Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بنو ں میں سی ٹی ڈی کا کامیاب آپریشن،3 دہشت گرد ہلاک

    بنو ں میں سی ٹی ڈی کا کامیاب آپریشن،3 دہشت گرد ہلاک

    محکمہ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی) نے بنو ں میں ایک کامیاب آپریشن کے دوران تین دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ سی ٹی ڈی حکام کے مطابق ہلاک دہشت گردوں کا تعلق کالعدم گل بہادر اور ضرار دہشت گرد گروپ سے تھا۔

    سی ٹی ڈی کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ تینوں دہشت گردوں کی شناخت مدثر، تراب اور محمد حسین کے نام سے ہوئی ہے، جو پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے مطلوب تھے۔مزید بتایا گیا ہے کہ آپریشن کے دوران ہلاک دہشت گردوں سے بڑی مقدار میں اسلحہ اور موٹر سائیکل بھی برآمد کی گئی ہے، جو ان کے حملوں اور دیگر دہشت گردانہ سرگرمیوں میں استعمال ہونے والی تھی۔محکمہ انسداد دہشتگردی نے علاقے میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے مزید کارروائیاں جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے اور عوام سے بھی دہشت گردوں کی سرگرمیوں کے حوالے سے معلومات فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔

  • ‘جے ہند‘ کہنے پر مشروط ضمانت، مودی راج میں عدلیہ ہندوتوا ایجنڈے کا ہتھیار

    ‘جے ہند‘ کہنے پر مشروط ضمانت، مودی راج میں عدلیہ ہندوتوا ایجنڈے کا ہتھیار

    مودی راج میں مظلوم مسلمان نظریاتی تعصب اور ریاستی ظلم کا مسلسل نشانہ بن رہے ہیں

    مودی راج کے ہندوتوا ایجنڈے کے تحت مسلمان انصاف کے نہیں بلکہ جبری وفاداری اور فکری غلامی کے تقاضوں کا سامنا کر رہے ہیں،مودی راج میں عدلیہ، میڈیا اور قانون فسطائی سیاست کے ہتھیار بن چکے ہیں، جہاں انصاف، سچ اور آئین پر مکمل قدغن لگ چکی ہے،آسام کی عدالت نے مسلمان شہری کو ضمانت دیتے ہوئے روزانہ تین بار ‘جے ہند’ کا نعرہ لگا کر ویڈیو اپ لوڈ کرنے کی شرط عائد کر دی، بھارتی جریدےدی وائر کے مطابق؛”عارف الرحمان کو ہدایت دی گئی کہ وہ یہ نعرہ ریکارڈ کر کے سوشل میڈیا پر شیئر کرے”یہ شرط قانون کے اس اصول کی خلاف ورزی ہے کہ ضمانت کسی شخص کی بے گناہی یا قصور کا فیصلہ نہیں کرتی، عدالت کا یہ حکم نظریاتی وفاداری کو قانونی جبر کے ذریعے منوانے کی کوشش ہے، ضمانت کا اصل مقصد ملزم کو مقدمے کی سماعت مکمل ہونے تک آزاد رکھنا ہے، نہ کہ اس پر سزا عائد کرنا،’’جے ہند‘‘ کا نعرہ لگانے کی شرط ایسے شخص کو اپنی وفاداری ثابت کرنے پر مجبور کرنا ہے، جسے ابھی تک عدالت نے مجرم قرار نہیں دیا ،یہ عدالتی رویہ انصاف کے بنیادی اصولوں اور ’معقول شک کا فائدہ‘ جیسے تصورات کے منافی ہے،بھارتی عدلیہ میں ایسی شرائط عدالتی غیر جانبداری کو سنگین خطرے سے دو چار کر رہی ہیں،ماضی میں بھی عدالتوں نے پی ایم کیئرز فنڈ میں عطیہ دینے یا ہسپتال میں ٹی وی لگوانے جیسی شرائط لگا کر انصاف کا مذاق بنایا، آسام کی عدالت کا یہ حکم ایک خطرناک مثال قائم کرتا ہے، جو عدلیہ کو مودی سرکار کے سیاسی بیانیے کا آلہ کار بناتی ہے

