Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • راہول کی ریلی میں مودی کو گالی دینے والا گرفتار

    راہول کی ریلی میں مودی کو گالی دینے والا گرفتار

    کانگریس رہنما راہول گاندھی کی پول کے دوران جاری ‘ووٹر یاترا’ کے موقع پر ایک شخص نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی والدہ کے خلاف نازیبا الفاظ کہے، جس کے بعد داربھنگہ پولیس نے اسے گرفتار کر لیا ہے۔
    پولیس نے بتایا کہ واقعہ کے سلسلے میں سِمری تھانے میں ایف آئی آر درج کی گئی اور ایک ملزم کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

    اس سے قبل ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں ایک شخص کانگریس کا جھنڈا تھامے ہوئے وزیر اعظم مودی کے خلاف ہندی میں گالی گلوچ کر رہا تھا۔ یہ واقعہ راہول گاندھی کی ‘ووٹ چوری’ کے خلاف احتجاج کی تقریب کے دوران پیش آیا۔ اس کے بعد بی جے پی نے معاملہ درج کرایا اور کانگریس سے معذرت کا مطالبہ کیا۔ پٹنہ میں بھی اس واقعہ کے حوالے سے راہول گاندھی کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔بھارتی وزیر داخلہ امت شاہ نے وزیر اعظم کے خلاف استعمال کی گئی زبان کی شدید مذمت کی اور اسے ملک کے جمہوری نظام پر ایک بدنما داغ قرار دیا۔ انہوں نے کانگریس کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ "راہول گاندھی کی قیادت میں کانگریس سیاست اپنی سب سے نچلی سطح پر پہنچ چکی ہے۔ وہ برداشت نہیں کر سکتے کہ ایک غریب ماں کا بیٹا 11 سالوں سے وزیر اعظم کی کرسی پر بیٹھا ہے اور ملک کو ترقی کی راہ پر لے جا رہا ہے۔”

    بی جے پی کے صدر جے پی نڈا نے بھی اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم مودی اور ان کی والدہ کے خلاف گالیاں "اخلاقیات کی تمام حدیں پار کر گئی ہیں”۔ انہوں نے راہول گاندھی اور آر جے ڈی کے رہنما تیجسوی یادو سے معذرت کا مطالبہ کیا، جو اس ریلی کا حصہ تھے۔بہار کے وزیراعلیٰ نیتیش کمار نے واقعہ کو "نا مناسب” قرار دیا اور کہا، "کانگریس اور آر جے ڈی کے پلیٹ فارم سے وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی والدہ کے خلاف نازیبا زبان کا استعمال انتہائی غیر مناسب ہے، اور میں اس کی مذمت کرتا ہوں۔”تاہم، کانگریس کے رہنما پاون کھیڑا نے اس واقعہ کی تردید کی اور کہا کہ بی جے پی غیر متعلقہ مسائل اٹھا کر اہم موضوعات سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔

  • کراچی میں فائرنگ سے جعلی خواجہ سرا کی موت

    کراچی میں فائرنگ سے جعلی خواجہ سرا کی موت

    کراچی کے علاقے قائد آباد میں ڈی سی آفس کے قریب نامعلوم ملزم کی فائرنگ سے جعلی خواجہ سرا جاں بحق ہو گیا۔

    پولیس کے مطابق، جاں بحق ہونے والے کی شناخت 35 سالہ سجاد ولد بشیر کے نام سے ہوئی ہے، جو جعلی خواجہ سرا تھا۔ مقتول رات کے وقت میک اپ کر کے اور خواتین کے کپڑے پہن کر سڑکوں پر گھومتا تھا۔واقعے کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ نامعلوم ملزم نے سجاد کو نشانہ بنایا اور فائرنگ کرکے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ جائے وقوعہ پر پولیس نے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔مزید برآں، پولیس نے مقتول کے ساتھ کمرے میں رہنے والے ایک شخص کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ شروع کر دی ہے تاکہ قتل کے محرکات اور ملزم کی شناخت کا پتہ چلایا جا سکے۔

  • یمن،انصاراللہ سے تعلق رکھنے والے وزیراعظم احمد غالب اسرائیلی حملے میں جاں بحق

    یمن،انصاراللہ سے تعلق رکھنے والے وزیراعظم احمد غالب اسرائیلی حملے میں جاں بحق

    یمن کے دارالحکومت صنعا کے جنوبی علاقے حدا میں اسرائیلی فضائی حملے میں حوثی رہنما اور وزیراعظم احمد غالب ہلاک ہوگئے ہیں۔

    روسی میڈیا کے مطابق، احمد غالب اپنے گھر پر بمباری کا شکار ہوئے، جس میں ان کے ساتھ تین دیگر ساتھی بھی مارے گئے۔انصاراللہ نے گزشتہ سال 10 اگست کو احمد غالب کو وزیراعظم مقرر کیا تھا۔ وہ حوثیوں کی سپریم سیاسی کونسل کے اہم رکن بھی تھے اور تنظیم کی سیاسی قیادت میں مرکزی حیثیت رکھتے تھے۔

    دوسری جانب، یمنی وزارت دفاع نے اسرائیلی حملوں میں اپنی قیادت کو نشانہ بنانے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف جاری نسل کشی اور قحط سالی کیخلاف کارروائیوں کو جاری رکھے گی۔اسرائیلی فوج نے حالیہ حملوں میں انصاراللہ کے متعدد رہنماؤں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔ چار روز قبل بھی اسرائیل نے یمن میں فضائی کارروائیاں کی تھیں، جن میں کم از کم 10 افراد جاں بحق اور 90 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

