Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • کفایت شعاری مہم، وزیراعظم آفس نے وزارتوں سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی

    کفایت شعاری مہم، وزیراعظم آفس نے وزارتوں سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی

    اسلام آباد: وزیراعظم آفس نے وفاقی حکومت کی جانب سے جاری کفایت شعاری مہم پر عملدرآمد کے نتائج سے متعلق تمام وزارتوں اور ڈویژنز سے تفصیلی رپورٹس طلب کر لی ہیں۔

    ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران حاصل ہونے والی بچت کے مکمل اعداد و شمار اور تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔ وزیراعظم آفس نے مختلف اداروں سے یہ بھی پوچھا ہے کہ 60 فیصد سرکاری گاڑیوں کو گراؤنڈ کرنے کے فیصلے سے کتنی مالی بچت ہوئی، جبکہ بجلی کے استعمال میں کمی کے باعث ہونے والی بچت کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔وزیراعظم آفس نے تمام وزارتوں اور ڈویژنز کو ہدایت کی ہے کہ رواں ماہ کے اندر اپنی رپورٹس جمع کرائیں تاکہ کفایت شعاری اقدامات کے عملی نتائج کا جائزہ لیا جا سکے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ نے اپنی رپورٹ جمع کرا دی ہے، جس کے مطابق ادارے نے کفایت شعاری اقدامات کے ذریعے ساڑھے چار ارب روپے سے زائد کی بچت کی ہے۔حکومتی حلقوں کے مطابق موصول ہونے والی رپورٹس کی روشنی میں آئندہ مالی نظم و ضبط اور اخراجات میں مزید کمی کے لیے نئی حکمت عملی مرتب کی جائے گی۔

  • آزادکشمیرکی عوام نے  احتجاجی کال مستردکردی،کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے 72 گرفتار

    آزادکشمیرکی عوام نے احتجاجی کال مستردکردی،کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے 72 گرفتار

    مظفرآباد سمیت پورے آزادکشمیرمیں عوام اپنے معمول کے کاموں میں مصروف ہیں،کوئی دکان بھی بند نہیں ،تمام مارکیٹیں کھلی ہیں،بازاروں میں رش ہے، سڑکوں پر ٹریفک بھی رواں دواں ہے،باشعورعوام نے آزاد کشمیرکا امن وامان خراب کرنے کی مذموم کوششوں کو مسترد کردیا.

    آزادکشمیر کے باشعورعوام کاکہنا تھاکہ پورے آزادکشمیرمیں حالات معمول کے مطابق چل رہے ہیں،آزادکشمیر میں بازارکھلے اور لوگوں اپنے معمولات زندگی میں مصروف ہیں،کوئی دکان بھی بند نہیں ،تمام مارکیٹیں کھلی ہیں،بازاروں میں رش ہے، لوگ خریدو فروخت کیلئے باہرنکلے ہوئے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک بھی رواں دواں ہے، بازاروں میں رونق اور ٹریفک کی روانی نے ثابت کر دیا کہ باشعورعوام نےآزادکشمیرکا امن وامان خراب کرنے کی مذموم کوششوں کو مسترد کردیا

    راولاکوٹ سمیت آزادکشمیر کے مختلف شہروں میں معمولاتِ زندگی معمول کے مطابق جاری، بازار اور کاروباری مراکز کھلے ہیں،راولاکوٹ میں ٹریفک رواں دواں، تعلیمی، کاروباری اور سماجی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں،شہر بھر میں مرکزی بازاروں میں تجارتی او کاروباری سرگرمیاں جاری ہیں، راولاکوٹ شہر میں بازاروں کی رونق اور شہری سرگرمیوں نے معمول کی زندگی کی عکاسی کر دی،راولاکوٹ کے عوام پر امن ماحول میں مطمئن اور معمول کے مطابق اپنا کام کر رہے ہیں

