Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • مسئلہ کشمیرحل ہوئے بغیرخطے میں امن ممکن نہیں، او آئی سی اجلاس

    مسئلہ کشمیرحل ہوئے بغیرخطے میں امن ممکن نہیں، او آئی سی اجلاس

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کےموقع پر او آئی سی کانٹیکٹ گروپ کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں سیاسی اور سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

    ترجمان دفترخارجہ شفقت علی خان کے مطابق اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر او آئی سی رابطہ گروپ برائے جموں و کشمیر کا اجلاس ہوا جس کی صدارت او آئی سی اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل برائے سیاسی امور یوسف ایم نے کی جب کہ اجلاس میں رابطہ گروپ کے رکن ممالک پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، نائیجر اور آذربائیجان شریک ہوئے۔دفتر خارجہ کے ترجمان کا بتانا ہے کہ کشمیری عوام کے حقیقی نمائندوں کا ایک وفد بھی اجلاس میں شامل تھا، اجلاس میں مقبوضہ علاقے میں بگڑتی انسانی حقوق کی صورتحال پرغورکیاگیا،اجلاس میں وزیراعظم کے معاون خصوصی خارجہ امور طارق فاطمی نے بھارت کی غیرقانونی قبضہ مضبوط کرنے ، ظالمانہ قوانین، جبر اور آبادیاتی تبدیلیوں کی کوششوں کی مذمت کی اور کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار استحکام جموں و کشمیر کے تنازعے کےحل سے مشروط ہے،طارق فاطمی نے او آئی سی سے بھارتی جبر کےخاتمے، سیاسی قیدیوں کی رہائی کیلئے دباؤ ڈالنے پر بھی زور دیا۔

    ترجمان دفترخارجہ کے مطابق اجلاس میں اوآئی سی وزرائےخارجہ کی جانب سے کشمیری عوام کےحقِ خودارادیت کی غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے پاکستان اورآزادکشمیرمیں بھارتی حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا،دوران اجلاس اوآئی سی نے حالیہ جنگ بندی کا خیرمقدم کیا اورثالثی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پہلگام حملےکے بعد کے واقعات سے واضح ہےکہ مسئلہ کشمیرحل ہوئے بغیرخطے میں امن ممکن نہیں، بھارتی رہنماؤں کے غیرذمہ دارانہ بیانات علاقائی امن کیلئے خطرہ ہیں، او آئی سی کی جانب سے مقبوضہ کشمیرمیں کریک ڈاؤن، 2800 گرفتاریوں،گھروں کی مسماری ، کشمیری رہنما شبیرشاہ کی بیماری کے باوجودرہائی نہ دینے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ۔

    دوران اجلاس اوآئی سی نے ہزاروں سیاسی کارکنوں اورانسانی حقوق کے محافظوں کی گرفتاریوں سمیت سری نگر جامع مسجد اورعیدگاہ میں مذہبی اجتماعات پرپابندی کی بھی مذمت کی،اوآئی سی نے 5 اگست 2019 کےبھارتی اقدامات اورآبادیاتی تبدیلیوں کو مستردکرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی انتخابات حقِ خودارادیت کا متبادل نہیں ہوسکتے،اس کے علاوہ اوآئی سی نے سیکرٹری جنرل کے خصوصی ایلچی کے دورہ پاکستان اور آزاد کشمیر کا خیرمقدم کیا۔

  • پی آئی اے کو برطانیہ کیلئے مسافر بردار اور کارگو پروازیں چلانے کی اجازت

    پی آئی اے کو برطانیہ کیلئے مسافر بردار اور کارگو پروازیں چلانے کی اجازت

    پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے اعلان کیا ہے کہ اکتوبر سے برطانیہ کے لیے براہِ راست پروازیں بحال کی جائیں گی۔ یہ فیصلہ تقریباً پانچ سال بعد اس وقت ممکن ہوا جب برطانوی حکام نے پاکستانی فضائی کمپنیوں پر عائد پابندی ختم کرتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر حفاظتی اور سیکیورٹی سرٹیفکیشن کی منظوری دے دی۔

