Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • مرکزی مسلم لیگ کا صدرخالد مسعود سندھو کی ہدایت پر ریسکیو و ریلیف آپریشن

    مرکزی مسلم لیگ کا صدرخالد مسعود سندھو کی ہدایت پر ریسکیو و ریلیف آپریشن

    مشکل کی اس گھڑی میں مرکزی مسلم لیگ اپنے شہریوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی.خالد مسعود سندھو

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو کی ہدایت پر مون سون بارشوں کے دوران مرکزی مسلم لیگ کے کارکنان متاثرہ شہروں میں ریسکیو و ریلیف آپریشن میں مصروف ہیں، راولپنڈی میں بارشی پانی میں پھنسے شہریوں‌کو نکالا گیا،جہلم،چکوال سمیت دیگر علاقوں میں سیلابی پانی میں پھنسے افراد میں پکے پکائے کھانے کی تقسیم کی گئی، خالد مسعود سندھو کا کہنا ہے کہ کارکنان انسانیت کی خدمت کے لئے ہر دم تیار رہیں

    راولپنڈی چکوال،جہلم سمیت دیگر شہروں میں حالیہ بارشوں کے باعث سیلابی صورتحال پیدا ہونے کے بعد مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار مختلف شہروں میں متحرک ہو گئے ،مرکزی مسلم لیگ راولپنڈی کے سیکرٹری جنرل انجینئر مبین صدیقی خود نالہ لئی کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے پہنچے جہاں انہوں نے شہریوں سے ملاقات کی اور ان کے مسائل سنے،انجینئر مبین صدیقی نے نالہ لئی کے قریبی علاقوں میں سیلابی پانی میں پھنسے افراد اور ان کے گھریلو سامان کی منتقلی کے لیے فوری امدادی کارروائیاں شروع کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے مرکزی مسلم لیگ کے کارکنان کو تاکید کی کہ وہ بلا تاخیر ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں میں شامل ہوں اور متاثرہ افراد کی ہر ممکن مدد کریں۔چکوال میں مرکزی مسلم لیگ کے صدر عبداللہ نثار نے بارشوں سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا، شہریوں سے ملاقات کی اور انہیں بھر پور تعاون کی یقین دہانی کروائی، اس موقع پر عبداللہ نثار نے اعلان کیا کہ بارشوں سے متاثرہ علاقے میں شہریوں کو کھانا مرکزی مسلم لیگ فراہم کرے گی.

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ ہماری سیاست خدمت کی سیاست ہے ،آج قوم عملی نمونہ دیکھ رہی ہے، قدرتی آفات میں ریلیف و ریسکیو کے لئے مرکزی مسلم لیگ کے کارکنان بے لوث خدمت کے لئے تیار ہوتے ہیں،بارشیں ہوئیں تو ہمارے کارکنان نکل کھڑے ہوئے،مشکل کی اس گھڑی میں مرکزی مسلم لیگ شہریوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی.

  • نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کابل پہنچ گئے

    نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کابل پہنچ گئے

    پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار افغانستان کے دارالحکومت کابل پہنچ گئے ہیں۔ ان کا یہ دورہ ازبکستان، افغانستان، اور پاکستان کے درمیان ریلوے منصوبے کے معاہدے کے سلسلے میں کیا جا رہا ہے۔

    دفترِ خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ اس دورے کا بنیادی مقصد سہ فریقی فریم ورک معاہدے پر دستخط کرنا ہے، جو کہ تینوں ممالک کے درمیان ریلوے کے شعبے میں تعاون کو فروغ دے گا۔ یہ معاہدہ کابل میں ہونے والی اہم ملاقاتوں کے دوران طے پائے گا۔ترجمان کے مطابق اسحاق ڈار کے ہمراہ وزیرِ ریلوے، نمائندہ خصوصی برائے افغانستان، اور سیکریٹری ریلوے بھی اس دورے میں شامل ہیں۔ اس ٹیم کا مقصد مشترکہ فزیبلٹی اسٹڈی کی تکمیل اور اس کے عملی نفاذ کے حوالے سے اہم فیصلے کرنا ہے۔دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ سہ فریقی منصوبہ تینوں ممالک کے درمیان رابطے اور تجارتی سرگرمیوں کو بڑھانے کے لیے ریلوے انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے کا ایک اہم اقدام ہے۔ اس منصوبے سے خطے میں اقتصادی روابط مستحکم ہوں گے اور تجارتی حجم میں اضافہ ہوگا۔