    آزاد جموں کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شاہ غلام قادر نے عوامی ایکشن کمیٹی کی حقیقت سامنے رکھ دی
    شاہ غلام قادر کا کہنا تھا کہ عوام ایکشن کمیٹی نے پہلے بھی دو تین بار امن و امان خراب کرنے کی کوشش کی،ایکشن کمیٹی آزاد کشمیر میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنا چاہتی ہے، آزاد کشمیر کی عوام نے ایکشن کمیٹی کی احتجاجی کال کو مسترد کر دیا ہے،ایکشن کمیٹی کا امن مخالف ایجنڈا ناکام عوام نے احتجاج کا بائیکاٹ کر دیا، آج پورے آزاد کشمیر میں کاروبار معمول کے مطابق کھلے ہیں،آزاد کشمیر کے عوام مکمل امن و امان کے ساتھ اپنے روزگار میں مصروف ہیں، شاہ غلام قادر نے کہا کہ شرپسند عناصر کے سامنے آزاد کشمیر پولیس نے امن و امان کو یقینی بنایا، آزاد کشمیر میں تمام سیاسی جماعتیں انتخابات کی تیاریوں میں مصروف ہیں،آزاد کشمیر میں انتخابات پُرامن اور جمہوری انداز میں مکمل ہوں گے

    دوسری جانب آزاد کشمیر میں کالعدم ایکشن کمیٹی کے سے تعلق رکھنے والے 72 افراد کو گرفتار کر لیا گیاہے ، ترجمان انسپیکٹر جنرل پولیس کے مطابق عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ضروری قانونی اقدامات کیے جا رہے ہیں،گرفتار افراد کے قبضے سے اسلحہ، مواصلاتی آلات اور مشتبہ دستاویزات برآمد ہوئی ہیں،ترجمان آئی جی پی کا کہنا ہے کہ کالعدم تنظیم کے بعض عناصر عوامی مسائل کے نام پر امن و امان خراب کر رہے ہیں۔

  • نیب کا کھڑاک، بحرِیہ ٹاؤن سے منسلک 45 لاکھ ڈالر مالیت کے اکاؤنٹس منجمد

    نیب کا کھڑاک، بحرِیہ ٹاؤن سے منسلک 45 لاکھ ڈالر مالیت کے اکاؤنٹس منجمد

    اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) نے منی لانڈرنگ کے خلاف کارروائی میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے بحرِیہ ٹاؤن سے منسلک ماریشس میں موجود 45 لاکھ امریکی ڈالر مالیت کے دو بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے ہیں۔

    نیب ذرائع کے مطابق ملزمان احمد علی ریاض اور مبشرہ علی ملک کے ماریشس میں واقع سلور بینک کے دو غیر ملکی اکاؤنٹس کو احتساب عدالت کراچی کی باقاعدہ اجازت اور منظوری کے بعد منجمد کیا گیا۔ یہ کارروائی اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت عمل میں لائی گئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ بحرِیہ ٹاؤن نے مبینہ طور پر غیر قانونی حوالہ اور ہنڈی نیٹ ورک کے ذریعے جرائم سے حاصل شدہ رقوم پاکستان سے بیرون ملک منتقل کیں۔ ابتدائی طور پر یہ رقم متحدہ عرب امارات منتقل کی گئی اور بعد ازاں منی لانڈرنگ کے ذریعے ماریشس پہنچائی گئی۔

    نیب کے مطابق پاکستان سے منتقل ہونے والی رقوم مشترکہ بینک اکاؤنٹس میں جمع کی گئیں، جن میں اس وقت تقریباً 45 لاکھ امریکی ڈالر موجود ہیں۔ اثاثہ جات کی بازیابی کے جاری عمل کے تحت ان رقوم کو قانونی طور پر منجمد کر دیا گیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ نیب نے وزارتِ خارجہ کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر قانونی کارروائی کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے، جبکہ اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت مذکورہ رقوم کی ضبطی اور پاکستان واپسی کے لیے اقدامات آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں۔

    نیب حکام کے مطابق یہ کارروائی ادارے کے اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ غیر قانونی ذرائع سے حاصل کیے گئے اثاثوں کا دنیا بھر میں تعاقب کیا جائے گا اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والی رقوم کی بازیابی یقینی بنائی جائے گی۔نیب ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ غیر قانونی اثاثوں کی واپسی کے لیے متعلقہ بین الاقوامی اداروں اور حکام سے مسلسل رابطہ رکھا جا رہا ہے تاکہ منجمد رقوم کو جلد از جلد پاکستان منتقل کیا جا سکے۔