  • راوی، چناب اور ستلج نے تباہی مچا دی، ہزاروں متاثر

    راوی، چناب اور ستلج نے تباہی مچا دی، ہزاروں متاثر

    پنجاب کے تین بڑے دریا راوی، چناب اور ستلج نے شدید سیلابی صورت حال پیدا کر دی ہے، جس کے نتیجے میں دریاؤں کے کنارے آباد گاؤں، قصبے اور فصلیں مکمل طور پر زیر آب آ گئی ہیں۔ ہزاروں لوگ اپنی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔

    بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے ساتھ ساتھ حالیہ موسلا دھار بارشوں کے باعث دریاؤں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ دریائے چناب، ستلج اور راوی کے پانی کے بہاؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث لاہور کے کئی علاقے سیلاب کی لپیٹ میں آ گئے ہیں۔پنجاب کے مختلف شہروں اور دیہی علاقوں میں دریاؤں کے کنارے آباد بستیاں پانی میں ڈوب گئی ہیں۔ کئی لوگ مکانوں کی چھتوں پر پناہ لیے ہوئے ہیں جبکہ بعض شہری اپنے بچی کُچی سامان کے ساتھ محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہو رہے ہیں۔وزیرآباد، قصور، نارووال، حافظ آباد، کمالیہ، منڈی بہاؤالدین، بہاول نگر، سیالکوٹ، سرگودھا، وہاڑی اور پاکپتن سمیت متعدد اضلاع میں سیلابی پانی نے زمینی رابطہ منقطع کر دیا ہے اور کئی عارضی بند بھی ٹوٹ چکے ہیں۔فیصل آباد کے علاقے تاندلیانوالہ میں دریائے راوی کی پانی کی سطح میں اضافے کے باعث نشیبی علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے الرٹ ہیں اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔دریائے چناب کے چنیوٹ پل پر پانی کے بہاؤ میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں پانی کی آمد 830100 کیوسک تک پہنچ گئی ہے، جو کہ خطرناک حد تصور کی جا رہی ہے۔دریائے راوی کے شاہدرہ مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے، جس کے باعث فرخ آباد، عزیز کالونی، امین پارک، افغان کالونی، شفیق آباد اور مریدوالہ جیسے علاقے متاثر ہوئے ہیں۔پارک ویو سوسائٹی میں بھی پانی پہنچ چکا ہے

    ڈپٹی کمشنر راجن پور شفقت اللہ مشتاق نے خبردار کیا ہے کہ دریائے سندھ میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب آ سکتا ہے۔ نشیبی علاقوں سے لوگوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی کا عمل جاری ہے۔ فلڈ ریلیف کیمپس بھی دریائے سندھ کے قریب قائم کر دیے گئے ہیں۔محکمہ صحت، لائیو اسٹاک اور ریسکیو ٹیمیں پوری قوت کے ساتھ متحرک ہیں اور حفاظتی بندوں کو مضبوط بنانے کے لیے کام جاری ہے۔ پولیس بھی کچے کے علاقوں میں ریسکیو آپریشنز کر رہی ہے تاکہ سیلاب متاثرین کی مدد کی جا سکے۔

    ملتان میں بھی دریائے چناب کا سیلابی ریلہ 24 سے 48 گھنٹوں کے اندر شہر کی حدود میں داخل ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ شہر کی حفاظت کے لیے ہیڈ محمد والا پر بریچ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ پانی کو کنٹرول کیا جا سکے اور شہریوں کو نقصان سے بچایا جا سکے۔سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو حکام، مقامی رضا کار، پاک فوج اور پاکستان رینجرز امدادی کاموں میں مصروف ہیں تاکہ لوگوں کو بروقت بچایا جا سکے اور متاثرین کو ضروری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیا۔ دونوں رہنماؤں نے متاثرین کی فوری مدد اور امدادی سرگرمیوں کو تیز کرنے کی ہدایت دی ہے۔

  • گلگت میں جی بی اسکاؤٹس کی چیک پوسٹ پر حملہ، دو جوان شہید، ایک زخمی

    گلگت میں جی بی اسکاؤٹس کی چیک پوسٹ پر حملہ، دو جوان شہید، ایک زخمی

    گلگت: گلگت بلتستان کے علاقے چلاس ہوڈر کے قریب گلگت بلتستان اسکاؤٹس کی چیک پوسٹ پر نامعلوم شرپسندوں نے فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں دو جوان شہید اور ایک شدید زخمی ہو گیا۔

    گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ حملہ نامعلوم شرپسندوں نے کیا، جو اسکاؤٹس کی چیک پوسٹ پر اچانک فائرنگ کر کے فرار ہو گئے۔ اس واقعے میں دو نوجوان جوان اپنی جان کی بازی ہار گئے جبکہ ایک جوان زخمی حالت میں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں اس کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔حکام کے مطابق واقعے کے فوری بعد علاقے میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور فورسز نے سرچ اینڈ ٹارگٹ آپریشن کا آغاز کر دیا ہے تاکہ حملہ آوروں کو جلد از جلد گرفتار کیا جا سکے۔

