Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • سندھ ہائیکورٹ، جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری منسوخی کا فیصلہ معطل

    سندھ ہائیکورٹ، جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری منسوخی کا فیصلہ معطل

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی جامعہ کراچی کی جانب سے ڈگری منسوخی کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    رجسٹرار جامعہ کراچی عدالت میں پیش ہوئے،سندھ ہائیکورٹ نے جامعہ کراچی کا جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری منسوخی کا فیصلہ معطل کردیا،عدالت نے سنڈیکیٹ اور ان فیئر مینز کمیٹی کی سفارشات پر مزید کسی کارروائی سے بھی روک دیا. رجسٹرار جامعہ کراچی نے کہا کہ ہمیں بدھ کو نوٹس ملا ہے، جواب کے لئے مہلت دی جائے، جسٹس اقبال کلہوڑو نےکہا کہ جواب کے لئے آپکو کتنا وقت چاہیے؟وکیل درخواست گزار نے کہا کہ فریقین کو جواب کے لئے مہلت دیدیں لیکن تب تک آرڈر معطل کردیں، عدالت نے کہا کہ آپ کو مہلت دیتے ہیں لیکن اگر اس دوران درخواست گزار کے خلاف کوئی کارروائی ہو گئی تو کیا ہوگا؟اگر بعد ازاں آرڈر واپس ہوگیا تو درخواست گزار کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کیسے ہوگا؟ڈگری کے معاملے پر کیا متاثرہ فریق کو نوٹس دیا گیا تھا؟ رجسٹرار نے کہا کہ میری پوسٹنگ نئی ہے، مجھے اسکا علم نہیں، عدالت نے کہا کہ آپ اگر عدالت آئے ہیں تو جواب تو دینا پڑے گا،ہوسکتا ہے ذاتی مفاد کے وجہ سے درخواست گزار کے خلاف کارروائی کی گئی ہو، تیس پینتیس سال بعد اگر کوئی درخواست دیتا ہے تو متاثرہ فرد کو بلانا چاہیئے ،فریقین کو سنے بغیر کئے گئے عدالتی فیصلے کی بھی اہمیت نہیں ہوتی، ایکس پارٹی ججمنٹ کو اچھا ججمنٹ نہیں سمجھا جاتا،عدالت نے درخواست کی مزید سماعت 20 نومبر تک ملتوی کردی

  • بلوچستان ،آپریشن کے دوران 7بھارتی سرپرست یافتہ دہشتگرد جہنم واصل

    بلوچستان ،آپریشن کے دوران 7بھارتی سرپرست یافتہ دہشتگرد جہنم واصل

    سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع شیرانی میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 7 بھارتی سرپرست یافتہ دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج کی موجودگی کی اطلاع پر کیا گیا۔ ہلاک دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث تھے، آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔ دہشت گردوں سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا ہے، ممکنہ دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے، سیکیورٹی فورسز ملک سے بھارتی سرپرستی میں دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہیں،سیکیورٹی فورسز کا قوم کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا عزم ہے۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بلوچستان کے ضلع شیرانی میں بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 7 دہشتگردوں کو جہنم واصل کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ نہتے اور معصوم شہریوں کی جان و مال کو نقصان پہنچانے والے بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں کو شکست فاش دی گئی،دہشتگردی کی عفریت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے، حکومت پاکستان اور سیکیورٹی فورسز ملک سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے پر عزم ہیں، پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کے خواہشمند عناصر کو ہرگز کامیاب نہیں ہونے دیں گے،

  • عالمی دباؤ کم کرنے کے لیے اسرائیل نے سوشل میڈیا انفلوئنسرز  خریدنا شروع کر دیئے

    عالمی دباؤ کم کرنے کے لیے اسرائیل نے سوشل میڈیا انفلوئنسرز خریدنا شروع کر دیئے

    غزہ میں جاری مظالم اور عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مخالفت کے باعث اسرائیل نے ایک نئی حکمتِ عملی اپناتے ہوئے امریکی سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو بھاری رقوم کے عوض اپنے حق میں پروپیگنڈہ کرنے پر مامور کردیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حکومت مختلف انفلوئنسرز کو فی پوسٹ 7 ہزار ڈالر تک ادا کر رہی ہے تاکہ وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اسرائیل کے حق میں بیانیہ پھیلائیں۔ یہ ادائیگیاں باضابطہ طور پر امریکی فارن ایجنٹس رجسٹریشن ایکٹ (FARA) کے تحت درج دستاویزات میں ظاہر کی گئی ہیں۔دستاویزات کے مطابق یہ فنڈنگ اسرائیل حکومت کی جانب سے "ہیوس میڈیا گروپ” (Havas Media Group) کے ذریعے کی جا رہی ہے، جس کے ابتدائی بجٹ کا حجم 9 لاکھ ڈالر رکھا گیا ہے۔ اس بجٹ کا نصف حصہ امریکی انفلوئنسرز کی بھرتی اور تربیت پر صرف کیا جا رہا ہے تاکہ انہیں سوشل میڈیا پر اسرائیل کے حق میں مؤثر طریقے سے استعمال کیا جا سکے۔

