Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • سیلاب،خدمت خلق،مسلم ویمن لیگ،مسلم سٹوڈنٹس لیگ متحرک، 21 خیمہ بستیاں قائم

    سیلاب،خدمت خلق،مسلم ویمن لیگ،مسلم سٹوڈنٹس لیگ متحرک، 21 خیمہ بستیاں قائم

    پاکستان کے سیلاب متاثرہ خاندانوں کی بحالی اور امداد کے لیے پاکستان مرکزی مسلم لیگ اور اس کے ذیلی شعبہ جات، شعبہ خدمتِ خلق، مسلم ویمن لیگ اور مسلم سٹوڈنٹس لیگ بھرپور اور منظم انداز میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف عمل ہے۔مرکزی مسلم لیگ لاہور نے علی پور میں جنوبی پنجاب کی سب سے بڑی خیمہ بستی قائم کر دی ،جنوبی پنجاب میں 21 خیمہ بستیوں میں 18 ہزار سے زائد متاثرین مقیم ہیں،گلگت میں مسلم ویمن لیگ کی جانب سے متاثرہ خاندانوں میں امدادی سامان تقسیم کیا گیا،جلال پور پیر والا کی خیمہ بستی میں ایک اور مددگار سکول کا افتتاح کر دیا گیا،مرکزی سیکرٹری جنرل سیف اللہ قصوری،نائب صدر حافظ طلحہ سعید اور چیئرمین خدمت خلق شفیق الرحمان وڑائچ نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو کی ہدایت پر سیلاب متاثرہ اضلاع میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں،مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار متاثرہ اضلاع میں ریسکیو و ریلیف آپریشن میں متحرک ہیں، جلال پورپیر والا، علی پور و دیگر علاقوں میں کشتیوں کےذریعے متاثرین، سامان کو ریسکیو کیا جارہا ہے،کھانا بھی پہنچایا جا رہا جبکہ کشتیوں‌پر میڈیکل کیمپ بھی قائم کر دیئے گئے جو دور دراز علاقوں میں جا کر متاثرین کا علاج معالجہ کر رہے ہیں.جنوبی پنجاب میں 21 خیمہ بستیوں میں 2421 خیمے جبکہ 18 ہزار سے زائد افراد مقیم ہیں،جلال پور پیر والا میں چار خیمہ بستیاں ہیں جن میں بالترتیب 100،دو میں 150 اور ایک میں 2سو خیمے لگائے گئے ہیں،سیت پور کی خیمہ بستی میں 100 خیمے،علی پور میں‌350 خیمے،رنگ پور میں‌100 خیمے،ظاہر پیر میں 70 خیمے،اوچ شریف میں‌200 خیمے،سمہ سٹہ میں 70 خیمے،چوک اعظم میں‌ 50 خیمے لگائے گئے ہیں. مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے ساہلاں چوک میں‌150 خیمے،ساہوکا میں‌30 خیمے،بھوکا پتن میں‌30 خیمے،مخدوم پور میں‌50 خٰیمے،سرائے سندھو میں 100 خیمے لگائے گئے ہیں،خیمہ بستیوں میں‌متاثرین کو کھانا،میڈیکل سمیت تمام سہولیات دستیاب ہیں، مرکزی مسلم لیگ لاہور نے علی پور میں جنوبی پنجاب کی سب سے بڑی خیمہ بستی قائم کر دی ہے، 531 خیموں پر مشتمل چار خیمہ بستیاں قائم کی گئی ہیں جن میں اس وقت 4200 متاثرہ افراد قیام پذیر ہیں۔