Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بھارتی قومی سلامتی کے مشیر کا  من گھڑت بیانیہ،  آپریشن سندور میں ناکامی کی علامت

    بھارتی قومی سلامتی کے مشیر کا من گھڑت بیانیہ، آپریشن سندور میں ناکامی کی علامت

    آپریشن بنیان مرصوص میں شکست کے بعد بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کی ہزیمت چھپانے کی ناکام کوشش سامنے آئی ہے

    اجیت دوول نے حقیقت کو مسخ کرکے بی جے پی کی ہندوتوا ذہنیت کے تحت جھوٹا بیانیہ گھڑا،آپریشن سندور کے بارے میں آئی آئی ٹی مدراس کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے اجیت دوول نے کہا؛”آپ مجھے ایک بھی تصویریا ثبوت دکھائیں جس سے ثابت ہو کہ کسی بھارتی عمارت کو نقصان پہنچا ہو”بھارت 2047 تک دنیا کی سب سے بڑی فوج بن سکتا ہے،

    بھارتی مشیر کا دنیا کی سب سے بڑی فوج بننے کا دعویٰ ، بی جے پی کی خطے کو جنگ میں جھونکنے کی ذہنیت کا عکاس ہے،دوسری جانب بھارتی فوجی قیادت متعدد بار بھارتی طیاروں کے تباہ ہونے اور نقصانات کا اعتراف کر چکی ہے،11 مئی کو ائر مارشل اے کے بھارتی، ڈائریکٹر جنرل ائر آپریشنز نے اعتراف کیا کہ "جنگ میں نقصان ہوتے ہیں”31 مئی کو *جنرل انیل چوہان (چیف آف ڈیفنس اسٹاف)* نے اعتراف کیا کہ ؛”جنگ کے اگلے دو دن تک ہماری پروازوں کی صلاحیت متاثر رہی”انڈین نیوی کیپٹن شیو کمار نے کہا کہ بھارت کے جنگ کے دوران طیارے ضرور ضائع ہوئے، انڈین ڈپٹی آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل راہول سنگھ نے اعتراف کیا کہ پاکستانی افواج کو ہماری ائیر فورس کی نقل و حرکت کی مکمل معلومات تھیں، ونگ کمانڈر ویومیکا سنگھ کا کہنا تھا کہ ادھم پور، پٹھان کوٹ ، آدم پور اور بھج کے فضائی اڈوں پر سامان اور اہلکار متاثر ہوئے،

    اعلیٰ بھارتی فوجی افسران کی جانب سے نقصانات کا اعتراف بھارت کی عسکری ناکامی کا واضح ثبوت ہے،آپریشن بنیان مرصوص میں پاکستانی افواج نے بھارتی فوجی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنا کر دفاعی برتری ثابت کر دی،پاکستان نےثابت کیا کہ پاکستان اپنے دفاع میں بھارت میں کسی بھی جگہ پر جوابی حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے،اجیت دوول کا بیان خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی سوچ اور بھارت کی جنگی جنون کو بے نقاب کرتا ہے،مودی سرکاراپنی بدانتظامی اور نااہلی پر پردہ ڈالنے کے لیے نفرت، تعصب، اسلاموفوبیا اور جنگی جنون کا سہارا لے رہی ہے،بھارتی قیادت سیاسی مفادات کے حصول کے لیے نفرت انگیز بیانیہ اپنا کر خطے کے امن سے کھیل رہی ہے

  • کرکٹ اور فٹبال کے میدانوں کی نیلامی،اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم آ گیا

    کرکٹ اور فٹبال کے میدانوں کی نیلامی،اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم آ گیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی دارالحکومت کے کرکٹ اور فٹبال کے 10، 10 میدانوں کی نیلامی روکنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے یہ فیصلہ سابق چیئرمین میٹروپولیٹن کارپوریشن سردار مہتاب کی درخواست پر سنایا۔

