Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • خیبر پختونخوا،پنجاب تیز آندھی ،بارش،5 افراد جاں بحق، متعدد زخمی

    خیبر پختونخوا،پنجاب تیز آندھی ،بارش،5 افراد جاں بحق، متعدد زخمی

    خیبر پختونخوا اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں آندھی اور تیز بارش نے تباہی مچا دی،5 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔

    ڈیرہ اسماعیل خان میں تیز بارش سے ندی نالوں میں طغیانی آگئی۔ لاہور، فیصل آباد،جھنگ، چنیوٹ، سیالکوٹ، سمیت دیگر علاقوں میں بارش سےکئی علاقوں میں بجی کی فراہمی معطل ہوگئی،تیز ہواؤں سے کئی مقامات پر درخت اور سولر پینل اکھڑ گئے،پی ڈی ایم اے کے مطابق بنوں میں آندھی اور موسلادھاربارش سے 4 افرادجاں بحق جبکہ 16 زخمی ہوئے

    فیصل آباد اور جھنگ میں بارش اور آندھی کے باعث درجنوں افراد مختلف حادثات میں زخمی ہوگئے،ترجمان ریسکیو کے مطابق فیصل آباد میں تیز آندھی اور بارش کے دوران 7 مقامات پر حادثات پیش آئے جہاں 6 واقعات میں عمارتوں کی دیواریں گرنے سے 15 افراد زخمی ہوئے جب کہ غازی آباد کے علاقے میں مکان کی چھت گرنے سے ایک خاتون جاں بحق ہو گئیں، ریسکیو اہلکاروں نے تمام واقعات میں زخمیوں کو ملبے سے نکال کر علاج کیلئے قریبی اسپتالوں میں منتقل کردیا۔

    دوسری جانب جھنگ شہر اور گرد و نواح میں طوفانی آندھی اور بارش کے باعث 5 خواتین سمیت 9 افراد زخمی ہوئے،ریسکیو ذرائع کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں آندھی اور بارش کے باعث سائن بورڈز ، دیواروں ، چھتوں اور سولر پینلز کے اسٹینڈز گرنے کے واقعات میں 2 خواتین سمیت 5 افراد زخمی ہوئے،نواحی علاقے منڈی شاہ جیونا میں آندھی کے باعث ایک مکان کی چھت گر گئی جس کے نتیجے میں 3خواتین سمیت 4افراد زخمی ہوئے۔

    پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ آندھی اور بارش سے مختلف علاقوں میں دیواریں، مکانات گر گئے، متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں،پی ڈی ایم اے نے ہدایات جاری کی ہیں کہ عوام خراب موسم میں خستہ حال عمارتوں سے دور رہیں، ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل فعال ہے۔

  • پیپلزپارٹی کا بجٹ اجلاس سے  علامتی بائیکاٹ کا اعلان

    پیپلزپارٹی کا بجٹ اجلاس سے علامتی بائیکاٹ کا اعلان

    پیپلزپارٹی نے بجٹ اجلاس سے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا

    پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ ن پر گلگت بلتستان کے الیکشن چوری کرنے کا الزام لگا دیا، چیئرمین پیپلز پارٹی کہتے ہیں کہ یہ نہیں ہوسکتا مسلم لیگ ہمارا مینڈیٹ چوری کرے میں اور ایوان میں بیٹھ کر تالیاں بجاؤں،پیپلز پارٹی نے وفاقی بجٹ اجلاس سے علامتی بائیکاٹ کا فیصلہ کر لیا، پیپلز پارٹی کی جانب سے مرکزی قیادت شرکت نہیں کرے گی، اجلاس میں پیپلز پارٹی کے نوید قمر شریک ہوں گے،چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول زرداری سمیت دیگر مرکزی قیادت بجٹ سیشن میں شریک نہیں ہو گی

    قبل ازیں ذرائع کے مطابق اجلاس میں بجٹ سیشن کے دوران قومی اسمبلی میں کورم کی صورتحال پر غور کیا گیا۔پیپلز پارٹی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بجٹ اجلاس کے دوران کورم پورا کرنا پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ذمہ داری ہے۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی ارکان کا کہنا ہے کہ حکومت بجٹ پیش کر رہی ہے تو اسے اپنے ارکان کی حاضری یقینی بنانی چاہیے۔پارٹی ارکان نے کہا کہ کورم پورا کرنا اپوزیشن کا نہیں بلکہ حکومتی جماعت کا کام ہے۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں یہ بھی کہا گیا کہ مسلم لیگ (ن) اکثر کورم پورا کرنے میں ناکام رہتی ہے، اس لیے اسے اپنے اراکین کو پابند بنانے کی ضرورت ہے۔