    یاد رہے کہ مئی 2020 میں کراچی میں پی آئی اے کا ایئربس اے 320 طیارہ حادثے کا شکار ہوا تھا، جس میں 97 افراد جاں بحق ہوئے۔ اس سانحے کے بعد کی جانے والی حکومتی تحقیقات میں پائلٹ لائسنسز میں بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا، جس کے نتیجے میں برطانیہ اور یورپی یونین دونوں نے پی آئی اے پر فضائی پابندی عائد کردی تھی۔

    پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ خان کے مطابق "پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کو باضابطہ طور پر تھرڈ کنٹری آپریٹر (TCO) کی منظوری مل گئی ہے، جس کے تحت وہ اب برطانیہ کے لیے پروازیں چلا سکے گی۔”ترجمان نے بتایا کہ ابتدائی طور پر مانچسٹر کے لیے سروس شروع ہوگی، جس کے بعد برمنگھم اور لندن کے لیے پروازیں بھی بحال کی جائیں گی۔برطانیہ کے محکمہ ٹرانسپورٹ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پی آئی اے کو "ACC3” سیکیورٹی سرٹیفکیشن حاصل ہو گیا ہے، جو کہ یورپی یونین سے باہر کی ایئرلائنز کے لیے لازم ہے تاکہ وہ برطانیہ کارگو پروازیں چلا سکیں۔ یہ منظوری اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے ہوائی اڈوں سے حاصل کی گئی ہے اور اگست 2030 تک کے لیے مؤثر رہے گی۔

    برطانیہ میں پاکستانی نژاد افراد کی تعداد 16 لاکھ سے زیادہ ہے جبکہ ہزاروں برطانوی شہری پاکستان میں مقیم ہیں۔ اس پس منظر میں پی آئی اے کی پروازوں کی بحالی کو سفری سہولت، تجارتی تعلقات میں بہتری اور آمدنی میں اضافے کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

    پاکستانی حکومت اس وقت آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کے تحت سرکاری اداروں کے نقصانات کم کرنے کے لیے نجکاری کے عمل کو تیز کر رہی ہے۔ پی آئی اے کو گزشتہ ایک دہائی میں ڈھائی ارب ڈالر سے زائد خسارے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے جولائی میں کہا تھا کہ برطانیہ اور یورپ کے روٹس کی بحالی سے پی آئی اے کی مارکیٹ ویلیو بڑھے گی اور نجکاری کے عمل کو بہتر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے گا۔

    سی ای او پی آئی اے کی جانب سے وزیراعظم پاکستان، نائب وزیراعظم، وزیر دفاع، وزارت دفاع اور سول ایوایشن کی سرپرستی اور دیگر منسلک اداروں کے تعاون پر خصوصی شکریہ کیا گیا،ترجمان قومی ائیر لائن نے بتایا ہے کہ سی ای او پی ائی اے نے پی ائی اے کی ٹیم کا بھی شکریہ ادا کیا کہ جنھوں نے 5 سال ثابت قدمی سے متعدد آڈٹس کا سامنہ کیا اور اس میں کامیابی حاصل کی۔

  • سیلاب زدگان کو عزت کے ساتھ میز کرسی پر کھانا دے رہے ہیں، وزیراعلیٰ پنجاب

    سیلاب زدگان کو عزت کے ساتھ میز کرسی پر کھانا دے رہے ہیں، وزیراعلیٰ پنجاب

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سیلاب سے متاثر ہونے والوں کو اپنے لیے اللہ کی طرف سے مہمان قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت سیلاب میں متاثر ہونے والے کسانوں کو 20 ہزار روپے فی ایکڑ کے حساب سے امداد دیگی۔

