Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پنجاب کی تذلیل، نشانہ بنانے والوں کو جواب دوں گی،مریم نواز کا پھر وار

    پنجاب کی تذلیل، نشانہ بنانے والوں کو جواب دوں گی،مریم نواز کا پھر وار

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ میں پنجاب کی تذلیل اور نشانہ بنانے والوں کو جواب دوں گی، پنجاب کی بات وزیراعلیٰ نہیں کرے گی تو اور کون کرے گا۔

    مریم نواز کا کہنا تھا کہ میں نے اپنے لوگوں کی عزت نفس کی بات کی، اس پر کبھی معافی نہیں مانگوں گی،سیلاب آگیا تو مانگنا شروع کردو، پنجاب کے پاس وسائل ہیں، باقی تمام صوبوں کے پاس بھی یکساں وسائل ہیں، وہ کہاں جاتے ہیں، اپنے وسائل سے لاکھوں سیلاب متاثرین کو گھروں میں آباد کریں گے، کبھی لوگوں کو کشکول پکڑنے کا نہیں کہوں گی، ہر چیز کا علاج بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام نہیں ہوتا، این ایف سی کے پیسے سب کو یکساں ملتے ہیں، آپ اپنے پیسے کہاں لگاتے ہیں،پنجاب نہریں نکالنے کی بات کرے تو تکلیف ہو جاتی ہے، پانی چوری نہیں کرنا تھا، چولستان کی زمین کو آباد کرنا تھا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب میں سفارش اور دھاندلی کو فل اسٹاپ لگایا، آج صوبے کے تعلیمی اداروں میں نا پوزیشن بکتی ہے اور نا ہی میرٹ کی پامالی ہوتی ہے، جس ملک میں اتنے ٹاپر ہوں اسے کبھی زوال نہیں آ سکتا، بچوں نے پنجاب اور پاکستان کا نام روشن کیا، پرائیویٹ اور سرکاری اسکولوں کی پڑھائی میں بہت فرق آگیا ہے، میں نے عہد کیا کہ پرائیویٹ سرکاری اسکول کی تعلیم کا فرق ختم کروں گی، آج کل ٹیکنالوجی کا دور ہے، کتاب، پینسل سے گزارہ نہیں، پنجاب میں 80 ہزار بچے اسکالرشپ پر تعلیم حاصل کر رہے ہیں،مجھے خوشی کے بچوں کے خواب چھوٹے نہیں آسمانوں تک پہنچے ہیں، خوشی ہے پنجاب کے بیٹوں سے بڑھ کر بیٹیوں نے پرفارم کیا ہے، ٹاپ کرنے والے مسلمان بچے کا استاد اقلیتی برادری سے تعلق رکھتا ہے، میں نے سفارش اور دھاندلی کو فل اسٹاپ لگایا، آج پوزیشن بکتی ہے نا ہی میرٹ کی پامالی ہوتی ہے، آج پنجاب میں ایگزامینشین سینٹر بکتے نہیں ہیں،کسی بھی سرکاری افسر کا تقرر کرنا ہوتو میں پینل کا انٹرویو خود کرتی ہوں، اگر پینل میں کوئی میرٹ پر نہیں اترتا تو پورا پینل واپس بھیجتی ہوں، آج تک میں نےکسی سفارشی اورمن پسند شخص کا تقرر نہیں کیا،ج میرٹ کی بنیاد رکھ کر جارہی ہوں تاکہ کل کوئی مشکل نہ ہو، اگر آپ کے اندر ٹیلنٹ ہے تو آپ کو کسی سفارش کی ضرورت نہیں، میرے پاس سفارش کے لیے کوئی نہیں آتا،میں اللہ تعالیٰ کو جوابدہ ہوں اور اس کے بعد پنجاب کے عوام کو جوابدہ ہوں، پہلے ہوتا تھا کہ یہ میرا دوست ہے اس کو ٹھیکا دے دو، وہ سارے ٹھیکے میں نے کینسل کردیے،میں آج میرٹ کا راستہ نہیں کھولوں گی تو آپ کو رکاوٹ آئے گی، سرکاری اسکول کو معیاری اسکول بنانا چاہتی ہوں، چاہتی ہوں سرکاری اسکول میں پرائیویٹ اسکول سے بہترین تعلیم ملے، میرا پرائم فوکس نوجوانوں پر ہے۔

