Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • سیکورٹی اداروں کی بروقت کاروائی،تونسہ کے قریب 2  ٹی ٹی پی دہشتگرد جہنم واصل

    سیکورٹی اداروں کی بروقت کاروائی،تونسہ کے قریب 2 ٹی ٹی پی دہشتگرد جہنم واصل

    تونسہ: سیکیورٹی اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تونسہ اور گرد و نواح کے علاقوں کو ممکنہ دہشت گردی سے محفوظ بنا لیا۔ خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کیے گئے ایک ہدفی آپریشن میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے دو دہشت گرد ہلاک جبکہ ایک زخمی ہو گیا۔

    سی ٹی ڈی پنجاب نے کوہ سلیمان کے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں جدید نگرانی اور انٹیلی جنس معلومات کی مدد سے ایک بڑی کارروائی انجام دی۔ دہشت گرد تونسہ، وہوا اور کوہ سلیمان کے آباد علاقوں میں تخریب کاری کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، جس کے پیش نظر ان کی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھی جا رہی تھی۔ذرائع کے مطابق رات بھر جاری خفیہ مانیٹرنگ، جدید ڈرون ٹیکنالوجی اور زمینی نگرانی کے بعد تقریباً رات 12 بج کر 30 منٹ پر کالعدم ٹی ٹی پی کے مخصوص ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ ہدفی ڈرون کارروائی قبائلی علاقہ تونسہ کے درہ واہوا سیکٹر میں کچی لکھانی کے قریب کی گئی۔ابتدائی زمینی جائزوں کے مطابق کارروائی انتہائی درست ثابت ہوئی، جس کے نتیجے میں دو دہشت گرد موقع پر ہلاک جبکہ ایک زخمی ہو گیا۔ ہلاک ہونے والوں میں تنظیم کا ایک اہم کمانڈر بھی شامل بتایا جاتا ہے۔ کارروائی کے بعد باقی دہشت گرد اپنے زخمی ساتھی کو ساتھ لے کر قریبی دشوار گزار علاقوں کی جانب فرار ہو گئے۔ فرار ہونے والے دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے، جبکہ مختلف راستوں کی نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

    سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ بروقت اور مؤثر کارروائی کے باعث ایک بڑے دہشت گرد منصوبے کو ناکام بنا دیا گیا، جس سے تونسہ، وہوا اور کوہ سلیمان کے علاقوں کو ممکنہ نقصان سے بچا لیا گیا۔ حکام نے عزم ظاہر کیا ہے کہ دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی اور علاقے کے امن و استحکام کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔

  • تونسہ،ٹی ٹی پی نے بلوچستان سے آنیوالی دو گاڑیاں قبضہ میں لے لیں،دہشتگردی کا خدشہ

    تونسہ،ٹی ٹی پی نے بلوچستان سے آنیوالی دو گاڑیاں قبضہ میں لے لیں،دہشتگردی کا خدشہ

    تونسہ میں کالعدم ٹی ٹی پی کے دہشتگرد متحرک ،بلوچستان سے آنے والے دو ڈالہ گاڑیوں کو روک کر اسمگل شدہ سامان اتار لیا،گاڑیاں بھی قبضہ میں لے لیں،علاقے میں دہشتگردی کا خدشہ،شہریوں نے سیکورٹی فورسز سے کاروائی کا مطالبہ کر دیا

    باخبر ذرائع کے مطابق 25 سے 30 کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے دہشت گرد تونسہ میں پنجاب اور خیبرپختونخوا کی سرحد پر واقع بارڈر ملٹری پولیس اسٹیشن چتروٹہ کی حدود میں موجود تھے۔دہشت گردوں نے بلوچستان سے آنے والے نان کسٹم پیڈ سامان لے جانے والی دو ڈالہ گاڑیوں کو روک کر اپنے قبضے میں لے لیا۔ بعد ازاں دونوں گاڑیوں سے اسمگل شدہ سامان اتار لیا گیا۔ان پیش رفتوں کے پیش نظر اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ ٹی ٹی پی کے عناصر ضبط شدہ گاڑیوں کو تونسہ کے علاقے میں سرحدی سکیورٹی چوکیوں پر حملوں کے لیے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں۔علاقہ مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اور سکیورٹی ادارے فوری طور پر سکیورٹی اقدامات مزید سخت کریں، تمام قریبی چیک پوسٹوں کو مضبوط بنائیں،ٹی ٹی پی دہشتگردوں‌کے خلاف کاروائی کی جائے تاکہ علاقہ میں امن و امان قائم رہے.