  • بھارت ، 35 سال پرانے قتل کیس  میں85 سالہ ملزم کو ملی سزا

    بھارت ، 35 سال پرانے قتل کیس میں85 سالہ ملزم کو ملی سزا

    بھارت کی ایک عدالت نے 35 سال پرانے قتل کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے 85 سالہ ملزم دیپ رائے کو تین سال قید اور 25 ہزار بھارتی روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ریاست بہار سے تعلق رکھنے والے دیپ رائے کو قتل اور آرمز ایکٹ کی خلاف ورزی کے مقدمے میں مجرم قرار دیا گیا۔ عدالت کی جانب سے سنائے گئے فیصلے کے بعد ضعیف ملزم کی ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، جس میں انہیں سکیورٹی اہلکاروں کے ہمراہ لے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔وائرل ویڈیو میں ملزم کی کمر جھکی ہوئی نظر آتی ہے جبکہ وہ انتہائی دشواری کے ساتھ چلتے دکھائی دیتے ہیں، جس پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مختلف آراء کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

    سماعت کے دوران ملزم کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ دیپ رائے کی عمر اور جسمانی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے سزا میں نرمی کی جائے۔ عدالت نے اس درخواست کو جزوی طور پر قبول کرتے ہوئے نسبتاً کم مدت کی سزا سنائی،عدالت نے اپنے فیصلے میں ریمارکس دیے کہ ملزم کی عمر 85 سال ہے اور وہ جسمانی طور پر شدید کمزوری اور معذوری کا شکار ہیں۔ عدالت کے مطابق یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ وہ جیل میں سخت سزا برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، تاہم قانون کے تقاضوں کے مطابق جرم پر سزا دینا بھی ضروری تھا۔

    عدالت نے مزید کہا کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ملزم کو کم سزا دی گئی، تاہم انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے سزا کا نفاذ ناگزیر تھا۔ فیصلے کے بعد یہ مقدمہ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے، کیونکہ جرم کے وقوع پذیر ہونے اور سزا سنائے جانے کے درمیان تقریباً 35 سال کا طویل عرصہ گزر چکا ہے۔

  • حکومت ایک بار پھر عوام سے ہاتھ کر گئی،  پیٹرول پر عوام کو مکمل ریلیف سے محروم کردیا گیا

    حکومت ایک بار پھر عوام سے ہاتھ کر گئی، پیٹرول پر عوام کو مکمل ریلیف سے محروم کردیا گیا

    حکومت نے پیٹرولیم لیوی میں بڑی ردوبدل کرتے ہوئے ایک بار پھر عوام کو پیٹرول کی قیمتوں میں مکمل ریلیف سے محروم کر دیا، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت برقرار رکھنے کے لیے اس پر عائد لیوی میں نمایاں کمی کر دی گئی۔

    دستاویزات کے مطابق حکومت نے پیٹرول پر عائد پیٹرولیم لیوی میں 24 روپے 74 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا ہے۔ اس اضافے کے بعد پیٹرول پر لیوی کی شرح 91 روپے 34 پیسے فی لیٹر سے بڑھ کر 116 روپے 8 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل پر پیٹرولیم لیوی کی شرح میں 24 روپے 34 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے۔ اس فیصلے کے تحت ڈیزل پر لیوی 68 روپے 93 پیسے فی لیٹر سے کم ہو کر 44 روپے 59 پیسے فی لیٹر رہ گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود حکومت نے پیٹرول پر لیوی بڑھا کر عوام تک مکمل ریلیف منتقل نہیں ہونے دیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ لیوی میں اضافے کے باعث پیٹرول کی قیمت میں ممکنہ کمی کے اثرات محدود ہو گئے ہیں۔دستاویزات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل پر لیوی کم کر کے اس کی قیمت کو برقرار رکھنے کی حکمت عملی اپنائی، جبکہ پیٹرول استعمال کرنے والے عام صارفین کو متوقع ریلیف سے محروم رکھا گیا۔معاشی حلقوں کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم لیوی وفاقی حکومت کے لیے آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہے، تاہم اس میں اضافے سے مہنگائی کے دباؤ کا سامنا کرنے والے شہریوں پر مزید مالی بوجھ پڑ سکتا ہے۔

