Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • خلیل الرحمان قمر کیس،آمنہ عروج کی سزا معطل،رہائی کا حکم

    خلیل الرحمان قمر کیس،آمنہ عروج کی سزا معطل،رہائی کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ نے معروف ڈرامہ نگار و مصنف خلیل الرحمٰن قمر ہنی ٹریپ کیس کی مجرمہ آمنہ عروج کی سزا معطل کرتے ہوئے اسے ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

    جسٹس شہباز رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے آمنہ عروج کی اپیل پر سماعت کی۔ عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے مجرمہ کی سزا معطل کر دی اور رہائی کے عوض پانچ لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کی ہدایت جاری کی۔عدالتی کارروائی کے دوران آمنہ عروج کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ان کی مؤکلہ پر لگائے گئے الزامات من گھڑت ہیں اور مقدمہ بدنیتی پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماتحت عدالت نے شواہد کا درست جائزہ لیے بغیر سزا سنائی، جس کے باعث انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوئے۔دوسری جانب سرکاری وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ آمنہ عروج کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں، اس لیے سزا برقرار رکھی جائے۔ تاہم عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد سزا معطل کرتے ہوئے آمنہ عروج کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا۔

    یاد رہے کہ خلیل الرحمٰن قمر نے کچھ عرصہ قبل آمنہ عروج کے خلاف ہنی ٹریپ اور بلیک میلنگ کا مقدمہ درج کرایا تھا، ماتحت عدالت نے مقدمے میں آمنہ عروج کو مجرم قرار دیتے ہوئے اسے سزا سنائی تھی، تاہم اب لاہور ہائیکورٹ نے سزا معطل کرتے ہوئے اپیل کی مزید سماعت تک ضمانت منظور کر لی ہے۔

    آمنہ عروج نے سزا کی معطلی کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کررکھاتھا، آمنہ عروج سمیت دیگر نے سزا کے خلاف اپیلیں دائر کر رکھی ہیں،آمنہ عروج ،ذیشان قیوم اور ممنون حیدر نے سات سات سال قید کے خلاف اپیل لاہور ہائیکورٹ میں دائر کی ،اپیل میں مؤقف اپنایا گیا کہ ٹرائل کورٹ نے حقائق کا درست جائزہ نہیں لیا۔سزا معطل کی جائے

  • اسلام آباد،فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی  کے ڈائریکٹر لینڈقتل

    اسلام آباد،فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی کے ڈائریکٹر لینڈقتل

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے حساس ترین علاقے بلیو ایریا میں گزشتہ رات فائرنگ کے ایک افسوسناک واقعے میں وزارتِ ہاؤسنگ کے ذیلی ادارے فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی کے ڈائریکٹر لینڈ احسان الٰہی کو قتل کر دیا گیا۔

    احسان الٰہی بلیو ایریا کے ایک ہوٹل میں کھانا کھانے کے بعد باہر نکلے تو نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ گولیوں کی بوچھاڑ سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔مقتول کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے پمز اسپتال منتقل کی گئی، جہاں صبح تک ایف آئی آر درج نہ ہونے کے باعث ورثاء اور ساتھی افسران میں شدید غم و غصہ پایا گیا۔

    وفاقی وزیر ہاؤسنگ ریاض حسین پیرزادہ بھی پمز اسپتال پہنچے اور مقتول کے اہلِ خانہ سے ملاقات کر کے اظہارِ افسوس کیا۔ انہوں نے پولیس حکام کو ہدایت کی کہ واقعے میں ملوث عناصر کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے اور معاملے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات یقینی بنائی جائے۔ادھر ایف جی ای ایچ اے کے افسران اور ملازمین کی بڑی تعداد اسپتال میں جمع ہو گئی، جنہوں نے احسان الٰہی کے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

    دوسری جانب وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی اسلام آباد پولیس سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ وزیرِ داخلہ نے ہدایت کی کہ واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات کی جائیں اور ملوث ملزمان کی جلد از جلد گرفتاری یقینی بنائی جائے۔پولیس ذرائع کے مطابق جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں، سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی جا رہی ہے اور ملزمان کی تلاش کے لیے مختلف ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔

  • سیلابی تباہی سے پاکستانی معیشت کو شدید دھچکا، مہنگائی میں اضافے کا امکان

    سیلابی تباہی سے پاکستانی معیشت کو شدید دھچکا، مہنگائی میں اضافے کا امکان

    عالمی بینک نے پاکستان کی معیشت سے متعلق تازہ ترین رپورٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ حالیہ سیلابی تباہ کاریوں کے باعث ملکی معیشت کو شدید منفی اثرات کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں مہنگائی کی شرح میں نمایاں اضافہ اور ترقی کی رفتار میں کمی کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق، ملک بھر میں حالیہ بارشوں اور سیلاب نے انفرااسٹرکچر، زرعی پیداوار، اور عوامی خدمات کے نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ عالمی بینک نے کہا کہ ان نقصانات کے باعث مہنگائی 7.2 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ مالی سال 2024-25 میں شرح نمو 2.6 فیصد رہنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔عالمی بینک کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پنجاب میں زرعی پیداوار میں کم از کم 10 فیصد کمی متوقع ہے۔ سیلاب سے چاول، گنا، کپاس، گندم اور مکئی جیسی اہم فصلیں بری طرح متاثر ہوئیں، جس کے نتیجے میں زرعی شعبہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں اپنا کردار پورا نہیں کر پائے گا۔مزید کہا گیا ہے کہ زرعی نقصانات سے غذائی اجناس کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا، جس سے افراطِ زر پر مزید دباؤ بڑھے گا۔

    عالمی بینک نے اپنی رپورٹ میں زور دیا کہ سیلاب سے تباہ شدہ انفرااسٹرکچر کی جلد بحالی معیشت کے استحکام کے لیے نہایت ضروری ہے۔ بارشوں اور طوفانی ریلوں نے سڑکوں، پلوں اور آبپاشی کے نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس سے عوامی خدمات کی فراہمی متاثر ہوسکتی ہے۔رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر بحالی کے اقدامات میں تاخیر ہوئی تو بجٹ پر اضافی دباؤ پڑے گا اور مالی خسارہ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔عالمی بینک نے امید ظاہر کی ہے کہ اگر زرعی پیداوار میں بہتری، افراطِ زر میں کمی اور شرح سود میں نرمی کے اقدامات کیے گئے تو اگلے مالی سال یعنی 2025-26 میں شرح نمو 3.4 فیصد تک بحال ہوسکتی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹیرف ریفارمز اور تجارتی پالیسیوں میں بہتری سے برآمدات میں اضافہ ممکن ہے، جس سے ترقی کی رفتار میں بہتری آ سکتی ہے۔

    عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ رواں مالی سال میں افراط زر سنگل ڈیجٹ یعنی ایک ہندسے میں رہنے کی توقع ہے، تاہم سیلاب سے پیدا ہونے والی معاشی غیر یقینی صورتحال کے سبب 2027 تک افراط زر میں اضافے کا خطرہ برقرار رہے گا۔عالمی بینک کی رپورٹ پاکستان کے لیے ایک واضح پیغام رکھتی ہے کہ اگر حکومت فوری طور پر سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی، زرعی پیداوار میں استحکام، اور مالی نظم و ضبط کے اقدامات نہ کرے تو معیشت پر طویل مدتی منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

  • پی سی بی کی جانب سے پی ایس ایل اپریل ،مئی میں کروائے جانے کا امکان

    پی سی بی کی جانب سے پی ایس ایل اپریل ،مئی میں کروائے جانے کا امکان

    پاکستان کرکٹ بورڈ آئندہ سال بھی پاکستان سپر لیگ رمضان کے بعد اپریل اور مئی میں کراناچاہتا ہے،

    ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ایس ایل فرنچائز اور پی سی بی کے درمیان بہت سارے معاملات حل طلب ہیں اور ابھی تک باضابطہ ایسی میٹنگ نہیں ہوئی جس میں اگلی پی ایس ایل پر بات چیت ہو،اگلے سال کے شروع میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی وجہ سے پی ایس ایل فروری مارچ میں کرانا ممکن نہیں ہے، ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی تیاریوں کے سلسلے میں پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان 3 ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز ہوگی جس کے بعد پاکستان اور بنگلا دیش کے درمیان دو ٹیسٹ کی سیریز ہوگی،ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور پی ایس ایل کے بعد پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان تین ون ڈے انٹرنیشنل کی سیریز ہوگی۔ بنگلا دیش کی ٹیسٹ سیریز کے بعد وائٹ بال سیریز مئی کے بعد ہوگی،پاکستان ٹیم بنگلا دیش میں تین ون ڈے اور تین ٹی ٹوئنٹی انٹر نیشنل میچ کھیلے گی۔ پاکستان اور زمبابوے کے درمیان بھی تین ون ڈے اور تین ٹی ٹوئنٹی انٹر نیشنل میچ ہوں گے۔

