Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • برطانیہ میں بھارتی چیف جسٹس سوریا کانت کو سخت سوالات کا سامنا

    برطانیہ میں بھارتی چیف جسٹس سوریا کانت کو سخت سوالات کا سامنا

    لندن: بھارت کے چیف جسٹس سوریا کانت کو برطانیہ میں ایک تقریب کے دوران شرکا کے سخت سوالات اور احتجاج کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث تقریب میں کشیدگی پیدا ہوگئی۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق لندن کی ایک یونیورسٹی میں منعقدہ تقریب میں بھارتی چیف جسٹس سوریا کانت خطاب کر رہے تھے کہ اس دوران حاضرین نے بھارت میں جمہوریت، اظہارِ رائے کی آزادی اور حکومت پر تنقید کے حق سے متعلق سوالات اٹھائے۔تقریب کے دوران بعض شرکا نے سوریا کانت کے ایک متنازع بیان کا حوالہ دیتے ہوئے ان سے وضاحت طلب کی۔ سوال و جواب کے سیشن میں ماحول اس وقت مزید کشیدہ ہوگیا جب ایک شرکا نے بھارت میں اختلافی آوازوں کے ساتھ رویے اور جمہوری اقدار کے حوالے سے سوال اٹھایا۔عینی شاہدین کے مطابق شرکا کی جانب سے تنقیدی سوالات کیے جانے پر تقریب کے منتظم اور ماڈریٹر نے مداخلت کی، جس پر بعض حاضرین نے اعتراض کیا۔ شرکا کا مؤقف تھا کہ سوالات پوچھنا ان کا حق ہے اور انہیں اپنی رائے کے اظہار سے نہیں روکا جانا چاہیے۔

    صورتحال اس وقت مزید گرم ہوگئی جب لیکچر ہال میں موجود ایک شخص بلند آواز میں احتجاج کرتے ہوئے چیخ اٹھا کہ "ہمارا احترام کیا جائے”۔ اس واقعے کے بعد چند لمحوں کے لیے تقریب میں بے نظمی اور ہنگامہ آرائی کی کیفیت پیدا ہوگئی۔

    یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب بھارت میں جمہوری آزادیوں، عدلیہ کے کردار اور اختلافِ رائے کے حوالے سے مباحث جاری ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنے والوں کو مختلف دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے،

  • ایران نے خامنہ ای اور ٹرمپ کی ملاقات کا امکان مسترد کر دیا

    ایران نے خامنہ ای اور ٹرمپ کی ملاقات کا امکان مسترد کر دیا

    ایران کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے واضح کیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ملاقات کا کوئی امکان نہیں ہے،تہران اور واشنگٹن کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات کی بحالی کا انحصار ایرانی منجمد اثاثوں کی رہائی پر ہے۔

    سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات اس وقت مکمل تعطل کا شکار ہیں اور اگر امریکہ سفارتی پیش رفت چاہتا ہے تو اسے سب سے پہلے ایرانی اثاثے آزاد کرنے ہوں گے۔محسن رضائی کے مطابق ایران تقریباً 24 ارب ڈالر کے منجمد فنڈز کی مرحلہ وار رہائی کا مطالبہ کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ رقم ایران کی اپنی ہے اور اسے واپس کرنا امریکہ کے لیے کسی جنگ کے مقابلے میں کہیں کم قیمت کا اقدام ہوگا۔انہوں نے کہا، "یہ ہمارا اپنا پیسہ ہے، امریکہ کا نہیں۔ مذاکرات کی لاگت امریکہ کے لیے ہم سے جنگ کرنے کی لاگت سے کہیں کم ہے۔”

