Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • جیل میں مردہ مرغیوں کے گوشت کی سپلائی کا انکشاف

    جیل میں مردہ مرغیوں کے گوشت کی سپلائی کا انکشاف

    فیصل آباد: ڈسٹرکٹ جیل فیصل آباد میں قیدیوں کو مردہ مرغیوں کا گوشت سپلائی کیے جانے کا سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے۔ پولیس کی اسپیشل برانچ کے ڈی آئی جی نے چند روز قبل محکمہ داخلہ کو بھیجی گئی ایک رپورٹ میں بتایا کہ جیل کے ٹھیکیدار شہباز زندہ مرغیاں تو لاتے ہیں لیکن کچھ دیر بعد ان کے ملازمین مردہ مرغیوں کا گوشت جیل میں لے آتے ہیں، جسے زندہ مرغیوں کے گوشت کے ساتھ ملا کر قیدیوں کو کھلایا جاتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق، جیل میں 2000 سے زائد قیدیوں کے لیے ہفتے میں پانچ دن روزانہ ساڑھے پانچ من گوشت فراہم کیا جاتا ہے، جس میں سے دو سے اڑھائی من گوشت مردہ مرغیوں کا ہوتا ہے جو غیر معیاری اور غیر صحت بخش ہے۔ یہ مردہ گوشت نیلے رنگ کے ڈرموں میں مرغی کے پروں کے نیچے چھپا کر ایک سلاٹر ہاؤس لایا جاتا ہے، جہاں زندہ اور مردہ مرغیوں کا گوشت مکس کیا جاتا ہے۔محکمہ داخلہ کو موصول رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جیل کے افسران اور عملہ ٹھیکیدار کے ساتھ مل کر کرپشن میں ملوث ہیں، اور اس غیر قانونی عمل کو چھپانے میں مدد دے رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ایک سٹنگ آپریشن کے دوران ٹھیکیدار کے ایک ملازم کو رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔

    اس انکشاف کے بعد 30 جولائی کو جیل سپرنٹنڈنٹ اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کو معطل کر دیا گیا تاہم چند گھنٹوں بعد محکمہ داخلہ نے رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے دونوں افسران کو بحال کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔ محکمہ داخلہ پنجاب کے ترجمان کا کہنا تھا کہ جیل میں مردہ مرغی کی سپلائی کا کوئی ثبوت نہیں ملا اور اعلیٰ تحقیقاتی ٹیم کی مکمل انکوائری کے بعد یہ معاملہ حل کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب بھر کی جیلوں میں قیدیوں کو حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق کھانا فراہم کیا جاتا ہے۔

    اس اہم واقعے کے حوالے سے ابھی تک محکمہ داخلہ کی طرف سے پیش کیے گئے ثبوتوں کی جانچ پڑتال اور تحقیقات کی تفصیلات عام نہیں کی گئیں، جس پر شفافیت اور جواب دہی کے حوالے سے سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔ عوام اور انسانی حقوق کے ادارے اس معاملے پر سخت نظر رکھے ہوئے ہیں اور مزید وضاحت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔اس انکشاف سے نہ صرف جیل کے انتظامات پر سوالات اٹھے ہیں بلکہ قیدیوں کی صحت اور انسانی حقوق کی حفاظت کے حوالے سے بھی شدید خدشات پیدا ہوئے ہیں، جن کا فوری ازالہ ضروری ہے۔

  • غیرت کے نام پر شادی شدہ خاتون قتل، شوہر سمیت تین افراد گرفتار

    غیرت کے نام پر شادی شدہ خاتون قتل، شوہر سمیت تین افراد گرفتار

    بہاولپور کے علاقے تلہڑ میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں غیرت کے نام پر ایک شادی شدہ خاتون کو اس کے شوہر، سسر اور دیور نے مبینہ طور پر جان سے مار دیا۔