    ایسے عدالتی فیصلے ضمانت کے مقصد اور آئینی آزادی و انصاف کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں،عدالتی اختیارات کا یہ غلط استعمال اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی سوچ کو تقویت دیتا ہے،مودی راج میں اقلیتیں بالخصوص مسلمان انصاف سے محروم، عدلیہ ہندوتوا وفاداری کا ہتھیار، آئینی آزادی محض دکھاوا بن گئی

  • ایئر انڈیا طیارے کی تباہی کا ذمہ دار کپتان نکلا

    ایئر انڈیا طیارے کی تباہی کا ذمہ دار کپتان نکلا

    بارہ جون کو احمد آباد سے لندن جانے والا ایئر انڈیا کا بوئنگ ڈریم لائنر طیارہ اڑان بھرنے کے چند ہی لمحوں بعد گر کر تباہ ہوگیا تھا۔ اس المناک حادثے میں دو سو اکتالیس مسافر اور عملے کے ارکان جان بحق ہوگئے تھے، جن میں تریپن برطانوی شہری بھی شامل تھے۔ واحد زندہ بچ جانے والا مسافر ایک برٹش انڈین تھا جو طیارے کے الیون اے سیٹ پر موجود تھا۔ طیارے کے گرنے کی وجہ سے نیچے واقع میڈیکل کالج کی عمارت بھی شدید متاثر ہوئی اور مزید انیس افراد کی ہلاکت ہوئی۔

    حادثے کی تحقیقات میں اب تک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکی میڈیا اور حکام کی رپورٹ کے مطابق بلیک باکس کی ریکارڈنگ میں طیارے کے دونوں پائلٹوں کے درمیان ہونے والی گفتگو سے یہ بات عیاں ہوئی ہے کہ کیپٹن سُومیت صبروال نے ان سوئچز کو بند کیا تھا جو دونوں انجنوں کو ایندھن فراہم کرتے ہیں۔ ابتدائی تجزیے میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ فرسٹ آفیسر کلائیو کندر نے طیارے کی پرواز شروع ہوتے ہی کیپٹن سے پوچھا تھا کہ انہوں نے انجن کے ایندھن کے سوئچز کو کٹ آف پوزیشن پر کیوں رکھا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق، فرسٹ آفیسر کندر اس صورتحال پر حیران اور خوفزدہ دکھائی دیے، جبکہ کیپٹن صبروال انتہائی پُرسکون تھے۔ کیپٹن سُومیت صبروال کے فلائنگ تجربے تقریباً پندرہ ہزار چھ سو اڑتیس گھنٹے تھے، جن میں سے آدھے سے زائد وقت انہوں نے بوئنگ طیارے اُڑانے میں گزارا تھا۔ اس کے برعکس، فرسٹ آفیسر کندر کا تجربہ تقریباً تین ہزار چار سو تین گھنٹے تھا۔

    بھارتی سول ایوی ایشن اور ایئر انڈیا کی جانب سے پچھلے ہفتے جاری کی گئی ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ کاک پٹ میں پائلٹوں کے درمیان کنفیوژن کی کیفیت تھی، لیکن اس میں کسی پر واضح الزام عائد نہیں کیا گیا تھا۔ رپورٹ میں یہ بھی شامل تھا کہ ایک پائلٹ نے دوسرے سے پوچھا تھا کہ انہوں نے سوئچز کو کٹ آف پوزیشن پر کیوں رکھا، جس پر دوسرے نے انکار کیا کہ انہوں نے ایسا نہیں کیا۔

