Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ریلوے ٹریک پر دھماکہ ریاستی امن و امان کے لیے خطرہ ہے، شازیہ مری

    ریلوے ٹریک پر دھماکہ ریاستی امن و امان کے لیے خطرہ ہے، شازیہ مری

    پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کی مرکزی ترجمان شازیہ مری نے شکارپور میں جعفر ایکسپریس کو نشانہ بنانے والے ریلوے ٹریک دھماکے کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے اس واردات کو نہ صرف قابل مذمت بلکہ افسوسناک بھی قرار دیا ہے۔

    شازیہ مری نے کہا کہ ریلوے نظام کو نشانہ بنانا دراصل عوام کی زندگیوں سے کھیلنے کے مترادف ہے کیونکہ ریلوے پاکستان کے اہم ترین رابطہ نظام میں سے ایک ہے جو لاکھوں مسافروں کو روزانہ سفر فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حملے نہ صرف ریاست کے امن و امان کے لیے خطرہ ہیں بلکہ ملک کی ترقی میں بھی رکاوٹ ہیں۔مرکزی ترجمان نے مطالبہ کیا کہ اس واردات کے ذمہ دار عناصر کو فوری گرفتار کر کے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔ شازیہ مری نے اس بات پر زور دیا کہ ریلوے ٹریک پر حملے میں ملوث افراد انسانیت کے دشمن ہیں اور انہیں کیفر کردار تک پہنچانا ناگزیر ہے۔انہوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ وہ اس واقعہ کی مکمل تحقیقات کر کے ذمہ داروں کو بے نقاب کریں اور اس قسم کے حملوں کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کریں تاکہ عوام کا سفر محفوظ بنایا جا سکے۔

  • بارشوں سے متاثرہ اضلاع میں مرکزی مسلم لیگ کے میڈیکل کیمپ،خشک راشن تقسیم

    بارشوں سے متاثرہ اضلاع میں مرکزی مسلم لیگ کے میڈیکل کیمپ،خشک راشن تقسیم

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام بارشوں سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، متاثرین میں خشک راشن کی تقسیم ،میڈیکل کیمپ میں مریضوں کا علاج معالجہ کیا گیا،چیئرمین خدمت خلق مرکزی مسلم لیگ شفیق الرحمان وڑائچ ریلیف آپریشن کی خود نگرانی کرتے رہے.

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام بارشوں سے متاثرہ اضلاع گلگت بلتستان،چکوال،راولپنڈی ،جہلم میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں،مرکزی مسلم لیگ گلگت زون شعبہ خدمت خلق کی طرف سے سیلاب متاثرین میں لاکھوں روپے مالیت کا خشک راشن تقسیم کیا گیا، خشک راشن میں آٹا ،چینی، ڈالڈا گھی،چائے کی پتی ، بسکٹ وغیرہ شامل تھے،
    چلاس گلگت اور ملحقہ علاقوں میں حالیہ شدید بارشوں کے باعث آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد ریسکیو آپریشن کے ساتھ ساتھ میڈیکل کیمپ کا بھی آغاز کر دیا گیا ہے،میڈیکل کیمپ میں مریضوں کا طبی معائنہ کیا گیا اور مفت ادویات بھی دی گئیں،

    مرکزی مسلم لیگ چکوال کے زیر اہتمام بارش سے متاثرہ علاقے یونین کونسل چوآ گنج علی شاہ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا،میڈیکل کیمپ کے مہمانِ خصوصی جنرل سیکرٹری مرکزی مسلم لیگ چکوال عبداللہ نثار اعوان نے میڈیکل کیمپ کا معائنہ کیا اور متاثرین سے ملاقات کی، میڈیکل کیمپ میں 7 رکنی ڈاکٹرز کی ٹیم، جن میں 3 لیڈی ڈاکٹرز شامل تھیں، نے مریضوں کا فری معائنہ کیا، اور مفت ادویات فراہم کیں، اس موقع پر متاثرین میں پکاپکایا کھانا بھی تقسیم کیا گیا

  • معیشت کی ڈیجیٹائزیشن سے   شفافیت کے فروغ میں مدد ملے گی ،وزیراعظم

    معیشت کی ڈیجیٹائزیشن سے شفافیت کے فروغ میں مدد ملے گی ،وزیراعظم

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت کیش لیس و ڈیجیٹل اکانومی کے حوالے سے اقدامات پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس ہوا.

