Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • مودی راج میں ریاستی سرپرستی میں عورتیں غیرمحفوظ

    مودی راج میں ریاستی سرپرستی میں عورتیں غیرمحفوظ

    مودی کے دور اقتدار میں ریاستی ناکامیوں کا شکار خواتین ایک بار پھر ظلم کے نشانے پر ہیں

    ہندوستان میں عصمت دری کا ایک اور واقعہ مودی کی مسلسل ریاستی ناکامی ہے،سرکاری ایمبولینس میں زیادتی، ریاستی اہلکاروں کی موجودگی مودی سرکار کی ناکامی کا ثبوت ہے،این ڈی ٹی وی کے مطابق؛ بہار میں 26 سالہ خاتون کو ایمبولینس میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا خاتون گارڈ بھرتی کے دوران جسمانی ٹیسٹ دیتے ہوئے بے ہوش ہو گئی تھیں،متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ نیم بے ہوشی کے دوران ایمبولینس میں 3 سے 4 افراد نے زیادتی کا نشانہ بنایا، سی سی ٹی وی فوٹیج سے ایمبولینس کے روٹ اور وقت کی تصدیق کر لی گئی

    رکنِ پارلیمنٹ چراغ پاسوان نے بہار میں جرائم کی بڑھتی وارداتوں پر تشویش کا اظہار کیا ،چراغ پاسوان کا کہنا ہے کہ حکومت عوام کی زندگیوں سے کھیل رہی ہے، چراغ پاسوان کے مطابق ریاستی انتظامیہ مجرموں کے سامنے جھک چکی ہے، چراغ پاسوان نے کہا کہ قتل، عصمت دری ، چوری، ڈکیتی جیسے جرائم مسلسل ہو رہے ہیں،

    یہ صرف زیادتی نہیں بلکہ مودی کی سرپرستی میں ایک مکمل ادارہ جاتی ناکامی ہے،یہ واقعہ کسی سنسان گلی میں نہیں، بلکہ سرکاری بھرتی کے دوران پیش آیا ہے،ناقِص انتظامات کے باعث پیش آنے والے واقعے نے مودی سرکار کی نااہلی کو بے نقاب کر دیا ہے،مودی سرکار کے ’’بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ‘‘ جیسے نعرے محض سیاسی دکھاوا ہیں،

  • نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء کا چکوٹھی سیکٹر  کا دورہ

    نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء کا چکوٹھی سیکٹر کا دورہ

    نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے چکوٹھی سیکٹر کا دورہ کیا، جہاں پاک فوج کے افسران نے اُن کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس اہم دورے کا مقصد شرکاء کو ملکی سرحدوں کے دفاع سے متعلق زمینی حقائق سے آگاہ کرنا اور ان کے قومی و دفاعی شعور میں اضافہ کرنا تھا۔

    دورے کے دوران پاک فوج کی جانب سے شرکاء کو ایک جامع بریفنگ دی گئی جس میں چکوٹھی سیکٹر کی جغرافیائی اہمیت، دفاعی حکمتِ عملی، سیکورٹی اقدامات اور بھارتی افواج کی جانب سے درپیش خطرات کے تناظر میں پاک فوج کی پیشہ ورانہ تیاریوں پر روشنی ڈالی گئی۔بریفنگ کے دوران افسران نے بتایا کہ چکوٹھی سیکٹر میں پاک فوج نے کئی مواقع پر جانفشانی، قربانی اور غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کی جارحیت کو مؤثر انداز میں روکا۔ شرکاء کو بتایا گیا کہ یہاں تعینات افواج ہر دم مستعد اور ہمہ وقت دفاعِ وطن کے لیے تیار ہیں۔

    شرکاء نے دورے اور بریفنگ کو نہایت معلوماتی، متاثرکن اور آنکھیں کھول دینے والا تجربہ قرار دیتے ہوئے پاک فوج کے جوانوں کے جذبۂ قربانی، عزم، حوصلے اور پیشہ ورانہ مہارت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے دورے قومی یکجہتی اور دفاعی شعور کو فروغ دینے میں نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

    نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے اس دورے کو ایک مثبت اقدام قرار دیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو ملک کی سرحدوں کی اصل صورتحال اور محافظوں کی لازوال قربانیوں سے براہ راست آگاہی حاصل ہوئی۔یہ دورہ اس بات کا مظہر ہے کہ پاکستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے شہری، خصوصاً بلوچستان کے نمائندے، وطنِ عزیز کے دفاع میں پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور ملک کی سالمیت و خودمختاری کے تحفظ کے لیے ایک پُرعزم سوچ رکھتے ہیں۔