    ، اسلام آباد ہائیکورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ کھیل کے میدان شہریوں کے لیے مخصوص اور عوامی وسائل ہیں، جنہیں تجارتی مقاصد کے لیے بھاری رقم پر نیلام نہیں کیا جا سکتا۔ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اس طرح کے اقدامات عوامی مفادات کے منافی ہیں اور کھیل کے مواقع محدود کرنے کا سبب بنیں گے۔عدالت نے درخواست کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر حکم امتناع جاری کرتے ہوئے سی ڈی اے کو کھیل کے میدانوں کی نیلامی کا عمل روکنے کی ہدایت کی۔ عدالت نے مزید کارروائی کے لیے سی ڈی اے اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کو نوٹس بھی جاری کر کے ان سے جواب طلب کر لیا ہے۔

    واضح رہے کہ سی ڈی اے نے حال ہی میں وفاقی دارالحکومت کے کھیل کے میدانوں کو نیلام کرنے کے لیے اشتہار جاری کیا تھا، جس میں ہر میدان کی نیلامی 50 لاکھ روپے کی مقررہ قیمت پر کی جانی تھی۔ اس اشتہار کے مطابق کل 20 میدانوں کو نیلام کرنے کا اعلان کیا گیا تھا، جس پر شہریوں اور کھیل کے دلدادگان نے شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

    ماہرین اور شہریوں کا کہنا ہے کہ کھیل کے میدان نوجوانوں اور بچوں کے لیے نہایت ضروری ہیں، اور انہیں تجارتی مقاصد کے لیے نیلام کرنا کھیلوں کی ترقی اور عوامی صحت کے مفادات کے منافی ہے۔ اس حوالے سے عدالت کا حکم عوام میں خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے۔

  • حمیرا اصغر مالی مشکلات کا شکار تھیں،موبائل فون تک بھی تحقیقاتی ٹیم کی رسائی

    حمیرا اصغر مالی مشکلات کا شکار تھیں،موبائل فون تک بھی تحقیقاتی ٹیم کی رسائی

    اداکارہ حمیرا اصغر کی موت سے متعلق جاری تحقیقات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ تحقیقاتی ٹیم نے اداکارہ کے فلیٹ سے تین موبائل فونز اور ایک ٹیبلٹ قبضے میں لے کر ان سے حاصل مواد کا تفصیلی جائزہ لیا ہے، جس سے کئی راز کھل کر سامنے آئے ہیں۔

    تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ حمیرا اصغر مالی مشکلات کا شکار تھیں اور ان کی موت بھی اسی بحران کے دوران واقع ہوئی۔ تفتیشی حکام کے مطابق اداکارہ کا آخری فون استعمال 7 اکتوبر 2024 کو شام 5 بجے تک ہوا، اور اسی دن انہوں نے کل 14 افراد سے رابطہ کیا، تاہم اس کے بعد ان کا کسی سے رابطہ منقطع ہو گیا۔تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اداکارہ کی موت 7 اکتوبر 2024 کو ہوئی ہوگی۔ علاوہ ازیں، ان کے فلیٹ سے ان کی ڈائری اور دیگر اہم دستاویزات بھی برآمد ہوئی ہیں جو تحقیقات میں معاون ثابت ہو رہی ہیں۔اداکارہ کے نام پر تین سم کارڈز تھے جو تمام موبائل فونز میں لگی ہوئی تھیں۔ تحقیقاتی ٹیم نے بتایا کہ حمیرا اصغر کے دو فونز پر کوئی پاسورڈ موجود نہیں تھا، جس سے ان کے نجی معاملات تک رسائی آسان ہو گئی ہے۔

    تحقیقات کے دوران حمیرا اصغر کے فلیٹ سے یوٹیلیٹی بلز اور مئی 2024 تک کے کرائے کی رسیدیں بھی برآمد ہوئی ہیں۔ مزید یہ کہ پولیس کو فلیٹ سے کپڑے دھونے کے آثار بھی ملے ہیں، جو کہ ان کی موت سے کچھ عرصہ پہلے کے ہو سکتے ہیں۔لاش جس کمرے سے برآمد ہوئی، اس کے ساتھ والے واش روم کے ٹب میں کپڑے موجود تھے جبکہ اس کمرے کی بالکونی کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ لاش بیڈروم کے ساتھ والے کمرے میں پڑی تھی، اور فلیٹ کا مرکزی دروازہ اندر سے ڈبل لاک تھا۔