ان خیمہ بستیوں میں متاثرہ خاندانوں کو تین وقت کا کھانا، بچوں کے لیے دودھ، ادویات، ملبوسات اور زندگی کی دیگر بنیادی ضروریات فراہم کی جارہی ہیں ،علی پور میں قائم مرکزی ریلیف کیمپ کا دورہ کرتے ہوئے مرکزی مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل سیف اللہ قصوری نے جاری امدادی سرگرمیوں کو سراہا ، شعبہ خدمت خلق اسلام آباد کے زیرِ اہتمام علی پور میں میڈیکل کیمپ بھی لگایا گیا، جہاں ڈاکٹر شکیل اور ان کی ٹیم نے 250 مریضوں کا مفت معائنہ کیا اور ادویات فراہم کیں، علی پور کی بستی بھیڈ ملاں میں 40 راشن پیک بھی تقسیم کیے گئے۔مرکزی مسلم لیگ کے نائب صدر حافظ طلحہ سعید نے بہاولپور میں خیمہ بستی کا دورہ کیا،اور متاثرین سیلاب میں راشن اور کپڑے تقسیم کیے،چیئرمین خدمت خلق شفیق الرحمان وڑائچ نے جلال پور پیر والا کا دورہ کیا جہاں سیلاب متاثرین کے لیے قائم خیمہ بستی میں خشک راشن، چارپائیاں، واٹر کولر، بستر، برتن، کپڑے اور جوتے تقسیم کیے گئے۔اسی خیمہ بستی میں مسلم سٹوڈنٹس لیگ فیصل آباد کے زیرِ اہتمام مددگار سکول کا افتتاح کیا گیا۔ تقریب میں حمید الحسن، محمد احسن تارڑ اور ظفر اقبال چیمہ نے شرکت کی۔ بچوں میں اسکول بیگز، اسٹیشنری، قرآنی کتب، اور گفٹ پیک تقسیم کیے گئے۔بلتستان کے ضلع گنگ چھے میں مسلم ویمن لیگ کی سیکرٹری جنرل عفت سعید خود امدادی سامان لے کر پہنچیں،انہوں نے سیلاب متاثرہ خاندانوں سےملاقات کی اور خشک راشن، برتن، بستر و دیگر گھریلو سامان تقسیم کیا،مسلم ویمن لیگ فیصل آباد کی خواتین کارکنان بھی سیلاب متاثرین کی خدمت میں مصروف ہیں،گوجرانوالہ میں مرکزی مسلم لیگ کی ٹیم نے دریائے ستلج کے کنارے واقع سیلاب زدہ بستیوں میں پہنچ کر پکا پکایا کھانا فراہم کیا۔ضلع گجرات میں محمد سجاد ڈار کی قیادت میں 800 خاندانوں میں راشن پیک تقسیم کیے گئے۔گوجرہ ضلع ٹوبہ میں متاثرین کو مچھر دانیاں اور مویشیوں کے لیے چارہ مہیا کیا گیا۔مرکزی مسلم لیگ راولپنڈی کی جانب سے بہاولپور کی خیمہ بستیوں میں تین وقت کا کھانا مسلسل فراہم کیا جا رہا ہے۔وائٹل گروپ آف کمپنیز کے حاجی سعید نے بہاولنگر کے امدادی کیمپ کا دورہ کیا اور بچوں میں تحائف، جبکہ متاثرین میں ناشتہ تقسیم کیا۔ عارف والا پاک پتن میں 60 خاندانوں کو خشک راشن جبکہ چک منور میں 50 متاثرہ خاندانوں کو راشن فراہم کیا گیا،