    یہ منصوبہ علاقائی رابطہ کاری اور اقتصادی تعاون کی راہ میں ایک سنگ میل سمجھا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف پاکستان بلکہ افغانستان اور ازبکستان کو بھی فائدہ پہنچے گا۔

  • تیراکی، کشتی رانی اور بارش کے پانی میں نہانے پر مکمل پابندی،دفعہ 144 نافذ

    تیراکی، کشتی رانی اور بارش کے پانی میں نہانے پر مکمل پابندی،دفعہ 144 نافذ

    حکومت پنجاب نے صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے مختلف آبی مقامات اور بارش کے پانی میں نہانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ فیصلہ حالیہ موسمی حالات اور مون سون کی شدید بارشوں کے تناظر میں انسانی جانوں کی حفاظت کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ یہ پابندیاں فوری طور پر نافذ العمل ہوں گی اور 30 اگست 2025 تک مؤثر رہیں گی۔

    ڈیموں، دریاؤں، نہروں، تالابوں، جھیلوں اور ڈسٹری بیوٹریز میں ہر قسم کی تیراکی پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔انہی مقامات پر بلا اجازت کشتی رانی پر بھی مکمل پابندی ہوگی۔گلیوں، سڑکوں، کھلی جگہوں اور عوامی مقامات پر بارش کے جمع شدہ پانی میں نہانے پر بھی دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔محکمہ داخلہ کے مطابق حالیہ دنوں میں مون سون کی شدید بارشوں کے باعث صوبے کے بیشتر نشیبی علاقوں، گلیوں اور کھلی جگہوں پر پانی جمع ہونے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ ان مقامات پر نہانے والے بچوں اور نوجوانوں کو بجلی کے کرنٹ، گٹر کے کھلے ڈھکنوں، اور دیگر مہلک خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔مزید برآں، دریاؤں اور نہروں میں اس وقت پانی کی سطح معمول سے کہیں زیادہ بلند ہے، جو تیراکی یا کشتی رانی کو انتہائی خطرناک بنا دیتا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ عوام کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ قدم ناگزیر تھا۔

    نوٹیفکیشن میں متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ دفعہ 144 کے تحت جاری کردہ احکامات پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔حکومت نے ذرائع ابلاغ، سوشل میڈیا، اور مقامی سطح پر آگاہی مہم چلانے کی بھی ہدایت دی ہے تاکہ شہری دفعہ 144 کے تحت عائد کردہ پابندیوں سے مکمل طور پر باخبر رہیں اور خطرناک سرگرمیوں سے اجتناب کریں۔حکومت پنجاب نے والدین اور سرپرستوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ایسی سرگرمیوں سے دور رکھیں جو ان کی زندگی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ عوام الناس سے گزارش کی گئی ہے کہ وہ حفاظتی تدابیر پر عمل کرتے ہوئے انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں تاکہ قیمتی انسانی جانوں کو بچایا جا سکے۔

  • پنجاب میں طوفانی بارشوں کے باعث ہلاکتیں؛ بہاولنگر میں 3 بچے جاں بحق

    پنجاب میں طوفانی بارشوں کے باعث ہلاکتیں؛ بہاولنگر میں 3 بچے جاں بحق

    پنجاب کے مختلف شہروں میں جاری طوفانی بارشوں نے تباہی مچا دی ہے، جہاں بارش کے پانی میں نہاتے ہوئے، چھت گرنے اور جھگڑے کے دوران فائرنگ جیسے افسوسناک واقعات میں درجنوں افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

    بہاولنگر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق شہر کے نواحی علاقے میں بارش کے جمع شدہ پانی میں نہاتے ہوئے 3 بچے ڈوب کر جاں بحق ہوگئے۔ مقامی افراد نے فوری طور پر امدادی کارروائی کرتے ہوئے بچوں کو پانی سے نکالنے کی کوشش کی تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے۔ جاں بحق ہونے والے بچوں کی عمریں 8 سے 12 سال کے درمیان بتائی جا رہی ہیں۔ افسوسناک واقعہ نے علاقے میں کہرام مچا دیا ہے۔

