Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ٹک ٹاکرز  سے ریکوری کرنی  توپہلے پنجاب سے شروع کریں،فیصل واوڈا

    ٹک ٹاکرز سے ریکوری کرنی توپہلے پنجاب سے شروع کریں،فیصل واوڈا

    سینیٹر فیصل واوڈا کا کہنا ہے کہ سنا ہے ایف بی آر ٹک ٹاکرز سے ٹیکس لینے کی تیاری کر رہا ہے، اگر ٹک ٹاکرز سے ریکوری کرنی ہے تو سب سے پہلے پنجاب سے شروع کریں۔

    سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کے اجلاس میں سینیٹر فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کو پنجاب کے ٹک ٹاکر سے زیادہ ریکوری ہوگی، ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک نے اسٹیٹ بینک کی ترسیلات زر پر مراعات اسکیم پر بریفنگ میں بتایا کہ 2020 میں ترسیلات زر پر 20 سعودی ریال سبسڈی اسکیم شروع کی گئی تھی، 2024 میں ترسیلات زر پر سبسڈی 30 سعودی ریال کردی گئی، رواں سال حکومت نےترسیلات زر پر سبسڈی کم کرکے 20 سعودی ریال کردی ہے ، ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ رواں مالی سال اسکیم میں تبدیلی سے 30 فیصد کی بچت ہو گی، ترسیلات زر میں اضافہ اس اسکیم کی وجہ سے نہیں ہوا بلکہ زیادہ رقم بھجوائی گئی ہے۔

    سینیٹر فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ گورنر اسٹیٹ بینک گزشتہ 3 سال کا مکمل ڈیٹا لےکر آئیں اور کمیٹی کو بریفنگ دیں، اس اسکیم سے بینکوں کو بہت زیادہ فائدہ ہو رہا ہے، یہ ایک قسم کا اسکینڈل ہے، انکوائری کرائی جائے، چیئرمین ایف بی آر کو بینکوں سے ریکوری کرنا ہوگی،سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے پوچھا کہ پاکستان کرپٹو کونسل پر کون بریفنگ دےگا تو وزیر مملکت اظہر بلال کیانی نے بتایا کہ پاکستان کرپٹو کونسل پر وزیر خزانہ یا وزیراعظم کے معاون خصوصی بلال بن ثاقب بریفنگ دے سکتے ہیں،سینیٹر مانڈوی والا نے کہا کہ حکومت قانون پاس کروانا چاہتی ہے تو قائمہ کمیٹی خزانہ کو بریفنگ دے۔