    پولیس کے مطابق ملزمان نے شک کی بنیاد پر خاتون کو پھندا لگا کر قتل کیا،پولیس ذرائع کے مطابق واقعہ کے بعد ملزمان لاش کو دفنانے کی کوشش کر رہے تھے کہ پولیس موقع پر پہنچ گئی اور فوری کارروائی کرتے ہوئے تینوں ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ خاتون کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ مزید قانونی کارروائی کی جا سکے۔پولیس نے ملزمان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔

    یہ واقعہ ایک بار پھر ملک میں بڑھتے ہوئے غیرت کے نام پر قتل کے واقعات کی سنگینی کو اجاگر کرتا ہے۔ چند روز قبل 17 جولائی کو راولپنڈی میں بھی جرگے کے حکم پر ایک شادی شدہ خاتون کو گلا دبا کر قتل کیا گیا تھا، جس نے معاشرتی برائیوں پر روشنی ڈالی ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

  • حکومت نے چینی درآمد کرنے کے لیے ایک اور بڑا ٹینڈر جاری کر دیا

    حکومت نے چینی درآمد کرنے کے لیے ایک اور بڑا ٹینڈر جاری کر دیا

    اسلام آباد: حکومت پاکستان نے ملکی منڈی میں چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور قلت کے پیش نظر ایک اور ٹینڈر جاری کیا ہے تاکہ چینی کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) کے مطابق ایک لاکھ میٹرک ٹن چینی کا ٹینڈر 11 اگست کو کھولا جائے گا۔

    چینی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ اور عوامی سطح پر دستیابی میں کمی کے باعث حکومت نے چند روز قبل ہی دو لاکھ میٹرک ٹن چینی درآمد کرنے کا آرڈر جاری کیا تھا تاکہ مقامی منڈیوں میں چینی کی قلت کو کم کیا جا سکے۔تاہم دوسری جانب ملک کے مختلف شہروں میں سرکاری نرخوں پر چینی کی فراہمی اب تک ممکن نہیں ہو سکی اور خاص طور پر لاہور میں چینی کی دکانوں سے مکمل طور پر گمشدگی کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دکانداروں نے گڑ اور شکر کی قیمتوں میں بھی اضافے کا اعلان کر دیا ہے، جس سے صارفین کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

    کوئٹہ میں حالیہ دنوں میں چینی کی قیمتوں میں کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے جہاں گزشتہ روز تک چینی 185 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہی تھی جو اب 7 روپے فی کلو کی کمی کے بعد 178 روپے فی کلو پر آ گئی ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے چینی کی سرکاری قیمت 177 روپے فی کلو مقرر کی ہوئی ہے تاکہ صارفین کو مناسب قیمت پر چینی مہیا کی جا سکے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں میں اضافے اور مقامی سطح پر سپلائی چین میں رکاوٹوں کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس کے تدارک کے لیے حکومت کی طرف سے یہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس کے باوجود مارکیٹ میں چینی کی دستیابی اور قیمتوں کے حوالے سے صورتحال پر مزید نگرانی ضروری ہے تاکہ عام آدمی کو ریلیف پہنچایا جا سکے۔

  • پی ٹی آئی کااسلام آباد احتجاج،جلسہ منسوخ

    پی ٹی آئی کااسلام آباد احتجاج،جلسہ منسوخ

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اسلام آباد میں اپنے متوقع احتجاج اور جلسے کو منسوخ کر دیا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق اب احتجاج کی نئی حکمت عملی کے تحت قومی و صوبائی اسمبلیوں کے حلقوں کی بنیاد پر اضلاع اور قصبوں میں احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے، جہاں عوامی شرکت زیادہ متوقع ہے۔