    ادھر فیصل آباد میں موسلا دھار بارش کے باعث ایک مکان کی چھت گر گئی، جس کے نتیجے میں 4 افراد موقع پر ہی جاں بحق جبکہ 3 شدید زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں ان کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ اہلِ علاقہ کے مطابق مکان خستہ حالی کا شکار تھا اور مسلسل بارشوں کے باعث زمین بوس ہو گیا۔

    دوسری طرف حافظ آباد میں پانی کی نکاسی کے مسئلے پر دو گروپوں میں تصادم ہو گیا۔ معمولی جھگڑا اس وقت سنگین صورت اختیار کر گیا جب ایک گروپ نے فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 8 زخمی ہو گئے۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر صورتحال پر قابو پایا اور زخمیوں کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند روز میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے، جبکہ ریسکیو اور ایمرجنسی اداروں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ رواں ہفتے کے دوران پنجاب بھر میں بارشوں کے نتیجے میں مختلف حادثات و واقعات میں اب تک 45 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ درجنوں زخمی ہیں۔ حکومتِ پنجاب نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ نکاسیِ آب، متاثرہ خاندانوں کی مدد اور ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔

    عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر کھلے پانی میں نہ جانے، خستہ حال عمارات سے دور رہنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں 1122 پر فوری رابطہ کریں۔

  • شہریوں کو صاف پانی کی فراہمی،وزیراعظم نے ٹاسک فورس تشکیل دے دی

    شہریوں کو صاف پانی کی فراہمی،وزیراعظم نے ٹاسک فورس تشکیل دے دی

    اسلام آباد و راولپنڈی کے شہریوں کو صاف پانی کی فراہمی، موجودہ ذخائر کی سیوریج کے پانی سے آلودگی روکنے، اسلام آباد کو مختلف ڈیمز سے پانی کی فراہمی اور ان ڈیمز سے واٹر سپلائی کا مربوط نظام قائم کرنے کیلئے وزیرِ اعظم نے ٹاسک فورس تشکیل دے دی

    وزیرِ داخلہ سید محسن رضا نقوی کی سربراہی میں ٹاسک فورس میں سی ڈی اے، واپڈا، اریگیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب اور دیگر متعلقہ اداروں کے ارکان شامل ہیں، وزریراعظم نے ہدایت کی ہے کہ بارش کے پانی سے زیر زمین ذخیرہء آب کو ری چارج کرنے کیلئے سی ڈی اے جامع لائحہ عمل پیش کرے. وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ راول ڈیم سے ملحقہ آبادیوں اور ڈیم میں گرنے والے نالوں پر کچی آبادیوں سے نکلنے والی سیوریج سے ڈیم کی آلودگی کے سدباب کیلئے نظام بنایا جائے.غیر قانونی و کچی آبادیوں سے نکلنے والے سیوریج کیلئے واٹر ٹریٹمنٹ کا نظام جلد قائم کیا جائے. تربیلا، خانپور و دیگر ڈیمز سے اسلام آباد کیلئے متفقہ طور پر منظور شدہ پانی کو گھروں تک پہنچانے کیلئے واٹر سپلائی کا نظام جلد قائم کیا جائے. وزیراعظم نے ہدایت کی کہ کمیٹی اسلام آباد و ملحقہ علاقوں کیلئے واٹر بورڈ کی تشکیل کو جلد حتمی شکل دے.

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت اسلام آباد و ملحقہ علاقوں میں صاف پانی کی فراہمی کے نظام پر جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا. اجلاس میں وفاقی وزراء سید محسن رضا نقوی ، میاں محمد معین وٹو اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی. اجلاس کو اسلام آباد میں صاف پانی کی فراہمی کیلئے قائم ٹاسک فورس کی تجاویز پیش کی گئیں. اجلاس کو بتایا گیا کہ اسلام آباد کو روال، تربیلا اور خانپور ڈیم سے متفقہ طور پر منظور شدہ پانی کی فراہمی کیلئے سپلائی سسٹم کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے. اجلاس کو ملحقہ علاقوں میں متعدد ڈیمز کی تعمیر پر پیش رفت اور ان ڈیمز سے اسلام آباد کو پانی کی فراہمی کیلئے واٹر سپلائی کے نظام کی تجاویز و لائحہ عمل بھی پیش کیا گیا.

    وزیرِ اعظم کو اجلاس میں مجوزہ واٹر بورڈ کے قیام کے ساتھ ساتھ اسکی ذمہ داریوں کے حوالے سے بریفنگ دی گئی. اجلاس کو بتایا گیا کہ بورڈ پانی کے موجودہ و آئندہ ذخائر کے انتظام، پانی کی گھروں تک فراہمی کے طریقہ کار، پانی کی اسٹیک ہولڈرز کے مابین تقسیم و متعلقہ اقدامات کا انتظام سنبھالے گا. اجلاس کو سی ڈی اے کی جانب سے اسلام آباد کی کچی آبادیوں سے سیوریج کے اخراج کی وجہ سے پانی کے ذخائر کی آلودگی روکنے کے حوالے سے اقدامات پر بھی جائزہ پیش کیا گیا.

  • خاور مانیکا کے بیٹے نے ملازم پر گولی چلا دی،گرفتار

    خاور مانیکا کے بیٹے نے ملازم پر گولی چلا دی،گرفتار

    خاور مانیکا کے صاحبزادے موسی مانیکا نے اپنے ملازم علی بہادر کو گولی مار دی، جس کے نتیجے میں علی بہادر زخمی ہو گیا ہے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پاکپتن پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے موسی مانیکا کو حراست میں لے لیا ہے۔

    ابتدائی تحقیقات کے مطابق، موسی مانیکا نے ملازم علی بہادر پر گولی چلائی، جس کی وجہ فی الحال واضح نہیں ہو سکی ہے۔ زخمی علی بہادر کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر کے طبی امداد دی جا رہی ہے

    حکام نے بتایا ہے کہ گرفتار شدہ موسی مانیکا، بشریٰ بی بی کا بیٹا ہے، جو اس وقت عمران خان کے ہمراہ جیل میں قید ہے۔ بشریٰ بی بی کی خاور مانیکا سے علیحدگی کے بعد عمران خان سے شادی ہوئی تھی۔ پولیس نے واقعے کی مکمل تفصیلات جاننے کے لیے مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں اور موسی مانیکا سے پوچھ گچھ جاری ہے تاکہ اصل محرکات کا پتہ چلایا جا سکے۔

  • چکری موٹروے ، پاک فوج کا آپریشن، خاندان کو سیلابی ریلے سے بچا لیا

    چکری موٹروے ، پاک فوج کا آپریشن، خاندان کو سیلابی ریلے سے بچا لیا

    راولپنڈی کے قریب چکری موٹروے انٹرچینج کے مقام پر شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال میں افواج پاکستان نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایک خاندان کو جان بچانے کے لیے ہیلی کاپٹر کے ذریعے محفوظ مقام پر منتقل کر دیا ہے۔

    ملک بھر میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث آنے والے غیر معمولی بارشوں نے راولپنڈی اور گردونواح میں تباہی مچائی ہوئی ہے، جہاں ندی نالے اوور فلو ہو چکے ہیں چکری موٹروے انٹرچینج کے قریب واقع ایک آبادی سیلابی ریلے کے باعث خطرے میں تھی، جس پر فورسز نے فوری طور پر آپریشن کا آغاز کیا۔آرمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹر نے بروقت رسپانس دیتے ہوئے اس خاندان کو جو سیلابی پانیوں میں پھنس گیا تھا، اپنے ونگز میں اٹھایا اور محفوظ علاقے تک منتقل کیا۔ ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو کے اس مناظر کو مقامی افراد نے بڑے جوش و خروش اور خوشی سے دیکھا اور سیلابی ریلے کے کنارے کھڑے عوام نے اس کامیاب ریسکیو آپریشن پر تالیوں کی گڑگڑاہٹ سے افواج پاکستان کو سراہا۔

    موسم کی خرابی کی وجہ سے مختلف علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، اور افواج پاکستان کے ساتھ ساتھ سول انتظامیہ بھی متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف کاموں میں مصروف ہے۔سیلاب کے ممکنہ خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ خطرناک مقامات سے دور رہیں اور ہنگامی صورتحال کی اطلاع فوراً متعلقہ حکام کو دیں۔

  • ٹانگ سے محروم کی جانے والی اونٹنی کو مصنوعی ٹانگ لگا دی گئی

    ٹانگ سے محروم کی جانے والی اونٹنی کو مصنوعی ٹانگ لگا دی گئی

    ضلع سانگھڑ ، ظلم و ستم کا شکار اونٹنی کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے مصنوعی ٹانگ لگانے میں کامیابی حاصل ہوگئی ہے۔ یہ اونٹنی گزشتہ سال اپنے مالک کے مطابق ایک وڈیرے کی زمین پر چلی گئی تھی جہاں اس پر سخت تشدد کیا گیا اور تیز دھار آلے سے اس کی ٹانگ کاٹ دی گئی تھی۔

    تقریباً ایک سال کی کوششوں اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے بعد، مقامی کمپنی سی ڈی آر ایس بینجی پراجیکٹ شیلٹر کے ماہرین نے اس اونٹنی کا معائنہ کیا اور پاکستان میں ہی اس کے لیے مصنوعی ٹانگ تیار کی گئی۔ مصنوعی ٹانگ کاربن فائبر، اسٹیل اور ایئرکرافٹ ایلومینیم سے بنی ہے، جو نہ صرف ہلکی بلکہ مضبوط بھی ہے۔ اس مصنوعی ٹانگ کے بعد، کمپنی بائیونکس کے ماہرین نے نہ صرف اونٹنی کو مصنوعی ٹانگ لگا کر ایک تاریخی سنگ میل عبور کیا بلکہ اسے دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کرنے میں بھی کامیاب ہوئے۔ اس کامیابی نے نہ صرف حیوانات کی دیکھ بھال میں ایک نیا باب کھولا ہے بلکہ پاکستان میں مصنوعی اعضا کی تیاری اور انسٹالیشن کے شعبے میں بھی نمایاں پیش رفت کی نمائندگی کرتی ہے۔

    اونٹنی کے مالک سومربھَن نے اس تجربے کو جانوروں کے حقوق اور ہمدردی کے لیے ایک مثبت قدم قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس بات کے لیے شکرگزار ہیں کہ ان کی اونٹنی دوبارہ چل پھر سکتی ہے۔یہ کامیابی نہ صرف ضلع سانگھڑ بلکہ پورے پاکستان میں حیوانات کے لیے طبی سہولیات اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں ایک اہم سنگ میل ہے، جو کہ انسانیت اور جانوروں کے ساتھ ہمدردی کی بہترین مثال پیش کرتی ہے۔

    ڈائریکٹر سی ڈی آر ایس بینجی پروجیکٹ سارہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ واقعے کے بعد اونٹنی جب آئی تو وہ خوفزدہ اور شدید تکلیف میں تھی ، اونٹنی کیلئے خاص طور پر تیار کردہ مصنوعی ٹانگ بیرون ملک سے منگوائی گئی تھی۔

    پیپلز پارٹی کی رہنما شازیہ عطا مری نے بھی اونٹنی کی نئی تصاویر جاری کردی ہیں، واضح رہے کہ اونٹنی کی ٹانگ کاٹنے کا واقعہ گزشتہ سال جون میں پیش آیا تھا جس میں سانگھڑ کے ایک زمیندار نے کھیتوں میں داخل ہونے پر طیش میں آکر تیز دھار آلے کی مدد سے اونٹنی کی ٹانگ کاٹ دی تھی جس کے بعد اونٹنی کو علاج کی غرض سے کراچی منتقل کیا گیا تھا جبکہ پولیس نے واقعے میں ملوث ملزمان کو گرفتار بھی کرلیا تھا۔

  • وزیراعظم کی ہدایت،چینی کے شعبے کو ڈی ریگولیٹ کرنے کیلیے اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم

    وزیراعظم کی ہدایت،چینی کے شعبے کو ڈی ریگولیٹ کرنے کیلیے اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملک میں چینی کے شعبے کو ڈی ریگولیٹ کرنے اور اس میں جامع اصلاحات متعارف کروانے کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ یہ کمیٹی شوگر سیکٹر میں نجکاری اور انتظامی ڈھانچے میں بہتری کے لیے قابلِ عمل تجاویز مرتب کرے گی۔

    وزیر توانائی کو کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے جبکہ وزارت صنعت و پیداوار کے سیکریٹری اس کے کنوینر ہوں گے۔ کمیٹی میں وزیر خزانہ، وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق، اور وزیر اقتصادی امور بھی بطور ارکان شامل ہوں گے۔ اس کے علاوہ وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعتیں، سابق سیکریٹری رانا نسیم، اور وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے زراعت و غذائی تحفظ احمد عمر بھی اس کمیٹی کا حصہ ہیں۔کمیٹی میں وزارت غذائی تحفظ و تحقیق اور وزارت تجارت کے سیکریٹریز، چیئرمین ایف بی آر، پنجاب اور سندھ کے چیف سیکریٹریز، لیمز یونیورسٹی سے ڈاکٹر اعجاز نبی اور سابق وائس چانسلر ڈاکٹر ظہور حسن بھی شامل کیے گئے ہیں۔

    کمیٹی کو دیے گئے ضوابطِ کار (ٹی او آرز) کے مطابق وہ وفاقی اور صوبائی سطح پر چینی کی پیداوار، درآمد، برآمد، قیمتوں کے تعین، سبسڈی اور ذخیرہ اندوزی سے متعلق تمام قوانین، ضوابط اور پالیسیوں کا تفصیلی جائزہ لے گی۔ اس کے علاوہ چینی کے ذخائر، رسد، اور قیمتوں سے متعلق ڈیٹا کی درستگی، کسانوں کے مفادات، صارفین کے حقوق، اور تجارتی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسی سفارشات مرتب کی جائیں گی۔

    کمیٹی کو یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ صارفین کے تحفظ اور چینی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے بچاؤ کے لیے جامع پالیسی تیار کرے، اور نجکاری کے عمل کو شفاف اور مربوط بنانے کے لیے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز بشمول صنعت کاروں، کسانوں اور ریگولیٹری اداروں سے مشاورت کو بھی یقینی بنایا جائے۔یہ کمیٹی آئندہ 30 روز کے اندر اپنی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گی۔

  • امریکی صدر ٹرمپ 18 ستمبر کو پاکستان نہیں آ رہے

    امریکی صدر ٹرمپ 18 ستمبر کو پاکستان نہیں آ رہے

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ کے بادشاہ کی طرف سے دی گئی سرکاری دورے کی دعوت کو قبول کر لیا ہے۔ صدر ٹرمپ اور فرسٹ لیڈی میلانیا ٹرمپ 17 ستمبر سے 19 ستمبر 2025 تک برطانیہ کے سرکاری دورے پر رہیں گے۔ اس دورے کا مقصد دونوں ملکوں کے مابین دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانا اور مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔

    یہ دورہ بادشاہ کے دعوت نامے پر ہو رہا ہے اور اس دوران صدر ٹرمپ اور ان کی اہلیہ کو وِنڈزر کیسل میں شاہی مہمانوں کے طور پر میزبان کیا جائے گا۔ وِنڈزر کیسل، جو کہ برطانیہ کے بادشاہی خاندان کی تاریخی اور اہم رہائش گاہ ہے، میں انہیں شاہی انداز میں خوش آمدید کہا جائے گا۔اس حوالے سے مزید تفصیلات اور دورے کے پروگرام کے دیگر پہلوؤں کا اعلان آئندہ کیا جائے گا، جس میں ملاقاتیں، رسمی عشائے، اور ثقافتی تقریبات شامل ہو سکتی ہیں۔

    صدر ٹرمپ اور میلانیا ٹرمپ نے 2019 میں بھی ایک سرکاری دورہ برطانیہ کیا تھا، جس کے دوران اُنہیں اُس وقت کی ملکہ برطانیہ، ہیر میجسٹی کوئین الزبتھ دوم نے شرفِ میزبانی بخشا تھا۔ اس دورے کو دونوں ممالک کے تعلقات کے مضبوط ہونے کی ایک اہم مثال سمجھا جاتا ہے۔یہ دورہ عالمی سطح پر امریکہ اور برطانیہ کے دوستانہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے اور متوقع ہے کہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی، سیاسی، اور ثقافتی روابط میں مزید ترقی ہوگی۔

    قبل ازیں یہ خبر آئی تھی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 18 ستمبر کو پاکستان کا دورہ کریں گے تاہم امریکی صدر کا برطانیہ کا دورہ شیڈولڈ ہے ،اس وجہ سے وہ پاکستان نہیں آئیں گے