  • کھیلوں میں تنگ نظری،عالمی برادری بھارتی روئیے کا نوٹس لے،سبیل اکرام

    کھیلوں میں تنگ نظری،عالمی برادری بھارتی روئیے کا نوٹس لے،سبیل اکرام

    ممتاز سیاسی و سماجی رہنما ڈاکٹر سبیل اکرام نے کہا ہے کہ بھارت جنگ کے میدان میں تو پاکستان کو شکست نہیں دے سکا، مگر افسوس وہ کھیل جیسے مثبت اور تعمیری شعبے کو بھی اپنی دشمنی کی نذر کر رہا ہے۔ کھیل کے میدان کو دشمنی کے لیے استعمال کرنا عالمی کھیلوں کے ضابطوں اور اسپورٹس مین اسپرٹ کی صریح خلاف ورزی ہے۔ دنیا بھر کے کھیلوں کے اداروں، فیڈریشنز اور عالمی رہنماؤں کو چاہئے کہ وہ بھارت کو اس رویے سے باز رکھیں تاکہ کھیل کو امن، محبت اور باہمی تعلقات کے فروغ کا حقیقی ذریعہ بنایا جا سکے۔ کھیل دنیا بھر میں امن، محبت اور بھائی چارے کے فروغ کا ذریعہ سمجھے جاتے ہیںاس سے قومیں ایک دوسرے کے قریب آتی ہیں ، تنگ نظری ودشمنی کا خاتمہ ہوتا ہے ۔انھوں نے کہا کہ پاکستان کو آزاد ہوئے 78 برس بیت چکے ہیں لیکن بھارت آج بھی پاکستان کے وجود کو دل سے تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی سرحدوں پر اشتعال انگیز کارروائیاں، کبھی عالمی فورمز پر منفی پروپیگنڈا اور اب کھیلوں کے میدان میں تنگ نظری یہ سب بھارتی ذہنیت کا عکاس ہیں۔ کھیل دشمنی اور تعصب کے لیے نہیں بلکہ دوستی اور قربت کے لیے کھیلے جاتے ہیں، مگر بھارت کی جانب سے بار بار منفی رویہ اپنایا جانا انتہائی قابل مذمت ہے۔ دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ کھیلوں نے ہمیشہ مختلف قوموں کو قریب لانے میں کردار ادا کیا، لیکن بھارتی رویہ اس عالمی روایت کے برعکس ہے۔ بھارت پاکستان کی جغرافیائی سلامتی کا ازلی دشمن تو ہے ہی، مگر کھیل کے میدان میں بھی وہ پاکستان دشمنی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ ایسے منفی رویے نہ صرف کھلاڑیوں کی شخصیت کو مجروح کرتے ہیں بلکہ کھیلوں کے تقدس پر بھی سوالیہ نشان چھوڑ جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عالمی برادری خصوصاً کھیلوں کے بین الاقوامی اداروں کو بھارت کی اس تنگ نظری کا سختی سے نوٹس لینا چاہیے تاکہ کھیل کو نفرت اور سیاست سے آلودہ نہ کیا جا سکے۔

  • لاہور پولیس کا منشیات فروشوں کے گرد گھیرا تنگ،7 کلو چرس کے ہمراہ ملزم گرفتار

    لاہور پولیس کا منشیات فروشوں کے گرد گھیرا تنگ،7 کلو چرس کے ہمراہ ملزم گرفتار

    ایس پی سٹی محمدبلال کی ہدایت پر منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے،

    ایس ایچ او شادباغ نے پولیس ٹیم کے ہمراہ دبنگ کاروائیاں کیں،خفیہ اطلاع پر دوران چیکنگ ایک منشیات فروش غلام حسین منشیات سمیت گرفتار کر لیا گیا،ملزم غلام حسین سے 7 کلو چرس برآمد کی گئی،ملزم غلام حسین نے لاہور کے مختلف مقامات پر نوجوان نسل کو منشیات بیچنے کا اعتراف کیا،ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا

    ایس پی سٹی محمدبلال کا کہنا ہے کہ ملزم کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ کارواٸیاں جاری ہیں،ایس پی سٹی نے ایس ایچ او شادباغ زاہذحسین اور پولیس ٹیم کو شاباش دیتے ہوئے کہا کہ نو جوان نسل کو تباہ و برباد کرنے والے منشیات فروش کسی رعایت کے مستحق نہیں.

  • مفتیِ اعظم شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ کی وفات پر حافظ مسعود اظہر کا اظہار افسوس

    مفتیِ اعظم شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ کی وفات پر حافظ مسعود اظہر کا اظہار افسوس