  • بھارت میں ایندھن بحران شدت اختیار کر گیا

    بھارت میں ایندھن بحران شدت اختیار کر گیا

    نئی دہلی: مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدہ صورتحال کے اثرات بھارت تک پہنچ گئے ہیں، جہاں ایندھن کی فراہمی متاثر ہونے کے باعث ڈیزل کے بحران نے شدت اختیار کر لی ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی میں رکاوٹوں کے باعث بھارت کی سرکاری آئل کمپنیاں بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر حکومت نے ایندھن کی دستیابی برقرار رکھنے کے لیے ہنگامی اقدامات نافذ کر دیے ہیں۔رپورٹس کے مطابق حکومت نے پیٹرول پمپ مالکان کو ہدایت جاری کی ہے کہ کسی ایک گاڑی یا صارف کو روزانہ 200 لیٹر سے زائد ڈیزل فروخت نہ کیا جائے۔ اس کے علاوہ تجارتی صارفین کو عام ریٹیل پیٹرول پمپس سے ایندھن خریدنے سے بھی روک دیا گیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ ڈیزل کی طلب میں غیر معمولی اضافے اور سپلائی میں کمی کے باعث یہ اقدامات ناگزیر ہو گئے ہیں تاکہ ملک بھر میں ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے اور ذخیرہ اندوزی کی حوصلہ شکنی ہو۔

    توانائی کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھی تو بھارت سمیت دیگر ایشیائی ممالک کو بھی ایندھن کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔بھارتی حکام نے واضح کیا ہے کہ موجودہ پابندیاں عارضی نوعیت کی ہیں اور حالات معمول پر آنے کے بعد ان پر نظرثانی کی جائے گی۔

  • ہیڈ بلوکی کے مقام پر دریائے راوی میں ایک لاکھ مچھلی کے بچوں کی ذخیرہ کاری

    ہیڈ بلوکی کے مقام پر دریائے راوی میں ایک لاکھ مچھلی کے بچوں کی ذخیرہ کاری

    قصور(طارق نویدسندھوسے) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کے وژن کے مطابق ڈائریکٹر جنرل فشریز پنجاب کی خصوصی ہدایات پر محکمہ فشریز پنجاب نے قدرتی آبی ذخائر میں مچھلی کی افزائش، آبی ماحولیات کے تحفظ اور پائیدار ماہی گیری کے فروغ کے سلسلے میں ایک اہم اقدام کرتے ہوئے دریائے راوی کے مقام ہیڈ بلوکی میں ایک لاکھ 1لاکھ مچھلی کے بچوں کی ذخیرہ کاری مکمل کر دی۔مچھلی کے بچوں کی یہ ذخیرہ کاری فش ہیچری بلوکی، ضلع قصور سے کی گئی۔

    اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر فشریز لاہور ڈویژن عظیم بیگم نے خصوصی طور پر نگرانی کی جبکہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر فشریز فش ہیچری بلوکی مہر معوذ اسلم اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر فشریز ننکانہ صاحب فخرا سمیت محکمہ فشریز کے دیگر افسران اور عملہ بھی موجود تھا۔محکمہ فشریز کے حکام کے مطابق دریاؤں، جھیلوں اور دیگر قدرتی آبی ذخائر میں مچھلی کے بچوں کی باقاعدہ ذخیرہ کاری کا بنیادی مقصد مچھلی کی قدرتی آبادی میں اضافہ، آبی حیات کے تحفظ کو یقینی بنانا، ماحولیاتی توازن برقرار رکھنا اور مقامی ماہی گیر برادری کے لیے روزگار اور آمدنی کے بہتر مواقع پیدا کرنا ہے۔انہوں نے بتایا کہ قدرتی آبی ذخائر میں مچھلی کی آبادی مختلف عوامل کے باعث متاثر ہوتی رہتی ہے، جس کے پیش نظر محکمہ فشریز پنجاب وقتاً فوقتاً فش سیڈ اسٹاکنگ پروگرام کے تحت مچھلی کے بچوں کو دریاؤں اور دیگر آبی ذخائر میں چھوڑتا ہے تاکہ مچھلی کی قدرتی افزائش کو فروغ دیا جا سکے اور مستقبل میں مچھلی کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ممکن بنایا جا سکے۔محکمہ کے ماہرین کے مطابق دریائے راوی میں ایک لاکھ مچھلی کے بچوں کی ذخیرہ کاری سے نہ صرف مچھلی کی قدرتی افزائش میں اضافہ ہوگا بلکہ آبی ماحولیاتی نظام کو مستحکم بنانے میں بھی مدد ملے گی۔ اس اقدام کے مثبت اثرات مقامی ماہی گیروں، آبی حیات اور قدرتی ماحول پر مرتب ہوں گے۔محکمہ فشریز پنجاب قدرتی آبی وسائل کے تحفظ، مچھلی کی افزائش اور پائیدار ماہی گیری کے فروغ کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس سلسلے میں صوبہ بھر میں فش سیڈ اسٹاکنگ پروگرام کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے تاکہ آبی ذخائر میں مچھلی کی پیداوار بڑھائی جا سکے اور غذائی تحفظ کے ساتھ ساتھ ماہی گیر برادری کی معاشی ترقی کو بھی یقینی بنایا جا سکے۔