  • وزیرداخلہ کی میجر زیاد سلیم  شہید کے گھر آمد

    وزیرداخلہ کی میجر زیاد سلیم شہید کے گھر آمد

    وزیر داخلہ محسن نقوی نے بلوچستان میں شہید ہونے والے میجر زیاد سلیم کی رہائش گاہ پہنچ گئے۔ شہید کی والدہ اور دیگر اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور افسوس کا اظہار کیا۔

    محسن نقوی نے شہید میجر زیاد سلیم کی والدہ، بہن اور بھائیوں کے بلند حوصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ شہداء کے خاندان کا قربانیوں کا قرض قوم نہیں اتار سکتی، شہید میجر زیاد سلیم کی بے مثال قربانی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

    اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے شہید میجر زیاد سلیم کی والدہ نے کہا کہ شہادت سے کچھ عرصہ قبل ہی بیٹے کی شادی ہوئی تھی، وطن سے عشق جنون کی حد تک تھا،زخمی ہونے کے باوجود زیاد ساتھیوں کو بچاتے رہے، زخموں کی بھی پروا نہیں کی، ‎‎شوہر کے بعد اب بیٹا بھی وطن پر قربان ہو گیا، ہمیشہ وطن اور پاک افواج کے ساتھ کھڑی رہی ہوں اور رہوں گی۔

  • پی آئی اے  طیارے کے ایئروینٹی لیشن سسٹم میں خاتون مسافر کا موبائل گر گیا

    پی آئی اے طیارے کے ایئروینٹی لیشن سسٹم میں خاتون مسافر کا موبائل گر گیا

    پی آئی اے کے بوئنگ 777 طیارے کے ایئروینٹی لیشن سسٹم میں خاتون مسافر کا موبائل گر گیا

    پی آئی اے کا انجینئرنگ عملہ 13 دن تک موبائل کو جہاز کے ایئروینٹی لیشن سسٹم سے باہر نہ نکال سکا ،خاتون مسافر کا کہنا تھا کہ جہاز کا عملہ کئی روز تک موبائل کے ایئروینٹی لیشن سسٹم میں موجود ہونے سے انکار کرتا رہا، موبائل 6 جولائی کو جدہ سے اسلام آباد آتے ہوئے گر کر سیٹ کے نیچے کھلے ایئروینٹی لیشن سسٹم میں گر گیا تھا، خاتون مسافر موبائل کی گمشدگی پر مسلسل موبائل لوکیشن سے جہاز کیساتھ موبائل کا سفر مانیٹر کرتی رہی،خاتون نے موبائل جہاز کےائیروینٹی لیشن سسٹم میں گرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی وائرل کردی

    ترجمان پی آئی اے کا کہنا ہے کہ عملے نے جہاز کا فرش کھول کر موبائل 19 جولائی کو مسافر کے حوالے کیا تھا، پی آئی اے انتظامیہ مسلسل خاتون مسافر کے ساتھ رابطے میں تھی، شیڈولڈ پروازوں کی وجہ جہاز کا فرش فوری کھول کر موبائل نہیں نکالا جاسکتا تھا، خاتون کے اہل خانہ نے پی آئی اے کے خلاف وفاقی محتسب کو بھی درخواست دے دی

  • پہلگام  حملہ، سابق بھارتی وزیر داخلہ پی چدمبرم نے پاکستان کے ملوث ہونے کو مسترد کر دیا

    پہلگام حملہ، سابق بھارتی وزیر داخلہ پی چدمبرم نے پاکستان کے ملوث ہونے کو مسترد کر دیا

    بھارت کے سابق وزیر داخلہ اور سینئر کانگریس رہنما پی چدمبرم نے پہلگام میں ہونے والے حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کے بھارتی حکومت کے دعوؤں کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تک ایسا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا جو یہ ثابت کرے کہ حملہ آور پاکستانی تھے۔

