Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بجٹ اجلاس،اپوزیشن کا احتجاج کا فیصلہ،سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات

    بجٹ اجلاس،اپوزیشن کا احتجاج کا فیصلہ،سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات

    قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے موقع پر پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر اور باہر سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں، جبکہ اسلام آباد اور پنجاب پولیس کے ساتھ رینجرز کے اہلکار بھی تعینات کر دیے گئے ہیں۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ ہاؤس اور اس کے اطراف میں حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔ غیر ضروری افراد کی آمد و رفت روکنے کے لیے مختلف مقامات پر خاردار تاریں بچھا دی گئی ہیں، جبکہ پارلیمنٹ جانے والے راستوں پر پولیس اہلکاروں کی گشت بھی بڑھا دی گئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے دوران کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے ہائی الرٹ ہیں اور پارلیمنٹ ہاؤس کے اطراف سیکیورٹی کی کڑی نگرانی جاری ہے۔

    دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے بجٹ اجلاس کے موقع پر پارلیمنٹ کے اندر اور باہر احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے، جس کے پیش نظر انتظامیہ نے اضافی حفاظتی اقدامات اختیار کیے ہیں۔پارلیمانی ذرائع کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی نے اجلاس کے دوران ممکنہ احتجاج کے پیش نظر سارجنٹ ایٹ آرمز کو الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی ہے تاکہ ایوان کے نظم و ضبط کو برقرار رکھا جا سکے۔حکام کا کہنا ہے کہ بجٹ اجلاس کے پرامن اور منظم انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے تمام متعلقہ ادارے مکمل طور پر متحرک ہیں۔

  • احمد آباد طیارہ حادثہ، پائلٹوں کو قصوروار نہ ٹھہرایا جائے، مطالبہ

    احمد آباد طیارہ حادثہ، پائلٹوں کو قصوروار نہ ٹھہرایا جائے، مطالبہ

    احمد آباد میں ایئر انڈیا کی پرواز اے آئی-171 کے المناک حادثے کو ایک سال مکمل ہونے پر فیڈریشن آف انڈین پائلٹس (ایف آئی پی) نے حادثے کی تحقیقات کے دائرہ کار کو وسیع کرنے اور پائلٹوں کو قبل از وقت ذمہ دار قرار نہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

    فیڈریشن کے صدر کیپٹن سی ایس رندھاوا نے ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صرف چند سیکنڈ کی کاک پٹ وائس ریکارڈر (سی وی آر) آڈیو کی بنیاد پر حادثے کی ذمہ داری پائلٹوں پر عائد کرنا مناسب نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ بعض بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں یہ تاثر دیا گیا کہ پائلٹوں نے غلطی سے انجن بند کر دیے تھے، تاہم حادثے کے تمام تکنیکی پہلوؤں کی مکمل جانچ ابھی باقی ہے۔ ان کے مطابق تحقیقات کو صرف فیول کنٹرول سوئچ تک محدود رکھنے کے بجائے طیارے کے برقی، الیکٹرانک اور کمپیوٹرائزڈ نظاموں کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جانا چاہیے۔کیپٹن رندھاوا نے دعویٰ کیا کہ بوئنگ 787 طیاروں میں ماضی میں بھی مختلف برقی خرابیوں کی رپورٹس سامنے آ چکی ہیں، جن میں لیتھیم بیٹری سے متعلق مسائل، برقی آگ لگنے کے واقعات، پانی کے رساؤ اور الیکٹرانک نظام میں خرابی جیسے معاملات شامل ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حادثے کے روز ویانا سے دہلی آنے والی ایئر انڈیا کی ایک اور بوئنگ 787 پرواز میں بھی برقی شارٹ سرکٹ اور الیکٹرانک حصے میں پانی داخل ہونے کی اطلاع موصول ہوئی تھی۔

    فیڈریشن آف انڈین پائلٹس نے مطالبہ کیا ہے کہ تحقیقات میں مزید پائلٹوں، انجینئروں اور فضائی سلامتی کے ماہرین کو شامل کیا جائے تاکہ حادثے کے تمام ممکنہ اسباب کا غیر جانبدارانہ اور جامع جائزہ لیا جا سکے۔ تنظیم کے مطابق اس سلسلے میں گزشتہ ایک سال کے دوران حکومت اور تحقیقاتی اداروں کو 20 سے زائد خطوط بھی ارسال کیے جا چکے ہیں۔کیپٹن رندھاوا نے بتایا کہ حادثے میں جاں بحق ہونے والے پائلٹ کیپٹن سمیت سبر وال کے والد پشکر راج سبر وال کے ساتھ مل کر سپریم کورٹ میں ایک درخواست بھی دائر کی گئی ہے، جس میں عدالتی نگرانی میں تحقیقات کرانے کی استدعا کی گئی ہے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حادثے سے قبل طیارے کی جانب سے بھیجے گئے اے کارس (ACARS) پیغامات کا تفصیلی تجزیہ ضروری ہے کیونکہ ان میں طیارے کی تکنیکی حالت سے متعلق اہم معلومات موجود ہو سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات کا مقصد کسی ایک فریق کو مورد الزام ٹھہرانا نہیں بلکہ حادثے کی اصل وجوہات کا تعین اور مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام کو یقینی بنانا ہونا چاہیے۔