    حمیرا اصغر کی موت کا امکان 7 اکتوبر 2024 کو ہے، لاش کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لاش ڈی کمپوز کے آخری مراحل میں تھی، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موت تقریباً 8 سے 10 ماہ پرانی ہے۔ اب میڈیکل اور کیمیکل ایگزامینیشن کے نتائج سے موت کی حتمی وجہ معلوم کی جائے گی۔

    اداکارہ کی لاش 8 جولائی کو اتحاد کمرشل کے ایک فلیٹ سے برآمد ہوئی، جب مالک مکان کرائے کی عدم ادائیگی پر عدالت میں شکایت لے کر عدالتی بیلف کے ذریعے فلیٹ کا دروازہ توڑ کر اندر گیا۔ دروازہ نہ کھولنے پر جب فلیٹ کا معائنہ کیا گیا تو اداکارہ کی لاش ملی، جس نے پورے معاملے کو منظر عام پر لا دیا۔

  • 40 ہزار پاکستانی زائرین عراق، شام اور ایران میں غائب، وزیر مذہبی امور

    40 ہزار پاکستانی زائرین عراق، شام اور ایران میں غائب، وزیر مذہبی امور

    اسلام آباد – وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے میں تقریباً 40 ہزار پاکستانی زائرین جو عراق، شام اور ایران گئے تھے، کہاں غائب ہو گئے یہ معلوم نہیں ہو سکا۔ حکومت پاکستان کے پاس غائب ہونے والے ان زائرین کا کوئی تفصیلی ریکارڈ دستیاب نہیں ہے۔

    وزیر نے بتایا کہ اس مسئلے کو ایران، عراق اور شام کی حکومتوں نے بھی پاکستان کے سامنے اٹھایا تھا، جس کے بعد حکومت نے زائرین کی نگرانی اور تنظیم کے لیے ایک جدید اور کمپیوٹرائزڈ نظام متعارف کرایا ہے۔ اس نئے نظام کے تحت اب زائرین صرف رجسٹرڈ زائرین گروپ آپریٹرز کے ذریعے ہی سفر کر سکیں گے، تاکہ ان کی مکمل معلومات اور سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اب تک 1400 سے زائد کمپنیاں وزارت مذہبی امور کے ساتھ بطور زیارت گروپ آرگنائزر رجسٹر ہونے کے لیے درخواستیں جمع کرا چکی ہیں، جو اس نئے نظام کا حصہ بنیں گی۔

    وفاقی وزیر نے مزید بتایا کہ ایران اور عراق کے مقدس مقامات کی زیارت کے لیے نیا مربوط نظام جلد نافذ کر دیا جائے گا، جس کے بعد پرانا قافلہ سسٹم ختم کر دیا جائے گا۔ انہوں نے خواہش مند کمپنیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ وزارت کے ساتھ فوری طور پر رجسٹریشن کروائیں تاکہ زائرین کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

    سردار محمد یوسف نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے زائرین گروپ آرگنائزرز (ZGO) کے نئے نظام کی منظوری دی ہے، جس کے تحت وزارت نے ایک اشتہار جاری کیا ہے۔ اس اشتہار کے تحت سکیورٹی کلیئرنس حاصل کرنے والی 585 کمپنیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ وزارت کی ویب سائٹ کے ذریعے آن لائن رجسٹریشن کا عمل فوری مکمل کریں اور اپنی دستاویزات 31 جولائی سے قبل وزارت کو ارسال کریں۔مزید برآں، ایک دوسرے اشتہار کے ذریعے نئی درخواستیں بھی طلب کی گئی ہیں، جس کے تحت وزارت کے ساتھ بطور زیارت گروپ آپریٹر کام کرنے کی خواہش مند کمپنیاں 10 اگست تک اپنی درخواستیں جمع کروا سکتی ہیں۔

    ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے بتایا کہ حج و عمرہ کے علاوہ دیگر زیارتوں کے لیے زائرین کی مکمل ذمہ داری وزارت مذہبی امور کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں عراق، شام اور ایران جانے والے زائرین کے لیے کوئی خاص منظم نظام موجود نہیں تھا، اور یہ منظوری سال 2021 میں دی گئی تھی، مگر سابقہ حکومتوں میں اس حوالے سے کوئی خاطر خواہ پیشرفت نہ ہو سکی۔

  • برطانیہ نے پاکستانی ایئر لائنز پر عائد پابندیاں ختم کر دیں

    برطانیہ نے پاکستانی ایئر لائنز پر عائد پابندیاں ختم کر دیں

    برطانیہ نے پاکستانی ائیر لائنز پر عائد طویل عرصے سے جاری پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد پاکستانی ائیر لائنز برطانیہ کے لیے پروازوں کے لیے درخواست دے سکتی ہیں۔ برطانوی ہائی کمیشن نے تصدیق کی ہے کہ پاکستانی ائیر لائنز اب یوکے کی سول ایوی ایشن اتھارٹی سے اجازت لے کر پروازیں چلا سکیں گی۔

    برطانوی ہائی کمیشن کے مطابق یہ پابندیوں کا خاتمہ سیفٹی لسٹ سے پاکستان کو نکالنے اور تکنیکی عمل کی کامیابی کی بنیاد پر ممکن ہوا ہے۔ پاکستان میں برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ نے اس موقع پر کہا کہ وہ جلد ہی پاکستانی ائیر لائن کے ذریعے سفر کرنے کی خواہش مند ہیں اور اس فیصلے سے دونوں ممالک کے درمیان فضائی رابطوں میں بہتری آئے گی، جس سے خاندانوں کے آپس میں ملاپ میں بھی مدد ملے گی۔

    یہ پابندیاں مئی 2020 میں کراچی میں پی آئی اے کے ایک طیارے کے حادثے کے بعد عائد کی گئی تھیں۔ اس حادثے کے بعد اس وقت کے وزیر ہوا بازی نے پارلیمنٹ کو آگاہ کیا تھا کہ پاکستان میں ایک تہائی کمرشل پائلٹس کے پاس جعلی ڈگریاں ہیں، جس کی وجہ سے جون 2020 میں برطانیہ اور یورپی یونین نے پاکستانی پروازوں پر پابندی عائد کر دی تھی۔

    حکومت پاکستان کی مسلسل کوششوں اور اصلاحاتی اقدامات کے نتیجے میں گزشتہ برس نومبر میں یورپی یونین نے پاکستانی ائیر لائنز پر سے پابندیاں ہٹا دی تھیں۔ اب برطانیہ نے بھی اسی طرز پر پاکستانی ائیر لائنز کو برطانیہ کے لیے پروازیں چلانے کی اجازت دے دی ہے، جو پاکستان کی ایوی ایشن انڈسٹری کے لیے ایک بڑا مثبت قدم تصور کیا جا رہا ہے۔

  • زلفی بخاری دھوکے باز آدمی،عمران خان کی بہن روبینہ خان پھٹ پڑیں

    زلفی بخاری دھوکے باز آدمی،عمران خان کی بہن روبینہ خان پھٹ پڑیں

    بانیٔ پی ٹی آئی عمران خان کی بڑی بہن روبینہ خان نے تحریکِ انصاف کے رہنما زلفی بخاری پر ایک بار پھر الزامات کی بھرمار کر دی ہے

    جاری کیے گئے بیان میں روبینہ خان کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے زلفی بخاری کو ایک متفقہ پی ٹی آئی لیڈر کے طور پر لانچ کیا جا رہا ہے، کئی مہینے منظر سے غائب رہنے کے بعد کیا یہ دھوکے باز آدمی اب وژن فراہم کرے گا،زلفی بخاری نے سیاحت اور پارٹی ترجمانی کے دوران کوئی کارکردگی نہیں دکھائی، یہ بین الاقوامی مشیر کے طور پرگِھسے پٹے بیانات دیتا تھا جن میں کوئی ٹھوس بات نہیں ہوتی،زلفی بخاری انسانی حقوق کیس میں ناکام ہوا، فیصلے کے بعد کوئی سفارتی حکمتِ عملی نہ بنائی، ہر شخص کو یہ سوال اٹھانا چاہیے کہ یہ اصل میں کس کے لیے کام کر رہا ہے، یہ بات طے ہے کہ وہ بانیٔ پی ٹی آئی کے لیے کام نہیں کر رہا، میں نے پوچھا کہ برطانیہ میں پاکستان میں انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں پر زیادہ کوریج کیوں نہ حاصل کر سکے؟زلفی نے کہا کہ برطانیہ میں بانیٔ پی ٹی آئی میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، یہ 2023ء کی بات ہے۔