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ معیشت کی ڈیجیٹائزیشن سے شفافیت کے فروغ میں مدد ملے گی ،وفاقی حکومت کی ڈیجیٹائزیشن ٹرانسفاریشن پلان کی بنیادی اساس عوام کو بغیر اضافی اخراجات کے سہولت بہم پہنچانا ہے، حکومت پالیسی اقدامات سے ڈیجیٹل ادائیگیوں اور رقوم کی ڈیجیٹل منتقلی کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے،وفاقی حکومت ڈیجیٹائزیشن ٹرانسفارمیشن پلان پر موثر اور جامع عمل درامد کے لیے صوبائی حکومتوں سے بامعنی مشاورت کرے،معیشت کی ڈیجیٹایزیشن اور کیش لیس اکانومی کے حوالے سے تمام صوبائی حکومتیں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کی حکومتیں وفاقی حکومت سے بھرپور تعاون کریں،صوبائی حکومت اور صوبائی اداروں کے تعاون سےوفاقی حکومت کے ڈیجیٹائزیشن ٹرانسفارمیشن پلان کو مزید مستعد بنایا جائے تاکہ اہداف مقررہ وقت میں حاصل کیے جا سکیں،تمام اسٹیک ہولڈرز سے بامعنی مشاورت کو اس پلان کا مستقل حصہ بنایا جائے

    اجلاس کو معیشت کی ڈیجیٹائزیشن کے حوالے سے پیشرفت پر بریفنگ دی گئی، بتایاگیا کہ نیشنل ڈیجیٹل کمیشن اور پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے اور اس حوالے سے ضروری رولز بنائے جا چکے ہیں،پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کے چیئرپرسن اور ممبران کی تعیناتی کا عمل آخری مراحل میں ہے،ڈیجیٹل کے حوالے سے مرچنٹ آن بورڈنگ فریم ورک کا اجراء 25 جولائی، 2025 کو کر دیا گیا ہے ،اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ ، وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ ، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، چاروں صوبوں، گلگت بلتستان ، آزاد جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹریز ، اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کے چیف کمشنر اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی ۔

  • رجب بٹ کے قریبی ساتھیوں کی نازیبا ویڈیوز لیک

    رجب بٹ کے قریبی ساتھیوں کی نازیبا ویڈیوز لیک

    پاکستان کے معروف اور ہمیشہ تنازعات کا شکار رہنے والے ٹک ٹاکر رجب بٹ ایک بار پھر خبروں کی زینت بن گئے ہیں، مگر اس بار معاملہ نہایت سنگین نوعیت اختیار کر گیا ہے۔ رجب بٹ کے قریبی دوستوں کی قابلِ اعتراض اور مبینہ برہنہ ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہیں، جنہوں نے صارفین کو شدید حیرت اور غصے میں مبتلا کر دیا ہے۔

    وائرل ہونے والی ان ویڈیوز میں حیدر شاہ، مان ڈوگر اور شہزی جیسے ٹک ٹاکرز شامل ہیں، جو رجب بٹ کے نہایت قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔ یہ ویڈیوز مکمل طور پر برہنگی پر مبنی ہیں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، خصوصاً ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور ایکس (ٹوئٹر) پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق رجب بٹ اور ان کے دوستوں کا کہنا ہے کہ ان کا موبائل ڈیٹا ہیک کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق، یہ ویڈیوز کسی نامعلوم فرد نے موبائل فونز سے ہیک کر کے لیک کی ہیں۔ تاہم سوشل میڈیا صارفین نے اس دعوے پر سوال اٹھائے ہیں "اگر ویڈیوز موبائل میں موجود تھیں تو آخر بنائی ہی کیوں گئیں؟ کیا یہ ذاتی تفریح کا معاملہ ہے یا کسی مخصوص مقصد کے تحت بنائی گئی تھیں؟”

    بعض صارفین کا دعویٰ ہے کہ ایک لیک شدہ ویڈیو میں حیدر شاہ ویڈیو کال پر جس شخص کو جسم دکھا رہے ہیں وہ رجب بٹ خود ہو سکتے ہیں۔ اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو معاملہ صرف پرائیویسی کی خلاف ورزی کا نہیں بلکہ اخلاقی گراوٹ کا بھی بن جاتا ہے۔