    مقبوضہ کشمیر کے مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں حالیہ فائرنگ کے واقعے میں 26 شہری ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد بھارتی حکام کی جانب سے فوری طور پر پاکستان پر الزامات عائد کیے گئے تھے۔ تاہم پی چدمبرم نے ان الزامات کو سیاسی مفروضہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ "آخر بھارتی حکومت کس بنیاد پر یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ حملہ آور پاکستان سے آئے تھے؟ کیا حکومت نے ان کے پاکستانی ہونے کی کوئی شناخت ظاہر کی ہے؟”انہوں نے مزید کہا کہ ابتدائی اطلاعات اور تحقیقاتی اشارے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ حملہ آور بھارتی شہری تھے اور انہوں نے بھارت کے اندر ہی دہشت گردی کی تربیت حاصل کی تھی۔”یہ ایک اندرونی سکیورٹی ناکامی ہے جسے حکومت بیرونی دشمن پر ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ اصل ذمہ داروں سے توجہ ہٹائی جا سکے،”

    پی چدمبرم کے بیان نے بھارتی سکیورٹی اداروں اور حکومت پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس واقعے کی آزاد اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ اصل حقائق عوام کے سامنے آ سکیں۔

    واضح رہے کہ پاکستان کی حکومت نے اس واقعے کی فوری مذمت کی تھی۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے بھارت کو پیشکش کی تھی کہ اگر وہ چاہے تو پاکستان اس واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔ اس کے باوجود، بھارت کی جانب سے اب تک پاکستان پر الزامات دہرائے جا رہے ہیں جبکہ تحقیقات میں کوئی واضح پیشرفت سامنے نہیں آئی۔

    سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چدمبرم جیسے سینئر سیاستدان کی جانب سے ایسے بیانات حکومت کی ساکھ پر گہرا اثر ڈال سکتے ہیں۔ ایک تجزیہ کار کے مطابق:”جب ملک کا سابق وزیر داخلہ خود یہ کہے کہ ثبوت موجود نہیں، تو حکومت کو سنجیدگی سے اس پر غور کرنا چاہیے بجائے اس کے کہ بغیر ثبوت کے الزام تراشی کی جائے۔”

  • باغی ٹی وی،اپووا کے اشتراک سے یومِ آزادی کے موقع پر تحریری مقابلہ کا اعلان

    باغی ٹی وی،اپووا کے اشتراک سے یومِ آزادی کے موقع پر تحریری مقابلہ کا اعلان

    باغی ٹی وی اور آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) کے اشتراک سے یومِ آزادی پاکستان کی مناسبت سے ایک اہم اور قومی جذبے سے بھرپور تحریری مقابلے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس مقابلے کا موضوع "شانِ پاکستان” رکھا گیا ہے، جس کا مقصد ملک کے نوجوان لکھاریوں اور ادب دوست طبقات کو اظہارِ خیال کا موقع فراہم کرنا اور حب الوطنی کے جذبے کو اجاگر کرنا ہے۔

    مقابلے میں حصہ لینے کے خواہشمند افراد سے کہا گیا ہے کہ وہ کم از کم 1000 الفاظ پر مشتمل ایک غیر نقل شدہ، اصل اور تخلیقی تحریر تیار کریں اور مقررہ وقت میں جمع کروائیں۔تحریر جمع کروانے کی آخری تاریخ 8 اگست 2025 مقرر کی گئی ہے۔ تمام تحریریں واٹس ایپ کے ذریعے درج ذیل نمبر پر ارسال کی جا سکتی ہیں.
    0303-0204604

    مقابلے کے اختتام پر موصول ہونے والی تحریروں کو ماہرینِ ادب اور شعبہ صحافت سے تعلق رکھنے والی جیوری کے سامنے پیش کیا جائے گا، جو معیارِ تحریر، زبان و بیان، تخلیقی انداز اور موضوع سے ہم آہنگی کی بنیاد پر بہترین تحریروں کا انتخاب کرے گی۔منتخب ہونے والی تین نمایاں تحریروں کے مصنفین کو 14 اگست 2025 کو "شانِ پاکستان ایوارڈ” سے نوازا جائے گا۔ ایوارڈ کی تقریب آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام آزادی کے دن کی مناسبت سے خصوصی انداز میں استحکام پاکستان کانفرنس کے عنوان سے منعقد کی جائے گی، جس میں معروف ادبی، صحافتی اور سماجی شخصیات شرکت کریں گی۔

    باغی ٹی وی اور اپووا کی اس مشترکہ کاوش کا مقصد صرف ایک تحریری مقابلہ نہیں بلکہ ایک مثبت بیانیہ کی ترویج اور نوجوان نسل کو قومی شناخت سے جوڑنے کی عملی کوشش ہے۔مزید معلومات اور اپ ڈیٹس کے لیے باغی ٹی وی کے آفیشل پلیٹ فارمز اور اپووا کے سوشل میڈیا پیجز پر رابطہ رکھا جا سکتا ہے۔

