Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • آپریشن غضب للحق کی عارضی معطلی کی خلاف ورزی کا دعویٰ مضحکہ خیز قرار

    آپریشن غضب للحق کی عارضی معطلی کی خلاف ورزی کا دعویٰ مضحکہ خیز قرار

    پاکستان کی وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کے ترجمان کا آپریشن غضب للحق کی عارضی معطلی کی خلاف ورزی کا دعویٰ مضحکہ خیز قرار دیدیا۔

    وزارت اطلاعات نے خبردار کیا ہے کہ دہشت گرد کارروائیوں اور سرحد پار سےحملوں کا پوری طاقت سے جواب دیا جائے گاوزارت اطلاعات کے مطابق پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی گئی، حقیقت یہ ہے کہ افغان رجیم کے دعوے بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی ہیں،وزارت اطلاعات نے واضح کیا کہ افغان طالبان کی جانب سے پروپیگنڈے کا مقصد دہشت گردی کی کارروائیوں کا جواز پیدا کرنا ہے، پروپیگنڈا شاید طالبان رجیم کے اندر موجود مخالفین کی طرف سے بھی شروع کیا جاسکتا ہے،وزارت اطلاعات نے واضح کیا کہ پاکستان واضح کرچکا ہے کہ کسی بھی کارروائی پر عارضی وقفہ ختم ہوجائے گا۔

  • امریکا یو اے ای کو 7 ارب ڈالر مالیت کے ہتھیار فروخت کرے گا

    امریکا یو اے ای کو 7 ارب ڈالر مالیت کے ہتھیار فروخت کرے گا

    امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ امریکا متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کو7 ارب ڈالر مالیت کے ہتھیار فروخت کرے گا۔

    امریکی اخبار کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے یو اے ای کو ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری بھی دے دی ہے،رپورٹ کے مطابق ہتھیاروں میں تقریباً 5.6 ارب ڈالر کے پیٹریاٹ میزائل اور 1.3 ارب ڈالرکے جدید جنگی ہیلی کاپٹر شامل ہیں،امریکا پہلے ہی 3 خلیجی ملکوں کو 16.5 ارب ڈالرکے ہتھیارفروخت کرنے کا اعلان کر چکا ہے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ بھی ہوا تھا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں رہنماؤں نے ایران کے حملوں اور خطے کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا تھا،ڈونلڈ ٹرمپ اور اماراتی صدر نے عرب امارات میں شہریوں اور اہم تنصیبات پر حملوں کی مذمت کی۔

  • دنیا بھر میں خام تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ

    دنیا بھر میں خام تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ

    مشرق وسطیٰ میں آئل اور گیس تنصیبات پر حملوں کے بعد دنیا بھر میں خام تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا۔

    برینٹ خام تیل کی قیمت 119 ڈالر فی بیرل تک جاکر نیچے آئی اور 106 ڈالر فی بیرل پر تیل کی فروخت ہوتی نظر آئی،ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 93 ڈالر سے زائد ہوگئی، اس کے علاوہ یورپ اور برطانیہ میں گیس کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگیا،مغربی میڈیا کے مطابق برطانیہ میں گیس کی قیمتوں میں 35 فیصد تک اضافہ دیکھا جارہا ہے ، ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے یورپ میں گیس کی قیمت تقریباً ڈبل ہو چکی ہے ۔

    دوسری جانب ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ایران نےاپنی غیر فوجی تنصیبات پر اسرائیلی حملے کے جواب میں طاقت کا چھوٹا سا مظاہرہ کیا، تحمل کا مظاہرہ کشیدگی میں کمی کی درخواستوں پر کیا گیا ہے،ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر ایران کے بنیادی ڈھانچے پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو تحمل کا مظاہرہ نہیں کریں گے، جنگ کا خاتمہ کسی بھی انداز سے ہو، شہری علاقوں میں ہوئے نقصانات کا ازالہ لازمی شرط ہوگی۔