    واضح رہے کہ 19 مئی کو خیبرپختونخوا، بلوچستان اور پنجاب کے سنگم پر قائم بارڈر ملٹری پولیس کے تھانہ چتروٹہ پر ٹی ٹی پی کے دہشتگردوں نے حملہ کیا تھا، دھماکہ خیز مواد سے تھانے کی عمارت کو شدید نقصان۔ دھماکوں کے بعد مسلح افراد کی جانب سے تھانے کا محاصرہ بھی کیا گیا تھا

  • تونسہ میں ٹی ٹی پی متحرک،مساجد میں اعلانات،شہریوں میں‌خوف و ہراس

    تونسہ میں ٹی ٹی پی متحرک،مساجد میں اعلانات،شہریوں میں‌خوف و ہراس

    ضلع ڈیرہ غازی خان کے علاقے تونسہ میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی سرگرمیوں میں اضافے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

    ذرائع کے مطابق ٹی ٹی پی کے 14 سے 15 مسلح دہشتگرد بارڈر ملٹری پولیس (BMP) تھانہ چتروٹہ کی حدود میں واقع کچی لکھانی کے علاقے کی ایک مسجد میں موجود ہیں، جہاں وہ مقامی آبادی کے ساتھ ملاقاتیں اور اجتماعات منعقد کر رہے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گرد عناصر مقامی لوگوں کو بارڈر ملٹری پولیس میں جاری بھرتی مہم میں شامل ہونے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کی جانب سے عوامی اعلانات کے ذریعے نوجوانوں کو رضاکارانہ بھرتی سے باز رہنے کی تلقین کی جا رہی ہے،اور کہا جا رہا ہے کہ علاقے پر ان کا اثر و رسوخ اور انتظامی کنٹرول موجود ہے۔

    اطلاعات کے مطابق شدت پسند اپنے خطابات میں مقامی آبادی کو یقین دلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان کی عوام کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی نہیں، تاہم وہ لوگوں کو اپنی تنظیم اور نظریات کی حمایت پر آمادہ کر رہے ہیں۔ ان اجتماعات کے دوران قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف منفی پروپیگنڈا بھی کیا جا رہا ہے، جس سے علاقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

    سکیورٹی ذرائع صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں جبکہ حساس مقامات کی نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

  • چتروٹہ میں ٹی ٹی پی کی سرگرمیاں بڑھ گئیں، اسمگلنگ راہداریوں پر قبضے اور بھتہ خوری کا انکشاف

    چتروٹہ میں ٹی ٹی پی کی سرگرمیاں بڑھ گئیں، اسمگلنگ راہداریوں پر قبضے اور بھتہ خوری کا انکشاف