    اس لیے پاکستان کرکٹ بورڈ آئندہ سال اپریل اور مئی میں دو اضافی ٹیموں کے ساتھ پی ایس ایل کراناچاہتا ہے،دوسری جانب آئی پی ایل کا اگلا ایڈیشن 15 مارچ سے 31 مئی تک کھیلا جائے گا اس لیے اس بار بھی قوی امکان ہے کہ دونوں بڑی لیگز کے میچز کی تاریخوں میں ٹکراؤ ہو اور بہت سے انٹرنیشنل کھلاڑی دونوں میں سے کسی ایک لیگ کا انتخاب کر سکیں۔

  • آزاد کشمیر کے عوام کی خدمت کرتے رہیں گے.وزیراعظم

    آزاد کشمیر کے عوام کی خدمت کرتے رہیں گے.وزیراعظم

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے آزاد کشمیر میں مذاکرتی عمل کی کامیابی کے بعد حکومتی مذاکراتی کمیٹی کی اسلام آباد میں ملاقات ہوئی ہے

    ملاقات میں راجہ پرویز اشرف، مشیر وزیرِ اعظم رانا ثناء اللہ، وفاقی وزراء احسن اقبال، محمد اورنگزیب، سردار محمد یوسف، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، احد خان چیمہ اور چیئرمین یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان شریک تھے. وزیراعظم نے مذاکراتی کمیٹی کے اراکین کی کشمیر میں معاملات کو احسن طور سے حل کرنے کیلئے کوششوں کی پزیرائی کی اور کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے بھی کشمیر کی ترقی و خوشحالی کیلئے معاملہ فہمی کا مظاہرہ کیا جس کیلئے وہ لائق تحسین ہیں. کشمیر میں تمام معاملات خوش اسلوبی سے حل ہوئے، کشمیری عوام کے تمام تحفظات کو دور کیا جائے گا.
    حکومت اپنے کشمیری بھائیوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔ عوامی مفاد اور امن ہماری ترجیح ہے اور آزاد کشمیر کے عوام کی خدمت کرتے رہیں گے.پہلے بھی کشمیری بہن بھائیوں کے حقوق کے محافظ تھے اور آئندہ بھی انکے حقوق کا تحفظ کرتے رہیں گے.آزاد کشمیر کے مسائل پر ہمیشہ توجہ رہی ہے اور میری حکومت نے ہمیشہ ترجیحی بنیادوں پر ان مسائل کو حل کیا ہے۔کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق انکی ترقی و خوشحالی کیلئے اقدامات اٹھاتے رہیں گے.

  • شرجیل میمن الیکٹرک، پنک ٹیکسی سروس منصوبوں پر تیزی کیلئے مسلسل متحرک

    شرجیل میمن الیکٹرک، پنک ٹیکسی سروس منصوبوں پر تیزی کیلئے مسلسل متحرک

    سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن الیکٹرک ٹیکسی سروس اور پنک ٹیکسی سروس منصوبوں پر تیزی سے پیش رفت کے لئے مسلسل متحرک ہیں

    صوبے میں جدید اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ نظام کے لیے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کاوشیں تیز کردیں ،معروف ملٹی نیشنل برقی گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنی کے وفد کی سینئر وزیر شرجیل انعام میمن سے ملاقات ہوئی ہے،ملاقات میں کمپنی کے نمائندوں نے اپنی برقی گاڑیوں کے ماڈلز، خصوصیات اور ٹیکنالوجی سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی،ملاقات میں سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کی ایم ڈی کنول نظام بھٹو اور سی ای او ٹرانس کراچی فواد غفار سومرو بھی شریک تھے

    شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ حکومتِ سندھ پبلک پرائیوٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں جدت لانا چاہتی ہے، سندھ میں برقی گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ شہریوں کو صاف، محفوظ اور پائیدار سفری سہولیات میسر آسکیں، ہم چاہتے ہیں کہ سندھ میں برقی ٹرانسپورٹ کا مضبوط نظام قائم ہو، الیکٹرک گاڑیوں کے ساتھ ساتھ ان کے چارجنگ اسٹیشنز، مینٹیننس سینٹرز اور دیگر بنیادی انفرا اسٹرکچر کی تعمیر میں بھی سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں،حکومت سندھ نجی شعبے کے ساتھ مل کر ایک ایسا فریم ورک تشکیل دے رہی ہے جس سے سرمایہ کاروں کو مکمل تعاون اور تحفظ فراہم کیا جائے گا،حکومت سندھ نے سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا ہے، دھابیجی اسپیشل اکنامک زون سرمایہ کاروں کے لیے ایک بہترین موقع ہے، دھابیجی اسپیشل اکنامک زون میں سرمایہ کاروں کو دس سالہ ٹیکس استثنا سمیت متعدد مراعات دی جا رہی ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ بین الاقوامی کمپنیاں سندھ آئیں اور یہاں سرمایہ کاری کریں،سندھ میں ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بین الاقوامی معیار کی سروسز متعارف کروانے کے لیے حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی،ہمارا ہدف ہے کہ کراچی سمیت سندھ کے تمام بڑے شہروں میں الیکٹرک ٹیکسی سروس جلد از جلد شروع کی جائے، تاکہ عوام کو جدید اور ماحول دوست سفری سہولیات میسر آئیں،

  • سیکیورٹی فورسز فتنہ الخوارج کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں،ایاز صادق

    سیکیورٹی فورسز فتنہ الخوارج کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں،ایاز صادق

    اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے ضلع اورکزئی میں 19 بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کو جہنم حاصل کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا ہے

    ایاز صادق کا کہنا تھا کہ آپریشن میں لیفٹیننٹ کرنل جنید عارف اور میجر طیب راحت سمیت گیارہ شہید ہونے والے جوانوں کو بھی خراج عقیدت پیش کرتا ہوں،لیفٹیننٹ کرنل جنید عارف نے لیڈنگ فرام فرنٹ کی عظیم مثال قائم کی جو پاک فوج کی روایت ہے ۔پاک افواج اور سیکیورٹی فورسز فتنہ الخوارج کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں،دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،دہشتگرد عناصر کبھی اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہوں گے،

    اسپیکر سردار ایاز صادق نےشہداء کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور مکمل یکجہتی کا اظہارکیا اور کہا کہ اللہ شہداء کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا کرے،سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں لازوال قربانیاں پیش کی ہیں، پوری قوم پاک افواج کی قربانیوں کو سلام پیش کرتی ہے،

  • چھبیسویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواست،حامد خان کی فُل کورٹ کرنےکی استدعا

    چھبیسویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواست،حامد خان کی فُل کورٹ کرنےکی استدعا

    چھبیسویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران جسٹس امین امین الدین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب تک آئین میں ترمیم نہیں ہوتی موجودہ آئین پر ہی انحصار کرنا ہو گا۔

    سپریم کورٹ میں چھبیسویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں پر سماعت شروع ہوئی،جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 8 رکنی آئینی بینچ کر رہا ہے، بینچ میں جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس نعیم افغان اور جسٹس شاہد بلال شامل ہیں۔دوران سماعت جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیے کہ ہم آئین پر انحصار کرتے ہیں، وکلاء بھی آئین پر انحصار کرتے ہیں، جب تک آئین میں ترمیم نہیں ہوتی موجودہ آئین پر ہی انحصار کرنا ہو گا،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ چھبیسویں آئینی ترمیم ٹھیک ہے یاغلط فی الحال عدالت نے معطل نہیں کی، آپ چھبیسویں آئینی ترمیم کو آئین کا حصہ سمجھتے ہیں تب ہی چیلنج کیا ہے

    لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے وکیل حامد خان نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فل کورٹ دستیاب ہے، موجودہ آئینی بینچ کے 8 ججز بھی 26ویں آئینی ترمیم کے پاس ہونے کے وقت سپریم کورٹ میں موجود تھے، بقیہ 8 ججز کو بھی آئینی بینچ کا حصہ ہونا چاہیے جو 26 ویں آئینی ترمیم پاس ہونے کے وقت سپریم کورٹ کا حصہ تھے،چھبیسویں آئینی ترمیم سینیٹ میں غیر معمولی طریقے سے لائی گئی تھی، چھبیسویں آئینی ترمیم پارلیمنٹ میں رات کے وقت پاس کی گئی، سپریم کورٹ میں 21 اکتوبر کو 17 ججز موجود تھے، 25 اکتوبر کو چیف جسٹس ریٹائر ہو گئے، ججز کی تعداد 16 رہ گئی، چھبیسویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواست کی سماعت فُل کورٹ کرنےکی استدعا ہے، چھبیسویں آئینی ترمیم سے قبل بھی جوڈیشل کمیشن موجود تھا، چھبیسویں آئینی ترمیم سے جوڈیشل کمیشن کی فارمیشن پر اثر پڑا، چھبیسویں آئینی ترمیم سے قبل جوڈیشل کمیشن میں ججز اکثریت میں تھے لیکن آئینی ترمیم میں جوڈیشل کمیشن میں ججز اقلیت میں آگئے،چھبیسویں آئینی ترمیم کے بعد جوڈیشل کمیشن میں اکثریت ایڈمنسٹریٹوسائیڈ پر چلی گئی جس سےآزاد عدلیہ پر اثر پڑا،جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا فی الحال میرٹ پر نہ بتائیں، آئینی بینچ کے اختیارات کے حوالے سے بتائیں،جسٹس محمدعلی مظہر نے ریمارکس دیے کہ جوڈیشل کمیشن میں پارلیمینٹری کمیٹی کو شامل کر دیا گیا ہے جبکہ جسٹس امین الدین نے استفسار کیا عدالت کو بتا دیں کیوں 16 رکنی بینچ بنا دیں ،ہم کس اختیار سے فل کورٹ تشکیل دیں؟ جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ جوڈیشل آرڈر سے فل کورٹ کی تشکیل پر کوئی قدغن نہیں، 26ویں ترمیم میں کہاں لکھا ہے جوڈیشل آرڈر نہیں ہوسکتا؟عام مقدمات میں ایسا کیا جا رہا ہے تو اس کیس میں کیوں نہیں؟ جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ فل بنچ کے لیے آپ کو پارلیمنٹ سے رجوع کرنا پڑے گا ،

  • یوکرین ،روسی فوج کے ہمراہ جنگ میں شامل بھارتی نوجوان گرفتار

    یوکرین ،روسی فوج کے ہمراہ جنگ میں شامل بھارتی نوجوان گرفتار

    یوکرینی افواج نے مبینہ طور پر ایک 22 سالہ بھارتی شہری کو گرفتار کیا ہے جو روسی فوج کے ساتھ یوکرین کے خلاف جنگ میں شریک تھا۔

    بھارتی وزارتِ خارجہ نے اس خبر کی تصدیق سے گریز کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ یوکرینی میڈیا رپورٹس کی جانچ کر رہی ہے جن میں گرفتار نوجوان کی شناخت "مَجوتی ساحل محمد حسین” کے نام سے کی گئی ہے، جو بھارتی ریاست گجرات کے ضلع موربی کا رہائشی بتایا جاتا ہے۔بھارتی خبر رساں ادارے این ڈی ٹی وی کے مطابق وزارتِ خارجہ کے ذرائع نے بتایا کہ “ہم اس رپورٹ کی سچائی معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ابھی تک یوکرینی حکومت کی جانب سے کوئی باضابطہ اطلاع موصول نہیں ہوئی۔”

    یوکرینی اخبار دی کیف انڈیپنڈنٹ کے مطابق حسین تعلیم کے لیے روس گیا تھا، جہاں بعد ازاں اُسے روسی فوج میں شامل کر لیا گیا تاکہ وہ یوکرین کے خلاف لڑ سکے۔یوکرینی فوج کی 63ویں مکینائزڈ بریگیڈ نے حسین کو گرفتار کیا اور اُس کی ایک ویڈیو جاری کی ہے۔ ویڈیو میں حسین نے بتایا کہ اسے روس میں منشیات سے متعلق جرم پر سات سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، مگر جیل میں اُسے روسی فوج میں شمولیت کی پیشکش کی گئی تاکہ وہ مزید سزا سے بچ سکے، جسے اُس نے قبول کر لیا۔“میں جیل میں نہیں رہنا چاہتا تھا، اس لیے روسی فوج کے ساتھ ‘خصوصی فوجی آپریشن’ کے معاہدے پر دستخط کیے، لیکن میں وہاں سے نکلنا چاہتا تھا۔” روسی فوج نے اُسے صرف 16 دن کی تربیت دی اور یکم اکتوبر کو پہلی جنگی مہم پر بھیج دیا۔ تین روز لڑائی کے بعد اُس کا اپنے کمانڈر سے جھگڑا ہوا جس کے بعد اُس نے یوکرینی افواج کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔“میں یوکرینی مورچے کے قریب پہنچا، بندوق زمین پر رکھ دی اور کہا کہ میں لڑنا نہیں چاہتا، مجھے مدد چاہیے۔”