    واضح رہے کہ احمد آباد سے لندن جانے والی ایئر انڈیا کی پرواز اے آئی-171 گزشتہ سال ٹیک آف کے چند منٹ بعد حادثے کا شکار ہو گئی تھی، جس کے نتیجے میں 260 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔ اس حادثے کی تحقیقات ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بورڈ کی جانب سے جاری ہیں، تاہم حتمی رپورٹ تاحال منظر عام پر نہیں آ سکی۔

  • بجٹ سے قبل وزیراعظم نے 4 نئے پارلیمانی سیکرٹری مقرر کر دیے

    بجٹ سے قبل وزیراعظم نے 4 نئے پارلیمانی سیکرٹری مقرر کر دیے

    اسلام آباد: وفاقی بجٹ سے قبل حکومتی صفوں میں ناراض اراکین کو متحرک اور مطمئن کرنے کی کوششوں کے تحت وزیراعظم شہباز شریف نے چار نئے پارلیمانی سیکرٹریز کی تقرری کی منظوری دے دی۔

    وزیراعظم کی منظوری کے بعد وزارتِ پارلیمانی امور نے تقرریوں کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق محمد نعمان کو پارلیمانی سیکرٹری برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات مقرر کیا گیا ہے، جبکہ دانیال احمد کو پارلیمانی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ تعینات کیا گیا ہے۔اسی طرح شائستہ خان کو پارلیمانی سیکرٹری برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ اور اختر بی بی کو پارلیمانی سیکرٹری برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ مقرر کر دیا گیا ہے۔

    سیاسی حلقوں کے مطابق یہ تقرریاں وفاقی بجٹ کی منظوری سے قبل حکومتی اراکین کو اہم ذمہ داریاں دے کر پارٹی صفوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کا حصہ ہیں۔

  • موجیں ختم،اورنج لائن ٹرین،میٹرو پر سفر کے لئے اب کرایہ دینا ہو گا

    موجیں ختم،اورنج لائن ٹرین،میٹرو پر سفر کے لئے اب کرایہ دینا ہو گا

    پنجاب میں ماس ٹرانزٹ سسٹم کے تحت چلنے والی تمام پبلک ٹرانسپورٹ پر مفت سفر کی سہولت ختم کر دی گئی ہے، جس کے بعد مسافروں کو دوبارہ کرایہ ادا کرنا ہوگا۔

    انچارج ماس ٹرانزٹ اتھارٹی عزیر شاہ کے مطابق اورنج لائن میٹرو ٹرین، میٹرو بس اور اسپیڈو بس سروس پر مفت سفر کی سہولت کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کرایوں کا دوبارہ اطلاق لاہور، راولپنڈی اور ملتان میں چلنے والی تمام ماس ٹرانزٹ سروسز پر ہوگا،عزیر شاہ نے بتایا کہ شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کی ٹرانسپورٹ سروسز کو عارضی طور پر مفت کیا گیا تھا، تاہم اب یہ سہولت واپس لے لی گئی ہے اور مسافروں سے معمول کے مطابق کرایہ وصول کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ اپریل میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد پنجاب اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں عوام کو سفری سہولت فراہم کرنے کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کو مفت کر دیا گیا تھا۔ اب حکومت کی جانب سے اس پالیسی کو ختم کرتے ہوئے دوبارہ کرایہ نظام بحال کر دیا گیا ہے۔

  • سعودی عرب ، آثارِ قدیمہ کی اہم دریافتوں کا اعلان،حضرت عمر فاروق کے نام کا کتبہ دریافت

    سعودی عرب ، آثارِ قدیمہ کی اہم دریافتوں کا اعلان،حضرت عمر فاروق کے نام کا کتبہ دریافت

