Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • لیک ویڈیو ز، حسینہ سے ایک ہی دن میں اعزاز واپس

    لیک ویڈیو ز، حسینہ سے ایک ہی دن میں اعزاز واپس

    تھائی لینڈ کی صوبائی بیوٹی کوئین سوفانی نوئنونتھونگ المعروف بیبی کو تاج ملنے کے صرف ایک روز بعد ہی اِن سے یہ اعزاز واپس لے لیا گیا

    جیوری کی جانب سے لیا گیا یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب سوفانی کی چند متنازع ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگیں،غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سوفانی نوئنونتھونگ کو 20 ستمبر کو صوبائی مقابلے کی فاتح قرار دیا گیا تھا، اس اعزاز کے بعد اِنہیں قومی سطح پر ’مِس گرانڈ تھائی لینڈ 2026ء‘ میں اپنے صوبے کی نمائندگی کرنی تھی۔ 21 ستمبر کو پیجینٹ کمیٹی نے اعلان کیا کہ اِن کی ویڈیوز مقابلے کی اقدار اور ضابطہ اخلاق کے خلاف ہیں جس کے نتیجے میں سوفانی سے اعزاز واپس لیا جا رہا ہے،کمیٹی کے بیان میں کہا گیا کہ موجودہ صوبائی بیوٹی کوئین کو ایسی سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا جو مقابلے کی روح اور اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتیں، لہٰذا ان کا عہدہ ختم کرنا ضروری ہے۔

    دوسری جانب 27 سالہ حسینہ نے فیس بُک پوسٹ میں معافی مانگتے ہوئے وضاحت میں کہا کہ کورونا وبا کے دوران مالی مشکلات نے اِنہیں مجبور کیا تھا، اُنہوں نے یہ سب اپنی بیمار والدہ کے لیے کیا جو کہ اب اس دنیا میں نہیں رہیں، یہ واقعہ اِن لیے ایک قیمتی سبق ہے، اب وہ اپنی ذمہ داریوں سے پوری طرح واقف ہیں اور کوشش کریں گی کہ آئندہ ایسا کچھ نہ ہو۔

    تھائی لینڈ کی صوبائی بیوٹی کوئین نے اپنے بیان میں الزام عائد کیا کہ اِن کی ویڈیوز کو غیر قانونی جوا کھیلنے والی ایک ویب سائٹس نے اجازت کے بغیر استعمال کیا، وہ اس معاملے پر پولیس میں رپورٹ درج کروانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔یاد رہے کہ ’مس گرانڈ تھائی لینڈ 2026ء‘ کا فائنل آئندہ سال مارچ میں بینکاک میں ہوگا اور فاتح کو بین الاقوامی مقابلے ’مس گرانڈ انٹرنیشنل 2026ء‘ میں ملک کی نمائندگی کا موقع ملے گا۔

  • پاکستان میں استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کی منظوری

    پاکستان میں استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کی منظوری

    پاکستان کی اعلیٰ ترین اقتصادی فیصلہ ساز کمیٹی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) نے ایک اہم اور متنازعہ فیصلے میں استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد کی منظوری دے دی ہے، جس پر ملک کی آٹو انڈسٹری نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے "تباہ کن” قرار دیا ہے۔

    یہ فیصلہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ایک آن لائن اجلاس میں کیا گیا، جو اس وقت نیویارک میں موجود ہیں۔ ابتدائی طور پر صرف پانچ سال پرانی گاڑیوں کی درآمد کی اجازت دی گئی ہے، تاہم 30 جون 2026 کے بعد اس عمر کی حد کو ختم کر دیا جائے گا۔

    یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آئی ایم ایف کا وفد پاکستان کے لیے 7 ارب ڈالر کے قرض پروگرام کے دوسرے جائزے کے لیے ملک کا دورہ کرنے والا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارہ پاکستان سے تجارتی پابندیاں نرم کرنے اور استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر عائد پابندیوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