    ڈیرہ غازی خان: پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے سنگم پر واقع قبائلی علاقہ چتروٹہ ایک مرتبہ پھر سکیورٹی اداروں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ ایک تفصیلی انٹیلی جنس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے چتروٹہ راہداری میں اپنی منظم موجودگی قائم کرتے ہوئے اسمگلنگ کے نیٹ ورکس سے بھتہ وصولی کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، جسے دہشت گردی کی مالی معاونت کا مستقل ذریعہ بنایا جا رہا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق چٹتوٹہ ضلع ڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقے تونسہ میں واقع ایک انتہائی اہم جغرافیائی مقام ہے جہاں پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی سرحدیں آپس میں ملتی ہیں۔ کوہِ سلیمان کے دشوار گزار پہاڑی سلسلے میں واقع یہ علاقہ اپنی پیچیدہ جغرافیائی ساخت، برساتی ندی نالوں اور خفیہ گزرگاہوں کی وجہ سے عسکریت پسندوں اور جرائم پیشہ عناصر کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چتروٹہ میں قائم بارڈر ملٹری پولیس (بی ایم پی) چوکی پنجاب کی سرحدی دفاعی لائن کا اہم حصہ ہے، تاہم مئی 2026 میں ٹی ٹی پی کے حملے میں اس چوکی کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گرد تنظیم کا مقصد علاقے میں ریاستی رٹ کو کمزور کرنا اور اپنی مستقل موجودگی کو یقینی بنانا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق چتروٹہ اور اس کے اطراف کے علاقے کم آبادی والے اور مکمل طور پر قبائلی نوعیت کے حامل ہیں جہاں روایتی قبائلی نظام اب بھی غالب ہے۔ قیصرانی بلوچ قبیلہ مقامی وادیوں اور پہاڑی راستوں پر اثر و رسوخ رکھتا ہے جبکہ بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل میں ایسوٹ اور زمری پشتون قبائل اہم پہاڑی گزرگاہوں پر کنٹرول رکھتے ہیں۔ شمال میں خیبر پختونخوا کے علاقے خوئی پیوار اور خوئی بہارا استرانہ پشتون قبیلے کے زیر اثر ہیں۔انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی نے انہی پہاڑی علاقوں میں خفیہ ٹھکانے اور آپریشنل اڈے قائم کر رکھے ہیں جہاں سے وہ اسمگلنگ روٹس کی نگرانی اور بھتہ خوری کی کارروائیاں انجام دیتی ہے۔

    رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گوزی سیکٹر میں تقریباً 18 سے 20 بھاری ہتھیاروں سے لیس ٹی ٹی پی جنگجو موجود ہیں۔ یہ مقام پنجاب اور خیبر پختونخوا کے درمیان واقع مرکزی اسمگلنگ راستے سے محض 5 سے 6 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، جس کے باعث دہشت گرد باآسانی نقل و حرکت کرنے والی گاڑیوں اور تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ذرائع کے مطابق تنظیم نان کسٹم پیڈ (این سی پی) سامان، خصوصاً سگریٹ اور ایرانی تیل لے جانے والی گاڑیوں سے 15 ہزار سے 20 ہزار روپے فی گاڑی کے حساب سے بھتہ وصول کر رہی ہے۔ رپورٹ میں اس عمل کو ٹی ٹی پی کی دہشت گردی کی مالی معاونت کا اہم ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق بلوچستان سے آنے والا غیر قانونی سامان مختلف راستوں سے چتروٹہ پہنچتا ہے اور وہاں سے پنجاب اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔اسمگلنگ کے اہم راستوں میں مکھتر، موسیٰ خیل، کارکانہ، ڈب بینی، چتروٹہ، درہ وہوا، درہ کورہ، گوزی، خوئی پیوار، بستی بزدار اور رامک سمیت متعدد مقامات شامل ہیں۔ بعض راستے براہ راست درہ وہوا اور درہ کورہ سے ہوتے ہوئے بستی گرو، بستی متھوان اور بستی باجھہ تک پہنچتے ہیں۔رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ چتروٹہ سے قریبی سکیورٹی تنصیبات کے درمیان فاصلہ نسبتاً زیادہ ہے، جس کی وجہ سے ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل مشکل ہو سکتا ہے۔ بی ایم پی چتروٹہ سے تھانہ وہوا 25 کلومیٹر، بی ایم پی لکھانی 28 کلومیٹر، پولیس پکٹ جھنگی 43 کلومیٹر جبکہ جوائنٹ چیک پوسٹ ٹریمن 48 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔سکیورٹی ماہرین کے مطابق گوزی سیکٹر کا چتروٹہ سے صرف 5 سے 6 کلومیٹر کا فاصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ٹی ٹی پی مختصر وقت میں علاقے میں اپنی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کر سکتی ہے۔