  • انمول عرف پنکی کو تحقیقات کے لئے لاہور منتقلی کی ملی اجازت

    انمول عرف پنکی کو تحقیقات کے لئے لاہور منتقلی کی ملی اجازت

    پنجاب پولیس کو کراچی کی جیل میں قید مبینہ منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کو تفتیش کے لیے لاہور منتقل کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق لاہور کے اقبال ٹاؤن، ماڈل ٹاؤن اور سول لائنز تھانوں کی پولیس ٹیمیں جلد کراچی روانہ ہوں گی تاکہ ملزمہ کو لاہور لا کر مختلف مقدمات میں پوچھ گچھ کی جا سکے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ لاہور پولیس نے اس مقصد کے لیے محکمہ داخلہ اور عدالت سے باقاعدہ اجازت حاصل کی تھی۔ اطلاعات کے مطابق لاہور میں انمول عرف پنکی کے خلاف منشیات فروشی کے پانچ مقدمات درج ہیں جن کی تحقیقات جاری ہیں۔

    دوسری جانب منشیات کیس کے تفتیشی افسر نے کراچی ساؤتھ کے جوڈیشل مجسٹریٹ سے پنکی کی مبینہ وائس نوٹس کا فرانزک کرانے کی اجازت بھی طلب کر لی ہے۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ دورانِ تفتیش کئی وائس نوٹس سامنے آئے، تاہم ملزمہ نے ان وائس نوٹس کو اپنا تسلیم کرنے سے انکار کیا۔ پولیس کے مطابق فرانزک رپورٹ کیس میں اہم شواہد فراہم کر سکتی ہے۔

    ادھر پنکی کے دو مبینہ سہولت کاروں سہیل الرحمان اور ذیشان الرحمان نے کراچی کی سیشن عدالت سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کا منشیات کے کاروبار سے کوئی تعلق نہیں اور انہیں بغیر ثبوت مقدمے میں ملوث کیا گیا ہے۔ درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ان کے نام مقدمے سے خارج کیے جائیں۔

    گزشتہ روز کراچی ساؤتھ کے جوڈیشل مجسٹریٹ نے پنکی کو عدالت میں پیش کرنے سے متعلق درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر چالان جمع ہونے تک ملزمہ کی جسمانی حاضری ضروری نہیں۔ تاہم عدالت نے جیل سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت کی کہ جب بھی عدالت طلب کرے، ملزمہ کو پیش کیا جائے۔پولیس نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ ملزمہ کی پیشی ویڈیو لنک کے ذریعے کرائی جائے کیونکہ عدالت میں پیشی کے دوران امن و امان کی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

    پولیس کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ مبینہ سہولت کاروں کے بینک اکاؤنٹس، جاز کیش اور دیگر مالیاتی اکاؤنٹس منشیات کی فروخت کے لیے استعمال کیے جاتے رہے۔ رپورٹ کے مطابق ذیشان الرحمان کے یو بی ایل میں تین جبکہ بینک الحبیب اور بینک الفلاح میں ایک، ایک اکاؤنٹ موجود ہے، جبکہ سہیل الرحمان کے یو بی ایل اور بینک الحبیب میں ایک، ایک اکاؤنٹ ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔

    چند ہفتے قبل کراچی سے گرفتار ہونے والی انمول عرف پنکی نے دورانِ تفتیش متعدد افراد کے نام لیے تھے، جن میں بعض معروف شخصیات بھی شامل تھیں۔ اس گرفتاری کے بعد ملک میں منشیات کے پھیلتے ہوئے کاروبار اور اس کے ممکنہ نیٹ ورک پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر رہے ہیں۔

  • ہنگو ،سیکورٹی فورسز کی کاروائی، 10 کلو وزنی آئی ای ڈی بم ناکارہ بنا دیا گیا

    ہنگو ،سیکورٹی فورسز کی کاروائی، 10 کلو وزنی آئی ای ڈی بم ناکارہ بنا دیا گیا

    ہنگو کے علاقے خیساری میں دہشتگردوں کا ایک خطرناک منصوبہ بروقت کارروائی کے ذریعے ناکام بنا دیا گیا، جہاں سڑک کنارے نصب 10 کلو وزنی دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) کو بم ڈسپوزل یونٹ اور پولیس نے ناکارہ بنا دیا۔