    خیبر پختونخواہ میں بھی پی ٹی آئی کی حکمت عملی میں واضح تبدیلی آئی ہے۔ اب وہاں میلے ٹھیلے کی شکل میں چھوٹے احتجاج کیے جائیں گے جبکہ بڑے پیمانے پر شور شرابے یا ہنگامے کا امکان بہت کم ہے۔ پارٹی نے اگست کے مہینے کے حوالے سے اپنی سیاسی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے احتجاج کی نوعیت اور مقامات کو محدود کر دیا ہے۔پی ٹی آئی نے 5 اگست کو ہونے والے احتجاج میں اپنی توقعات کے مطابق کامیابی نہ ملنے کے بعد احتجاجی تحریک کو 14 اگست تک توسیع دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی اصل ترجیح بانی رہنما کی رہائی ہے، اور یہ تحریک بحالی جمہوریت کے نعروں سے زیادہ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے چلائی جا رہی ہے۔

    دوسری جانب، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف، سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین، اور پارلیمانی پارٹی کی سربراہ سمیت کئی اہم ارکان کو پولیس تلاش کر رہی ہے، اور انہیں پارلیمنٹ کے قریب آنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ حکومتی سیکیورٹی اقدامات کے باعث ان رہنماوں کے پارلیمنٹ ہاؤس کے قریب پہنچنے کا امکان کم دکھائی دیتا ہے۔آج پیر کو قومی اسمبلی کا 18 واں اجلاس شروع ہو رہا ہے، جہاں پارلیمنٹ ہاؤس میں جلسے اور ہنگاموں کے بجائے ایک معمول کے اجلاس کے انعقاد کا امکان ہے۔ قومی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل سید طاہر حسین نے اجلاس کے لیے 32 نکات پر مشتمل تفصیلی ایجنڈا جاری کیا ہے، جو حکومت کی جانب سے پیش کیا گیا ہے۔

  • بلوچستان محسن صوبہ،کسی کو حق نہیں کہ امن خراب کرے،بلوچستان امن جرگہ

    بلوچستان محسن صوبہ،کسی کو حق نہیں کہ امن خراب کرے،بلوچستان امن جرگہ

    اتحاد امت کوئٹہ کے زیر اہتمام بلوچستان امن جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں، بلوچ عمائدین نے کہا ہے کہ بلوچستان پاکستان اور قوم پاکستان کا محسن صوبہ ہے، اسی صوبہ نے پاکستان کے قیام میں اہم کردار ادا کیا ،بلوچستان کا امن پاکستان کا امن ہے کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ پاکستان کا امن خراب کرے،آئیں ہم متحد ہوکر پاکستان کے استحکام کے لیے مل کر سیاست کریں ،اہل بلوچستان کا انکے حقوق دیئے جائیں، بلوچستان کے مسائل کیلئے ایک با اختیار کمیٹی قائم کی جائے جو تمام مسائل کا حل تلاش کرے

    ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی کے سابق امیر سراج الحق،ہدیۃ الھادی پاکستان کے سربراہ پیر سید ہارون علی گیلانی،مرکزی مسلم لیگ کے جوائنٹ سیکرٹری قاری محمد یعقوب شیخ،چئرمین شعبہ خدمت خلق چوہدری شفیق الرحمن وڑائچ،بلوچ رہنما ڈاکٹر نادر خان اچکزئی،میر فیض مری ، مولانا عبدالقادر لوئی، زبیر حسین، سردار محمد افضل تاجک، عبدالہادی کاکڑ، عبدالحق ہاشمی، ملک میرا خان نیازی، میر شاہجہان گرگناڑی، سردار سعود ساسولی، ملک محمد اسلم، ڈاکٹر ہارون، میرشکر خان رئیسانی، ڈاکٹر عبدالرشید، پیر سید حبیب اللہ چشتی، ثاقب، حافظ محمد ادریس اور مختلف عمائدین نے کوئٹہ کے مقامی ہوٹل میں‌ بلوچستان امن جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا.جرگہ کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ بلوچستان امن جرگہ میں‌شرکا نے حب الوطنی کا اظہار کرتے ہوئے بلوچستان میں امن وامان کے قیام کے لیے صوبائی اور وفاقی حکومتوں سے پر زور مطالبہ کیا ۔ جرگہ نے بلوچستان میں بھارت کی جانب سے کھلی دہشت گردی، قتل وغارت اور اس کے پورے ملک میں بڑھتے ہوئے دائرہ کار کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور حکومت سے اس کی فوری روک تھام کا پر زور مطالبہ کیا۔اعلامیہ میں کہا گیا کہ لسانیت، صوبائیت اور علاقائیت کی بنیاد پر پر امن شہریوں کے قتل عام کی روک تھام کی جائے۔ جرگہ اس قتل و غارت گری کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ امن و امان کی فضا کو فروغ دیا جائے۔صوبے بھر کے تمام راستوں کو کلیئر کرنا اور اُنہیں محفوظ بنانا صوبائی و وفاقی حکومتوں کی اولین ذمہ داری ہے تا کہ لوگوں کی آمد ورفت پر امن انداز میں ممکن ہو اور تجارت کو فروغ مل سکے۔