    دوسری جانب زلفی بخاری کے قریبی ذرائع نے روبینہ خان کے الزامات کو بے بنیاد قرار دے کرمسترد کردیا۔

    190ملین پاؤنڈ کیس زلفی بخاری کی جائیداد ریفرنس سے منسلک کرنے کے احکامات

    جیل بھرو تحریک میں گرفتار زلفی بخاری کی رہائی کی درخواست دائر

    190 ملین پاؤنڈ کی منتقلی کا کیس:شہزاد اکبر اور زلفی بخاری آج نیب میں طلب

  • انٹرنیٹ  میں تعطل پر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی و ٹیلی کام کا سخت نوٹس

    انٹرنیٹ میں تعطل پر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی و ٹیلی کام کا سخت نوٹس

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائۓ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کے چیئرمین سید امین الحق نے کہا ہے کہ ملک کے دیگر صوبوں کی طرح بلوچستان کے لوگوں کو بھی ڈیجیٹل دنیا سے منسلک ہونے کیلئے موبائل نیٹ ورک اورانٹرنیٹ کا پورا حق ہے تاہم اس میں سیکیورٹی مسائل آڑے آتے ہیں لیکن وزارت آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کی ذمہ داری ہے کہ وزارت داخلہ، سیکیورٹی اداروں، پی ٹی اے اور عوامی نمائندوں کے ساتھ مل کر تعین کیا جائے کہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کون کون سے اضلاع میں براڈ بینڈ سروسز کی فراہمی ممکن ہے اور کن علاقوں میں تعطل ناگزیرہےاس ضمن میں واضح حکمت عملی مرتب کی جائے انھوں نے یہ بات پیر کو قومی اسمبلی کمیٹی روم میں قائمہ کمیٹی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔

    اجلاس میں کمیٹی ارکان، ذوالفقار علی بھٹی، ڈاکٹر مہیش کمار ملانی، صادق علی میمن، احمد سلیم صدیقی، پولیئن بلوچ، شیر علی ارباب و دیگر شریک تھے جبکہ وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ، پارلیمانی سیکریٹری سبین غوری، اسپیشل سیکریٹری آئی ٹی، چیئرمین پی ٹی اے، سیکریٹری داخلہ، ایڈیشنل سیکریٹری پرائیویٹائزیشن کمیشن، چیف ایگزیکٹیو یو ایس ایف، چیف ایگزیکٹیو اگنائٹ، سی ای او پی ٹی سی ایل، ڈی جی نیشنل سائبر سیکیورٹی ریسپانس ٹیم اور دیگر حکام بھی شریک تھے۔

    چیئرمین کمیٹی سید امین الحق نے وفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر اجلاس طلب کرکے بلوچستان میں کنکٹیویٹی کے حوالے سے رپورٹ پیش کریں، چیئرمین پی ٹی اے نے اجلاس کو بتایا کہ پنجگور میں سیکیورٹی صورتحال کے باعث وزارت داخلہ کی ہدایت پر انٹرنیٹ بند ہے ۔ جواب میں سیکریٹری داخلہ کا کہنا تھا کہ وزارت داخلہ ہدایت نہیں ، سفارش کرتی ہے پنجگور میں سیکیورٹی صورتحال کے حوالے سے صوبائی حکومت کو خط لکھا ہے۔ وفاقی وزیر شزہ فاطمہ نے اس موقع پر کہا کہ سیکیورٹی اداروں کا موقف سننے کے بعد ہی اس معاملہ پر فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔

    سید امین الحق نے کہا کہ ملک بھر میں کنکٹیویٹی مسائل کی وجہ سے کال ڈراپ کی شکایات عام ہیں، ٹیلی کام کمپنیاں پیسہ بنانے کی مشینیں بنی ہوئی ہیں پی ٹی اے سروس کوالٹی کے معیار کو مزید سخت کرے۔ وفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ انٹرنیٹ کی بندش سے بھی وسیع ایجنڈا متاثرہوتا ہے وزیراعظم کیش لیس اکالنومی اور ڈیجیٹل نیشن پر بہت زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ اس موقع پر رکن قائمہ کمیٹی مہیش ملانی نے کہا کہ انٹرنیٹ پورے پاکستان کا مسئلہ ہے ، انٹرنیٹ کا مسئلہ حل کیے بغیر ڈیجیٹلائز یشن ممکن نہیں ہے۔ کراچی میں بھی انٹرنیٹ کی کوریج نہیں ہے چاروں صوبوں میں تیس فیصد سے زائد کوریج نہیں ہے۔ اس موقع پر چیئرمین پی ٹی اے نے اعتراف کیا کہ بلاشبہ پاکستان میں انٹرنیٹ کے مسائل ہیں ، ملک میں فائبر کیبل کے بغیر فورجی اور فائیوجی چلانا ممکن نہیں ہے، ملک بھر میں اس وقت مجموعی طور پر 275 میگا ہرڈز اسپیکٹرم استعمال ہورہا ہے جس کی وجہ سے کنکٹیویٹی کے مسائل ہیں، ہم نے 5 سو میگا ہرڈز اسپیکٹرم نیلامی کیلئے رکھا ہے تاہم ٹیلی نار اور یوفون کے انضمام کے مسئلہ اور اسپیکٹرم کے حوالے سے عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کے سبب سپیکٹرم کی نیلامی میں تاخیر ہورہی ہے۔

    سید امین الحق نے اجلاس میں سیکریٹری قانون کی عدم موجودگی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے کہا کہ اگر آئندہ اجلاس میں وہ شریک نہ ہوئے تو ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ قائمہ کمیٹی نے پی ٹی سی ایل کی جانب سے سوالات کے جواب بروقت جمع نہ کروانے پر بھی اظہار برہمی کیا۔ اجلاس میں کنکٹیویٹی مسائل اور اسپیکٹرم نیلامی میں تاخیر کے ضمن میں یو فون ٹیلی نار انضمام کے معاملے میں واضح فیصلہ نہ ہونے کا معاملہ بھی زیر غور آیا جس پر قائمہ کمیٹی نے آئندہ اجلاس کے ایجنڈے میں یوفون ٹیلی نار انضمام کے معاملے کو بھی شامل کرنے پر اتفاق کیا۔

    اجلاس میں پی ٹی سی ایل کی جانب سے جائیدادوں کی فروخت کے معاملہ پر غورکیا گیا اور اس ضمن میں سی ای او پی ٹی سی ایل حاتم بامعطرف نے وڈیو لنک کے ذریعے شرکت کرتے ہوئے کمیٹی کے سوالات کے جواب دیئے، اجلاس میں حکومت اور پی ٹی سی ایل معاہدے کی تفصیلات پیش کرنے کے معاملے پر پارلیمانی سیکریٹری کی درخواست پر "ان کیمرہ” اجلاس طلب کرنے پر اتفاق کیا گیا