  • موٹروے ایم ون پر  حادثہ، سابق سینیٹر تاج آفریدی جاں بحق

    موٹروے ایم ون پر حادثہ، سابق سینیٹر تاج آفریدی جاں بحق

    پشاور: موٹروے ایم ون پر کرنل شیر خان انٹرچینج کے قریب پیش آنے والے ایک افسوسناک ٹریفک حادثے میں سابق سینیٹر تاج آفریدی جاں بحق ہوگئے، جبکہ ان کا ڈرائیور زخمی ہوگیا۔

    موٹروے پولیس کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب سابق سینیٹر تاج آفریدی اسلام آباد سے پشاور جا رہے تھے۔ حادثے کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی دم توڑ گئے، جبکہ ان کے ڈرائیور کو زخمی حالت میں طبی امداد کے لیے منتقل کر دیا گیا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حادثہ گاڑی میں پیش آنے والے مکینیکل فالٹ کے باعث رونما ہوا، تاہم واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ حادثے کی اصل وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔

  • وفاقی کابینہ نے بجٹ 27-2026ء کی منظوری دے دی

    وفاقی کابینہ نے بجٹ 27-2026ء کی منظوری دے دی

    وفاقی کابینہ نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بجٹ دستاویزات اور فنانس بل کے مسودے کی باقاعدہ منظوری دی گئی۔

    اجلاس میں وفاقی کابینہ نے مالی سال 2026-27 کے لیے پیش کی جانے والی بجٹ تجاویز کی بھی توثیق کر دی، جبکہ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب قومی اسمبلی میں وفاقی بجٹ پیش کریں گے۔ذرائع کے مطابق کابینہ اجلاس کے دوران سیکیورٹی اور رازداری کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ اجلاس میں شرکت کے لیے آنے والے تمام وفاقی وزراء سے اجلاس شروع ہونے سے قبل موبائل فون جمع کرا لیے گئے تاکہ بجٹ سے متعلق معلومات کے قبل از وقت افشا ہونے سے بچا جا سکے۔

    وفاقی بجٹ کی منظوری کے بعد وزیرِ خزانہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں بجٹ پیش کریں گے، جس میں آئندہ مالی سال کے مالی اہداف، ترقیاتی منصوبوں، ٹیکس اقدامات اور مختلف شعبوں کے لیے مختص فنڈز کی تفصیلات پیش کی جائیں گی۔

  • وفاقی بجٹ،سرکاری ملازمین کی تنخواہوں،پنشن میں کتنا ہو گا اضافہ

    وفاقی بجٹ،سرکاری ملازمین کی تنخواہوں،پنشن میں کتنا ہو گا اضافہ

    آئندہ مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، جس کا مجموعی حجم 17 ہزار 500 ارب سے 18 ہزار ارب روپے کے درمیان ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ بجٹ اجلاس سہ پہر 3 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوگا جبکہ بجٹ دستاویزات کی کاپیاں پارلیمنٹ ہاؤس پہنچا دی گئی ہیں۔

    بجٹ دستاویزات کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق بجٹ کی حتمی منظوری پیش کیے جانے سے قبل وفاقی کابینہ سے لی جائے گی۔دستاویزات میں آئندہ مالی سال کے لیے ایک ہزار ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ تجویز کیا گیا ہے، جس میں وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز کے لیے 682 ارب 48 کروڑ روپے سے زائد مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ترقیاتی منصوبوں کے لیے نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کو 224 ارب 51 کروڑ روپے دینے کی تجویز ہے، جبکہ آبی وسائل ڈویژن کے لیے 103 ارب 80 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اسی طرح پاور ڈویژن، این ٹی ڈی سی اور پیپکو کے منصوبوں کے لیے 88 ارب روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