    ساہیوال میں الیکٹرک بسوں کے افتتاح کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا ساہیوال کے لیے 30 الیکٹرک بسیں لے کر آئی ہوں جس میں لوگ باعزت طریقے سے سفر کریں گے، ساہیوال کے لوگ جو سفر کئی سو روپے میں کیا کرتے تھے اب صرف 20 روپے میں کیا کریں گے،بس سروس خواتین، اسپیشل افراد، بزرگوں اور طلبہ کے لیے فری ہے جبکہ بس میں اسپیشل افراد کے لیے خصوصی ریمپ بھی بنایا گیا ہے، بس میں سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہیں، مانیٹر کریں گے کہ کہیں خواتین کو ہراساں نہ کیا جائے۔

    ان کا کہنا تھا ساہیوال والے نواز شریف سے اور نواز شریف ساہیوال والوں سے پیار کرتے ہیں، ایکسپریس وے بنائی تو نوازشریف نے بنائی، ایٹمی دھماکے کیے تو نوازشریف نے کیے، ملک سے نواز شریف کی خدمات نکال دو تو کھنڈرات کے سوا کچھ نہیں بچے گا،معرکہ حق میں ہم نے تاریخی فتح حاصل کی، معرکہ حق میں کامیابی سے دنیا میں پاکستان کا وقار بلند ہوا، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ اہم سنگ میل ہے، مکہ اور مدینہ ہمارے لیے پاک دھرتی ہیں، پاکستان اب خادمین الحرمین الشریفین میں شامل ہو گیا ہے،پنجاب میں پاکستان کی تاریخ کا بدترین سیلاب آیا، 25 لاکھ افراد کو سیلاب آنے سے پہلے محفوظ مقام پر منتقل کیا، سیلاب میں پھنسے لاکھوں لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا، 2 ملین سے زیادہ جانوروں کو بھی محفوظ مقام پر پہنچایا۔

    انہوں نے کہا کہ جتنے لوگوں کو ریسکیو کیا انہیں اپنا مہمان سمجھتے ہیں، میرے لیے وہ سیلاب زدگان نہیں اللہ تعالی کے مہمان ہیں، سیلاب زدگان کو عزت کے ساتھ میز کرسی پر کھانا دے رہے ہیں، جس کا گھر مکمل تباہ ہوا اسے 10 لاکھ روپے ملیں گے، جس کا مٹی کا گھر گرا اسے 5 لاکھ روپے ملیں گے، جس کی گائے بھینس بہہ گئی ہے اسے 5 لاکھ روپے ملیں گے اور جس کی بھیڑ بکڑی بہہ گئی ہے اسے 50 ہزار روپے ملیں گے، سیلاب سے پہنچنے والے نقصان پر کسانوں کو 20 ہزار روپے فی ایکڑ امداد دیں گے،ا پنجاب کے ہر ضلع میں بے گھر لوگوں کیلئے گھر بنائے جارہے ہیں، وزیراعلیٰ کا کام ہے کہ دکھ کی گھڑی میں عوام کے ساتھ کھڑے ہوں، کوئی ایسا شخص نہیں تھا جو حکومت میں ہو اور چین سے سو رہا ہو، 15 لاکھ گھرانوں کو راشن کارڈ فراہم کیا جا رہا ہے، اپنا گھر اسکیم کے تحت 80 ہزار گھر بن رہے ہیں۔

  • لیبر انسپکٹر کی آسامیاں کیوں خالی،بھرتیاں کیوں نہیں کی جا رہیں،عدالت

    لیبر انسپکٹر کی آسامیاں کیوں خالی،بھرتیاں کیوں نہیں کی جا رہیں،عدالت

    سینئرز کو نظرانداز کر کے ایل ڈی سی کو لیبر افسر کے عہدے تک پروموٹ کرنے کے کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ لوگ نوکریوں کو ترس رہے ہیں اور یہاں پوسٹیں خالی ہیں، آپ تقرریاں ہی نہیں کرتے۔