    رضائی نے زور دیا کہ اب مذاکرات کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری صدر ٹرمپ پر عائد ہوتی ہے۔ ان کے بقول، "گیند اب ٹرمپ کے کورٹ میں ہے۔”انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اقتصادی دباؤ اور کشیدگی برقرار رہی تو اس کے اثرات اہم بین الاقوامی بحری راستوں تک پھیل سکتے ہیں، جن میں بحرِ ہند، بحیرہ احمر، باب المندب اور بحیرہ روم شامل ہیں۔محسن رضائی نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور سپریم لیڈر خامنہ ای کے درمیان ملاقات "ہرگز نہیں ہوگی”۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں اور ٹرمپ کی پالیسیوں نے سفارتی عمل کو سست کر دیا ہے۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند روز قبل صدر ٹرمپ نے امریکی میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ وہ مستقبل میں کسی وقت خامنہ ای سے ملاقات کے لیے تیار ہیں اور اسے اپنے لیے اعزاز سمجھیں گے۔آبنائے ہرمز کے حوالے سے رضائی نے کہا کہ ایران اور عمان اس اہم آبی گزرگاہ پر مشترکہ خودمختاری رکھتے ہیں۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اس راستے کی دیکھ بھال کا تمام بوجھ صرف ایران پر نہیں ڈالا جا سکتا اور دونوں ممالک کو مل کر اس کا انتظام کرنا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں اور امریکہ فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کرتا ہے تو ایران اس کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق ایران کی زمینی افواج ایسی صلاحیتوں کی حامل ہیں جو اس کے میزائل پروگرام سے بھی زیادہ طاقتور ہیں۔محسن رضائی نے جاری کشیدگی کو اسلامی جمہوریہ ایران کی تاریخ کا ایک اہم موڑ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ 47 سالہ تاریخ میں پہلی بار ایران کسی جنگ میں فاتح بن کر ابھرا ہے۔

  • مودی سرکار تو گئی،بھارت کے نوجوانوں کا غصہ عروج پر

    مودی سرکار تو گئی،بھارت کے نوجوانوں کا غصہ عروج پر

    بھارت میں امتحانی اسکینڈلز، بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور محدود تعلیمی و روزگار مواقع کے خلاف نوجوانوں کا غصہ کھل کر سامنے آنے لگا ہے۔ سوشل میڈیا سے لے کر سڑکوں تک نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نظام میں جوابدہی اور اصلاحات کا مطالبہ کر رہی ہے، جبکہ ایک نئی سیاسی و سماجی تحریک نے اس بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔

    اس تحریک کی قیادت 30 سالہ بھارتی نوجوان ابھیجیت دیپکے کر رہے ہیں، جو بوسٹن یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں اور حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی "کاکروچ جنتا پارٹی” کے بانی ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکہ سے واپس نئی دہلی پہنچ رہے ہیں اور اس ہفتے کے اختتام پر دارالحکومت میں ایک بڑے احتجاج کی قیادت کریں گے۔دیپکے نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ان کے اہل خانہ اور دوستوں کو خدشہ ہے کہ انہیں ایئرپورٹ پر گرفتار کیا جا سکتا ہے، تاہم وہ اب خاموش رہنے کے لیے تیار نہیں۔انہوں نے کہا، "یہ ملک صرف ایک سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ تمام شہریوں کا ہے۔ ہمارے مستقبل کا سوال ہے اور ہمارا مستقبل تباہ کیا جا رہا ہے۔”

    بھارت میں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلے کے لیے ہونے والے مقابلہ جاتی امتحانات طویل عرصے سے تنازعات کا شکار رہے ہیں۔ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے، تکنیکی خرابیوں اور انتظامی بے ضابطگیوں کے باعث لاکھوں طلبہ اور ان کے خاندان شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔حال ہی میں بھارت کے سب سے بڑے میڈیکل انٹری ٹیسٹ میں شریک 20 لاکھ سے زائد طلبہ کو اس وقت بڑا دھچکا لگا جب مبینہ پرچہ لیک ہونے کے الزامات کے بعد امتحان کے نتائج منسوخ کر دیے گئے۔ اس فیصلے نے نوجوانوں کے غصے کو مزید بڑھا دیا۔
    24 سالہ طالبہ ویرونیکا مدن نے بتایا کہ انہوں نے دو سال تک میڈیکل کالج میں داخلے کے امتحان کی تیاری کی، مگر مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکیں۔ان کا کہنا تھا کہ امتحان کا دباؤ صرف امتحان کے دن نہیں بلکہ کئی ماہ اور بعض اوقات کئی برس پہلے سے شروع ہو جاتا ہے۔انہوں نے کہا، "ہمیں ہر قیمت پر کامیابی حاصل کرنے کی فکر ہوتی ہے۔ اپنے خاندان اور خود کو مایوس کرنے کا خوف ہر وقت موجود رہتا ہے۔”مدن کے مطابق اگرچہ وہ میڈیکل کالج میں داخلہ حاصل نہ کر سکیں، لیکن اب فرانزک سائنس میں ماسٹرز کر رہی ہیں اور اس ناکامی کو نئی سمت قرار دیتی ہیں۔

