Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • اسحاق ڈار کی شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں شرکت،چینی صدر سے ملاقات

    اسحاق ڈار کی شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں شرکت،چینی صدر سے ملاقات

    نائب وزیرِ اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے وفد کے ہمراہ چین کے صدر شی جن پنگ سے مشترکہ ملاقات کی۔ اس موقع پر چین کے صدر نے تمام وفود کے سربراہان کا پرتپاک خیرمقدم کیا اور ایس سی او کے کردار اور اس کے تحت خطے میں تعاون کو مزید فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا۔

    صدر شی جن پنگ نے اپنے خطاب میں کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم یوریشیا خطے کے وسیع رقبے اور دنیا کی سب سے بڑی آبادی کا حامل ایک اہم علاقائی فورم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی او کی کوششیں خطے کی خوشحالی، امن، استحکام اور معاشی ترقی کے لیے نہایت اہم ہیں۔ انہوں نے تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید گہرائی دینے اور باہمی اعتماد بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

    وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے اپنی ملاقات میں پاکستان کی جانب سے خطے میں پائیدار ترقی، امن و امان اور ہم آہنگی کے لیے بھرپور تعاون کا عزم دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کے ذریعے خطے میں باہمی اعتماد اور مشترکہ ترقی کے مواقع کو بڑھانے میں اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔محمد اسحاق ڈار نے چین کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو بھی مضبوط قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان چین کے ساتھ اپنے تاریخی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے اور اس شراکت داری کو علاقائی امن و خوشحالی کے لیے مفید سمجھتا ہے۔

    ملاقات میں دونوں فریقین نے عالمی اور خطائی سطح پر امن و استحکام کے فروغ کے لیے تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ اس موقع پر دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ بھی موجود تھے جنہوں نے مشترکہ تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔

  • ماں اور دو بچے تالاب میں ڈوب کر جاں بحق

    ماں اور دو بچے تالاب میں ڈوب کر جاں بحق

    پنجاب کے شہر پنڈی گھیب سے ایک افسوسناک خبر سامنے آئی ہے جہاں ایک ماں اور اس کے دو بچے تالاب میں ڈوب کر زندگی کی بازی ہار گئے۔ یہ دلخراش واقعہ ضلع اٹک کے پنڈی گھیب کے پرانے علاقے میں پیش آیا۔

    عینی شاہدین کے مطابق، ایک خاتون نے اپنے دو بچوں کو تالاب میں ڈوبتے ہوئے دیکھا تو انہیں بچانے کے لیے خود بھی تالاب میں چھلانگ لگا دی۔ بدقسمتی سے تالاب کا پانی گہرا تھا جس کی وجہ سے تینوں افراد پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہوگئے۔عینی شاہدین نے بتایا کہ ماں اور بچوں کی جان بچانے کی کوشش انتہائی دلیرانہ تھی، تاہم پانی کی گہرائی اور حالات نے ان کی جان نہ بچائی۔

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور تینوں لاشوں کو تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔مقامی افراد اور اہل خانہ غمزدہ ہیں اور یہ واقعہ پورے علاقے میں شدید افسوس اور صدمے کا باعث بنا ہوا ہے۔

  • جعلی نوٹوں کا آن لائن کاروبار کرنے والے دو ملزمان گرفتار

    جعلی نوٹوں کا آن لائن کاروبار کرنے والے دو ملزمان گرفتار

    صوبائی دارالحکومت میں راوی روڈ پولیس نے جعلی نوٹوں کی آن لائن فروخت کرنے والے دو ملزمان کو گرفتار کرنے کا کامیاب آپریشن کیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق ملزمان کو خفیہ اطلاع کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا، جن کے قبضے سے ایک لاکھ روپے مالیت کے جعلی پاکستانی نوٹ برآمد ہوئے ہیں۔

    پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان طلحہ اور فرحان کم قیمت پر جعلی نوٹوں کی بڑی مقدار فروخت کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملزمان نہ صرف آن لائن جعلی کرنسی بیچتے تھے بلکہ مارکیٹ کے سادہ لوح دکانداروں کو دھوکہ دے کر جعلی نوٹ استعمال کرتے تھے۔ ملزمان مختلف مقامات پر جا کر اور بار بار اپنی جگہ تبدیل کر کے کرنسی کا فراڈ کرتے تھے تاکہ پکڑے نہ جائیں۔