    سماعت کے دوران درخواست گزار کی جانب سے ریاض حنیف راہی ایڈووکیٹ اور وفاق کی جانب سے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل عثمان گھمن اور اسٹیٹ کونسل ملک عبدالرحمان عدالت میں پیش ہوئے،جسٹس محسن اختر کیانی نے شہری احسان اللّٰہ کی درخواست پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا کہ 8 سینئرز کو سپرسیڈ کر کے ایک شخص کو لیبر انسپکٹر اور پھر لیبر افسر بنایا گیا، لاء افسران کے لیے غلط کام کو ڈیفنڈ کرنا مشکل ہو جاتا ہے،وکیل ریاض حنیف راہی نے کہا کہ چیئرمین سی ڈی اے کے پاس دو عہدے ہیں، وہ چیف کمشنر بھی ہیں۔ جس پر جسٹس کیانی نے کہا کہ اس کورٹ کی ججمنٹس ہیں کہ چیئرمین سی ڈی اے اور چیف کمشنر کا چارج الگ الگ بندے کے پاس ہونا چاہیے۔ لگتا ہےچیف کمشنر صاحب کو چیئرمین سی ڈی اے کی سیٹ زیادہ پسند ہے، ایک دن چیئرمین سی ڈی اے کا کام چھوڑ کر چیف کمشنر کی کرسی پر جاکر بیٹھیں اور دیکھیں کہ کام کیسے چل رہا ہے؟ چیف کمشنر دیکھیں ان کی ناک کے نیچے کیا ہورہا ہے، پوسٹیں کیوں خالی پڑی ہیں، چیف کمشنر نہیں دیکھتے کہ ان کے نیچے کتنی پوسٹیں خالی ہیں؟ اسلام آباد میں لیبر انسپکٹرز کی 4 پوسٹس ابھی بھی خالی ہیں، یہ بھی پٹواریوں کی طرح کا کیس ہے کہ پٹواری تعینات نہیں کرتے، آگے منشی رکھ لیتے ہیں، ہم نے پٹواریوں کے کیس میں ڈی سی کو بلایا ہوا ہے، ‏یہ اتنا زبردست افسر ہے کہ ہائی کورٹ کی رٹ خارج ہونے کے بعد بھی پروموٹ کر دیا گیا، ڈیپارٹمنٹل کمیٹی میں شامل 3 سی ایس پی افسران نے کہا وہ غلط تھے کہ پہلے پروموٹ نہیں کیا، اس افسر کو ترقی دے کر کیڈر تبدیل کیا گیا اور پھر لیبر انسپکٹر لگا دیا، اتنا زبردست افسر تھا تو اس کو سیدھا ڈی سی ہی لگا دیتے، کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ اگر کوئی سندھ میں پروموٹ نہیں ہو سکتا تو اسلام آباد آکر پروموٹ ہو جائے کہ یہاں گنجائش ہے،عدالت کی جانب سے سوال کیا گیا کہ چیف کمشنر تحریری وضاحت جمع کرائیں کہ لیبر انسپکٹر کی آسامیاں کیوں خالی ہیں اور بھرتیاں کیوں نہیں کی جا رہیں؟

  • پی آئی اے کا طیارہ خراب،6 پروازیں منسوخ

    پی آئی اے کا طیارہ خراب،6 پروازیں منسوخ

    ائیر لائنز کے انتظامی مسائل کے باعث 13 پروازیں منسوخ کردی گئیں

    فلائٹ شیڈول کے مطابق قومی ائیرلائن کا ایک طیارہ خراب ہونے سے کراچی کی 6 پروازیں منسوخ ہوئیں، کراچی سے دبئی کی قومی ائیر لائن کی 2 پروازیں منسوخ ہوگئیں جب کہ لاہور سے دبئی اور اسلام آباد ابوظبی کی 2 پروازیں بھی منسوخ کردی گئی ہیں۔،فلائٹ شیڈول کے مطابق قومی ائیر لائن کی پشاور سے دبئی اور ابوظبی کی 3 پروازیں منسوخ کردی گئیں، کراچی کی 4 اور اسلام آباد کی 16 پروازیں ایک سے 12 گھنٹے تک تاخیر کا شکار ہیں جب کہ اسلام آباد کوالالمپور قومی ائیر لائن کی پرواز 12 گھنٹے تاخیر کا شکار ہے،فلائٹ شیڈول کے مطابق پشاور سے شارجہ، دبئی، ریاض اورجدہ کی 4 پروازوں میں ایک سے 8 گھنٹے تاخیر ہے، اسلام آباد سے اسکردو کی 4 پروازوں میں 3 سے 5 گھنٹے تاخیر ہے،کراچی کی 6 اور لاہور کی 14 پروازوں میں ایک سے 6 گھنٹے تاخیر ہے جب کہ جدہ کراچی کی نجی ائیر لائن کی پرواز بھی 10 گھنٹے تاخیر کا شکار ہے۔