  • امریکا کو ایران جنگ میں بھاری نقصان، 16امریکی جنگی طیارے تباہ ہونے کا دعویٰ

    امریکا کو ایران جنگ میں بھاری نقصان، 16امریکی جنگی طیارے تباہ ہونے کا دعویٰ

    امریکی خبر رساں ادارے بلوم برگ نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگی کارروائیوں میں اب تک امریکا کو فضائی محاذ پر نمایاں نقصان اٹھانا پڑا ہے، جہاں مجموعی طور پر 16 جنگی طیارے تباہ ہو چکے ہیں۔

    بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق تباہ ہونے والے طیاروں میں 10 بغیر پائلٹ MQ-9 Reaper اسٹرائیک ڈرون بھی شامل ہیں، جبکہ اس کے علاوہ 6 امریکی جنگی جہازوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ 3 امریکی جنگی طیارے کویت کی فضاؤں میں تباہ ہوئے، جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ “فرینڈلی فائر” کا نشانہ بنے۔اسی طرح ایک KC-135 Stratotanker ری فیولنگ طیارہ دورانِ آپریشن تباہ ہو گیا، جس کے نتیجے میں عملے کے تمام 6 ارکان ہلاک ہو گئے۔مزید برآں، 5 دیگر KC-135 ری فیولنگ طیاروں کو سعودی عرب کے ایک ہوائی اڈے پر ایرانی میزائل حملے میں شدید نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

    بلوم برگ کے مطابق ایران نے امریکی بغیر پائلٹ ریپر ڈرونز کو بھی نشانہ بنایا، جن میں سے 9 ڈرونز کو تباہ کیا جا چکا ہے۔ ان میں ایک ڈرون کو اردن میں بیلسٹک میزائل کے ذریعے مار گرایا گیا۔دفاعی ماہرین کے مطابق اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ امریکا کے لیے ایک بڑا عسکری اور اسٹریٹجک دھچکا ہوگا، جو خطے میں طاقت کے توازن پر بھی اثرانداز ہو سکتا ہے۔

  • کمسن بچوں کا اسلحہ اٹھانا،ٹی ٹی پی کا چہرہ بے نقاب،صوبائی حکومت کی ناکامی کی واضح مثال

    کمسن بچوں کا اسلحہ اٹھانا،ٹی ٹی پی کا چہرہ بے نقاب،صوبائی حکومت کی ناکامی کی واضح مثال

    آٹھ لاکھ مربع کلومیٹر سے زائد رقبے پر پھیلے ملک میں کمسن بچوں کا اسلحہ اٹھا کر ٹی ٹی پی دہشتگردوں کے ساتھ اس نوعیت کی ویڈیوز دہشتگرد کسی بھی جگہ اسٹیج کر سکتے ہیں اور انہیں ڈیجیٹل طور پر پھیلا کر کنٹرول کا جھوٹا تاثر پیدا کیا جا سکتا ہے۔

    یہ فوٹیج ٹی ٹی پی خوارج کا اصل چہرہ بے نقاب کرتی ہے، جو ایک ایسا دہشتگرد گروہ ہے جو عوامی حمایت کے بجائے خوف، جبر اور اسٹیج کیے گئے پروپیگنڈے پر انحصار کرتا ہے۔ ٹی ٹی پی خوارج کی جانب سے بچوں کا استعمال ایک سوچا سمجھا عمل ہے، جس کے ذریعے معصوم ذہنوں کو شدت پسندی کی طرف مائل کیا جا رہا ہے اور معصومیت کو تشدد کے آلے میں بدلا جا رہا ہے۔ بچوں کے ذریعے درخت جلانا اور ہتھیار لہرانا تباہی کی علامت ہے، جو ٹی ٹی پی کی اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے جو انسانی جان کی قدر کو رد کرتی ہے، اور خوارج کی تباہ کن ذہنیت اور عوام دشمن، استحکام مخالف اقدامات کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ وہ پاکستان ہے جس کا خواب ٹی ٹی پی خوارج دیکھتے ہیں، ایک ایسا معاشرہ جہاں نہ تعلیم ہو، نہ حکمرانی، اور نہ ہی بنیادی انسانی اقدار۔

