ہے۔یہ پروپیگنڈا اس وقت کیا جا رہا ہے جب بھارت کو عالمی سطح پر انسانی حقوق، اقلیتوں کے تحفظ اور کشمیریوں پر مظالم کے حوالے سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مودی سرکار ایک بار پھر خوف کی فضاء بنا کر عوامی جذبات کو بھڑکانا چاہتی ہے تاکہ اصل مسائل کو پسِ پشت دھکیلا جا سکے۔ایسے اقدامات عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہیں۔پلوامہ، اڑی اور پٹھان کوٹ جیسے واقعات میں بھارت نے خود اپنے ہی فوجیوں کو نشانہ بنایا۔2016 میں اُڑی فالس فلیگ کے بعد بھارت نے درجنوں فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا لیکن ایک بھی لاش سامنے نہ لائی گئی۔

    2019 میں پلوامہ فالس فلیگ الیکشن سے قبل بی جے پی کی سازش تھی جس میں 44 بھارتی فوجیوں کو مروایا گیا۔پلوامہ واقعہ میں بی جے پی کے ساتھی بھارتی پولیس آفیسر دیویندر سنگھ کے دہشت گردوں سے تعلقات بھی سامنے آ چکے ہیں۔چھتیس سنگھ پورہ میں 35 سکھوں کا قتل عام کر کے اسکا جھوٹا الزام بھی پاکستان پر لگایا گیا۔ماضی میں بھی فالس فلیگ کے فوری بعد پاکستان پر الزام لگایا گیا، مگر کوئی ٹھوس شواہد پیش نہ کیے جا سکے۔ذرائع کے مطابق آرٹیکل 370 کی منسوخی اور پہلگام فالس فلیگ جیسے ڈرامے مودی کی سیاسی شکست کا اظہار ہیں۔چھتیس پورہ میں سکھوں کا قتل بھی بھارت کی ریاستی دہشتگردی کی واضح مثال ہے۔ چند روز قبل بھی بھارتی میڈیا کی جانب سے ممبئی میں بم نصب ہونے کی جھوٹی خبر چلائی گئی۔بھارتی میڈیا نےخبر کو بنیاد بنا کر پاکستان کا تعلق دہشتگردوں کے ساتھ جوڑنے کی ناکام کوشش کی۔اس سے قبل بھی بھارتی میڈیا 3 پاکستانی شہری جو کمبوڈیا روزگار کیلئے جا رہے تھے کو دہشتگرد کہہ چکا ہے۔بھارت عالمی سطح پر پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے مسلسل جھوٹا پراپیگنڈا کر رہا ہے۔

  • دریائے چناب میں سیلاب، مظفر گڑھ میں کئی دیہات ڈوب گئے

    دریائے چناب میں سیلاب، مظفر گڑھ میں کئی دیہات ڈوب گئے

    دریائے چناب میں اونچے درجے کے سیلاب کے باعث مظفر گڑھ میں متعدد دیہات پانی میں ڈوب گئے جبکہ بڑی تعداد میں لوگوں کی محفوظ مقامات پر نقل مکانی جاری ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ 24 گھنٹوں میں ایک ہزار سے زائد لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، امدادی کارروائیاں رنگپور، دوآبہ، سنکی، خان گڑھ، وہیلاں والی، بنڈہ اسحاق اور عظمت پور میں کی گئیں۔پولیس کے مطابق ضلع بھر میں ریسکیو کی 32 اور پولیس کی 8 کشتیاں لوگوں کو ریسکیو کر رہی ہیں، آرمی، وائلڈ لائف کی کشتیاں اور پرائیویٹ کشتیاں بھی لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کررہی ہیں۔اوکاڑہ کی ضلعی انتظامیہ کا بتانا ہے کہ دریائے راوی اور دریائے ستلج میں بھی اونچے درجے کی سیلابی صورتحال برقرار ہے، 32 دیہات کے تمام سرکاری و نجی اسکولوں کی چھٹیوں میں 8 تا 14 ستمبر تک توسیع کر دی گئی ہے۔

    ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق پنجاب کے دریاؤں میں طغیانی کی صورتحال برقرار ہے، دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر انتہائی اونچے درجے اور سلیمانکی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے۔پی ڈی ایم اے ترجمان کے مطابق دریائے چناب میں خانکی ہیڈ ورکس کے مقام پر نچلے درجےکا سیلاب ہے جبکہ دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ ہیڈ سدھنائی کے مقام پر بھی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ترجمان پی ڈی ایم کے کا بتانا ہے کہ 9 ستمبر تک پنجاب کے دریاؤں میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے، بالائی علاقوں میں بارشوں کے باعث دریاؤں کے بہاؤ میں اضافے کا خدشہ ہے ہے۔