  • انڈیگو کی پرواز میں تاخیر،مسافروں کا ہنگامہ،ایئر ہوسٹس ہاتھ جوڑنے پر مجبور

    انڈیگو کی پرواز میں تاخیر،مسافروں کا ہنگامہ،ایئر ہوسٹس ہاتھ جوڑنے پر مجبور

    ممبئی سے وارانسی جانے والی انڈیگو کی پرواز میں گزشتہ شب تکنیکی خرابی کے باعث پرواز میں تقریباً دو گھنٹے کی تاخیر ہو گئی، جس کے بعد ہوائی جہاز کے اندر ہنگامہ خیزی کے مناظر دیکھنے میں آئے۔

    ایک ویڈیو جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے، اس میں مسافر فلائٹ کے روانگی کے وقت کے بارے میں پوچھ رہے ہیں، جبکہ کیبن عملہ انہیں تحمل کا مظاہرہ کرنے اور اپنی نشستوں پر بیٹھے رہنے کی درخواست کر رہا ہے۔ ویڈیو میں ایک ایئر ہوسٹس بھی ہاتھ جوڑ کر ایک مسافر سے اپنی نشست پر بیٹھنے کی درخواست کرتی نظر آتی ہے، جو فلائٹ میں تاخیر پر احتجاج کر رہا ہے۔یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب گزشتہ ماہ احمد آباد میں AI 171 فلائٹ کے حادثے کے بعد فضائی سفر کے حوالے سے مسافروں میں خدشات اور بے چینی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ کورونا کے بعد ہوائی سفر کے کرایوں میں اضافے کے ساتھ اب سیکیورٹی اور حفاظت کے مسائل بھی مسافروں کو پریشان کر رہے ہیں۔

    وارانسی جانے والی انڈیگو کی فلائٹ کو روانگی سے کچھ دیر قبل تکنیکی مسئلہ سامنے آنے کی وجہ سے پرواز ملتوی کی گئی۔ اس دوران گراؤنڈ اسٹاف جہاز کی جانچ پڑتال میں مصروف رہا جبکہ دوسری پروازوں کو رن وے استعمال کرنے کی اجازت دی گئی۔ چیکنگ مکمل ہونے کے بعد، 176 مسافروں کو لے کر انڈیگو کی یہ پرواز ممبئی سے روانہ ہوئی۔فلائٹ ٹریکر "flightradar24” کے مطابق، پرواز نمبر 6E 5028 کی روانگی مقررہ وقت 7:45 بجے کی بجائے رات 9:53 بجے ہوئی، جبکہ یہ وارانسی میں رات 11:40 بجے اتری۔ مقررہ وقت پر آمد 9:45 بجے تھی۔

    ویڈیو میں کیبن عملہ مسافروں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کو کہہ رہا ہے اور زمین پر کام کرنے والے عملے سے جہاز کی جانچ مکمل ہونے تک انتظار کرنے کی تاکید کر رہا ہے۔ ایک ایئر ہوسٹس ویڈیو بنانے والے مسافر سے درخواست کرتی ہے کہ "سر، ویڈیو بنانا منع ہے، براہ کرم ویڈیو بند کریں۔” جس پر مسافر سخت احتجاج کرتے ہیں اور سوال کرتے ہیں کہ "ہماری جان کی کوئی قدر نہیں؟” ایک اور مسافر پوچھتا ہے، "جہاز کے اندر بٹھانے کے بعد جانچ کرنا مناسب ہے؟ اگر پرواز کے دوران کچھ ہوا تو ذمہ داری کون لے گا؟”مسافروں میں غصہ اور بے یقینی دیکھنے میں آ رہی تھی، کئی افراد ویڈیو بنا رہے تھے اور عملے سے مطالبہ کر رہے تھے کہ وہ متبادل حل پیش کریں۔ ایک مسافر کہتا ہے، "آپ ہم سے تعاون کی توقع رکھتے ہیں، تو آپ کو بھی ہمارے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔”

