Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • یورپی یونین کی سفیر کی وزیراعظم سے الوداعی ملاقات

    یورپی یونین کی سفیر کی وزیراعظم سے الوداعی ملاقات

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے یورپی یونین (EU) کی سفیر رینا کیونکا نے آج صبح وزیر اعظم ہاؤس میں الوداعی ملاقات کی۔

    یورپی یونین کی سفیر کو پاکستان میں اپنی مدت ملازمت کی کامیابی سے تکمیل پر مبارکباد دیتے ہوئے وزیراعظم نے پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم نے پاکستان میں 2022 کے سیلاب کے دوران یورپی یونین کی جانب سے مدد کو یقینی بنانے میں سفیر کی کوششوں کو سراہا۔

    وزیراعظم نے پاکستان کے سب سے بڑے تجارتی شراکت داروں میں سے ایک کے طور پر یورپی یونین کی اہمیت کو اجاگر کیا اور جی ایس پی پلس اسکیم کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا جو دونوں فریقوں کے لیے باہمی طور پر فائدہ مند ثابت ہوئی تھی۔ وزیر اعظم نے یورپی یونین کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیین کے لیے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ آنے والے دنوں میں ان سے ملاقات کے منتظر ہیں۔

    ملاقات میں پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان ملکی سیاسی پیش رفت سمیت اہم امور بھی زیر بحث آئے۔

    یورپی یونین کی سفیر نے پاکستان میں قیام کے دوران ملنے والے تعاون پر وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یورپی یونین پاکستان کے ساتھ اپنے تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ وزیراعظم کی نیک خواہشات پر اظہار تشکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ برسلز میں اپنی اگلی اسائنمنٹ میں پاکستان اور یورپی یونین کے مضبوط تعلقات کو فروغ دینا جاری رکھیں گی۔

  • کراچی کی تمام سڑکوں پر پارکنگ فیس مکمل ختم

    کراچی کی تمام سڑکوں پر پارکنگ فیس مکمل ختم

    سندھ حکومت نے شہر قائد کے شہریوں کو بڑی خوشخبری دیتے ہوئے کراچی کی تمام سڑکوں پر چارجڈ پارکنگ فیس مکمل طور پر ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    محکمہ بلدیات سندھ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق اب شہر کی کسی بھی سڑک پر کسی ادارے کو پارکنگ فیس وصول کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ صرف مخصوص پلازہ جات، تجارتی پلاٹس یا لوکل کونسلز کے مخصوص مقامات پر ہی پارکنگ فیس لی جا سکے گی، وہ بھی مجاز اتھارٹی کی منظوری سے۔نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ شہر بھر میں سندھ حکومت کا کوئی ادارہ یا ذیلی ادارہ سڑکوں پر پارکنگ فیس وصول نہیں کرے گا۔ اگر کوئی شخص یا ادارہ غیر قانونی طور پر شہریوں سے پارکنگ کے نام پر رقم وصول کرتا ہوا پایا گیا تو اس کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے معاملے پر پیش رفت، وزیرِ اعظم  نےکمیٹی قائم کر دی

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے معاملے پر پیش رفت، وزیرِ اعظم نےکمیٹی قائم کر دی

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے معروف پاکستانی شہری اور امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے کیس میں مزید مؤثر پیش رفت کو یقینی بنانے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس کمیٹی کی سربراہی وفاقی وزیرِ قانون کریں گے، جو ڈاکٹر فوزیہ صدیقی سے مسلسل رابطے میں رہ کر ممکنہ قانونی اور سفارتی معاونت پر کام کرے گی۔

    یہ اعلان آج اسلام آباد میں وزیرِ اعظم شہباز شریف اور ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کے درمیان ہونے والی اہم ملاقات کے بعد سامنے آیا۔ ملاقات کے دوران وزیرِ اعظم نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے مقدمے میں حکومتی سطح پر جاری کوششوں سے آگاہ کیا اور کہا کہ حکومت اس حساس انسانی مسئلے پر کسی قسم کی غفلت کا مظاہرہ نہیں کر رہی۔وزیرِ اعظم نے کہا ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے ہر ممکن سفارتی اور قانونی راستہ اپنایا جائے گا۔ ان کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی جدوجہد قابلِ تحسین ہے، اور حکومت ان کے ساتھ ہر قدم پر کھڑی ہے،

    وزیرِ اعظم آفس کے مطابق اس سے قبل بھی حکومتِ پاکستان کی جانب سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے معاملے پر امریکہ سے مختلف سطحوں پر رابطہ کیا گیا ہے۔ شہباز شریف نے اپنے پچھلے دورِ حکومت میں امریکی صدر جو بائیڈن کو ایک خط بھی لکھا تھا جس میں ڈاکٹر عافیہ کی رہائی اور انسانی بنیادوں پر ان کے ساتھ بہتر سلوک کی اپیل کی گئی تھی۔