    بلوچستان امن جرگہ کے اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ بلوچستان کو سیاسی اور معاشی معاملات میں آئینی حقوق دیے جائیں اور صوبے کے تمام فیصلے منتخب نما ئندوں کو کرنے کا مکمل اختیار دیا جائے۔بلوچستان میں گالی، گولی اور سختی کی پالیسی کو ترک کیا جائے اور چیک پوسٹوں پر عوام کے لیے آسانیاں پیدا کی جائیں۔گوادر سے چمن تک بارڈر کی بندش کے باعث 30 لاکھ افراد بے روز گار ہو چکے ہیں انہیں باعزت روز گار فراہم کیا جائے۔لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے۔جن سیاسی آزادیوں کی اجازت آئین پاکستان دیتا ہے ان پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں تا کہ آزاد وطن میں حقیقی آزادی عام ہو سکے،اغوا کاروں، بھتہ خوروں، لینڈ مافیا اور منشیات فروشوں کی ہر سطح پر حوصلہ شکنی کی جائے اور ان کی سر پرستی بند کی جائے۔بلوچستان سے متعلق تمام اہم امور ، بشمول گیس، ریکوڈک اور ساحل سے متعلق معاہدات عوام کے سامنے لائے جائیں اور بلوچستان کے مسائل کو اولین ترجیح دی جائے۔حقوق بلوچستان کے آغاز سے آج تک کوئی وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔ حکومت وقت سے مطالبہ ہے کہ بلوچستان کو اُس کے حقوق دیے جائیں اور کیسے گئے وعدے وفا کیے جائیں۔بلوچستان میں سی پیک کے فیز ون اور فیز ٹو کی تمام تفصیلات عوام کے سامنے پیش کی جائیں۔امن جرگہ حکومت وقت سے مطالبہ کرتا ہے کہ بلوچستان کے مسائل کیلئے ایک با اختیار کمیٹی قائم کرے جو تمام مسائل کا حل تلاش کرے۔امن جرگہ بلوچستان تمام مذہبی، سیاسی جماعتوں اور تنظیموں سے دردمندانہ اپیل کرتا ہے کہ آئیے ہم اپنی صفوں میں اتحاد و یکجہتی پیدا کریں، تا کہ ہم سب مل کر پاکستان کے خلاف آنے والے چیلنجز کا منظم اور متفق ہو کر مقابلہ کر سکیں۔ ہم اتحاد کے ذریعے ہی کامیابیاں اور کامرانیاں حاصل کر سکتے ہیں۔ ہم کوئی ہجوم نہیں، بلکہ ایک امت ہیں۔ آئیے ایک امت بن کر ، وحدت کے ساتھ ، اسلام اور وطن عزیز پاکستان کے لیے جد و جہد کریں۔امن جرگہ ، صوبائی و وفاقی حکومتوں سے پر زور مطالبہ کرتا ہے کہ بلوچستان کو امن وامان کی دولت سے مالا مال کیا جائے کیونکہ اس صوبے کا امن دراصل پاکستان کا امن ہے۔

