Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • چکوال اور جہلم کے دیہات میں بروقت ریسکیو آپریشن،40 قیمتی انسانی جانیں بچا لی گئیں

    چکوال اور جہلم کے دیہات میں بروقت ریسکیو آپریشن،40 قیمتی انسانی جانیں بچا لی گئیں

    چکوال اور جہلم کے دیہات میں بروقت ریسکیو آپریشن کرکے 40 قیمتی انسانی جانیں بچا لی گئیں۔ سرحدی گاؤں ڈھوک بدر اور دیگر دیہات میں طوفانی بارشوں سے دریا میں طغیانی آگئی۔ چکوال سائیڈ پر کلاؤڈ برسٹ کی وجہ سے پانی کابہت بڑا ریلا بھی پہنچ گیا۔ ڈپٹی کمشنر کی درخواست پرآرمی ایئر لفٹ ہیلی کاپٹر فوراً پہنچ گیا۔ ڈھوک بدر اور نکان کلاں میں آرمی ایئر لفٹ ہیلی کاپٹر کا محفوظ ریسکیو آپریشن کرکے طوفان میں گھرے 40 افراد کو ایئر لفٹ کرکے بچا لیا گیا۔ چند گھنٹے میں پورا ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ تمام دیہاتی افراد کوباحفاظت اور باخیریت محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔ طوفانی بارش، طغیانی اور پانی کے بہت بڑے ریلے کی وجہ سے ڈھوک بدر اور دیگر گاؤں کا زمینی راستہ منقطع ہوچکا تھا۔ بروقت ریسکیو آپریشن پر دیہات کے مکینوں نے حکومت پنجاب اور آرمی ٹیم کا شکریہ ادا کیا۔ متاثرہ افراد نے کہا کہ اگر انتظامیہ بروقت ریسکیوآپریشن نہ کرتی تو بچاؤ مشکل تھا۔ خوشی ہے کہ آج ہم محفوظ اور باحفاظت مقام پر موجود ہیں۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے مون سون کی غیر معمولی بارشوں کے پیش نظر کمشنر ز اور ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے راولپنڈی، چکوال،تلہ گنگ، جہلم کے اضلاع کے کمشنراور ڈپٹی کمشنرزکو مسلسل مانیٹرنگ کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ایئر ایمبولینس کو طوفانی بارشوں کے پیش نظر ٹیک آف پوزیشن میں رکھنے اور ریسکیو1122 کی ٹیموں کو ہمہ وقت فیلڈ میں موجود رہنے کا حکم دیا۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے طوفانی بارشوں، ندی نالوں اور دریاؤں میں طغیانی کی صورتحال کا جائزہ لینے کی ہدایت کی اور سول ڈیفنس کے رضاکاروں کو بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیار رہنے کا حکم دیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ڈپٹی کمشنرز کو پی ڈی ایم اے کے ساتھ مکمل اشتراک کار کی بھی ہدایت کی۔