    رجب بٹ کی ذاتی زندگی بھی اس اسکینڈل کے ساتھ ایک مرتبہ پھر زیرِ بحث آ گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، رجب بٹ کا معروف ٹک ٹاکر زارا ملک کے ساتھ قریبی تعلق ہے اور افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ وہ دبئی میں زارا کے ساتھ ہی رہائش پذیر ہیں۔ سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز اور تصاویر میں دونوں کو ایک جیسے کپڑوں میں، تقریبات میں ایک ساتھ اور خاص طور پر قوالی نائٹ میں ساتھ دیکھا گیا ہے۔ اس تمام معاملے میں سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ رجب بٹ کی بیوی ایمان اس وقت حاملہ ہیں، اور صارفین کا الزام ہے کہ رجب اپنی بیوی کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ ان الزامات نے عوامی ردعمل کو مزید شدید کر دیا ہے، اور بہت سے صارفین نے رجب بٹ کو "منافقت کی علامت” قرار دیا ہے۔

    یہ نیا اسکینڈل نہ صرف رجب بٹ بلکہ پاکستانی ٹک ٹاک کمیونٹی کی ساکھ کے لیے بھی ایک بڑا دھچکہ ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا قانونی ادارے اس واقعے کی تحقیقات کریں گے یا معاملہ صرف سوشل میڈیا کی حد تک ہی محدود رہے گا۔

  • آپریشن سندور کی ناکامی کے بعد بھارت کی جانب سے آپریشن مہادیو کے نام سے نیا ڈرامہ

    آپریشن سندور کی ناکامی کے بعد بھارت کی جانب سے آپریشن مہادیو کے نام سے نیا ڈرامہ

    آپریشن سندور کی ناکامی کے بعد بھارت کی جانب سے آپریشن مہادیو کے نام سے نیا ڈرامہ سامنے آ گیا

    سرینگر میں بھارتی قابض فوج نے تین کشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیا اور دعویٰ کیا کہ خفیہ اطلاع پر کاروائی کی گئی، اس آپریشن کو آپریشن مہادیو کا نام دیا گیا،بھارتی فوج کی جانب سے آپریشن میں شہید ہونے والے افراد کی ابھی تک شناخت کا عمل مکمل نہیں ہوا تھا کہ بھارتی میڈیا نے ان افراد کو پاکستانی قرار دے دیا، کیا اب بھارت پھر کوئی فالس فلیگ آپریشن کی تیاری کر رہا ہے،بھارت کی پارلیمنٹ میں‌مودی سرکار سے اپوزیشن جماعتیں آپریشن سندور کی ناکامی پر جواب مانگ رہی تھیں،ایسے میں سرینگر میں جعلی مقابلے میں تین کشمیریوں کو شہید کر کے پاکستانی اور دہشت گرد قرار دینا بھارت کی نئی چال ہے.

    بھارتی میڈیا یہ بھی دعویٰ کر رہا ہے کہ پہلگام ڈرامے میں ملوث افراد کو بھارتی فوج نے مارا ہے، تاہم بھارتی میڈیا کے جھوٹے دعووں کو سچ کیسے مانا جائے، ابھی تک مارے جانے والے افراد کی بھارتی سیکورٹی اداروں کی جانب سے کوئی شناخت ظاہر نہیں کی گئی، اگر پہلگام حملے میں ملوث افراد مارے گئے تو انکی شناخت کو بھارت کو سامنے لانا چاہئے.

    فوج کی چنار کور نے اپنے آفیشل ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر تصدیق کی ہے کہ ’’تین دہشت گردوں کو ایک شدید فائرنگ کے تبادلے میں مار دیا گیا ہے۔ آپریشن تاحال جاری ہے۔‘‘

    بھارتی میڈیا کے مطابق یہ آپریشن بھارتی فوج، سینٹرل ریزرو پولیس فورس (CRPF) اور جموں و کشمیر پولیس کے درمیان قریبی اشتراک کا نتیجہ تھا۔ سیکورٹی ذرائع کے مطابق مارے گئے تینوں افراد "ہائی ویلیو” ٹارگٹ تھے اور ان کی سرگرمیوں پر طویل عرصے سے نظر رکھی جا رہی تھی۔واقعے کے بعد علاقے میں اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے اور ایک مکمل سرچ اور کومبنگ آپریشن جاری ہے تاکہ ممکنہ طور پر چھپے ہوئے دیگرافراد کو تلاش کیا جا سکے۔ سیکیورٹی فورسز نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر داخلی اور خارجی راستے بند کر دیے ہیں۔