    پولیس کے مطابق مشتبہ بم کی اطلاع ملتے ہی بم ڈسپوزل یونٹ اور سیکیورٹی اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے کر حفاظتی اقدامات کیے گئے۔ ماہرین نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بم کو کامیابی سے ناکارہ بنایا، جس کے بعد ممکنہ بڑے جانی و مالی نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا۔ڈی پی او ہنگو طارق حبیب کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں کی جانب سے نصب کیا گیا 10 کلو وزنی آئی ای ڈی بم انتہائی خطرناک نوعیت کا تھا اور کسی بڑے سانحے کا سبب بن سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اور بم ڈسپوزل یونٹ کی بروقت اور مؤثر کارروائی کے باعث علاقے کو ممکنہ تباہی سے بچا لیا گیا۔

    ڈی پی او نے سیکیورٹی فورسز اور بم ڈسپوزل یونٹ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ دہشتگرد عناصر کے ناپاک عزائم کو ہر صورت ناکام بنایا جائے گا اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔واقعے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے جبکہ پولیس نے تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے بم نصب کرنے والے عناصر کی تلاش بھی شروع کر دی ہے۔

  • ہل پارک میں مبینہ غیر قانونی تعمیرات کیس،عدالت نے نوٹس جاری کر دیا

    ہل پارک میں مبینہ غیر قانونی تعمیرات کیس،عدالت نے نوٹس جاری کر دیا

    کراچی: ہل پارک میں پہاڑ کی کٹائی اور مبینہ غیر قانونی تعمیرات کے معاملے پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں کے ایم سی کی جانب سے تعمیرات مسمار کیے جانے کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کردی گئی ہے۔

    درخواست گزار سہیل اقبال صدیقی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ مذکورہ پلاٹ ان کے مؤکل کی قانونی ملکیت ہے، تاہم کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) نے 2 جون کو بغیر کسی قانونی نوٹس اور اختیار کے پلاٹ کی باونڈری وال مسمار کر دی۔وکیل درخواست گزار کے مطابق پی ای سی ایچ ایس کی جانب سے جاری کردہ خط میں واضح کیا گیا ہے کہ متنازع پلاٹ ہل پارک کی حدود میں شامل نہیں ہے اور یہ مکمل طور پر پی ای سی ایچ ایس کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اراضی کا مکمل ریکارڈ بھی پی ای سی ایچ ایس کے پاس موجود ہے۔

    درخواست گزار کے وکیل نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ کے ایم سی نے 21 اپریل کو اسی پلاٹ پر باونڈری وال کی تعمیر کے لیے این او سی جاری کی تھی، اس کے باوجود بعد ازاں باونڈری وال کو مسمار کر دیا گیا، جو غیر قانونی اور اختیارات سے تجاوز کے مترادف ہے۔درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ باونڈری وال کی مسماری میں ملوث ذمہ دار افسران کے خلاف انکوائری اور محکمانہ کارروائی کا حکم دیا جائے، جبکہ متعلقہ حکام کو پلاٹ میں کسی بھی قسم کی مزید مداخلت یا بے دخلی کی کارروائی سے روکا جائے۔درخواست میں سندھ حکومت، کے ایم سی کے ڈائریکٹر لینڈ، میونسپل کمشنر کے ایم سی، ڈپٹی ڈائریکٹر ہل پارک، ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی انکروچمنٹ سمیت دیگر متعلقہ حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔

    عدالت نے درخواست پر ابتدائی سماعت کے بعد سندھ حکومت، کے ایم سی، پی ای سی ایچ ایس اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 11 جون تک جواب طلب کر لیا ہے۔

  • آپریشن بلیو سٹار کو 42 سال مکمل، سکھ برادری آج بھی انصاف کی منتظر

    آپریشن بلیو سٹار کو 42 سال مکمل، سکھ برادری آج بھی انصاف کی منتظر

    بھارت کے فوجی آپریشن ’’بلیو سٹار‘‘ کو 42 سال مکمل ہو گئے ہیں، تاہم سکھ برادری آج بھی اس واقعے کے متاثرین کے لیے انصاف کی منتظر ہے۔ آپریشن بلیو سٹار کا آغاز یکم جون 1984 کو بھارتی فوج کی جانب سے امرتسر میں واقع گولڈن ٹیمل (سری دربار صاحب) پر کارروائی سے ہوا تھا، جسے سکھ تاریخ کے سب سے المناک واقعات میں شمار کیا جاتا ہے۔