    راولپنڈی کے نواحی علاقے لادیاں میں ریسکیو آپریشن کر کے 16 افراد کو بچا لیا گیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ریسکیو آپریشن کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ کی۔ دریا سواں میں شدید ترین طغیانی کے باعث لادیاں کے قریب 16افراد سیلابی ریلے میں گھر گئے تھے۔ ڈپٹی کمشنر راولپنڈی نے فوری طور پر اے سی صدر کی نگرانی میں ریسکیو ٹیم کو روانہ کیا۔ ریسکیو ٹیم نے سیلاب میں گھرے افراد کو نکالنے کے لئے فوراًآپریشن شروع کرکے سیلابی ریلے میں گھر ے 12 افراد کو نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ ریسکیو ٹیم نے لادیاں میں سیلابی ریلے سے مزید 5 افراد کو بچا لیا گیا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر پنجاب کے مختلف علاقوں میں غیر معمولی طوفانی بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے ہنگامی صورتحال نافذ کر دی گئی۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے سماجی رابطہ کی ویب سائٹ ایکس پر پنجاب کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں، سیلاب اور طغیانی کی لپیٹ میں آئے علاقوں میں ”رین ایمرجنسی“نافذ کرنے کی ہدایت کی تھی۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ضلعی انتظامیہ، پولیس، ریسکیو 1122 سمیت دیگر تمام ادارے عوام کو سیلابی صورتحال سے بچانے کیلئے متحرک رہنے کا حکم دیا۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کشتیوں کے ذریعے عوام کی مدد کا سلسلہ بھی جاری رکھنے، پولیس کو گشت بڑھانے اورضلعی انتظامیہ کو امدادی اداروں کی معاونت کا حکم دیا۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے عوام کو تالابوں، نہروں، ندی نالوں سے دور رہنے اور والدین بچوں کو بارشی پانی میں نہ نہانے پرسختی سے عمل کرانے کی اپیل کی ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے خستہ حال عمارتوں اور نشیبی علاقوں میں خصوصی حفاظتی انتظامات کرنے، ہسپتالوں کو ہائی الرٹ رہنے، فیلڈ ہسپتالوں سمیت تمام متعلقہ طبی مشینری کو شہریوں کی مدد کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ اداروں سے تعاون کریں، اعلانات اور ہدایات پر عمل کریں تاکہ جانی نقصانات سے بچا جا سکے۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ غیر معمولی طوفانی بارشوں اور سیلابی صورتحال پر پنجاب کے مختلف علاقوں میں رین ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے۔ سرکاری ادارے جذبے اور انتہائی محنت سے کام کرے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ انتظامیہ کوعوام کو بذریعہ سائرن اور اعلانات آگاہ رکھنے کی ہدایت کی ہے۔انہوں نے اپیل کی کہ عوام اداروں سے تعاون کریں، حفاظتی ہدایات پر عمل کریں.

  • پاکستان، افغانستان اور ازبکستان کے درمیان ریلوے معاہدے پر دستخط

    پاکستان، افغانستان اور ازبکستان کے درمیان ریلوے معاہدے پر دستخط

    پاکستان، افغانستان اور ازبکستان کے درمیان تاریخی ریلوے معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت تینوں ممالک نے کابل میں یو اے پی (UAP) ریلوے منصوبے کے فیزیبلٹی اسٹڈی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ اس معاہدے کا مقصد وسطی ایشیائی ریاستوں کو پاکستانی بندرگاہوں سے ریلوے رابطے کے ذریعے جوڑنا اور علاقائی رابطوں کو مضبوط بنانا ہے۔

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار آج ایک روزہ سرکاری دورے پر کابل پہنچے جہاں ان کا افغان نائب وزیر خارجہ محمد نعیم وردگ اور پاکستان کے سفیر افغانستان میں، عبید الرحمان نظامانی نے پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی، پاکستان کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان صادق خان اور وفاقی سیکرٹری ریلوے سید مظہر علی شاہ بھی نائب وزیراعظم کے ہمراہ موجود تھے۔کابل پہنچنے کے بعد نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کی افغانستان کے دارالحکومت میں عبوری افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی سے اہم ملاقات ہوئی جس میں دوطرفہ تعلقات کے تسلسل، تجارت، ٹرانزٹ اور سیکیورٹی تعاون بڑھانے پر زور دیا گیا۔ دونوں فریقین نے خطے میں امن اور خوشحالی کے لیے باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔

    ملاقات کے بعد تینوں ممالک کے درمیان یو اے پی ریلوے منصوبے کے فیزیبلٹی اسٹڈی معاہدے پر دستخط کیے گئے، جس سے ازبکستان، افغانستان اور پاکستان کو ایک مشترکہ ریلوے کوریڈور کے ذریعے منسلک کیا جائے گا۔ اس منصوبے کا مقصد وسطی ایشیا کو پاکستانی بندرگاہوں تک بہتر اور سستا راستہ فراہم کرنا ہے تاکہ خطے کی تجارتی اور معاشی ترقی کو فروغ ملے۔نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں پاکستان، افغانستان اور ازبکستان کی عوام کو اس کامیاب معاہدے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے ازبکستان کے وزیر خارجہ بختیار سعیدوف اور افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ معاہدہ بروقت دستخط خطے کے مستقبل کے لیے ان کی پختہ حمایت اور عزم کی علامت ہے۔اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ یو اے پی ریلوے کوریڈور علاقائی رابطے اور معاشی انضمام کا ایک اہم سنگ میل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس منصوبے کی بنیاد 2022-23 کی پی ڈی ایم حکومت کے دور میں رکھی گئی تھی، جب وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر انہیں دوست ممالک کے ساتھ مل کر اس منصوبے کی قیادت سونپی گئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاریخی اور انقلابی منصوبہ پورے خطے کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگا۔