    ذرائع کے مطابق نئی تشکیل دی گئی کمیٹی نہ صرف موجودہ قانونی پہلوؤں کا جائزہ لے گی بلکہ سفارتی ذرائع سے بھی امریکی حکومت پر دباؤ بڑھانے کی حکمتِ عملی تیار کرے گی۔ کمیٹی کو یہ ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے کہ وہ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کے خدشات اور مشوروں کو براہِ راست حکومتی پالیسی کا حصہ بنائے۔

    ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں وزیرِ اعظم کی یقین دہانی پر مکمل اعتماد ہے، اور وہ امید کرتی ہیں کہ اب اس معاملے میں حقیقی اور پائیدار پیش رفت ممکن ہو سکے گی۔

  • سینٹ کمیٹیوں کی کارروائی میں عدالتی مداخلت کا انکشاف

    سینٹ کمیٹیوں کی کارروائی میں عدالتی مداخلت کا انکشاف

    سینیٹ کا اجلاس عرفان صدیقی کی زیر صدارت ہوا،

    سینیٹر انوشہ رحمان نے سینیٹ اجلاس میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام پر سوالات اٹھا دیے،انہوں نے کہا کہ آڈٹ کا کوئی میکانزم بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں موجود ہے یا نہیں، مجھے اس کا جواب دے دیں،اس پر وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے جواب دیا کہ آپ نے جو سوالات اٹھائے ہیں وہ بالکل ٹھیک ہیں، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام 2022 میں جب شروع ہوا تو اس کی رقم 2 ارب روپے تھی، بعد میں بی آئی ایس پی کی لاگت بڑھا کر 21.5 ارب روپے کردی گئی ،پیپرا رولز کے تحت بی آئی ایس پی کی پروکیورمنٹ نہیں کی گئی، اب تک 97 ارب روپے بی آئی ایس پی کے تحت تقسیم کیے گئے۔

    سینٹ کمیٹیوں کی کارروائی میں عدالتی مداخلت کا انکشاف سامنے آیا جس پر سینیٹرز برہم ہو گئے،سلیم مانڈوری والا نے انکشاف کیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ اور ایک دوسری ہائی کورٹ سے دو نوٹس موصول ہوئے ہیں،یہ نوٹسز سینیٹ کے کارروائی روکنے جانے کے حوالے سے ہیں۔ عدالتوں نے کمیٹیوں کی کارروائی روکنے کے احکامات دیئے ہیں،عدالتوں نے کہا کہ ہم فلاں معاملے کو کمیٹی میں سن ہی نہیں سکتے،سینیٹ اور قائمہ کمیٹیوں کےچئیرمینوں کو اسے بہت سنجیدگی سے لینا چاہئے،اٹارنی جنرل کو طلب کرکے اس معاملے پر وضاحت طلب کی جائے،

  • درخواست ضمانت مسترد ہونے کے بعد فوری گرفتاری ضروری ہے،سپریم کورٹ

    درخواست ضمانت مسترد ہونے کے بعد فوری گرفتاری ضروری ہے،سپریم کورٹ

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل درآمد نہ ہونے سے متعلق فیصلہ جاری کردیا۔

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے 4 صفحات پر مشتمل حکمنامہ جاری کیا ہے۔ ملزم زاہد خان نے درخواست ضمانت کے حوالے سے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی،چیف جسٹس یحییٰ‌آفریدی نے حکمنامہ میں کہا کہ قبل از گرفتاری درخواست ضمانت مسترد ہونے کے بعد فوری گرفتاری ضروری ہے، صرف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرنا گرفتاری کو نہیں روک سکتا، عبوری تحفظ خودکار نہیں، عدالت سے واضح اجازت لینا ضروری ہے،ہ ملزم زاہد خان و دیگر کی ضمانت لاہور ہائیکورٹ سے مسترد ہوئیں، ضمانت مسترد ہونے کے بعد بھی 6 ماہ تک پولیس نے گرفتاری کے لیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا، عدالتی احکامات پر فوری عملدرآمد انصاف کی بنیاد ہے،آئی جی پنجاب نے غفلت کا اعتراف کرتے ہوئے عدالتی احکامات پر عملدرآمد کا سرکلر جاری کرنے کی یقین دہانی کرائی، غیر قانونی تاخیر سے نظامِ انصاف اور عوام کا اعتماد مجروح ہوتا ہے،اپیل زیرِ التوا ہو تو بھی گرفتاری سے بچاؤ ممکن نہیں، جب تک کوئی حکم نہ ہو۔