  • سیلابوں سےمتعلق فیصلہ کیا کہ فوری طور پر امداد نہیں مانگیں گے ،وزیرخزانہ

    سیلابوں سےمتعلق فیصلہ کیا کہ فوری طور پر امداد نہیں مانگیں گے ،وزیرخزانہ

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ سیلابوں سےمتعلق فیصلہ کیا ہےکہ فوری طور پر امداد نہیں مانگیں گے اور کوشش ہےکہ اپنے زور بازو پر معاملات ٹھیک کریں۔

    پشاور میں پاکستان بزنس سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ ایف بی آر کا کام اب صرف ٹیکس اکٹھا کرنا ہوگا، اگلے سال کا بجٹ ٹیکس پالیسی آفس کی جانب سےدیا جائےگا اور یہ بجٹ مستحکم بجٹ ہوگا،کسی بھی ملک کی ترقی میں پرائیویٹ سیکٹر کا اہم کردار ہوتا ہے، حکومت نے پرائیویٹ سیکٹر کو سازگار ماحول فراہم کرنا ہے، ریگولیٹری میٹریل کی قیمتوں کو کم کیا تاکہ انڈسٹریز چل سکیں، پرائیویٹ سیکٹرکو آگے لے جانا ہے تو ٹیکسز اور دیگر معاملات کو دیکھنا ہوگا تاکہ لوگوں کا اعتماد معیشت پرقائم ہو، گزشتہ چند ہفتوں میں چین، سعودی عرب اور دیگر ممالک کےدورے کیے، ہم نے صرف چین میں 24 معاہدے کیے، امریکا میں ابھی مختلف شعبوں میں معاہدے کیے گئے، یہ سرمایہ کاری بہت اہم ہے، یہ اب امداد نہیں ہے بلکہ تجارت کی جارہی ہے،ہمیں موسمیاتی تبدیلی اور اپنی بڑھتی ہوئی آبادی کےچیلنج کو دیکھنا ہوگا، آبادی 2.3 فیصد شرح سے بڑھ رہی ہے، ہمارے بچوں کی بڑی تعداد غذائی کمی کا سامنا کر رہی ہے،سیلابوں سےمتعلق فیصلہ کیا ہےکہ فوری طور پر امداد نہیں مانگیں گے، کوشش ہےکہ پہلے سیلاب متاثرہ علاقوں میں اپنے زور بازو پر معاملات کو ٹھیک کریں۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ ملک میں معاشی استحکام آگیا ہے، گزشتہ سال ترسیلات زر ساڑھے3 کروڑ ڈالرز کی تھیں، ہمیں امید ہے اس سال ترسیلات زر مزید بڑھیں گی جب کہ نجکاری کے عمل کو حکومتی سطح پر بہتر بنایا جا رہا ہے تاکہ سرمایہ کاری کے مثبت نتائج مرتب ہوں۔

  • گلوبل صمود فلوٹیلا،40 جہاز اسرائیلی تحویل میں، ایک غزہ کے قریب پہنچ گیا

    گلوبل صمود فلوٹیلا،40 جہاز اسرائیلی تحویل میں، ایک غزہ کے قریب پہنچ گیا

    یکم اکتوبر 2025 سے اب تک اسرائیلی فورسز نے غزہ جانے والے امدادی بیڑے "صمود فلوٹیلا” پر کارروائی کرتے ہوئے 46 ممالک کے 500 افراد کو حراست میں لیا ہے ،یہ کارکنان مختلف ممالک سے فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور محصور غزہ کے لیے امداد لے کر روانہ ہوئے تھے۔

    بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فورسز نے غیر قانونی طور پر 20 سے زائد مرتبہ فلوٹیلا کے جہازوں کو روکا اور کارکنان کو گرفتار کیا۔ تاہم اس تمام دباؤ اور رکاوٹوں کے باوجود ایک جہاز میکینو اسرائیلی ناکہ بندی توڑنے میں کامیاب ہوگیا اور بالآخر فلسطینی پانیوں میں داخل ہو گیا،اب یہ انکلیو کے ساحلوں سے تقریباً 20 کلومیٹر دور ہے اور اس وقت غزہ کی پٹی کے قریب ترین جہاز ہے۔صمود فلوٹیلا کی 40 کشتیاں اسرائیل نے تحویل میں لی ہیں، 12 کشتیاں اب بھی غزہ کی طرف رواں دواں ہیں اور اسرائیلی جہاز انکو بھی تحویل میں لینے کی کوشش کر رہے ہیں.