  • مرکزی مسلم لیگ کا ریسکیو و ریلیف آپریشن،پکی پکائی خوراک بھی تقسیم کی گئی،تابش قیوم

    مرکزی مسلم لیگ کا ریسکیو و ریلیف آپریشن،پکی پکائی خوراک بھی تقسیم کی گئی،تابش قیوم

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ نے بارش سے متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر ریسکیو و ریلیف آپریشن کا آغاز کر دیا ،متاثرین کو کشتیوں کے ذریعے پانی سے نکالا جا رہا ہے ،راولپنڈی کے بارش سے متاثرہ علاقوں میں مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے پکا پکایا کھانا تقسیم کیا گیا ہے،

    مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم ،اسلام آباد زون کے صدر احسان اللہ منصور، انجینئر مبین صدیقی و دیگر نےبارش سے متاثرہ علاقوں فوجی کالونی، خیابان سرسید، ضیا کالونی اور دیگر ملحقہ علاقوں کا دورہ کیا اور متاثرہ افراد میں پکا پکایا کھانا تقسیم کیا،متاثرہ علاقوں میں متاثرین کو پانی سے نکالنے کے لئے ریسکیوٹیمیں بھی کشتیوں کے ساتھ پہنچ گئیں، شہریوں کو کشتیوں کے ذریعے محفوظ‌مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے،اس موقع پر مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم کا کہنا تھا کہ بارش سے متاثرہ اضلاع راولپنڈی جہلم، چکوال سمیت دیگر علاقوں میں مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے ریسکیو آپریشن جاری ہے،مرکزی مسلم لیگ کے کارکنان مقامی سطح پر نہ صرف بارش متاثرین کو پانی سے نکال رہے ہیں بلکہ پکی پکائی خوراک بھی تقسیم کی جا رہی ہے.مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے متاثرین کی بحالی تک امدادی سرگرمیاں جاری رکھی جائیں گے، ضرورت اس امر کی ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں پاکستانی قوم بھی متاثرین کی مدد کے لئے آگے بڑھے.

  • خیبرپختونخوا ،سینیٹ انتخابات،اقلیتی نشست جے یوآئی کو ایک اے این پی کو مل گئی

    خیبرپختونخوا ،سینیٹ انتخابات،اقلیتی نشست جے یوآئی کو ایک اے این پی کو مل گئی

    پشاور: خیبر پختونخوا میں اقلیتی نشست کے حوالے سے مسلم لیگ ن اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے درمیان قرعہ اندازی کے بجائے افہام و تفہیم سے فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ یہ اہم فیصلہ وزیرِ اعظم شہباز شریف، مولانا فضل الرحمٰن اور دونوں پارٹیوں کی اعلیٰ قیادت کی مشترکہ مشاورت کے بعد کیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن نے اس بار قرعہ اندازی سے دستبردار ہو کر اپنی نشست جے یو آئی (ف) کو دے دی ہے تاکہ الیکشن کے دوران کسی قسم کے تنازعہ یا الزامات سے بچا جا سکے۔ اس فیصلے کا مقصد خیبر پختونخوا میں سیاسی ماحول کو پرامن اور شفاف بنانا بتایا جا رہا ہے۔مسلم لیگ ن کے رہنما اور وفاقی وزیر امیر مقام نے اس حوالے سے کہا ہے کہ اپوزیشن کی بڑی جماعت ہونے کے باوجود مسلم لیگ ن نے قربانی دی ہے تاکہ خیبر پختونخوا میں اقلیتوں کی نشست پر ہونے والے انتخابات میں کسی قسم کا خرید و فروخت یا تنازعہ نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ اقلیت کی مخصوص نشست پر الیکشن کمیشن کے ذریعے ٹاس ہوا تھا جس میں جے یو آئی (ف) اور مسلم لیگ ن ایک دوسرے کے حریف تھے، تاہم پارٹیوں کی اعلیٰ قیادت نے بات چیت کے ذریعے فیصلہ کیا کہ مسلم لیگ ن اس نشست سے دستبردار ہو جائے گی۔