    سعودی عرب کے ہیریٹیج کمیشن نے مدینہ ریجن کے المہد گورنریٹ میں آثارِ قدیمہ کے سروے کے دوسرے مرحلے کی تکمیل پر 1774 اہم تاریخی دریافتوں کا اعلان کر دیا ہے، جو مملکت کے ثقافتی اور تاریخی ورثے کے حوالے سے ایک بڑی پیش رفت قرار دی جا رہی ہیں۔

    کمیشن کے مطابق یہ سروے السویریقیہ، المویہیہ اور حضہ کے علاقوں میں انجام دیا گیا، جہاں آثارِ قدیمہ کے 156 نئے مقامات کی نشاندہی کی گئی۔ سعودی پریس ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق سروے کے دوران 461 اسلامی کتبے، 34 ثمودی کتبے، چٹانوں پر بنے 1259 نقوش، پتھر سے تعمیر کردہ 11 ڈھانچے، 3 تاریخی محلات، قافلوں کے 2 قدیم راستے اور 4 کنویں دریافت کیے گئے۔

    دریافت ہونے والی اہم نوادرات میں خلیفۂ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے نام سے منسوب ایک کتبہ بھی شامل ہے، جبکہ عربی شاعری پر مشتمل متعدد نقوش بھی سامنے آئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافتیں علاقے کی تاریخی، تہذیبی اور ثقافتی اہمیت کو مزید اجاگر کرتی ہیں۔سعودی ہیریٹیج کمیشن نے اس موقع پر اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی وژن 2030ء کے تحت ملک بھر میں آثارِ قدیمہ کے تحفظ، دستاویز سازی اور تحقیق کے منصوبے جاری رکھے جائیں گے تاکہ مملکت کے قیمتی ثقافتی ورثے کو محفوظ بنایا جا سکے اور آنے والی نسلوں تک منتقل کیا جا سکے۔

  • مری ٹریفک حادثہ، 10 افراد کی ہلاکت کے مقدمے میں مفرور ڈرائیور گرفتار

    مری ٹریفک حادثہ، 10 افراد کی ہلاکت کے مقدمے میں مفرور ڈرائیور گرفتار

    مری: مری ایکسپریس وے پر پیش آنے والے المناک ٹریفک حادثے کے بعد فرار ہونے والے ڈرائیور کو موٹر وے پولیس نے گرفتار کر لیا۔

    ترجمان موٹر وے پولیس کے مطابق مفرور ڈرائیور کو خفیہ اطلاع کی بنیاد پر اسلام آباد کے پمز اسپتال سے گرفتار کیا گیا۔ گرفتاری کے بعد ملزم کو مزید قانونی کارروائی کے لیے مری پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ترجمان کا کہنا ہے کہ موٹر وے پولیس کی مدعیت میں تھانہ مری میں ڈرائیور کے خلاف مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے، جبکہ حادثے کی تحقیقات جاری ہیں۔

    یاد رہے کہ مری ایکسپریس وے پر کجوٹ کے مقام پر پی ٹی ڈی سی ٹورسٹ اسپاٹ کے قریب ایک وین بے قابو ہو کر حفاظتی دیوار سے ٹکرا گئی تھی۔ حادثے کے نتیجے میں گاڑی کا فیول ٹینک پھٹ گیا اور وین میں آگ بھڑک اٹھی۔اس افسوسناک حادثے میں ملتان سے تعلق رکھنے والے ایک ہی خاندان کے 10 افراد جاں بحق ہو گئے تھے، جس پر ملک بھر میں گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا تھا۔ پولیس حکام کے مطابق گرفتار ڈرائیور سے تفتیش جاری ہے اور واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

  • اراکینِ قومی اسمبلی کے ترقیاتی فنڈز میں کمی کا فیصلہ

    اراکینِ قومی اسمبلی کے ترقیاتی فنڈز میں کمی کا فیصلہ

    وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے اراکینِ قومی اسمبلی کے ترقیاتی فنڈز میں کمی کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے تحت پارلیمنٹیرینز کے ترقیاتی بجٹ کو محدود کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق وفاقی ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کا حجم 1126 ارب روپے سے کم کر کے 1000 ارب روپے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے اثرات مختلف ترقیاتی منصوبوں سمیت پارلیمنٹیرینز کے فنڈز پر بھی مرتب ہوں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مالی سال 2026-27 کے لیے اراکینِ پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 63 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں کم ہے۔

    دوسری جانب وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب آج قومی اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ پیش کریں گے، جس میں حکومتی آمدن، اخراجات، ترقیاتی منصوبوں اور معاشی پالیسیوں کی تفصیلات سامنے آئیں گی۔ماہرین کے مطابق ترقیاتی بجٹ میں کمی کے فیصلے کا مقصد مالی نظم و ضبط برقرار رکھنا اور محدود وسائل کو ترجیحی شعبوں کی جانب منتقل کرنا ہے، تاہم اس کے باعث بعض ترقیاتی منصوبوں کی رفتار متاثر ہونے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