    پاکستان اسلامک کونسل کے چیئرمین اور جامعہ سعیدیہ سلفیہ کے پرنسپل ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر نے سعودی عرب کے مفتیِ اعظم، عالمِ ربانی شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امت مسلمہ قرآن وسنت کے ایک عظیم داعی ،عالم باعمل ، محسن، رہبر اور مربی سے محروم ہوگئی ہے۔ یہ سانحہ ایسا ہے جس نے دلوں کو لرزا دیا اور آنکھوں کو اشکبار کر دیا ہے۔ مفتیِ اعظم الشیخ عبدالعزیزمرحوم نے اپنی پوری زندگی قرآن و سنت کی ترجمانی، شریعتِ مطہرہ کے اصولوں کی حفاظت اور امت کی رہنمائی میں بسر کی۔ وہ ایک ایسے جید عالمِ دین تھے جنہوں نے اپنے تقویٰ،فتوئوں ، فیصلوں ، اخلاص، سادہ طرزِ حیات اور غیر معمولی علمی بصیرت سے مسلمانوں کے دلوں کو منور کیا۔ ان کے خطبات و فتاویٰ نہ صرف سعودی عرب بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے ہمیشہ رہنمائی کا ذریعہ رہے ہیں۔ مرحوم کی شخصیت میں متواضع مزاجی، خشیتِ الٰہی اور خلوص جھلکتا تھا۔ وہ ہمیشہ امت کو اتحاد، یکجہتی اور قرآن و سنت کی پابندی کی طرف بلاتے رہے۔ ان کی وفات سے صرف سعودی عرب ہی نہیں بلکہ پورا عالم اسلام یتیم ہوگیا ہے۔ڈاکٹر مسعود اظہر نے کہا کہ موجودہ دور میں جبکہ اسلام دشمن طاقتیں مختلف محاذوں پر سرگرم ہیں اور نوجوان نسل فکری یلغار کا شکار ہے، ایسے میں مفتیِ اعظم جیسی شخصیت کا بچھڑ جانا ایک بہت بڑا سانحہ اور ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ گوکہ آج مفتی اعظم ہم سے جدا ہوچکے ہیں تاہم ان کا چھوڑا ہوا علمی ورثہ، تعلیمات اور نصیحتیں ہمیں ہمیشہ ان کی یاد دلاتی رہیں گی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اسلامک کونسل اور جامعہ سعیدیہ سلفیہ کی جانب سے میں شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ کی جلیل القدر خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں اور سعودی عوام، مرحوم کے اہلِ خانہ اور پوری امت مسلمہ سے دلی تعزیت کرتا ہوں۔ دعا ہے کہ اللہ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے اور ان کے علم و عمل کو صدقہ جاریہ بنائے آمین ثم آمین ! ۔

  • ایلون مسک کے والد پر  بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے سنگین الزامات

    ایلون مسک کے والد پر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے سنگین الزامات

    دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار ہونے والے ایلون مسک کے والد ایرول مسک ایک بار پھر شدید تنقید اور الزامات کی زد میں ہیں۔

    امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق ایرول مسک پر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں.رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ایرول مسک نے مبینہ طور پر اپنے 5 بچوں اور سوتیلے بچوں کے ساتھ زیادتی کی اور یہ سلسلہ 1993ء سے جاری ہے،تحقیقات میں سامنے آئے پولیس و عدالت کے ریکارڈ، سماجی کارکنوں کی رپورٹس، ذاتی خطوط اور فیملی انٹرویوز سے یہ انکشاف ہوا کہ مبینہ زیادتی کے واقعات جنوبی افریقا اور کیلیفورنیا میں پیش آئے۔

    یہ پہلا موقع نہیں کہ ایرول مسک پر اس نوعیت کے الزامات سامنے آئے ہیں، ان کے خلاف کئی دہائیوں سے مختلف اوقات میں ایسے سنگین الزامات عائد ہوتے رہے ہیں.1993ء میں ان کی 4 سالہ سوتیلی بیٹی نے خاندان کو بتایا کہ انہیں گھر میں نامناسب انداز میں چھوا گیا،2023ء میں ان کے پانچ سالہ بیٹے نے بھی الزام لگایا کہ باپ نے اسے غلط انداز میں چھوا، تاہم ان میں سے کسی بھی کیس میں ایرول مسک کو نہ تو گرفتار کیا گیا اور نہ ہی سزا سنائی گئی۔

    ایرول مسک نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سب ےبنیاد ہے۔یاد رہے کہ ایلون مسک پہلے بھی اپنے والد کو ایک خوفناک انسان قرار دے چکے ہیں اور دونوں کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں

  • انجینئر محمد علی مرزا کو سزا دی جائے ،اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارش

    انجینئر محمد علی مرزا کو سزا دی جائے ،اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارش

    اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنےاجلاس میں انجینئر محمد علی مرزا کو سزا سنانے کی سفارش کر دی