    مزید انکشاف ہوا ہے کہ اسرائیل نے ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق ڈیجیٹل کیمپین اسٹریٹجسٹ بریڈ پارسکیل کی خدمات بھی حاصل کر لی ہیں۔ انہیں ماہانہ 15 لاکھ ڈالر ادا کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے ہزاروں اسرائیل نواز پیغامات تخلیق کریں اور انہیں مختلف پلیٹ فارمز پر وائرل کر سکیں۔اسی سلسلے میں گزشتہ ہفتے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنے امریکا کے دورے کے دوران نیویارک میں امریکی سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے ایک گروپ سے ملاقات بھی کی۔ اس ملاقات میں ان سے پوچھا گیا کہ وہ اسرائیل کی گرتی ہوئی عالمی حمایت کو دوبارہ کیسے حاصل کریں گے؟اس پر نیتن یاہو کا کہنا تھا: "ہمیں مقابلہ کرنا ہوگا اور ہم اپنے انفلوئنسرز کے ذریعے مقابلہ کریں گے۔”

  • سیلاب،نقصانات کا تخمینہ،پاکستان کا عالمی اداروں سے رابطہ

    سیلاب،نقصانات کا تخمینہ،پاکستان کا عالمی اداروں سے رابطہ

    پاکستان نے بین الاقوامی قرض دہندگان اور ترقیاتی اداروں سے باضابطہ طور پر رابطہ کر لیا ہے تاکہ رواں برس 2025 کے تباہ کن سیلاب سے ہونے والے معاشی و سماجی نقصانات کا درست تخمینہ لگایا جا سکے۔ حکومت نے عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی)، یورپی یونین اور اقوامِ متحدہ ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کو خط لکھتے ہوئے ’’بعد از آفات ضروریات کا جائزہ‘‘ (Post-Disaster Needs Assessment – PDNA) کرانے کی درخواست کی ہے۔

    ذرائع کے مطابق وزارتِ خزانہ نے کہا ہے کہ پاکستان کو ایک مستند اور شفاف تخمینے کی ضرورت ہے تاکہ متاثرہ علاقوں میں بحالی اور تعمیر نو کے منصوبوں کو درست انداز میں تشکیل دیا جا سکے۔وزارتِ خزانہ نے بتایا کہ اگرچہ حکومت پاکستان نے پہلے ہی نقصانات کا ایک ابتدائی تخمینہ تیار کر کے وزیرِاعظم سیکرٹریٹ اور دورہ کرنے والے آئی ایم ایف کے جائزہ مشن سے شیئر کیا تھا، لیکن اس رپورٹ پر اعتراضات اٹھائے گئے۔ تنقید کی بڑی وجہ یہ تھی کہ ابتدائی تخمینے میں کئی غلطیاں موجود تھیں۔ مثال کے طور پر رپورٹ میں بلوچستان کو بھی نقصان زدہ دکھایا گیا، حالانکہ 2025 کے حالیہ سیلابوں نے صوبہ بلوچستان میں کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچایا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی اداروں کی شمولیت سے نقصانات کا تخمینہ زیادہ جامع اور قابلِ اعتماد ہوگا، جس کے بعد عالمی امداد اور فنانسنگ کے حصول میں بھی آسانی پیدا ہوگی۔ پاکستان کو توقع ہے کہ PDNA کے ذریعے ہونے والے تجزیے میں معیشت، بنیادی ڈھانچے، زراعت، صحت اور تعلیم سمیت تمام شعبوں پر سیلاب کے اثرات کو سامنے لایا جائے گا۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی ادارے آئندہ چند ہفتوں میں اپنی ٹیمیں پاکستان بھیج سکتے ہیں جو زمینی حقائق کا جائزہ لے کر تخمینہ رپورٹ تیار کریں گی۔ اس رپورٹ کی بنیاد پر نہ صرف مالی امداد بلکہ پالیسی اصلاحات اور بحالی منصوبوں کے لیے حکمتِ عملی بھی ترتیب دی جائے گی۔