  • وزیراعظم کی زیر صدارت  سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے اجلاس

    وزیراعظم کی زیر صدارت سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے اجلاس

    وزیراعظم پاکستان کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں ملک میں سرمایہ کاری کے حجم کو بڑھانے، اقتصادی اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور قابل عمل منصوبوں کی نشاندہی کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔

    اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ حکومت کی پالیسی سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ تجارت کو فروغ دینا ہے تاکہ ملکی معیشت کو مضبوط بنایا جا سکے اور ہماری درآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہو۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ زراعت، آئی ٹی، معدنیات، سیاحت اور قابل تجدید توانائی وہ شعبے ہیں جہاں بیرونی سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں اور ان کو عملی جامہ پہنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں گے۔وزیراعظم نے تمام وزارتوں کو ہدایت کی کہ وہ ٹارگٹ کے مطابق منصوبے مکمل کریں اور زیر تکمیل اسکیموں کو بروقت پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائیں۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک جامع روڈ میپ اور تبدیلی کا ایجنڈا تشکیل دیا جا رہا ہے تاکہ اہداف کے حصول کو منظم انداز میں یقینی بنایا جا سکے۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اقتصادی سرگرمیوں کے اس روڈ میپ میں نجی شعبے کا کردار کلیدی ہوگا اور ان کی شمولیت کو ہر سطح پر یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جاری معاشی اور اقتصادی اصلاحات کی بدولت معیشت کو ایک نئی سمت ملی ہے اور شفافیت کے اس عمل نے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر دیا ہے۔اجلاس میں لندن سے زوم کے ذریعے شرکت کرنے والوں میں وفاقی وزیر ماحولیات مصدق ملک، وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر خزانہ محمد جہانزیب، وفاقی وزیر تجارت جام کمال، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ شامل تھے۔

  • فرحان غنی کو کس سیکشن کے تحت رہا کیا گیا،عدالت

    فرحان غنی کو کس سیکشن کے تحت رہا کیا گیا،عدالت

    انسداد دہشت گردی عدالت نے ٹاؤن چیئرمین چنیسر کے خلاف سرکاری ملازمین پر تشدد کے کیس میں استفسار کیا کہ فرحان غنی کو کس سیکشن کے تحت رہا کیا گیا؟ ریکارڈ عدالت میں پیش کیا جائے۔

    سرکاری ملازم پر تشدد کے کیس میں فرحان غنی سمیت دیگر ملزمان اور وکلا عدالت میں پیش ہوئے جس دوران عدالت نے استفسار کیا کتنے گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے گئے اور کب کیے گئے،تفتیشی افسر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ 24 اگست کو دو گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے گئے، جس پر عدالت نے ریمارکس دیے گواہان کے بیانات کے مطابق سرکاری کام بند کروایا گیا،وکیل صفائی نے درمیان میں بولنے کی کوشش کی جس پر عدالت نے کہا صبر کا دامن تھام کر رکھیں، آپ کو موقع دیا جائے گا،عدالت نے استفسار کیا کیا دوران تفتیش ملزم کو رہا کرنے کا اطلاق دہشت گردی کے کیس میں ہوتا ہے؟ ملزمان کو جس سیکشن کے تحت ضمانت پررہا کیا گیا اور درخواست عدالت میں جمع کروائی گئی، وہ کہاں ہے؟