  • صوبائی وزیر سہیل شوکت بٹ کے ماموں کے گھر پر انسداد منشیات فورس کا چھاپہ

    صوبائی وزیر سہیل شوکت بٹ کے ماموں کے گھر پر انسداد منشیات فورس کا چھاپہ

    لاہور: پنجاب انسدادِ منشیات فورس (اے این ایف) نے صوبائی وزیر سوشل ویلفیئر سہیل شوکت بٹ کے ماموں کے گھر پر چھاپہ مارا ہے، جبکہ کارروائی کے دوران وزیر اور اہلکاروں کے درمیان تلخ کلامی اور ہاتھا پائی بھی ہوئی ہے،

    ترجمان پنجاب انسدادِ منشیات فورس کے مطابق لاہور کے علاقے باٹاپور کے بھسین گاؤں میں ایک گھر پر چھاپہ مارا گیا، جو صوبائی وزیر سہیل شوکت بٹ کے ماموں کی رہائش گاہ بتایا جاتا ہے۔ترجمان کا کہنا ہے کہ چھاپے کے دوران سہیل شوکت بٹ بھی موقع پر پہنچ گئے اور انہوں نے اہلکاروں کے ساتھ تلخ کلامی کی، جبکہ ہاتھا پائی کا واقعہ بھی پیش آیا۔ ترجمان کے مطابق وزیر اہلکاروں سے یہ کہتے رہے کہ ’’تمہیں میری بہن کے گھر آنے کی جرات کیسے ہوئی۔‘‘اے این ایف کے ترجمان نے مزید بتایا کہ واقعے کے حوالے سے صوبائی وزیر سہیل شوکت بٹ سے مؤقف لینے کی کوشش کی گئی، تاہم ان کا موبائل فون بند ملا اور رابطہ نہ ہو سکا۔

    کاؤنٹر نارکوٹکس فورس کو کارروائی خفیہ اطلاع تھی کہ علاقے میں منشیات کے بڑے کاروبار ہوتا ہے۔ چھاپے کے دوران 3 سے 4 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا گیا،صوبائی وزیر سہیل شوکت بٹ کے ماموں زاد بھائیوں سمیت متعدد افراد کو تحویل میں لیا گیا۔کاؤنٹر نارکوٹکس فورس کی بھاری نفری نے علاقے کا گھیراؤ کرکے سرچ آپریشن مکمل کیا،بھسین گاؤں میں مبینہ منشیات نیٹ ورک کے خلاف کارروائی، حساس مقامات کی تلاشی بھی لی گئی، حراست میں لیے گئے افراد سے تفتیش جاری، مزید گرفتاریاں متوقع ہیں، کاؤنٹر نارکوٹکس فورس حکام نے کارروائی کو قانون کے مطابق قرار دیتے ہوئے تحقیقات شروع کر دیں

  • سیالکوٹ میں پیرا فورس پر سنگین الزامات، شہری اینٹی کرپشن پہنچ گیا

    سیالکوٹ میں پیرا فورس پر سنگین الزامات، شہری اینٹی کرپشن پہنچ گیا

    سیالکوٹ بیورو چیف مدثر رتو سے

    سیالکوٹ میں پیرا فورس کے بعض اہلکاروں کی مبینہ بدعنوانیوں اور رشوت طلبی کے خلاف ایک شہری نے اینٹی کرپشن میں باقاعدہ درخواست دائر کر دی۔ درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ مبینہ طور پر رشوت کا مطالبہ پورا نہ کرنے پر انتقامی کارروائی کرتے ہوئے اس کے موبائل نمبر کو ہوٹل مالک ظاہر کر کے انکروچمنٹ کا چالان کر دیا گیا۔

    شہری نے اپنے مؤقف کے حق میں سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد بھی متعلقہ حکام کے سامنے پیش کر دیے ہیں۔ درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے ایک بے گناہ شہری کو ہراساں کیا گیا اور سرکاری طاقت کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔درخواست گزار نے وزیراعلیٰ پنجاب، ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن، کمشنر گوجرانوالہ اور ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کر کے ملوث اہلکاروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ عوام کا سرکاری اداروں پر اعتماد بحال ہو سکے۔اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف اختیارات کے ناجائز استعمال بلکہ عوامی خدمت کے نام پر بدعنوانی کی ایک سنگین مثال ہوگی، جس پر سخت اور فوری کارروائی ناگزیر ہے۔

  • گورنر خیبر پختونخوا نے جشنِ شندور فیسٹیول 2026 کا افتتاح کر دیا، پولو مقابلوں کا شاندار آغاز

    گورنر خیبر پختونخوا نے جشنِ شندور فیسٹیول 2026 کا افتتاح کر دیا، پولو مقابلوں کا شاندار آغاز

    لاسپور لوئر چترال نے غذر کو 9-0 سے شکست دے دی،

    یاسین گلگت بلتستان نے مستوج لوئر چترال کو 5کے مقابلے میں 8 گول سے ہرا دیا؛ فائنل 13 جون کو کھیلا جائے گا۔

    دنیا کے بلند ترین پولو گراؤنڈ شندور میں روایتی شندور پولو فیسٹیول 2026 کا رنگا رنگ آغاز ہو گیافیسٹیول کا انعقاد خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان کی حکومتوں اور پاک فوج کے تعاون سے کیا جا رہا ہے،گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بطور مہمانِ خصوصی شندور پولو فیسٹیول 2026 کا افتتاح کیا،گورنر خیبر پختونخوا نے شندور پولو فیسٹیول کے انعقاد کو قومی یکجہتی، ثقافتی ہم آہنگی اور سیاحت کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا،فیسٹیول کے پہلے روز روایتی حریف چترال اور گلگت بلتستان کی ٹیموں کے درمیان دلچسپ مقابلہ دیکھنے میں آیا، شائقین نے دونوں ٹیموں کی شاندار کارکردگی کو بھرپورسراہا اور خوب لطف اٹھایا،تقریب کے دوران پیرا گلائڈنگ کا دلکش مظاہرہ بھی پیش کیا گیا، جس نے حاضرین کی بھرپور توجہ حاصل کی ،شندور پولو فیسٹیول 3روز تک جاری رہے گا جس میں ملک بھر سے سیاح اور کھیلوں کے شائقین شرکت کر رہےہیں

    چترال (فتح اللہ) گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبائی وزراء، وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا شفیع جان، ڈپٹی سپیکر صوبائی اسمبلی اور دیگر معززین کے ہمراہ جشنِ شندور فیسٹیول 2026 کے افتتاحی میچ میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔شندور پہنچنے پر کمشنر ملاکنڈ ڈویژن مسعود احمد، ڈپٹی کمشنر اپر چترال محمد عمران خان اور ڈائریکٹر جنرل سپورٹس خیبر پختونخوا شاہد احمد نے گورنر اور دیگر معزز مہمانوں کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر پولیس کے چاق و چوبند دستے نے سلامی پیش کی۔بعد ازاں ڈپٹی کمشنر اپر چترال محمد عمران خان نے گورنر خیبر پختونخوا کو ضلع اپر چترال کو درپیش انتظامی، مواصلاتی، سیاحتی اور ترقیاتی مسائل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ گورنر نے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے متعلقہ حکام کو ضروری اقدامات کی ہدایت کی۔

    فیسٹیول کے پہلے روز کھیلے گئے پولو مقابلوں میں لاسپور لوئر چترال اے اور بی ٹیموں نے غذر گلگت بلتستان کی اے اور بی ٹیموں کو 9-0 سے شکست دے دی، جبکہ دوسرے میچ میں یاسین گلگت بلتستان کی پولو ٹیم نے مستوج لوئر چترال کی ٹیم کو 5 کے مقابلے میں 8گول سے شکست دی۔افتتاحی میچ کے دوران گورنر، وزیر اطلاعات، ڈپٹی سپیکر صوبائی اسمبلی، صوبائی وزراء اور دیگر معززین نے شاندار کھیل کا مشاہدہ کیا اور کھلاڑیوں کی بہترین کارکردگی کو سراہا۔ میچوں کے اختتام پر نمایاں کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں میں انعامات بھی تقسیم کیے گئے۔فیسٹیول کے شیڈول کے مطابق بی اور سی ٹیموں کے درمیان مقابلے جمعہ کو منعقد ہوں گے، جبکہ جشنِ شندور فیسٹیول 2026 کا فائنل معرکہ 13 جون بروز ہفتہ کھیلا جائے گا۔

    اس موقع پر گورنر خیبر پختونخوا نے جشنِ شندور فیسٹیول کے کامیاب انعقاد پر ضلعی انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ محکموں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ شندور فیسٹیول خطے کی ثقافت، روایتی کھیلوں اور سیاحت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور اس کے ذریعے علاقے کا مثبت تشخص دنیا بھر میں اجاگر ہوتا ہے۔