  • کسی بھی مزاحمتی تحریک نے آزادی سے قبل اپنے ہتھیار نہیں ڈالے،حماس

    کسی بھی مزاحمتی تحریک نے آزادی سے قبل اپنے ہتھیار نہیں ڈالے،حماس

    فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام تک ہتھیار نہ ڈالنے کا اعلان کردیا۔

    حماس کے سینئر رہنما محمد نزال نے ایک انٹرویو کے دوران کہاکہ اسرائیلی مطالبہ ہے کہ حماس فلسطینی ریاست کے قیام سے پہلے غیر مسلح ہو جائے لیکن یہ ہمیں کسی صورت قبول نہیں، دنیا کی کسی بھی مزاحمتی تحریک نے آزادی سے قبل اپنے ہتھیار نہیں ڈالے۔ جنوبی افریقہ، افغانستان، ویتنام، الجزائر اور آئرلینڈ میں کبھی بھی مزاحمتی تحریکوں سے غیر مسلح ہونے کا مطالبہ آزادی سے پہلے نہیں کیا گیا،لسطینی مزاحمتی تنظیم اپنے ہتھیار صرف اسی صورت میں چھوڑے گی جب ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست قائم ہوگی،تنظیم امریکی صدر کے منصوبے پر غور کر رہی ہے اور جلد ہی اپنے مؤقف کا باضابطہ اعلان کرے گی تاکہ جلد اس جنگ کا خاتمہ ہوسکے،حماس بطور فلسطینی مزاحمتی قوت فلسطینی عوام کے مفاد میں فیصلہ کرنے کا حق رکھتی ہے۔

    یاد رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے رواں ہفتے 20 نکاتی منصوبہ پیش کیا تھا جس میں فوری جنگ بندی، یرغمالیوں اور قیدیوں کا تبادلہ، اسرائیلی فوج کا مرحلہ وار انخلا، حماس کا غیر مسلح ہونا اور ایک عبوری حکومت کا قیام شامل ہے،ٹرمپ نے منگل کو حماس کو 3 سے 4 دن کا الٹی میٹم دیا تھا کہ وہ اس منصوبے پر آمادگی ظاہر کرے

  • اسرائیلی وزیر دفاع کا غزہ کے باسیوں‌کو انخلا کا حکم

    اسرائیلی وزیر دفاع کا غزہ کے باسیوں‌کو انخلا کا حکم

    اسرائیل اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہ آیا، وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے ایک بار پھر غزہ شہر کے تمام شہریوں کو علاقے سے انخلا کا حکم دیدیا۔

    وزیردفاع نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں وارننگ دی کہ یہ غزہ سٹی کے رہائشیوں کے لیے آخری موقع ہے کہ وہ اس شہر سے نکل کر جنوبی غزہ پٹی کی طرف چلے جائیں۔انہوں نے لکھا کہ اس کے بعد جو بھی فلسطینی وہاں موجود رہیں گے، انہیں دہشت گرد اور دہشت گردوں کا حامی تصور کیا جائے گا، اس تنبیہ کے بعد بھی جو فلسطینی غزہ شہر میں مقیم رہیں گے تو انہیں بھرپور طاقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    رپورٹس کے مطابق گزشتہ ماہ بڑے فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد سے قحط زدہ غزہ شہر سے اب تک تقریباً 4 لاکھ فلسطینی نقل مکانی کرچکے ہیں،غزہ کے باسیوں نے بتایا کہ نقل مکانی کے دوران راستے میں بھی صیہونی فوج کی اندھا دھند بمباری کا سلسلہ جاری رہتا ہے،ایک متاثرہ فلسطینی حسین الدل کا کہنا تھا کہ ہم گھروں سے ننگے پاؤں نکلے، اسرائیلی فوج کے حملوں کے باعث بچا کچا سامان بھی نہیں اٹھاسکے

