Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ایئر انڈیا حادثہ، ذہنی مسائل کے شکار پائلٹ کو فلائٹ کلیئرنس دینے پر سنگین سوالات

    ایئر انڈیا حادثہ، ذہنی مسائل کے شکار پائلٹ کو فلائٹ کلیئرنس دینے پر سنگین سوالات

    حیدر آباد میں ہونے والے ایئر انڈیا حادثے کے حوالے سے ہوشربا انکشافات، پائلٹس کی ذہنی صحت پر سوالات اٹھنے لگے،

    12جولائی کو حادثے کی شائع ہونے والی ابتدائی رپورٹ میں پائلٹ کی ذہنی صحت پر کوئی بات نہیں کی گئی،مودی سرکار اور ایئر انڈیا نے اس رپورٹ کو شائع ہونے سے روکا مگر ٹیلی گراف اور نیویارک پوسٹ سچ سامنے لے آئے،ٹیلی گراف اور نیویارک پوسٹ کی رپورٹس کے مطابق:ایئر انڈیا کے پائلٹس میں ڈپریشن اور ذہنی صحت کے مسائل موجود تھے،حادثے کے وقت بوئنگ 787 ڈریم لائنر کا کنٹرول کیپٹن سمیت سبھروال کے پاس تھا، برطانوی اخبار ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق؛’’پائلٹ سمیّت سبھروال کئی برسوں سے ذہنی دباؤ جیسے مسائل کا سامنا کر رہے تھے اور انہوں نے بارہا طبی رخصت لی‘‘ذہنی صحت کے مسائل کے باعث پروازوں سے طویل وقفے کے باوجود ایئر انڈیا نے انہیں دوبارہ پرواز کی اجازت دی، ذہنی مسائل کے شکار اور والدہ کی موت کے صدمے سے دوچار ایئر انڈیا نے 2023ء میں پائلٹ کو میڈیکل کلیئرنس دی، پائلٹ حالیہ دنوں میں والد کے بڑھاپے کی دیکھ بھال کے لیے ریٹائرمنٹ پر غور کر رہے تھے،

    نیویارک پوسٹ کے مطابق حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں ایندھن بند کرنے والے بٹن دبانے کو مرکزی سبب قرار دیا گیا،کمپنی کے ترجمان نے صرف اتنا تسلیم کیا کہ: میڈیکل ریکارڈز تفتیش کاروں کو دے دیے گئے، نیویارک پوسٹ کے مطابق’’ایئر انڈیا کے سی ای او کیمپبل ولسن نے اس خبر کو "افواہیں اور سنسنی” قرار دے کر فیکٹ فائنڈنگ کو مشکوک بنانے کی کوشش کی‘‘انڈین کمرشل پائلٹس ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا کہ پائلٹ کی ذاتی کیفیت کو ایئر انڈیا نے نظرانداز کیا، 12 جون کو احمد آباد میں ہونے والے ایئرانڈیا کے اس حادثے میں 270 افراد ہلاک ہو گئے تھے، ایئر انڈیا نے ابھی تک پائلٹ کی ذہنی صحت کے حوالے سے کوئی باضابطہ مؤقف اختیار نہیں کیا،

    پائلٹ کی ذہنی حالت خراب ہونے کے باوجود اس کے ہاتھ میں جہاز کا کنٹرول دینا ایئر انڈیا کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے،یہ حادثہ ثابت کرتا ہے کہ ایئر انڈیا کے نزدیک انسانی جانوں کی کوئی قیمت نہیں

  • بھارتی کمپنیوں کا عالمی سطح پر انسانی صحت سے منظم ، زہریلا اور مجرمانہ کھلواڑ

    بھارتی کمپنیوں کا عالمی سطح پر انسانی صحت سے منظم ، زہریلا اور مجرمانہ کھلواڑ

    معروف بھارتی مصالحہ جات کمپنیوں کی جانچ پڑتال کے دوران ہوشربا انکشافات سامنے آئے ہیں