    پولیس کے مطابق ملزمان کے قبضے سے 5000 روپے کے 12 جعلی نوٹ اور 1000 روپے کے 40 جعلی نوٹ برآمد ہوئے ہیں۔ ایس پی سٹی بلال احمد نے اس موقع پر بتایا کہ گرفتار ملزمان کے خلاف فوری طور پر مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ اس جعلی کرنسی کے نیٹ ورک کا مکمل سراغ لگایا جا سکے۔بلال احمد نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ جعلی کرنسی کے استعمال سے گریز کریں اور اگر کسی کے پاس جعلی نوٹ ہونے کا شک ہو تو فوری طور پر پولیس کو اطلاع دیں تاکہ قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکے۔

  • سانحہ سوات، پشاور ہائیکورٹ میں تحقیقات رپورٹ پیش

    سانحہ سوات، پشاور ہائیکورٹ میں تحقیقات رپورٹ پیش

    پشاور: پشاور ہائی کورٹ میں سانحہ سوات کے حوالے سے ایک تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ جمع کرا دی گئی ہے جس میں مجموعی طور پر 384 صفحات شامل ہیں۔ رپورٹ میں سیلاب سے پہلے اور بعد کی تیاریوں، حکومتی اقدامات اور معطل کیے گئے افسران کی تفصیلات کو جامع انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

    تحقیقاتی کمیٹی نے سانحہ سوات کے پس منظر، اس کے اسباب، اور ممکنہ حفاظتی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کمیٹی نے 10 مختلف افسران اور ذمہ دار افراد کے بیانات قلمبند کیے ہیں جن میں سیلاب سے پہلے کی تیاریاں اور حکومتی ردعمل کا احاطہ کیا گیا ہے۔ سانحہ کے تین دن بعد وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے تجاوزات کے خلاف سخت آپریشن کی ہدایت جاری کی تھی جس کا تذکرہ بھی رپورٹ میں موجود ہے۔

    رپورٹ میں محکمہ جات کے افسران کو الگ الگ تفتیش کے لیے طلب کرنے اور ان سے سوالات کرنے کے عمل کا بھی ذکر ہے۔ اس دوران ان سے متعلقہ معلومات اور دستاویزات بھی حاصل کی گئیں تاکہ واقعے کی تمام پہلوؤں کو سمجھا جا سکے۔مزید براں، رپورٹ میں سانحہ سے پہلے کیے گئے حفاظتی اقدامات، موجودہ نظام میں موجود خامیوں، اور ان خامیوں کی اصلاح کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی تفصیل بھی شامل ہے۔ بارش کی پیشگوئی اور دفعہ 144 کے نفاذ کے اعلانات بھی عدالت میں جمع کرائے گئے، جس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ متعلقہ حکام کو قبل از وقت ممکنہ خطرات سے آگاہ کیا گیا تھا۔اس کے علاوہ، مون سون بارشوں کے متعلق پیشگی آگاہی پیغامات اور ان کے ثبوت بھی عدالت کے سامنے پیش کیے گئے ہیں تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ انتظامیہ نے کس حد تک بروقت اور مؤثر اقدامات کیے۔

  • گمراہ کن مارکیٹنگ پر کمپنیوں کو ایک ارب روپے کے جرمانے

    گمراہ کن مارکیٹنگ پر کمپنیوں کو ایک ارب روپے کے جرمانے

    مسابقتی کمیشن کی جانب سے گزشتہ مالی سال کارٹلایزیشن اور گمراہ کن مارکیٹنگ پر کمپنیوں کو ایک ارب روپے کے جرمانے کیے گئے۔

    مسابقتی کمیشن نے گمراہ کن مارکیٹنگ کرنے اور گٹھ جوڑ بنا کر قیمتوں کو فکس کرنے کی سرگرمیوں میں ملوث کاروباری اداروں کے خلاف 12 آرڈر جاری کیے،مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر یہ جرمانے کھاد، پولٹری، آٹوموبائل، فارماسیوٹیکل، رئیل اسٹیٹ، خوراک، صحت و صفائی کی مصنوعات، پینٹس اور تعلیم کے شعبوں سے منسلک کاروباری اداروں پرعائد کیے گئے،اس سال کمیشن کے 12 آرڈرز میں سے گمراہ کن مارکیٹنگ کے خلاف 8، گٹھ جوڑ بنا کر قیمتیں فکس کرنے پر 3 جبکہ ایک آرڈر لاہور ہائیکورٹ کی ہدایت پر رجسٹرڈ ٹریڈ مارک کے غیرقانونی استعمال کے خلاف کارروائی کے لیے کمیشن کی قانونی حدود متعین کرنے کے لیے کیا گیا۔