  • آئی سی سی ویمن  ورلڈکپ،تیسرا میچ،بنگلہ دیش  نے پاکستان کو 7 وکٹوں سے ہرا دیا

    آئی سی سی ویمن ورلڈکپ،تیسرا میچ،بنگلہ دیش نے پاکستان کو 7 وکٹوں سے ہرا دیا

    آئی سی سی ویمن ورلڈکپ کے تیسرے میچ میں بنگلادیش ویمن ٹیم نے پاکستان ویمن ٹیم کو 7 وکٹوں سے ہرادیا۔
    سری لنکا کے شہرکولمبو میں کھیلےگئے میچ میں پاکستانی کپتان فاطمہ ثنا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا جو کہ غلط ثابت ہوا۔ پاکستان کی پوری ٹیم 39 ویں اوور میں صرف 129 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی،گرین شرٹس کی اننگ کا آغاز ہی تباہ کن تھا، معروفہ اختر نے پہلے اوور میں ہی عمیمہ سہیل اور سدرہ امین کو صفر پر آؤٹ کر دیا،اس کے بعد منیبہ علی اور رامین شمیم نے 42 رنز کی محتاط شراکت قائم کی، لیکن دونوں جلد ہی آؤٹ ہو گئیں اور پاکستان کا اسکور 13.4 اوورز میں 4 وکٹ کے نقصان پر 47 ہوگیا،رامین شمیم 39 گیندوں پر 2 چوکوں کی مدد سے 23 رنز کے ساتھ پاکستان کی ٹاپ اسکورر رہیں جب کہ منیبہ نے 35 گیندوں پر 17 رنز بنائے،ان کے بعد عالیہ ریاض 13، سدرہ نواز 15 اور کپتان فاطمہ 22 رنز بناسکیں اور اسکور 29.3 اوورز میں7 وکٹوں کے نقصان پر 100 ہوگیا،نمبر 9 پر آنے والی بیٹر ڈیانا بیگ نے ناقابل شکست 16 رنز کی اننگ کھیل کر پاکستان کا اسکور 129 تک پہنچایا۔

    بنگلا دیش کی جانب سے نشیتا اختر نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے 3.3 اوورز میں صرف 5 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں۔ معروفہ اختر اور ناہیدہ اختر نے 2،2 وکٹیں حاصل کیں جب کہ ربیعہ خان نے بھی ایک وکٹ لی۔

    پاکستان کی جانب سے دیےگئے 130 رنز کے آسان ہدف کو بنگلا دیش نے صرف 3 وکٹوں کے نقصان پر پورا کرلیا،بائیں ہاتھ کی اوپنر روبیہ حیدر نے 77 گیندوں پر 8 چوکوں کی مدد سے ناقابل شکست 54 رنز بنا کر ٹیم کی جیت کو یقینی بنایا،کپتان نگار سلطانہ نے 44 گیندوں پر 5 چوکوں کی مدد سے 23 رنز اسکور کیے۔ دونوں کے درمیان تیسری وکٹ کے لیے 62 رنز کی میچ وننگ شراکت بنی،اس کے علاوہ، مڈل آرڈر بیٹر سوبھانا موستاری نے بھی 19 گیندوں پر 6 چوکوں کی مدد سے 24 رنز بنا کر ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کیا،پاکستان کی جانب سے رامین شمیم، ڈیانا بیگ اور کپتان فاطمہ ثنا نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔

  • پولیس تشدد کے واقعے پر صحافیوں سے غیر مشروط معافی مانگتا ہوں،طلال چوہدری

    پولیس تشدد کے واقعے پر صحافیوں سے غیر مشروط معافی مانگتا ہوں،طلال چوہدری

    وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ وزارت داخلہ، اسلام آباد پولیس کی طرف سے معافی مانگتا ہو۔

    نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ مجھے وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے بھیجا ہے، پولیس تشدد کے واقعے پر صحافیوں سے غیر مشروط معافی مانگتا ہوں،

    خیال رہے کہ اسلام آباد پولیس نیشنل پریس کلب میں داخل ہوگئی تھی، جہاں کیفے ٹیریا میں توڑ پھوڑ کی اور صحافیوں پر تشدد بھی کیا گیا تھا،صدر پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ (پی ایف یو جے) افضل بٹ کا کہنا ہے کہ پریس کلب کے عہدیداروں سے رابطہ نہیں کیا گیا، پریس کلب کے عہدیداروں اور ملازمین پر تشدد کیا گیا،افضل بٹ نے کہا کہ پولیس کو پریس کلب میں داخل ہونے پر جواب دینا ہوگا، پولیس کی اس کارروائی کے خلاف بھرپور احتجاج کریں گے، پولیس نے کیمرا مینز کے کیمرے اور موبائل فون چھیننے کی کوشش کی

  • سپریم کورٹ، مخصوص نشستوں کے فیصلے پر نظرِ ثانی درخواستوں کا تفصیلی فیصلہ جاری

    سپریم کورٹ، مخصوص نشستوں کے فیصلے پر نظرِ ثانی درخواستوں کا تفصیلی فیصلہ جاری

    سپریم کورٹ آف پاکستان نے مخصوص نشستوں کے فیصلے پر نظرِ ثانی کی درخواستوں کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔

    47 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس عقیل عباسی کا اختلافی نوٹ اور جسٹس صلاح الدین پنہور کا سماعت سے الگ ہونے کی وجوہات پر الگ نوٹ بھی شامل ہے۔جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس محمد علی مظہر الگ وجوہات تحریر کریں گے۔سپریم کورٹ نے نظرِ ثانی درخواستیں منظور کرتے ہوئے 27 جون کو فیصلہ سنایا تھا۔تفصیلی فیصلے کے مطابق ریویو پٹیشنز صرف آئینی بینچ ہی سن سکتا ہے، 13 رکنی آئینی بینچ کے سامنے نظرِ ثانی درخواستیں سماعت کے لیے مقرر کی گئیں، آئینی بینچ کے 11 ججوں نے فریقین، اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرلز کو بھی نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا۔تفصیلی فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ بینچ کے 2 ارکان نے مختلف رائے دی اور ریویو پٹیشنز مسترد کر دیں جبکہ 2 ججز نے حتمی فیصلہ سنا کر مزید کارروائی میں حصہ نہیں لیا۔تفصیلی فیصلے کے مطابق مخصوص نشستوں کے 12 جولائی 2024ء کے اکثریتی فیصلے میں نئی ٹائم لائنز مقرر کی گئیں، نئی ٹائم لائنز انتخابی شیڈول، الیکشن ایکٹ کی دفعات اور آئین کے آرٹیکل 51 اور 106 کے منافی تھیں، آئین اور قانون کے برخلاف ماضی سے مؤثر، نئی ٹائم لائنز مقننہ کا اختیار ہے عدالت کا نہیں، نئی ٹائم لائنز مقرر کر کے ہدایات کے ذریعے عدالت نے عدالتی اختیار کی حد سے تجاوز کیا۔

    تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عدالت نے دائرہ اختیار سے باہر جا کر اقدام کیا اور آئین کے آرٹیکل 175(2) کی خلاف ورزی کی، نئی ٹائم لائنز، ہدایات ناصرف آئینی اور قانونی دفعات کی خلاف ورزی تھے، اس میں آئین میں درج اختیارات کی علیحدگی کے اصول کو بھی پامال کیا گیا، عدالت نے اپنی واضح حدود سے آگے بڑھ کر قانون سازی کے میدان میں مداخلت کی۔تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ 12 جولائی 2024ء کا اکثریتی فیصلہ آئین میں دیے گئے جمہوری اقدار اور اصولوں کی بھی کھلی خلاف ورزی تھا، مخصوص نشستوں پر انتخابات، بلاشبہ بالواسطہ اور بلاشبہ تناسبی نمائندگی کے اصول پر مبنی تھے، 12 جولائی کے اکثریتی فیصلے میں عوام کی مرضی اور آئین کے حکم کو نظر انداز کیا گیا، 12 جولائی 2024ء کے اکثریتی فیصلے میں آئین قانون کو نظر انداز کیا گیا،تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ سنی اتحاد کونسل اور اس کے چیئرمین کا کنڈکٹ قابلِ ستائش نہیں تھا، سنی اتحاد کونسل کے وکیل نے 2 دن ابتدائی دلائل دیے اور کیس میں تاخیر کے لیے 2 درخواستیں دیں، مخصوص نشستوں کے کیس کو پریس نے بہت توجہ دی حالانکہ قانون بالکل واضح ہے اور کیس آسان تھا، سنی اتحاد کونسل نے نظرِ ثانی دائر ہی نہیں کی، سنی اتحاد کونسل کے وکیل تو یہ کہتے رہے کہ اس ہار میں بھی میری جیت ہے۔