    وزارت خزانہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ای سی سی نے "کمرشل بنیادوں پر استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد” کے لیے 2022 کے امپورٹ پالیسی آرڈر میں ترمیم کی منظوری دی ہے۔یہ اجازت ماحولیاتی تحفظ اور حفاظتی معیار کی سخت پابندیوں سے مشروط ہوگی۔پانچ سال سے کم عمر گاڑیوں کی درآمد پر موجودہ کسٹمز ڈیوٹی کے علاوہ 40 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی جائے گی۔یہ ریگولیٹری ڈیوٹی جون 2026 تک برقرار رہے گی اور اس کے بعد ہر سال 10 فیصد کی کمی کی جائے گی، یہاں تک کہ مالی سال 2029-30 میں یہ صفر ہو جائے گی۔

    پاکستان کی مقامی آٹو صنعت جن میں ٹويوٹا، ہونڈا، سوزوکی، ہنڈائی، کیا موٹرز، اور چانگان شامل ہیں نے اس فیصلے کو صنعت دشمن قرار دیا ہے۔پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (PAMA) کے ڈائریکٹر جنرل عبدالوحید خان نے عرب نیوز سے گفتگو میں کہا “یہ درآمدی پالیسی میں ایک بنیادی تبدیلی ہے۔ 40 فیصد اضافی ٹیرف کے باوجود، یہ فیصلہ مارکیٹ کو استعمال شدہ گاڑیوں سے بھر دے گا اور مقامی مینوفیکچرنگ کو تباہ کر دے گا۔” ملک میں ڈالر کی قلت اور انوینٹری کے مسائل کے باعث گزشتہ چند سال مقامی کار ساز اداروں کے لیے انتہائی مشکل رہے۔ 2022 میں 226,433 یونٹس کی پیداوار کے مقابلے میں 2025 میں پیداوار 51 فیصد کم ہو کر 111,402 یونٹس پر آ گئی ہے۔

    پاکستان آٹوموٹیو پارٹس اینڈ ایکسیسریز مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (PAAPAM) نے بھی اس فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے “یہ فیصلہ ایک ایسی انڈسٹری پر تباہ کن اثر ڈالے گا جو 3 لاکھ افراد کو براہ راست اور 18 لاکھ سے زائد پاکستانیوں کو بلا واسطہ روزگار فراہم کر رہی ہے،” ، ملک میں 1,200 سے زائد کمپنیاں اسٹیل، پلاسٹک، ربڑ، تانبا، ایلومینیم اور دیگر پرزے بناتی ہیں جو 13 مقامی کار اسمبلرز کو فراہم کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “یہ فیصلہ الیکٹرک گاڑیوں کی لوکل اسمبلی اور سرمایہ کاری کے عمل کو بھی نقصان پہنچائے گا۔”

    ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے تجزیہ کار شنکر تلریجا کا کہنا ہے “فی الوقت کم قیمت یا ہیچ بیک گاڑیاں زیادہ درآمد ہو رہی ہیں، لیکن اب یہ تعداد بڑھ سکتی ہے، خاص طور پر جب ریگولیٹری ڈیوٹی ہر سال کم ہوتی جائے گی۔”انہوں نے خبردار کیا کہ “پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر جو کہ گزشتہ ہفتے 14 ارب ڈالر تھے، استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد سے مزید دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔”تاہم، وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ “چونکہ حکومت نے کچھ غیر ٹیرف رکاوٹیں اور معیار قائم کیے ہیں، اس سے کچھ حد تک مقامی انڈسٹری کو ریلیف مل سکتا ہے۔”لیکن عبدالوحید خان کا کہنا ہے کہ “ایک گاڑی کی درآمد کا مطلب ہے ایک گاڑی کی مقامی سطح پر پیداوار کا نقصان۔ یہ براہ راست مقابلہ ہے۔”

    استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد کا یہ فیصلہ بظاہر آئی ایم ایف کی شرائط کو پورا کرنے کی ایک کوشش ہے، لیکن اس کے نتیجے میں مقامی کار سازی اور پارٹس انڈسٹری کو شدید نقصان کا اندیشہ ہے۔روزگار کے مواقع متاثر ہو سکتے ہیں۔زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔صارفین کو قلیل مدتی فائدہ، لیکن طویل المدتی نقصان ہو سکتا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت آنے والے دنوں میں کیا حفاظتی اقدامات کرتی ہے تاکہ ایک طرف آئی ایم ایف کی شرائط پوری ہوں اور دوسری طرف ملک کی صنعت، روزگار، اور معیشت کو بچایا جا سکے۔

  • بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ سے تعلق ،بارودی مواد ،مجرم کو 114 برس قید کی سزا

    بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ سے تعلق ،بارودی مواد ،مجرم کو 114 برس قید کی سزا

    انسداد دہشتگردی عدالت نے بارودی مواد رکھنے کے جرم میں مجرم کو 114 سال قید کی سزا سنادی۔

    کراچی کی انسداد دہشتگردی عدالت میں بارودی مواد کی برآمدگی کے کیس کی سماعت ہوئی،دوران سماعت پراسیکیوشن نے عدالت کو بتایا کہ ملزم سلیم کو اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) نے ماڑی پور سے گرفتار کیا تھا جس کے قبضے سے دستی بم، آوان لانچر اور غیر قانونی اسلحہ برآمد ہوا تھا،پراسیکیوشن کے مطابق ملزم نے دوران تفتیش بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ سے تعلق کا اعتراف کیا جب کہ اس نے 2012 سے 2014 کے درمیان تین بار بھارت کا سفر بھی کیا تھا،بعد ازاں عدالت نے جرم ثابت ہونے پر سلیم کو 114 سال قید کی سزا سنائی اور مجموعی طور پر ڈیڑھ لاکھ روپے جرمانہ عائد کردیا،عدالت نے مجرم کی ضمانت منسوخ کرتے ہوئے اسے جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔

  • نیب کا زلفی بخاری کی 8 سو کنال اراضی نیلام کرنے کا فیصلہ

    نیب کا زلفی بخاری کی 8 سو کنال اراضی نیلام کرنے کا فیصلہ

    قومی احتساب بیورو (نیب) راولپنڈی نے سابق معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانی ذلفی بخاری کی 8 سو کنال زرعی اراضی نیلام کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر تحصیل جنڈ ضلع اٹک کی جانب سے اراضی کی نیلامی کا باضابطہ اشتہار جاری کر دیا گیا ہے، جس میں دلچسپی رکھنے والے خریداروں کو قواعد و ضوابط کے مطابق بڈنگ میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔نیب حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ زمین ذلفی بخاری کی ملکیت ہے اور اسے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں اثاثے منجمد کیے جانے کے بعد نیلام کیا جا رہا ہے۔ ذلفی بخاری کو عدالت کی جانب سے پہلے ہی اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے، جبکہ ان کے خلاف نیب کی تفتیش بھی جاری ہے۔

    ذرائع کے مطابق زمین کی نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم سرکاری خزانے میں جمع کروائی جائے گی تاکہ بدعنوانی سے حاصل شدہ اثاثوں کی واپسی یقینی بنائی جا سکے

  • انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کی آخری تاریخ سے قبل فارم میں تبدیلی

    انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کی آخری تاریخ سے قبل فارم میں تبدیلی

    انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ ختم ہونے سے چند روز قبل ٹیکس فارم میں تبدیلی کر دی گئی۔

    ایف بی آر کی جانب سے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 30 ستمبر بتائی گئی ہے تاہم ڈیڈ لائن سے چند روز قبل انکم ٹیکس فارم میں ایک کالم کا اضافہ کر دیا گیا ہے،ٹیکس ریٹرن جمع کرانے والوں کے لیے آئرس فارم میں تبدیلی کی گئی ہے اور ایف بی آر نے گوشواروں میں اثاثوں کی مارکیٹ ویلیو ظاہر کرنا لازمی قرار دے دیا ہے۔

    انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ سے چند روز قبل ٹیکس فارم میں تبدیلی سے ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والے صارفین کی پریشانی میں اضافہ ہو گیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ڈیڈ لائن سے چند روز قبل اس طرح کی اہم تبدیلی ناقابل فہم اور باعث تشویش ہے۔

  • بھارت بھی پاکستانی کھلاڑیوں کیخلاف آئی سی سی پہنچ گیا

    بھارت بھی پاکستانی کھلاڑیوں کیخلاف آئی سی سی پہنچ گیا

    بھارتی کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی سے پاکستانی کھلاڑیوں کی بھی شکایت کردی۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق بی سی سی آئی کی جانب آئی سی سی کو ای میل لکھی گئی ہے جس میں پاکستانی کھلاڑیوں کی باضابطہ شکایت کرتے ہوئے فاسٹ بولر حارث رؤف اور صاحبزادہ فرحان کے خلاف سخت ایکشن لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق بی سی سی آئی کی ای میل میں کہا گیا ہےکہ صاحبزادہ فرحان اور حارث رؤف نے گراؤنڈ میں اشتعال انگیز اشارے کیے، حارث رؤف نے تماشائیوں کے کوہلی کوہلی کی آوازیں لگانے پر جیٹ کریش کے اشارے کیے اور 6 صفر کا نشان بنایا جب کہ صاحبزادہ فرحان نے 50 رنز مکمل ہونے پر گن فائر سیلی بریشن کیبھارتی کرکٹ بورڈ کی جانب سے میچ ریفری اینڈی ڈی پائی کرافٹ کو اس حوالے سے ویڈیو ثبوت بھی فراہم کیے گئے ہیں۔

    بھارتی کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ گراؤ نڈ میں یہ رویہ اسپرٹ آف دی گیم کے خلاف ہے لہٰذا کھلاڑیوں کے خلاف سخت ایکشن ہونا چاہیے۔

  • 190ملین پاؤنڈ کیس،عمران ،بشریٰ کی سزا معطلی کی درخواست بنا کاروائی ملتوی

    190ملین پاؤنڈ کیس،عمران ،بشریٰ کی سزا معطلی کی درخواست بنا کاروائی ملتوی

    بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 190ملین پاؤنڈ کیس میں سزا معطلی کی درخواستوں پر بغیر کارروائی ملتوی کر دی گئی۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 190ملین پاؤنڈ کیس میں سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت نیب کے اسپیشل پراسیکیوٹر کی عدم دستیابی کے باعث بغیر کارروائی 16 اکتوبر تک ملتوی کر دی،وزیر اعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور اور بانی پی ٹی آئی کے بہنیں کمرۂ عدالت میں موجود تھیں،درخواست گزاروں کی جانب سے بیرسٹر سلمان صفدر عدالت میں پیش ہوئے،سلمان صفدر نے کہا کہ 10 سے 15 مرتبہ اس عدالت سے اپروچ کیا مگر کبھی لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال پیدا نہیں ہوئی۔

  • سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر سارے پاکستان نے سراہا، بلاول

    سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر سارے پاکستان نے سراہا، بلاول

    پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ فوجی نہیں سیاسی طریقے سے حل کرنا ہو گا۔

    کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کی شکایات اپنی جگہ ہیں، دہشت گردی کا مسئلہ سب سے بڑا مسئلہ ہے، بلوچستان کا حل سیاسی ہے، سیاسی اتفاق رائے سے ایسے فیصلے لینے پڑیں گے کہ عوام کا فائدہ ہو، ماضی میں بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیاب ہوئے ہیں،سیلاب سے پنجاب خصوصاً جنوبی پنجاب میں تاریخی نقصان ہوا ہے۔ گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں بھی بہت نقصان ہوا ہے، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے وفاقی حکومت متاثرہ علاقوں میں مدد فراہم کرے،متاثرہ لوگوں کو فوری ریلیف پہنچانے کے لیے بی آئی ایس پی واحد پروگرام ہے، بروقت عالمی اپیل کرتے تو متاثرین کی زیادہ مدد کر سکتے تھے، ایسا کیوں نہیں ہو رہا یہ ہم سے نہیں وفاق سے پوچھیں۔