    چیئرمین خدمت خلق شفیق الرحمان وڑائچ کا کہنا تھا کہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ ہر مشکل گھڑی میں قوم کے ساتھ کھڑی ہے، متاثرین کی مکمل بحالی تک ریلیف سرگرمیاں جاری رکھی جائیں گی۔

  • دل کی بیماریوں کی بروقت تشخیص،علاج کیلیے مصنوعی ذہانت کے استعمال پر تحقیق شروع

    دل کی بیماریوں کی بروقت تشخیص،علاج کیلیے مصنوعی ذہانت کے استعمال پر تحقیق شروع

    پاکستان میں دل کی بڑھتی ہوئی بیماریوں، خاص طور پر نوجوانوں میں ہارٹ اٹیک کے بڑھتے ہوئے واقعات کو روکنے کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال پر تحقیق شروع کر دی گئی ہے۔

    لاہور میں پاکستان ہائپرٹینشن لیگ کانفرنس میں شریک سینئر کارڈیالوجسٹس کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت سے بیماریوں کی بروقت تشخیص اور علاج میں انقلاب آ رہا ہے اور پاکستان بھی اس سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے، خاص طور پر دل کی بیماریوں کی ابتدائی شناخت اور مؤثر علاج میں۔

    اتوار کو لاہور میں کانفرنس کے دوران نوجوان ڈاکٹروں اور ریسرچرز کو ان کے تحقیقی پروپوزلز پر لاکھوں روپے کے ریسرچ گرانٹس دی گئیں۔ یہ گرانٹس فارمیوو ریسرچ فورم کی جانب سے فراہم کی گئیں تاکہ دل کی بیماریوں کی بروقت تشخیص، علاج اور بچاؤ کے لیے تحقیق کو فروغ دیا جا سکے۔“شارک ٹینک کارڈیالوجی” ایونٹ میں ملک بھر سے دس تحقیقی مطالعات پیش کیے گئے جن کا جائزہ سینئر ماہرین امراض قلب پروفیسر فواد فاروق (این آئی سی وی ڈی کراچی)، پروفیسر نصیر سامور (آرمڈ فورسز انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی، راولپنڈی) اور پروفیسر فاران طیاب (کلثوم انٹرنیشنل ہسپتال، اسلام آباد) نے لیا۔ انہوں نے تین بہترین تحقیقی منصوبوں کا انتخاب کیا۔

    پہلا انعام ڈاکٹر عامر شہباز (شیخ زید ہسپتال لاہور) نے حاصل کیا جنہوں نے ہارٹ اٹیک کے مریضوں میں اسٹنٹ کے بعد دی جانے والی دو دواؤں ٹکاگریلر اور ہائی ڈوز کلوپیڈوگریل کا تقابلی مطالعہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں ایسے مطالعات میں مصنوعی ذہانت کے استعمال سے مریضوں کے بڑے ڈیٹا کا تجزیہ تیز اور زیادہ درست انداز میں ممکن ہوگا، جس سے مؤثر اور کم خرچ علاج کے انتخاب میں مدد ملے گی۔

    دوسرا انعام ڈاکٹر دیپا آہوجہ (سندھ انسٹیٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیز، لاڑکانہ) نے جیتا جنہوں نے ریڈیل آرٹری تک رسائی کے لیے الٹراساؤنڈ گائیڈڈ کینولیشن اور روایتی طریقہ کار کا موازنہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس عمل کو مصنوعی ذہانت کے ساتھ مربوط کر کے ریئل ٹائم گائیڈنس فراہم کی جا سکتی ہے، جس سے پیچیدگیوں میں کمی اور مریضوں کے لیے زیادہ محفوظ اور کم تکلیف دہ علاج ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

    تیسری پوزیشن ڈاکٹر آمنہ جاوید ملک (فیصل مسعود ٹیچنگ ہسپتال، سرگودھا) کو ملی جنہوں نے ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں میں ایکو کارڈیوگرافی کے ذریعے دل کی پوشیدہ خرابیوں کی نشاندہی کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا۔ ان کی تحقیق سے ظاہر ہوا کہ جدید امیجنگ کے خودکار تجزیے سے ایسے نقصانات بھی سامنے لائے جا سکتے ہیں جو عام ٹیسٹوں میں نظر نہیں آتے، یوں بروقت علاج ممکن ہو پاتا ہے۔

    ججز نے نوجوان تحقیق کاروں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ خوش آئند بات ہے کہ نئی نسل کے کارڈیالوجسٹ روایتی پریکٹس سے آگے بڑھ کر تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دے رہے ہیں۔ پروفیسر فواد فاروق نے کہا کہ نوجوان ڈاکٹروں کی یہ کاوش درست سمت میں ایک اہم قدم ہے۔

    فارمیوو ریسرچ فورم کے ڈائریکٹر ڈیجیٹل ہیلتھ اینڈ اے آئی ڈاکٹر مسعود جاوید نے کہا کہ کمپنی کا مقصد صرف ادویات فروخت کرنا نہیں بلکہ پاکستان میں تحقیق کا کلچر پروان چڑھانا اور ایک صحت مند معاشرہ تشکیل دینا ہے۔ ان کے مطابق کمپنی اس سے قبل ڈاکٹروں اور طلبہ کے لیے کتب شائع کرنے، مشاعرے اور کتب میلوں کے انعقاد اور تحقیقی گرانٹس دینے جیسے اقدامات بھی کر چکی ہے۔

    ماہرین کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دل کی بیماریوں کی شرح خطرناک حد تک بڑھ رہی ہے اور اب نوجوان بھی تیس اور چالیس سال کی عمر میں ہارٹ اٹیک کا شکار ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت پر مبنی حل اور مقامی تحقیق علاج اور بچاؤ کو نہ صرف زیادہ مؤثر بلکہ سستا اور قابل رسائی بھی بنا سکتے ہیں