    بھارتی مصالحہ جات کے غیر معیاری ہونے کی وجہ سے عالمی سطح پر پابندی عائد کر دی گئی،بھارتی صحافی پالکی شرما کے مطابق؛ بھارت کی معروف مصالحہ ساز کمپنیوں، ایم ڈی ایچ اور ایوریسٹ، مصنوعات پر بیرونِ ملک پابندیاں عائد کی گئی”،ہانگ کانگ، سنگاپور اور دیگر ممالک نے بھارتی مصالحہ جات میں مضر صحت کیمیکل کی موجودگی پر ان کی فروخت روک دی، یورپی یونین فوڈ سیفٹی اتھارٹی نے بھارتی مصالحہ جات میں کینسر پیدا کرنے والا کیمیکل "ایتھیلین آکسائیڈ” دریافت ہونے پابندی لگا دی، صرف گزشتہ چار سالوں میں یورپی یونین نے 500 بھارتی خوراک کی مصنوعات کو مضرِ صحت قرار دیا، بھارتی مصالحہ جات میں سالمونیلا، کڈمیم اور خطرناک کیڑے مار ادویات کی موجودگی کی عالمی اداروں نے تصدیق کی، حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ تمام مصنوعات بھارت کے اندر معیار پر پورا اترنے کی سند حاصل کر چکی تھیں،

    صرف بھارتی مصالحہ جات ہی نہیں بلکہ بھارتی فارماسوٹیکل کمپنیاں بھی جان لیوا دوائیاں برآمد کر کے عالمی سطح پر بدنام ہو چکی ہیں،رائٹرز کے مطابق "افریقی ممالک میں بھارتی کھانسی کا شربت پینے سے 70 بچوں کی اموات ہو چکی ہیں”بھارتی کھانسی کے شربت میں ایتھائلین گلائکول کی بڑی تعداد موجودگی بھی پائی گئی، مودی راج کی بدانتظامی، کرپشن اور ناقص نگرانی نے بھارتی برآمدات کو عالمی صحت کے لیے سنگین خطرہ بنا دیا،”میڈ اِن انڈیا” اب صرف ایک لیبل نہیں، بلکہ مودی راج کی ناکامیاں، زہریلی برآمدات اور عالمی بدنامی کی پہچان بن چکا ہے

  • بارشیں،سیلابی صورتحال،پاک فوج کا ریسکیو آپریشن،20 سے زائد افراد کو ہیلی پرریسکیو کر لیا

    بارشیں،سیلابی صورتحال،پاک فوج کا ریسکیو آپریشن،20 سے زائد افراد کو ہیلی پرریسکیو کر لیا

    پاک فوج نے جہلم کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ہیلی کاپٹروں کی مدد سے ایک بھرپور فضائی ریسکیو آپریشن انجام دے کر 20 سے زائد افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔ شدید بارشوں کے بعد درجنوں دیہات زیرِ آب آ گئے ہیں، جس کے باعث عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

    ریسکیو آپریشن کا آغاز اُس وقت ہوا جب دریاؤں اور نالوں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو گئی، جس کے نتیجے میں متعدد دیہات مکمل طور پر زیرِ آب آ گئے، خاص طور پر داراپور کے علاقے میں حالات نہایت سنگین ہو گئے تھے۔پاک فوج کے ہیلی کاپٹر مسلسل متاثرہ علاقوں پر پرواز کر رہے ہیں، جہاں نہ صرف لائف جیکٹس تقسیم کی جا رہی ہیں بلکہ فوری طبی امداد، خوراک اور پینے کا پانی بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔ متاثرہ افراد نے پاک فوج کے فوری ردِ عمل اور بروقت ریسکیو کی کوششوں کو سراہا ہے۔

    فوجی حکام کے مطابق، "ہم زمینی راستے سے متاثرہ علاقوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن سڑکیں زیرِ آب آ چکی ہیں، جس کی وجہ سے فضائی مدد اس وقت سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔”نکہ خلاصپور اور راجاروڈ جیسے قریبی علاقوں میں بھی صورتحال انتہائی خراب ہے،محکمہ موسمیات کی جانب سے مزید بارشوں کی پیش گوئی کے پیشِ نظر امدادی کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں، جبکہ مقامی انتظامیہ اور فوجی اہلکاروں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو جائیں اور کسی بھی ہنگامی صورتِ حال میں فوری مدد کے لیے ہیلپ لائنز سے رابطہ کریں۔