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ وفاق انا کی وجہ سے یا پتہ نہیں کیوں یہ بات نہیں مان رہا، الیکشن میں ن لیگ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی پوری اونرشپ لے رہی تھی، اب یوٹرن لیا ہے تو ان سے پوچھا جائے، گندم کی امدادی قیمت کے لیے آئی ایم ایف سے بات کی جائے، سندھ میں گندم کے کاشتکاروں کو ہاری کارڈ کے ذریعے سپورٹ کریں گے، تاکہ گندم درآمد نہ کرنا پڑے، ملک بھر میں زرعی شعبے مشکل میں رہے ہیں، سیلاب کے بعد زرعی شعبہ بہت متاثر ہوا، سیلاب کے بعد فوڈ سیکیورٹی کے مسائل ہو سکتے ہیں، وزیراعظم سے درخواست کی تھی کہ زرعی اور موسمیاتی ایمرجنسی نافذ کی جائے، وزیراعظم کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے زرعی ایمرجنسی نافذ کی اور متاثرین کے بجلی کے بل معاف کیے،اگر وفاقی حکومت سپورٹ کرتی ہے تو مزید سہولت دے سکیں گے، اگر وفاقی حکومت یہ کرلے تو زرعی شعبے کو مزید فائدہ ہوگا، ٹیکس کی پالیسیوں پر بات چیت کی جائے تاکہ کسانوں کو ٹیکس ریلیف فراہم کیا جاسکے،سیلاب کے اثرات اب بھی جاری ہیں، سیلاب سے پنجاب میں تاریخی نقصان ہوا،پنجاب حکومت نے اعلان کیا ہے کہ سیلاب متاثرین کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے، ملتان، لودھراں، بہاولپور میں آج بھی پانی ہے. قدرتی آفت میں معاونت کی ذمے داری ایک حکومت کی ذمے داری نہیں، قدرتی آفت کی صورت وفاق صف اول کا کردار ادا کرتی ہے، میں وفاق پر تنقید نہیں کر رہا، وفاق سے درخواست کر رہے ہیں کہ عالمی سطح پر بات کی جائے، مطالبات وفاقی حکومت سے ہی ہیں، وفاق کی ذمے داری ہے وہ بینظیر انکم سپورٹ کے ذریعے لوگوں کی مدد کرے۔ بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام کے خلاف بیانات دینے والوں کو اس پروگرام کے بارے میں معلوم بھی نہیں ہو گا، مسلم لیگ نے پروگرام سے متعلق کوئی ترمیم یا ڈرافٹ نہیں دیا،سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر سارے پاکستان نے سراہا، معاہدے سے متعلق ان کیمرا بریفنگ بھی ہو گی، ملک کو ایک ایکسپورٹر ملک بنا دیا گیا ہے، میرے کزن کافی دیر سے سیاست میں متحرک رہے ہیں، انہیں ویلکم کرتے ہیں، ہمیشہ سے ان کے لیے نیک خواہشات رکھی ہیں، میری یا میری بہنوں کی طر ف سے ان کے خلاف کوئی بیان نہیں آیا۔

  • ایسی کئی  خواتین، جنہوں نے شوہروں کی دوسری شادیاں خود کروائی ہیں،صائمہ قریشی

    ایسی کئی خواتین، جنہوں نے شوہروں کی دوسری شادیاں خود کروائی ہیں،صائمہ قریشی

    پاکستانی اداکارہ صائمہ قریشی کا کہنا ہے کہ 95 فیصد مرد دوسری شادی کے خواہشمند ہیں لہٰذا حرام کاموں سے بہتر مرد دوسری شادی کرلے۔