    خیبر پختونخوا سے سامنے آنے والے ایسے واقعات صوبائی حکومت کی رٹ پر سنگین سوالات اٹھاتے ہیں اور اس ناکامی کو ظاہر کرتے ہیں کہ انتہاپسند عناصر کو کھلے عام سرگرم ہونے سے کیوں نہ روکا جا سکا۔ خیبر پختونخوا میں ضلعی انتظامیہ اور مقامی سیاسی قیادت کہاں ہے؟ اور جب شدت پسند بیانیہ معمول بنایا جا رہا ہے تو منتخب نمائندے خاموش کیوں ہیں؟ ٹی ٹی پی خوارج کا مقابلہ صرف سیکیورٹی فورسز پر نہیں چھوڑا جا سکتا، اس کے لیے مؤثر حکمرانی، قانون کا نفاذ اور ہر سطح پر ریاست کی واضح موجودگی ضروری ہے۔ اگر اس سوچ کا اجتماعی طور پر مقابلہ نہ کیا گیا تو یہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کو خطرے میں ڈال سکتی ہے اور وحشی عناصر کو ریاست کی سمت متعین کرنے کا موقع دے سکتی ہے

  • خیبر میں اسلحہ اٹھائے کمسن بچوں کے ساتھ  ویڈیو، سیکیورٹی ناکامی نہیں بلکہ پروپیگنڈا حربہ

    خیبر میں اسلحہ اٹھائے کمسن بچوں کے ساتھ ویڈیو، سیکیورٹی ناکامی نہیں بلکہ پروپیگنڈا حربہ

    خیبر سے منسوب ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں کمسن بچوں کو اسلحہ تھامے دکھایا گیا ہے۔ یہ ویڈیو درحقیقت ایک اسٹیجڈ میڈیا اسٹنٹ ہے جس کا مقصد سیکیورٹی صورتحال کو بگاڑ کر پیش کرنا ہے، نہ کہ زمینی حقائق کی عکاسی کرنا۔

    مختصر ویڈیو کلپ میں بچوں کو ایک محدود اور چھوٹے سے علاقے میں دکھایا گیا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ اس طرح کے مناظر محض تاثر قائم کرنے کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔ چند فٹ کے اسٹیج کیے گئے مناظر کی بنیاد پر کسی خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال کا اندازہ لگانا درست نہیں۔اس ویڈیو میں شامل کمسن بچوں کو معمولی رقم یا عیدی دے کر شامل کیا گیا۔ ایک منظر میں ایک بچے کو ہتھیار کو چومتے ہوئے دکھایا گیا، جودہشت گردی کی خطرناک تشہیر ہے، یہ اقدام نہ صرف بچوں کا استحصال ہے بلکہ شدت پسندی کو جذباتی رنگ دے کر پھیلانے کی کوشش بھی ہے۔

    اس واقعے کے بعد ضلعی انتظامیہ اور خیبر پختونخوا حکومت پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔مقامی انتظامیہ کہاں ہے؟صوبائی حکومت کیوں خاموش ہے؟علاقے کے منتخب اراکین اسمبلی (ایم این ایز اور ایم پی ایز) نے اب تک کوئی نوٹس کیوں نہیں لیا؟ماہرین کا کہنا ہے کہ سول اداروں کو فوری طور پر متحرک ہو کر ایسے واقعات کا نوٹس لینا چاہیے تاکہ ذمہ داری کا تعین ہو سکے۔تجزیہ کاروں نے اس بات پر زور دیا کہ ہر امن و امان کا مسئلہ فوج کا کام نہیں ہوتا۔مقامی حکومت، پولیس، ضلعی انتظامیہ اور سیاسی قیادت کی بھی واضح ذمہ داریاں ہیں، اور سول نظام کی ناکامی کو سیکیورٹی اداروں پر منتقل کرنا مناسب نہیں۔

    شدت پسند گروہ ماضی میں بھی اسی طرح کے حربے استعمال کرتے رہے ہیں۔ پاکستان کے وسیع رقبے (آٹھ لاکھ مربع کلومیٹر سے زائد) میں چند فٹ کے علاقے میں ویڈیو بنا کر اسے پورے ملک میں سیکیورٹی کی ناکامی کے طور پر پیش کرنا ایک پرانا طریقہ ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے گروہ اپنی موجودگی برقرار رکھنے کے لیے میڈیا تھیٹرکس پر انحصار کرتے ہیں، جن میں مختصر ویڈیوز،بچوں کا استعمال،جذباتی مناظر،کنٹرول کا جھوٹا تاثر شامل ہیں، جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہو سکتے ہیں۔

    بچوں کو دہشت گردی کی تشہیر کے لیے استعمال کرنا ناقابل قبول ہے۔یہ نہ صرف کمسن افراد کا استحصال ہے بلکہ ایک منظم نفسیاتی جنگ کا حصہ بھی ہے، جسے بے نقاب کرنا ضروری ہے، نہ کہ بغیر تحقیق کے پھیلانا۔

  • کراچی وائرل ویڈیو،اعزاز سید بھی ریٹنگ کے چکر میں،پروپیگنڈے،جھوٹ کی ترویج میں شامل

    کراچی وائرل ویڈیو،اعزاز سید بھی ریٹنگ کے چکر میں،پروپیگنڈے،جھوٹ کی ترویج میں شامل

    کچھ نام نہاد اعزاز سید جیسے”تحقیقی صحافی” درحقیقت صحافی نہیں ، نہ تحقیق، نہ تصدیق، نہ زمینی حقائق کی پڑتال، بس ایک جذباتی ویڈیو دیکھی، اس پر جھوٹ، پروپیگنڈا اور ڈرامہ چڑھایا، اور ریٹنگ و ویوز کے لالچ میں سوشل میڈیا پر کچرا پھینک دیا۔ کوئی ٹحقیق بھی فرما لیتے۔

    “واقعہ ایک پرائیویٹ ھاؤسنگ سوسائیٹی کی بلڈنگ کے گراؤنڈ فلور پر موجود دو کیفے مالکان (خاتون اور مرد) کے درمیان پلازہ کے سامنے والے خالی پلاٹ پر قبضہ کرنے اور میزیں لگانے کے معاملے پر پیش آیا۔ سیکیورٹی عملے نے موقع پر پہنچ کر دونوں پر واضح کیا کہ سامنے پلاٹ کسی کی ملکیت نہیں ہے، لہٰذا اس کا تجارتی استعمال ممنوع ہے۔لہذاٰ پلاٹ استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

    یہ لوگ خبر نہیں بناتے، ب خبر کو سنسنی خیزی کا لبادہ پہناتے ہیں۔ انہیں نہ سچ سے دلچسپی ہے، نہ متاثرہ فریق سے، نہ قانون سے، نہ حقائق سے۔ ان کی پوری صحافت کا خلاصہ یہ ہے “پہلے پوسٹ کرو، بعد میں سوچو، یا بالکل نہ سوچو۔” افسوس یہ ہے کہ ہمارے ہاں کچھ اتنے سادہ لوح، نااہل اور غیر پیشہ ور لوگ خود کو تحقیقاتی صحافی کہتے ہیں، حالانکہ ان کی “تحقیق” صرف اتنی ہوتی ہے کہ وائرل ویڈیو دیکھی، جذباتی کیپشن لگایا، دو لوگوں کو ٹیگ کیا اور جھوٹا بیانیہ بیچنا شروع کر دیا۔

    یہ صحافت نہیں، یہ سستی شہرت کا گھناؤنا کاروبار ہے۔
    نہ ریکارڈ چیک کیا، نہ متعلقہ ادارے سے مؤقف لیا، نہ زمین کی اصل قانونی حیثیت دیکھی ، بس ویوز کے نشے میں جو سامنے آیا، وہی پوسٹ کر دیا۔ ایسے لوگ دراصل سچ کے نہیں، سنسنی پھیلانے کے دلاّل ہیں۔ عقل وفہم سے عاری۔ ان کا مقصد حقائق سامنے لانا نہیں بلکہ عوام کے جذبات بھڑکا کر اپنی دکان چمکانا ہے۔ یہ رویہ صرف غیر ذمہ داری نہیں بلکہ صحافتی بددیانتی کی بدترین شکل ہے۔ جب صحافی تحقیق چھوڑ کر افواہ فروشی پر اتر آئے تو وہ معاشرے کی رہنمائی نہیں کرتا بلکہ گمراہی، اشتعال اور بے اعتمادی پھیلاتا ہے۔جو شخص تحقیق کے بغیر الزام اچھالے، وہ صحافی نہیں، فیکٹری میڈ پروپیگنڈسٹ ہے۔

    آج کل اعزاز سید جیسے صحافیوں کو سچ سے زیادہ اپنے ویوز عزیز ہیں، حقائق سے زیادہ اپنی ریچ پیاری ہے، اور پیشہ ورانہ دیانت سے زیادہ اپنی ریٹنگ کی فکر ہے۔ اسی لیے یہ لوگ ہر جذباتی ویڈیو کو “انویسٹی گیشن” اور ہر جھوٹے الزام کو “بریکنگ” بنا دیتے ہیں۔ اعزاز سید جیسے صحافی نہیں، ویوز کے بھوکے افواہ فروش ہیں۔ تحقیق ان کے بس کی بات نہیں، ڈرامہ بیچنا ان کا اصل ہنر ہے۔ ایک جھوٹ سے بھر پور جذباتی وائرل کلپ ملا اور یہ “تحقیقی صحافت” کے نام پر جھوٹ کی دکان کھول کر بیٹھ گئے۔ سچ کی تلاش نہیں، ریٹنگ کی تلاش ان کا اصل ایجنڈا ہے۔ ایسے نام نہاد صحافی خبر نہیں دیتے، فساد کو فیڈ کرتے ہیں۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر عمار سولنگی کہتے ہیں کہ بدقسمتی سے اس پوسٹ کی طرف سےاعزاز سید
    ہماری صحافت کی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔ وہ ایک تحقیقاتی صحافی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن وہ صرف اس لیے حرکت میں آیا کیونکہ اس نے سوشل میڈیا پر ایک سنسنی خیز ویڈیو دیکھی ہے۔ اور نام نہاد صحافی نے صدر پاکستان کے علاوہ کسی اور کو ٹیگ نہیں کیا اور اس میں کسی اور کو نہیں بلکہ صدر پاکستان کی بیٹی کو شامل کیا ہے۔اور یہ سب حقائق کو جانچے بغیر۔یہ کچھ حقائق ہیں جو مجھے سندھ کے صحافی ہونے کے ناطے چند منٹوں میں معلوم ہو گئے۔

    کیس کا تعلق زمین کے قبضہ یا اس کے پلاٹ یا اس سے متعلق کسی دھوکہ دہی سے نہیں ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ وہ کراچی کی ایک ہاؤسنگ سوسائٹی میں کمرشل پلازہ کے گراؤنڈ فلور پر ایک دکان کی مالک ہے۔ وہ اور اس کے پڑوسی دکان کے مالک، دونوں نئے قائم کردہ / تجدید شدہ کیفے ٹیریا کے مالک ہیں۔ دونوں باہر بیٹھنے کے لیے سامنے کا لان/سبز جگہ استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ دونوں فریقوں کے درمیان ایک ہی سبز جگہ کے استعمال پر جھگڑا ہوا اور اسی وجہ سے خاتون کو پڑوسی کیفے کے مالک کے خلاف وضاحتیں/الزامات لگاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ہاؤسنگ سوسائٹی کی انتظامیہ پہلے ہی مداخلت کر چکی ہے اور دونوں فریقوں کو بتا چکی ہے کہ کسی کو بھی اس سبز جگہ کے استعمال کی اجازت نہیں ہے۔

  • کراچی میں نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں تنازعہ،ادھوری ویڈیو،تحقیقاتی صحافت پر سوالات

    کراچی میں نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں تنازعہ،ادھوری ویڈیو،تحقیقاتی صحافت پر سوالات

    کراچی میں ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں پیش آنے والے حالیہ تنازعے کو سوشل میڈیا پر بڑھا چڑھا کر پیش کیے جانے کے بعد حقیقت سامنے آ گئی ہے، جس نے نام نہاد تحقیقاتی صحافت پر کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق یہ معاملہ دراصل دو کیفے کے کرایہ داروں کے درمیان ایک کھلے لان،میڈین کے غیر قانونی استعمال پر جھگڑے کا تھا۔ سوسائٹی قوانین کے تحت اس جگہ پر کسی قسم کی تعمیرات یا ذاتی استعمال کی اجازت نہیں ہے، جبکہ دونوں فریق اس اصول کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔سوسائٹی انتظامیہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دونوں اطراف کو روک دیا اور واضح کیا کہ مذکورہ جگہ کسی کی ملکیت نہیں بلکہ مشترکہ اوپن ایریا ہے، جسے کسی بھی نجی مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

    تاہم سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ادھوری ویڈیوز اور غیر مصدقہ دعوؤں نے اس معاملے کو غیر ضروری طور پر سیاسی رنگ دے دیا۔ بعض صارفین اور نام نہاد تحقیقاتی صحافیوں نے بغیر تصدیق کے صدر مملکت آصف علی زرداری، سندھ کے سینئر صوبائی وزیر،وزیر اطلاعات شرجیل میمن اور سندھ حکومت کو مورد الزام ٹھہرانا شروع کر دیا، حالانکہ اس واقعے کا سرکاری پالیسی یا حکومتی معاملات سے کوئی تعلق نہیں تھا۔کراچی کے ہر جھگڑے کاصدر مملکت آصف علی زرداری کا قصور نہیں۔ہاؤسنگ سوسائٹی میں ہر دلیل سندھ حکومت کا مسئلہ نہیں ہے۔ہر وائرل کلپ تحقیقات نہیں ہوتا۔کبھی کبھی یہ صرف غیر قانونی تجاوزات ہے.

    یہ واقعہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ کس طرح سوشل میڈیا پر ادھوری معلومات اور سنسنی خیزی کے ذریعے عوام کو گمراہ کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ہر تنازعے کو حکومتی ناکامی قرار دینا نہ صرف غیر ذمہ دارانہ عمل ہے بلکہ صحافتی اصولوں کے بھی خلاف ہے۔ معروف ناموں جیسے اعزاز سید اور احمد فرہاد سمیت مختلف سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے بھی مکمل حقائق کی تصدیق کیے بغیر اس معاملے کو بڑھایا۔حالانکہ اعزاز سید خود کو تحقیقاتی صحافی کہتے ہیں اور بنا کسی تحقیق کے ویڈیو کو ایکس پر شیئر کر دیا اسی طرح احمد فرہاد اور دیگر نے بھی ویڈیو کو بنا کسی تحقیق کے سوشل میڈیا پر شیئر کیا اور سندھ حکومت کو ٹیگ کیا،

    موجودہ دور میں "تحقیقاتی صحافت” کے نام پر آدھی ویڈیوز دیکھ کر رائے قائم کرنا، حکومت کو ٹیگ کرنا اور سیاستدانوں پر الزام لگانا ایک خطرناک رجحان بنتا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف عوامی رائے متاثر ہوتی ہے بلکہ اصل مسائل بھی پسِ پشت چلے جاتے ہیں۔ ہاؤسنگ سوسائٹی کیس صرف تجاوزات کی لڑائی تھی،

  • ایرانی میزائل حملہ،حیفہ آئل ریفائنری کمپلیکس نشانہ، ہنگامی صورتحال نافذ

    ایرانی میزائل حملہ،حیفہ آئل ریفائنری کمپلیکس نشانہ، ہنگامی صورتحال نافذ

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران جمعرات کے روز حیفہ میں واقع آئل ریفائنری کمپلیکس پر ایرانی میزائل حملہ کیا گیا، جس کی تصدیق تین اسرائیلی ذرائع نے بین الاقوامی میڈیا کو کی ہے۔