  • حقیقی کامیابی کیلئے والدین کی عزت،اساتذہ کا احترام بے ضروری ہے،سبیل اکرام

    حقیقی کامیابی کیلئے والدین کی عزت،اساتذہ کا احترام بے ضروری ہے،سبیل اکرام

    معروف سیاسی و سماجی رہنما ڈاکٹر سبیل اکرام نے میٹرک امتحانات میں شاندار کامیابی اور نمایاں پوزیشنز حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات، ان کے والدین اور اساتذہ کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی ہے۔ انھوں نے کہا حقیقی کامیابی کےلئے والدین کی عزت اور اساتذہ کا احترام بے ضروری ہے ۔ نوجوان نسل ملک کا روشن مستقبل اور بہترین سرمایہ ہے، جو اپنی محنت، استقامت اور صلاحیتوں کے ذریعے وطن عزیز کا نام روشن کر رہی ہے۔ یہ نتیجہ نہ صرف طلبہ کی محنت کا ثمر ہے بلکہ والدین اور اساتذہ کی مسلسل رہنمائی اور دعاﺅں کا بھی نتیجہ ہے۔انھوں نے امتحانات میں کامیاب ہونے والے تمام طلبہ و طالبات کو نصیحت کی کہ وہ اپنی کامیابی پر اللہ کا شکر ادا کریں اور مستقل مزاجی و دیانت سے اپنے تعلیمی سفر کو جاری رکھیں۔آج کے نوجوانوں کا المیہ یہ ہے کہ وہ محنت کی بجائے کامیابی کےلئے شارٹ کٹ کی تلاش میں رہتے ہیں جبکہ دنیا میں حقیقی کامیابی کےلئے کوئی شارٹ کٹ ماسوائے محبت کے ۔لہذا میں نوجوانوں کو نصیحت کروں گا کہ وہ محنت کرے والدین کی عزت کریں اور اساتذہ کا احترام کریں۔ آج کے یہ کامیاب نوجوان مستقبل میں پاکستان کی قیادت، تعمیر اور ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔ “یقیناً یہ وقت نہ صرف طلبہ و طالبات کے لیے بلکہ ان کے والدین اور اساتذہ کے لیے بھی بے حد فخر کا لمحہ ہے۔ جدید دنیا میں تعلیمی کامیابیاں نوجوانوں کے سوچنے سمجھنے کے انداز اور صلاحیتوں کو جلا بخشتی ہیں، اس لیے مثبت سوچ اور اخلاقی اقدار کے ساتھ آگے بڑھنا ناگزیر ہے۔انہوں نے خصوصی طور پر ان تمام والدین اور اساتذہ کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے مشکل حالات میں بھی اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت پر توجہ دی۔ امید ظاہر ہے یہ ہونہار نوجوان آئندہ بھی محنت کا سفر جاری رکھیں گے اور مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ جدید علم، ہنر اور اعلیٰ اخلاق کے ساتھ کریں گے ۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ کامیاب طلبہ و طالبات کو مزید کامیابیاں اور کامرانی نصیب فرمائے اور یہ پاکستان کے تابناک مستقبل کے علمبردار ثابت ہوں۔

  • جعفر ایکسپریس شکار پور  کے قریب  حادثے کا شکار

    جعفر ایکسپریس شکار پور کے قریب حادثے کا شکار

    پشاور سے کوئٹہ جانے والی جعفر ایکسپریس شکار پور کے قریب حادثے کا شکار ہو گئی ہے.

    ڈی ٹی او پاکستان ریلویز کے مطابق سلطان کوٹ کے قریب ریلوے ٹریک پر دھماکا ہوا ،دھماکےکی وجہ سے مسافر ٹرین کی تین بوگیاں ٹریک سے اتر گئیں ،حادثے کے نتیجے میں ایک مسافر زخمی ہوا ہے ،ٹریک کو بھی نقصان پہنچا ہے،زخمی کو طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئی ہیں اور حادثے کا جائزہ لیا جا رہا ہے.