    امیر مقام نے مزید کہا کہ اس فیصلے کے نتیجے میں اقلیت کی نشست جے یو آئی (ف) کو مل گئی ہے، جبکہ سینیٹ الیکشن کے حوالے سے کچھ الزامات سامنے آ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی طرف سے حکومت سے مشاورت کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ سینیٹ کی نشستیں مشاورت سے دی جائیں، اور اس کے مطابق 6 نشستیں حکومت کو اور 5 نشستیں اپوزیشن کو دی جائیں۔ اگر اس معاملے پر اتفاق نہ ہوا تو اپوزیشن ایک ساتھ مل کر سینیٹ الیکشن لڑے گی۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن بڑے دل کا مظاہرہ کر رہی ہے اور اگر دیگر اپوزیشن جماعتوں کو دو دو نشستیں ملیں تو وہ کوئی اعتراض نہیں کریں گے۔

    دوسری جانب خیبر پختونخوا اسمبلی کی خواتین کے لیے مخصوص نشست کا ٹاس عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے جیت لیا ہے۔ پشاور سے موصولہ اطلاعات کے مطابق الیکشن کمیشن نے تصدیق کی ہے کہ اے این پی کی رکن شاہدہ وحید خیبر پختونخوا اسمبلی کے لیے منتخب ہو چکی ہیں۔الیکشن کمیشن کے مطابق خواتین کی مخصوص نشست کے لیے ٹاس عوامی نیشنل پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف پارلیمینٹرین کے درمیان ہوا تھا، جس میں اے این پی نے کامیابی حاصل کی۔

  • 24 گھنٹوں میں مون سون بارشوں اور سیلابی صورتحال کے باعث 54 افراد جاں بحق

    24 گھنٹوں میں مون سون بارشوں اور سیلابی صورتحال کے باعث 54 افراد جاں بحق

    ملک بھر میں مون سون کی موسلا دھار بارشوں اور سیلاب کی صورتحال بدستور تشویشناک ہے، جس کے نتیجے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 54 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 227 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ معلومات نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے جاری کی ہیں۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق 26 جون سے اب تک جاری مون سون بارشوں کی وجہ سے مجموعی طور پر ملک بھر میں 178 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 85 بچے بھی شامل ہیں۔ اس دوران 491 افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ زیادہ تر ہلاکتیں مکانات کے گرنے، سیلاب اور بجلی کی کرنٹ لگنے سے ہوئیں، جس نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔

    دوسری جانب راولپنڈی اور اسلام آباد میں گزشتہ رات سے شروع ہونے والی موسلا دھار بارش نے صورتحال کو انتہائی خراب کر دیا ہے۔ نالہ لئی میں پانی کی سطح میں اضافہ ہو گیا ہے جس کے باعث خطرے کے الارم بجا دیے گئے اور قریبی آبادی کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئیں۔راولپنڈی اور اسلام آباد کے جڑواں شہروں میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 250 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے باعث کئی نشیبی علاقے زیر آب آ چکے ہیں۔ خاص طور پر راولپنڈی کے علاقے ڈھوک کھبہ میں پانی جمع ہونے سے مقامی شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    ملک بھر کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری ہے اور حکام کی جانب سے عوام کو حفاظتی تدابیر اپنانے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی تاکید کی جا رہی ہے۔