    جہاز کی خاتون پائلٹ، کیپٹن اروشوی، غصے میں آئے ہوئے مسافروں کو ان کی نشستوں پر بیٹھنے کی درخواست کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں، "آئیے بات کرتے ہیں لیکن براہ کرم بیٹھ جائیں۔ ہم دروازہ اس وقت تک بند نہیں کریں گے جب تک آپ مطمئن نہ ہوں۔ ہم آپ کے تمام سوالات کے جوابات دیں گے۔”ایک اور ویڈیو میں کیپٹن اروشوی مسافروں کو یقین دلاتی ہیں کہ تاخیر اس لیے کی گئی تاکہ ہر نظام کی مکمل جانچ پڑتال کی جا سکے۔ وہ کہتی ہیں، "ہم دس منٹ میں روانگی کے لیے تیار ہیں۔ اگر آپ خلفشار نہ کریں تو میں یقین دلاتی ہوں کہ ہم سب خوش و خرم وارانسی پہنچ جائیں گے۔”اس موقع پر کچھ مسافر "ہر ہر مہا دیو” کا نعرہ لگاتے ہیں اور پائلٹ بھی اس میں شامل ہو جاتی ہیں۔ وہ مزید کہتی ہیں، "آئیے مثبت رہیں اور اچھی فلائٹ کی توقع کریں۔ اگر کوئی مسئلہ ہوتا تو میں کبھی جہاز نہیں اُڑاتی۔ یہ جہاز فلائٹ کے لیے مکمل طور پر محفوظ ہے۔ ہمیں وارانسی خوشگوار اور محفوظ طریقے سے پہنچنا ہے، براہ کرم پریشان نہ ہوں۔”

  • سنو نیوز میں دو ماہ سے تنخواہیں نہ آئیں،ملازمین پریشان

    سنو نیوز میں دو ماہ سے تنخواہیں نہ آئیں،ملازمین پریشان

    لاہور: سنو نیوز کے لاہور دفتر کے ملازمین دو ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

    ذرائع کے مطابق، کئی بار انتظامیہ سے تنخواہوں کی ادائیگی کے حوالے سے رابطہ کیا گیا لیکن ہر بار انہیں "اگلے ہفتے” کا وعدہ دیا جاتا رہا، مگر اس کے باوجود تنخواہیں نہیں ملیں۔ملازمین کا کہنا ہے کہ وہ محنت اور وقت پر کام انجام دیتے ہیں مگر اس کے بدلے انہیں اپنی محنت کی کمائی نہیں ملتی۔ بجلی کے بل، بچوں کی فیسیں، گھروں کے کرائے، اور دیگر روزمرہ کے اخراجات کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے جس کی وجہ سے وہ ذہنی اور مالی طور پر بے حد متاثر ہیں۔

    سنو نیوز کے ایک ملازم نے، جو اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کر رہے تھے، باغی ٹی وی کو بتایا، "ہم بہت پریشان ہیں، سنو نیوز کی انتظامیہ سے کئی بار درخواست کی مگر کوئی سنوائی نہیں ہوئی۔ کیا بلیو ورلڈ سٹی کی طرح سنو نیوز بھی کسی سیلابی ریلے کی نذر ہو رہا ہے؟ ہمیں سمجھ نہیں آتی کہ ہماری محنت کا صلہ ہمیں کیوں نہیں دیا جا رہا۔”

    ملازمین نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ سنو نیوز کے اس بحران پر توجہ دیں اور انتظامیہ کو ہدایت کریں کہ وہ فوری طور پر تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنائے تاکہ وہ اپنے گھریلو اخراجات پورے کر سکیں اور معاشی بدحالی سے نکل سکیں۔

    سنو نیوز انتظامیہ اس خبر پر اپنامؤقف دینا چاہے تو من و عن شائع کیا جائےگا.

  • بھارت،خواتین امدادی اسکیم میں مردوں کا عورت بن کر لاکھوں روپے کا فراڈ

    بھارت،خواتین امدادی اسکیم میں مردوں کا عورت بن کر لاکھوں روپے کا فراڈ

    بھارتی ریاست مہاراشٹرا میں خواتین کی مالی امداد کے لیے شروع کی گئی اسکیم میں بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی کا انکشاف ہوا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق ہزاروں مردوں نے خود کو خواتین ظاہر کر کے امدادی رقم وصول کی، جس سے حکومت کو کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔گزشتہ سال مہاراشٹرا حکومت نے کم آمدنی والے خاندانوں کی خواتین کی مالی معاونت کے لیے ایک اسکیم ‘لڑکی بہن یوجنا’ شروع کی تھی۔ اس اسکیم کے تحت 21 سے 65 سال کی عمر کی خواتین کو ماہانہ 1500 روپے کی امداد دی جانی تھی، تاکہ ان کے معیار زندگی میں بہتری آئے۔تاہم، ویمن اینڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ (WCD) کی تازہ رپورٹ میں حیران کن انکشاف ہوا ہے کہ اس اسکیم کا غلط استعمال ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسکیم میں رجسٹرڈ 14 ہزار 298 افراد دراصل مرد تھے جنہوں نے خود کو خواتین ظاہر کر کے 21 کروڑ 44 لاکھ روپے کی امداد حاصل کی۔