    گلگت بلتستان حکومت نے اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور شہید ہونے والوں کے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ مزید بتایا گیا ہے کہ سیکورٹی فورسز علاقے میں مکمل چوکس ہیں اور عوام کو کسی قسم کی بے چینی یا تشویش کی ضرورت نہیں۔

  • پارک ویو سٹی لاہور کا حفاظتی بند ٹوٹ گیا، پانی گھروں میں داخل

    پارک ویو سٹی لاہور کا حفاظتی بند ٹوٹ گیا، پانی گھروں میں داخل

    لاہور کی مشہور رہائشی اسکیم پارک ویو ہاؤسنگ سوسائٹی میں سیلابی صورتحال نے خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے۔ دریائے راوی میں پانی کے بڑھتے دباؤ کے باعث سوسائٹی کی انتظامیہ نے ہنگامی بنیادوں پر ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے اور شہریوں کو فوری طور پر اپنے مکانات خالی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

    پارک ویو سوسائٹی کے پلاٹینم اور ٹیولپ بلاکس مکمل طور پر زیرِ آب آ چکے ہیں، جب کہ سیلابی پانی تیزی سے دیگر بلاکس کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ڈائمنڈ، اوورسیز اور منڈی پوائنٹ بلاکس میں بھی پانی کی تیز رفتار آمد دیکھنے میں آ رہی ہے، جس سے مقامی رہائشی شدید خوف و ہراس کا شکار ہیں۔ریسکیو 1122،پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار اور دیگر ایمرجنسی ادارے موقع پر پہنچ چکے ہیں اور متاثرہ علاقوں سے لوگوں کے انخلاء کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ کشتیاں، ایمبولینسیں اور دیگر ساز و سامان تعینات کر دیا گیا ہے تاکہ لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا سکے۔پولیس علاقہ خالی کرنے کے اعلانات کر رہی ہے.

    عینی شاہدین کے مطابق کرسٹل بلاک میں پانی اچانک داخل ہونے کے بعد صورتحال مزید ابتر ہو گئی ہے۔ بہت سے رہائشی اپنا سامان چھوڑ کر نکلنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد خاندان اب بھی اپنے گھروں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ سوسائٹی کی انتظامیہ اور مقامی رضا کاروں نے لوگوں سے بار بار اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر گھروں کو خالی کریں تاکہ کسی جانی نقصان سے بچا جا سکے۔

    دریائے راوی کے کنارے واقع شاہدرہ کے علاقے میں بھی سیلابی صورتحال سنگین ہو چکی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق، نچلے درجے کے درجنوں علاقے زیرِ آب آ چکے ہیں، جبکہ دو سے تین مکانات مکمل طور پر منہدم ہو چکے ہیں۔

    دوسری جانب راوی دریا کے سیلاب کا پانی شاہدرہ کی نشیبی آبادیوں سے پہلے لاہور کے نواح میں بنائی گئی نئی ہاؤسنگ سوسائٹیوں مین چلا گیا۔ کئی ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں تین فٹ تک پانی جمع ہو گیا۔ انتظامیہ ہاؤسنگ سوسائتیوں کو کل رات سے ہنگامی بنیادوں پر خالی کروا رہی ہے۔پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا نے آج بتایا کہ لاہور کے نواح میں واقع کچھ سوسائٹیزمیں مسائل تھے، یہ ہاؤسنگ سوسائٹیاں خالی کروالی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ سوسائٹیز میں تین سے چار فٹ پانی آیا۔چوہنگ کے قریب نجی سوسائٹی تھیم پارک سیلابی پانی میں گھر گئی۔ تھیم پارک سوسائٹی موہلنوال 80فٹ روڈ پر بھی پانی جمع ہے۔ پیرا فورس، پاک فوج سمیت دیگر ادارےانخلاء میں شہریوں کی مدد کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔تھیم پارک سوسائٹی اور قریب آبادیوں سے شہریوں کے انخلاء کا سلسلہ جاری ہے۔ سائرن اوراعلانات کےذریعےلوگوں کوگھروں سےنکالنےکی کوشش کی جا رہی ہے۔

  • بھارتی آبی جارحیت،پنجاب میں سیلاب سے تباہی،درجنوں دیہات زیر آب،20 اموات

    بھارتی آبی جارحیت،پنجاب میں سیلاب سے تباہی،درجنوں دیہات زیر آب،20 اموات

    پنجاب میں بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے اور موسمی بارشوں کے باعث سیلاب نے تباہی مچادی ہے۔ متعدد علاقوں میں بند ٹوٹنے سے پانی آبادیوں میں داخل ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں فصلیں زیر آب آگئیں اور ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا ہے۔

    رات 10 بجے تک کی اطلاعات کے مطابق، دریائے راوی کے سائفن مقام پر پانی کی آمد 2 لاکھ 20 ہزار 627 کیوسک ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ شاہدرہ مقام پر پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 19 ہزار 770 کیوسک ریکارڈ ہوا۔ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق دریائے چناب میں چنیوٹ برج پر پانی کی آمد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جہاں پانی کا بہاؤ 6 لاکھ 74 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا ہے۔ اس مقام پر انتہائی شدید سیلاب کی صورتحال جاری ہے۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کشتی میں سوار ہوکر دریائے راوی کے شاہدرہ مقام پر سیلابی صورتحال کا جائزہ لیا۔ حکام نے وزیراعلیٰ کو تمام حالات سے آگاہ کیا۔ وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے یقین دہانی کرائی کہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں تمام ضروری وسائل دستیاب ہیں اور امدادی کارروائیاں بلا تعطل جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سیلاب کے نتیجے میں اب تک 17 سے 20 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