    اس فوجی آپریشن کے دوران گولڈن ٹیمپل کمپلیکس میں موجود ہزاروں افراد متاثر ہوئے۔ مختلف ذرائع اور سکھ تنظیموں کے مطابق کارروائی میں مردوں، خواتین، بزرگوں اور بچوں سمیت بڑی تعداد میں شہری ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔ اس واقعے نے نہ صرف بھارت بلکہ دنیا بھر میں مقیم سکھ برادری کو شدید صدمے سے دوچار کیا۔
    آپریشن بلیو سٹار کے خلاف برطانیہ، کینیڈا، امریکہ اور دیگر ممالک میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے تھے۔ عالمی سطح پر سکھ برادری اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس کارروائی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جبکہ متعدد ممالک میں بھارتی حکومت کے خلاف احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔

    اس دوران بھارتی فوج اور سرکاری اداروں سے وابستہ کئی سکھ افسران نے احتجاجاً اپنے عہدوں سے مستعفی ہونے کا اعلان بھی کیا تھا۔ سیاسی حلقوں میں بھی اس کارروائی پر شدید تنقید کی گئی۔ پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ پرکاش سنگھ بادل نے آپریشن بلیو سٹار کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایک سنگین غلطی قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس کارروائی نے سکھ برادری کے جذبات کو بری طرح مجروح کیا۔معروف سکھ مورخ ہرجندر سنگھ دلگیر کے مطابق آپریشن بلیو سٹار ایک سوچی سمجھی سازش تھی جس کے اثرات آج بھی سکھ برادری محسوس کر رہی ہے۔ دوسری جانب سینئر بھارتی صحافی شیکھر گپتا نے اپنی تحریروں اور تجزیوں میں اس کارروائی کو بھارتی فوج کی ناقص منصوبہ بندی اور تاریخ کی بڑی عسکری ناکامیوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔

    آپریشن بلیو سٹار کے 42 سال گزرنے کے باوجود اس واقعے سے متعلق سوالات، تنازعات اور انصاف کے مطالبات آج بھی برقرار ہیں۔ دنیا بھر میں سکھ برادری ہر سال جون کے آغاز میں اس سانحے کی یاد مناتی ہے اور متاثرین کے لیے انصاف اور حقائق سامنے لانے کا مطالبہ دہراتی ہے۔

  • عوامی مقامات پر چھوٹے کپڑے پہننےوالوں کیخلاف گلوکارفلک شبیر کا مریم سے مطالبہ

    عوامی مقامات پر چھوٹے کپڑے پہننےوالوں کیخلاف گلوکارفلک شبیر کا مریم سے مطالبہ

    پاکستانی گلوکار فلک شبیر نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے عوامی مقامات پر لباس کے حوالے سے قانون سازی کی درخواست کر دی ہے۔

    فلک شبیر نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک اسٹوری شیئر کرتے ہوئے پنجاب حکومت کی جانب سے ویپنگ (الیکٹرانک سگریٹ) پر پابندی کے اقدام کو سراہا اور اسے ایک مثبت قدم قرار دیا۔ تاہم انہوں نے اس کے ساتھ ساتھ عوامی مقامات پر لباس کے حوالے سے بھی اپنی تشویش کا اظہار کیا۔گلوکار نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری میں لکھا کہ ’’یہ بہت اچھا اقدام ہے، لیکن دو بیٹیوں کا باپ ہونے کی حیثیت سے میں مریم نواز سے عاجزانہ درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ عوامی مقامات، بازاروں اور سڑکوں پر چھوٹے کپڑے پہننے والوں کے لیے بھی کوئی قانون بنایا جائے، ورنہ ہم ثقافتی طور پر تباہ ہو جائیں گے۔‘‘

    تاحال وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز یا پنجاب حکومت کی جانب سے فلک شبیر کی اس درخواست پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم سوشل میڈیا پر یہ معاملہ زیر بحث ہے اور صارفین مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