    کیپٹن سُومیت صبروال، جو کہ 56 سالہ تجربہ کار پائلٹ تھے، نے 1994 میں ایئر انڈیا میں شمولیت اختیار کی تھی اور وہ لائن ٹریننگ کیپٹن کے عہدے پر فائز تھے۔ یہ وہ ذمہ داری تھی جس میں وہ دیگر جونئیر پائلٹس کی تربیت بھی کرتے تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں شادی نہیں کی اور چند ماہ بعد ریٹائرمنٹ کی امید تھی۔ روانگی سے پہلے انہوں نے اپنے والد کو فون کر کے بتایا تھا کہ لندن پہنچ کر رابطہ کروں گا، لیکن قسمت نے کچھ اور ہی فیصلہ کیا۔

    فرسٹ آفیسر کلائیو کندر کی عمر 32 سال تھی اور وہ بچپن سے پائلٹ بننے کا خواب دیکھتے تھے۔ ان کی شادی دو ماہ بعد ہونے والی تھی۔ ان کے خاندان میں بھی ایئر انڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے؛ ان کی والدہ ایئر ہوسٹس رہ چکی ہیں جبکہ کیپٹن صبروال کے دو بھانجے بھی پائلٹ ہیں۔ ایئر انڈیا کا دعویٰ ہے کہ دونوں پائلٹس کی پرواز سے پہلے نشے اور بیماری کے ٹیسٹ کیے گئے تھے اور دونوں مکمل طور پر فٹ تھے۔

  • میری بہن کینسر میں مبتلا ، برطانیہ کا ویزا جاری کریں،اداکارہ میرا کی اپیل

    میری بہن کینسر میں مبتلا ، برطانیہ کا ویزا جاری کریں،اداکارہ میرا کی اپیل

    پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اور سینئر اداکارہ میرا نے برطانوی حکومت سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اپیل کی ہے کہ اُنہیں برطانیہ کا ویزا جاری کیا جائے تاکہ وہ لندن میں زیرِ علاج اپنی بہن کی عیادت کے لیے جا سکیں۔

    اداکارہ میرا نے اپنے ویڈیو پیغام میں برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ سے براہ راست اپیل کرتے ہوئے کہا کہ’’میری بہن لندن میں کینسر جیسے موذی مرض سے لڑ رہی ہے۔ میری فیملی اور گھر بھی وہیں ہے، میں برسوں سے ویزے کی وجہ سے لندن نہیں جا سکی۔ میری درخواست ہے کہ براہ کرم میریٹ پر غور کرتے ہوئے مجھے ویزا جاری کیا جائے۔‘‘اداکارہ نے بتایا کہ وہ اپنی بہن سے ملنے کے لیے بے چین ہیں اور اُن کی بیماری کی تمام میڈیکل رپورٹس ویزا درخواست کے ساتھ جمع کروائی جا چکی ہیں۔ میرا کا کہنا تھا کہ یہ ایک انسانی معاملہ ہے، جس پر خصوصی توجہ دی جائے۔

    واضح رہے کہ فروری 2025 میں اداکارہ کی والدہ شفقت زہرہ نے میڈیا کو بتایا تھا کہ برطانوی امیگریشن حکام نے ماضی میں میرا کو انگلش زبان سے ناواقفیت کی بنیاد پر برطانیہ میں داخل ہونے سے روک دیا تھا، اور اُن پر 10 سال کی پابندی عائد کر دی گئی تھی، جو اب ختم ہو چکی ہے۔

    اداکارہ کی والدہ کا کہنا تھا ’’میرا کو صرف اس لیے روک دیا گیا کیونکہ وہ انگلش میں مناسب طور پر بات نہیں کر سکیں، لیکن اب وہ بہتر انداز میں بولتی ہیں اور ویزے کی سابقہ پابندی کا دورانیہ مکمل ہو چکا ہے۔‘‘

    اداکارہ میرا کی اس ویڈیو اپیل کے بعد سوشل میڈیا پر اُن کے مداحوں کی جانب سے بھرپور حمایت دیکھنے میں آ رہی ہے، جن کا کہنا ہے کہ انسانی بنیادوں پر میرا کو اپنی بیمار بہن سے ملنے کا موقع ملنا چاہیے۔

  • پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں سینیٹ ٹکٹوں کی تقسیم پر شدید اختلافات، کارکنان سراپا احتجاج

    پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں سینیٹ ٹکٹوں کی تقسیم پر شدید اختلافات، کارکنان سراپا احتجاج

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) خیبرپختونخوا میں سینیٹ انتخابات کے لیے ٹکٹوں کی تقسیم پر پارٹی میں شدید اختلافات سامنے آگئے ہیں۔ پارٹی قیادت کی جانب سے جاری کردہ امیدواروں کی فہرست نے دیرینہ کارکنان اور پارٹی کے وفادار حلقوں میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔

    ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی نے سینیٹ انتخابات کے لیے خیبرپختونخوا سے جنرل نشستوں پر مراد سعید، فیصل جاوید، مرزا خان آفریدی اور مولانا نورالحق قادری کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ٹیکنوکریٹ نشست کے لیے سابق وفاقی وزیر اعظم خان سواتی کو دوبارہ میدان میں اتارا گیا ہے جبکہ خواتین کی مخصوص نشست کے لیے روبینہ ناز کو پارٹی ٹکٹ دیا گیا ہے۔پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ سینیٹ ٹکٹوں کی تقسیم میں پارٹی کے وفادار، نظریاتی اور دیرینہ کارکنوں کو بری طرح نظرانداز کیا گیا ہے اور ان کی جگہ بااثر، امیر اور سیاسی طور پر طاقتور افراد کو ٹکٹ دیے گئے ہیں۔ یہ فیصلہ چیئرمین عمران خان کے اس مستقل مؤقف کے خلاف تصور کیا جا رہا ہے جس میں وہ پارٹی کارکنان کو ترجیح دینے کے دعوے کرتے رہے ہیں۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ پارٹی قیادت نے عرفان سلیم، عائشہ بانو، خرم ذیشان اور دیگر متحرک اور مخلص کارکنان کو ڈراپ کر کے پارٹی کے اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

    اس فیصلے کے خلاف تحریک انصاف کے درجنوں کارکنان اور رہنماؤں نے پشاور پریس کلب کے باہر احتجاجی دھرنا دیا اور مرکزی شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا۔ مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر قیادت کے خلاف نعرے درج تھے۔احتجاج میں شریک ایک کارکن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: "اگر نظریاتی اور وفادار کارکنان کو ہی نظرانداز کرنا ہے تو پھر ہم نے اتنے سال جدوجہد کیوں کی؟ پی ٹی آئی صرف امیروں کی جماعت بن رہی ہے۔”

  • سکردو انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر فل اسکیل ایئرپورٹ ایمرجنسی مشق

    سکردو انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر فل اسکیل ایئرپورٹ ایمرجنسی مشق

    سکردو: سکردو انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر فل اسکیل ایمرجنسی مشق (FSAEE) 2025 کامیابی سے منعقد ہوئی، جس کی نگرانی ایئرپورٹ منیجر نے کی۔ یہ مشق ایمرجنسی کی صورت میں متعلقہ اداروں کی استعداد کار اور باہمی رابطے کو بہتر بنانے کے مقصد سے منعقد کی گئی تھی۔

    مشق کے آغاز سے قبل چیف فائر اینڈ ریسکیو آفیسر نے تمام شرکاء کو بریفنگ دی جس میں ہنگامی حالات میں بر وقت اور مؤثر ردعمل کی حکمت عملی پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کس طرح فوری کارروائی اور مربوط تعاون انسانی جانوں کے تحفظ اور نقصان کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔اس مشق کا معائنہ ایڈیشنل ڈائریکٹر فائر اینڈ ریسکیو نے سرکاری مبصر کے طور پر کیا، جنہوں نے شرکاء کی کارکردگی کو انتہائی مثبت قرار دیا اور اس موقع پر کہا کہ ایسے مشقیں نہ صرف ایمرجنسی سے نمٹنے کی صلاحیت کو بڑھاتی ہیں بلکہ مختلف اداروں کے درمیان رابطے کو بھی مضبوط کرتی ہیں۔