    پاکستان آرمی اور ضلعی انتظامیہ صورتِ حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور باہمی رابطے میں کام کر رہی ہیں تاکہ متاثرہ افراد کو جلد از جلد محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا سکے۔

    انتظامیہ کی جانب سے نشیبی علاقوں کے رہائشیوں کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ احتیاط برتیں، غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں، اور تمام سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔متاثرہ علاقوں میں مزید بارشوں کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کے پیش نظر ہنگامی اقدامات تیز کر دیے گئے ہیں۔ پاکستان آرمی اور دیگر متعلقہ ادارے عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب پاک فوج کے دستوں کی بارش کے باعث سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں شروع ہو گئی ہیں،پاک فوج کے دستے حالیہ بارشوں کے سبب سیلابی صورتحال سے متاثرہ مختلف علاقوں میں ریسکیو اور امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں،پاک فوج کے جوان ضلع جہلم کے علاقے ڈھوک بھیدر اور دارا پور میں سیلاب متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے، خوراک اور طبی امداد فراہم کرنے پہنچ گئے ، پاک فوج کے دستے نے سیلاب متاثرین کو دیگر ضروری سہولیات بھی فراہم کیں

  • حمیرا اصغر کا چوکیدار،گھریلو ملازمہ،بلڈنگ انتظامیہ تفتیش میں شامل

    حمیرا اصغر کا چوکیدار،گھریلو ملازمہ،بلڈنگ انتظامیہ تفتیش میں شامل

    کراچی کے علاقے اتحاد کمرشل میں واقع فلیٹ سے اداکارہ حمیرا اصغر کی مردہ حالت میں لاش ملنے کے بعد پولیس کی تفتیش تاحال جاری ہے۔ تفتیشی حکام نے اہم انکشافات کیے ہیں جن سے معاملے کی نوعیت واضح ہونے لگی ہے۔

    تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ اداکارہ کے فلیٹ کی چابیاں تحویل میں لے لی گئی ہیں جبکہ فلیٹ کے مرکزی دروازے کی تین چابیاں اندر سے بھی مل چکی ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دروازہ اندر سے بند تھا۔ اس حوالے سے بلڈنگ انتظامیہ، چوکیدار اور حمیرا اصغر کی سابقہ گھریلو ملازمہ کو بھی شامل تفتیش کیا گیا ہے۔ تفتیشی عملے نے ان افراد سے مفصل پوچھ گچھ کی ہے۔تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ مذکورہ افراد اکتوبر 2024 تک اداکارہ سے رابطے میں تھے، جبکہ اداکارہ کی سابقہ ملازمہ نے اسی سال اپنی ملازمت چھوڑ دی تھی۔ مزید برآں، حکام نے بتایا کہ حمیرا اصغر مالی مشکلات کا شکار تھیں اور انہوں نے ستمبر 2024 میں آخری کمرشل شوٹ مکمل کیا تھا۔ اکتوبر 2024 تک وہ کام سے متعلق دیگر افراد کے ساتھ رابطے میں رہیں۔

    دوسری جانب، تفتیشی حکام نے بتایا کہ فلیٹ کے باہر اور ارد گرد سی سی ٹی وی کیمروں کا فقدان ہے، جس کی وجہ سے کسی بھی مشکوک سرگرمی کی ویڈیو ریکارڈنگ دستیاب نہیں ہے، جو تحقیقات میں رکاوٹ کا باعث بن سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ 8 جولائی کو اداکارہ کی لاش اس وقت برآمد ہوئی جب کرائے کی عدم ادائیگی کی بنا پر مالک مکان عدالت کے حکم پر عدالتی بیلف کے ہمراہ فلیٹ پر پہنچا۔ فلیٹ کا دروازہ نہ کھلنے پر دروازہ توڑا گیا، جہاں اداکارہ کی مردہ حالت میں موجود لاش ملی۔پولیس نے واقعے کو گہری نظر سے دیکھتے ہوئے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر رکھی ہے تاکہ موت کی اصل وجہ معلوم کی جا سکے اور اگر کوئی جرم ہوا ہے تو اس کا سراغ لگایا جا سکے۔

