Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بچوں کے لکھاری اظہر عباس کی وفات پر تعزیتی ریفرنس کا انعقاد

    بچوں کے لکھاری اظہر عباس کی وفات پر تعزیتی ریفرنس کا انعقاد

    امیدِ روشنی فورم پاکستان اور گلوبل فورم پاکستان کے زیرِاہتمام، وفائے پاکستان ادبی فورم کے تعاون سے معروف اور ہر دلعزیز لکھاری، دانشور اور سماجی کارکن،بچوں کے معروف ادیب اور نوے کی دہائی سے لے کر موجودہ دور تک ادبِ اطفال کی مختلف تحریکوں کے روح رواں، بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ممتاز چائلڈ رائٹر اظہر عباس کی یاد میں ایک پُراثر تعزیتی ریفرنس کا انعقاد لاہور میں کیا گیا۔

    اس تعزیتی ریفرنس میں مختلف ادبی، سماجی اور فکری حلقوں سے تعلق رکھنے والی نامور شخصیات نے شرکت کی اور اظہر عباس کی علمی و ادبی خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔مقررین نے اظہر عباس کی شخصیت کو خلوص، محبت، اخلاص اور انسان دوستی کا پیکر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی وفات صرف ادبی دنیا کا نہیں، بلکہ انسانیت اور فکری اقدار کا ایک بڑا نقصان ہے۔اظہر عباس نہ صرف بچوں کے لیے دلچسپ اور سبق آموز کہانیاں اور نظمیں تخلیق کرتے تھے بلکہ انہوں نے بچوں کی تربیت، اخلاقی اقدار اور تخلیقی سوچ کو فروغ دینے کے لیے کئی دہائیوں پر محیط ادبی سفر طے کیا۔ ان کی تحریریں پاکستان بھر کے رسائل، اخبارات اور درسی کتب میں شامل رہیں اور ہزاروں بچوں نے ان کی تحریروں سے نہ صرف علم حاصل کیا بلکہ کردار سازی کی بنیاد بھی رکھی۔مقررین کا کہنا تھا کہ اظہر عباس کی وفات چراغِ علم کے بجھنے کے مترادف ہے۔ ان کا تخلیقی سرمایہ نئی نسل کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ بنا رہے گا، اظہر عباس کی علمی و ادبی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ وہ بچوں کے لیے لکھنے والے چند سنجیدہ اور معیاری لکھاریوں میں سے تھے جنہوں نے کبھی سطحی پن کو اپنے قلم پر حاوی نہیں ہونے دیا۔ اظہر عباس کی وفات یقینی طور پر اردو ادب، بالخصوص بچوں کے ادب کے افق پر ایک خلا چھوڑ گئی ہے، جسے پُر کرنا آسان نہ ہوگا۔ مگر ان کا نام، ان کی تحریریں اور ان کے اصول ہمیشہ آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ رہیں گے،اللہ تعالیٰ انہیں جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین۔

    تعزیتی ریفرنس میں اختر عباس ، اشفاق احمد خان ، ایم ایم علی ، اشرف سہیل ، سہیل قیصر ہاشمی ، عبدالصمد مظفر پھول بھائی ، علی عمران ممتاز ، غلام زادہ محمد نعمان صابری ، کاشف بشیر کاشف ، محمد وسیم کھوکھر ، محمد نادر کھوکھر ، محمد قاسم کھوکھر ، حاجی محمد لطیف کھوکھر ، محمد ناصر زیدی ، احمد عدنان طارق ، ڈاکٹر طارق ریاض خان ، ابوالحسن طارق ، محمد ندیم اختر ، امجد نذیر ، غلام مصطفیٰ قادری ، سرفراز اجمل، علی رضا ترابی ، شہباز اکبر الفت نے شرکت کی، یہ ریفرنس نہ صرف اظہر عباس کی شخصیت کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا ذریعہ بنا، بلکہ ادب، محبت اور انسان دوستی کے جذبے کو ایک نئے عزم کے ساتھ فروغ دینے کا پیغام بھی بن گیا۔