    اداکارہ صائمہ قریشی نے حال ہی میں دیے گئے انٹرویو میں مختلف موضوعات پر گفتگو کے ساتھ ساتھ مردوں کی دوسری شادی اور غیر ازدواجی تعلقات پر بھی بات کی،ایک سوال کے جواب میں صائمہ قریشی نے کہا کہ 95 فیصد مرد دوسری شادی کرنا چاہتے ہیں، ہمارے میڈیا میں بھی ایسی کئی خواتین ہیں جنہوں نے شوہروں کی دوسری شادیاں خود کروائی ہیں حتیٰ کہ ایسے بھی کئی خاندان ہیں جہاں مرد کی 2 بیویاں ایک دوسرے کے ساتھ رہتی ہیں،ہمارے یہاں مرد غیر ازدواجی تعلقات بنانے سے نہیں ڈرتے حتیٰ کہ انہیں اپنی بیوی کو اعتماد میں لےکر اس لڑکی سے نکاح کرلینا چاہیے کیوں کہ ایک مرد کی غلط حرکت پوری نسل تباہ کردیتی ہے۔

    صائمہ قریشی کا کہنا تھا کہ مردوں کو کسی کے جذبات کے ساتھ کھیلنے یا پھر کسی کو اپنے جھوٹے وعدوں میں پھنسانے سے پہلے یہ سوچ لینا چاہیے کہ ان کی اپنی اولاد بھی ہے لہٰذا حرام کام کرنے سے بہتر ہے کہ مرد دوسری شادی کرلیں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھی اداکارہ صائمہ قریشی نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ شوہر کو دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے، اداکارہ کے وائرل ویڈیو کلپ پر انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا،

  • گردشی قرضے کے مسائل سے نمٹنا بہت بڑی کامیابی ہے،وزیراعظم

    گردشی قرضے کے مسائل سے نمٹنا بہت بڑی کامیابی ہے،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہےکہ بجلی کے شعبے میں گردشی قرضہ تمام وسائل کو نگل رہا تھا ا س کے مسائل سے نمٹنا بہت بڑی کامیابی ہے۔

    نیویارک میں شعبہ توانائی کے گردشی قرضے کے خاتمے کے منصوبے کی افتتاحی تقریب سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ گردشی قرضہ تمام وسائل کو نگل رہا تھا اور یہ مسلسل بڑھتا جارہا تھا، گردشی قرضے کے مسائل سے نمٹنا بہت بڑی کامیابی ہے، وزیرتوانائی کی سربراہی میں ٹاسک فورس نے مستعدی سے کام کیا اور آئی پی پیز کے ساتھ کامیاب مذاکرات کیے، گردشی قرضے کا منصوبہ اجتماعی کاوشوں کا نتیجہ ہے،بجلی کے شعبے میں لائن لاسز بھی ایک بڑا چیلنج ہے، اگلے مرحلے میں لائن لاسز کے مسئلے پر توجہ دی جائے،آئی ایم ایف کی ایم ڈی سے اہم ملاقات ہوئی، انہوں نے پاکستان کی معاشی بہتری کی تعریف کی۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرتوانائی اویس لغاری نے کہا کہ گردشی قرضے کی وجہ سے معیشت پربہت بوجھ ہے اور اس وجہ سے توانائی کا شعبہ متاثر ہورہا تھا، گردشی قرضے پر قابو پانے کے لیے اتفاق رائے سے لائحہ عمل وضع کیاگیا، گردشی قرضے کے خاتمے کی اسکیم شعبہ توانائی میں اصلاحات کا حصہ ہے، اسکیم کے تحت آئندہ 6 سال میں گردشی قرضے سے نجات حاصل ہوجائےگی۔

    اس موقع پر وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پاور سیکٹر کے اسٹرکچرل مسائل حل ہورہے ہیں، گردشی قرضے کے خاتمے کے لیے ایک سال سے کوششیں جاری تھیں، گردشی قرضے کے خاتمے کی اسکیم اہم سنگ میل ہے، گردشی قرضے کے خاتمے کی توانائی کے شعبے پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے،