Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • کراچی وائرل ویڈیو،اعزاز سید بھی ریٹنگ کے چکر میں،پروپیگنڈے،جھوٹ کی ترویج میں شامل

    کراچی وائرل ویڈیو،اعزاز سید بھی ریٹنگ کے چکر میں،پروپیگنڈے،جھوٹ کی ترویج میں شامل

    کچھ نام نہاد اعزاز سید جیسے”تحقیقی صحافی” درحقیقت صحافی نہیں ، نہ تحقیق، نہ تصدیق، نہ زمینی حقائق کی پڑتال، بس ایک جذباتی ویڈیو دیکھی، اس پر جھوٹ، پروپیگنڈا اور ڈرامہ چڑھایا، اور ریٹنگ و ویوز کے لالچ میں سوشل میڈیا پر کچرا پھینک دیا۔ کوئی ٹحقیق بھی فرما لیتے۔

    “واقعہ ایک پرائیویٹ ھاؤسنگ سوسائیٹی کی بلڈنگ کے گراؤنڈ فلور پر موجود دو کیفے مالکان (خاتون اور مرد) کے درمیان پلازہ کے سامنے والے خالی پلاٹ پر قبضہ کرنے اور میزیں لگانے کے معاملے پر پیش آیا۔ سیکیورٹی عملے نے موقع پر پہنچ کر دونوں پر واضح کیا کہ سامنے پلاٹ کسی کی ملکیت نہیں ہے، لہٰذا اس کا تجارتی استعمال ممنوع ہے۔لہذاٰ پلاٹ استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

    یہ لوگ خبر نہیں بناتے، ب خبر کو سنسنی خیزی کا لبادہ پہناتے ہیں۔ انہیں نہ سچ سے دلچسپی ہے، نہ متاثرہ فریق سے، نہ قانون سے، نہ حقائق سے۔ ان کی پوری صحافت کا خلاصہ یہ ہے “پہلے پوسٹ کرو، بعد میں سوچو، یا بالکل نہ سوچو۔” افسوس یہ ہے کہ ہمارے ہاں کچھ اتنے سادہ لوح، نااہل اور غیر پیشہ ور لوگ خود کو تحقیقاتی صحافی کہتے ہیں، حالانکہ ان کی “تحقیق” صرف اتنی ہوتی ہے کہ وائرل ویڈیو دیکھی، جذباتی کیپشن لگایا، دو لوگوں کو ٹیگ کیا اور جھوٹا بیانیہ بیچنا شروع کر دیا۔

    یہ صحافت نہیں، یہ سستی شہرت کا گھناؤنا کاروبار ہے۔
    نہ ریکارڈ چیک کیا، نہ متعلقہ ادارے سے مؤقف لیا، نہ زمین کی اصل قانونی حیثیت دیکھی ، بس ویوز کے نشے میں جو سامنے آیا، وہی پوسٹ کر دیا۔ ایسے لوگ دراصل سچ کے نہیں، سنسنی پھیلانے کے دلاّل ہیں۔ عقل وفہم سے عاری۔ ان کا مقصد حقائق سامنے لانا نہیں بلکہ عوام کے جذبات بھڑکا کر اپنی دکان چمکانا ہے۔ یہ رویہ صرف غیر ذمہ داری نہیں بلکہ صحافتی بددیانتی کی بدترین شکل ہے۔ جب صحافی تحقیق چھوڑ کر افواہ فروشی پر اتر آئے تو وہ معاشرے کی رہنمائی نہیں کرتا بلکہ گمراہی، اشتعال اور بے اعتمادی پھیلاتا ہے۔جو شخص تحقیق کے بغیر الزام اچھالے، وہ صحافی نہیں، فیکٹری میڈ پروپیگنڈسٹ ہے۔

    آج کل اعزاز سید جیسے صحافیوں کو سچ سے زیادہ اپنے ویوز عزیز ہیں، حقائق سے زیادہ اپنی ریچ پیاری ہے، اور پیشہ ورانہ دیانت سے زیادہ اپنی ریٹنگ کی فکر ہے۔ اسی لیے یہ لوگ ہر جذباتی ویڈیو کو “انویسٹی گیشن” اور ہر جھوٹے الزام کو “بریکنگ” بنا دیتے ہیں۔ اعزاز سید جیسے صحافی نہیں، ویوز کے بھوکے افواہ فروش ہیں۔ تحقیق ان کے بس کی بات نہیں، ڈرامہ بیچنا ان کا اصل ہنر ہے۔ ایک جھوٹ سے بھر پور جذباتی وائرل کلپ ملا اور یہ “تحقیقی صحافت” کے نام پر جھوٹ کی دکان کھول کر بیٹھ گئے۔ سچ کی تلاش نہیں، ریٹنگ کی تلاش ان کا اصل ایجنڈا ہے۔ ایسے نام نہاد صحافی خبر نہیں دیتے، فساد کو فیڈ کرتے ہیں۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر عمار سولنگی کہتے ہیں کہ بدقسمتی سے اس پوسٹ کی طرف سےاعزاز سید
    ہماری صحافت کی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔ وہ ایک تحقیقاتی صحافی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن وہ صرف اس لیے حرکت میں آیا کیونکہ اس نے سوشل میڈیا پر ایک سنسنی خیز ویڈیو دیکھی ہے۔ اور نام نہاد صحافی نے صدر پاکستان کے علاوہ کسی اور کو ٹیگ نہیں کیا اور اس میں کسی اور کو نہیں بلکہ صدر پاکستان کی بیٹی کو شامل کیا ہے۔اور یہ سب حقائق کو جانچے بغیر۔یہ کچھ حقائق ہیں جو مجھے سندھ کے صحافی ہونے کے ناطے چند منٹوں میں معلوم ہو گئے۔

    کیس کا تعلق زمین کے قبضہ یا اس کے پلاٹ یا اس سے متعلق کسی دھوکہ دہی سے نہیں ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ وہ کراچی کی ایک ہاؤسنگ سوسائٹی میں کمرشل پلازہ کے گراؤنڈ فلور پر ایک دکان کی مالک ہے۔ وہ اور اس کے پڑوسی دکان کے مالک، دونوں نئے قائم کردہ / تجدید شدہ کیفے ٹیریا کے مالک ہیں۔ دونوں باہر بیٹھنے کے لیے سامنے کا لان/سبز جگہ استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ دونوں فریقوں کے درمیان ایک ہی سبز جگہ کے استعمال پر جھگڑا ہوا اور اسی وجہ سے خاتون کو پڑوسی کیفے کے مالک کے خلاف وضاحتیں/الزامات لگاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ہاؤسنگ سوسائٹی کی انتظامیہ پہلے ہی مداخلت کر چکی ہے اور دونوں فریقوں کو بتا چکی ہے کہ کسی کو بھی اس سبز جگہ کے استعمال کی اجازت نہیں ہے۔

  • کراچی میں نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں تنازعہ،ادھوری ویڈیو،تحقیقاتی صحافت پر سوالات

    کراچی میں نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں تنازعہ،ادھوری ویڈیو،تحقیقاتی صحافت پر سوالات

    کراچی میں ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں پیش آنے والے حالیہ تنازعے کو سوشل میڈیا پر بڑھا چڑھا کر پیش کیے جانے کے بعد حقیقت سامنے آ گئی ہے، جس نے نام نہاد تحقیقاتی صحافت پر کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق یہ معاملہ دراصل دو کیفے کے کرایہ داروں کے درمیان ایک کھلے لان،میڈین کے غیر قانونی استعمال پر جھگڑے کا تھا۔ سوسائٹی قوانین کے تحت اس جگہ پر کسی قسم کی تعمیرات یا ذاتی استعمال کی اجازت نہیں ہے، جبکہ دونوں فریق اس اصول کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔سوسائٹی انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دونوں اطراف کو روک دیا اور واضح کیا کہ مذکورہ جگہ کسی کی ملکیت نہیں بلکہ مشترکہ اوپن ایریا ہے، جسے کسی بھی نجی مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

    تاہم سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ادھوری ویڈیوز اور غیر مصدقہ دعوؤں نے اس معاملے کو غیر ضروری طور پر سیاسی رنگ دے دیا۔ بعض صارفین اور نام نہاد تحقیقاتی صحافیوں نے بغیر تصدیق کے صدر مملکت آصف علی زرداری، سندھ کے سینئر صوبائی وزیر،وزیر اطلاعات شرجیل میمن اور سندھ حکومت کو مورد الزام ٹھہرانا شروع کر دیا، حالانکہ اس واقعے کا سرکاری پالیسی یا حکومتی معاملات سے کوئی تعلق نہیں تھا۔کراچی کے ہر جھگڑے کاصدر مملکت آصف علی زرداری کا قصور نہیں۔ہاؤسنگ سوسائٹی میں ہر دلیل سندھ حکومت کا مسئلہ نہیں ہے۔ہر وائرل کلپ تحقیقات نہیں ہوتا۔کبھی کبھی یہ صرف غیر قانونی تجاوزات ہے.