    مشق میں ایئرپورٹ اسٹاف کے علاوہ مسلح افواج، سول ادارے، اور ضلعی انتظامیہ کے اہلکاروں نے بھرپور شرکت کی۔ شرکاء نے فرضی ایمرجنسی کے تحت تیز رفتاری اور مکمل تعاون کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں سر انجام دیں، جس سے یہ واضح ہوا کہ اگر حقیقی ایمرجنسی پیش آئے تو ادارے مؤثر انداز میں حالات پر قابو پاسکیں گے۔مسلح افواج، مقامی انتظامیہ اور دیگر اعلیٰ اداروں کے معزز افسران نے مشق کو بطور مبصر بڑی دلچسپی اور سنجیدگی سے دیکھا اور اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اس طرح کی مشقیں ایئرپورٹ کی سیکیورٹی اور حفاظتی انتظامات کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔

    یہ مشق علاقے میں ہوائی سفر کے دوران مسافروں کی حفاظت اور ایئرپورٹ کی استعداد کو بہتر بنانے کے لیے ایک اہم قدم ہے، جو کہ سکردو انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ایک محفوظ اور قابل اعتماد ہوائی سفر کا مرکز بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔

  • معصوم مسافروں پر فائرنگ اور دستی بم حملہ دہشت گردوں کی بزدلانہ حرکت ہے ،خالد مسعود سندھو

    معصوم مسافروں پر فائرنگ اور دستی بم حملہ دہشت گردوں کی بزدلانہ حرکت ہے ،خالد مسعود سندھو

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے قلات میں مسافر کوچ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ معصوم مسافروں پر فائرنگ اور دستی بم حملہ دہشت گردوں کی بزدلانہ حرکت ہے ،واقعہ کے ذمہ دار وں کو جلد از جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، بلوچستان میں قیام امن کےلئے سب کو ملکر اتحادو یکجہتی سے لائحہ عمل بنانا ہو گا،

    خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ قلات بس حملے میں جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت اورزخمیوں کی صحتیابی کے لئے دعا گو ہیں،پاکستان میں امن و امان کے قیام کے لئے تمام سیاسی مذہبی اور سماجی طبقات کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ دہشت گرد عناصر کو ملک و قوم کے مستقبل کو برباد کرنے کا موقع نہ دیا جائے،معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے والے دہشتگرد کسی رعایت کے مستحق نہیں،دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستانی قوم سیکورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے.

  • قلات کے قریب مسافر کوچ پر حملہ، 3 جاں بحق، 12 زخمی

    قلات کے قریب مسافر کوچ پر حملہ، 3 جاں بحق، 12 زخمی

    قلات کے علاقے نیمرغ کراس کے قریب مسافر کوچ پر مسلح افراد کے فائرنگ اور دستی بم حملے میں تین افراد جاں بحق اور بارہ زخمی ہوگئے۔ واقعہ کراچی سے کوئٹہ آنے والی ایک مقامی ٹرانسپورٹ کمپنی کی کوچ کے دوران پیش آیا۔

    پولیس حکام کے مطابق، مسلح افراد نے پہاڑوں پر چھپ کر کوچ کو روکنے کی کوشش کی، تاہم ڈرائیور نے کوچ روکنے سے انکار کیا جس پر حملہ آوروں نے گاڑی پر گولیاں برسائیں اور دستی بم بھی پھینکے۔ اس حملے میں تین مسافر موقع پر جاں بحق جبکہ بارہ دیگر زخمی ہوگئے۔حادثے کے فوری بعد لاشوں اور زخمیوں کو ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی اور ڈاکٹرز و پیرامیڈیکل اسٹاف کو فوری طور پر طلب کیا گیا۔ اسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے اور انہیں فوری طبی امداد دی جارہی ہے۔

    واقعے کے بعد پولیس اور فرنٹیئر کور نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے تاکہ حملہ آوروں کو گرفتار کیا جا سکے۔