    یوکرینی ذرائع کے مطابق حسین نے یہ بھی بتایا کہ روسی حکام نے اُسے مالی معاوضے کا وعدہ کیا تھا، مگر اسے کوئی ادائیگی نہیں ملی۔“میں روس واپس نہیں جانا چاہتا، وہاں کوئی سچ نہیں، کچھ بھی نہیں۔ بہتر ہے کہ میں یہاں (یوکرین) کی جیل میں رہوں۔”

    یہ واقعہ اُس وقت سامنے آیا ہے جب اس سے قبل بھی ایسی رپورٹس موصول ہو چکی ہیں کہ روس غیرملکی شہریوں، خصوصاً بھارت اور شمالی کوریا کے باشندوں کو روزگار یا مالی فوائد کا لالچ دے کر اپنی فوج میں بھرتی کر رہا ہے۔جنوری میں بھارتی وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی تھی کہ روس میں بسنے والے 126 بھارتیوں میں سے 12 یوکرین جنگ میں روسی فوج کے لیے لڑتے ہوئے ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 16 دیگر تاحال لاپتہ ہیں۔بھارتی حکومت نے اس معاملے پر ماسکو کے ساتھ سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ بھارتی شہریوں کو جنگی خدمات سے جلد از جلد فارغ کیا جائے۔

  • اورکزئی  آپریشن،19 بھارتی سرپرستی یافتہ دہشتگرد ہلاک، لیفٹیننٹ کرنل،میجر سمیت 11 جوان شہید

    اورکزئی آپریشن،19 بھارتی سرپرستی یافتہ دہشتگرد ہلاک، لیفٹیننٹ کرنل،میجر سمیت 11 جوان شہید

    رات گئے سیکورٹی فورسز نے اورکزئی ضلع میں خفیہ اطلاع پر ایک اہم انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا، جس کا ہدف بھارتی پراکسی تنظیم فتنہ الخوارج سے وابستہ دہشتگردوں کا نیٹ ورک تھا۔مقابلے میں لیفٹیننٹ کرنل اور سیکنڈ ان کمانڈ میجر سمیت 11 جوان شہید ہو گئے۔ترجمان پاک فوج کے مطابق کارروائی کے دوران سیکورٹی فورسز اور دہشتگردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ موثر جوابی کارروائی میں انیس بھارتی سرپرستی یافتہ خوارج ہلاک کر دیے گئے۔ تاہم، اس دوران پاکستان آرمی کے دو بہادر افسران سمیت دس جوان مادرِ وطن پر قربان ہو گئے۔ لیفٹیننٹ کرنل جنید عارف (عمر 39 سال، ضلع راولپنڈی) ، جو فرنٹ لائن پر قیادت کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے۔میجر طیب راحت (عمر 33 سال، ضلع راولپنڈی) جو اپنے کمانڈر کے ساتھ بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ان کے ساتھ جامِ شہادت پانے والوں میں نائب صوبیدار اعظم گل (38 سال، ضلع خیبر)،نائیک عادل حسین (35 سال، ضلع کرم)،نائیک گل امیر (34 سال، ضلع ٹانک)،لانس نائیک شیر خان (31 سال، ضلع مردان)،لانس نائیک طالش فراز (32 سال، ضلع مانسہرہ)،لانس نائیک ارشاد حسین (32 سال، ضلع کرم)،سپاہی طفیل خان (28 سال، ضلع مالاکنڈ)،سپاہی عاقب علی (23 سال، ضلع صوابی)،سپاہی محمد زاہد (24 سال، ضلع ٹانک)شامل ہیں

    ترجمان پاک فوج کے مطابق علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے تاکہ کسی بھی چھپے ہوئے بھارتی سرپرستی یافتہ دہشتگرد کو ختم کیا جا سکے۔پاکستان کی سیکورٹی فورسز ملک سے بھارتی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پرعزم ہیں۔ ہمارے بہادر افسران اور جوانوں کی یہ عظیم قربانیاں قوم کے عزم و حوصلے کو مزید مضبوط کرتی ہیں،علاقے میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور دہشتگردوں کے سہولت کاروں کے خلاف بھی کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