  • نوشہروفیروز: مبینہ زیادتی کا شکار لڑکی جرگہ فیصلے کے انتظار میں پراسرار طور پر جاں بحق

    نوشہروفیروز: مبینہ زیادتی کا شکار لڑکی جرگہ فیصلے کے انتظار میں پراسرار طور پر جاں بحق

    سندھ کے ضلع نوشہروفیروز کے علاقے محبت ڈیرو میں مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بننے والی لڑکی، جو فیصلے کے لیے وڈیرے کے پاس لے جائی گئی تھی، پراسرار طور پر انتقال کر گئی۔ اس واقعے نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے اور انسانی حقوق کے حلقوں میں شدید تشویش کا باعث بن گیا ہے۔

    ڈی ایس پی نوشہروفیروز کے مطابق دو ہفتے قبل لڑکی کے ساتھ مبینہ زیادتی کا واقعہ پیش آیا تھا، جس کے بعد فریقین روایتی پنچایت (جرگہ) کے ذریعے فیصلہ کروانے کے لیے مقامی وڈیرے کے پاس گئے۔ ڈی ایس پی نے بتایا کہ جرگے کے فیصلے تک متاثرہ لڑکی کو وڈیرے کے گھر پر رکھا گیا تھا۔پولیس حکام کے مطابق لڑکی کی نانی نے اپنی پوتی کی موت پر شدید ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے قریبی رشتہ داروں پر قتل کا الزام عائد کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابھی تک لڑکی کی موت کی وجوہات واضح نہیں ہو سکیں، اور اصل حقائق پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی معلوم ہوں گے۔

    انسانی حقوق کے کارکنوں اور سماجی تنظیموں نے اس واقعے پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جرگہ یا وڈیرے کے نظام کے ذریعے انصاف کے بجائے اکثر متاثرین کو مزید اذیت اور ظلم کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس سے پہلے بھی بلوچستان کے علاقے سنجیدی ڈیگاری اور راولپنڈی کے پیر ودھائی میں دو خواتین کو جرگے کے فیصلوں کے نتیجے میں قتل کیے جانے کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔پولیس نے لڑکی کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا ہے اور ابتدائی تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ ڈی ایس پی کے مطابق تمام زاویوں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں، اور کسی کو بھی قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔

  • مودی کا "میک اِن انڈیا” کا نعرہ، مگر میدان میں روسی ملبہ اور "بھارتی جگاڑ کلچر” کا راج

    مودی کا "میک اِن انڈیا” کا نعرہ، مگر میدان میں روسی ملبہ اور "بھارتی جگاڑ کلچر” کا راج

    مودی کی دفاعی خود انحصاری کا کھوکھلا نعرہ، ناقص پالیسیوں کی بدولت بھارت دفاعی بحران کا شکار ہے

    بھارت کا دفاعی نظام زوال پذیر، 62 سال پرانے جنگی جہازوں پر انحصارکیا جا رہا ہے، مودی کے میک اِن انڈیا کی قلعی کھل گئی، سوویت دور کے مگ 21 جنگی طیاروں پر آج بھی انحصار کیا جا رہا ہے،مودی کا دفاعی ماڈل فیل ,میک اِن انڈیا نہ ہتھیار لا سکا، نہ پرانا نظام بدل سکا , صرف ایک کھوکھلا سیاسی نعرہ ثابت ہوا ، دی وائر کی رپورٹ کے مطابق "میگ 21 کے آخری اسکواڈرن کی ریٹائرمنٹ تقریب 19 ستمبر کو چندی گڑھ میں منعقد ہوگی”بھارتی فوج کی "جگاڑ” سے مگ 21 طیارے 62 سال تک چلتے رہے ،جگاڑ بھارتی فوج کی منفرد ثقافت ہے جس میں فوری حل، جدت، اور انجینئرنگ کے طریقے شامل ہیں، اب تک بھارت میں تقریباً 450 MiG-21 طیارے حادثات کا شکار ہو چکے ہیں، جن میں 170 سے زائد پائلٹ جاں بحق ہوئے، بھارتی میڈیا میں MiG-21 کو ‘اڑتا ہوا تابوت’ اور ‘بیوائیں بنانے والا’ جیسے نام دیے گئے ہیں،تحقیقات سے معلوم ہوا کہ حادثات کی وجوہات میں پائلٹ کی غلطی کے ساتھ پرانے جہاز، انجن کی خرابی، اور بوسیدہ ٹیکنالوجی شامل ہیں ،حادثات کے باوجود MiG-21 طیارے صرف مجبوری کے تحت چلائے گئے تاکہ اسکواڈرن کی تعداد برقرار رکھی جا سکے.مقامی لڑاکا طیاروں میں تاخیر اور متبادل کی سست خریداری نے MiG-21 کی تکنیکی عمر بڑھا کر اسے اصل صلاحیت سے کہیں زیادہ کاموں پر مجبور کیا .مگ-21 کی طویل سروس کی اہم وجہ مقامی لائٹ کمبیٹ ایئرکرافٹ (LCA) منصوبے میں مسلسل تاخیر تھی، جو 1983 میں اس کی جگہ لینے کے لیے شروع کیا گیا تھا، عارضی حل کے طور پر 1990 کی دہائی کے آخر میں 125 MiG-21 ‘Bis’ طیارے کو ‘Bison’ معیار تک اپ گریڈ کیا گیا، جس میں بھارتی، روسی، فرانسیسی اور اسرائیلی ریڈار و ایویونکس شامل کیے گئے ،اپ گریڈ شدہ MiG-21 Bison طیارے ستمبر میں آخرکار ریٹائر کیے جا رہے ہیں، جس سے بھارتی فضائیہ کے اسکواڈرنز کی تعداد 29 رہ جائے گی ،یہ کمی مجاز 42.5 اسکواڈرنز کی سطح سے کہیں کم ہے، جو آپریشنل کارکردگی پر بڑھتے دباؤ کو ظاہر کرتی ہے