    اسلامی نظریاتی کونسل کا اجلاس ہوا، اجلاس کے بعد جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ کونسل نے دیت کے قانون میں پیش کردہ ترمیمی بل سے اتفاق نہیں کیا۔ کونسل کی رائے ہے کہ دیت کی شرعی مقداریں یعنی سونا، چاندی اور اونٹ قانون میں شامل رہیں، جبکہ بل میں چاندی کو حذف اور سونے کی غیر شرعی مقدار کو معیار بنایا گیا ہے۔
    شوگر کے لیے خنزیر کے اجزا پر مشتمل انسولین کا معاملہ زیربحث آیا۔ کونسل نے قرار دیا کہ جب حلال اجزا والی انسولین دستیاب ہے تو خنزیر کے اجزا پر مشتمل انسولین سے پرہیز کیا جائے۔ توہینِ مقدسات کے پس منظر میں یہ طے پایا کہ شہادت کے لیے رکھے گئے وہ نسخے قرآن کریم، جن پر غلاظت کے اجزا لگے ہوں، شہادت ریکارڈ ہونے کے فوراً بعد پاک کیے جائیں اور اس مقصد کے لیے مناسب قانون سازی کی جائے۔ کونسل نے رقم نکالنے یا منتقل کرنے پر لگنے والے ودہولڈنگ ٹیکس کو زیادتی قرار دیتے ہوئے غیر شرعی قرار دیا۔ کونسل نے قرار دیا کہ انسانی دودھ کے ذخیرہ کرنے والے ادارے مخصوص شرائط کے تحت قائم ہو سکتے ہیں، لیکن مفاسد سے بچاؤ کے لیے پہلے لازمی قانون سازی کی جائے اور اس میں کونسل کو شامل کیا جائے۔

    اسلامی نظریاتی کونسل نے 11 ستمبر 2025ء کے سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غیر مدخولہ عورت کو طلاق کی صورت میں عدت اور نفقہ لازم قرار دینا قرآن و سنت کے خلاف ہے، وزارتِ مذہبی امور کے استفسار پر اتفاق ہوا کہ ایک رنگ ٹون تیار کی جائے جس میں شہریوں کو ہدایت دی جائے کہ ماہِ ربیع الاول میں مقدس کلمات و تحریرات والے بینرز، جھنڈوں اور جھنڈیوں کا ادب کریں اور ان کی بے حرمتی سے بچیں۔

    کونسل نے ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے مراسلہ بابت مرزا محمد علی انجینئر پر عائد ایف آئی آر توہین رسالت کا جائزہ لیتے ہوئے فیصلہ کیا۔

    اجلاس کی صدارت چیئرمین، اسلامی نظریاتی کونسل، علامہ ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی نے کی جبکہ معزز اراکین کونسل جناب جسٹس (ر) ظفر اقبال چوہدری، جناب ڈاکٹر عبد الغفور راشد، جناب صاحبزادہ پیر خالد سلطان قادری، جناب محمد جلال الدین، ایڈووکیٹ،، جناب علامہ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی، جناب ملک اللہ بخش کلیار، جناب جسٹس (ر) الطاف ابراہیم حسین قریشی، جناب مولانا پیر شمس الرحمٰن مشہدی، جناب علامہ محمد یوسف اعوان، جناب علامہ سید افتخار حسین نقوی، جناب پروفیسر ڈاکٹر مفتی انتخاب احمد، جناب علامہ رانا محمد شفیق خان پسروری، جناب صاحبزادہ سید سعید الحسن شاہ، جناب صاحبزادہ حافظ محمد امجد، محترمہ فریده رحیم اور جناب بیرسٹر سید عتیق الرحمٰن شاہ بخاری نے اجلاس میں شرکت کی۔

    اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنے ۲۴۳ویں اجلاس مورخہ۲۴ ستمبر،۲۰۲۵ کے ضمنی ایجنڈا آئٹم نمبر ۲ پر بحث کرتے ہوئے، مرزا محمد علی انجینئر کے خلاف درج ایف آئی آر کے حوالے سے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) راولپنڈی کے مراسلے پر غور کیا۔ شرعی اصول و ضوابط کی وضاحت اور تفصیلی غور و فکر کے بعد کونسل نے ابتدائی طور پر درج ذیل فیصلہ کیا۔ اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ قرآن و سنت میں بھی بعض کفریہ الفاظ نقل ہوئے ہیں، مگر یہ بات ادھوری پیش کی جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب ان تمام مقامات کو دیکھا جائے تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں ان الفاظ کو بطور ردّ، انکار اور سخت تنبیہ کے ذکر کیا گیا ہے، نہ کہ کسی تائید کے طور پر۔ شرعی اصول یہ ہے کہ کفر کے الفاظ صرف اس وقت نقل کیے جا سکتے ہیں جب ان کا مقصد کوئی جائز دینی ضرورت ہو، مثلاً شہادت، باطل کی تردید، تعلیم یا تنبیہ وغىرہ۔ بلا ضرورت ایسے کلمات دہرانا ناجائز اور بعض صورتوں میں سخت گناہ ہے۔ خصوصاً جب معاملہ حرمتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہو تو کسی شرعی مقصد کے بغیر توہین آمیز جملے نقل کرنے کی قطعاً اجازت نہیں۔ مرزا محمد علی انجینئر کے کئی بیانات میں ایسے جملے موجود ہیں جو محض نقلِ کفر پر مشتمل ہیں مگر کسی شرعی مقصد کے بغیر کہے گئے ہیں۔ اس بنا پر ان کا یہ طرزِ عمل سخت تعزیری سزا کا مستحق ہے، اور چونکہ یہ عمل انہوں نے بارہا دہرایا ہے، اس لیے ان کا جرم مزید سنگین صورت اختیار کر گیا ہے۔ مرزامحمدعلی انجینئركے ایك كلپ كےٹرانسكرپٹ میں درج ہے’’۔۔۔۔لیكن قرآ ن مجھے اجازت دے رہا ہے كہ میں اس كی عورت كے ساتھ شادی كرسكتا ہوں اگر وہ كسی christanكی بیٹی ہے سورہ مائدہ كی آیت نمبر۵۔كس عورت كےساتھ؟جومیرے نبی كودجال سمجھتی ہے۔۔۔‘‘مرزا انجنىئر كی طرف سےیہ قرآن كریم پر بھی اتہام ہے اور معنوى تحرىف بھى ہے،قرآن كریم كی محولہ بالا آیت میں ایسا كچھ نہیں ہے،حوالہ كے لئے آیت كا ترجمہ یہاں پیش كیاجاتا ہے:
    (آج تمہارے لئے پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئیں، اور ان لوگوں کا ذبیحہ (بھی) جنہیں (اِلہامی) کتاب دی گئی تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا ذبیحہ ان کے لئے حلال ہے، اور (اسی طرح) پاک دامن مسلمان عورتیں اور ان لوگوں میں سے پاک دامن عورتیں جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی (تمہارے لئے حلال ہیں) جب کہ تم انہیں ان کے مَہر ادا کر دو، (مگر شرط) یہ کہ تم (انہیں) قیدِ نکاح میں لانے والے (عفت شعار) بنو نہ کہ (محض ہوس رانی کی خاطر) اِعلانیہ بدکاری کرنے والے اور نہ خفیہ آشنائی کرنے والے، اور جو شخص (اَحکامِ الٰہی پر) ایمان (لانے) سے انکار کرے تو اس کا سارا عمل برباد ہوگیا اور وہ آخرت میں (بھی) نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔)