  • نبی اکرم ﷺ ساری انسانیت کے لیے مجسم رحمت ہیں،عبدالقدیر اعوان

    نبی اکرم ﷺ ساری انسانیت کے لیے مجسم رحمت ہیں،عبدالقدیر اعوان

    نبی کریم ﷺ کو مجسم رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے۔اظہار محبت اور اظہار عقیدت ماہ ربیع الاول کی مناسبت سے ضرور ہونی چاہیے لیکن ان حدود و قیود کا خیال رکھا جائے جن کا حکم بعثت رحمت عالم ﷺ کے ساتھ تمام مومنین پر ضروری ہے ان کا پابند ہونا ہوگا۔اپنی ذات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک ایک لفظ پر عمل کرنا ہوگا۔

    امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے بعثت رحمت عالم ﷺ کانفرنس لاہور کینٹ میں خواتین و حضرات کی بڑی تعداد سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہماہ ربیع الاول کو ایام کے ساتھ مقید نہ کیا جائے۔ ہر مومن پر لازم ہے کہ وہ اپنی خواہشاتِ نفسانی کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے شریعت کے بتائے ہوئے راستے پر چلے اور اپنے ہر قول و فعل کو شمعِ نبوت کی روشنی میں پرکھے۔ یہ محبت صرف چند رسمی تقریبات یا مخصوص ایام تک محدود نہیں، بلکہ اس کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی کے ہر سانس اور ہر لمحے کو آپ ﷺ کی سیرتِ طیبہ اور احکامات کے تابع بنا دیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حقیقی عید میلاد النبی وہی ہے جب ہماری پوری زندگی رسول اللہ ﷺ کے اسوہ حسنہ کی عملی تصویر بن جائے۔ اسی میں ہمارے ایمان کی تکمیل، ہماری محبت کی صداقت اور ہماری نجات کا راز پوشیدہ ہے۔

    انہوں نے ملک میں موجود مختلف طبقات، بشمول علماء، تاجر برادری اور عدالتی نظام سے وابستہ افراد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ تمام ادارے ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان سیاسی اختلافات ہو سکتے ہیں، لیکن اگر یہ اختلاف ملک کو نقصان پہنچانے کی حد تک پہنچ جائیں تو ایسی صورت میں بحیثیت مسلمان ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم ملک کے تحفظ کو ترجیح دیں۔ انہوں نے کہا، ”جس طرح ہم اپنے گھر کا ٹوٹا ہوا برتن بھی باہر نہیں پھینکنا چاہتے، اسی طرح ہمیں اپنے ملک کے معاملات میں بھی احتیاط سے کام لینا چاہیے۔” انہوں نے حدیث مبارکہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا ایمان کا حصہ ہے۔انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ ہمیں سیرتِ نبوی ﷺ کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور اس کی روشنی میں اپنی زندگیوں کو ڈھالنے کی توفیق عطا فرمائے۔اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور سیلاب زدگان کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی۔

    یاد رہے کہ اس بابرکت پروگرام میں جہاں ہرطبقہ فکر کے لوگوں نے شرکت کی وہاں سیاسی و سماجی شخصیات کی بڑی تعداد بھی موجود تھی جن میں شیخ روحیل اصغر سابق مشیر وزیر اعظم،فیڈرل منسٹر رانا مبشر،تنویر اسلم سیتھی،بلال یاسین ایم پی اے،مولانا سرفراز اعوان،مولانا اسید الرحمان،سعد نذیر چئیر مین بلیو ورلڈ سٹی بھی شامل تھے

  • جہاد کے شوقین فوج میں شامل ہوجائیں، حافظ طاہر محمود اشرفی

    جہاد کے شوقین فوج میں شامل ہوجائیں، حافظ طاہر محمود اشرفی

    پاکستان علما کونسل کے چیئرمین حافظ طاہرمحمود اشرفی نے کہا ہے کہ كسی گروہ، فرد يا جتھے کو جہاد کا اعلان کرنے کا حق نہیں ہے جس کو جہاد کا شوق ہے وہ فوج کو جوائن کرے۔