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ "صمود فلوٹیلا” کا مقصد غزہ کی ناکہ بندی کے خلاف عالمی توجہ مبذول کرانا اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر محصور شہریوں تک امداد پہنچانا ہے۔ اس قافلے میں شامل کارکنان میں انسانی حقوق کے کارکن، صحافی اور مختلف ممالک کے سماجی رہنما شامل تھے۔بین الاقوامی برادری نے اسرائیلی کارروائیوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ کی ناکہ بندی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے اور عالمی قوانین کے منافی ہے۔ فلوٹیلا کے منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے اور دنیا کو غزہ میں جاری انسانی بحران سے آگاہ کرتے رہیں گے۔

  • ہماری بادشاہت تو نہیں جو چاہے کردیں،فیصلہ قانون دیکھ کر ہی کرنا،جسٹس منصور علی شاہ

    ہماری بادشاہت تو نہیں جو چاہے کردیں،فیصلہ قانون دیکھ کر ہی کرنا،جسٹس منصور علی شاہ

    سپریم کورٹ میں اختیارات کے غلط استعمال پر برطرف ایس ایچ او کی اپیل پر سماعت ہوئی،

    جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی،وکیل عمیر بلوچ نے کہاکہ دیگر پولیس اہلکاروں کی غلطی تھی اپیل کنندہ کو بے قصور برطرف کیاگیا،جوان آدمی ہے ابھی ساری زندگی پڑی ہے جسٹس عقیل عباسی نے کہاکہ ایس ایچ او تھانے کا کرتا دھرتا ہوتا ہے،کسی عام شہری کو بلاوجہ تھانے میں بند کرنا زیادتی ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ ہماری بادشاہت تو نہیں جو چاہے کردیں،ہم نے قانون کو دیکھ کر ہی فیصلہ کرنا ہے،ساری گواہیاں آپ کے خلاف ہیں،وکیل عمیر بلوچ نے کہاکہ نہ کوئی شکایت ہے نہ ہی کسی نے خلاف گواہی دی،سپریم کورٹ نے درخواست پر فریقین کو نوٹسز جاری کردیئے اورکیس کی مزید سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی کردی۔

  • آئی ایم ایف ہدایت پر سیلاب سے نقصانات کا  ابتدائی تخمینہ تیار

    آئی ایم ایف ہدایت پر سیلاب سے نقصانات کا ابتدائی تخمینہ تیار

    وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف کی ہدایات پر صوبوں میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا نظرثانی شدہ ابتدائی تخمینہ تیار کر لیا۔

    پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ششماہی اقتصادی جائزہ مذاکرات جاری ہیں اور پاکستانی حکام کی جانب سے آئی ایم ایف وفد کو سیلابی نقصانات، لیبر فورس اور ہاؤس ہولڈ سروے پر بریفنگ دی گئی،نجی ٹی وی کے مطابق ذرائع کا بتانا ہے کہ وفاقی حکومت نے سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا نظرثانی شدہ ابتدائی تخمینہ تیار کرلیا ہے، آئی ایم ایف کو فصلوں، انفرا اسٹرکچر اور لائیو اسٹاک سمیت نقصانات پر بریفنگ دی اور بتایا گیا کہ سیلاب سے مختلف صوبوں میں ہونے والے نقصانات 700 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں،سیلاب سے ابتدائی مجموعی نقصانات کا تخمینہ 360 ارب روپے تھا۔

    لیبر فورس اور ہاؤس ہولڈ سروے سے متعلق آئی ایم ایف کی ڈیڈ لائن سے پہلے ہی پیشرفت ہو گئی اور وفاقی حکومت نے نئے پاکستان لیبر فورس سروے کے نتائج آئندہ ہفتے جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے،ذرائع کا کہنا ہے سروے رپورٹ میں پاکستان میں غربت، بے روزگاری، گھرانوں کی آمدن، اخراجات کے رجحان کا ڈیٹا جاری ہو گا، پاکستان سوشل اینڈ لیونگ اسٹینڈرڈ سروے کے نتائج بھی رواں ماہ جاری کیے جائیں گے،ذرائع کا بتانا ہے کہ آئی ایم ایف کو اہم سروے کے فیلڈ ورک اور نتائج کی تیاری پر اعتماد میں لیا گیا، آئی ایم ایف نے سروے کے نتائج دسمبر 2025 تک تیار کرنے کی ڈیڈ لائن دی تھی۔