    اداکارہ حمیرا اصغر کی اچانک موت نے نہ صرف ان کے مداحوں کو صدمے میں مبتلا کیا ہے بلکہ شوبز حلقوں میں بھی گہری تشویش پیدا کر دی ہے۔ تفتیشی ٹیم جلد ہی مزید نتائج سامنے لانے کی کوشش کر رہی ہے۔

  • شدید بارش، راولپنڈی میں ایک یوم کی چھٹی کا اعلان

    شدید بارش، راولپنڈی میں ایک یوم کی چھٹی کا اعلان

    راولپنڈی: موسلا دھار بارشوں اور بڑھتے ہوئے سیلابی حالات کے پیش نظر ڈپٹی کمشنر راولپنڈی نے ضلع بھر میں ایک روزہ چھٹی کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر کی جانب سے عوام الناس سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں اور اپنی اور دوسروں کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔

    راولپنڈی اور اسلام آباد میں گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران ہونے والی موسلا دھار بارشوں نے جڑواں شہروں کو تقریباً جل تھل کر دیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق، دونوں شہروں میں 129 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے، جو معمول سے کہیں زیادہ ہے۔ راولپنڈی اسلام آباد میں نشیبی علاقے زیرآب آ گئے ہیں، راولپنڈی کے علاقے ڈھوک کھبہ میں پانی جمع ہونے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

    بارشوں کی شدت کے باعث راولپنڈی کے معروف نالہ لئی میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ نالہ لئی میں پانی کی سطح 20 فٹ تک پہنچ چکی ہے جو کہ سیلاب کے امکانات کو بڑھا دیتی ہے۔ خاص طور پر کٹاریاں کے مقام پر پانی کی سطح 16 فٹ اور گوالمنڈی پل پر 14 فٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔نالہ لئی کے اطراف خطرے کے سائرن بجا دیے گئے ہیں جبکہ ریسکیو 1122، واسا، سول ڈیفنس اور دیگر متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے تاکہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فوری کارروائی کی جا سکے۔ واسا کے ایم ڈی نے بھی فوری طور پر 911 بریگیڈ سے رابطہ قائم کیا ہے تاکہ صورتحال پر مکمل قابو پایا جا سکے۔

    ذرائع کے مطابق، اگر حالات قابو سے باہر ہوئے تو ایمرجنسی کی صورت میں پاک فوج کی مدد طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ ریسکیو آپریشنز کو مزید موثر بنایا جا سکے۔محکمہ موسمیات نے بھی مزید بارشوں کا امکان ظاہر کیا ہے اور شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے محفوظ مقامات پر رہیں اور حکومتی ہدایات پر عمل کریں۔

  • شادی کی تقریب میں فائرنگ،بچی کی موت،دولہا گرفتار

    شادی کی تقریب میں فائرنگ،بچی کی موت،دولہا گرفتار

    کراچی: سائٹ ایریا میں شادی کی تقریب کے دوران فائرنگ کے واقعے میں ایک معصوم بچی جان بحق ہو گئی۔

    کراچی کے علاقے سائٹ ایریا میں ایک شادی کی تقریب منعقد تھی جہاں باراتیوں کی جانب سے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے فائرنگ کی جا رہی تھی۔ اچانک فائرنگ کی ایک گولی معصوم بچی کو جا لگی، جو موقع پر شدید زخمی ہو گئی۔زخمی بچی کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے طبی امداد کے باوجود اس کی موت کی تصدیق کر دی۔ واقعے کے بعد شادی کی تقریب ماتم میں تبدیل ہو گئی۔پولیس کو واقعے کی اطلاع ملتے ہی فوری طور پر موقع پر پہنچ کر تحقیقات شروع کر دی۔ پولیس نے دُلہا اور اس کے والد کو گرفتار کر لیا ہے اور ان سے تفتیش جاری ہے۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شادی کی تقریبات میں غیر قانونی فائرنگ پر سخت کارروائی کی جائے گی تاکہ ایسے المناک واقعات دوبارہ نہ ہوں۔ کراچی میں شادی کی تقریبات میں فائرنگ کے واقعات میں اضافے پر تشویش پائی جاتی ہے اور عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ایسی روایات سے گریز کریں جو جان و مال کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔مزید تفتیش جاری ہے۔