    انٹیلی جنس رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی چتروٹہ اور اس سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں مستقل آپریشنل نیٹ ورک قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ اسمگلنگ سے حاصل ہونے والی آمدن کو مستقل بنیادوں پر اپنے مالیاتی نظام کا حصہ بنایا جا سکے۔ رپورٹ میں اس خطرے سے نمٹنے کے لیے سرحدی نگرانی، انٹیلی جنس شیئرنگ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان مربوط کارروائیوں کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

  • اوکاڑہ،اے سی کی زیر صدارت اجلاس،  انسدادِ ڈینگی مہم ،مجموعی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ

    اوکاڑہ،اے سی کی زیر صدارت اجلاس، انسدادِ ڈینگی مہم ،مجموعی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)اسسٹنٹ کمشنر مرزا راحیل بیگ کی زیر صدارت تحصیل ایمرجنسی رسپانس کمیٹی کا اجلاس، اجلاس میں تحصیل بھر کے تمام متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران تحصیل میں ڈینگی کی موجودہ صورتحال، انسدادِ ڈینگی مہم اور مجموعی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اسسٹنٹ کمشنر مرزا راحیل بیگ نے تمام متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ڈینگی کے خاتمے کے سلسلہ میں انڈور اور آؤٹ ڈور سرویلنس، ویکٹر سرویلنس اور تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن سمیت تمام امور کی کڑی نگرانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ڈینگی ہاٹ اسپاٹس کی چیکنگ میں کسی قسم کی سستی یا غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور لاپرواہی برتنے والے عملے کے خلاف سخت انتظامی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اسسٹنٹ کمشنر نے مزید کہا کہ مون سون کے آغاز سے قبل تمام حفاظتی انتظامات مکمل کیے جائیں اور فیلڈ ٹیمیں اینٹی ڈینگی ایس او پیز پر سو فیصد عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا شہریوں کو آگاہی فراہم کی جائے کہ وہ اپنے گھروں اور اردگرد کے ماحول کو صاف اور خشک رکھیں تاکہ ڈینگی مچھر کی افزائش کو روکا جا سکے۔

  • بہاولنگر پولیس میں بڑا ایکشن، دو افسران کے خلاف سخت کارروائی

    بہاولنگر پولیس میں بڑا ایکشن، دو افسران کے خلاف سخت کارروائی

    سابق ایس ایچ او نواز وٹو نوکری سے فارغ، ریاض بھٹی جبری ریٹائر

    (بہاولنگر باغی ٹی وی محمد عرفان نامہ نگار ))بہاولنگر پولیس میں احتساب کا بڑا عمل شروع ہوگیا۔ ڈی پی او بہاولنگر محمد عمران نے فرائض میں غفلت اور ناقص تفتیش پر سخت کارروائی کرتے ہوئے تھانہ فورٹ عباس میں تعینات سب انسپکٹر نواز احمد وٹو کے خلاف بڑا ایکشن لے لیا۔

    ڈی پی او آفس سے جاری ہونے والے مراسلے کے مطابق سب انسپکٹر نواز احمد B/474 کو فوری طور پر عہدے سے ہٹا کر اے ایس آئی کے عہدے پر تنزلی دی گئی اور انہیں نوکری سے فارغ کرتے ہوئے پولیس لائن بہاولنگر رپورٹ کرنے کا حکم جاری کر دیا گیا۔سرکاری حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ نواز احمد پہلے OSI رپورٹ جمع کروائیں گے، جس کے بعد انہیں RI/LO پولیس لائن بہاولنگر رپورٹ کرنا ہوگا۔ متعلقہ افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ سرکاری وردی، اسلحہ اور دیگر سرکاری سامان فوری طور پر واپس لے کر تصدیقی رپورٹ پیش کی جائے۔ذرائع کے مطابق سابق SHO تھانہ صدر ہارون آباد اور موجودہ تعینات فورٹ عباس نواز وٹو کے خلاف کارروائی فیضان مظہر ملکیرہ کیس میں مبینہ ناقص تفتیش اور فرائض میں سنگین غفلت کے باعث عمل میں لائی گئی ہے۔