  • بابوسر ٹاپ میں خیبر نیوز کی اینکر شبانہ اپنے شوہر اور چار بچوں سمیت لاپتہ

    بابوسر ٹاپ میں خیبر نیوز کی اینکر شبانہ اپنے شوہر اور چار بچوں سمیت لاپتہ

    بابوسر ٹاپ کے سیاحتی مقام پر خیبر نیوز کی معروف اینکر پرسن شبانہ اپنے شوہر لیاقت علی اور چار بچوں سمیت پراسرار طور پر لاپتہ ہو گئی ہیں۔ یہ خاندان 21 جولائی کو سیاحت کے لیے بابوسر ٹاپ گیا تھا، جس کے بعد سے ان کا کسی سے کوئی رابطہ نہیں ہو سکا۔ لاپتہ افراد میں شبانہ، ان کے شوہر لیاقت علی، دو بیٹیاں ایمل اور ایمان، اور دو دیگر بچے شامل ہیں۔

    ذرائع کے مطابق اہل خانہ کی گمشدگی کی اطلاع ملنے کے فوراً بعد ریسکیو اداروں نے علاقے میں تلاش کا کام شروع کر دیا ہے۔ مشکل جغرافیائی حالات اور موسم کی خرابی کے باوجود سرچ آپریشن مسلسل جاری ہے۔ ریسکیو ٹیموں کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی، ڈرونز، سراغ رساں کتوں اور مقامی گائیڈز کی مدد سے سرچ آپریشن کو تیز کیا جا رہا ہے۔

    ترجمان گلگت بلتستان حکومت، فیض اللہ فراق نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حالیہ دنوں میں دیامر کے علاقے میں آنے والے اچانک سیلابی ریلے کی وجہ سے ایک اور فیملی کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ترجمان کے مطابق ابتدائی معلومات کے مطابق لاپتہ ہونے والے چھ افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے اور انہیں آخری بار بابوسر ٹاپ کے قریب دیکھا گیا تھا۔”پولیس، ضلعی انتظامیہ، ڈیزاسٹر مینجمنٹ، پاک فوج، جی بی اسکاؤٹس اور ریسکیو ٹیمیں مشترکہ طور پر سرچ آپریشن میں حصہ لے رہی ہیں۔ سیلابی پانی اور سخت موسم کی وجہ سے کارروائی میں دشواری کا سامنا ہے، تاہم ہم ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔”

    مقامی عینی شاہدین کے مطابق، 10 سے 15 سیاح حالیہ دنوں میں شاہراہ بابوسر پر آنے والے اچانک سیلابی ریلوں میں بہہ گئے تھے۔ ان میں سے کچھ لاشیں برآمد ہو چکی ہیں جبکہ کئی افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ واضح رہے کہ چند روز قبل بھی اسی علاقے میں لودھراں سے پکنک منانے کے لیے آنے والی ایک فیملی حادثے کا شکار ہو گئی تھی۔ سیلابی ریلے میں بہہ کر 3 افراد جاں بحق ہوئے تھے، جن میں ڈاکٹر مشعال فاطمہ، ان کا تین سالہ بیٹا عبد الہادی اور دیور فہد اسلام شامل تھے۔ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ تلاش کا عمل آئندہ چند روز تک جاری رکھا جائے گا اور ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے کہ لاپتہ افراد کو جلد از جلد تلاش کیا جا سکے۔

  • اسلام آباد،گدھوں کے گوشت برآمدگی کی تحقیقات،مقامی مارکیٹ میں سپلائی کے شواہد نہ ملے

    اسلام آباد،گدھوں کے گوشت برآمدگی کی تحقیقات،مقامی مارکیٹ میں سپلائی کے شواہد نہ ملے

    اسلام آباد: تھانہ سنگجانی کی حدود سے گدھے کے گوشت کی برآمدگی کے معاملے پر سنسنی خیز انکشافات سامنے آ گئے ہیں۔ پولیس اور اسلام آباد فوڈ اتھارٹی کی مشترکہ کارروائی میں خفیہ سلاٹر ہاؤس کا سراغ لگایا گیا جہاں گدھوں کو ذبح کر کے ان کا گوشت اور کھالیں مبینہ طور پر بیرونِ ملک بھیجی جا رہی تھیں۔

    ابتدائی رپورٹ کے مطابق سنگجانی کے علاقے میں قائم ایک خفیہ سلاٹر ہاؤس میں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت گدھوں کو ذبح کیا جاتا تھا۔ ذرائع کے مطابق یہ سلاٹر ہاؤس غیر ملکی باشندوں نے ایک مقامی شخص کے ساتھ مل کر قائم کیا تھا، جہاں گوشت محفوظ رکھنے کے لیے کولڈ اسٹوریج کی سہولت بھی موجود تھی۔ذرائع نے بتایا کہ سلاٹر ہاؤس میں گدھوں کو ذبح کرنے کے لیے ایک غیر ملکی قصائی کو بیرونِ ملک سے بلایا گیا تھا، جو خاص مہارت رکھتا تھا۔

    اسلام آباد فوڈ اتھارٹی اور پولیس کی جانب سے مشترکہ کارروائی کے دوران سلاٹر ہاؤس سے 14 ذبح شدہ گدھوں کی باقیات اور 45 زندہ گدھے برآمد کیے گئے۔ کارروائی کے دوران دو غیر ملکی باشندوں کو گرفتار کیا گیا ہے جنہیں پولیس نے حراست میں لے کر مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق اس گوشت کو مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کے شواہد نہیں ملے، تاہم یہ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ گوشت پاکستان میں مقیم غیر ملکیوں کو فراہم کیا جاتا تھا یا اسمگلنگ کے ذریعے بیرون ملک بھجوایا جا رہا تھا۔

    یاد رہے کہ ایک روز قبل اسلام آباد فوڈ اتھارٹی نے ترنول کے علاقے میں چھاپہ مار کر گوشت کو قبضے میں لیا تھا، جس کے بعد یہ شبہ مضبوط ہوا کہ گدھے کے گوشت کی غیر قانونی سپلائی کا ایک منظم نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ترجمان فوڈ اتھارٹی کے مطابق موقع پر موجود ایک غیر ملکی شہری کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ مزید ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کر دیا گیا ہے تاکہ اس گھناؤنے کاروبار میں ملوث مقامی سہولت کاروں تک بھی پہنچا جا سکے۔

  • بھارت میں غیراخلاقی مواد اپلوڈ کرنے پر یوٹیوبر گرفتار

    بھارت میں غیراخلاقی مواد اپلوڈ کرنے پر یوٹیوبر گرفتار

    بھارت کی ریاست اترپردیش کے شہر مرادآباد میں پولیس نے معروف یوٹیوبر محمد عامر کو غیراخلاقی اور متنازعہ مواد اپ لوڈ کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق، محمد عامر پر ہندو مذہبی لباس پہن کر گالیاں دینے اور مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا سنگین الزام عائد کیا گیا ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاری ایک مقامی شہری امان ٹھاکر کی شکایت پر عمل میں لائی گئی۔ شکایت میں کہا گیا کہ محمد عامر نے جان بوجھ کر ایک ایسی ویڈیو بنائی جس میں وہ ہندوؤں کے مذہبی لباس میں ملبوس ہو کر گالیاں دیتا نظر آتا ہے، جو کہ مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔صرف یہی نہیں، بلکہ محمد عامر پر اپنے یوٹیوب چینل اور انسٹاگرام اکاؤنٹ پر غیراخلاقی، غیر مہذب اور گالیوں سے بھرپور مواد شائع کرنے، فروغ دینے اور اس کی تشہیر کا بھی الزام ہے۔ پولیس نے بتایا کہ ان کے خلاف سائبر کرائم اور مذہبی نفرت پھیلانے سے متعلق دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

    محمد عامر بھارت کے مشہور سوشل میڈیا شخصیات میں سے ایک ہیں۔ ان کے انسٹاگرام پر 50 لاکھ فالوورز جبکہ یوٹیوب پر بھی 50 لاکھ سبسکرائبرز ہیں۔ ان کے ویڈیوز زیادہ تر کامیڈی اور روزمرہ کے مسائل پر مبنی ہوتے ہیں، تاہم حالیہ مہینوں میں ان کے مواد پر تنقید بڑھتی جا رہی تھی۔گرفتاری کے بعد سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ کچھ افراد نے محمد عامر کے مواد کو فحش اور معاشرتی اقدار کے خلاف قرار دیا ہے، جبکہ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف کارروائی اظہارِ رائے کی آزادی کے خلاف ہے اور یہ سوشل میڈیا پر پابندی لگانے کی ایک کوشش ہے۔پولیس حکام کے مطابق، محمد عامر سے تفتیش کی جا رہی ہے اور ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا اس قسم کا مواد جان بوجھ کر یا کسی ایجنڈے کے تحت پھیلایا جا رہا تھا۔

  • باغ میدان میں خوارج کی فائرنگ سے پرامن شہریوں کی شہادت،وزیراعظم کا اظہار افسوس

    باغ میدان میں خوارج کی فائرنگ سے پرامن شہریوں کی شہادت،وزیراعظم کا اظہار افسوس

    وزیراعظم شہباز شریف نے وادی تیراہ کے علاقے باغ میدان میں خوارج کی فائرنگ سے پرامن شہریوں کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    وزیر اعظم نے زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے پرامن شہریوں پر خوارج کی فائرنگ کی شدید مذمت کی اور کہا کہ دہشت گردوں کےمکروہ عزائم ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے،دہشت گردوں اور دہشت گردی کو منطقی انجام تک پہنچا کر دم لیں گے۔

    دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے بھی تیراہ واقعے پر گہرے رنج اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ تیراہ میں جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کے ساتھ مکمل ہمدردی ہے اور واقعے کے بعد قبائلی مشران اور عوامی نمائندوں کا جرگہ پشاور طلب کرلیا۔ان کا کہنا تھاکہ جرگہ طلبی کا مقصد مقامی جذبات اور تحفظات کو سننا ہے، ضلعی انتظامیہ اور ادارے نظم و ضبط برقرار رکھیں۔وزیراعلیٰ نے جاں بحق افراد کیلئے ایک ایک کروڑ اور زخمیوں کیلئے 25، 25 لاکھ روپے پیکج کا اعلان کیا اور کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت پائیدارامن، عوامی تحفظ اور باہمی احترام کے فروغ کیلئے پرعزم ہے، آل پارٹیزکانفرنس میں اِنہی واقعات اورمعاملات کو حل کرنے پرسنجیدگی سے غور کرکے تجاویز مرتب کیں، عمائدین اور مشران کے ساتھ جرگوں کا سلسلہ ڈویژنل اور پھر صوبائی سطح پر اگلے ہفتے سے شروع ہوگا۔

  • بنوں،پولیس کا سرچ آپریشن،دہشتگردوں کا ڈرون ان پر ہی جا گرا

    بنوں،پولیس کا سرچ آپریشن،دہشتگردوں کا ڈرون ان پر ہی جا گرا

    خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں کے علاقہ میریان میں دہشت گردوں کے خلاف ایک اہم پولیس آپریشن کے دوران ایک حیران کن واقعہ پیش آیا، جب دہشت گردوں کا استعمال شدہ ڈرون تکنیکی خرابی یا غلطی کے باعث اُنہی کے ساتھیوں پر گر پڑا، جس کے نتیجے میں متعدد دہشت گردوں کے ہلاک و زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) بنوں سجاد خان نے میڈیا کو بتایا کہ خفیہ اطلاعات پر بنوں کے علاقہ میریان میں دہشت گردوں کی موجودگی کی تصدیق ہوئی تھی، جس کے بعد پولیس نے فوری طور پر مربوط کارروائی کا آغاز کیا۔ آپریشن کے دوران پولیس نے بکتربند گاڑیوں، ڈرون، تھرمل ویپنز اور جدید ہتھیاروں کا استعمال کیا، جبکہ علاقے کا مکمل محاصرہ بھی کر لیا گیا۔آر پی او سجاد خان کے مطابق دہشت گردوں کی جانب سے میریان پولیس اسٹیشن پر کواڈکاپٹر کے ذریعے حملے کی کوشش کی گئی، تاہم اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی کی مدد سے اس حملے کو ناکام بنا دیا گیا۔ اسی دوران دہشت گردوں کا ایک ڈرون نامعلوم وجوہات کی بنا پر اپنے ہی ٹھکانے پر گر گیا، جس سے متعدد دہشت گرد موقع پر ہلاک یا شدید زخمی ہو گئے۔

    سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ دہشت گردوں کی صفوں میں افراتفری اور خوف کا سبب بنا، جبکہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے علاقے میں مکمل الرٹ ہیں۔آر پی او بنوں نے مزید کہا کہ پولیس سکیورٹی فورسز کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور اگر ضرورت پڑی تو علاقے میں مزید آپریشنز کیے جائیں گے تاکہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • خوارج کی ایک اور بزدلانہ کارروائی ، احتجاجی شہریوں پر پہاڑوں سے فائرنگ، تین افراد شہید

    خوارج کی ایک اور بزدلانہ کارروائی ، احتجاجی شہریوں پر پہاڑوں سے فائرنگ، تین افراد شہید

    آج باغ میدان میں مقامی شہری اپنے جائز مطالبات کے حق میں بریگیڈ ہیڈ کوارٹر کے سامنے پرامن احتجاج کر رہے تھے کہ خوارج نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی روایتی بزدلی، مکاری اور فتنہ پروری کا مظاہرہ کیا۔

    موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے خوارج نےقریبی پہاڑوں سے احتجاجی عوام پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں 3 بے گناہ شہری شہید اور 9 شدید زخمی ہو گئے۔قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ حالیہ دنوں میں عوامی جرگے نے سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر خوارج کے خلاف اجتماعی مزاحمت کا اعلان کیا تھا۔ خوارج کو عوامی اتحاد کا یہ فیصلہ ایک خطرہ محسوس ہوا، اسی لیے انہوں نے عوام کو نشانہ بنا کر انتشار پھیلانے کی کوشش کی۔

    سیکیورٹی فورسز نے اعلیٰ پیشہ ورانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے تحمل کا مظاہرہ کیا، کسی قسم کی جوابی کارروائی سے گریز کیا اور فوری طور پر زخمیوں کو ایف سی اسپتال شاکس منتقل کر کے مفت طبی امداد فراہم کی۔یہ حقیقت واضح ہو چکی ہے کہ خوارج اب اُن شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جو ان کے ناپاک عزائم کو مسترد کر چکے ہیں۔ لیکن عوام جانتے ہیں کہ ان کا اصل ہدف علاقے کا امن تباہ کرنا ہے

    اسکے ساتھ ساتھ آگ لگانے کے لئے اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے بھارتی اسپانسرڈ پروپیگنڈا اکاؤنٹ جیسا کے بابا بنارس اور عمران ریاض خان نے جعلی اور پرانی ویڈیوز بھی پوسٹ کرنا شروع کر دی ہیں (نیچے ثبوت حاضر ہے) جو اس بات کا ثبوت ہے کے پاکستان میں بد امنی کی ہر کاروائی کے پیچھے بھارت اور اسکے کرائے پر لئے گئے عمران ریاض جیسے جھوٹ بولنے والے ہی شامل ہیں


    اس صورتحال سے فائدہ اٹھا کے اب پی ٹی آئی نے بھی خیبر میں ایک احتجاج کی کال دے دی ہے- بجائے اس کے کہ یہ لوگ اپنی ذمہ داری قبول کریں ، پی ٹی آئی نے سیاسی گیم شروع کر دی ہے ۔سیکیورٹی فورسز عوام کے تحفظ، خدمت اور فلاح کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہیں، اور خوارج کے خلاف عوام کے ساتھ مل کر بھرپور عزم کے ساتھ کھڑی ہیں۔

    وادی تیراہ کے علاقے باغ میں حالیہ فائرنگ کے افسوسناک واقعے کے بعد پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال کے تناظر میں ایک اہم جرگہ منعقد ہوا۔ اس جرگے میں کمانڈنٹ تیراہ ملیشیا، سول و عسکری حکام، اور مقامی عمائدین نے شرکت کی۔ذرائع کے مطابق، جرگے میں واقعے کی سنگینی پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ حکام نے شہداء کے لواحقین اور زخمیوں کے خاندانوں سے دلی ہمدردی اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مکمل تعاون اور انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی۔اجلاس کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ متاثرین کو فوری ریلیف، شفاف تحقیقات اور مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔ حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوامی تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔جرگے میں وادی میں پائیدار امن کے قیام، مقامی آبادی اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان اعتماد کی بحالی، اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے عملی تجاویز پر غور کیا گیا۔حکام نے اس امر پر بھی زور دیا کہ دیرپا امن و استحکام کے لیے تمام فریقین کو باہمی تعاون سے مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔

    آئی جی خیبر پختونخوا نارتھ نےایف سی ہسپتال میں وادیِ تیراہ میں خوارج کی فائرنگ سے ہونے والے زخمیوں کی عیادت کی،آئی جی ایف سی خیبر پختونخوا نارتھ، میجر جنرل راؤ عمران سرتاج نے فرنٹیئر کور ٹیچنگ ہسپتال میں وادی تیراہ کے زخمیوں کی عیادت کی۔زخمیوں نے آئی جی ایف سی نارتھ کو خوارج کی فائرنگ کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔زخمیوں نے اپنے علاج پر اطمینان کا اظہار کیا۔واقعے کے زخمیوں نے خوارج سے اپنے علاقے کو پاک کرنے اور ایک فوج کے شانہ با شانہ خوارج کے خلاف لڑنے کے عزم کو دہرایا۔زخمیوں نے پاک فوج اور ایف سی نارتھ کا مفت علاج معالجہ فراہم کرنے پر شکریہ ادا کیا۔

  • پی سی بی میں 6 ارب روپے کی بدعنوانی، مالی بے ضابطگیاں ،سوالات اٹھ گئے

    پی سی بی میں 6 ارب روپے کی بدعنوانی، مالی بے ضابطگیاں ،سوالات اٹھ گئے

    آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی جانب سے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی مالی سال 2023-24 کی آڈٹ رپورٹ میں 6 ارب روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں، غیر مجاز ادائیگیوں، مشکوک تقرریوں اور معاہدہ کی خلاف ورزیوں کا انکشاف ہوا ہے۔

    اس ضمن میں دی نیوز میں انصار عباسی کی شائع ہونے سٹوری میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آڈٹ رپورٹ میں پی سی بی کی گورننس، شفافیت اور مالی نظم و ضبط پر سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔فروری تا جون 2024 کے دوران پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی کو یوٹیلٹی، پیٹرول الاونس اور رہائش کے لیے 41.7 لاکھ روپے ادا کیے گئے، جبکہ وہ وفاقی وزیر داخلہ بھی تھے اور ان کے لیے قانونی طور پر یہ فوائد پہلے سے دستیاب تھے۔ آڈٹ رپورٹ میں اس کو غیر قانونی قرار دے کر رقم کی واپسی کی سفارش کی گئی۔

    اکتوبر 2023 میں دو سال کے لیے ماہانہ 9 لاکھ روپے تنخواہ پر میڈیا ڈائریکٹر کی تقرری پر سوالات اٹھائے گئے۔ درخواست، منظوری، معاہدہ اور ملازمت کا آغاز سب ایک ہی دن ہوا، جس پر ڈی اے سی نے مکمل تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انٹرنیشنل میچز کے دوران تعینات پولیس اہلکاروں کے کھانے کے لیے 6 کروڑ 33 لاکھ روپے ادا کیے گئے، حالانکہ سیکورٹی حکومت کی ذمہ داری ہے، نہ کہ پی سی بی کی۔ کراچی میں تین کوچز کو اہلیت کے بغیر بھرتی کیا گیا، جنہیں کل 54 لاکھ روپے ادا کیے گئے۔ اس کی بھی تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔

    دیگر بے ضابطگیوں میں ،ٹکٹنگ کا معاہدہ بغیر مقابلے کے، 12 لاکھ امریکی ڈالر،میچ آفیشلز کو زائد ادائیگیاں، 38 لاکھ روپے،بسوں کی غیر ضروری کرایہ داری، 2 کروڑ 25 لاکھ روپے،پنجاب حکومت کی بلٹ پروف گاڑیوں کے لیے ڈیزل کی ادائیگی، 1 کروڑ 98 لاکھ روپے،سفری معاہدہ بغیر بولی کے، 19 کروڑ 80 لاکھ روپے،میڈیا رائٹس کی کم قیمت پر فروخت، 43 کروڑ 99 لاکھ روپے،گراؤنڈ کی غیر مجاز کرایہ داری، 55 لاکھ روپے،جعلی لیز پر دفتر کا کرایہ، 39 لاکھ روپے،بین الاقوامی براڈکاسٹنگ رائٹس بغیر مقابلے کے، تقریباً 2 کروڑ 74 لاکھ روپے،اسپانسرشپ کی رقم 53 ارب روپے وصول نہ کرنا شامل ہے.