  • بھارتی کرکٹر پر ایک اور خاتون نے جنسی زیادتی کا الزام عائد کر دیا

    بھارتی کرکٹر پر ایک اور خاتون نے جنسی زیادتی کا الزام عائد کر دیا

    بھارت کے معروف فاسٹ بولر اور رائل چیلنجر بنگلور کے کھلاڑی یش دیال ایک بار پھر تنازعے میں گھر گئے ہیں۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق، جے پور کی ایک خاتون نے یش دیال پر جنسی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔

    خاتون کی جانب سے دیے گئے الزامات کی بنیاد پر جے پور پولیس نے یش دیال کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق، اس معاملے کی تفتیش جاری ہے اور متاثرہ خاتون کے بیان قلمبند کیے جا رہے ہیں۔یہ پہلا موقع نہیں جب یش دیال ایسے الزامات کا سامنا کر رہے ہوں۔ کچھ عرصہ قبل غازی آباد کی ایک خاتون نے بھی ان پر جنسی استحصال اور ذہنی و جسمانی تشدد کے الزامات لگائے تھے۔ اس خاتون کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے یش دیال کے ساتھ تقریباً پانچ سال تک تعلق قائم رکھا، جس دوران یش دیال نے نہ صرف ان کے ساتھ بدسلوکی کی بلکہ شادی کا جھانسہ دے کر مالی طور پر بھی استحصال کیا۔غازی آباد کی خاتون نے یہ الزام بھی لگایا تھا کہ یش دیال نے ان سے کئی بار جسمانی اور ذہنی تشدد کیا، اور ان کے جذبات سے کھیل کر انہیں شدید نقصان پہنچایا۔

  • اسرائیل میں مغربی کنارے پر قبضے کی قرارداد،پاکستان کی مذمت

    اسرائیل میں مغربی کنارے پر قبضے کی قرارداد،پاکستان کی مذمت

    پاکستان نے اسرائیلی پارلیمنٹ کی جانب سے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے پر خودمختاری کی کوشش کی شدید مذمت کی ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے مذمتی بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی پارلیمنٹ کی جانب سے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے پر خودمختاری کی کوشش بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے،اسرائیل فلسطینی عوام کے حقوق کو مسلسل پامال کر رہا ہے، یہ یکطرفہ اقدامات امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں، یہ اقدامات خطے کے استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں، پاکستان عالمی برادری سے اسرائیل کو جوابدہ بنانے کا مطالبہ کرتا ہے، ایسے اقدامات فلسطین کی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتے، آزاد فلسطینی ریاست کا قیام مسئلے کا واحد پائیدار حل ہے، پاکستان فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی مکمل حمایت کرتا ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز اسرائیل نے ایک اور متنازع قدم اٹھاتے ہوئے اپنی پارلیمنٹ میں مغربی کنارے پر قبضے کی قرارداد منظور کی تھی۔

  • عمران خان اور شبلی فراز کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ جاری

    عمران خان اور شبلی فراز کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ جاری

    لاہور کی کینٹ کچہری کی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان اور پارٹی رہنما شبلی فراز کے خلاف اسلام آباد پولیس پر مبینہ حملے کے مقدمے میں ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کر دیے ہیں۔ یہ مقدمہ عمران خان کی رہائش گاہ کے باہر پیش آنے والے واقعے کے سلسلے میں درج کیا گیا ہے۔

    عدالت نے عمران خان کو طلبی کے سمن بھی جاری کیے ہیں جو جیل روبکار کے ذریعے انہیں فراہم کیے جائیں گے۔ عدالت نے اس کیس کی مزید سماعت 30 جولائی کو مقرر کی ہے تاکہ دونوں ملزمان کو موقع دیا جا سکے کہ وہ عدالت میں پیش ہو کر اپنا موقف پیش کریں۔یہ مقدمہ تھانہ ریس کورس پولیس کی طرف سے درج کیا گیا ہے،

  • راولپنڈی بڑی تباہی سے بچ گیا،فتنہ الخوارج کا خطرناک دہشت گرد گرفتار

    راولپنڈی بڑی تباہی سے بچ گیا،فتنہ الخوارج کا خطرناک دہشت گرد گرفتار

    سی ٹی ڈی پنجاب اور حساس ادارے نے ایک کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں فتنہ الخوارج کے انتہائی خطرناک دہشت گرد "موسیٰ” کو گرفتار کر لیا ہے۔ ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق گرفتار دہشت گرد کے قبضے سے بھاری مقدار میں بارودی مواد، اسلحہ، ہینڈ گرنیڈ، پرائما کارڈ، ڈیٹونیٹر، ریموٹ کنٹرول بٹن، حفاظتی فیوز وائر (7 فٹ)، اور گولیاں برآمد کی گئی ہیں۔