  • کراچی میں گھریلو ملازمہ پر تشدد، میاں بیوی گرفتار

    کراچی میں گھریلو ملازمہ پر تشدد، میاں بیوی گرفتار

    کراچی: کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس بلاک 2 میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں 12 سالہ گھریلو ملازمہ پر بہیمانہ تشدد کے الزام میں پولیس نے میاں بیوی کو گرفتار کرلیا ہے۔

    پولیس کے مطابق متاثرہ بچی گھر کے اندر کام کر رہی تھی کہ اس دوران دوپٹہ جلنے کا واقعہ پیش آیا۔ اس پر گھر کی مالکن نے انتہائی سفاکانہ رویہ اپناتے ہوئے بچی کو استری سے داغ دیا۔ تشدد کے باعث بچی کی حالت تشویش ناک ہوگئی اور اسے فوری طور پر جناح اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اس کے جسم پر شدید جلنے کے نشانات کی تصدیق کی ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی کارروائی عمل میں لائی گئی اور تشدد کرنے والے میاں بیوی کے خلاف مقدمہ درج کرکے دونوں کو گرفتار کرلیا گیا۔ ان کے خلاف فوجداری دفعات کے تحت کارروائی کی جارہی ہے۔

    ابتدائی تحقیقات کے مطابق متاثرہ بچی کا تعلق ایک غریب گھرانے سے ہے اور وہ گزشتہ کئی ماہ سے مذکورہ فلیٹ میں ملازمہ کے طور پر کام کر رہی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مزید تفتیش جاری ہے تاکہ یہ پتہ لگایا جا سکے کہ بچی پر پہلے بھی تشدد کیا جاتا تھا یا یہ پہلا واقعہ ہے۔

  • اسٹاک ایکسچینج کا تاریخی سطح عبور کرنا حکومت کی پالیسیوں پر اعتماد کا مظہر ہے،وزیراعظم

    اسٹاک ایکسچینج کا تاریخی سطح عبور کرنا حکومت کی پالیسیوں پر اعتماد کا مظہر ہے،وزیراعظم

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نےاسٹاک ایکسچینج ہنڈرڈ انڈیکس 1 لاکھ 56 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کرنے پر اظہار اطمینان کیا ہے

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا تاریخی سطح عبور کرنا، کاروباری برادری و سرمایہ کاروں کے حکومت کی پالیسیوں پر اعتماد کا مظہر ہے.اللہ کے فضل و کرم سے ملکی ترقی کا سفر معاشی ٹیم کی محنت کی وجہ سے جاری و ساری ہے.حال ہی میں چین کے نجی شعبے کے ساتھ پاکستان کی نجی کمپنیوں کے اربوں ڈالر کے معاہدے و مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے.ملک میں سرمایہ کاری میں اضافے سے صنعتیں لگیں گی، برآمدات میں اضافہ ہوگا اور روزگار کے مزید مواقع پیدا ہونگے. ملکی معاشی سمت کی بہتری اور ترقی کے سفر پر گامزن کرنے کے لئے معاشی ٹیم کی کوششیں قابل ستائش ہیں.

  • احسن اقبال کا ورکنگ باؤنڈری کا دورہ،  بھارتی ڈرون گرنے کا انکشاف

    احسن اقبال کا ورکنگ باؤنڈری کا دورہ، بھارتی ڈرون گرنے کا انکشاف

    نارووال: وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ رینجرز کے بہادر جوانوں نے اپنی جانیں قربان کرکے سیلاب میں پھنسے شہریوں کو بچایا اور اسی دوران ایک جوان پانی کے تیز ریلے میں بہہ کر شہید ہوگیا۔ انہوں نے شہید کے والدین سے ملاقات کرکے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔

    احسن اقبال نے اپنے بیان میں کہا کہ کل رات رکن قومی اسمبلی احمد اقبال اور وسیم بٹ کے ہمراہ ورکنگ باؤنڈری کے آخری گاؤں کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے مقامی آبادی کے ساتھ ملاقات کی اور ان کے مسائل سنے۔انہوں نے انکشاف کیا کہ اسی دوران بھارت کی جانب سے ایک ڈرون پاکستانی حدود میں بھیجا گیا جو گاؤں کے اندر آ گرا۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ یہ اقدام بھارت کی بوکھلاہٹ کا واضح ثبوت ہے اور دشمن اپنے اوچھے ہتھکنڈوں سے باز نہیں آ رہا۔