  • بنو ں میں سی ٹی ڈی کا کامیاب آپریشن،3 دہشت گرد ہلاک

    بنو ں میں سی ٹی ڈی کا کامیاب آپریشن،3 دہشت گرد ہلاک

    محکمہ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی) نے بنو ں میں ایک کامیاب آپریشن کے دوران تین دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ سی ٹی ڈی حکام کے مطابق ہلاک دہشت گردوں کا تعلق کالعدم گل بہادر اور ضرار دہشت گرد گروپ سے تھا۔

    سی ٹی ڈی کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ تینوں دہشت گردوں کی شناخت مدثر، تراب اور محمد حسین کے نام سے ہوئی ہے، جو پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے مطلوب تھے۔مزید بتایا گیا ہے کہ آپریشن کے دوران ہلاک دہشت گردوں سے بڑی مقدار میں اسلحہ اور موٹر سائیکل بھی برآمد کی گئی ہے، جو ان کے حملوں اور دیگر دہشت گردانہ سرگرمیوں میں استعمال ہونے والی تھی۔محکمہ انسداد دہشتگردی نے علاقے میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے مزید کارروائیاں جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے اور عوام سے بھی دہشت گردوں کی سرگرمیوں کے حوالے سے معلومات فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔

  • ‘جے ہند‘ کہنے پر مشروط ضمانت، مودی راج میں عدلیہ ہندوتوا ایجنڈے کا ہتھیار

    ‘جے ہند‘ کہنے پر مشروط ضمانت، مودی راج میں عدلیہ ہندوتوا ایجنڈے کا ہتھیار

    مودی راج میں مظلوم مسلمان نظریاتی تعصب اور ریاستی ظلم کا مسلسل نشانہ بن رہے ہیں

    مودی راج کے ہندوتوا ایجنڈے کے تحت مسلمان انصاف کے نہیں بلکہ جبری وفاداری اور فکری غلامی کے تقاضوں کا سامنا کر رہے ہیں،مودی راج میں عدلیہ، میڈیا اور قانون فسطائی سیاست کے ہتھیار بن چکے ہیں، جہاں انصاف، سچ اور آئین پر مکمل قدغن لگ چکی ہے،آسام کی عدالت نے مسلمان شہری کو ضمانت دیتے ہوئے روزانہ تین بار ‘جے ہند’ کا نعرہ لگا کر ویڈیو اپ لوڈ کرنے کی شرط عائد کر دی، بھارتی جریدےدی وائر کے مطابق؛”عارف الرحمان کو ہدایت دی گئی کہ وہ یہ نعرہ ریکارڈ کر کے سوشل میڈیا پر شیئر کرے”یہ شرط قانون کے اس اصول کی خلاف ورزی ہے کہ ضمانت کسی شخص کی بے گناہی یا قصور کا فیصلہ نہیں کرتی، عدالت کا یہ حکم نظریاتی وفاداری کو قانونی جبر کے ذریعے منوانے کی کوشش ہے، ضمانت کا اصل مقصد ملزم کو مقدمے کی سماعت مکمل ہونے تک آزاد رکھنا ہے، نہ کہ اس پر سزا عائد کرنا،’’جے ہند‘‘ کا نعرہ لگانے کی شرط ایسے شخص کو اپنی وفاداری ثابت کرنے پر مجبور کرنا ہے، جسے ابھی تک عدالت نے مجرم قرار نہیں دیا ،یہ عدالتی رویہ انصاف کے بنیادی اصولوں اور ’معقول شک کا فائدہ‘ جیسے تصورات کے منافی ہے،بھارتی عدلیہ میں ایسی شرائط عدالتی غیر جانبداری کو سنگین خطرے سے دو چار کر رہی ہیں،ماضی میں بھی عدالتوں نے پی ایم کیئرز فنڈ میں عطیہ دینے یا ہسپتال میں ٹی وی لگوانے جیسی شرائط لگا کر انصاف کا مذاق بنایا، آسام کی عدالت کا یہ حکم ایک خطرناک مثال قائم کرتا ہے، جو عدلیہ کو مودی سرکار کے سیاسی بیانیے کا آلہ کار بناتی ہے