  • یوم آزادی،مرکزی تقریب مزار قائد  کراچی میں منعقد کی جائے،  شرجیل میمن

    یوم آزادی،مرکزی تقریب مزار قائد کراچی میں منعقد کی جائے، شرجیل میمن

    حکومت سندھ نے "معرکہ حق” اور یوم آزادی 14 اگست کے سلسلے میں سندھ بھر میں مختلف تقریبات کے بھرپور انعقاد کے لئے تیاریاں تیز کردی

    سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی زیر صدارت اہم اجلاس ہوا، صوبائی وزراء سید ناصر حسین شاہ، سعید غنی، سید ذوالفقارعلی شاہ، محمد بخش مہر، میئر کراچی مرتضٰی وہاب شریک ہوئے،اجلاس میں حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ، میرپورخاص، شہید بینظیرآباد کے میئرز نے آن لائن شرکت کی،اجلاس میں‌ معرکہ حق اور یوم آزادی کے حوالے سے تقریبات کا جائزہ لیا گیا،اجلاس میں محدود مگر بڑے پیمانے پر، مرکزیت کے ساتھ اور منفرد انداز میں تقریبات پر غورکیا گیا،

    شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ جشنِ آزادی کی تقریبات کا آغاز یکم اگست سے کیا جائے گا، تقریبات 15 اگست تک یا پورے اگست کے مہینے میں جاری رہیں گی،آپریشن ’بنیان مرصوص‘ کو تقریبات کا حصہ بنایا جائے، صوبے بھر میں برانڈنگ اور ہر ضلع میں ایک مرکزی اور شاندار تقریب کا انعقاد کیا جائے،فشریز ریلی، فیملی فیسٹیولز، اور شاپنگ سینٹرز و مالز میں روشنیوں اور قومی نغموں کے ساتھ ماحول کو جشن کے رنگوں سے بھر دیا جائے گا، فیملی فیسٹیولز ڈویژنل سطح پر ہونگے، شاپنگ سینٹرز و مالز میں برانڈنگ کے لئے ایڈوائزر جاری کے جائے گی، سرکاری گاڑیوں پر قومی پرچم لازمی ہونا چاہئے، عوامی ٹرانسپورٹ اور اہم عوامی مقامات پر قومی پرچم لگائے جائیں گے،یوم آزادی کے موقع پر شجرکاری مہم کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ بھی شروع ہونا چاہئے،شرجیل میمن نے تجویز دی کہ مرکزی تقریب مزار قائد کراچی میں منعقد کی جائے،

  • مرکزی مسلم لیگ کا صدرخالد مسعود سندھو کی ہدایت پر ریسکیو و ریلیف آپریشن

    مرکزی مسلم لیگ کا صدرخالد مسعود سندھو کی ہدایت پر ریسکیو و ریلیف آپریشن

    مشکل کی اس گھڑی میں مرکزی مسلم لیگ اپنے شہریوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی.خالد مسعود سندھو

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو کی ہدایت پر مون سون بارشوں کے دوران مرکزی مسلم لیگ کے کارکنان متاثرہ شہروں میں ریسکیو و ریلیف آپریشن میں مصروف ہیں، راولپنڈی میں بارشی پانی میں پھنسے شہریوں‌کو نکالا گیا،جہلم،چکوال سمیت دیگر علاقوں میں سیلابی پانی میں پھنسے افراد میں پکے پکائے کھانے کی تقسیم کی گئی، خالد مسعود سندھو کا کہنا ہے کہ کارکنان انسانیت کی خدمت کے لئے ہر دم تیار رہیں

    راولپنڈی چکوال،جہلم سمیت دیگر شہروں میں حالیہ بارشوں کے باعث سیلابی صورتحال پیدا ہونے کے بعد مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار مختلف شہروں میں متحرک ہو گئے ،مرکزی مسلم لیگ راولپنڈی کے سیکرٹری جنرل انجینئر مبین صدیقی خود نالہ لئی کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے پہنچے جہاں انہوں نے شہریوں سے ملاقات کی اور ان کے مسائل سنے،انجینئر مبین صدیقی نے نالہ لئی کے قریبی علاقوں میں سیلابی پانی میں پھنسے افراد اور ان کے گھریلو سامان کی منتقلی کے لیے فوری امدادی کارروائیاں شروع کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے مرکزی مسلم لیگ کے کارکنان کو تاکید کی کہ وہ بلا تاخیر ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں میں شامل ہوں اور متاثرہ افراد کی ہر ممکن مدد کریں۔چکوال میں مرکزی مسلم لیگ کے صدر عبداللہ نثار نے بارشوں سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا، شہریوں سے ملاقات کی اور انہیں بھر پور تعاون کی یقین دہانی کروائی، اس موقع پر عبداللہ نثار نے اعلان کیا کہ بارشوں سے متاثرہ علاقے میں شہریوں کو کھانا مرکزی مسلم لیگ فراہم کرے گی.