    ہم تو قوال ہیں، ہمیں کس بات کی سزا دی گئی،کوچ حملے میں بچ جانے والے مسافر کی گفتگو
    قلات، ماجد صابری قوال گروپ دہشتگردی کا نشانہ بن گیا،ماجد صابری کی فیملی کے افراد حملے میں شہید ہوئے، ماجد صابری قوال گروپ کے 7 افراد شدید زخمی ہوئے، ماجد صابری گروپ کوئٹہ پروگرام کے لیے روانہ تھا، کل کوئٹہ میں ماجد صابری گروپ نے پرفارم کرنا تھا، ثقافتی امن کے سفیر دہشتگردی کی بھینٹ چڑھ گئے،قلات حملے میں بچ جانے والے مسافر ندیم صابری کا کہنا تھا کہ ہم کراچی سے قوالی کے ایونٹ کے لیے چلے تھے۔ہم تو قوال ہیں، ہمیں کس بات کی سزا دی گئی، ہمارے 3 ساتھی شہید ہو گئے،

    دوسری جانب حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند نے واقعے کی تصدیق کی اور بتایا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے آئی جی پولیس اور ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ سے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ انہوں نے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔

    قلات میں مسافر کوچ پر حملہ ایک بزدلانہ اور قابلِ نفرت دہشتگردی ہے۔وزیراعلیٰ بلوچستان
    وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ قلات میں مسافر کوچ پر حملہ ایک بزدلانہ اور قابلِ نفرت دہشتگردی ہے۔ قیمتی جانوں کا ضیاع ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ فتنہ الہند کی دہشتگرد تنظیمیں پہلے شناخت کی بنیاد پر حملوں کا تاثر دیتی رہیں، اب اندھا دھند شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہیں جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے یہ جنگ ہر عام پاکستانی کے خلاف ہے اور ہم اسے ہر قیمت پر ناکام بنائیں گے

    بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کی بھارتی ایماء پر دہشت گردی؛ معصوم جانوں کا ناحق خون
    قلات میں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں نے کراچی سے کوئٹہ جانے والی مسافر کوچ پر فائرنگ کر دی۔ اس بزدلانہ کارروائی کے نتیجے میں تین معصوم شہری شہید اور دس زخمی ہو گئے۔یہ مسافر پرامن انداز میں بلوچستان کی سرزمین پر اپنے رزق کی تلاش میں سفر کر رہے تھے مگر فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں نے اپنے بیرونی آقاوں کہ ایماء پر انہیں خون آلود کر دیا ،بھارت، جو جنگی میدان میں پاکستان سے شکست کھا چکا ہے، اب بزدلانہ طریقوں سے اپنی پراکسیز کے ذریعے بلوچستان میں نہتے پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ یہ حملے دراصل اس شکست خوردہ ذہنیت کا اظہار ہیں جو دشمن نے معصوم جانوں پر نکالنی شروع کر دی ہے۔بھارت اور اس کی پراکسیز فوج کے مقابلے پر نہیں آ سکتی اس لیے اب دہشت پھیلانے کے لیے انہوں نے سوفٹ اہدف تلاش کرنے شروع کر دیے ہیں یہ پہلی بار نہیں کہ فتنہ الہندوستان نے سافٹ ٹارگٹس کو نشانہ بنایا ہو۔ 11 جولائی کو ژوب میں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں نے بسوں سے اتار کر معصوم مسافروں کو شہید کیا، اور خضدار میں آرمی پبلک اسکول کی بس کو نشانہ بنا کر معصوم بچوں کو شہید کیا گیا۔ جعفر ایکسپریس پر حملہ کر کے بھی یہی بربریت دہرائی گئی۔بھارت کے یہ آلہ کار، جو اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے عام شہریوں کا خون بہا رہے ہیں، دراصل پاکستان بالخصوص بلوچستان میں ترقی کے عمل کو روکنا چاہتے ہیں۔ مگر ان کے یہ مکروہ عزائم کامیاب نہیں ہونے دیے جائیں گے۔سکیورٹی فورسز بلوچستان میں بھرپور قانونی کارروائی کر رہے ہیں۔ سرچ آپریشن جاری ہے اور ان بھارتی ایجنٹوں کو جلد انجام تک پہنچایا جائے گا۔ بلوچستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کی ہر کوشش ناکام بنائی جائے گی۔بلوچستان اور بلوچ عوام جانتے ہیں کہ دشمن کون ہے، اور کس کے اشارے پر ان کے بیٹے، بھائی اور بچے شہید کیے جا رہے ہیں۔ یہ جنگ پاکستان کے امن کے خلاف ہے، مگر ہم پاکستانی متحد ہیں، اور دشمن کے ہر وار کو ناکام بنائیں گے