    ایسے عدالتی فیصلے ضمانت کے مقصد اور آئینی آزادی و انصاف کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں،عدالتی اختیارات کا یہ غلط استعمال اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی سوچ کو تقویت دیتا ہے،مودی راج میں اقلیتیں بالخصوص مسلمان انصاف سے محروم، عدلیہ ہندوتوا وفاداری کا ہتھیار، آئینی آزادی محض دکھاوا بن گئی

  • ایئر انڈیا طیارے کی تباہی کا ذمہ دار کپتان نکلا

    ایئر انڈیا طیارے کی تباہی کا ذمہ دار کپتان نکلا

    بارہ جون کو احمد آباد سے لندن جانے والا ایئر انڈیا کا بوئنگ ڈریم لائنر طیارہ اڑان بھرنے کے چند ہی لمحوں بعد گر کر تباہ ہوگیا تھا۔ اس المناک حادثے میں دو سو اکتالیس مسافر اور عملے کے ارکان جان بحق ہوگئے تھے، جن میں تریپن برطانوی شہری بھی شامل تھے۔ واحد زندہ بچ جانے والا مسافر ایک برٹش انڈین تھا جو طیارے کے الیون اے سیٹ پر موجود تھا۔ طیارے کے گرنے کی وجہ سے نیچے واقع میڈیکل کالج کی عمارت بھی شدید متاثر ہوئی اور مزید انیس افراد کی ہلاکت ہوئی۔

    حادثے کی تحقیقات میں اب تک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکی میڈیا اور حکام کی رپورٹ کے مطابق بلیک باکس کی ریکارڈنگ میں طیارے کے دونوں پائلٹوں کے درمیان ہونے والی گفتگو سے یہ بات عیاں ہوئی ہے کہ کیپٹن سُومیت صبروال نے ان سوئچز کو بند کیا تھا جو دونوں انجنوں کو ایندھن فراہم کرتے ہیں۔ ابتدائی تجزیے میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ فرسٹ آفیسر کلائیو کندر نے طیارے کی پرواز شروع ہوتے ہی کیپٹن سے پوچھا تھا کہ انہوں نے انجن کے ایندھن کے سوئچز کو کٹ آف پوزیشن پر کیوں رکھا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق، فرسٹ آفیسر کندر اس صورتحال پر حیران اور خوفزدہ دکھائی دیے، جبکہ کیپٹن صبروال انتہائی پُرسکون تھے۔ کیپٹن سُومیت صبروال کے فلائنگ تجربے تقریباً پندرہ ہزار چھ سو اڑتیس گھنٹے تھے، جن میں سے آدھے سے زائد وقت انہوں نے بوئنگ طیارے اُڑانے میں گزارا تھا۔ اس کے برعکس، فرسٹ آفیسر کندر کا تجربہ تقریباً تین ہزار چار سو تین گھنٹے تھا۔

    بھارتی سول ایوی ایشن اور ایئر انڈیا کی جانب سے پچھلے ہفتے جاری کی گئی ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ کاک پٹ میں پائلٹوں کے درمیان کنفیوژن کی کیفیت تھی، لیکن اس میں کسی پر واضح الزام عائد نہیں کیا گیا تھا۔ رپورٹ میں یہ بھی شامل تھا کہ ایک پائلٹ نے دوسرے سے پوچھا تھا کہ انہوں نے سوئچز کو کٹ آف پوزیشن پر کیوں رکھا، جس پر دوسرے نے انکار کیا کہ انہوں نے ایسا نہیں کیا۔