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ ہماری سیاست خدمت کی سیاست ہے ،آج قوم عملی نمونہ دیکھ رہی ہے، قدرتی آفات میں ریلیف و ریسکیو کے لئے مرکزی مسلم لیگ کے کارکنان بے لوث خدمت کے لئے تیار ہوتے ہیں،بارشیں ہوئیں تو ہمارے کارکنان نکل کھڑے ہوئے،مشکل کی اس گھڑی میں مرکزی مسلم لیگ شہریوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی.

  • نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کابل پہنچ گئے

    نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کابل پہنچ گئے

    پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار افغانستان کے دارالحکومت کابل پہنچ گئے ہیں۔ ان کا یہ دورہ ازبکستان، افغانستان، اور پاکستان کے درمیان ریلوے منصوبے کے معاہدے کے سلسلے میں کیا جا رہا ہے۔

    دفترِ خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ اس دورے کا بنیادی مقصد سہ فریقی فریم ورک معاہدے پر دستخط کرنا ہے، جو کہ تینوں ممالک کے درمیان ریلوے کے شعبے میں تعاون کو فروغ دے گا۔ یہ معاہدہ کابل میں ہونے والی اہم ملاقاتوں کے دوران طے پائے گا۔ترجمان کے مطابق اسحاق ڈار کے ہمراہ وزیرِ ریلوے، نمائندہ خصوصی برائے افغانستان، اور سیکریٹری ریلوے بھی اس دورے میں شامل ہیں۔ اس ٹیم کا مقصد مشترکہ فزیبلٹی اسٹڈی کی تکمیل اور اس کے عملی نفاذ کے حوالے سے اہم فیصلے کرنا ہے۔دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ سہ فریقی منصوبہ تینوں ممالک کے درمیان رابطے اور تجارتی سرگرمیوں کو بڑھانے کے لیے ریلوے انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے کا ایک اہم اقدام ہے۔ اس منصوبے سے خطے میں اقتصادی روابط مستحکم ہوں گے اور تجارتی حجم میں اضافہ ہوگا۔

    یہ منصوبہ علاقائی رابطہ کاری اور اقتصادی تعاون کی راہ میں ایک سنگ میل سمجھا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف پاکستان بلکہ افغانستان اور ازبکستان کو بھی فائدہ پہنچے گا۔

  • تیراکی، کشتی رانی اور بارش کے پانی میں نہانے پر مکمل پابندی،دفعہ 144 نافذ

    تیراکی، کشتی رانی اور بارش کے پانی میں نہانے پر مکمل پابندی،دفعہ 144 نافذ

    حکومت پنجاب نے صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے مختلف آبی مقامات اور بارش کے پانی میں نہانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ فیصلہ حالیہ موسمی حالات اور مون سون کی شدید بارشوں کے تناظر میں انسانی جانوں کی حفاظت کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ یہ پابندیاں فوری طور پر نافذ العمل ہوں گی اور 30 اگست 2025 تک مؤثر رہیں گی۔