    فاضل جج نے کہا مدعی کے وکیل وہ قانون عدالت میں پیش کریں، آپ کو چاہیے تھا کہ اگر کام چل رہا تھا تو پہلے نوٹس دیتے،وکیل صفائی نے کہا اگر کوئی روڈ، گلیاں اور فٹ پاتھ کو نقصان پہنچا رہا ہے تو اس کو روکیں گے، ملزم گرفتار تھا تو نوٹس کیسے جاری کرتا، اگر عدالت چاہے تو دہشت گردی کی دفعات منظور کرے یا پھر کارروائی کرے، جس پر عدالت نے ریمارکس دیے آپ جذباتی ہورہے ہیں، آپ نے کس سیکشن کے تحت ریمانڈ دیا، میں بھی کچھ سیکھنا چاہتا ہوں، ہم نے قانون کے مطابق ریمانڈ دیا، یہ رہا قانون،وکیل صفائی نے عدالت میں کہا کہ زیر دفعہ 497 کے تحت اگر درخواست منظور نہیں ہوتی تو دہشت گردی کی دفعات ختم کر دیں، جس پر عدالت کا کہنا تھا آپ مدعی کا 164 کا بیان ریکارڈ کروائیں اور لے آئیں، جس پر وکیل صفائی نے کہا سر کیا یہ کوئی بہت اہم کیس ہے جو اتنی باریکیاں دیکھی جارہی ہیں۔

    سرکاری وکیل نے کہا کہ کیس کی شفاف تحقیقات کی گئی ہیں، سرکاری کام چل رہا تھا لیکن کوئی دہشت گردی نہیں ہوئی ہے، اس کیس میں انسداد دہشت گردی کا خصوصی قانون لاگو نہیں ہو گا، یہ اے ٹی سی کا کیس نہیں بنتا، ہم درخواست دے دیتے ہیں،عدالت نے تفتیشی افسر سے پوچھا اب تک کتنے بیانات ریکارڈ ہوئے؟ جس پر تفتیشی افسر کا کہنا تھا دو گواہان کے بیان لیے گئے پھر مصالحت ہوگئی۔ عدالت نے کہا انسداد دہشت گردی قانون میں مصالحت کی گنجائش ہی نہیں ہے، مدعی کا بیان کس قانون کے تحت ریکارڈ کیا گیا،عدالت نے تفتیشی افسر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا آپ نے قانون پڑھا ہے یا نہیں؟ جس پر تفتیشی افسر کا کہنا تھا میں مدعی مقدمہ کا بیان نہیں دیکھتا، میں شواہد کی بات کررہا ہوں،فاضل جج نے کہا ہم آئندہ سماعت پر مدعی مقدمہ کو طلب کرلیتے ہیں، جس پر مدعی کے وکیل نے کہا کہ ان کے مؤکل کا تعلق حساس ادارے سے ہے، مدعی کے بجائے گواہان کو عدالت میں پیش کردیتے ہیں،عدالت نے مقدمے کی مزید سماعت 30 ستمبر تک ملتوی کرتے ہوئے گواہان کو طلب کرلیا۔

  • مظفرگڑھ میں 10 سالہ خانہ بدوش بچی سے مبینہ اجتماعی زیادتی

    مظفرگڑھ میں 10 سالہ خانہ بدوش بچی سے مبینہ اجتماعی زیادتی

    مظفرگڑھ میں 10 سالہ خانہ بدوش بچی سے مبینہ اجتماعی زیادتی کا واقعہ، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر حنا پرویز بٹ نے نوٹس لے لیا

    حنا پرویز بٹ نے ڈی پی او مظفرگڑھ سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی، پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دو مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا متاثرہ بچی کو نشتر اسپتال منتقل کر دیا گیا، حالت مستحکم بتائی جا رہی ہے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی، مقدمہ درجۂ اولیت پر رکھا گیا ہے۔ حنا پرویز بٹ کا کہنا ہے کہ متاثرہ اور اہل خانہ کو تمام قانونی، طبی اور نفسیاتی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ کم سن بچیوں کے ساتھ جرائم ناقابلِ برداشت ہیں، انصاف میں کوئی رعایت نہیں ہو گی۔ حکومت پنجاب کے عزم "خواتین کے لیے محفوظ پنجاب” کے تحت ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔ ضلعی وومن پروٹیکشن آفیسر کو واقعے کی نگرانی کی خصوصی ہدایات جاری کر دی ہیں ملزمان کو جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