    ایل ڈی آئی کمپنیوں سے اربوں روپے کے وصولی کے معاملے پر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی کی شیر علی ارباب کی قیادت میں چار رکنی ذیلی کمیٹی کی تشکیل کا فیصلہ کیا گیا، ذیلی کمیٹی وزارت آئی ٹی ، ایل ڈی آپریٹرز اور پی ٹی اے کے نمائندوں کا مؤقف لیتے ہوئے اپنمی رپورٹ قائمہ کمیٹی کو پیش کرے گی، اس سے قبل چیئرمین پی ٹی اے حفیظ الرحمان نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ایل ڈی آئی کیس 2004 سے چل رہا ہے 9 آپریٹرز کے ذمہ 70 ارب سے زائد بقایاجات ہیں اور ابھی تک ایل ڈی آئی کے ساتھ ادائیگیوں کے حوالے سے کوئی اتفاق رائے نہیں ہوسکا ، چار بڑی کمپنیاں قسطوں میں بھی واجبات ادا کرنے کو تیار نہیں ، جبکہ پی ٹی اے ایل ڈی آئی آپریٹرز کو قسطوں میں ادائیگی کی سہولت فراہم کرنے کا اختیار نہیں رکھتا ۔
    چیئرمین کمیٹی سید امین الحق نے اس موقع پر کہا کہ بہت ہوچکا حکومت کا اربوں کا نقصان ہورہا ہے معاملے کا منطقی انجام ضروری ہے حل ہونا چاہیے وزارت آئی ٹی اور پی ٹی اے نے ہی ایل ڈی آئی کا معاملہ حل کرنا ہے ،اجلاس میں چیف ایگزیکٹیو یونیورسل سروس فنڈ چوہدری مدثر نوید نے پسماندہ علاقوں میں براڈ بینڈ سروسز کی فراہمی کے حوالے سے مختلف منصوبوں پر قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دی، چیف ایگزیکٹیو اگنائٹ عدیل شیخ نے سائبر سیکیورٹی ہیکاتھون، اور ڈی جی اسکلز پروگرامز کے حوالے سے کیئے گئے اقدامات پر بریفنگ دی، قائمہ کمیٹی اجلاس میں وزارت آئی ٹی کے فنڈز اور بجٹ کے استعمال، اسلام آباد آئی ٹی پارک اور ون پیشنٹ ون آئی ڈی منصوبے پر وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔

  • برطانیہ میں پاکستانی طلبہ اور پروفیشنلز کے لیے ای ویزا سہولت کا آغاز

    برطانیہ میں پاکستانی طلبہ اور پروفیشنلز کے لیے ای ویزا سہولت کا آغاز

    برطانیہ نے پاکستانی طلبہ اور پروفیشنلز کے لیے ای ویزا (Electronic Visa) کی سہولت متعارف کرا دی ہے، جس کا اطلاق 15 جولائی سے ہو گا۔

    برطانوی ہائی کمیشن کے مطابق اب طلبہ اور پروفیشنل ویزا ہولڈرز کو اپنے پاسپورٹ پر اسٹیکرویزا کی ضرورت نہیں ہوگی اور فزیکل ویزے کی جگہ ڈیجیٹل امیگریشن اسٹیٹس یا ای ویزا دیا جائے گا۔برطانوی ہائی کمیشن نے بتایا کہ ای ویزا نظام کے تحت ویزا ہولڈرز کا قیام اور ویزے کی شرائط کا آن لائن ریکارڈ رکھا جائے گا جسے UKVI (یو کے ویزا اینڈ امیگریشن) کے اکاؤنٹ میں لاگ ان کر کے چیک کیا جا سکتا ہے۔ اس نئے نظام کے ذریعے امیگریشن کے عمل کو آسان، محفوظ اور تیز تر بنایا جائے گا،ہائی کمیشن کے مطابق لاکھوں افراد پہلے ہی ای ویزا سسٹم کو کامیابی سے استعمال کر چکے ہیں، اور نئی سہولت کے ذریعے وقت کی بچت ہوگی جبکہ افراد اپنے پاسپورٹ کو خود اپنے پاس رکھ سکیں گے جس سے اضافی سہولت حاصل ہوگی۔

    برطانوی ہائی کمیشن کی ترجمان جین میریٹ نے کہا ہے کہ ای ویزا کا نفاذ امیگریشن اسٹیٹس یا قیام کی شرائط پر کوئی منفی اثر نہیں ڈالے گا۔ اس نظام کو خاص طور پر طلبہ، گلوبل ٹیلنٹ، اسپورٹس پرسنز، اور ہنر مند ورکرز کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ عارضی کام، بزنس موبیلٹی اور یوتھ اسکیم کے ویزوں پر بھی ای ویزا کا اطلاق ہوگا۔ہائی کمیشن کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ای ویزا رکھنے والے افراد اپنا پاسپورٹ UKVI اکاؤنٹ سے منسلک کر سکیں گے تاکہ ویزا کی تصدیق اور اپ ڈیٹس کا عمل مکمل طور پر ڈیجیٹل اور خودکار ہو جائے۔