  • ڈیفنس سی کے علاقے میں مزدوروں پر تشدد کی ویڈیو وائرل، ملزم گرفتار

    ڈیفنس سی کے علاقے میں مزدوروں پر تشدد کی ویڈیو وائرل، ملزم گرفتار

    لاہور کے علاقے ڈیفنس سی میں ایک تشویشناک واقعہ سامنے آیا ہے جہاں آفتاب میو نے مزدوروں پر تشدد کیا، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایس پی کینٹ قاضی علی رضا کی ہدایت پر ڈیفنس سی پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے اور اسے بند حوالات میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

    ایس پی کینٹ قاضی علی رضا نے بتایا کہ ملزم افتاب میو نے مزدوروں پر تشدد کی ویڈیو خود بنائی اور اسے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دیا تھا۔ ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد پولیس نے فوری طور پر مقدمہ درج کر کے ملزم کو گرفتار کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور کسی کو بھی اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ کسی بھی شہری پر ظلم کرے۔ پولیس کی جانب سے ایس ایچ او ڈیفنس سی رضا عباس اور ان کی ٹیم کو بروقت کارروائی پر شاباش دی گئی ہے۔

    ایس پی کینٹ قاضی علی رضا نے واضح کیا کہ شہریوں پر تشدد کرنے والے عناصر کو قانون کے مطابق کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا تاکہ ایسے واقعات کا دوبارہ سدباب ہو سکے۔

  • سیلاب میں ہونے والے جانی مالی نقصان پر ہمارے دل غم زدہ ہیں ۔ قدرت اللہ

    سیلاب میں ہونے والے جانی مالی نقصان پر ہمارے دل غم زدہ ہیں ۔ قدرت اللہ

    بارشوں اور سیلاب میں ہونے والے جانی مالی نقصان پر ہمارے دل غم زدہ ہیں ۔ بارش اور سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچنے کےلئے زیادہ سے زیادہ شجر کاری کی جائے ۔ شجرکاری ایک لازمی اور ہمہ جہت نفع بخش عمل ہے جو نہ صرف زمین کا حسن بڑھاتا ہے بلکہ صدقہ جاریہ کے طور پر انسان کی اخروی نجات، معاشرتی فلاح اور موسمی اعتدال میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار قرآن پبلشرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے صدر قدرت اللہ ، چئیرمین سید احسن محمود شاہ اور سرپرست اعلی حفیظ البرکات شاہ نے کیا ۔ انھوں نے کہا کہ موسم بہار شروع ہونے والا ہے اس موسم میں ہر پاکستانی اپنے حصے کا کم از کم ایک پودا یا درخت ضرور لگائے ۔ یہ اسلام کی تعلیمات کا تقاضا بھی ہے اور ہمارے ملک کی موسمی ضرورت بھی ہے ۔اسلام میں درخت لگانے کی بہت فضیلت ہے ارشاد نبوی ہے جو مسلمان درخت لگاتا ہے یا کھیتی اگاتا ہے اور اس میں سے انسان، پرندہ یا جانور کھاتا ہے، یہ اس کے لیے قیامت تک صدقہ ہے۔ اس سے واضح ہے کہ اسلام شجرکاری کو صرف دنیاوی عمل ہی نہیں بلکہ عبادت سمجھتا ہے۔انھوں نے کہا کہ دینی پہلو کے ساتھ ساتھ شجرکاری موسمی چیلنجز سے نبردآزما ہونے کا مو¿ثر ذریعہ ہے۔ درخت سیلابی پانی کا رخ روکتے، زمین کے کٹاو¿ کو کم کرتے اور فضا میں زہریلی گیسوں کا توازن برقرار رکھتے ہیں۔ درختوں کی تعداد میں اضافہ سے گرمی کی شدت کم ہوتی ہے۔پاکستان میں مون سون کے موسم کو شجرکاری کے لیے نہایت موزوں تصور کیا جاتا ہے۔ہمارا دین صرف شجرکاری کا حکم ہی نہیں دیتا بلکہ درختوں کو کاٹنے اور برباد کرنے سے بھی سختی سے منع کرتا ہے یہاں تک کہ حالتِ جنگ میں بھی درختوں کی حفاظت کا حکم دیا گیا ہے۔ شجرکاری معاشرتی، معاشی اور موسمی فلاح و استحکام کی ضامن ہے۔ پاکستان میں آبادی کے تناسب سے درخت نہ ہونے کے برابر ہیں جس سے ہمارا ملک بدترین قسم کی موسمی تبدیلوں کا شکار ہے ہر سال سیلاب آتے ہیں اب تو پے در پے کلاﺅڈ برسٹ کے واقعات بھی پیش آرہے ہیں جن کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی مالی نقصان ہوتا ہے لہذا آئیں ہم سب اپنے اپنے حصے کا ایک پودا لگائیں تاکہ ہمارا ملک موسمی تبدیلیوں کے نقصان سے بچ کر سرسبز وشاداب ہوسکے