    اسرائیلی حکام کے مطابق میزائل حملہ مرکزی ریفائنری کمپلیکس کو نشانہ بنا کر کیا گیا، جو اسرائیل کی سب سے بڑی توانائی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے اور حیفہ بے کے علاقے میں ایندھن اور کیمیکل پیداوار کا بڑا مرکز ہے۔حملے کے فوری بعد ریسکیو اور ایمرجنسی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور نقصان کا جائزہ لینے کا عمل شروع کردیا گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی خبر نہیں ملی، تاہم صورتحال کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے۔اسرائیل کی فائر اینڈ ریسکیو اتھارٹی کے مطابق فائر فائٹرز آگ بجھانے میں مصروف ہیں جبکہ دیگر ٹیمیں ممکنہ خطرناک کیمیکل مواد کے اخراج کے خدشے کے پیش نظر علاقے کی مکمل تلاشی لے رہی ہیں۔ حکام نے قریبی علاقوں کے رہائشیوں کو محتاط رہنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے حملے نہ صرف توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو متاثر کرتے ہیں بلکہ خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران اور اسرائیل کے درمیان براہ راست جھڑپوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

    اسرائیل کے پاس صرف دو ریفائنریاں ہیں۔حیفا ریفائنری (بازان) اسرائیل کی سب سے بڑی اور انتہائی اہم ریفائنری ہے جو ملک کے تقریباً 50–60 فیصد ایندھن کی فراہمی کرتی ہے (60% ڈیزل اور 50% پٹرول)۔ یہ روزانہ تقریباً 197,000 بیرل تیل پروسیس کرتی ہے، یعنی اسرائیل کی نقل و حمل، ہوا بازی اور فوجی ایندھن کا بڑا حصہ اسی پر منحصر ہے۔ ایرانی میزائلوں نے ابھی اس کو نشانہ بنایا ہے۔

  • امریکی F-35 لڑاکا طیاہ ایرانی حملے کی زد میں ،ہنگامی لینڈنگ

    امریکی F-35 لڑاکا طیاہ ایرانی حملے کی زد میں ،ہنگامی لینڈنگ

    ایرانی حملے کی زد میں آ کر امریکی فضائیہ کا جدید اسٹیلتھ لڑاکا طیارہ ایف-35 ہنگامی لینڈنگ پر مجبور ہو گیا۔طیارے کوقریبی امریکی فضائی اڈے پر اتارا گیا۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پانچویں نسل کا یہ جدید طیارہ ایران کے اوپر جنگی مشن پر تھا جب اسے تکنیکی اور ممکنہ حملے کے باعث ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔ انہوں نے کہا کہ طیارہ بحفاظت لینڈ کر گیا اور پائلٹ کی حالت مستحکم ہے۔کیپٹن ہاکنز کے مطابق "طیارہ محفوظ طریقے سے اتر گیا ہے اور پائلٹ مکمل طور پر ہوش میں ہے، تاہم واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں۔”

    ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ پہلا موقع ہو سکتا ہے کہ ایران نے براہِ راست کسی امریکی طیارے کو نشانہ بنایا ہو، جس سے خطے میں جاری جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل دونوں اس تنازع میں ایف-35 جیسے جدید ترین لڑاکا طیارے استعمال کر رہے ہیں، جن کی قیمت 100 ملین ڈالر سے زائد ہوتی ہے۔دوسری جانب امریکی حکام بدستور اپنی فوجی مہم کو کامیاب قرار دے رہے ہیں۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے حالیہ بیان میں دعویٰ کیا کہ امریکہ "فیصلہ کن برتری” حاصل کر چکا ہے اور ایران کے فضائی دفاعی نظام کو "بڑی حد تک تباہ” کر دیا گیا ہے۔