    سیلاب کے باعث وزیرآباد، قصور، نارووال، حافظ آباد، کمالیہ، منڈی بہاؤالدین، بہاول نگر، سیالکوٹ، سرگودھا، وہاڑی اور پاکپتن سمیت کئی علاقوں کے دیہات زیر آب آ گئے ہیں۔ کئی مقامات پر عارضی بند بھی ٹوٹ چکے ہیں۔دریائے چناب کے سیلاب سے پنجاب کے سینکڑوں دیہات زیر آب آ گئے ہیں۔ سرگودھا کے کوٹ مومن کے متعدد علاقوں میں پانی داخل ہونے سے فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے اور کئی شہریوں کو نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔ منڈی بہاؤالدین کی تحصیل پھالیہ کے 69 دیہات زیر آب آ چکے ہیں اور متعدد علاقوں کا زمینی راستہ بھی منقطع ہوگیا ہے۔ حافظ آباد میں درجنوں دیہات میں پانی داخل ہو چکا ہے، جس سے دھان اور چارے کی فصل متاثر ہوئی ہے، اور متاثرہ افراد مال مویشیوں سمیت محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔وزیرآباد میں نالہ پلکھو کے اوور فلو ہونے سے 16 دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ ملتان کے جلال پور پیروالا کے 18 دیہات میں پانی داخل ہو چکا ہے، جہاں کپاس، گنا اور چاول کی فصلیں تباہ ہوگئیں۔ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کا کہنا ہے کہ دریائے چناب کا سیلابی ریلا اگلے 24 گھنٹوں میں جھنگ اور اگلے دو دنوں میں ملتان سے گزرے گا۔

    دریائے ستلج کے بپھرنے سے بہاول نگر کی کئی بستیاں ڈوب گئیں ہیں۔ سیکڑوں ایکڑ رقبے پر کپاس اور چاول سمیت مختلف فصلیں سیلاب کی نذر ہو گئیں۔ بورے والا کے کئی دیہات بھی زیر آب آ گئے ہیں، جہاں لوگ اپنے گھروں کو چھوڑ کر سڑکوں پر آ گئے ہیں۔ بہاولپور میں دریائے ستلج پر قائم تین بند ٹوٹنے سے قریبی بستیوں میں پانی داخل ہو گیا، اور مقامی آبادیوں کو ضروری سامان لے کر ریلیف کیمپوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔پاکپتن میں بھی 15 دیہات میں ستلج کا پانی داخل ہو چکا ہے، جس کے باعث 20 ہزار سے زائد افراد کو دریائی علاقے سے نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔ وہاڑی کے علاقے لڈن کے قریب حفاظتی بند کے ٹوٹنے سے درجنوں بستیوں میں پانی داخل ہو گیا ہے۔نوشہرو فیروز میں کنڈیارو کے قریب دریائے سندھ کے زمینداری بند کے ٹوٹنے سے پانی بچاؤ بند سے ٹکرا گیا، جس کے نتیجے میں سیکڑوں ایکڑ پر کپاس، دھان، تل، جوار اور دیگر فصلیں تباہ ہوگئیں اور پانچ گاؤں زیر آب آ گئے۔

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی پنجاب کے سیلاب متاثرہ اضلاع میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں،مرکزی مسلم لیگ کے ہزاروں رضاکار شہریوں کو محفوظ‌مقامات پر منتقل کر رہے ہیں، گھریلو سامان، جانوروں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقلی کا عمل جاری ہے، دریائے راوی لاہور،قصور،سیالکوٹ سمیت متعدد شہروں میں مرکزی مسلم لیگ نے فری بوٹ سروس کا آغاز کر دیا،ہزاروں افراد میں پکی پکائی خوراک کی تقسیم کا عمل بھی جاری ہے،شاہدرہ لاہور میں مرکزی امدادی کیمپ کا پنجاب کے صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے دورہ کیا،

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو کی ہدایت پر پنجاب،خیبر پختونخوا اور گلگت کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریسکیو و ریلیف آپریشن جاری ہے،مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار شہریوں کو سیلابی پانی سے محفوظ‌مقامات پر منتقلی کے علاوہ کھانے کی تقسیم، علاج معالجہ کا کام بھی کر رہے ہیں،لاہور،قصور،سیالکوٹ ،اوکاڑہ،بہاولپورسمیت متعدد شہروں میں مرکزی مسلم لیگ نے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقلی کے لئے فری بوٹ سروس شروع کر دی ہے، سیلاب کے پیش نظر پاکستان مرکزی مسلم لیگ لاہور کی جانب سے دریائے راوی پر ایمرجنسی فلڈ ریلیف کیمپ قائم کردیا گیا ہے ،لاہور میں ہی شہریوں‌کو محفوظ مقامات پر منتقلی کے لئے فری بوٹ سروس کا آغاز کر دیا گیا ہے،مرکزی مسلم لیگ لاہور کے سیکرٹری جنرل مزمل اقبال ہاشمی نے فری بوٹ سروس کا آغاز کیا، پنجاب کے صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے دریائے راوی پر لگائے گئے ایمرجنسی فلڈ ریلیف کیمپ کا دورہ کیا اور مرکزی مسلم لیگ کے ریسکیو و ریلیف کے کاموں کو سراہا.چیئرمین خدمت خلق شفیق الرحمان وڑائچ اور محمد سرور چوہدری نے حافظ آباد کے سیلاب متاثرہ علاقے کا دورہ کیا، متاثرین میں کھانا تقسیم کیا،امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کی،علی پور شرقی گجرات گاؤں میں مرکزی مسلم لیگ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل انجنیئر حارث ڈار نے سیلاب سے متاثرہ جگہوں کا دورہ کیا،امدادی کاموں کا جائزہ لیااور کہا کہ مرکزی مسلم لیگ متاثرین کی بحالی تک امدادی سرگرمیاں جاری رکھے گی.10 گاؤں یہاں متاثر ہوئے ہیں، متاثرین میں پکی پکائی خوراک تقسیم کی جا رہی ہے.

    مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے سیالکوٹ کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں بھی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں،سیالکوٹ میں فری بوٹ سروس شروع کی گئی ہے، 2 کشتیوں کے ذریعے 150 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، 500 سے زائد افراد کو ٹریکٹر ٹرالیوں کے ذریعے مرکزی مسلم لیگ کے رضاکاروں نے سیلابی پانی سے محفوظ مقام پر منتقل کیا، مرکزی مسلم لیگ کے رضاکاروں کی جانب سے جانوروں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقلی کا عمل جاری ہے، سیالکوٹ کے مختلف علاقوں سے 15 جانوروں کو بھی ریسکیو کیا گیا،2500 متاثرین میں پکی پکائی خوراک بھی تقسیم کی گئی. قصور میں بھی مرکزی مسلم لیگ کا ریسکیو آپریشن جاری ہے،نارووال میں بھی مرکزی مسلم لیگ کے رضاکاروں نے فری بوٹ سروس کے ذریعے متاثرین کو محفوظ مقام پر منتقل کیا،رات 11 بجے مرکزی مسلم لیگ کنگن پور کی خدمت خلق کی ٹیم نے دریا ئے ستلج قلعی شاہو پتن سے ایک خاندان اور جانوروں کو ریسکیو کیا ،دریائے ستلج ،کنگن پور کے علاقہ سے مرکزی مسلم لیگ رضاکاروں نے مجموعی طور پر100 سے زائد خاندانوں کو سیلابی پانی سےنکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا، اس موقع پر متاثرہ افراد میں کھانا بھی تقسیم کیا گیا،گنڈا سنگھ کے علاقے میں مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے 300 افراد میں خوراک تقسیم کی گئی،حافظ آباد کے علاقے کوٹ اسحاق میں شعبہ خدمت خلق فیصل آباد کی ٹیمیں سیلاب میں پھنسے ہوئے افراد کو ریسکیو کرکے محفوظ مقامات پر منتقل کر رہی ہیں۔ اس موقع پر محمد احسن تارڑ سیکرٹری جنرل مرکزی مسلم لیگ فیصل آباد اور ناصر بٹ بھی ریسکیو ٹیم کے ساتھ موجود ہیں ،سیلابی پانی میں پھنسے ہوئے افراد کو شعبہ خدمت خلق فیصل آباد کی ٹیم نے بروقت ریسکیو کر لیا۔ متاثرین کے مطابق انہوں نے متعدد بار ریسکیو اداروں اور مقامی انتظامیہ کو اطلاع دی مگر کوئی مدد نہ پہنچ سکی۔ اطلاع ملنے پر مرکزی مسلم لیگ کی ریسکیو ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچی اور پانچ سے چھ افراد کو اس وقت بچایا گیا جب پانی گردنوں تک پہنچ چکا تھا۔منڈی احمد آباد اوکاڑہ میں مرکزی مسلم لیگ نے فری بوٹ سروس شروع کر دی ہے،انجینئر محمد عمران سیکرٹری جنرل پاکستان مرکزی مسلم لیگ ضلع اوکاڑہ نے رضاکاروں کے ہمراہ دریائے ستلج کا دورہ کیا اور امدادی سرگرمیاں مزید تیز کرنے کی ہدایت کی،تحصیل ڈسکہ میں بھی مرکزی مسلم لیگ کا ریسیکیو آپریشن جاری ہے، چھٹی کھیوا چنیوٹ میں مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار ریسکیو میں مصروف ہیں، سیلابی علاقے سے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہاہے،پاکپتن میں عارف والا اور چک الوکی کے مقام پہ دریائے ستلج میں آنے والے سیلاب سے متاثرہ شہریوں کے لیے پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی طرف سے ریلیف آپریشن شروع کر دیا گیا ہے. پاک پتن میں 500 افراد کو پکا پکایا کھانا دیا گیا جبکہ 100 سے زائد مریضوں کا علاج معالجہ کیا گیا،شہریوں کے سیلابی پانی سے انخلاء کے لیے بوٹ سروس بھی شروع کر دی گئی ہے.