    ترجمان کے مطابق دہشت گرد راولپنڈی میں حساس مقامات پر دہشت گردی کے لیے ریکی مکمل کر چکا تھا اور چند روز قبل ایک حساس مقام کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل بھی کر چکا ہے۔ دہشت گرد افغانستان میں متعدد بار ٹریننگ کے لیے جا چکا ہے اور فتنہ الخوارج کے ایک اہم کمانڈر سے مسلسل رابطے میں تھا۔کارروائی کے دوران سی ٹی ڈی نے دہشت گرد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔ ترجمان کے مطابق اس بروقت کارروائی سے راولپنڈی ایک بڑے سانحے سے بچ گیا۔

    کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ پنجاب مستعدی سے پنجاب کو محفوظ بنانے کیلئےاپنے اہداف پر عمل پیرا ہے اور اس عزم کا اظہار کرتا ہے کہ دہشت گردوں اور ریاست دشمن عناصر کو سلاخوں کے پیچھے پہنچانے کی کوششوں میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔ ترجمان کے مطابق دہشتگردوں کےمتعلق کسی بھی معلومات کی صورت میں کاونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی ہیلپ لائن نمبر 080011111 پر کال کریں

  • مودی سرکار کا ہندوتوا ایجنڈا: آسام اور ناگا لینڈ میں نسلی کشیدگی میں اضافہ

    مودی سرکار کا ہندوتوا ایجنڈا: آسام اور ناگا لینڈ میں نسلی کشیدگی میں اضافہ

    مودی سرکار کا ہندوتوا ایجنڈا بھارتی ریاستوں میں فرقہ وارانہ کشیدگی کا سبب بن چکا

    بی جے پی کی پالیسیوں نے ناگا لینڈ اور آسام کے درمیان خلیج کو گہرا کر دیا، نسلی تنازعے کا خدشہ بڑھ گیا،آسام میں جاری مسلم مخالف جبری بے دخلی مہم کا اثر ناگا لینڈ کے قبائلیوں تک پہنچ گیا،جولائی 2025 کے اوائل میں آسام میں بی جے پی حکومت نے بڑے پیمانے پر انہدامی کارروائیاں کیں،آسام کےدھوبڑی، گولپاڑا اور نلباری اضلاع بے دخلی کی کارروائیوں سے متاثر ہوئے ،بے دخلی مہم سے تقریباً 10 ہزار بنگالی نژاد مسلمان متاثر ہوئے جو کئی دہائیوں سے آباد تھے

    دی نیو انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق "آسام کی بے دخلی مہموں کے باعث ناگا لینڈ میں بے گھر افراد کی ممکنہ داخلے پر تشویش بڑھ گئی ہے”کونیاک اسٹوڈنٹس یونین کا مونس ضلع میں سخت نگرانی اورداخلی راستوں پر 100 رضا کاروں کی تعیناتی کا اعلان، تیزیت اور ناگینومورا علاقوں میں طلبہ یونین کے رضا کار روزانہ نگرانی کریں گے، رضا کاروں کا کام غیر مقامی افراد کے آئی ایل پی اور دستاویزات کی جانچ کرنا ہے، کونیاک طلبہ تنظیم نے بغیر دستاویزات کے افراد کو فوری واپس بھیجنے کا حکم دیا،

    کونیاک اسٹوڈنٹس یونین نےبیان کے مطابق”مونس ضلع میں آئی ایل پی جاری کرنے پر کم از کم ایک ماہ کے لیے پابندی لگانے کی اپیل کرتے ہیں”تمام یونٹس اور متعلقہ حکام سے سخت پابندی کی توقع ہے تاکہ ہمارے مقامی حقوق اور سلامتی کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے، ناگالینڈ کی ویسٹرن سُمی اسٹوڈنٹس یونین نے غیر قانونی تارکین وطن کی موجودگی پر تشویش ظاہر کی، ویسٹرن سُمی اسٹوڈنٹس یونین کے مطابق "آسام-ناگا لینڈ سرحد کے پاس غیر قانونی تارکین وطن رہ رہے ہیں”اس صورتحال سے ہمارے حساس سرحدی علاقوں میں تصادم، بے دخلی اور آبادیاتی دباؤ کے خطرات بڑھ جاتے ہیں،

    آسام کے چیف منسٹر ہمنت بسوا سرما کے مطابق "حکومت نے تجاوزات کرنے والوں سے 1.29 لاکھ بیگھا زمین واپس لے لی ہے اور یہ مہم جاری رہے گی”

    بی جے پی حکومت کی پالیسیوں نے بین الریاستی تناؤ، فرقہ وارانہ نفرت اور نسلی تصادم کو ہوا دی ہے ،آسام کا بحران اب محض ایک ریاستی مسئلہ نہیں رہا، مودی حکومت کی پالیسیوں نے پورے شمال مشرق کو فرقہ وارانہ آگ میں جھونک دیا ہے