    مودی سرکار کا "میک اِن انڈیا” صرف میڈیا گِمک ہے زمینی حقائق صفر ہیں ، مودی حکومت کی دفاعی پالیسی میں سنگین ناکامیاں سامنے آ گئیں،ڈیڑھ دہائی پرانا LCA منصوبہ اب تک صرف فائلوں میں قید ہے،بھارتی فوج کا "جگاڑ کلچر” قومی سلامتی پر سوالیہ نشان بن چکا ہے

  • بی جے پی کی ریاستی حکومتوں میں بنگالی شہری ظلم و جبر کا شکار

    بی جے پی کی ریاستی حکومتوں میں بنگالی شہری ظلم و جبر کا شکار

    انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے نے بی جے پی کی سرپرستی میں بنگالیوں کی نسل کشی کا پول کھول دیا

    وزیرِ اعلیٰ بنگال ممتا بینرجی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر مودی سرکار کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا،ممتا بینرجی نے ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کا حوالہ دے کر بنگالیوں پر بی جے پی کے ظلم کی تصدیق کر دی کہا،انسانی حقوق کے ادارے نے اپنی رپورٹ میں وہی بات کہی جو ہم برسوں سے دہرا رہے ہیں، ہیومن رائٹس واچ کے مطابق بھارتی شہری بھی صرف بنگالی زبان کی بنیاد پر نشانہ بنائے جا رہے ہیں،بی جے پی حکومتیں لسانی تعصب کی بنیاد پر اقلیتوں کو غیرقانونی مہاجر کہہ کر ملک بدر کر رہی ہیں، ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق یہ ظلم بی جے پی کی مرکزی ہدایت پر منظم انداز میں ہو رہا ہے، یہ ہدایات امیت شاہ کی سربراہی میں بھارتی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کی گئیں،

    ہیومن رائٹس واچ کی ایشیا ڈائریکٹر ایلین پیئرسن کا کہنا تھا کہ؛ بی جے پی بنگالی بولنے والے افراد، حتیٰ کہ بھارتی شہریوں کو بھی بلاوجہ نکال کر امتیازی سلوک کو ہوا دے رہی ہے،ممتاز بینر جی کا کہنا تھا کہ اب بین الاقوامی ادارے بھی بھارت میں لسانی دہشت گردی کا نوٹس لے رہے ہیں،

    ہراسانی، جبر اور بے دخلی مودی سرکار کی انتہا پسند ہندوتوا پالیسی کا حصہ ہے،زبان کی بنیاد پر ملک بدری، بھارتی آئین کے آرٹیکل 14 اور 19 کی صریح خلاف ورزی ہے،بی جے پی بھارت کو نام نہاد سیکولرزم سے ہٹا کر ہندو اکثریتی ریاست میں بدل رہی ہے،بنگالیوں کی بے دخلی بی جے پی کا ہندو ووٹ بینک بڑھانے کا ہتھکنڈہ ہے،بین الاقوامی ادارے کی رپورٹ نے مودی سرکار کی اقلیت دشمن پالیسیوں پر عالمی سوالات کھڑے کر دیے ،اقلیتوں کو ختم کر کے ہندوتوا نظریے پر آمریت قائم کرنا بی جے پی کی سازش ہے