    مرکزی مسلم لیگ ملتان کے سیکرٹری جنرل حافظ ابوالحسن نے اپنی ٹیم کے ہمراہ دریائے چناب محمد پور گھوٹہ قاسم بیلہ کا دورہ کیا اور صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مرکزی مسلم لیگ کی ریسکیو ٹیمیں اور رضاکار اپنے بھائیوں کے جان و مال کے تحفظ کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں ،مرکزی مسلم لیگ بہاولپورکے سیکرٹری جنرل رانا سیف اللہ نے مرکزی مسلم لیگ کے رضاکاروں کے ہمراہ بہاولپور دریائے ستلج کے قریب بستیوں میں سیلابی صورتحال کاجائزہ لیا،شعبہ خدمت خلق پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی ریسکیو ٹیمیں ڈسٹرکٹ راجن پور میں بھی متحرک کر دی گئی ہیں.اوکاڑہ میں اٹاری، پاکپتن میں ملک بہاول، بورے والا میں ساہوکا کے مقام اور ساہیوال میں مرکزی مسلم لیگ نے ریلیف کیمپ لگا دئیے ہیں، متاثرہ علاقوں میں بوٹ سروس بھی جاری ہے، مختلف علاقوں میں میڈیکل کیمپس بھی لگائے جا رہے ہیں.بہاولپور، حاصلپور ،منچن آباد ،بہاولنگر کے مقامات پر بھی ریلیف کیمپ لگا دہے گئے ہیں ،تمام کارکنان کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے تیار ہیں

    مرکزی مسلم لیگ پشاور کے رضاکار ضلعی سیکرٹری جنرل انعام اللہ کی قیادت میں ریسکیو و ریلیف آپریشن کے لئے سیالکوٹ پہنچ چکے ہیں،مرکزی مسلم لیگ سندھ کے صدر فیصل ندیم کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں سیلاب کی صورتحال کے پیش نظر مرکزی مسلم لیگ سندھ کے تمام ذمہ داران و کارکنان الرٹ رہیں۔ علاوہ ازیں خیبر پختونخوا ،گلگت کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں بھی مرکزی مسلم لیگ کی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں

    حکومت پنجاب نے سیلاب زدہ علاقوں میں ریسکیو آپریشنز کو تیز کر دیا ہے۔ متاثرین کو ریلیف کیمپوں میں منتقل کیا جا رہا ہے اور مال مویشیوں کی حفاظت کے لیے بھی خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان کی فراہمی میں کوئی کمی نہیں ہے۔سیلاب کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سیلابی علاقوں سے فوری طور پر محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو جائیں اور حفاظتی انتظامات پر مکمل عمل کریں.

  • "میرا دل یوں یوں کر رہا ہے” خاتون صحافی کی کشتی میں رپورٹنگ کی ویڈیو وائرل

    "میرا دل یوں یوں کر رہا ہے” خاتون صحافی کی کشتی میں رپورٹنگ کی ویڈیو وائرل

    صوبہ پنجاب میں دریاوں ستلج، راوی اور چناب میں سیلابی صورتحال نے تباہی مچا دی ہے، جس کے باعث متعدد اضلاع میں شدید سیلابی حالات پیدا ہوگئے ہیں۔

    حکومت کی طرف سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، 27 اور 28 اگست کو سیلاب کی تباہ کاریوں میں کم از کم 15 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ 6 لاکھ سے زائد لوگ اپنے گھروں سے محروم ہو کر عارضی پناہ گزین بن گئے ہیں۔ پاک فوج، حکومت اور پاکستان مرکزی مسلم لیگ، الخدمت فاؤنڈیشن سمیت دیگر کی جانب سے ریسیکیو و ریلیف آپریشن بھی جاری ہے،سیلاب کی وجہ سے درجنوں چھوٹے شہروں اور دیہات میں گھروں اور زرعی زمینوں کو نقصان پہنچا ہے۔سیالکوٹ، نارووال، اور لاہور کے نواحی علاقوں میں بھی پانی کی سطح میں زبردست اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث لوگ شدید مشکلات کا شکار ہیں۔حافظ آباد کے علاقے کوٹ اسحاق میں گزشتہ پانچ گھنٹوں سے سیلابی پانی میں پھنسے ہوئے افراد کو شعبہ خدمت خلق مرکزی مسلم لیگ فیصل آباد کی ٹیم نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ریسکیو کر لیا۔ متاثرین کے مطابق انہوں نے متعدد بار ریسکیو اداروں اور مقامی انتظامیہ کو اطلاع دی، مگر کوئی مدد نہ پہنچا۔ اطلاع ملنے پر مرکزی مسلم لیگ کی ریسکیو ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچی اور پانچ سے چھ افراد کو اس وقت ریسکیو کیا گیا جب پانی گردنوں تک پہنچ چکا تھا، بعدازاں انہیں محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔اس موقع پر محمد احسن تارڑ سیکرٹری جنرل پاکستان مرکزی مسلم لیگ فیصل آباد اور ناصر بٹ بھی ریسکیو ٹیم کے ہمراہ موجود تھے، جو متاثرین کو فوری امداد اور سہولیات فراہم کرنے میں پیش پیش ہیں۔

    ایسے مشکل حالات میں کئی مقامی رپورٹرز، یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا کے کانٹینٹ کریئیٹرز نے پانی میں گھس کر اپنی رپورٹنگ شروع کر دی ہے۔ ان کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں، جن میں وہ خود کو خطرے میں ڈال کر سیلاب کی شدت اور متاثرین کی حالت زار دکھا رہے ہیں۔مقامی لوگوں کی مشکلات کو اجاگر کرنے والے یہ رپورٹرز اور یوٹیوبرز سیلاب زدگان کے لیے امداد کی اپیل بھی کر رہے ہیں تاکہ حکومت اور امدادی ادارے فوری کارروائی کر سکیں۔ ان کی کوششوں سے عام لوگوں تک صورتحال کی درست معلومات پہنچ رہی ہیں، جس سے امدادی سرگرمیاں تیز ہو رہی ہیں۔