    لاہور میں تقریب سے خطاب میں طاہر محمود اشرفی کا کہنا تھاکہ ہمیں مذہبی رواداری کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے رویے تبدیل کرنے ہوں گے، اسلام میں غیرمسلم کی جان ومال کے تحفظ کوبھی اہمیت دی گئی ہے، اللہ کریم نے پاکستان کو اپنے سے کئی گنا بڑی قوت بھارت پرفوقیت دی، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ اہمیت کاحامل ہے اور حرمین شریفین کی حفاظت ہمارے لیے بہت بڑا اعزاز ہے، آج جہاد کا مطلب ہی عجیب و غریب بنا دیا گیا ہے،کسی گروہ، فرد یاجتھے کو جہاد کا اعلان کرنے کا حق نہیں ہے جس کو جہاد کا شوق ہے وہ فوج کو جوائن کرے، پاکستان میں اقلیتوں کو کوئی ہراساں نہیں کرسکتا، کسی کوقانون ہاتھ میں لینےکی اجازت نہیں دی جا سکتی، پاکستان میں اقلیتوں کا بھی اتنا ہی حق ہےجتنا مسلمانوں کا، ہم نے پیغام پاکستان کو اس کی عملی صورت میں لاناہے۔

  • یورپی ایئرپورٹس پر سائبر حملہ، ماہرین نے روس پر شبہ ظاہر کردیا

    یورپی ایئرپورٹس پر سائبر حملہ، ماہرین نے روس پر شبہ ظاہر کردیا

    یورپ کے بڑے ایئرپورٹس پر سائبر حملے کے بعد پروازوں کا نظام مفلوج ہوگیا جس کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے پیچھے روسی ہیکرز ہوسکتے ہیں۔ حملے کا وقت نیٹو کی فضائی حدود میں روسی طیاروں کی مبینہ دراندازی کے چند گھنٹوں بعد کا ہے جسے ماہرین ’’مشکوک‘‘ قرار دے رہے ہیں۔

    برطانوی میڈیا کے مطابق جمعہ کی رات ہیکرز نے کولنز ایرو اسپیس کے چیک اِن اور بورڈنگ سسٹم کو نشانہ بنایا۔ یہ سسٹم کئی بڑے یورپی ایئرپورٹس پر استعمال ہوتا ہے۔ حملے کے بعد ہیتھرو (لندن)، برلن اور برسلز سمیت کئی ہوائی اڈوں پر آن لائن چیک اِن سروس بند ہوگئی، جس سے پروازوں میں تاخیر اور متعدد فلائٹس منسوخ ہوگئیں۔کولنز ایرو اسپیس، جو دنیا کی سب سے بڑی دفاعی و ایوی ایشن کمپنی RTX کی ذیلی کمپنی ہے، نے تصدیق کی کہ ایک ’’ٹیکنیکل مسئلہ‘‘ درپیش ہے جس سے روانگی کے عمل میں تاخیر ہورہی ہے۔سائبر سیکیورٹی فرم NymVPN کے چیف ڈیجیٹل آفیسر روب جارڈن نے کہا کہ ’’روس دنیا کے سب سے بڑے ہیکر گروپس میں سے ایک رکھتا ہے، اور اس سے پہلے بھی یورپی توانائی اور ٹیلی کام نیٹ ورکس کو نشانہ بنا چکا ہے۔ یہ حملہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہوسکتا ہے۔‘‘ان کے مطابق یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب روسی جنگی طیاروں نے ایسٹونیا کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی، جسے نیٹو نے ’’خطرناک‘‘ اور ’’بے باک‘‘ اقدام قرار دیا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ایئرپورٹس پر حملہ محض سفری نظام کو متاثر نہیں کرتا بلکہ عالمی سطح پر ہیڈلائنز بنتا ہے، بنیادی ڈھانچے پر اعتماد کم کرتا ہے اور سیاسی دباؤ ڈالنے کا ذریعہ بنتا ہے، بغیر کسی گولی چلائے۔ایوی ایشن ایکسپرٹ پال چارلس نے اس حملے کو ’’انتہائی چالاک‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ’’یہ حیران کن ہے کہ RTX جیسی بڑی کمپنی کے سسٹمز کو اس سطح پر نشانہ بنایا گیا۔ یہ کمپنی نہ صرف برطانوی حکومت بلکہ کئی دیگر ممالک کو بھی سپلائی فراہم کرتی ہے۔‘‘ان کے مطابق اس سے عالمی ایوی ایشن اور دفاعی اداروں کی سیکیورٹی پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔

    حملے کے بعد ایئرپورٹس پر مسافر شدید مشکلات سے دوچار ہوئے۔ ہیتھرو ایئرپورٹ پر ایک برطانوی خاتون مسافر نے بتایا کہ وہ اپنے پالتو بلی کے ساتھ ناروے جانے کے لیے سفر کررہی تھیں لیکن طویل قطاروں، عملے کے رویے اور معلومات کے فقدان نے ان کا سفر ’’دہشت ناک‘‘ بنا دیا۔ہیلتھ اسٹیل نامی خاتون نے میڈیا کو بتایا ’’مجھے عملے نے دو مرتبہ ڈانٹا، میں رو پڑی کیونکہ میرے جانور کی حالت پر فکر تھی۔ کسی نے بھی واضح معلومات فراہم نہیں کیں۔‘‘اسی طرح تھائی لینڈ جانے والی ایک مسافر کو سامان جمع کرانے کے لیے تین گھنٹے انتظار کرنا پڑا۔ برسلز ایئرپورٹ پر بھی مسافر کئی گھنٹوں تک پھنسے رہے اور متعدد بار گیٹ تبدیل کیے گئے۔

    یورپی ماہرین کے مطابق چاہے اس حملے کے پیچھے روس ثابت ہو یا نہ ہو، حقیقت یہ ہے کہ سائبر اسپیس اب نئی جنگی سرحد بن چکی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یورپ کو اپنے سائبر ڈیفنس مضبوط بنانے، بیک اپ سسٹمز تیار کرنے اور حساس شعبوں میں مزید ریزیلینس پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دشمن قوتیں پورے سیکٹر کو مفلوج نہ کرسکیں۔

  • مصطفیٰ کمال نے اپنی صاحبزادی کو سروائیکل کینسر کی ویکسین لگوا کر مہم کا آغاز کیا

    مصطفیٰ کمال نے اپنی صاحبزادی کو سروائیکل کینسر کی ویکسین لگوا کر مہم کا آغاز کیا

    کراچی: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اپنی صاحبزادی کو سروائیکل کینسر سے بچاؤ کی ویکسین لگوا کر پاکستان میں اس قومی مہم کا باضابطہ آغاز کردیا۔

    تفصیلات کے مطابق کراچی میں سروائیکل کینسر سے آگاہی اور بچاؤ کے حوالے سے ایک خصوصی تقریب منعقد ہوئی جس میں وزیر صحت نے اپنی صاحبزادی کو ویکسین لگوائی اور بعد ازاں بیٹی کی انگلی پر خود مارک بھی لگایا۔ اس موقع پر تقریب میں شریک ماہرینِ صحت، خواتین نمائندگان اور طلبہ نے ویکسینیشن مہم کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت کا کہنا تھا کہ پاکستان دنیا کا 151 واں ملک ہے جہاں سروائیکل کینسر سے بچاؤ کی مہم کا آغاز کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بیماری سے ہر سال ہزاروں خواتین متاثر ہوتی ہیں، مگر بروقت ویکسین لگوا کر اس سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ مہم کے آغاز کے ساتھ ہی کچھ حلقوں کی جانب سے گمراہ کن پروپیگنڈا سامنے آیا ہے، لیکن حکومت عوام کو درست معلومات فراہم کرنے اور غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "میں نے اپنی بیٹی کو ویکسین لگوا کر یہ پیغام دیا ہے کہ یہ حفاظتی اقدام بالکل محفوظ ہے۔ اپنی 30 سالہ سیاسی زندگی میں کبھی اپنی فیملی کو میڈیا کے سامنے نہیں لایا، لیکن آج قوم کی ہر بیٹی کی جان بچانے کے لیے اپنی اکلوتی بیٹی کو سامنے لایا ہوں۔”

    وفاقی وزیر صحت نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنی بچیوں کو بروقت یہ ویکسین لگوائیں تاکہ مستقبل میں مہلک بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں۔ ان کے مطابق یہ اقدام نہ صرف خواتین کی صحت کے تحفظ کے لیے اہم ہے بلکہ پاکستان کو صحت مند معاشرے کی طرف لے جانے میں سنگ میل ثابت ہوگا۔

  • جعفر ایکسپریس حملے کا ماسٹر مائنڈ گل رحمان عرف استاد مرید افغانستان میں پر اسرار طور ہلاک

    جعفر ایکسپریس حملے کا ماسٹر مائنڈ گل رحمان عرف استاد مرید افغانستان میں پر اسرار طور ہلاک

    جعفر ایکسپریس حملے کا ماسٹر مائنڈ گل رحمان عرف استاد مرید افغانستان میں پر اسرار طور ہلاک ہو گیا،

    بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا کے مطابق فتنہ الہندوستان کا دہشتگرد افغانستان کے صوبے ہلمند میں17 ستمبر 2025 کو ہلاک ہوا، دہشتگرد گل رحمان فتنہ الہندوستان( مجید بریگیڈ) کا ٹرینر اور آپریشنل کمانڈر تھا، دہشتگردگل رحمان پاکستانی سیکیورٹی فورسز ، چینی شہریوں ، معصوم شہریوں اور مختلف اداروں پر حملوں میں ملوث تھا، فتنہ الہندوستان نے پاکستان کے نہتے معصوم شہریوں، سیکیورٹی فورسز اور سی پیک منصوبوں کو نشانہ بنایا، فتنہ الہندوستان نے جعفر ایکسپریس، کراچی میں چینی قونصلیٹ اور گوادر پی سی ہوٹل میں دہشتگردانہ کاروائیاں کیں، فتنہ الہندوستان نے خضدار سکول بس دھماکہ، کراچی میں کنفیوشس انسٹیٹوٹ خود کش دھماکہ، پاکستان اسٹاک ایکسچینج حملہ اور کوئٹہ ریلوے اسٹیشن میں دہشتگردانہ کاروائیاں کیں، امریکہ فتنہ الہندوستان کے مجید برگیڈ کو عالمی دہشتگرد تنظیم قرار دے چکا ہے،

  • آئی لو محمد کا بورڈ لگانے پر بھارت میں مقدمہ،مسلمان سراپا احتجاج

    آئی لو محمد کا بورڈ لگانے پر بھارت میں مقدمہ،مسلمان سراپا احتجاج

    ہندوستان کے مختلف شہروں میں مسلمانوں کی جانب سے اس وقت شدید احتجاج کیا جا رہا ہے جب کانپور پولیس نے ’آئی لو محمد‘ کے بورڈ لگانے پر متعدد افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی۔

    9 ستمبر کو کانپور کے علاقے شاردہ نگر میں پولیس نے شرافت حسین، شبنور عالم، بابو علی، محمد سراج، فضل الرحمن، اکرام احمد، اقبال، بنٹی، کنّو کباڑی اور 15 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ پولیس کا مؤقف تھا کہ یہ اقدام مذہبی ہم آہنگی کو متاثر کرنے اور سماجی انتشار پیدا کرنے کی ایک کوشش ہے۔اس ایف آئی آر کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ کانپور میں جمعہ کی نماز کے بعد بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور پولیس کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے ایف آئی آر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں ’آئی لو محمد‘ کے بینر اٹھا رکھے تھے اور پرامن ریلی کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔اسی طرح مہاراشٹر کے پربھنی، تلنگانہ کے حیدرآباد، گجرات کے احمد آباد، مدھیہ پردیش کے برہان پور اور جھارکھنڈ میں بھی جمعہ کے بعد لوگوں نے بینرز اور وال پیپرز کے ذریعے اظہارِ محبتِ رسول ﷺ کیا۔

    احتجاج کا یہ سلسلہ صرف سڑکوں تک محدود نہیں رہا بلکہ سوشل میڈیا پر بھی ایک وسیع مہم کی شکل اختیار کر گیا۔ ہزاروں صارفین نے اپنی پروفائل تصاویر کو ’آئی لو محمد‘ کے لوگو سے تبدیل کیا اور مختلف پلیٹ فارمز پر وال پیپرز شیئر کیے۔ اس آن لائن تحریک نے ملک گیر سطح پر توجہ حاصل کر لی ہے۔ مختلف مسلم تنظیموں اور عام شہریوں نے کانپور پولیس کے اقدام کو مذہبی آزادی پر قدغن قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی اقلیتوں کے مذہبی اظہار کو دبانے کی کوشش ہے۔

  • لاہور پولیس سے پیٹی بھائیوں کو بچانے کی روش ختم، ایک اور مثال قائم

    لاہور پولیس سے پیٹی بھائیوں کو بچانے کی روش ختم، ایک اور مثال قائم

    لاہور پولیس سے پیٹی بھائیوں کو بچانے کی روش ختم، ایک اور مثال قائم کر دی

    اغواء کی وادات میں ملوث پولیس اہلکاروں کی نشاندہی 24 گھنٹے میں مکمل،ایک ملزم گرفتار، باقی ملزمان کی تلاش کے لیے مسلسل چھاپے جاری ہیں، ترجمان ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق 17 ستمبر کو ہونے والی واردات کا گزشتہ روز مقدمہ درج ہوا تھا،ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے واقعہ کا نوٹس لیا تھا،ڈی آئی جی آپریشنز نے ایس پی کینٹ قاضی علی رضا کی سربراہی میں سپیشل ٹیم تشکیل دی،مقدمہ میں کہا گیا کہ شہری محمد ندیم کے ساتھ میڈیکل سکیم سے نکلتے ہوئے واردات ہوئی،وردی میں ملبوس اہلکاروں نے شہری کو اغواء کر کے 40 لاکھ تاوان وصول کیا، ترجمان ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق گرفتار ملزم فاروق الحسن کانسٹیبل پولیس لائنز میں تعینات تھا، مفرور ملزمان کانسٹیبل شاہد اور کانسٹیبل آصف کی تلاش جاری ہے،

    ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کا کہنا ہے کہ مجرم وردی میں ہو کسی بھی لباس میں، ٹھکانہ جیل ہی ہے، لاہور پولیس میں جزا کے ساتھ ساتھ سزا کا بھی سخت نظام ہے، لاہور پولیس شہریوں کی محافظ، ایک ڈسپلن فورس ہے،لاہور پولیس میں قانون اور ضابطہ خلاف ورزی کی ہرگز گنجائش نہیں،قانون کی خلاف ورزی کرنے والے سخت سزا کے لیے تیار رہیں،

  • امریکی گلوکار بریٹ جیمز اہلیہ اور بیٹی سمیت طیارہ حادثے میں ہلاک

    امریکی گلوکار بریٹ جیمز اہلیہ اور بیٹی سمیت طیارہ حادثے میں ہلاک

    گریمی ایوارڈ یافتہ مشہور امریکی گلوکار اور نغمہ نگار بریٹ جیمز اپنی اہلیہ اور بیٹی سمیت ایک نجی طیارہ حادثے میں ہلاک ہوگئے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ 18 ستمبر کو پیش آیا، جب 57 سالہ بریٹ جیمز اپنی اہلیہ اور 28 سالہ بیٹی کے ہمراہ نجی طیارے میں سفر کررہے تھے۔ طیارے نے امریکی شہر نیش ول کے جان سی ٹیون ایئرپورٹ سے پرواز بھری تھی۔ تاہم سہ پہر تقریباً 3 بجے شمالی کیرولائنا کے علاقے فرینکلن میں ایک اسکول کے قریب کھیت میں گر کر تباہ ہوگیا۔حادثے میں طیارے میں سوار تینوں افراد موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے۔ خوش قسمتی سے اسکول کے کسی طالب علم یا عملے کو کوئی جانی نقصان نہیں پہنچا۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق تباہ ہونے والا طیارہ بریٹ جیمز کے نام پر رجسٹرڈ تھا۔ حادثے کی فوری وجوہات سامنے نہیں آئیں، البتہ تحقیقاتی اداروں نے واقعے کی چھان بین شروع کردی ہے۔

    بریٹ جیمز نے 1990 کی دہائی میں اپنا پہلا سولو البم ریلیز کیا تھا، تاہم وہ گلوکاری کے ساتھ ساتھ نغمہ نگاری میں بھی غیر معمولی شہرت رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنے کیریئر کے دوران درجنوں مقبول فنکاروں کے لیے سینکڑوں گانے لکھے اور گائے۔ موسیقی کی دنیا میں ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں انہیں دو مرتبہ گریمی ایوارڈ سے نوازا جا چکا تھا۔بریٹ جیمز کے اچانک انتقال نے شوبز انڈسٹری اور مداحوں کو گہرے صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔ سماجی اور موسیقی کے حلقوں کی جانب سے ان کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کا سلسلہ جاری ہے۔