    بھارت دنیا کی سب سے بڑی آبادی رکھنے والا ملک ہے جہاں تقریباً 1.4 ارب افراد رہتے ہیں۔ ملک میں نوجوانوں کی تعداد بھی دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق بھارت میں 15 سے 29 سال عمر کے درمیان 36 کروڑ سے زائد افراد موجود ہیں، مگر نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح بدستور تشویشناک ہے۔رپورٹ کے مطابق 25 سال یا اس سے کم عمر گریجویٹس میں تقریباً 40 فیصد بے روزگار ہیں، جبکہ 20 سے 29 سال کے عمر گروپ میں تقریباً 20 فیصد نوجوان روزگار سے محروم ہیں۔ماہرین کے مطابق تعلیم سے روزگار تک کا سفر نوجوانوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے، جبکہ مہنگائی میں اضافے نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

    "کاکروچ جنتا پارٹی” کیسے وجود میں آئی؟
    "کاکروچ جنتا پارٹی” دراصل ایک طنزیہ سیاسی تحریک کے طور پر سامنے آئی، جس نے محض ایک ہفتے میں سوشل میڈیا پر 2 کروڑ 20 لاکھ سے زائد فالوورز حاصل کر لیے۔اس تحریک کا نام ایک ایسے تنازعے کے بعد سامنے آیا جب بھارتی سپریم کورٹ کے جج سوریا کانت کے ایک بیان کو بے روزگار نوجوانوں کے لیے "کاکروچ” کہنے کے طور پر لیا گیا۔ بعد میں جج نے وضاحت کی کہ ان کا اشارہ جعلی ڈگریوں کے ذریعے پیشوں میں داخل ہونے والے افراد کی جانب تھا، تاہم نوجوانوں میں اس بیان کے خلاف شدید ردعمل پیدا ہوا۔اسی دوران امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے واقعات نے بھی عوامی غصے کو ہوا دی، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے "کاکروچ جنتا پارٹی” نوجوانوں کی آواز بن کر ابھری۔پارٹی کی ایک حامی امریتا سنگھ کا کہنا ہے کہ نوجوان ہی ملک کی ترقی اور تعمیر میں سب سے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ جماعت ایسے قومی مسائل اٹھا رہی ہے جن کی اصلاح ضروری ہے۔

    بھارت میں گزشتہ چند برسوں کے دوران نوجوانوں کی قیادت میں مختلف احتجاجی تحریکیں سامنے آئی ہیں۔ خطے کے دیگر ممالک میں بھی نوجوانوں نے سیاسی تبدیلیوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔تاہم بھارت میں وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی مسلسل انتخابی کامیابیاں حاصل کرتی رہی ہے۔اس کے باوجود نوجوانوں کے ایک حصے میں یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ حکومت روزگار، تعلیم اور شفافیت جیسے بنیادی مسائل حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

    کاکروچ جنتا پارٹی کے ترجمان اور تحقیقاتی صحافی سوراو داس نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ان کی تحریک کا بنیادی مطالبہ نظام میں جوابدہی پیدا کرنا ہے۔انہوں نے کہا، "نظام میں بہت زیادہ خرابیاں جمع ہو چکی ہیں اور عوام اب کھل کر اپنی آواز بلند کر رہے ہیں۔”ابھیجیت دیپکے نے اعلان کیا ہے کہ وہ ہفتہ کی صبح نئی دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچیں گے، جہاں سے ان کے حامی ایک منظم احتجاجی مہم کا آغاز کریں گے۔ان کا کہنا ہے کہ اگر پولیس اجازت دیتی ہے تو مظاہرین تاریخی جنتر منتر کی جانب مارچ کریں گے، جو بھارتی دارالحکومت میں سیاسی احتجاجوں کا معروف مرکز سمجھا جاتا ہے۔دیپکے نے زور دیتے ہوئے کہا کہ احتجاج مکمل طور پر پُرامن اور جمہوری انداز میں کیا جائے گا۔انہوں نے کہا، "اب وقت آ گیا ہے کہ نظام میں جوابدہی کو بحال کیا جائے۔”