    احسن اقبال نے کہا کہ بھارت کی بوکھلاہٹ آخری درجے کو چھو رہی ہے، لیکن پاکستانی عوام اور افواج ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی سرحدوں کا دفاع کرنے والے شہداء قوم کا فخر ہیں اور ان کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی۔

  • 8 ستمبر کا دن – پاک بحریہ کے نام

    8 ستمبر کا دن – پاک بحریہ کے نام

    8 ستمبر کا دن – پاک بحریہ کے نام،7 اور 8 ستمبر کی درمیانہ شب پاک بحریہ نےبھارتی نیول بیس دوارکا پر حملہ کیا.

    آپریشن سومناتھ میں پاک بحریہ کے سات جنگی جہازوں نے حصہ لیا،حصہ لینے والوں میں پی این ایس بابر، خیبر، بدر، جہانگیر، عالمگیر، شاہجہان اور ٹیپو سلطان شامل تھے،صرف چار منٹ میں بھارتی نیول بیس آگ کا ڈھیربن گیا،پاک بحریہ کی شدید بمباری سے بھارتی ایئر فورس کا ریڈار بھی زمین بوس ہو گیا،پاک بحریہ کے نڈر اور اپنے پانیوں سے 120 میل دور بھارتی سرزمین پر حملے نے بھارتی بحریہ کو شل کر دیا،صرف چند میل کی دوری پر موجود بھارتی جنگی جہاز ”میسور” اور ”تلوار” نے مدد کی اپیل کا جواب دینے سے ہی انکار کر دیا

    بھارتی جنگی جہازوں نے جنگ کی باقی مدت خوف کے مارے بندرگاہوں میں کھڑے ہی گزار دی،پاک بحریہ کی شدید بمباری سے بھارتی ایئر فورس کا ریڈار بھی زمین بوس ہو گیا،پاک بحریہ کے نڈر اور اپنے پانیوں سے 120 میل دور بھارتی سرزمین پر حملے نے بھارتی بحریہ کو شل کر دیا،صرف چند میل کی دوری پر موجود بھارتی جنگی جہاز ”میسور” اور ”تلوار” نے مدد کی اپیل کا جواب دینے سے ہی انکار کر دیا،بھارتی جنگی جہازوں نے جنگ کی باقی مدت خوف کے مارے بندرگاہوں میں کھڑے ہی گزار دی،

  • بارشوں اور سیلاب کے بعد آٹے کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ

    بارشوں اور سیلاب کے بعد آٹے کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ

    لاہور: پنجاب اور ملک کے دیگر حصوں میں شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس نے عوام کی مشکلات کو دوچند کر دیا ہے۔

    ادارہ شماریات کی 5 ستمبر تک کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین ہفتوں کے دوران آٹے کے 20 کلو تھیلے کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ صرف تین ہفتوں میں آٹے کا 20 کلو تھیلا ایک ہزار 50 روپے تک مہنگا ہوا جبکہ ملک کے مختلف شہروں میں اس کا زیادہ سے زیادہ ریٹ 2500 روپے تک جا پہنچا ہے۔بنوں میں آٹے کا تھیلا 1050 روپے مہنگا ہوا۔پشاور اور لاڑکانہ میں قیمتوں میں 900 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔سکھر میں آٹا 840 روپے مہنگا ہوا۔لاہور میں 830 روپے کا اضافہ سامنے آیا۔ملتان میں قیمت 826 روپے بڑھی۔گوجرانوالہ اور سیالکوٹ میں 817 روپے اضافہ ہوا۔اسلام آباد میں 800 روپے اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔راولپنڈی اور کوئٹہ میں 740 روپے کا اضافہ ہوا۔بہاولپور میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 866 روپے 67 پیسے تک مہنگا ہو گیا۔

    ماہرین کے مطابق بارشوں اور سیلاب کے باعث گندم کی ترسیل میں رکاوٹیں، ذخیرہ اندوزی اور ٹرانسپورٹیشن کے مسائل آٹے کی قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کی بنیادی وجوہات ہیں۔عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آٹے کی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ غریب اور متوسط طبقہ مزید مشکلات کا شکار نہ ہو۔

  • فرانس شدید سیاسی و معاشی بحران کے دہانے پر

    فرانس شدید سیاسی و معاشی بحران کے دہانے پر

    فرانس اس وقت شدید سیاسی اور معاشی بحران کے دہانے پر کھڑا ہے جہاں وزیراعظم فرانسوا بیرو (Francois Bayrou) آج قومی اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ ہارنے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو یہ صورتحال نہ صرف ملک کے اقتصادی مسائل کو مزید گہرا کر دے گی بلکہ صدر ایمانوئل میکرون کی صدارت کو بھی بڑے چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے۔