    ذرائع وزارت خزانہ کا بتانا ہے کہ ادارہ شماریات کی جانب سے اضلاع، صوبوں کی سطح پر مکمل ڈیٹا بیس کی تیاری پر کام جاری ہے اور سیلاب سے نقصانات کا تخمینہ لگانے کا کام ابھی جاری ہے۔

  • راجستھان میں کھانسی کے شربت سے 2 بچوں کی ہلاکت، متعدد بیمار

    راجستھان میں کھانسی کے شربت سے 2 بچوں کی ہلاکت، متعدد بیمار

    راجستھان میں حکومت کی جانب سے تقسیم کیے گئے ایک کھانسی کے شربت کے استعمال سے 2 بچوں کی ہلاکت اور کم از کم 10 دیگر کے بیمار ہونے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ یہ شربت کَی سَن فارما نامی کمپنی تیار کر رہی تھی اور اس میں کیمیکل کمپاؤنڈ ڈیکسرومیتھورفین ہائیڈرو برومائیڈ شامل ہے۔

    پہلا واقعہ ضلع سیکر کے گاؤں چِرانا میں پیش آیا جہاں 5 سالہ نتیش کو کھانسی اور نزلہ ہونے پر کمیونٹی ہیلتھ سینٹر سے یہ شربت تجویز کیا گیا۔ بچے کی والدہ نے رات ساڑھے 11 بجے دوا پلائی۔ رات 3 بجے بچے کو ہچکی آئی، پانی پلانے کے بعد وہ دوبارہ سو گیا لیکن صبح جاگ نہ سکا۔ اسے اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے مردہ قرار دے دیا۔بچے کے چچا پریاکانت شرما نے بتایا”نتیش بالکل ٹھیک تھا اور شام کو نو راتری کے پروگرام میں بھی گیا تھا، لیکن دوا لینے کے بعد صبح اس کی سانس بند ہوگئی۔”

    نتیش کی موت کی خبر آنے کے بعد بھرت پور کے گاؤں ملہا میں ایک خاندان کو بھی احساس ہوا کہ ان کے 2 سالہ بیٹے سمرات کی 22 ستمبر کو ہوئی موت کی وجہ یہی شربت تھا۔ بچے کی ماں جَیوتی نے بتایا کہ اُس نے اپنے بیٹے سمرات، بیٹی ساکشی اور بھتیجے ویرات کو دوا پلائی تھی۔ دوا پینے کے بعد تینوں بے ہوش ہوگئے۔ گھنٹوں بعد ساکشی اور ویرات تو ہوش میں آگئے لیکن سمرات کو بچایا نہ جا سکا۔سمرات کی دادی نے غمزدہ لہجے میں کہا”ہمیں معلوم ہی نہیں تھا کہ دوا جان لیوا بھی ثابت ہوسکتی ہے۔ تین پوتے پوتیاں دوا پی کر سو گئے، دو بچ گئے لیکن میرا سمرات واپس نہیں آیا۔”بیانہ کے ایک واقعے نے معاملے کو مزید سنگین بنا دیا۔ 3 سالہ بچے کے بیمار ہونے پر والدین نے کمیونٹی ہیلتھ سینٹر کے انچارج ڈاکٹر تاراچند یوگی سے شکایت کی۔ اپنی دوا پر اعتماد ظاہر کرنے کے لیے ڈاکٹر نے خود بھی شربت پیا اور ایمبولینس ڈرائیور کو بھی پلایا۔ڈاکٹر اپنی گاڑی میں بھرت پور جاتے ہوئے غنودگی کا شکار ہوئے اور سڑک کنارے گاڑی کھڑی کرکے بے ہوش ہوگئے۔ آٹھ گھنٹے بعد ان کے اہلخانہ نے موبائل لوکیشن سے انہیں ڈھونڈا۔ ڈرائیور کو بھی تین گھنٹے بعد انہی علامات کا سامنا ہوا لیکن وہ علاج کے بعد صحتیاب ہوگیا۔

    بنسوارہ ضلع میں ایک سے پانچ سال کے آٹھ بچے بھی اسی دوا کے استعمال کے بعد بیمار پڑ گئے۔ اگرچہ زیادہ تر بچے علاج کے بعد بہتر ہو گئے، لیکن ایک چھ سالہ بچے کی حالت نازک رہی تھی جو بعد میں سنبھل گیا۔