    لاہور کی خاتون صحافی مہرالنساء کی ایک ویڈیو حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے، جس میں وہ سیلاب زدہ علاقے سے رپورٹنگ کرتے ہوئے نہ صرف اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دے رہی ہیں بلکہ اپنی گھبراہٹ اور خوف کا بھی کھل کر اظہار کرتی ہیں۔ ان کی یہ ویڈیو دیکھنے والوں کو فوراً ہی مشہور "چاند نواب” ویڈیو کی یاد دلا گئی، جو کئی سالوں سے انٹرنیٹ پر مزاحیہ وائرلز میں شامل رہی ہے۔

    ویڈیو میں مہرالنساء کو ایک کشتی پر بیٹھے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جہاں وہ شدید پانی کے بہاؤ اور خطرناک حالات میں رپورٹنگ کر رہی ہیں۔ اسی دوران وہ گھبراہٹ میں بول اٹھتی ہیں:
    "میرا دل یوں یوں کر رہا ہے!”
    اسی لمحے ان کا چہرہ خوف سے تھر تھراتا ہوا نظر آتا ہے اور وہ کہتی ہیں:”میرے دل کی دھڑکن نیچے جا رہی ہے… پلیز دعا کریں، مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے!”

    مہرالنسا کو اپنے ساتھیوں سمیت کشتی پر سیلابی پانی میں دیکھا گیا اور وہ لوگوں کو سیلاب کی شدت بتاتی دکھائی دیں،
    ویڈیو میں مہرالنسا اپنے مخصوص انداز میں بتاتی نظر آتی ہیں کہ وہ بہت زیادہ سیلابی پانی کی وجہ سے ڈر بھی رہی ہیں اور وہ لوگوں کو بھی ہدایت کرتی ہیں کہ وہ سیلابی پانی میں نہ آئیں۔

    یہ ویڈیو نہ صرف پاکستان بلکہ بیرونِ ملک بھی خوب وائرل ہو رہی ہے، اور متعدد صارفین اسے "نیا چاند نواب لمحہ” قرار دے رہے ہیں۔

    یہ ویڈیو اصل میں متعلقہ نیوز چینل نے خود یوٹیوب پر اپلوڈ کی، جس کے بعد یہ مختلف پلیٹ فارمز جیسے کہ ٹوئٹر، انسٹاگرام اور فیس بک پر بڑے پیمانے پر شیئر کی جانے لگی۔ ویڈیو کو لاکھوں افراد دیکھ چکے ہیں اور سینکڑوں تبصرے اس کے نیچے موجود ہیں، جن میں کچھ افراد صحافی کے جذباتی ردعمل کو سراہ رہے ہیں جبکہ کچھ اسے ایک نیا "میم” قرار دے رہے ہیں۔

    خاتون صحافی مہرالنساء کی رپورٹنگ،سے اندازہ ہوتا ہے کہ صحافی کس حد تک خطرات مول لے کر عوام تک خبریں پہنچاتے ہیں۔ جہاں ایک طرف عوامی ردِعمل ویڈیو کو مزاحیہ انداز میں لے رہا ہے، وہیں دوسری طرف یہ لمحہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ رپورٹرز کس مشکل اور خطرناک ماحول میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں "وائرل رپورٹنگ” کا رجحان تیزی سے بڑھا ہے، جہاں رپورٹرز کے غیر متوقع یا جذباتی ردعمل عام عوام کی توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں۔ ایسے لمحات اکثر ناظرین کو خبروں سے جُڑے رکھنے کا نیا طریقہ بن گئے ہیں۔

  • امریکہ: F-35 طیارہ تباہ ہونے سے قبل پائلٹ کی 50 منٹ تک انجیئنرز کے ساتھ کال

    امریکہ: F-35 طیارہ تباہ ہونے سے قبل پائلٹ کی 50 منٹ تک انجیئنرز کے ساتھ کال

    مریکہ کی فضائیہ کا F-35 جنگی طیارہ الاسکا کے ایئلسن ائیر فورس بیس پر حادثے کا شکار ہو گیا۔ طیارے کا پائلٹ فضاء میں تقریباً 50 منٹ تک انجینئرز کے ساتھ کانفرنس کال پر تھا تاکہ ایک سنگین تکنیکی خرابی کو حل کیا جا سکے، مگر بدقسمتی سے طیارہ رن وے پر گر کر تباہ ہو گیا۔

    سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ طیارہ حادثے سے پہلے رن وے کی جانب زوردار گِراؤٹ کرتا ہے اور آگ پکڑ لیتا ہے، جبکہ پائلٹ نے اپنے پیراشوٹ کے ذریعے محفوظ طریقے سے زمین پر اترنے میں کامیابی حاصل کی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق، طیارے کے ناک اور مین لینڈنگ گئر کی ہائیڈرولک لائنز میں برف جم جانے کی وجہ سے لینڈنگ گئر صحیح طریقے سے کھل نہیں پایا۔ پرواز کے دوران جب پائلٹ نے لینڈنگ گئر واپس لے جانے کی کوشش کی تو ناک کا گئر بائیں طرف جام ہو گیا۔مسئلہ حل کرنے کی کوشش میں پائلٹ نے پانچ لاک ہیڈ مارٹن انجینئرز کے ساتھ قریباً ایک گھنٹہ فضاء میں کانفرنس کال کی تاکہ خرابی دور کی جا سکے۔ طیارے نے دو مرتبہ "ٹچ اینڈ گو” لینڈنگ کی کوشش کی تاکہ جام شدہ ناک گئر کو سیدھا کیا جا سکے، مگر دونوں کوششیں ناکام رہیں اور لینڈنگ گئر مکمل طور پر جم گیا۔