    سیاسی مبصرین کے مطابق بھارت کی نئی نسل پہلے کے مقابلے میں زیادہ تعلیم یافتہ، ڈیجیٹل طور پر باخبر اور سیاسی شعور رکھنے والی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے نوجوانوں کو اپنی آواز منظم انداز میں بلند کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔اگرچہ یہ واضح نہیں کہ "کاکروچ جنتا پارٹی” ایک مستقل سیاسی قوت بن سکے گی یا نہیں، لیکن اس نے بے روزگاری، تعلیمی نظام کی خامیوں اور حکومتی جوابدہی کے سوالات کو قومی بحث کا حصہ بنا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت میں نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی بے چینی اب محض آن لائن گفتگو تک محدود نہیں رہی بلکہ عملی سیاسی سرگرمی کی شکل اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔

  • سائز آر چھاتی کے باعث فضائی سفر مہنگا پڑ گیا

    سائز آر چھاتی کے باعث فضائی سفر مہنگا پڑ گیا

    اسکاٹ لینڈ سے تعلق رکھنے والی ایک ماڈل نے دعویٰ کیا ہے کہ غیر معمولی طور پر بڑی چھاتی کے باعث انہیں فضائی سفر کے دوران شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کی وجہ سے وہ گزشتہ چند برسوں میں 50 ہزار ڈالر سے زائد رقم صرف بزنس کلاس ٹکٹوں پر خرچ کر چکی ہیں۔

    28 سالہ سمر رابرٹ، جو آن لائن مواد تخلیق کرنے والی ماڈل کے طور پر بھی جانی جاتی ہیں، کا کہنا ہے کہ ان کی چھاتی کا سائز "آر” ہے اور وزن تقریباً 55 پاؤنڈ کے برابر ہے، جس کے باعث اکانومی کلاس میں سفر کرنا ان کے لیے تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔سمر رابرٹ کے مطابق فضائی کمپنیوں کے موجودہ نشستوں کے ڈیزائن ایسے مسافروں کی ضروریات کو مدنظر نہیں رکھتے جن کے جسمانی خدوخال عام معیار سے مختلف ہوں۔ انہوں نے اس صورتحال کو "بوب ٹیکس” (Boob Tax) قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں صرف آرام دہ سفر کے لیے اضافی رقم ادا کرنا پڑتی ہے۔رابرٹ کا کہنا ہے کہ طویل دورانیے کی پروازوں میں انہیں سب سے زیادہ مسئلہ نشست کی محدود جگہ کی وجہ سے پیش آتا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ اکانومی کلاس میں بیٹھنے کے دوران اکثر ان کی چھاتی ساتھ بیٹھے مسافر کی جگہ میں آجاتی ہے، جس سے دونوں افراد کے لیے غیر آرام دہ صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔ان کے مطابق "لمبی پروازوں میں آرام سے بیٹھنا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اکثر میرے ساتھ بیٹھا مسافر غیر ارادی طور پر میری چھاتی سے ٹکرا جاتا ہے، جس سے ہم دونوں کو تکلیف اور شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔”سمر رابرٹ نے انکشاف کیا کہ حال ہی میں انہوں نے امریکی شہر لاس اینجلس سے آسٹریلیا کے شہر میلبورن تک 16 گھنٹے طویل ایک طرفہ پرواز کے لیے 14 ہزار 686 ڈالر ادا کیے تاکہ وہ بزنس کلاس میں سفر کر سکیں۔ان کا کہنا تھا کہ اکانومی کلاس میں جگہ کی کمی کے باعث وہ نہ تو آرام سے بیٹھ سکتی ہیں اور نہ ہی کھانا کھا سکتی ہیں۔

    انہوں نے شکایت کرتے ہوئے کہا "ٹری ٹیبل مکمل طور پر نیچے نہیں آتی، جس کی وجہ سے کھانا کھانا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ اگر میں بزنس کلاس نہ لوں تو یا تو میں کھانا نہیں کھا سکتی یا پھر مسلسل دوسرے مسافروں کے ساتھ جسمانی ٹکراؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔”

    رپورٹ کے مطابق سمر رابرٹ میکروماسٹیا نامی ایک نایاب طبی حالت کا شکار ہیں۔ یہ ایک ایسی بیماری ہے جس میں چھاتی غیر معمولی اور مسلسل بڑھتی رہتی ہے۔طبی ماہرین کے مطابق یہ بیماری دنیا بھر میں بہت کم افراد کو متاثر کرتی ہے اور اس کے نتیجے میں جسمانی درد، کمر اور گردن کے مسائل، جلدی پیچیدگیاں اور نفسیاتی دباؤ پیدا ہو سکتا ہے۔رابرٹ کا کہنا ہے کہ ان کے سینے پر اضافی وزن ہونے کی وجہ سے انہیں شدید گرمی محسوس ہوتی ہے، جبکہ ہجوم والی پروازوں میں یہ دباؤ مزید بڑھ جاتا ہے۔

    انہوں نے ایک حالیہ واقعے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ چند ہفتے قبل گرم چائے ان کی چھاتی پر گر گئی تھی جس کے باعث انہیں شدید جلنے کے زخم آئے۔”میں نے ابلتی ہوئی چائے اپنے اوپر گرا لی تھی، جس سے میری چھاتی بری طرح جل گئی۔ ابھی بھی اس کے نشانات موجود ہیں۔”

    سمر رابرٹ کا کہنا ہے کہ فضائی سفر کے دوران انہیں نہ صرف مالی بوجھ بلکہ سماجی دباؤ اور غیر مناسب رویوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض اوقات ہوائی اڈوں اور پروازوں کے عملے کی جانب سے بھی انہیں غیر ضروری توجہ اور تبصروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے سفر مزید مشکل ہو جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا”لوگ سمجھتے ہیں کہ بڑی چھاتی کے ساتھ زندگی صرف شہرت اور دلکشی کا نام ہے، لیکن اس کے ساتھ بہت سی مشکلات بھی جڑی ہوئی ہیں۔ میں اپنے جسم سے محبت کرتی ہوں، مگر اس کے کچھ منفی پہلو بھی ہیں جن کے بارے میں لوگ نہیں جانتے۔”

    سمر رابرٹ کے بیانات کے بعد ایک بار پھر فضائی صنعت میں بڑی جسامت یا خصوصی جسمانی ضروریات رکھنے والے مسافروں کے لیے نشستوں اور سہولیات کے معیار پر بحث شروع ہو گئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید فضائی سفر میں نشستوں کی جگہ مسلسل کم ہونے کے باعث نہ صرف زائد الوزن افراد بلکہ مختلف جسمانی حالات کے حامل مسافروں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس کے لیے مستقبل میں زیادہ جامع اور قابلِ رسائی سفری سہولیات کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔

  • 22 سالہ لڑکی  54 سالہ باس  پر فدا، والدہ پریشان

    22 سالہ لڑکی 54 سالہ باس پر فدا، والدہ پریشان

    نیویارک: ایک 22 سالہ نوجوان خاتون کے اپنے 54 سالہ باس کے ساتھ مبینہ خفیہ تعلقات نے اس کی والدہ کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔

    امریکی مشاورتی کالم "ڈیئر ایبی” میں شائع ہونے والے ایک خط میں ایک خاتون نے بتایا کہ اس کی بیٹی "کیٹ” حال ہی میں کالج سے فارغ التحصیل ہوئی ہے اور گزشتہ پانچ برس سے ایک نوجوان کے ساتھ تعلق میں ہے۔ والدہ کے مطابق وہ اپنی بیٹی کے بوائے فرینڈ کو اپنے بیٹے کی طرح عزیز سمجھتی ہیں۔خاتون نے انکشاف کیا کہ اسے حال ہی میں معلوم ہوا ہے کہ اس کی بیٹی اپنے دیرینہ بوائے فرینڈ کے علاوہ ایک اور شخص سے بھی تعلق رکھتی ہے، جو اس کا 54 سالہ باس ہے۔ یہ معلومات اسے اپنی بڑی بیٹی سے حاصل ہوئیں، جس نے اسے اس راز کو کسی سے نہ بتانے کا پابند بنایا ہے۔والدہ نے اپنے خط میں لکھا کہ وہ اس صورتحال سے شدید نفرت اور مایوسی محسوس کر رہی ہیں، لیکن اگر وہ اس معاملے پر بات کرتی ہیں تو دو بہنوں کے درمیان اعتماد کا رشتہ متاثر ہو سکتا ہے۔

    اس سوال کے جواب میں "ڈیئر ایبی” نے مشورہ دیا کہ والدہ کو فی الحال معاملے سے دور رہنا چاہیے اور وقت کو اپنا کام کرنے دینا چاہیے۔ مشاورتی کالم کے مطابق حقیقت بالآخر سامنے آ جائے گی، چاہے باس کی اہلیہ کو اس تعلق کا علم ہو جائے یا پھر لڑکی کا بوائے فرینڈ اس حقیقت سے آگاہ ہو کر تعلق ختم کر دے۔کالم میں کہا گیا کہ بعض اوقات افراد کو زندگی کے اہم اسباق سخت تجربات کے ذریعے سیکھنے پڑتے ہیں اور اس معاملے میں بھی ایسا ہی ہو سکتا ہے۔یہ واقعہ سوشل میڈیا پر بھی زیر بحث آیا، جہاں کئی صارفین نے عمر کے بڑے فرق، دفتری تعلقات اور وفاداری کے مسائل پر مختلف آراء کا اظہار کیا۔ تاہم اس معاملے میں شامل افراد کی شناخت مکمل طور پر ظاہر نہیں کی گئی اور دعووں کی آزادانہ تصدیق بھی نہیں ہوئی۔

  • گاڑی نہیں تو ملاقات نہیں،نیویارک میں ڈیٹنگ کا نیارجحان

    گاڑی نہیں تو ملاقات نہیں،نیویارک میں ڈیٹنگ کا نیارجحان

    نیویارک میں ڈیٹنگ کے نئے رجحان نے مردوں اور خواتین کے درمیان نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں سوشل میڈیا پر "نو رائیڈ، نو ڈیٹ” (گاڑی نہیں تو ملاقات نہیں) کا مطالبہ شدید تنازع کا سبب بن گیا ہے۔

    امریکی شہر نیویارک کی معروف لائف اسٹائل انفلوئنسر سوانا پگنوزی نے ایک وائرل ویڈیو میں دعویٰ کیا کہ اگر کوئی مرد پہلی ملاقات سے قبل خاتون کو لینے کے لیے گاڑی یا کار سروس کی پیشکش نہ کرے تو وہ اس کے ساتھ ڈیٹ پر نہیں جاتیں۔ ان کے اس بیان نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔سوانا پگنوزی نے اپنی ویڈیو میں کہا کہ یہ ان کا بنیادی اصول ہے کہ مرد کم از کم گاڑی بھیجنے کی پیشکش ضرور کرے، چاہے خاتون اسے قبول کرے یا نہ کرے۔ ان کے مطابق اگر ایسا نہ کیا جائے تو ملاقات منسوخ کر دی جاتی ہے۔

    انہوں نے ایک حالیہ واقعے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ایک شخص سے ملاقات کے بعد دونوں نے ڈیٹ کا پروگرام بنایا تھا، تاہم بارش والی شام میں اس شخص نے انہیں لینے کے لیے گاڑی بھیجنے یا انتظام کرنے کی پیشکش نہیں کی، جس پر انہوں نے ملاقات منسوخ کر دی۔ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد ہزاروں صارفین نے اس پر ردعمل دیا۔ متعدد مرد صارفین نے اس مطالبے کو غیر ضروری، غیر حقیقی اور "حق سمجھنے والی سوچ” قرار دیا۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ اگر مرد پہلے ہی کھانے اور دیگر اخراجات برداشت کر رہا ہے تو گاڑی کا اضافی مطالبہ مناسب نہیں۔

    ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ "اچھے مرد ایسے رویے کو برداشت نہیں کریں گے”، جبکہ دوسرے نے لکھا کہ "آخر مرد آپ کو گاڑی کیوں فراہم کرے؟ کیا مرد صرف اے ٹی ایم ہیں جو ہر چیز کی ادائیگی کریں؟”

    کچھ صارفین نے طنزیہ انداز میں سوال کیا کہ "کیا آپ شہزادی ڈیانا ہیں کہ آپ کے لیے خصوصی گاڑی بھیجی جائے؟” جبکہ بعض خواتین نے بھی اس سوچ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مرد سے ہر چیز کی توقع رکھنا درست نہیں۔تاہم دوسری جانب کئی خواتین نے سوانا کی حمایت بھی کی۔ ان کا مؤقف تھا کہ نیویارک جیسے بڑے شہر میں خاص طور پر رات یا خراب موسم کے دوران خواتین کی سہولت اور تحفظ کے لیے مرد کو گاڑی کا انتظام کرنا چاہیے۔سوشل میڈیا پر کئی خواتین نے لکھا کہ جب وہ نیویارک میں رہتی تھیں تو ان کا بھی یہی اصول تھا کہ اگر مرد گاڑی کا بندوبست نہ کرے تو وہ ملاقات قبول نہیں کرتیں۔ بعض خواتین نے یہ بھی کہا کہ کچھ مرد ڈیٹ کے بعد واپسی کے لیے بھی ٹیکسی یا رائیڈ کا انتظام نہیں کرتے، جبکہ سنجیدہ اور خیال رکھنے والے مرد خواتین کو اپنی رائیڈ شیئرنگ ایپ کے اکاؤنٹ میں شامل تک کر لیتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق یہ تنازع دراصل جدید ڈیٹنگ کلچر میں مرد اور خواتین کی مختلف توقعات کی عکاسی کرتا ہے۔ حالیہ برسوں میں ریستوران کے بل 50-50 تقسیم کرنے، پہلی ملاقات کے اخراجات اور ڈیٹ سے قبل تصدیقی پیغامات جیسے موضوعات بھی شدید بحث کا مرکز بن چکے ہیں۔سوشل میڈیا پر جاری اس نئی بحث نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ جدید تعلقات میں شائستگی، احترام اور مالی ذمہ داریوں کی حدود کہاں تک ہونی چاہئیں، اور کیا ڈیٹنگ کے دوران خصوصی سہولیات کی توقع مناسب ہے یا نہیں۔

  • آزاد کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کالعدم قرار

    آزاد کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کالعدم قرار

    مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر حکومت نے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم تنظیم قرار دیتے ہوئے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

    محکمہ داخلہ آزاد کشمیر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور اس کے متبادل ناموں سے کام کرنے والی تنظیموں کو انسداد دہشت گردی ایکٹ 2014 کے تحت فرسٹ شیڈول میں شامل کر لیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ صدر آزاد کشمیر کی منظوری کے بعد تنظیم کو کالعدم قرار دیا گیا۔حکومتی اعلامیے کے مطابق متعلقہ اداروں کے پاس ایسے معقول شواہد موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذکورہ تنظیم امن و امان کی صورتحال کو متاثر کرنے، ریاست میں انتشار پیدا کرنے اور عوام میں خوف و ہراس پھیلانے میں ملوث رہی ہے۔ محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ تنظیم پر نفرت انگیزی کو فروغ دینے اور معاشرے میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کرنے کے الزامات بھی ہیں۔نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ کالعدم قرار دی گئی تنظیم اور اس کے تمام متبادل ناموں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    دوسری جانب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے 9 جون کو ہڑتال کی کال دے رکھی تھی۔ اس حوالے سے آزاد کشمیر حکومت پہلے ہی خبردار کر چکی تھی کہ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے یا امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی ہوگی۔حکومت کا مؤقف ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے 38 مطالبات میں سے 35 مطالبات تسلیم کیے جا چکے ہیں، اس کے باوجود احتجاج پر اصرار عوامی مفاد کے بجائے سیاسی مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔ حکومتی ترجمان کے مطابق پُرامن احتجاج ہر شہری کا جمہوری حق ہے، تاہم سڑکیں بند کرنے اور معمولاتِ زندگی مفلوج کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