    اسی کیس میں ایک اور پولیس افسر ریاض بھٹی سب انسپکٹر کے خلاف بھی محکمانہ کارروائی کرتے ہوئے جبری ریٹائرمنٹ کی سفارش اور کارروائی کی گئی ہے، جس سے محکمہ پولیس میں کھلبلی مچ گئی ہے۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی پی او بہاولنگر نے واضح پیغام دیا ہے کہ ناقص تفتیش، اختیارات کے غلط استعمال اور فرائض میں غفلت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، اور ذمہ دار افسران کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔اس اچانک اور سخت کارروائی کے بعد ضلع بھر کے پولیس افسران میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے جبکہ شہری حلقوں نے ڈی پی او بہاولنگر کے اس اقدام کو احتساب کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا ہے

  • بہاولنگر،محرم الحرام کے پرامن انعقاد کیلیے ڈی پی او،ڈی سی کا چشتیاں شہر کا دورہ

    بہاولنگر،محرم الحرام کے پرامن انعقاد کیلیے ڈی پی او،ڈی سی کا چشتیاں شہر کا دورہ

    (بہاولنگر باغی ٹی وی محمد عرفان نامہ نگار )محرم الحرام کے پرامن انعقاد اور سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے ڈی پی او بہاولنگر محمد عمران اور ڈی سی بہاولنگر ذوالفقار احمد بھون کا چشتیاں شہر کا اہم دورہ۔

    تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر بہاولنگر محمد عمران نے ڈپٹی کمشنر بہاولنگر ذوالفقار احمد بھون کے ہمراہ چشتیاں شہر کا تفصیلی دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد محرم الحرام کے دوران سیکیورٹی انتظامات، جلوسوں اور مجالس کے روٹس کا جائزہ لینا تھا۔ دورانِ وزٹ دونوں افسران نے سیکیورٹی اور دیگر انتظامات کو فول پروف بنانے کے لیے فیلڈ افسران کو اہم ہدایات جاری کیں۔ڈی پی او اور ڈی سی نے چشتیاں شہر میں محرم الحرام کے روایتی اور لائسنس یافتہ جلوسوں کے راستوں کا باریک بینی سے معائنہ کیا۔ڈی پی او محمد عمران نے واضح کیا کہ محرم الحرام کے دوران امن و امان کا قیام اولین ترجیح ہے۔ سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔حساس مقامات اور جلوس کے راستوں پر سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب اور مانیٹرنگ کو یقینی بنانے کے احکامات دیے گئے۔

  • ہارون آباد میں خوفناک ٹریفک حادثہ، 2 افراد جاں بحق، 2 زخمی

    ہارون آباد میں خوفناک ٹریفک حادثہ، 2 افراد جاں بحق، 2 زخمی

    ہارون آباد (محمد عرفان، نامہ نگار باغی ٹی وی) ہارون آباد فورٹ عباس روڈ پر ٹینکی موڑ کے قریب پیش آنے والے ایک افسوسناک ٹریفک حادثے میں دو افراد جاں بحق جبکہ دو افراد زخمی ہو گئے۔

    تفصیلات کے مطابق دو موٹر سائیکلیں آپس میں ٹکرا گئیں، جس کے نتیجے میں سوار افراد سڑک پر گر گئے۔ عینی شاہدین کے مطابق موٹر سائیکل سوار ٹکر کے بعد قریب سے گزرنے والے ٹرک کے نیچے آ گئے، جس کے باعث دو افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور جاں بحق افراد کی لاشوں اور زخمیوں کو تحویل میں لے کر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا۔