    طیارے کے سینسر نے اسے زمین پر موجود سمجھ کر اسے غیر قابو کے قابل بنا دیا، جس کے باعث پائلٹ کو ایجیکٹ ہونا پڑا۔ فضائیہ کی جانچ میں یہ بات سامنے آئی کہ ناک اور دائیں مین لینڈنگ گئر کے ہائیڈرولک سیال میں ایک تہائی پانی موجود تھا، جس کی وجہ سے برف جم گئی تھی۔

    نو دن بعد اسی بیس پر ایک اور طیارے میں بھی ہائیڈرولک آئسنگ کا مسئلہ سامنے آیا، لیکن وہ طیارہ محفوظ لینڈ کر گیا۔ حادثہ -18 ڈگری سیلسیس کی سخت سردی میں پیش آیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ "کرو کے فیصلے، جن میں فلائٹ کے دوران کانفرنس کال شامل تھی، اور خطرناک مواد کے پروگرام پر ناکافی نگرانی” حادثے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

    لاک ہیڈ مارٹن کے F-35 پروگرام کو پیداوار میں کوتاہی اور مہنگائی کے حوالے سے تنقید کا سامنا رہا ہے۔ اس طیارے کی قیمت 2021 میں تقریباً 135.8 ملین ڈالر تھی جو 2024 میں امریکی محکمہ دفاع کے ساتھ ابتدائی معاہدے کے تحت 81 ملین ڈالر تک گر گئی۔امریکی گورنمنٹ اکاؤنٹیبلٹی آفس کے مطابق، F-35 پروگرام 2088 تک جاری رہنے کا امکان ہے اور اس پر کل لاگت دو ٹریلین ڈالر سے زائد متوقع ہے۔

  • دہلی کے 20 سے زائد کالجوں کو بم دھمکی

    دہلی کے 20 سے زائد کالجوں کو بم دھمکی

    دہلی: دہلی کے چانکیہ پوری میں واقع جیسس اینڈ میری کالج سمیت تقریباً 20 کالجوں کو بم دھمکی بھری ای میل موصول ہونے کے بعد پولیس میں ہلچل مچ گئی ہے۔

    دھمکی والے ای میلز ملنے کے فوری بعد پولیس نے بم ڈسپوزل اسکواڈ اور ڈاگ اسکواڈ کو فوری طور پر کالجوں میں روانہ کیا تاکہ کسی ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے۔پولیس نے گھنٹوں تک کالجوں اور ان کے کیمپس کی تفصیلی تلاشی لی، تاہم تلاشی مہم کے دوران کسی بھی کالج کیمپس سے مشتبہ یا دھماکہ خیز اشیا نہیں ملی۔ اس بنیاد پر پولیس نے یہ فرض کیا ہے کہ دھمکی فرضی ہو سکتی ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ دھمکی بھرا ای میل بھیجنے والے نے اپنی شناخت چھپانے کے لیے وی پی این (VPN) کا استعمال کیا تھا۔

    واضح رہے کہ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران دہلی کے 100 سے زائد اسکولوں کو بھی بم دھمکیاں موصول ہو چکی ہیں، جس نے تعلیمی اداروں کی سکیورٹی کے حوالے سے تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ طلبا، اساتذہ اور انتظامیہ کو ان دھمکیوں کی وجہ سے شدید پریشانی کا سامنا ہے، جبکہ پولیس ٹیموں کو بار بار فیلڈ میں جا کر تلاشی مہم چلانا پڑ رہی ہے، جس سے قیمتی وقت ضائع ہو رہا ہے۔ 20 اگست کو بھی دہلی کے 50 اسکولوں کو ایک ساتھ دھمکی بھرے ای میلز موصول ہوئے تھے جن میں نجف گڑھ، مالویہ نگر، پرساد نگر، کرول باغ جیسے علاقوں کے اسکول شامل تھے۔ اس پر بھی دہلی پولیس نے فوراً ایکشن لیتے ہوئے بم ڈسپوزل اور ڈاگ اسکواڈ کی مدد سے کیمپس کی چھان بین کی تھی، لیکن کسی مشتبہ چیز کا سراغ نہیں لگا تھا۔پولیس نے تفتیش کے دوران یہ معلومات بھی حاصل کیں کہ دھمکی بھرا ای میل ’ٹیررائزرس 111‘ نامی گروپ کی جانب سے بھیجا گیا تھا، جس میں 25,000 امریکی ڈالر کے علاوہ کرپٹو کرنسی میں 5,000 ڈالر کا تاوان طلب کیا گیا تھا۔ تاہم، اب تک کسی ملزم کو گرفتار نہیں کیا جا سکا ہے۔

    دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کر رہی ہے اور دھمکیوں کے پس پردہ موجود عناصر کو جلد قانون کی گرفت میں لانے کے لیے تمام وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں تاکہ تعلیمی اداروں میں طلبا کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