    کیپٹن سُومیت صبروال، جو کہ 56 سالہ تجربہ کار پائلٹ تھے، نے 1994 میں ایئر انڈیا میں شمولیت اختیار کی تھی اور وہ لائن ٹریننگ کیپٹن کے عہدے پر فائز تھے۔ یہ وہ ذمہ داری تھی جس میں وہ دیگر جونئیر پائلٹس کی تربیت بھی کرتے تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں شادی نہیں کی اور چند ماہ بعد ریٹائرمنٹ کی امید تھی۔ روانگی سے پہلے انہوں نے اپنے والد کو فون کر کے بتایا تھا کہ لندن پہنچ کر رابطہ کروں گا، لیکن قسمت نے کچھ اور ہی فیصلہ کیا۔

    فرسٹ آفیسر کلائیو کندر کی عمر 32 سال تھی اور وہ بچپن سے پائلٹ بننے کا خواب دیکھتے تھے۔ ان کی شادی دو ماہ بعد ہونے والی تھی۔ ان کے خاندان میں بھی ایئر انڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے؛ ان کی والدہ ایئر ہوسٹس رہ چکی ہیں جبکہ کیپٹن صبروال کے دو بھانجے بھی پائلٹ ہیں۔ ایئر انڈیا کا دعویٰ ہے کہ دونوں پائلٹس کی پرواز سے پہلے نشے اور بیماری کے ٹیسٹ کیے گئے تھے اور دونوں مکمل طور پر فٹ تھے۔

  • میری بہن کینسر میں مبتلا ، برطانیہ کا ویزا جاری کریں،اداکارہ میرا کی اپیل

    میری بہن کینسر میں مبتلا ، برطانیہ کا ویزا جاری کریں،اداکارہ میرا کی اپیل

    پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اور سینئر اداکارہ میرا نے برطانوی حکومت سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اپیل کی ہے کہ اُنہیں برطانیہ کا ویزا جاری کیا جائے تاکہ وہ لندن میں زیرِ علاج اپنی بہن کی عیادت کے لیے جا سکیں۔

    اداکارہ میرا نے اپنے ویڈیو پیغام میں برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ سے براہ راست اپیل کرتے ہوئے کہا کہ’’میری بہن لندن میں کینسر جیسے موذی مرض سے لڑ رہی ہے۔ میری فیملی اور گھر بھی وہیں ہے، میں برسوں سے ویزے کی وجہ سے لندن نہیں جا سکی۔ میری درخواست ہے کہ براہ کرم میریٹ پر غور کرتے ہوئے مجھے ویزا جاری کیا جائے۔‘‘اداکارہ نے بتایا کہ وہ اپنی بہن سے ملنے کے لیے بے چین ہیں اور اُن کی بیماری کی تمام میڈیکل رپورٹس ویزا درخواست کے ساتھ جمع کروائی جا چکی ہیں۔ میرا کا کہنا تھا کہ یہ ایک انسانی معاملہ ہے، جس پر خصوصی توجہ دی جائے۔

    واضح رہے کہ فروری 2025 میں اداکارہ کی والدہ شفقت زہرہ نے میڈیا کو بتایا تھا کہ برطانوی امیگریشن حکام نے ماضی میں میرا کو انگلش زبان سے ناواقفیت کی بنیاد پر برطانیہ میں داخل ہونے سے روک دیا تھا، اور اُن پر 10 سال کی پابندی عائد کر دی گئی تھی، جو اب ختم ہو چکی ہے۔

    اداکارہ کی والدہ کا کہنا تھا ’’میرا کو صرف اس لیے روک دیا گیا کیونکہ وہ انگلش میں مناسب طور پر بات نہیں کر سکیں، لیکن اب وہ بہتر انداز میں بولتی ہیں اور ویزے کی سابقہ پابندی کا دورانیہ مکمل ہو چکا ہے۔‘‘

    اداکارہ میرا کی اس ویڈیو اپیل کے بعد سوشل میڈیا پر اُن کے مداحوں کی جانب سے بھرپور حمایت دیکھنے میں آ رہی ہے، جن کا کہنا ہے کہ انسانی بنیادوں پر میرا کو اپنی بیمار بہن سے ملنے کا موقع ملنا چاہیے۔