    سپریم کورٹ نے تفصیلی فیصلے میں کہا ہے کہ پی ٹی آئی نہ سپریم کورٹ، نہ پشاور ہائی کورٹ اور نہ ہی الیکشن کمیشن میں فریق تھی، پی ٹی آئی کے جن امیدواروں کو آر او نے آزاد قرار دیا انہوں نے عدالت سے رجوع نہیں کیا، سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہیں نہیں کہا کہ پی ٹی آئی الیکشن نہیں لڑ سکتی، چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر اور کچھ امیدواروں نے پی ٹی آئی سے الیکشن لڑا،تفصیلی فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ 2024ء کے عام انتخابات میں نامور وکلاء نے پی ٹی آئی کی طرف سے الیکشن لڑا، تعجب ہے کہ ان میں سے کسی وکیل نے آزاد قرار دینے کے فیصلے کو چیلنج نہیں کیا، پی ٹی آئی کے امیدواران نے غلط سمجھا کہ انہیں آزاد قرار دے دیا گیا ہے، پی ٹی آئی کے امیدواران فیصلے کو غلط سمجھنے کے برابر کے ذمے دار ہیں، سپریم کورٹ مکمل انصاف 184 کے تحت کر سکتی ہے،فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مکمل انصاف کے نام پر اس فریق کو ریلیف نہیں دیا جا سکتا جو مقدمے میں فریق ہی نہ ہو، مخصوص نشستوں کے مرکزی کیس میں پی ٹی آئی کو وہ ریلیف دیا گیا جس کا اختیار ہی نہیں تھا، اکثریتی ججز کا اقلیتی ججوں کو نکال کر خصوصی بینچ تشکیل دینا غیر قانونی ہے، آئین میں دی ہوئی ٹائم لائن تو پارلیمنٹ آئینی ترمیم کے ذریعے ہی تبدیل کر سکتا ہے،سپریم کورٹ کا اپنے تفصیلی فیصلے میں کہنا ہے کہ واضح ٹائم لائنز کو تبدیل کرنا اختیارات کی تقسیم کی تکون کے نظریے کے خلاف ہے، سپریم کورٹ کو یہ اختیار کسی نے نہیں دیا کہ تشریح میں آئین کو ہی دوبارہ تحریر کر ڈالے، کسی جج کو قطعی یہ اختیار نہیں کہ وہ اپنی پسند یا ناپسند کی بنیاد پر آئین کی تشریح کرے۔

  • گلوبل صمود  فلوٹیلا میں پاکستان کے شہریوں کی باوقار شرکت کو سراہتا ہوں۔وزیراعظم

    گلوبل صمود فلوٹیلا میں پاکستان کے شہریوں کی باوقار شرکت کو سراہتا ہوں۔وزیراعظم

    وزیر اعظم شہباز شریف نے گلوبل صمود فلوٹیلا میں پاکستانی وفد کی شمولیت کو پاکستانی عوام کی امنگوں اور جذبے کی نمائندگی قرار دے دیا۔

    سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں وزیر اعظم نے کہا میں گلوبل صمود فلوٹیلا میں پاکستان کے شہریوں کی باوقار شرکت کو سراہتا ہوں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ مشتاق احمد خان صاحب، مظہر سعید شاہ صاحب، وہاج احمد صاحب، ڈاکٹر اسامہ ریاض صاحب، اسماعیل خان صاحب، سید عزیز نظامی صاحب اور فہد اشتیاق صاحب سمیت دیگر پاکستانیوں نے انسانی ہمدردی کے اصولوں کے عین مطابق اس عظیم امدادی مشن میں حصہ لیا۔ شہباز شریف نے مزید کہا کہ یہ اقدام پاکستانی عوام کی امن پسند امنگوں، انصاف کے لیے جدوجہد اور ضرورت مندوں کی مدد کے جذبے کی نمائندگی کرتا ہے،حکومتِ پاکستان انسانی جان کے احترام، محفوظ رسائی، اور بلا تعطل امداد کے اصولوں کی حمایت کرتی ہے، اور اپنے شہریوں کی واپسی کا بھرپور مطالبہ کرتی ہے اور ان کی سلامتی، وقار اور جلد از جلد وطن واپسی کے لیے دعاگو اور کوشاں ہے۔

    خیال رہےکہ اسرائیلی وزارت خارجہ کے مطابق فلوٹیلا میں موجود تمام کشتیوں کو اسرائیلی فوج نے قبضے میں لے لیا ہے اور فلوٹیلا میں موجود تمام افراد کو اسرائیل منتقل کیا جارہا ہے جہاں سے انہیں یورپ ڈی پورٹ کیا جائے گا،اسرائیلی فوجی کشتیوں نے گزشتہ شب 40 سے زائد کشتیوں پر مشتمل گلوبل فلوٹیلا کو گھیرے میں لینا شروع کیا اور کئی کشتیوں پر پانی کی توپیں چلائیں۔غزہ کے قحط زدہ عوام کے لیے امداد لے جانے والے اس فلوٹیلا پر پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد اور عالمی شہرت یافتہ سماجی رہنما گریٹا تھنبرگ سمیت 500 کے قریب افراد سوار ہیں۔