    یہ نیا نظام برطانیہ میں تعلیم اور پیشہ ورانہ مواقع حاصل کرنے والے پاکستانیوں کے لیے بہت بڑی سہولت ثابت ہوگا، جس سے نہ صرف امیگریشن کے عمل میں آسانی آئے گی بلکہ بین الاقوامی سفر کے دوران بھی مشکلات کم ہوں گی۔

  • ایف بی آر کا تاجروں کے اثاثوں کی چھان بین کا فیصلہ

    ایف بی آر کا تاجروں کے اثاثوں کی چھان بین کا فیصلہ

    لاہور: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) لاہور نے ایک اہم فیصلہ کیا ہے کہ وہ ایسے صنعت کاروں اور تاجروں کے اثاثوں کی جامع چھان بین کرے گا جو اپنی آمدنی کے مطابق ٹیکس ادا نہیں کر رہے۔ یہ فیصلہ ٹیکس کے نظام میں شفافیت اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے لیے کیا گیا ہے تاکہ ٹیکس چوری کو روکا جا سکے۔

    نجی ٹی وی کےذرائع کے مطابق لاہور میں کئی ایسے بڑے صنعت کار اور تاجر موجود ہیں جو اپنی شاندار اور پرتعیش رہائش گاہوں، بشمول عالی شان بنگلوں اور بڑی کوٹھیوں میں رہتے ہوئے بھی حکومت کو کم ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔ ایف بی آر نے کہا ہے کہ ایسے افراد کی ٹیکس ادا کرنے کی صورتحال کا بغور جائزہ لیا جائے گا اور جہاں کہیں بھی تضاد پایا گیا، وہاں سخت کارروائی کی جائے گی۔ذرائع نے مزید بتایا کہ ایف بی آر لاہور پہلے مرحلے میں ان صنعت کاروں اور تاجروں کو نوٹس جاری کرے گا جو آمدنی کے مطابق مناسب ٹیکس نہیں دے رہے۔ اگر نوٹس کا جواب غیر تسلی بخش ہوا یا مکمل تعاون نہ ملا تو قانونی کارروائی شروع کی جائے گی۔

    ایف بی آر کے ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا کہ تاجروں کے شاہانہ رہن سہن کا تفصیلی ڈیٹا پہلے ہی اکٹھا کر لیا گیا ہے، جس میں ان کی جائیدادیں، بنگلوں، گاڑیاں اور دیگر اثاثے شامل ہیں۔ اس ڈیٹا کی مدد سے ان افراد کی آمدنی اور ٹیکس ادائیگی کے درمیان فرق کو کھنگالا جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آمدنی کے مطابق ٹیکس ادا نہ کرنے والے افراد میں مختلف مارکیٹوں کے صدور، چیمبر آف کامرس اور انڈسٹری کے موجودہ اور سابقہ عہدیدار بھی شامل ہیں، جن کے خلاف ایف بی آر سخت کارروائی کرے گا تاکہ ٹیکس نیٹ کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر سے انڈونیشیا کے وزیر دفاع کی اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ ملاقات

    فیلڈ مارشل عاصم منیر سے انڈونیشیا کے وزیر دفاع کی اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ ملاقات

    انڈونیشیا کے وزیردفاع نے ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی کا دورہ کیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کے مطابق وفد میں مختلف سروسز اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کے نمائندے شامل تھے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دورے کے دوران انڈونیشیا کے وزیردفاع اور وفد نے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا، ملاقات کےدوران عسکری تعلقات کو مزید مضبوط بنانےکے امکانات اور علاقائی سلامتی کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں پاکستان اورانڈونیشیا کے درمیان دیرینہ دوستی اور تعاون پر زور دیا گیا،فیلڈ مارشل عاصم منیر نے خطے میں امن واستحکام کےلیے باہمی تعاون کی اہمیت پرروشنی ڈالی، انڈونیشیا کے وزیردفاع نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کے کردار کو سراہا اور پاکستان کے ساتھ دفاعی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