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے قلات میں مسافر بس پر فائرنگ کی شدید مذمت کی ہے اور افسوسناک واقعے میں تین قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا ہے،وزیراعلیٰ نےسوگوار خاندانوں سے دلی ہمدردی و تعزیت کی اور کہا کہ ریاست متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔

  • آواران ،آپریشن کے دوران میجر سید رب نواز طارق شہید،3 بھارتی سپانسر دہشتگرد ہلاک

    آواران ،آپریشن کے دوران میجر سید رب نواز طارق شہید،3 بھارتی سپانسر دہشتگرد ہلاک

    آواران ضلع میں سکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں کے خلاف ایک ہدفی کارروائی کامیابی سے انجام دی۔ اطلاعات کے مطابق، بھارتی پراکسی دہشتگرد تنظیم "فتنہ الہندستان” کے دہشتگرد اس علاقے میں موجود تھے جن کا ٹھکانہ سکیورٹی فورسز نے محاصرہ کر لیا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائی کے دوران پاک فوج کے جوانوں نے دہشتگردوں کے ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں تین بھارتی حمایت یافتہ دہشتگرد جہنم واصل ہو گئے۔ یہ کارروائی ملک کے اندر بھارتی دہشتگردی کے خطرے کو ختم کرنے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔اس دوران جوانوں کی قیادت کرنے والے بہادر افسر میجر سید رب نواز طارق (عمر: 34 سال، رہائشی ضلع مظفرآباد) نے انتہائی بہادری کا مظاہرہ کیا اور اپنے جوانوں کی رہنمائی کرتے ہوئے دشمن کے خلاف دلیری سے لڑائی لڑی۔ تاہم شدید فائرنگ کے تبادلے میں وہ جام شہادت نوش کر گئے۔

    ترجمان پاک فوج کے مطابق پاک فوج کی جانب سے اس علاقے میں مزید دہشتگردوں کی موجودگی کا خدشہ ہے، جس کے باعث وہاں آپریشن جاری ہے تاکہ کسی بھی دہشتگرد کو بچنے نہ دیا جائے۔ پاکستان کی سکیورٹی فورسز ملک سے بھارتی سپانسر دہشتگردی کا مکمل خاتمہ کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور ایسے شہداء کی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔

  • حکومت آزاد صحافت کو معاشرتی بہتری کا ستون سمجھتی ہے،عطا تارڑ

    حکومت آزاد صحافت کو معاشرتی بہتری کا ستون سمجھتی ہے،عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ سے پی ایف یو جے، آر آئی یو جے اور پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کے نمائندہ وفد کی ملاقات ہوئی ہے

    وفاقی وزیر اطلاعات نے راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (آر آئی یو جے) کے صدر طارق ورک کے ساتھ پیشہ آنے والے واقعہ پر تشویش کا اظہار کیا،وفاقی وزیر عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ صحافیوں کے وقار، آزادی اور پیشہ ورانہ تحفظ کو ہر سطح پر یقینی بنایا جائے گا، معاملے کو حل کرنا میری ذمہ داری ہے،صحافیوں کو ان کے فرائض کی ادائیگی میں ہر ممکن تعاون اور تحفظ فراہم کریں گے۔حکومت آزاد صحافت کو معاشرتی بہتری کا ستون سمجھتی ہے اور اس کے دفاع کے لئے پرعزم ہے، ملاقات میں پرنسپل انفارمیشن آفیسر مبشر حسن اور دیگر بھی موجود تھے۔