    محولہ بالا آیت کے حوالے سے اس کے بیان کی خط كشىدہ عبارت اس کے ذاتی الفاظ ہیں جو اس آیت میں کہیں موجود نہیں ہىں، اس لیے مرزا انجینئر کا یہ بیان قرآن کی توہین اور معنوى تحریف کے زمرے میں بھی آتا ہے اور توہین رسالت كو بھى مستلزم ہے ۔ لہٰذا اس پر عائد دفعات میں توہینِ قرآن کی دفعہ بھی شامل کی جائے۔ كونسل نے ملاحظہ كیا كہ نیشنل سائبر کرائم انوسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) كےآفیسرکی طرف سے دفترِ کونسل کو بھیجا گیا مراسلہ جانب داری کا تاثر دیتا ہے، کیونکہ مدعى كى کی طرف سے اپنے موقف كے حق مىں جمع کىا گىا تحریری مواد اور فتاویٰ اس کے ساتھ نہیں لگائے گئے۔ جبكہ صرف مرزا انجنىئر کےحق مىں دیئے گئے فتاوىٰ مہىا کیے گئے ہىں۔ کسی بھی طرح کسی تفتیشی ادارے كو کسی ملزم یا مدعی کا یکطرفہ موقف رائے حاصل كرنے کے لئے پاش نہیں کرنا چاہئے، مرزا انجنىئر كا ىہ بىان فساد فى الارض كو پھىلانے كا باعث ہے۔ اسی لئےپاکستان کی مسیحی برادری کو ایک مراسلہ بھیجا جائے گا کہ وہ تحریری طور پر واضح کریں کہ مرزا محمد علی انجینئر نے شانِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جو الفاظ کہے ہیں، کیا ان كى مقدس كتابوں مىں اور اجتماعى طور پر ان كى ىہ رائے ہے كہ نہىں ؟ ان کے جواب کے بعد ہی تفصیلی فیصلہ مرتب کیا جائے گا۔ اجلاس کے دوران عیسائی برادری کے فادر جے ایم چنن کا وائس میسج سنایا گیا، جس میں انہوں نے اس بات کی سختی سے تردید کی اور کہا کہ ایسا کوئی لفظ ہمارے ہاں موجود نہیں اور اسى طرح پاكستان میں اہم ترین مسیحی قائدین بھی اس بات كو اپنے اوپر تہمت قرار دیتے ہیں

  • گیم کھیلتے ہوئے والدہ،بھائی،دوبہنوں کو قتل کرنیوالے کو 100 برس کی سزا

    گیم کھیلتے ہوئے والدہ،بھائی،دوبہنوں کو قتل کرنیوالے کو 100 برس کی سزا

    سیشن کورٹ لاہور نے آن لائن گیم کھیلتے ہوئے والدہ، بھائی اور 2 بہنوں کے قاتل کو 100 سال قید کی سزا سنا دی۔

    ایڈیشنل سیشن جج ریاض احمد نے قتل کے مقدمے کا فیصلہ سنایا۔ عدالت نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو 40 لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی ہے،جج ریاض احمد نے کہا کہ مجرم علی زین نے والدہ، بہن اور بھائیوں کو قتل کیا، عمر کی وجہ سے مجرم کو 4 بار عمر قید کی سزا دی جا رہی ہے،دوران سماعت پراسیکیوشن نے کہا کہ ملزم نے رات 2 بجے گیم سے متاثر ہو کر گھر والوں پر فائرنگ کر دی تھی،واضح رہے کہ تھانہ کاہنہ پولیس نے 2022 میں قتل کا مقدمہ درج کیا تھا۔

  • صاحبزادہ حامد رضا  تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کے سیکریٹری انفارمیشن کے عہدے سے مستعفی

    صاحبزادہ حامد رضا تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کے سیکریٹری انفارمیشن کے عہدے سے مستعفی

    سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا نے تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کے سیکریٹری انفارمیشن کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

    ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ سنی اتحاد کونسل کے ہنگامی اجلاس کے بعد سامنے آیا۔ اجلاس میں تنظیمی معاملات اور تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان میں پارٹی کے کردار پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس کے اختتام پر صاحبزادہ حامد رضا نے پارٹی قیادت کی ہدایات پر سیکریٹری انفارمیشن کے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا۔صاحبزادہ حامد رضا کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ قدم پارٹی ڈسپلن اور قیادت کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے اٹھایا ہے۔ ان کے مطابق استعفے سے متعلق تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کے ترجمان اخونزادہ حسین کو بھی باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے۔