  • بیول میں مبینہ پنچایتی انصاف کی بھینٹ چڑھ کر نوجوان جاں بحق

    بیول میں مبینہ پنچایتی انصاف کی بھینٹ چڑھ کر نوجوان جاں بحق

    سفاکیت کی انتہا گوجرخان میں 30 سالہ زبیر پر وحشیانہ تشدد، نازک اعضاء کو نشانہ بنایا گیا، راولپنڈی ہسپتال میں دم توڑ گیا
    زیادتی کا الزام جھوٹا ہے، میرے بیٹے کو بے دردی سے مارا گیا زبیر کے والد کا چیف جسٹس اور آئی جی پنجاب سے انصاف کا مطالبہ
    گوجرخان (قمرشہزاد) گوجرخان کے علاقے بیول میں قانون کو ہاتھ میں لیتے ہوئے سفاک ملزمان نے اپنی عدالت لگا لی، جس کے نتیجے میں وحشیانہ تشدد کا نشانہ بننے والا 30 سالہ نوجوان زبیر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے راولپنڈی کے ہسپتال میں دم توڑ گیا۔ تفصیلات کے مطابق، ملزمان نے زبیر نامی نوجوان کو ایک ڈیرے پر لے جا کر محبوس کیا اور ایک بچے کے ساتھ مبینہ زیادتی کا الزام لگا کر اسے ڈنڈوں اور دیگر آلات سے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ عینی شاہدین اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق، ملزمان نے درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نوجوان کے نازک اعضاء پر بھی ضربات لگائیں۔ تشویشناک حالت میں نوجوان کو راولپنڈی منتقل کیا گیا تھا، جہاں کئی گھنٹے موت و زندگی کی کشمکش میں رہنے کے بعد وہ زندگی کی بازی ہار گیا۔ دوسری جانب، مقتول زبیر کے والد نے اپنے بیٹے پر لگائے گئے تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے بے بنیاد قرار دیا ہے۔ لواحقین نے قاضیاں پولیس پر بھی سنگین الزامات عائد کیے ہیں کہ پولیس نے اس حساس معاملے میں داد رسی کے بجائے ناروا سلوک اختیار کیا۔ مقتول کے خاندان نے وزیر اعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے میں ملوث سفاک ملزمان کو فوری گرفتار کر کے نشانِ عبرت بنایا جائے اور پولیس کی غفلت کی بھی تحقیقات کی جائیں۔ علاقے میں اس ہولناک واقعے کے بعد سخت خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔

  • اڈیالہ جیل کا سزا یافتہ قیدی ہسپتال سے فرار

    اڈیالہ جیل کا سزا یافتہ قیدی ہسپتال سے فرار

    راولپنڈی: اڈیالہ جیل سے علاج کے لیے بینظیر بھٹو اسپتال منتقل کیا گیا ایک سزا یافتہ قیدی اسپتال سے فرار ہوگیا، جس کے بعد پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    پولیس حکام کے مطابق فرار ہونے والا قیدی جمیل منشیات کے مقدمے میں گرفتار اور عدالت سے سزا یافتہ تھا۔ اسے علاج کی غرض سے اڈیالہ جیل سے بینظیر بھٹو اسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں سے وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔پولیس نے واقعے کا مقدمہ تھانہ وارث خان میں درج کر لیا ہے۔ مقدمے میں ڈیوٹی پر تعینات اے ایس آئی عمران احمد اور کانسٹیبل قمر علی کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔مقدمے کے متن کے مطابق قیدی جمیل کو اس کا بیٹا عدنان اور ایک نامعلوم شخص وہیل چیئر پر وارڈ سے باہر لے گئے، جہاں سے اسے ایک گاڑی میں بٹھا کر فرار کروا دیا گیا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ فرار ہونے والے مجرم کو منشیات اسمگلنگ کا جرم ثابت ہونے پر عدالت نے 9 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

  • گلگت بلتستان انتخابات، آصفہ بھٹو  کی عوام سے 7 جون کو ووٹ ڈالنے کی اپیل

    گلگت بلتستان انتخابات، آصفہ بھٹو کی عوام سے 7 جون کو ووٹ ڈالنے کی اپیل

    خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری نے گلگت بلتستان کے انتخابات کے حوالے سے اپنے ویڈیو پیغام میں عوام سے بھرپور شرکت کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ 7 جون کو گھروں سے نکلیں اور پاکستان پیپلزپارٹی کے انتخابی نشان "تیر” پر مہر لگائیں۔

    آصفہ بھٹو زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی عوام کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی ہر مشکل وقت میں عوام کے ساتھ کھڑی رہی ہے اور انشاء اللہ آئندہ بھی عوام کا ساتھ نبھاتی رہے گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی صرف ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک تحریک، ایک سوچ اور شہید ذوالفقار علی بھٹو کے عوام سے کیے گئے وعدوں کا تسلسل ہے۔آصفہ بھٹو زرداری نے ووٹرز پر زور دیا کہ وہ انتخابات میں بھرپور حصہ لیں اور ترقی، جمہوریت اور عوامی حقوق کے لیے پاکستان پیپلزپارٹی کا ساتھ دیں۔