    ڈیموں، دریاؤں، نہروں، تالابوں، جھیلوں اور ڈسٹری بیوٹریز میں ہر قسم کی تیراکی پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔انہی مقامات پر بلا اجازت کشتی رانی پر بھی مکمل پابندی ہوگی۔گلیوں، سڑکوں، کھلی جگہوں اور عوامی مقامات پر بارش کے جمع شدہ پانی میں نہانے پر بھی دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔محکمہ داخلہ کے مطابق حالیہ دنوں میں مون سون کی شدید بارشوں کے باعث صوبے کے بیشتر نشیبی علاقوں، گلیوں اور کھلی جگہوں پر پانی جمع ہونے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ ان مقامات پر نہانے والے بچوں اور نوجوانوں کو بجلی کے کرنٹ، گٹر کے کھلے ڈھکنوں، اور دیگر مہلک خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔مزید برآں، دریاؤں اور نہروں میں اس وقت پانی کی سطح معمول سے کہیں زیادہ بلند ہے، جو تیراکی یا کشتی رانی کو انتہائی خطرناک بنا دیتا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ عوام کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ قدم ناگزیر تھا۔

    نوٹیفکیشن میں متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ دفعہ 144 کے تحت جاری کردہ احکامات پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔حکومت نے ذرائع ابلاغ، سوشل میڈیا، اور مقامی سطح پر آگاہی مہم چلانے کی بھی ہدایت دی ہے تاکہ شہری دفعہ 144 کے تحت عائد کردہ پابندیوں سے مکمل طور پر باخبر رہیں اور خطرناک سرگرمیوں سے اجتناب کریں۔حکومت پنجاب نے والدین اور سرپرستوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ایسی سرگرمیوں سے دور رکھیں جو ان کی زندگی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ عوام الناس سے گزارش کی گئی ہے کہ وہ حفاظتی تدابیر پر عمل کرتے ہوئے انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں تاکہ قیمتی انسانی جانوں کو بچایا جا سکے۔

  • پنجاب میں طوفانی بارشوں کے باعث ہلاکتیں؛ بہاولنگر میں 3 بچے جاں بحق

    پنجاب میں طوفانی بارشوں کے باعث ہلاکتیں؛ بہاولنگر میں 3 بچے جاں بحق

    پنجاب کے مختلف شہروں میں جاری طوفانی بارشوں نے تباہی مچا دی ہے، جہاں بارش کے پانی میں نہاتے ہوئے، چھت گرنے اور جھگڑے کے دوران فائرنگ جیسے افسوسناک واقعات میں درجنوں افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

    بہاولنگر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق شہر کے نواحی علاقے میں بارش کے جمع شدہ پانی میں نہاتے ہوئے 3 بچے ڈوب کر جاں بحق ہوگئے۔ مقامی افراد نے فوری طور پر امدادی کارروائی کرتے ہوئے بچوں کو پانی سے نکالنے کی کوشش کی تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے۔ جاں بحق ہونے والے بچوں کی عمریں 8 سے 12 سال کے درمیان بتائی جا رہی ہیں۔ افسوسناک واقعہ نے علاقے میں کہرام مچا دیا ہے۔

    ادھر فیصل آباد میں موسلا دھار بارش کے باعث ایک مکان کی چھت گر گئی، جس کے نتیجے میں 4 افراد موقع پر ہی جاں بحق جبکہ 3 شدید زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں ان کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ اہلِ علاقہ کے مطابق مکان خستہ حالی کا شکار تھا اور مسلسل بارشوں کے باعث زمین بوس ہو گیا۔

    دوسری طرف حافظ آباد میں پانی کی نکاسی کے مسئلے پر دو گروپوں میں تصادم ہو گیا۔ معمولی جھگڑا اس وقت سنگین صورت اختیار کر گیا جب ایک گروپ نے فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 8 زخمی ہو گئے۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر صورتحال پر قابو پایا اور زخمیوں کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند روز میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے، جبکہ ریسکیو اور ایمرجنسی اداروں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ رواں ہفتے کے دوران پنجاب بھر میں بارشوں کے نتیجے میں مختلف حادثات و واقعات میں اب تک 45 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ درجنوں زخمی ہیں۔ حکومتِ پنجاب نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ نکاسیِ آب، متاثرہ خاندانوں کی مدد اور ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔

    عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر کھلے پانی میں نہ جانے، خستہ حال عمارات سے دور رہنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں 1122 پر فوری رابطہ کریں۔