  • آٹھ شادیاں‌کر کے 50 لاکھ کا دھوکہ کرنے والی "لٹیری دلہن”گرفتار

    آٹھ شادیاں‌کر کے 50 لاکھ کا دھوکہ کرنے والی "لٹیری دلہن”گرفتار

    شادی کے نام پر کم از کم آٹھ شادی شدہ مردوں کو اپنی محبت کے جال میں پھنسانے والی انتہائی چالاک اور مفرور خاتون سمیرا فاطمہ بالآخر گٹی کھدان پولیس کے ہاتھوں گرفتار کر لی گئی ہے۔

    پولیس کے مطابق سمیرا، جو کہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ اسکول ٹیچر بھی تھی، نے گزشتہ ڈیڑھ سال سے مختلف علاقوں میں رہنے والے مردوں کو جھانسہ دے کر ان سے لاکھوں روپے بٹورے۔ سمیرا نے سوشل میڈیا کے ذریعے خود کو طلاق یافتہ ظاہر کر کے مردوں کی ہمدردی حاصل کی اور کہا کہ وہ "دوسری بیوی بن کر رہنا چاہتی ہے”۔ اس بہانے سے وہ مردوں کو اپنی محبت میں گرفتار کرتی، پھر شادی کرتی اور جلد ہی جھگڑے شروع کر کے بلیک میلنگ شروع کر دیتی۔پولیس ذرائع کے مطابق سمیرا نے عدالتوں میں جھوٹے کیسز دائر کر کے، تصفیہ کے نام پر قیمتی رقم حاصل کی۔ غلام پٹھان نامی ایک مرد نے مارچ 2023 میں اس کے خلاف شکایت درج کروائی جس میں بتایا گیا کہ سمیرا نے 2010 سے اب تک آٹھ شادیاں کیں اور تقریباً 50 لاکھ روپے کا فراڈ کیا ہے۔

    گٹی کھدان پولیس کے پاس تقریباً 10 لاکھ روپے کے فراڈ کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ سمیرا جھوٹے الزامات لگا کر انہیں ڈراتی دھمکاتی تھی اور تصفیہ کرانے کے لیے بھاری رقم وصول کرتی تھی۔پولیس نے بتایا کہ سمیرا کی تلاش کے لیے متعدد کارروائیاں کی گئیں لیکن وہ مفرور رہی۔ تاہم، جمعے کے روز سول لائنز کے علاقے میں ایک چائے کے اسٹال پر چائے پیتے ہوئے اسے گرفتار کر لیا گیا۔گٹی کھدان پولیس اب اس کے پرانے مقدمات کی تحقیقات کر رہی ہے اور متعدد متاثرین سامنے آ چکے ہیں جنہوں نے اپنی شکایات درج کروائی ہیں۔ پولیس کو خدشہ ہے کہ سمیرا نے مزید کئی افراد کو اپنا شکار بنایا ہے جن کی جلد شناخت کر کے مقدمات درج کیے جائیں گے۔