    مزید برآں، اسکیم میں ہر خاندان سے صرف دو خواتین کو رجسٹرڈ کرنے کی اجازت تھی، مگر تقریباً 8 لاکھ سے زائد خواتین نے ایک ہی خاندان کی تیسری یا چوتھی ممبر بن کر بھی رجسٹریشن کرائی، جس سے حکومت کو تقریباً 1196 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اسکیم سے فائدہ اٹھانے والی 2 لاکھ سے زائد خواتین کی عمر 65 سال سے زائد تھی، جبکہ 1 لاکھ 62 ہزار خواتین ایسے خاندانوں سے تعلق رکھتی تھیں جن کے پاس گاڑیاں موجود تھیں، جس کے باعث وہ اسکیم کے اہل نہیں تھیں۔

    اس بڑے مالیاتی نقصان اور فراڈ کے انکشاف کے بعد مہاراشٹرا حکومت شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہے۔ عوامی اور سیاسی حلقے حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ مردوں کے عورت بن کر امداد لینے کے معاملے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں تاکہ ذمہ داروں کو قانونی کارروائی کے ذریعے سزا دی جا سکے۔مہاراشٹرا میں خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے بنائی گئی اسکیم میں اس نوعیت کی بدعنوانی حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے اور اس سے اس اسکیم کے اصل مستحق افراد کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

  • ٹرمپ کا یورپی یونین کے ساتھ تجارتی معاہدے کا اعلان

    ٹرمپ کا یورپی یونین کے ساتھ تجارتی معاہدے کا اعلان

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی معاہدے کے اعلان کردیا۔

    اسکاٹ لینڈ میں یورپی کمیشن کی سربراہ اُرسلا وان سے ملاقات کے بعد ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکا اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی معاہدہ ہوگیا، معاہدہ سب کو مبارک ہو،ہم ایک معاہدے پر پہنچ چکے ہیں جو سب کے لیے اچھا ہوگا، یورپی مصنوعات پر 15 فیصد ٹیکس عائد ہوگا اور یورپی یونین امریکی فوجی ساز و سامان خریدے گا،یورپی یونین امریکی توانائی شعبے سے 750 ارب ڈالر کی خریداری کرے گا جبکہ یورپی یونین امریکا میں 600 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا، یورپی یونین کے ساتھ تجارتی معاہدہ اب تک کا سب سے بڑا معاہدہ ہے، معاہدہ گاڑیوں کے لیے بہت اچھا ہوگا اور اس سے زراعت پر بھی بڑا اثر پڑے گا۔

    یورپی کمیشن کی سربراہ ارسلا وان نے کہا کہ تجارتی معاہدہ استحکام لائے گا، تمام شعبوں میں 15 فیصد ٹیکس کا نفاذ ہوگا،معاہدہ کے تحت یورپی یونین اور امریکا نے کچھ مصنوعات پر صفر ٹیرف کا بھی فیصلہ کیا ہے، دونوں ممالک نے جن اشیا کی تجارت پر صفر ٹیرف کا فیصلہ کیا ہے ان میں، طیارے، کچھ کیمیکلز، سیمی کنڈکٹر آلات، کچھ زرعی مصنوعات اور ضروری خام مال شامل ہے۔

    یہ معاہدہ یورپی یونین کے لیے تجارتی معاہدہ کرنے کی یکم اگست کی ڈیڈ لائن سے قبل ہوا ہے جس کے بعد یورپی یونین پر 30 فیصد ٹیرف عائد ہوسکتا تھا،ٹرمپ کی جانب سے دوبارہ عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد سے یورپی یونین پر مختلف مواقعوں پر ٹیرف عائد ہوچکے ہیں، اس وقت گاڑیوں پر یہ ٹیرف 25 فیصد جبکہ اسٹیل اور ایلومینیم پر 50 فیصد ہے،تاہم امریکی صدر ٹرمپ کے مطابق اس معاہدے میں اسٹیل پر عائد ٹیرف کو برقرار رکھا گیا ہے۔