    پی سی بی کے میڈیا ڈائریکٹر نے الزامات پر دی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ تمام بے ضابطگیاں محسن نقوی کے دور میں نہیں ہوئیں، اس لیے سوالات کے جواب سابق چیئرمین سے لیے جائیں۔

    چند ماہ قبل عامر میر نے پریس کانفرنس میں پی سی بی کی ریکارڈ منافع بخش کارکردگی کا دعویٰ کیا تھا، لیکن پھر بھی کھلاڑیوں کو تنخواہیں وقت پر کیوں نہیں ملتیں؟ چار اہم کھلاڑیوں کو 6 ماہ بعد تنخواہ ملی۔اظہر محمود کو پاکستان کے ٹیسٹ ٹیم کوچ کے طور پر برقرار رکھا گیا ہے حالانکہ ان کا ریکارڈ صفر ہے۔اس لئے انکو رکھا گیا کہ انکے معاہدے میں ابھی چھ ماہ باقی ہیں، سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ اگر منافع ہوا ہے تواظہر کو جلد فارغ کیوں نہیں کیا جاتا؟اس کو فیس ادا کر دیتے لیکن ایسا نہیں ہو رہا،یہ سب کچھ مبینہ طور پر کھلاڑیوں کے مینجمنٹ کمپنی کے ذریعے بلیک میلنگ کی وجہ سے ہے،یہ اظہر کا معاہدہ چھوڑنے کی وجہ سے نہیں ہے کہ اس نے اپنی اہلیہ کی پلیئر مینجمنٹ کمپنی کو برقرار رکھا جو شاداب کی طرح بلیک میلنگ کا آلہ بن گیا اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے تمام کھلاڑی اس کمپنی کے ساتھ بطور پلیئر مینجمنٹ ہیں جن میں سلمان علی آغا ٹی ٹوئنٹی کپتان بھی شامل ہیں۔دنیا بھر میں کوئی اور ٹی ٹوئنٹی لیگ پی ایس ایل کے علاوہ سلمان آغا کو نہیں لیتی ،اسکے باوجود وہ پاکستان کے کپتان ہیں،یہ کھلاڑی بورڈ کے لیے اتنے بڑے ہو جاتے ہیں کیونکہ بورڈ خود کرپٹ ہے۔بورڈ کو انکو نکالنے کی ہمت نہیں ہوتی،

    حال ہی میں بنگلہ دیش نے پاکستان کو ایک بار پھر کرکٹ کے میدان میں بری طرح شکست دی ہے، جو پی سی بی کے ناقص انتظامات اور کوچنگ اسٹاف کی کمزوریوں کی واضح نشانی ہے۔پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے غیر ملکی کوچز کی بھرتی اور بعد میں انہیں فارغ کا سلسلہ جاری ہے، جس کی وجہ سے ٹیم کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے۔

    بورڈ میں بدعنوانی اور کرپشن کا راج ہے۔ چار ماہ کی یوٹیلیٹی بل، پٹرول اور رہائش کے نام پر 4.17 ملین روپے کے اخراجات کا انکشاف بھی تشویش ناک ہے۔ جبکہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ایک بات ہے، مگر اس رقم کی اتنی زیادتی سمجھ سے باہر ہے۔پی سی بی کی طرف سے اسپانسرشپ کی رقم میں 5.3 ارب روپے کی عدم وصولی سب سے بڑا دھچکہ ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا یہ رقم کسی غیر قانونی ذریعے، مثلاً بکیاں، کے ذریعے ادا کی گئی ہے؟ ورنہ پی سی بی اسے کیوں وصول نہیں کر پا رہا؟ایک اور اہم سوال یہ بھی ہے کہ بورڈ پولیس کے اخراجات کیسے برداشت کر رہا ہے، جبکہ یہ صوبائی حکومتوں کا کام ہے، بورڈ پولیس کو ادائیگی کیوں کر رہا، اگر انصار عباسی کے الزامات درست نہیں تو پی سی بی کی طرف سے کوئی جواب یا وضاحت کیوں نہیں دی گئی،پی سی بی کیوں خاموش ہے.

  • عافیہ صدیقی کے معاملہ پر حکمران دوغلی پالیسی ترک،مؤقف واضح کریں،خالد مسعود سندھو

    عافیہ صدیقی کے معاملہ پر حکمران دوغلی پالیسی ترک،مؤقف واضح کریں،خالد مسعود سندھو

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ پاکستان کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے حوالہ سے حکمران دوغلی پالیسی ترک کریں اور قوم کے سامنے اپنا واضح اور دوٹوک مؤقف پیش کریں،اسحاق ڈار کا امریکہ میں بیان قوم کے جذبات کی ترجمانی نہیں ،پاکستانی قوم ڈاکٹر عافیہ کی رہائی چاہتی ہے،

    خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ ایک طرف وزیراعظم فوزیہ صدیقی کو تسلیاں دے رہے ہیں کہ حکومت غافل نہیں، جبکہ دوسری جانب وزیر خارجہ اسحاق ڈار امریکا میں بیٹھ کر فرما رہے ہیں کہ ڈاکٹر عافیہ کو سزا منصفانہ قانونی عمل کے تحت ملی۔ یہ منافقانہ طرز حکمرانی قوم مزید برداشت نہیں کرے گی،ڈاکٹر عافیہ کو امریکی عدالتوں نے جھوٹے مقدمے میں سزا دی اور دہائیوں سے قید میں رکھا ہوا ہے،حکمران وعدے تو کرتے ہیں مگر عمل نہیں کرتے، اسحاق ڈار کے بیان کی وزیراعظم تردید کریں اورڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کی کوششیں تیز ہونی چاہئے، ایک طرف پاکستان کی عدالتوں میں عافیہ صدیقی کی رہائی کے لئےدائر درخواست پر حکومت کوئی دلچسپی نہیں دکھا رہی تو وہیں اسحاق ڈار کابیان سامنے آنا اس امر کی نشاندہی ہے کہ حکمران ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی میں دلچسپی نہیں رکھتے، اگر ن لیگی حکومت نے کوئی ایسا فیصلہ تو قوم انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی.

  • خدا بہتر جانتا عافیہ کب تک قید رہیں گی،اسحاق ڈار

    خدا بہتر جانتا عافیہ کب تک قید رہیں گی،اسحاق ڈار

    امریکہ میں پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے امریکی جیل میں موجودعافیہ صدیقی کے بارےے میں گفتگو کی ہے ۔

    امریکی تھنک ٹینک اٹلانٹنک کونسل کو انٹریو میں اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ میرا خیال ہے کہ ہمیں کسی بھی چیز کو سیاست زدہ نہیں کرنا چاہیئے، ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو دی گئی سزا امریکی عدالتی نظام کے تحت قانونی ہے، اور پاکستان کو اس پر کوئی اعتراض نہیں،مثال کے طورپر جب میں کہتا ہوں کہ عافیہ صدیقی کئی دہائیوں سے یہاں ہیں اور خدا بہتر جانتا ہے کہ وہ کب تک یہاں قید میں رہیں گی،میں سوچتا ہوں کہ یہ غیر منصفانہ بات ہوگی ،اگر یہ قانونی کارروائی کے نتیجے میں ایکشن ہوا ہے تو میرا خیال ہے یہی فارمولہ سب پر لاگو ہوتا ہے،کسی کو کوئی استثنیٰ نہیں، اگر آپ ایک مقبول سیاسی رہنما ہیں تو اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ آپ کو لائسنس مل گیا ہے کہ آپ ہتھیار اٹھائیں اور عوام کو اشتعال دلا کر ایک ملک کی فوجی تنصیبات پر حملہ کردیں ،یہ غداری ہے،میں جج نہیں ہوں کہ کوئی فیصلہ کر سکوں