    واقعات کے بعد راجستھان حکومت نے فوری ایکشن لیتے ہوئے شربت کی 22 بیچز پر پابندی لگا دی اور 1.33 لاکھ بوتلوں کی تقسیم روک دی۔ محکمۂ صحت کے مطابق جے پور کے ایس ایم ایس اسپتال میں موجود 8,200 بوتلوں کو بھی مریضوں کو نہ دینے کی ہدایت دی گئی ہے۔راجستھان میڈیکل سروسز کارپوریشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جئے سنگھ نے کہا”ڈاکٹروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ یہ دوا تجویز نہ کریں۔ تمام بیچز کی جانچ جاری ہے اور کمپنی سے مزید سپلائی روک دی گئی ہے۔”ڈریگ کنٹرولر اجے پھاٹک کے مطابق یہی کمپنی 2023 میں بھی ایک شربت کے معیار پر پورا نہ اترنے کے باعث بلیک لسٹ ہوچکی ہے۔

    این ڈی ٹی وی کی ٹیم نے جب کَی سَن فارما کے فیکٹری کا دورہ کیا تو وہاں تالے لٹکے ہوئے تھے اور مالک ویرندر کمار گپتا دستیاب نہیں تھے۔حکومت نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ دوا میں یا تو فارمولے کی خرابی یا اوور ڈوزنگ کے باعث بچوں پر یہ اثرات مرتب ہوئے۔

  • منور فاروقی کے قتل کی سازش ناکام،گولڈی برار گینگ کے دو شوٹرز گرفتار

    منور فاروقی کے قتل کی سازش ناکام،گولڈی برار گینگ کے دو شوٹرز گرفتار

    نئی دہلی: دہلی پولیس نے ایک مسلح جھڑپ کے دوران معروف بھارتی اسٹینڈ اپ کامیڈین اور بگ باس کے فاتح منور فاروقی کو قتل کرنے کے منصوبے میں ملوث دو شوٹرز کو گرفتار کرلیا۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق گرفتار ملزمان کی شناخت راہول اور ساہل کے ناموں سے ہوئی ہے۔ دونوں کو مبینہ طور پر بیرونِ ملک مقیم گینگسٹر روہت گودارا کی ہدایت پر دہلی بھیجا گیا تھا تاکہ منور فاروقی کو قتل کیا جا سکے۔ بتایا جا رہا ہے کہ گودارا، گولڈی برار اور ویرندر چران کے ساتھ مل کر اس منصوبے پر کام کر رہا تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمان نے ممبئی اور بنگلورو میں منور فاروقی کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے ریکی بھی کی تھی تاکہ حملے کے لیے موزوں وقت اور مقام کا تعین کیا جا سکے۔پولیس کے مطابق جھڑپ کے دوران ملزم راہول کو گولی لگی جسے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ راہول کے خلاف ہریانہ میں دسمبر 2024ء کے تہرے قتل کیس میں بھی تفتیش جاری ہے۔

    دہلی پولیس حکام نے تصدیق کی ہے کہ اس معاملے میں مزید چھاپہ مار کارروائیاں جاری ہیں تاکہ گینگ کے دیگر کارندوں کو بھی گرفتار کرکے کسی بڑے جانی نقصان کو روکا جا سکے۔

    واضح رہے کہ منور فاروقی سوشل میڈیا پر انتہائی مقبول ہیں، انسٹاگرام پر ان کے ایک کروڑ بیالیس لاکھ سے زائد فالوورز ہیں۔ بگ باس جیتنے کے بعد ان کی شہرت میں مزید اضافہ ہوا ہے اور وہ مختلف ریئیلٹی شوز اور اسٹیج پرفارمنس کے ذریعے بھارتی شوبز انڈسٹری میں نمایاں مقام حاصل کرچکے ہیں۔

  • ہوٹل میں شلوار قمیض پر پابندی کیخلاف درخواست قابل سماعت قرار

    ہوٹل میں شلوار قمیض پر پابندی کیخلاف درخواست قابل سماعت قرار

    ہوٹل میں شلوار قمیض پہن کر جانے پر پابندی کے خلاف شہری کی درخواست قابل سماعت قرار دے دی گئی۔