    پولیس نے موقع پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کر لیے ہیں جبکہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔علاقہ مکینوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹینکی موڑ پر ٹریفک کے بہتر انتظامات اور حفاظتی اقدامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے المناک حادثات سے بچا جا سکے۔

  • مومنہ نے سابق شادی کی معلومات چھپائی ،ویڈیو ڈیلیٹ کروائی جائیں،ثاقب چدھڑ

    مومنہ نے سابق شادی کی معلومات چھپائی ،ویڈیو ڈیلیٹ کروائی جائیں،ثاقب چدھڑ

    رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ نے این سی سی آئی اے کو جمع کرائے گئے بیان میں سنگین الزامات سامنے آگئے۔ کہتے ہیں مومنہ اقبال کے کہنے پر اس کی بہن کی یونیورسٹی فیس کیلئے 13 ہزار آسٹریلین ڈالر بھجوائے۔

    ثاقب چدھڑ کا کہنا ہے کہ مومنہ اقبال سے 2020ء میں ملاقات ہوئی، جلد قریبی تعلقات قائم ہوگئے، اداکارہ مومنہ اقبال کے ساتھ اندرون و بیرون ملک متعدد سفر کیے، سفر کے تمام اخراجات خود برداشت کیے۔مومنہ اقبال کو بی اسمارٹ اسٹور لاہور سے ایک کروڑ روپے کی شاپنگ کرائی، فارچیونر لیجنڈر، ہنڈا سوک گاڑی، رولیکس گھڑی بھی تحفے میں دی،انہوں نے کہا کہ مومنہ اقبال اور اہلخانہ نے سابقہ شادی اور طلاق کی معلومات چھپائیں، مومنہ اقبال کے شادی شدہ ہونے کا علم ہونے پر شادی سے انکار کیا اگست 2025ء میں مومنہ اقبال سے تعلقات ختم کردیئے۔رکن پنجاب اسمبلی کا کہنا ہے کہ مومنہ کی بہن رمشا اقبال کی یونیورسٹی فیس 13 ہزار آسٹریلین ڈالر ادا کی، رمشا نے بلیک میلنگ کے ذریعے 10 ہزار آسٹریلین ڈالر وصول کئے، مومنہ اقبال کے اکاؤنٹ میں مختلف اوقات میں 83 لاکھ روپے منتقل کیے، مومنہ اقبال کی درخواست جھوٹی، بے بنیاد ہے،ویڈیو میں کوئی قابل اعتراض مواد نہیں، 13 مئی کو انجان نمبر سے کال آئی، جس نے خود کو مومنہ کا منگیتر بتایا اور مجھے جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں، خطرہ ہے میری تصاویر اور ویڈیوز کا غلط استعمال ہو سکتا ہے، فوری ڈیلیٹ کرایا جائے،

  • سعودی عرب کی بحرین اور کویت پر ایرانی حملوں کی مذمت،کویت کا ردعمل بھی آ گیا

    سعودی عرب کی بحرین اور کویت پر ایرانی حملوں کی مذمت،کویت کا ردعمل بھی آ گیا

    ریاض: سعودی عرب نے بحرین اور کویت پر مبینہ ایرانی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

    سعودی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کے مسلسل حملے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا رہے ہیں اور امن و استحکام کی بحالی کے لیے کی جانے والی عالمی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ سعودی عرب نے واضح کیا کہ وہ خطے میں سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے بحرین اور کویت کے تمام اقدامات کی مکمل حمایت کرتا ہے۔

    دوسری جانب کویتی وزارتِ خارجہ نے بھی ایران کے حالیہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں ملکی خودمختاری اور قومی سلامتی کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق صبح کے وقت کیے گئے حملے کھلی جارحیت کے مترادف ہیں اور علاقائی امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔کویتی حکام نے اپنے بیان میں کہا کہ ایسے حملوں کو کسی بھی جواز کے تحت درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ وزارتِ خارجہ نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ کویت اپنی سلامتی، خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق حملوں کے بعد خطے میں سیکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوا ہے جبکہ خلیجی ممالک صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