  • اسرائیل دنیا میں امن کیلئے خطرہ بن چکا ہے،گورنر پنجاب

    اسرائیل دنیا میں امن کیلئے خطرہ بن چکا ہے،گورنر پنجاب

    گورنرپنجاب سردار سلیم حیدر خان این ڈی ایم اے کی جانب غزہ اور فلسطین کے مسلمانوں کے لئے امدادی جہاز روانہ کرنے لاہور ائیر پورٹ پہنچ گئے۔

    گورنرپنجاب سردار سلیم حیدر خان کا کہنا تھا کہ 23کھیپ روانہ کی ہیں مجموعی طور پر 2ہزار 2227ٹن امدادی سامان روانہ کیا جاچکاہے ،غزا کو بروقت سامان کی فراہمی پر این ڈی ایم اے نے بھرپور کرداد ادا کیا ہے،امدادی سامان میں کپڑے، ادویات،خشک راشن اور کھانے پینے کی اشیاء تھیں ،غزہ اور فلسطین کے مظلوم مسلمان ہمارے بھائی ہیں۔اسرائیل دنیا میں امن کیلئے خطرہ بن چکا ہے،فلسطین کے معصوم بچوں اور بے گناہ انسانیت کو روزانہ کی بنیاد پر شہید کیا جا رہا ہے،اقوام متحدہ اسرائیلی دہشت گردی کا سختی سے نوٹس لے۔تمام اسلامی ممالک کو مل کر فلسطین کا ساتھ دینا ہوگا۔اسرائیل غزہ اور فلسطین کے شہری علاقوں میں بمباری کر کے انسانی اصولوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

  • کراچی میں فائرنگ سے اینکر امتیاز میر زخمی،صوبائی وزیر داخلہ کا نوٹس

    کراچی میں فائرنگ سے اینکر امتیاز میر زخمی،صوبائی وزیر داخلہ کا نوٹس

    کراچی میں فائرنگ کے نتیجے میں نجی ٹی وی کے اینکر امتیاز میر زخمی ہوگئے ہیں

    پولیس کے مطابق ملیر کالا بورڈ کے قریب کار پر فائرنگ سے نجی ٹی وی کے اینکر امتیاز میر زخمی ہوگئے، امتیاز میر اپنے بھائی کے ساتھ جا رہے تھے کہ اسی دوران موٹر سائیکل سوار ملزمان نے فائرنگ کر دی،پولیس کا بتانا ہے کہ فائرنگ سے امتیاز میر کے سینے اور چہرے پر گولی لگی جس کے بعد زخمی اینکر کو فوری طور پر قریبی نجی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    وزیر داخلہ سندھ ضیاءالحسن لنجار نےکالا بورڈ میں میٹرو ٹی وی کے اینکر پرسن امتیاز میر پر فائرنگ کا نوٹس لے لیا،اینکر پرسن فائرنگ کے نتیجے میں زخمی، ضیاءالحسن لنجار نےمذمت کی ہے،وزیر داخلہ ضیاءالحسن لنجار نے ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دیتے ہوئے ڈی آئی جی ایسٹ سے رپورٹ طلب کر لی،وزیر داخلہ کی ہدایت پر پولیس کو واقعہ کے محرکات سامنے لانے کی ہدایت کی گئی،وزیر داخلہ سندھ ضیاءالحسن لنجار کا کہنا ہے کہ صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے واقعے کے بعد ملزمان فرار ہوگئے، جائے وقوعہ سے گولیوں کے 2 خول اور ایک گاڑی برآمد ہوئی ہے،پولیس حکام کے مطابق واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات کی جا رہی ہیں جبکہ جائے وقوعہ اور اطراف کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کی جا رہی ہیں۔