    کراچی کی کنزیومر کورٹ جنوبی میں ہوٹل میں شلوار قمیض پہن کر آنے پر پابندی کے خلاف دائر درخواست کی سماعت ہوئی،درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ 18 مئی کو مقامی ہوٹل میں کھانا کھانےگیا، ویٹر نے بیٹھنے سےمنع کردیا، مینیجرکوشکایت کی تو اس نےشلوار قمیض کو چیپ ڈریسنگ قراردیا،دوران سماعت ہوٹل انتظامیہ نے مؤقف اپنایا کہ شلوارقمیض سمیت تمام دیگر لباس میں ملبوس افرادکا احترام کرتے ہیں اور ہوٹل میں ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا،ابتدائی سماعت میں ہوٹل انتظامیہ کا کہنا تھا کہ کیس کنزیومرکورٹ کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا تاہم عدالت نےہوٹل کے خلاف درخواست قابل سماعت قراردیتے ہوئے اس پر اعتراضات مستردکردیے

  • سعید غنی سے قومی ہیرو کوہ پیما اسد علی میمن کی ملاقات

    سعید غنی سے قومی ہیرو کوہ پیما اسد علی میمن کی ملاقات

    وزیر محنت و افرادی قوت سندھ سعید غنی سے قومی ہیرو کوہ پیما اسد علی میمن نے ملاقات کی۔

    صوبہ سندھ سے تعلق رکھنے والے معروف کوہ پیما اسد علی جنہوں نے دنیا کی بلند ترین چوٹی سر کرنے کے ساتھ ساتھ دنیا کے چھ براعظموں کی بلند ترین چوٹیوں کو سر کیا ہے، انہوں نے گذشتہ روز وزیر محنت و افرادی قوت سندھ سعید غنی سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ کوہ پیما اسد علی میمن دنیا کی چھ براعظموں کی اونچی چوٹیوں کو سر کرنے کے بعد اب دنیا کے ساتویں براعظم کی اونچی ترین اوشنیہ کی چوٹی سر کرنے کے لئے پر اعتماد ہیں۔ اسد علی نے اپنے آنے والی مہم کی آفیشل کٹ بھی وزیر محنت سندھ سعید غنی کو پیش کی۔

    اس موقع پر صوبائی وزیر سعید غنی نے سندھ دھرتی سے تعلق رکھنے والے اس بہادر نوجوان اسد علی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور کہا کہ ہم دعا گو ہیں کہ اسد علی پوری دنیا میں پاکستان کا نام بلند کرنے کے لیے تمام بلندیوں کو چھونے میں کامیاب ہو۔

  • پاکستان نے اپنا وجود کشمیر کی آزادی کے لیے داؤ پہ لگایا ہے اور لگائیں گے،خواجہ آصف

    پاکستان نے اپنا وجود کشمیر کی آزادی کے لیے داؤ پہ لگایا ہے اور لگائیں گے،خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر میں احتجاج کرنے والے مقبوضہ کشمیر کی 3 نسلوں کی جدوجہد پر غور کریں۔

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ جو آپ کو میسر ہے اس کا عشر عشیر کا بھی وہ تصور نہیں کر سکتے، وہ کشمیر کی آزادی کی تاریخ اپنے خون سے لکھ رہے ہیں،اس جدوجہد میں ایک نسل جیلوں میں جوانی سے بڑھاپے میں پہنچ گئی، پھانسی چڑھ گئے سینے پہ گولیاں کھائیں، پاکستان سے محبت کی ہر روز قیمت ادا کرتے ہیں،کشمیر کی جنگوں میں شہید فوجیوں میں پنجابی، پختون، بلوچ اور سندھی سمیت سب شامل ہیں۔ پاکستان نے اپنا وجود کشمیر کی آزادی کے لیے داؤ پہ لگایا ہے اور لگائیں گے، اکتوبر 1947ء میں سرحدپار کرتے وقت ایک لاکھ کشمیری مسلمان شہید ہوئے۔

    یاد رہے کہ آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں عوامی ایکشن کمیٹی کے مسلح عناصر کی جانب سے پولیس پر حملے کیے گئے تھے۔آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں مسلح بلوائیوں کی فائرنگ سے 3 پولیس اہلکار شہید اور 100زخمی ہوگئے تھے۔پولیس ذرائع کے مطابق مسلح بلوائیوں کی فائرنگ سے ایک عام شہری بھی جاں بحق جبکہ متعدد شہری زخمی ہوئے تھے۔