    یہ واقعہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ کس طرح سوشل میڈیا پر ادھوری معلومات اور سنسنی خیزی کے ذریعے عوام کو گمراہ کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ہر تنازعے کو حکومتی ناکامی قرار دینا نہ صرف غیر ذمہ دارانہ عمل ہے بلکہ صحافتی اصولوں کے بھی خلاف ہے۔ معروف ناموں جیسے اعزاز سید اور احمد فرہاد سمیت مختلف سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے بھی مکمل حقائق کی تصدیق کیے بغیر اس معاملے کو بڑھایا۔حالانکہ اعزاز سید خود کو تحقیقاتی صحافی کہتے ہیں اور بنا کسی تحقیق کے ویڈیو کو ایکس پر شیئر کر دیا اسی طرح احمد فرہاد اور دیگر نے بھی ویڈیو کو بنا کسی تحقیق کے سوشل میڈیا پر شیئر کیا اور سندھ حکومت کو ٹیگ کیا،

    موجودہ دور میں "تحقیقاتی صحافت” کے نام پر آدھی ویڈیوز دیکھ کر رائے قائم کرنا، حکومت کو ٹیگ کرنا اور سیاستدانوں پر الزام لگانا ایک خطرناک رجحان بنتا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف عوامی رائے متاثر ہوتی ہے بلکہ اصل مسائل بھی پسِ پشت چلے جاتے ہیں۔ ہاؤسنگ سوسائٹی کیس صرف تجاوزات کی لڑائی تھی،

  • ایرانی میزائل حملہ،حیفہ آئل ریفائنری کمپلیکس نشانہ، ہنگامی صورتحال نافذ

    ایرانی میزائل حملہ،حیفہ آئل ریفائنری کمپلیکس نشانہ، ہنگامی صورتحال نافذ

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران جمعرات کے روز حیفہ میں واقع آئل ریفائنری کمپلیکس پر ایرانی میزائل حملہ کیا گیا، جس کی تصدیق تین اسرائیلی ذرائع نے بین الاقوامی میڈیا کو کی ہے۔

    اسرائیلی حکام کے مطابق میزائل حملہ مرکزی ریفائنری کمپلیکس کو نشانہ بنا کر کیا گیا، جو اسرائیل کی سب سے بڑی توانائی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے اور حیفہ بے کے علاقے میں ایندھن اور کیمیکل پیداوار کا بڑا مرکز ہے۔حملے کے فوری بعد ریسکیو اور ایمرجنسی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور نقصان کا جائزہ لینے کا عمل شروع کردیا گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی خبر نہیں ملی، تاہم صورتحال کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے۔اسرائیل کی فائر اینڈ ریسکیو اتھارٹی کے مطابق فائر فائٹرز آگ بجھانے میں مصروف ہیں جبکہ دیگر ٹیمیں ممکنہ خطرناک کیمیکل مواد کے اخراج کے خدشے کے پیش نظر علاقے کی مکمل تلاشی لے رہی ہیں۔ حکام نے قریبی علاقوں کے رہائشیوں کو محتاط رہنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے حملے نہ صرف توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو متاثر کرتے ہیں بلکہ خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران اور اسرائیل کے درمیان براہ راست جھڑپوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

    اسرائیل کے پاس صرف دو ریفائنریاں ہیں۔حیفا ریفائنری (بازان) اسرائیل کی سب سے بڑی اور انتہائی اہم ریفائنری ہے جو ملک کے تقریباً 50–60 فیصد ایندھن کی فراہمی کرتی ہے (60% ڈیزل اور 50% پٹرول)۔ یہ روزانہ تقریباً 197,000 بیرل تیل پروسیس کرتی ہے، یعنی اسرائیل کی نقل و حمل، ہوا بازی اور فوجی ایندھن کا بڑا حصہ اسی پر منحصر ہے۔ ایرانی میزائلوں نے ابھی اس کو نشانہ بنایا ہے۔

  • امریکی F-35 لڑاکا طیاہ ایرانی حملے کی زد میں ،ہنگامی لینڈنگ

    امریکی F-35 لڑاکا طیاہ ایرانی حملے کی زد میں ،ہنگامی لینڈنگ

    ایرانی حملے کی زد میں آ کر امریکی فضائیہ کا جدید اسٹیلتھ لڑاکا طیارہ ایف-35 ہنگامی لینڈنگ پر مجبور ہو گیا۔طیارے کوقریبی امریکی فضائی اڈے پر اتارا گیا۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پانچویں نسل کا یہ جدید طیارہ ایران کے اوپر جنگی مشن پر تھا جب اسے تکنیکی اور ممکنہ حملے کے باعث ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔ انہوں نے کہا کہ طیارہ بحفاظت لینڈ کر گیا اور پائلٹ کی حالت مستحکم ہے۔کیپٹن ہاکنز کے مطابق "طیارہ محفوظ طریقے سے اتر گیا ہے اور پائلٹ مکمل طور پر ہوش میں ہے، تاہم واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں۔”

    ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ پہلا موقع ہو سکتا ہے کہ ایران نے براہِ راست کسی امریکی طیارے کو نشانہ بنایا ہو، جس سے خطے میں جاری جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل دونوں اس تنازع میں ایف-35 جیسے جدید ترین لڑاکا طیارے استعمال کر رہے ہیں، جن کی قیمت 100 ملین ڈالر سے زائد ہوتی ہے۔دوسری جانب امریکی حکام بدستور اپنی فوجی مہم کو کامیاب قرار دے رہے ہیں۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے حالیہ بیان میں دعویٰ کیا کہ امریکہ "فیصلہ کن برتری” حاصل کر چکا ہے اور ایران کے فضائی دفاعی نظام کو "بڑی حد تک تباہ” کر دیا گیا ہے۔

  • چین نے امریکا کو کھاد کی فراہمی روک دی

    چین نے امریکا کو کھاد کی فراہمی روک دی

    چین کی جانب سے امریکا کو کھاد (فرٹیلائزر) کی ترسیل روکنے کی خبروں کے بعد امریکی زرعی شعبے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

    کینیڈین صحافی نے دعویٰ کیا ہے کہ چین نے امریکہ کو کھاد کی ترسیل روک دی ہے، ذرائع کے مطابق نائٹروجن اور پوٹاشیم پر مشتمل کھاد کی سپلائی معطل ہونے سے پہلے ہی قلت کا شکار امریکی مارکیٹ مزید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔ چین نے اپنی داخلی ضروریات اور عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے پیش نظر کھاد کی برآمدات محدود یا روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا براہ راست اثر امریکا کے کسانوں پر پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جہاں فصلوں کی پیداوار کا بڑا انحصار درآمدی کھاد پر ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کھاد کی فراہمی میں رکاوٹ سے نہ صرف فصلوں کی لاگت بڑھے گی بلکہ زرعی پیداوار بھی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں خوراک کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ہے۔ امریکی کسان پہلے ہی مہنگائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتوں اور سپلائی چین کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔

  • اپنی خودمختاری اور سلامتی کے دفاع میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے،ایران

    اپنی خودمختاری اور سلامتی کے دفاع میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے،ایران

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ سے علیحدہ علیحدہ ٹیلی فون پر گفتگو کی ہے۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق ایران نے امریکا اسرائیل کی عدم استحکام پیدا کرنے والی کارروائیوں کے خلاف علاقائی مستعدی پر زور دیا،عباس عراقچی نے کشیدگی بڑھانے والی امریکی اسرائیلی کارروائیوں کے خلاف علاقائی ممالک میں باہمی تعاون پر زور دیا،ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کے انفرا اسٹرکچر پر حالیہ امریکی اسرائیلی حملے کشیدگی کو بڑھانے کے لیے کیے گئے،ایران اپنی خودمختاری اور سلامتی کے دفاع میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گا،
    خلیجی علاقوں کے قریب حملوں کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوتی ہے،

  • اسرائیلی فوج میں بنکرز کی کمی، اہلکاروں کا ڈیوٹی سے انکار

    اسرائیلی فوج میں بنکرز کی کمی، اہلکاروں کا ڈیوٹی سے انکار

    اسرائیلی فوج کو درپیش لاجسٹک مسائل ایک نئے بحران کی صورت اختیار کر گئے ہیں، جہاں بنکرز کی کمی کے باعث بعض اہلکاروں نے ڈیوٹی انجام دینے سے انکار کر دیا ہے۔

    اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق فوج کے رضاکار اہلکاروں نے راکٹ اور میزائل حملوں کے دوران ناکافی تحفظ پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اہلکاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں ان کی جانوں کو سنگین خطرات لاحق ہیں، تاہم اس کے باوجود انہیں مناسب حفاظتی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ حکام کی جانب سے بنکرز کی فراہمی کو بارہا لاجسٹک مسائل کا جواز بنا کر مؤخر کیا جا رہا ہے، جس پر فوجیوں میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ایک اسرائیلی فوجی نے صورتحال کو نہایت خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ "جب سائرن بجتا ہے تو ہم صرف ہیلمٹ پہن کر بیٹھ جاتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ کچھ نہ ہو۔”ایک اور اہلکار نے سوال اٹھایا کہ اگر کوئی زخمی ہو جائے تو کیا صرف افسوس کا اظہار ہی کافی ہوگا؟ ان کا کہنا تھا کہ فوج کو اپنے اہلکاروں کے تحفظ کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔اہلکاروں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ "جو فوج دو ہزار کلومیٹر دور اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے، کیا وہ اپنے ہی سپاہیوں کو ایک محفوظ بنکر فراہم نہیں کر سکتی؟”

  • خلیجی ریاستوں میں توانائی کے مراکز پر مزید حملے

    خلیجی ریاستوں میں توانائی کے مراکز پر مزید حملے

    خلیجی خطے میں کشیدگی کے دوران توانائی کے اہم مراکز پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث عالمی تیل مارکیٹ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق کویت اور سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

    ایران نے کویت کی مینا الاحمدی اور مینا عبداللہ آئل ریفائنریوں پر حملہ کیا ہے جس سے دونوں مقامات پر آگ بھڑک اٹھی ہے۔یہ دونوں سہولیات کویت کے ریفائننگ کے اہم مرکزوں میں سے ہیں، جن کی مشترکہ گنجائش 800000 بیرل یومیہ ہے۔دوسری جانب سعودی عرب نے بھی تصدیق کی ہے کہ بحیرہ احمر کی بندرگاہی شہر میں واقع سمرف ریفائنری کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق یانبوع کی جانب داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل بھی فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو مؤثر طور پر بند کیے جانے کے بعد سعودی عرب کے لیے یانبوع بندرگاہ خام تیل کی برآمد کا اہم ترین راستہ بن چکی ہے۔

    توانائی کے مراکز پر حملوں کے معاملے پر امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اختلافات بھی کھل کر سامنے آنے لگے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے ایران کے سب سے بڑے گیس فیلڈ South Pars Gas Field پر اسرائیلی حملے پر غیر معمولی تشویش کا اظہار کیا۔صدر ٹرمپ نے اسرائیل کو براہِ راست تنقید کا نشانہ بنائے بغیر کہا کہ اس نے "شدید ردعمل” دیا ہے، اور واضح کیا کہ اگر ایران کی جانب سے اشتعال انگیزی نہ ہوئی تو اس گیس فیلڈ پر مزید حملے نہیں کیے جائیں گے۔

    ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع نہیں کہ توانائی کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے پر امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اختلافات سامنے آئے ہوں۔ اس سے قبل بھی اسرائیل کی جانب سے ایرانی فیول ڈپوؤں پر حملوں پر امریکی حکام نے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔امریکہ میں بھی اس صورتحال کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق 70 فیصد امریکی ووٹرز کو خدشہ ہے کہ جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا، جو سیاسی طور پر بھی اہم مسئلہ بن سکتا ہے۔صدر ٹرمپ اگرچہ عالمی منڈیوں پر اثرات کو کم کر کے دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم انہوں نے ایران کو آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی پر بارہا خبردار کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل سپلائی اسی گزرگاہ سے ہوتی ہے، اس لیے یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

  • مودی سرکار نےبھارت کو سائبر فراڈ مافیا کے نشانے پر پہنچا دیا،  انکشاف

    مودی سرکار نےبھارت کو سائبر فراڈ مافیا کے نشانے پر پہنچا دیا، انکشاف

    بھارت کو اے آئی ہب بنانے کا دعویدار مودی بھارتی عوام کو سائبر سیکیورٹی فراہم کرنے میں مکمل ناکام ہو چکا،

    میٹا رپورٹ نے بھارت میں سوشل میڈیا پر آن لائن فراڈ اور اے آئی کے ذریعے بڑھتے جرائم کی نشاندہی کر دی،پہلی ششماہی 2026 کی میٹا رپورٹ نے بھارت کے لیے تشویشناک صورتحال کا عندیہ دے دیا،بھارتی جریدہ انڈین ایکسپریس کے مطابق بھارت بین الاقوامی دھوکہ دہی کرنے والے نیٹ ورکس کے بڑے ہدف کے طور پر ابھر رہا ہے،رپورٹ کے مطابق فراڈ کرنے والے بھارتی گروہ سب سے زیادہ امریکہ اور بھارت میں صارفین کو نشانہ بناتے ہیں،بھارتی صارفین متوسط آمدنی، سستے ڈیٹا اور کم ڈیجیٹل خواندگی کی وجہ سے سائبر جرائم نیٹ ورکس کے نشانے پر ہیں،میٹا کے مطابق بھارتی فراڈ میں مجرم فون اور ویڈیو کالز کے ذریعے قانون نافذ کرنے والے اہلکار بن کر صارفین کو ہدف بناتے ہیں

    عالمی ماہرین کے مطابق مودی کی ریاستی سرپرستی اور نااہلی نے بھارت میں جرائم پیشہ گروہوں کی بھارتی عوام تک رسائی کو بے حد آسان بنا دیا ہے،بھارت میں سائبر سیکیورٹی کی ابتر صورتحال نے مودی کا شائننگ انڈیا کا کھوکھلا نعرہ زمیں بوس کر دیا

  • افغانستان، بھارت اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ بے نقاب، سابق بھارتی فوجی افسر کے ہوشربا انکشافات

    افغانستان، بھارت اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ بے نقاب، سابق بھارتی فوجی افسر کے ہوشربا انکشافات

    انتہا پسند مودی کی پاکستان مخالف سرپرستی اور مذموم سازشوں کا پردہ چاک ہو گیا

    سابق بھارتی فوجی نے بھارت کا پاکستان کے خلاف افغانستان میں دہشتگرد تنظیموں کی پشت پناہی کا اعتراف کر لیا،بھارتی فوج کے ریٹائرڈ کرنل راجیش پاور کے مطابق فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج پاکستان میں دہشت گرد حملوں کے لیے افغانستان کی زمین استعمال کر رہے ہیں،پاکستان کے خلاف دونوں دہشتگرد تنظیموں کو مالی امداد بھارت جبکہ ہتھیار اور انٹیلیجنس اسرائیل فراہم کر رہا ہے،ان تینوں ممالک (افغانستان، بھارت، اسرائیل) کے مفادات مشترکہ اور اہم ہدف پاکستان ہے،اسرائیل کو پاکستان سے یہ مسئلہ ہے کہ پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے اور اسرائیل کو تاحال تسلیم نہ کرنے والا واحد یہ اسلامی ملک ہے،اسرائیل پاکستان کے اسرائیل مخالف موقف سے آگاہ ہے اور وقت آنے پر پاکستان اسے بھاری نقصان پہنچا سکتا ہے

    عالمی ماہرین کے مطابق ویڈیو میں بھارتی افسر کا اعتراف پاکستان کے مؤقف کی واضح توثیق ہے کہ بھارت طویل عرصے سے پراکسیز کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کی سرپرستی کر رہا ہے،افغانستان کی دہشتگرد تنظیموں کی بھارتی اور اسرائیلی معاونت سے سرگرمیاں پورے خطہ کے لیے سنگین چیلنج بن چکی ہیں،یہود و ہنود گٹھ جوڑ پاکستان جیسی ایٹمی قوت کے خلاف ناپاک سازشوں سے خطہ میں عدم توازن اور مسلسل انتشار کو ہوا دے رہا ہے.