  • نئی دہلی: طیارے کے لینڈنگ گیئر میں سوار افغان کمسن کو واپس بھیج دیا گیا

    نئی دہلی: طیارے کے لینڈنگ گیئر میں سوار افغان کمسن کو واپس بھیج دیا گیا

    بھارت میں ایک حیران کن واقعہ اس وقت سامنے آیا جب افغان دارالحکومت کابل سے ایک 13 سالہ لڑکا مسافر طیارے کے لینڈنگ گیئر میں سوار ہو کر نئی دہلی پہنچ گیا۔ بھارتی حکام نے اس کمسن کو حراست میں لینے کے بعد افغانستان واپس بھیج دیا ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ گزشتہ روز پیش آیا جب کابل ایئرپورٹ سے اڑان بھرنے والے ایک کمرشل طیارے میں 13 سالہ افغان لڑکا جہاز کے پچھلے پہیوں کے لیے مخصوص خانے (لینڈنگ گیئر کمپارٹمنٹ) میں چھپ کر بیٹھ گیا۔ طیارہ 94 منٹ کی پرواز کے بعد نئی دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترا تو گراؤنڈ اسٹاف نے بچے کو دیکھ لیا۔عینی شاہدین کے مطابق لڑکے کے جسم پر ایک سادہ سا کرتا پاجامہ تھا اور وہ خوفزدہ اور نیم بے ہوش حالت میں نظر آیا۔ طیارے کے عملے اور ایئرپورٹ حکام نے فوری طور پر اس کو طبی امداد فراہم کی اور بعدازاں حکام نے اس سے ابتدائی تفتیش کی۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بچے نے بتایا کہ وہ افغانستان میں عدم تحفظ اور غربت کے باعث ملک چھوڑنے پر مجبور ہوا۔ تاہم بھارتی امیگریشن حکام نے قانونی پیچیدگیوں کے باعث اسے بھارت میں داخلے کی اجازت دینے کے بجائے واپس کابل بھیج دیا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ طیارے کے لینڈنگ گیئر میں سفر کرنا انتہائی خطرناک عمل ہے کیونکہ اس جگہ پر نہ تو مناسب آکسیجن دستیاب ہوتی ہے اور نہ ہی درجہ حرارت قابو میں رہتا ہے، جس کے باعث ایسے واقعات اکثر موت پر منتج ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود کمسن لڑکے کا زندہ بچ جانا غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔

  • سیلاب متاثرہ  کی مدد،بینظیر انکم سپورٹ پروگرام استعمال نہ کرنا غفلت کے مترادف ہوگا، آصفہ بھٹو

    سیلاب متاثرہ کی مدد،بینظیر انکم سپورٹ پروگرام استعمال نہ کرنا غفلت کے مترادف ہوگا، آصفہ بھٹو

    خاتون اول،رکن قومی اسمبلی بی بی آصفہ بھٹو زرداری نےسماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پیغام میں کہا ہے کہ پنجاب میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے 40 لاکھ سے زائد لوگ متاثر ہو چکے ہیں،

    آصفہ بھٹو زرداری کا کہناتھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سیلاب سے متاثرہ افراد کی امداد کی فراہمی کا سب سے تیز اور مؤثر ذریعہ ہے، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ریاست کے پاس ایک ایسا ادارہ ہے جس کے پاس متاثرہ افراد کا ڈیٹا اور اُن تک رسائی کی صلاحیت ہے، سیلاب سے متاثرہ افراد کی مدد کیلئے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو استعمال نہ کرنا غفلت کے مترادف ہوگا،

    یاد رہے کہ گزشتہ روز وزیرِ اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا تھا کہ سیلاب متاثرین کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے مدد فراہم نہیں کی جاسکتی، جو بی آئی ایس پی سے رجسٹرڈ ہی نہیں اُنہیں امداد کیسے دی جائے،لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ سندھ میں بیرونی امداد کے باوجود لوگ مکمل طور پر بحال نہیں ہوئے، سندھ یا کراچی کا کیا حال ہے، کیا اُن سے عقل لینے کی ضرورت ہے جنہوں نے سندھ کو آثار قدیمہ بنادیا،عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب آیا، حکومتِ پنجاب اپنے وسائل سے سیلاب متاثرین کی مدد کر رہی ہے، ہمیں بیرونی امداد کا انتظار نہیں۔