Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • خیبر پختونخوا کابینہ،9مئی کیس واپس لینے کی منظوری

    خیبر پختونخوا کابینہ،9مئی کیس واپس لینے کی منظوری

    خیبرپختونخوا کابینہ نے 9 مئی کو مردان میں توڑ پھوڑ اور فائرنگ کا کیس واپس لینے کی منظوری دے دی

    خیبرپختونخوا حکومت نے پبلک پراسیکیوٹر کا تبادلہ کردیا اور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل انعام اللہ کو 9 مئی کیس کےلیےاسپیشل پراسیکیوٹرمقرر کیا گیا ہے،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کیس واپس لینےکا ایڈیشنل ہوم سیکرٹری کا خط عدالت میں جمع کرادیا جس کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت کے لیے 15 اکتوبر کی تاریخ مقررکی ہے۔

    واضح رہے کہ مردان میں 9 مئی کو پتھراؤ اور فائرنگ کے واقعات میں کارکن، راہگیراورپولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے جب کہ اس کیس کے ملزمان میں ظاہر شاہ طورو، ایم این اے مجاہد خان اور دیگرشامل ہیں۔

  • سنگاپور،جسم فروش خواتین بھی بھارتیوں سے محفوظ نہ رہیں،لوٹ مار پر دو کوسزا

    سنگاپور،جسم فروش خواتین بھی بھارتیوں سے محفوظ نہ رہیں،لوٹ مار پر دو کوسزا

    سنگاپور کی ایک عدالت نے دو بھارتی شہریوں کو جسم فروش خواتین کو لوٹنے اور ان پر تشدد کرنے کے الزام میں پانچ سال اور ایک ماہ قید کی سزا سنادی۔

    عدالتی دستاویزات کے مطابق 23 سالہ اَروکیاسامی ڈیسن اور 27 سالہ راجندرن مئیلاراسن نے جرم کا اعتراف کرلیا۔ دونوں پر لوٹ مار کے دوران دانستہ طور پر جسمانی نقصان پہنچانے کے الزامات ثابت ہوئے۔مقامی اخبار اسٹریٹس ٹائمز کے مطابق دونوں ملزمان 24 اپریل کو بھارت سے سنگاپور سیاحت کی غرض سے پہنچے تھے۔ دو روز بعد جب وہ لِٹل انڈیا کے علاقے میں گھوم رہے تھے تو ایک نامعلوم شخص نے ان سے رابطہ کیا اور پوچھا کہ کیا وہ جسمانی خدمات حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس شخص نے انہیں دو خواتین کے رابطہ نمبرز دیے اور خود وہاں سے چلا گیا۔

    اَروکیاسامی نے راجندرن کو بتایا کہ ان کے پاس پیسے نہیں ہیں اور تجویز دی کہ وہ ان خواتین کو ہوٹل کے کمرے میں بلا کر انہیں لوٹ لیں۔ راجندرن نے اس منصوبے سے اتفاق کیا۔اسی روز شام چھ بجے کے قریب انہوں نے ایک خاتون کو ہوٹل کے کمرے میں بلایا۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی دونوں نے خاتون کے ہاتھ اور پاؤں کپڑوں سے باندھ دیے اور اسے تھپڑ مارے۔انہوں نے خاتون سے زیورات، 2000 سنگاپور ڈالر نقدی، پاسپورٹ، اور بینک کارڈز چھین لیے۔اسی رات تقریباً 11 بجے، دونوں نے دوسری خاتون کو ایک اور ہوٹل میں ملنے کے لیے بلایا۔ جب وہ آئی تو ملزمان نے اسے بازوؤں سے پکڑ کر گھسیٹا اور راجندرن نے اس کا منہ بند کردیا تاکہ وہ شور نہ مچا سکے۔انہوں نے خاتون سے 800 سنگاپور ڈالر، دو موبائل فونز اور پاسپورٹ چھین لیا اور دھمکی دی کہ وہ کمرہ نہ چھوڑے ورنہ انجام برا ہوگا۔

    دوسری متاثرہ خاتون نے اگلے روز ایک شخص کو واقعے کی اطلاع دی جس کے بعد پولیس کو اطلاع دی گئی۔
    تحقیقات کے دوران دونوں ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔ عدالت میں پیشی کے دوران دونوں نے جرم تسلیم کیا اور نرمی کی اپیل کی۔

    اَروکیاسامی نے مترجم کے ذریعے عدالت کو بتایا "میرے والد گزشتہ سال وفات پا گئے، میری تین بہنیں ہیں جن میں سے ایک کی شادی ہوچکی ہے، ہمارے پاس کوئی مالی وسائل نہیں، اسی لیے یہ کام کیا۔”راجندرن نے کہا "میری بیوی اور بچہ بھارت میں اکیلے ہیں، وہ شدید مالی مشکلات میں ہیں۔”

    سنگاپور کے قانون کے مطابق اگر کوئی شخص ڈکیتی کے دوران کسی کو نقصان پہنچائے تو اسے پانچ سے بیس سال قید اور کم از کم ۱۲ کوڑوں کی سزا دی جاسکتی ہے۔عدالت نے سماعت مکمل کرنے کے بعد دونوں ملزمان کو پانچ سال ایک ماہ قید اور ۱۲ کوڑوں کی سزا سنائی۔

  • نیشنل پریس کلب پر حملے کے خلاف تمام صحافتی گروپ متحد، جوائنٹ ایکشن کمیٹی قائم

    نیشنل پریس کلب پر حملے کے خلاف تمام صحافتی گروپ متحد، جوائنٹ ایکشن کمیٹی قائم

    نیشنل پریس کلب پر حملے کے خلاف تمام صحافتی گروپ متحد، جوائنٹ ایکشن کمیٹی قائم کر دی گئی۔

    نیشنل پریس کلب میں قائم مقام صدر احتشام الحق کی سربراہی میں کمیٹی کے پہلے اجلاس میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو چارٹر آف ڈیمانڈ کی تیاری کا مینڈیٹ دیا گیا۔اجلاس میں متفقہ طور پر کمیٹی کی صدارت صدر نیشنل پریس کلب اظہر جتوئی کو سونپی گئی جبکہ سیکرٹری نیشنل پریس کلب نیر علی کو سیکریٹری کمیٹی کی زمہ داری دی گئی یے۔ کمیٹی ممبران میں صدر پی ایف یو جے افضل بٹ، صدر آر آئی یو جے طارق ورک، صدر پی ایف یو جے دستور حاجی نواز رضا، صدر آر آئی یو جے دستور رانا کوثر علی، صدر پی ایف یو جے ورکرز سعدیہ کمال اور جاوید ملک، سیکریٹری جنرل پی ایف یو جے (رانا عظیم گروپ) شکیل احمد، صدر آر آئی یو جے (رانا عظیم گروپ) طارق عثمانی، صدر آزاد گروپ شکیل قرار اور محبوب الرحمن تنولی، صدر پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن ایم بی سومرو، جنرل سیکرٹری پی آر اے نوید اکبر پر مشتمل ہو گی۔

    جوائنٹ ایکشن کمیٹی ارکان نے نیشنل پریس کلب پر حملے کے خلاف چارٹر اف ڈیمانڈ کی تیاری کے لیے اپنی تجاویز سے آگاہ کیا۔ اجلاس میں طے پایا کہ ان تجاویز کی روشنی میں چارٹر آف ڈیمانڈ کو جلد حتمی شکل دی جائیگی۔

    قبل ازیں نیشنل پریس کلب اسلام آباد پر پولیس گردی کے خلاف لاہور پریس کلب کے باہر صحافیوں کا بھرپور احتجاجی مظاہرہ سیاہ پرچم لہرائے گئے۔دور آمریت میں بھر پولیس نے پریس کلب پر حملہ نہیں کیا ۔ واقعہ کے ذمہ داران اعلیٰ پولیس حکام کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔جوڈیشل انکوائری کرائی جائے۔سیکرٹری جنرل پی ایف یو جے و صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری، صدر سی پی این ای کاظم خان، سینئر نائب صدر ایمنڈ ایاز خان، سابق صدر سی پی این ای سید ارشاد عارف، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی شریک چیئرپرسن منیرے جہانگیر، صدر پنجاب اسمبلی پریس گیلری کمیٹی خواجہ نصیر، سینئر نائب صدر پی یو جے یوسف رضا عباسی، جنرل سیکرٹری پی یو جے قمر الزمان بھٹی ، جنرل سیکرٹری پی یو جے (دستور) رحمان بھٹہ کا خطاب

    نیشنل پریس کلب اسلام آباد پر پولیس گردی کے خلاف پی ایف یوجے کی کال پر ملک بھر کی طرح لاہور پریس کلب میں بھی بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ سیاہ پرچم لہرائے گئے۔ پی ایف یوجے کے سیکرٹری جنرل ارشد انصاری ،سی پی این ای کے صدر کاظم خان ، ایمنڈ کے سینئر نائب صدر ایاز خان ،سابق صدر سی پی این ای سید ارشاد عارف ، ایچ آر سی پی کی کو چیئرپرسن منیزے جہانگیر سمیت صحافی قائدین نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طورپر نیشنل پریس کلب اسلام آباد پر پولیس گردی کے ذمہ دار اعلی پولیس حکام کے خلاف کارروائی کرے۔ سیکرٹری جنرل پی ایف یوجے و صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری نے اس واقعہ کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اگر مقدمہ درج نہ کیا گیا تو ہم اس مقدمہ کے اندارج کے لئے ہائیکورٹ میں رٹ دائر کریں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ عجیب بات ہے کہ ایک طرف اسلام آباد پولیس نیشل پریس کلب کے اندر گھس کر صحافیوں کو مارتی اور تشدد کا نشانہ بناتی ہے اور پھر وزیر مملکت طلال چودھری معافی مانگنے نیشل پریس کلب پہنچ جاتے ہیں اور غیر مشروط معافی مانگتے ہیں، انہوں نے کہا کہ اس سے زیادہ منافقت ہو نہیں سکتی،انہوں نے کہا کہ حکومت پیکا جیسے کالے قوانین کا نفاذ کر کے آزادی صحافت اور آزادی اظہار پر حملہ آوور ہے جس کے خاتمے کے لئے صحافی کھڑے ہیں،ہم لاٹھیوں اور گرفتاریوں سے گھبرانے والے نہیں، ہمارے بڑوں نے کوڑے اور قید و بند کی سزائیں برداشت کی ہیں اور ہم بھی جیل جانے اور جیل بھرو تحریک چلانے کےلئے تیار ہیں، ہم اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے باہر دھرنا دیں گے یہ بھلے ہمیں گرفتار کریں، ہتھکڑی ہمارا زیور ہے، انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے اس معاملہ کا مستقل حل نکالنے اور پیکا کے قانون کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔سی پی این ای کے صدر کاظم خان نے کہا کہ پی ایف یوجے ، سی پی این ای اور ایمنڈ سمیت تمام صحافی تنظیمیں پیکا کے کالے قانون کے خاتمہ کےلئے متحد ہیں۔ سابق صدر سی پی این ای سید ارشد عارف نے کہا کہ پریس کلب آزادی صحافت اور آزادی اظہار رائے کے ادارے ہیں،ماضی کے دور آمریت اور مارشل لاءمیں بھی پولیس کو پریس کلب پر حملہ اور گھسنے کی جرات نہیں ہوئی،انہوں نے کہا کہ اس واقعہ میں اسلام آباد پولیس کے اعلی ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے۔ ایمنڈ کے سینئر نائب صدر ایاز خان نے کہا کہ آزادی صحافت پر کوئی حملہ برداشت نہیں کیا جائے گا،اب یہ بات ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ پیکا جیسے قوانین یوٹیوبرز کے خلاف نہیں بلکہ صحافیوں کے خلاف ہیں جو کسی بھی صحافتی تنظیم کے لئے قابل قبول نہیں ۔ انسانی حقوق کمیشن پاکستان کی کو چیئرپرسن اور معروف صحافی منیزے جہانگیر نے کہا کہ نیشنل پریس کلب پر پولیس کا دھاوا ایک سنگین حملہ ہے، میڈیا کے ادارے آزادی صحافت اور آزادی اظہار کے ادارے ہیں۔مسائل کے شکار دور آمریت میں بھی عوام اپنے مسئلے پریس کلبوں میں صحافیوں کے سامنے رکھتے تھے مگر اب پولیس پریس کلب آنے والے لوگوں کو گرفتار کرنے کی آڑ میں پریس کلب پر حملہ آوور ہو جاتی ہے جو قابل برداشت نہیں ہے۔انہوں نے کہا اس افسوناک واقعہ کے خلاف پارلیمنٹ میں ایک قرار داد پاس کی جائے جس میں اس بات کی گارنٹی رکھی جائے کہ عوام کے حق اظہار اور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرنے کا پورا اختیار ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ پریس کلب ملک میں آزادی اظہار کی علامت ہیں ان پر پولیس کے حملے شہری اور انسانی حقوق پر حملے ہیں۔انہوں نے کہا ماضی میں کوئی پریس کلب پر حملہ کیا اور اسے سیل کیا گیا اور اب معاملہ نیشنل پریس کلب اسلام آباد پر حملہ کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ جس کے خلاف انسانی حقوق کمیشن پاکستان صحافی قیادت اور پی ایف یوجے کے ساتھ ہے۔ پنجاب اسمبلی پریس گیلری کے صدر خواجہ نصیر نے کہا کہ آزادی صحافت پر کسی بھی حملے کو روکنے کے لئے پنجاب اسمبلی کے تمام پارلیمانی رپورٹر اپنے قائد اور سیکرٹری جنرل پی ایف یوجے ارشد انصاری کے ساتھ کھڑے ہیں،ہم اس معاملہ میں اسمبلی کی کارروائی کے بائیکاٹ سے لے کر اسلام آباد پارلیمنٹ کے باہر دھرنے میں شرکت کے لئے تیار ہیں۔ پی یوجے کے سینئر نائب صدر یوسف رضا عباسی نے کہا کہ ہم اپنے صدر نعیم حنیف کی قیادت میں پی ایف یوجے کی اس تحریک کا ہراول دستہ ہیں، کاظم خان ، ایاز خان اور ارشد انصاری ہمیں اس جدوجہد کے حوالے سے جو ذمہ داری دیں گے ہم اس پر عمل کریں گے۔ پی یوجے ( دستور ) کے جنرل سیکرٹری رحمان بھٹہ نے کہا کہ کسی ایک صحافی اور صحافتی ادارے پر حملہ پوری صحافی کمیونٹی پر حملہ ہے اور اس معاملہ میں پی یوجے ( دستور ) اپنی صحافی برداری کے ساتھ کھڑی ہے۔ پی یوجے کے جنرل سکریٹری قمرالزمان بھٹی نے کہا کہ دنیا بھر میں عدالتیں اور پریس کلب ہی دو ایسے ادارے ہیں جہاں لوگ اپنے مسائل کے حل کے لئے جاتے ہیں اگر کوئی شہری یا شہری تنظیمیں یا مظاہرین کسی مسئلہ پر پریس کلب جاتے ہیں تو پولیس کا یہ کام نہیں کہ انہیں گرفتار کرنے کے نام پر پریس کلب پر حملہ کیا جائے اور انہیں کوریج دینے والے صحافیوں کو مار جائے، انہوں نے اس افسوناک واقعہ کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔ احتجاجی مظاہرے کے موقع پر جماعت اسلامی لاہور کے جنرل سیکرٹری قیصر شریف ، مرکزی مسلم لیگ کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات تابش قیوم ،،پاکستان کسان اتحاد ( خالد کھوکھر ) کے ترجمان سعید جعفر ڈوگر ، سینئر صحافی رئیس انصاری ، پی ایف یوجے کے ممبر ایف ای سی شفیق اعوان ، اعجاز مقبول ، پی یوجے کے نائب صدر ندیم زعیم ، لاہور پریس کلب کے سینئر نائب صدر افضال طالب ، جوائنٹ سیکرٹری عمران شیخ، خزانچی سالک نواز ،، ممبران گورننگ باڈی سید بدر سعید، سرمد فرخ خواجہ، رانا شہزاد احمد، شاہدہ بٹ،سول سوسائٹی کے رہنما شیخ سلطان ، سینئر صحافی رفیق خان ، امجد عثمانی ، انیس گل ، ، شعیب سلیم ، منصور بخاری ، صلاح الدین بٹ ، عامر سلامت ، سید شاکر علی ، جاوید ہاشمی، سعید لودھی ، حارث مرغوب ، عامر نوید چودھری ، خالد قیوم ، ظہیر شہزاد ،ذالفقار علی مہتو، عطیہ زیدی ، فراز فاروقی ، عمر شریف ، عمر حفیظ ، محمد علی ،محسن بلال ، جمال احمد، عدنان شیخ ، ظہیر شیخ ، جمیل شیخ ،محسن اکرم ،غضنفر اعوان ، مجتبیٰ باجوہ ، ڈاکٹر شجاعت حامد، عندلیب اسد سمیت صحافیوں کی کثیر تعداد شریک ہوئی۔ اس موقع پر صحافیوں نے آزادی صحافت کے حق اور پولیس گردی کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

  • روہت شرما سے ون ڈے ٹیم کی کپتانی واپس ،شبمن گل نئے کپتان مقرر

    روہت شرما سے ون ڈے ٹیم کی کپتانی واپس ،شبمن گل نئے کپتان مقرر

    نئی دہلی: بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے قومی ون ڈے ٹیم کی قیادت میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے تجربہ کار بلے باز روہت شرما کو کپتانی سے ہٹا دیا ہے۔ ان کی جگہ نوجوان اوپنر شبمن گل کو بھارت کی ون ڈے ٹیم کا نیا کپتان مقرر کردیا گیا ہے۔

    بورڈ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق شبمن گل اب ون ڈے ٹیم کے ساتھ ساتھ ٹیسٹ ٹیم کی قیادت بھی سنبھالیں گے۔ شبمن گل کی بطور کپتان تقرری کو بھارتی کرکٹ میں نسلِ نو کی قیادت کی شروعات قرار دیا جارہا ہے۔

    واضح رہے کہ روہت شرما بھارتی ٹیم کے مختلف فارمیٹس میں قیادت کرتے آرہے تھے اور ان کی کپتانی میں بھارت نے کئی اہم کامیابیاں حاصل کیں، تاہم حالیہ عرصے میں کارکردگی میں تسلسل نہ رہنے اور نئے ٹیلنٹ کو قیادت کے مواقع فراہم کرنے کے فیصلے کے تحت بی سی سی آئی نے یہ تبدیلی کی ہے۔بی سی سی آئی نے اس موقع پر آسٹریلیا کے خلاف آنے والی ون ڈے سیریز کے لیے 15 رکنی اسکواڈ کا بھی اعلان کیا ہے۔ اسکواڈ میں اگرچہ روہت شرما اور ویرات کوہلی کو شامل رکھا گیا ہے، مگر دونوں سینئر کھلاڑیوں کو بطور کھلاڑی میدان میں اتارا جائے گا، نہ کہ قیادت کے کردار میں۔

  • بالاج قتل کیس کے ملزم طیفی بٹ کی گرفتاری کیسے ہوئی

    بالاج قتل کیس کے ملزم طیفی بٹ کی گرفتاری کیسے ہوئی

    امیر بالاج قتل کیس کے مرکزی ملزم طیفی بٹ کی دبئی سے گرفتاری کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔

    پولیس کے مطابق طیفی بٹ کو دبئی میں ایک دعوت کے دوران گرفتار کیا گیا، دبئی میں محکمہ پولیس کے ایکسٹراڈیشن سیل کے ڈی ایس پی پہلے سے تقریب میں موجود تھے، ڈی ایس پی خالد وریا 2 اشتہاری ملزمان کی گرفتاری کے لیے دبئی گئے تھے،ڈی ایس پی خالد وریا نے اشتہاری ملزمان کی گرفتاری کے لیے دبئی پولیس کے ساتھ کارروائی کی، بالاج قتل کیس کا مرکزی ملزم طیفی بٹ بھی اسی فلیٹ میں دعوت پر موجود تھا ،پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ طیفی بٹ ابھی دبئی پولیس کی حراست میں ہے، طیفی بٹ کی ریڈ وارنٹ کے تحت گرفتاری اور پاکستان روانگی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے،ذرائع کا بتانا ہے کہ ویزا معیاد ختم ہونے پر طیفی بٹ ویزے کی تجدید کے لیے دبئی آیا تھا۔

    خیال رہے کہ فروری 2024 میں ٹیپو ٹرکاں والا کے بیٹے امیر بالاج کو شادی کی ایک تقریب میں فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا،تھانہ چوہنگ پولیس نے امیر بالاج کے قتل کا مقدمہ درج کیا تھا جس میں خواجہ تعریف گلشن عرف طیفی بٹ اور عقیل عرف گوگی بٹ کو نامزد کیا گیا تھا۔ مقدمے کا مرکزی ملزم احسن شاہ پولیس مقابلے میں مارا گیا تھا تاہم طیفی بٹ ملک سے فرار ہو گیا تھا۔

  • خضدار، فتنہ الہندوستان کے 14 سے زائد دہشت گرد ہلاک ، 20 سے زائد زخمی

    خضدار، فتنہ الہندوستان کے 14 سے زائد دہشت گرد ہلاک ، 20 سے زائد زخمی

    فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد مسلسل ناکامیوں کے باعث بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکے ہیں.

    سیکیورٹی فورسز نے خضدار کے علاقے زہری میں پرامن لوگوں کو ہراساں کرنے کی کوشش ناکام بنا دی ،سیکیورٹی فورسز نے آپریشن کے دوران دہشتگردوں کے متعدد ٹھکانوں کو کامیابی سے تباہ کیا ، خضدار میں آپریشن کےدوران فتنہ الہندوستان کے 14 سے زائد دہشت گرد ہلاک ، 20 سے زائد زخمی ہو گئے،اطلاعات کے مطابق فتنہ ہندوستان مسلسل ناکامیوں کے باعث بوکھلاہٹ کا شکار ہو رہا ہے

    خضدار کے علاقے زہری کے عوام نے سیکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن کو بھرپور سراہا،خضدار کے عوام نےدہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے پر خوشی کا اظہار کیا،پاک فوج کے حق میں نعرے لگائے،سیکیورٹی فورسز عوام کے تحفظ کے لیے فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے خاتمے کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں،سیکیورٹی فورسز عوام کے تعاون سے فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کا قلع قمع کریں گی

  • سدرہ بی بی قتل فتویٰ،جرگہ سربراہ کی درخواست ضمانت مسترد

    سدرہ بی بی قتل فتویٰ،جرگہ سربراہ کی درخواست ضمانت مسترد

    راولپنڈی کے تھانہ پیرودھائی کی حدود میں غیرت کے نام پر 17 سالہ سدرہ بی بی قتل کیس میں قتل کا فتویٰ دینے والے جرگہ سربراہ سیف الرحمان خان کی درخواست ضمانت مسترد کردی گئی۔

    عدالت نے سیکریٹری قبرستان راشد محمود کی ضمانت درخواست بھی مسترد کردی، عدالت نے کہا کہ مسلم لیگی راہنما سیف الرحمان مرکزی ملزم نے قتل کا فتوی دیا، قتل کا فتویٰ دینا غیر قانونی، غیر آئینی اور جرم ہے،عدالت نے کہا کہ ملزم سیکریٹری قبرستان نے تدفین ریکارڈ میں ٹمپرنگ کی، دونوں بادی النظر میں قتل کے براہ راست زمہ دار ملزمان ہیں، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج فرحت جبیں نے فیصلہ سنا دیا، تھانہ پیرودھائی پولیس نے 21 جولائی کو مقدمہ درج کیا اور ڈیڈ باڈی برآمد کی، تمام ملزمان کے خلاف چالان عدالت پیش کر دیا گیا،عدالت نے فرد جرم عائد کرنے کے لئے تمام ملزمان کی اڈیالہ جیل سے طلبی کرلی۔

  • عمران ریاض کے پیکا ایکٹ کے تحت وارنٹ گرفتاری جاری

    عمران ریاض کے پیکا ایکٹ کے تحت وارنٹ گرفتاری جاری

    عمران ریاض خان کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت وارنٹ گرفتاری جاری

    اسلام آباد کی مقامی عدالت نے معروف صحافی اور ولاگر عمران ریاض خان کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں وارنٹ گرفتاری جاری کردیے ہیں۔ذرائع کے مطابق، جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ نے یہ احکامات اُس مقدمے میں جاری کیے ہیں جو عمران ریاض خان پر جج ہمایوں دلاور کے خلاف مبینہ سوشل میڈیا مہم چلانے کے الزام میں درج کیا گیا تھا۔اطلاعات کے مطابق، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے عمران ریاض خان کے خلاف جمع شدہ شواہد اور شکایات کی بنیاد پر عدالت سے وارنٹ گرفتاری حاصل کیے۔ عدالت کے حکم کے بعد ایجنسی نے عمران ریاض خان کی گرفتاری کے لیے کارروائی تیز کردی ہے۔

  • امن معاہدہ،حماس کا جواب، پاکستان کا خیر مقدم

    امن معاہدہ،حماس کا جواب، پاکستان کا خیر مقدم

    پاکستان کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے پر فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے جواب کا خیر مقدم کیا گیا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ یہ موقع غزہ میں یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے لیے اہم ہے، غزہ میں انسانی ہمدردی کی امداد کی بلاتعطل ترسیل یقینی بنانا ضروری ہے، اسرائیل کو فوری طور پر حملے بند کرنے چاہئیں، پاکستان نے صدر ٹرمپ کی امن کوششوں کو سراہا، امید ہے یہ کوششیں دیرپا جنگ بندی اور مستقل امن کی راہ ہموار کریں گی، پاکستان تعمیری اور بامعنی کردار ادا کرتا رہے گا، پاکستان فلسطینی عوام کی جائز جدوجہد کی حمایت کرتا ہے، پاکستان ایک خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے، فلسطینی ریاست کی بنیاد 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر ہونی چاہیے، القدس الشریف فلسطینی ریاست کا دارالحکومت ہو۔

  • پولیو  قطرے نہ پلوانے والوں کی سمزبند ،شناختی کارڈ معطل کرنے کا سوچ رہے،وزیراعلیٰ سندھ

    پولیو قطرے نہ پلوانے والوں کی سمزبند ،شناختی کارڈ معطل کرنے کا سوچ رہے،وزیراعلیٰ سندھ

    سندھ میں پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کرنے والے والدین کے خلاف کارروائی پر غور کیا جارہا ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے جمعہ کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں پولیو کے خاتمے سے متعلق اجلاس کی صدارت کی جس دوران انہوں نے کہا کہ میرے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا، سوائے اس کے کہ ان لوگوں کو سزا دوں جو پولیو کے خاتمے کی اپنی قومی ذمہ داری سے پہلو تہی کرتے ہیں، ایسے والدین کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے جو اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کرتے ہیں جن میں ان کے موبائل فون کی سمز بند کرنا، قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ معطل کرنا شامل ہے تاکہ وہ مواصلاتی اور سفری سہولتوں سے محروم رہیں،وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے وزیراعلیٰ ہاؤس میں پولیو ویکسین انکار سیل قائم کرنے کا حکم دیا۔