    اگر وزیراعظم بیرو کو عہدہ چھوڑنا پڑا تو یہ دو برسوں سے بھی کم عرصے میں فرانس کا پانچواں وزیراعظم ہوگا۔ 74 سالہ بیرو نے دسمبر میں منصب سنبھالا تھا اور انہوں نے ایک سخت بجٹ پیش کیا جس میں تقریباً 40 ارب پاؤنڈ کی بچت شامل ہے۔ اس بجٹ میں دو قومی تعطیلات ختم کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے، جس نے عوامی حلقوں میں شدید غصے اور مخالفت کو جنم دیا،بیرو کی پالیسیوں کے خلاف سوشلسٹ پارٹی اور دائیں بازو کی جماعت نیشنل ریلی (Marine Le Pen کی قیادت میں) متحد ہو گئی ہیں۔ سوشلسٹ رکنِ پارلیمان سیلین تھیبو مارٹینیز نے کہا کہ وزیراعظم کا بجٹ "کمزور اور محنت کش طبقے کے خلاف ہے۔” ان کے مطابق ان کی جماعت متبادل بجٹ میں بیرو کے مقابلے میں آدھی بچت کرے گی اور قرض کی ادائیگی کو طویل مدت میں پھیلائے گی۔

    نیشنل ریلی کا مؤقف ہے کہ ملک میں نئے انتخابات ہونے چاہئیں تاکہ وہ اپنی پارلیمانی طاقت بڑھا سکیں اور صدر میکرون کو سزا دی جا سکے۔ پارٹی کے رکن گیٹن دوسوسے نے کہا: "میکرون کے دور میں ہمیشہ ایک ہی فارمولا رہا ہے: زیادہ قوانین، زیادہ ٹیکس، اور معیشت کو جکڑ دینا۔”

    ماہرین کے مطابق فرانس نے 1974 کے بعد سے بجٹ متوازن نہیں کیا۔ موجودہ وقت میں اس کا قرضہ جی ڈی پی کے تناسب سے یورپ میں تیسرے نمبر پر ہے، صرف یونان اور اٹلی اس سے آگے ہیں۔ مزید یہ کہ فرانس ہر سال اپنے قرض پر سود کی ادائیگی پر دفاع اور تعلیم سے زیادہ خرچ کر رہا ہے۔وزیراعظم بیرو نے گزشتہ ماہ اعتماد کا ووٹ خود طلب کیا تھا تاکہ اپنے متنازعہ بجٹ کے لیے حمایت حاصل کر سکیں، مگر اب یہ فیصلہ ان کے خلاف جاتا دکھائی دے رہا ہے۔

    کاروباری طبقے کو فوری اصلاحات کی ضرورت ہے ورنہ بہت سی کمپنیاں بند ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ شمالی فرانس میں فضائی اور آٹو موبائل پرزہ جات بنانے والی کمپنی سی ایم او (CMO) کے مالک نکولا گوڈین نے کہا:”ہمارے کلائنٹس اخراجات کم کر رہے ہیں، جس سے ہمارے آرڈرز براہِ راست متاثر ہو رہے ہیں۔ ہمیں کچھ نظر نہیں آ رہا، سب کچھ غیر یقینی ہے۔”

    فیکٹری میں کام کرنے والے محنت کشوں کا کہنا ہے کہ روایتی سیاست دان انہیں کب کا بھلا چکے ہیں۔ کارکن الیکزنڈر بوکیٹ نے کہا: "پورے سیاسی نظام کو ازسرِنو بنانے کی ضرورت ہے۔ ہم خود کو غیر نمائندہ اور بے یارو مددگار محسوس کرتے ہیں۔”

    اگر بیرو اعتماد کا ووٹ ہار جاتے ہیں تو وہ عارضی طور پر عہدے پر رہیں گے جب تک صدر میکرون نیا لائحہ عمل طے نہیں کرتے۔ ان کے پاس تین ہی آپشن ہوں گے،نئے انتخابات کرائیں۔ایک اور وزیراعظم مقرر کریں۔یا پھر خود مستعفی ہو جائیں — حالانکہ میکرون بارہا استعفیٰ دینے کی تجویز رد کر چکے ہیں۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق جو بھی فیصلہ ہوگا، فرانس مزید افراتفری اور غیر یقینی صورتحال کی طرف بڑھ سکتا ہے۔