    حکومت کا کہنا ہے کہ ترقیاتی فنڈز بنیادی ڈھانچے، توانائی اور آبی وسائل کے شعبوں میں جاری اور نئے منصوبوں کی تکمیل پر خرچ کیے جائیں گے، جبکہ بجٹ تقریر کے دوران مزید مالی اور اقتصادی اقدامات کا اعلان بھی متوقع ہے۔

  • نواز شریف نے عمرہ ادا کر لیا

    نواز شریف نے عمرہ ادا کر لیا

    مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف جنیوا سے سعودی عرب کے شہر جدہ پہنچ گئے ہیں

    جدہ کے کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پاکستان کے سفیر احمد فاروق، قونصل جنرل اور مسلم لیگ (ن) کے عہدیداروں نے ان کا استقبال کیا۔ذرائع کے مطابق نواز شریف نے عمرہ کی سعادت حاصل کر لی ہے ،نواز شریف نے پروٹوکول میں عمرہ ادا کیا، نواز شریف کے ذاتی معالج بھی انکے ہمراہ تھے.اس کے بعد وہ مدینہ منورہ روانہ ہوں گے، جہاں وہ روضہ رسولﷺ پر حاضری دیں گے اور مسجد نبویﷺ میں نماز جمعہ ادا کریں گے۔

  • بجٹ سے قبل سرکاری ملازمین کا اسلام آباد میں احتجاج،تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ

    بجٹ سے قبل سرکاری ملازمین کا اسلام آباد میں احتجاج،تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ

    آئندہ مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جا رہا ہے، جس کا مجموعی حجم ساڑھے 17 ہزار سے 18 ہزار ارب روپے کے درمیان متوقع ہے۔ حکومت کی جانب سے بجٹ خسارے کا تخمینہ 5.3 سے 5.4 ٹریلین روپے لگایا گیا ہے، جبکہ پیٹرولیم سرچارج کی مد میں 1727 ارب روپے وصول کرنے کا منصوبہ بھی بجٹ کا اہم حصہ ہوگا۔

    سیاسی محاذ پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور اس کے اتحادیوں نے بجٹ اجلاس کا بائیکاٹ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم پارلیمنٹ کے اندر اور باہر احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ دوسری جانب اسلام آباد میں پاک سیکریٹریٹ کے سرکاری ملازمین بجٹ پیش ہونے سے قبل ہی شاہراہ دستور پر سراپا احتجاج ہیں اور انہوں نے تنخواہوں میں 100 فیصد اضافے سمیت 13 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ حکومت کے سامنے پیش کر دیا ہے۔

    وفاقی بجٹ 2026-27 کی پیشی کے موقع پر سرکاری ملازمین نے اپنے مطالبات کے حق میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاج شروع کر دیا ہے۔ مختلف صوبوں سے ملازمین کی آمد کا سلسلہ جاری ہے جبکہ مظاہرین پارلیمنٹ ہاؤس تک مارچ کے لیے پاک سیکریٹریٹ چوک میں جمع ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ملازمین کی نمائندہ تنظیم "اگیگا” کے چیف آرگنائزر رحمان باجوہ کے مطابق صوبوں سے آنے والے ملازمین کی شرکت کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس کی جانب مارچ شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مطالبات کی منظوری تک پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاج جاری رکھا جائے گا۔سرکاری ملازمین گزشتہ دو روز سے وزارتِ خزانہ کے سامنے بھی احتجاج کرتے رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ وفاقی بجٹ 2026-27 میں ان کے مسائل اور مطالبات کو شامل کیا جائے۔

    مظاہرین نے 10 مارچ 2025 کے معاہدے کی تمام شقوں پر فوری عملدرآمد کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام ایڈہاک ریلیف الاؤنسز بنیادی تنخواہ میں ضم کرکے پے اسکیل 2026 متعارف کرایا جائے۔ ملازمین کا مطالبہ ہے کہ تنخواہوں میں سو فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس 2026 شامل کیا جائے جبکہ 50 ہزار روپے سے کم تنخواہ لینے والے ملازمین کی تنخواہوں میں 50 فیصد اضافہ کیا جائے۔سرکاری ملازمین نے کنوینس، میڈیکل اور ہاؤس رینٹ الاؤنسز میں 200 فیصد اضافے، پینشن اصلاحات واپس لینے اور موجودہ پینشن نظام برقرار رکھنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ تنخواہوں میں تفاوت کم کرنے کے لیے مزید 30 فیصد ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔مظاہرین کا کہنا ہے کہ اساتذہ اور محققین کے لیے 25 فیصد ٹیکس سلیب ختم کی جائے اور پہلے سے کٹی ہوئی رقم واپس کی جائے۔ انہوں نے ڈیلی ویجز اور کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی، دورانِ ملازمت وفات پانے والے ملازمین کے بچوں کی بھرتیوں کی بحالی اور نجکاری کی فہرست میں شامل اداروں کے لیے مشترکہ کمیٹیاں تشکیل دینے کا بھی مطالبہ کیا۔

    ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ تجاویز پر حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کا آخری مرحلہ جاری ہے۔ اطلاعات ہیں کہ آئی ایم ایف نے تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کی منظوری دے دی ہے، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف آج وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اس حوالے سے مراعات کی منظوری دیں گے۔ تنخواہ دار طبقے کو کم از کم 10 فیصد یا اس سے زائد ریلیف ملنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔مجوزہ بجٹ میں مہنگائی کی شرح کا ہدف 8.2 فیصد مقرر کرنے کی تجویز ہے، جبکہ ٹیکس وصولیوں کا ہدف 15 ہزار 267 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ تاہم رواں مالی سال کے دوران حکومت بیشتر معاشی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی اور اقتصادی ترقی کا مقررہ ہدف بھی پورا نہ ہو سکا۔

    بجٹ تجاویز کے تحت تنخواہ دار طبقے اور دستاویزی کاروبار کے لیے خصوصی اقدامات متوقع ہیں، جبکہ زراعت اور ہاؤسنگ سیکٹر کو مراعات دینے کی بھی تجویز زیر غور ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ہاؤسنگ فنانس کے لیے 10 سال تک سنگل ڈیجٹ شرح سود کی سہولت متعارف کرائی جا سکتی ہے تاکہ تعمیراتی شعبے کو فروغ دیا جا سکے۔علاوہ ازیں بیوٹی انڈسٹری کو بھی ریلیف دیے جانے کا امکان ہے۔ مجوزہ اقدامات کے تحت میک اپ مصنوعات، سرخی پاؤڈر، مسکارا اور شیمپو سمیت متعدد اشیا سستی ہو سکتی ہیں۔ ریٹیلرز کے لیے نئے ٹیکس ماڈل کے تحت فیس لیس ڈیجیٹل ٹیکس نظام متعارف کرانے کی تجویز بھی بجٹ کا حصہ ہے، جس کا مقصد ٹیکس نظام کو مزید شفاف اور مؤثر بنانا ہے۔

  • بجٹ سے قبل ایم کیو ایم وفد کی وزیراعظم سے ملاقات

    بجٹ سے قبل ایم کیو ایم وفد کی وزیراعظم سے ملاقات

    بجٹ سے قبل حکومت اور ایم کیو ایم پاکستان کے درمیان اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ایم کیو ایم کے وفد نے اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی۔ ملاقات میں بجٹ تجاویز، بلدیاتی حکومتوں سے متعلق مجوزہ آئینی ترمیمی بل اور سندھ میں گورنر کے عہدے سمیت اہم سیاسی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق وزیرِ اعظم نے کراچی کے لیے 20 ارب روپے اور حیدرآباد کے لیے 5 ارب روپے کے خصوصی ترقیاتی پیکیج کی منظوری پر آمادگی ظاہر کی۔ اس کے علاوہ ایم کیو ایم کے مجوزہ آئینی ترمیمی بل کے حوالے سے بھی حکومت نے تعاون کی یقین دہانی کروائی اور کہا کہ اس معاملے پر پاکستان پیپلز پارٹی سے مشاورت کی جائے گی۔ملاقات کے دوران وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) ایم کیو ایم کے مجوزہ آئینی ترمیمی بل کی حمایت کرتی ہے اور اس حوالے سے مثبت پیش رفت کے لیے کردار ادا کرے گی۔

    ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم وفد نے سندھ میں گورنر شپ کے معاملے پر بھی اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ گورنر سندھ کا عہدہ ان کا حق ہے۔ تاہم حکومتی نمائندوں نے جواب دیا کہ فی الحال گورنر سندھ سے متعلق معاملات طے ہو چکے ہیں، البتہ مستقبل میں اس معاملے پر غور کیا جا سکتا ہے۔ملاقات میں ایم کیو ایم کے وفد کی قیادت خالد مقبول صدیقی نے کی، جبکہ وفد میں فاروق ستار، مصطفیٰ کمال، امین الحق اور جاوید حنیف شامل تھے۔ وزیرِ اعظم کے ہمراہ اسحاق ڈار، رانا ثناء اللہ، احسن اقبال، اعظم نذیر تارڑ، عطاء تارڑ اور توقیر شاہ بھی موجود تھے۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق بجٹ سے قبل ہونے والی یہ ملاقات حکومتی اتحادیوں کو ساتھ رکھنے اور اہم آئینی و ترقیاتی معاملات پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