  • نیشنل فلم ایوارڈ،شاہ رخ خان نے بھی پہلی بار جیت لیا

    نیشنل فلم ایوارڈ،شاہ رخ خان نے بھی پہلی بار جیت لیا

    بھارتی وزارت اطلاعات و نشریات نے 71ویں نیشنل فلم ایوارڈز کا باقاعدہ اعلان کیا، جس میں سال 2023 کی بہترین فلموں اور شاندار فلمی کارکردگیوں کو سراہا گیا۔ اس بار کے ایوارڈز میں بالی ووڈ کے کنگ شاہ رخ خان نے پہلی مرتبہ نیشنل ایوارڈ جیتا ہے

    شاہ رخ خان کو ان کی فلم "جوان” میں بہترین اداکار کا اعزاز دیا گیا۔ یہ ایکشن تھرلر فلم بدعنوان نظام کے خلاف جدوجہد کرنے والے ایک کردار کی کہانی پیش کرتی ہے، جس میں شاہ رخ خان کی اداکاری کو خاص طور پر سراہا گیا۔ انہیں یہ ایوارڈ وکرانت میسی کے ساتھ مشترکہ طور پر دیا گیا، جنہوں نے فلم "12ویں فیل” میں آئی پی ایس افسر منوج کمار کے کردار کو نہایت موثر اور حقیقت پسندانہ انداز میں نبھایا۔ اسی فلم کو اس سال کی بہترین فیچر فلم کا ایوارڈ بھی دیا گیا ہے۔

    فلم "مسز چٹرجی ورسز ناروے” میں ایک ہندوستانی ماں کا جذباتی اور پیچیدہ کردار ادا کرنے پر رانی مکھرجی کو بہترین اداکارہ کا ایوارڈ ملا۔ اس فلم کی کہانی ایک ماں کی ناروے میں اپنے بچوں کی تحویل کے لیے قانونی جنگ کی عکاسی کرتی ہے، جس میں ناروے کی چائلڈ ویلفیئر ایجنسی کے ساتھ اس کی جدوجہد دکھائی گئی ہے۔

    بہترین ہدایت کار کا ایوارڈ سدیپتو سین کو فلم "کیرالہ اسٹوری” کے لیے دیا گیا، جو سماجی مسائل پر مبنی ایک قابل ذکر فلم ہے۔کرن جوہر کی ہدایتکاری میں بنی فلم "راکی اور رانی کی پریم کہانی” کو بہترین تفریحی فلم کا ایوارڈ دیا گیا، جو عوام میں خاصی مقبول رہی۔سال 2023 کی متنازعہ مگر کامیاب فلم "اینمل” کو تین ایوارڈز سے نوازا گیا، جن میں اسپیشل مینشن برائے ری-ریکارڈنگ، بہترین بیک گراؤنڈ اسکور، اور بہترین ساؤنڈ ڈیزائننگ شامل ہیں۔وکی کوشل کی جنگی فلم "سم بہادر” کو قومی اور سماجی اقدار کو فروغ دینے والی بہترین فلم قرار دیا گیا۔ اس کے علاوہ اس فلم نے بہترین میک اپ اور بہترین کاسٹیوم ڈیزائن کے ایوارڈ بھی حاصل کیے۔

    علاقائی فلموں کو بھی خاص اہمیت دی گئی ہے۔تمل فلم "پارکنگ” نے بہترین تمل فلم، بہترین اسکرین پلے (رام کمار بالا کرشنن)، اور بہترین معاون اداکار (ایم ایس بھاسکر) کے تین ایوارڈز جیتے۔گزشتہ سال کنڑا فلم "کانتارا” کے لیے رشبھ شیٹی کو بہترین اداکار کا ایوارڈ دیا گیا تھا۔اس سال بہترین اداکارہ کا ایوارڈ تمل فلموں کی اداکاراؤں نیتیا مینن (فلم "تروچیترامبلم”) اور مانسی پریک (فلم "کچھ ایکسپریس”) کو مشترکہ طور پر دیا گیا۔

  • جعلی کال سنٹرز ،شہریوں کے ساتھ فراڈ،پی ٹی اے کے رجسٹریشن سے اظہار لاتعلقی

    جعلی کال سنٹرز ،شہریوں کے ساتھ فراڈ،پی ٹی اے کے رجسٹریشن سے اظہار لاتعلقی

    جعلی کال سینٹرز کے ذریعے شہریوں کیساتھ فراڈ کے کیسز ،پی ٹی اے نے کال سینٹرز، سافٹوئیر ہاوسز کی رجسٹریشن سے لاتعلقی کا اظہار کردیا

    پی ٹی اے کال سینٹرز اور سافٹوئیر ہاوسز کو ریگولیٹ نہیں کرتا، پی ٹی اے دستاویز کے مطابق سائبر کرائمز اور آن لائن فراڈ پی ٹی اے کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے،پی ٹی اے سائبر کرائمز سے متعلق آن لائن مواد کیخلاف کاروائی کرتا ہے،پی ٹی اے نے 13 ہزار سے زائد الیکٹرانک فراڈ سے متعلق لنکس بلاک کر دیے،الیکٹرانک فراڈ سے متعلق 13,185 یو آر ایل بلاکنگ کے لیے پراسیس کیے،سوشل میڈیا کمپنیوں کی جانب سے 13,021 لنکس بلاک کر دیے گئے،ایس ای سی پی، این سی سی آئی اے اور اسٹیٹ بینک کی سفارشات پر کاروائی کی گئی ،فیس بک سے متعلق رپورٹ ہونیوالے 1,357 لنکس میں سے 1,246 کو بلاک کیا گیا،47 لنکس زیر جائزہ ہیں جبکہ 64 لنکس فیس بک نے مسترد کیے،الیکٹرانک فراڈ سے متعلق 41 لنکس انسٹاگرام کو رپورٹ کیے گئے،انسٹاگرام نے 39 بلاک کیے، ایک زیر جائزہ اور ایک مسترد ہوا،یوٹیوب نے الیکٹرانک فراڈ سے متعلق 122 لنکس میں سے 99 بلاک کیے،یوٹیوب کے 8 زیر جائزہ ہیں جبکہ 15 کو پلیٹ فارم نے رد کر دیا،پی ٹی اے نے ٹوئٹر کو الیکٹرانک فراڈ سے متعلق 6 لنکس رپورٹ کیے،ٹوئٹر کو رپورٹ کیے گئے لنکس میں سے 5 بلاک کیے ، ایک زیر جائزہ ہے،

    پی ٹی اے نے دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو الیکٹرانک فراڈ کے 11,659 لنکس رپورٹ کیے ،دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے 11,632 بلاک کردیئے،پی ٹی اے کیجانب سے رپورٹ کیے گئے لنکس کی بلاکنگ کی شرح 98.76 فیصد رہی،پی ٹی اے پیکا کے تحت غیر قانونی آن لائن مواد کو ہٹاتا یا بلاک کرتا ہے،الیکٹرانک فراڈ کی تحقیقات پیکا کے تحت FIA اور NCCIA کرتے ہیں،آن لائن فراڈ سے بچاؤ کے لیے پی ٹی اے نے عوامی آگاہی جاری رکھے ہوئے ہے