  • شاندانہ گلزار کے ایس ایچ او پر الزامات،تحقیقات کا حکم

    شاندانہ گلزار کے ایس ایچ او پر الزامات،تحقیقات کا حکم

    پشاور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رکن قومی اسمبلی شاندانہ گلزار نے ضلع بڈھ بیر میں مقامی ایس ایچ او پر ایف سی آر (فرنٹیئر کرائم ریگولیشن) نافذ کرنے کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بڈھ بیر کے علاقے میں ایس ایچ او قانون سے تجاوز کرتے ہوئے لوگوں کو بلاوجہ گھروں سے اٹھا کر لاپتہ کر رہے ہیں، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

    شاندانہ گلزار نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ بڈھ بیر میں ایس ایچ او نے چادر اور چار دیواری کی حفاظت کو پامال کرتے ہوئے ایف سی آر کی طرح غیر قانونی طریقوں سے لوگوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ ایس ایچ او کو فوری طور پر معطل کیا جائے ورنہ وہ سخت احتجاج پر مجبور ہوں گی۔

    شاندانہ گلزار کے اس الزام کے بعد خیبر پختونخوا پولیس کے سربراہ آئی جی ذوالفقار حمید نے فوری نوٹس لیتے ہوئے سی سی پی او کو حکم دیا ہے کہ وہ ایس ایچ او بڈھ بیر کے خلاف انکوائری عمل میں لائیں۔ آئی جی نے ہدایت دی ہے کہ 48 گھنٹوں کے اندر اندر مکمل رپورٹ پیش کی جائے تاکہ واقعے کی اصل وجوہات کا پتا چلایا جا سکے اور قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکے۔

  • ٹیکس گوشوارے کا آسان اور اردو میں ہونا خوش آئند امر ہے،  وزیرِ اعظم

    ٹیکس گوشوارے کا آسان اور اردو میں ہونا خوش آئند امر ہے، وزیرِ اعظم

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت ایف بی آر کی ڈیجیٹائیزیشن، مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی نظام کے اطلاق اور دیگر اصلاحات پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا.

    اجلاس میں وفاقی وزراء احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ، علی پرویز ملک، وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، چیف کوارڈینیٹر مشرف زیدی، چیئرمین ایف بی آر اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.اجلاس کو ڈیجیٹل انوائسنگ، ای بلٹی، ٹیکس گوشواروں کو آسان بنانے، مصنوعی ذہانت پر مبنی اسیسمنٹ سسٹم، سینٹرل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے قیام اور کارگو ٹریکنگ سسٹم پر پیش رفت سے آگاہ کیا گیا. اجلاس کو ایف بی آر کے کمانڈ اینڈ کنٹرول یونٹ کے قیام کی پیش رفت کے حوالے سے آگاہ کیا گیا. اجلاس کو بتایا گیا کہ اسکے لئے بِڈنگ جلد مکمل کرکے ستمبر تک اسے مکمل طور پر فعال کر دیا جائے گا. اس سے نہ صرف مرکزی ڈیٹا میسر ہوگا بلکہ فیصلہ سازی میں بھی آسانی ہوگی. اجلاس کو مصنوعی ذہانت پر مبنی اسیسمنٹ نظام پر بھی بریفنگ دی گئی. اجلاس کو بتایا گیا کہ بحری جہازوں کی آمد سے پہلے تاجروں کو پیشگی گڈز ڈیکلریشن بھرنے کی سہولت فراہم کی گئی ہے جس کے تحت اپ-فرنٹ ڈیوٹیز اور ٹیکسز پر مکمل چھوٹ دی جائے گی. اس نظام کے اطلاق سے پیشگی گڈز ڈیکلریشن 3 فیصد سے بڑھ کر 95 فیصد سے زائد ہونے کی توقع ہے. اس طرح ایڈوانس گڈز ڈیکلریشن والے کنٹینروں کو بحری جہاز سے سیدھا فیکٹری پہنچنے کی سہولت میسر ہوگی. اجلاس کو بتایا گیا کہ ڈیجیٹل انوائسنگ کے ذریعے تمام چھوٹے اور بڑے کاروبار خرید و فروخت کے وقت ایف بی آر کے آن لائن نظام کے ذریعے رسید کا اجراء یقینی بنائیں گے. اس نظام کے تحت آئندہ چند ماہ میں 20 ہزار کے قریب کاروبار نظام کے ساتھ منسلک ہو جائیں گے. صرف ایک ماہ کے دوران اس نظام کے تحت 11.6 ارب روپے کی آٹھ ہزار انوائسز کا اجراء ہوا. اس نظام میں ٹیکس دہندگان کا پورٹل اور اسکی نگرانی کا ڈیش بورڈ شامل ہیں. اجلاس کو بتایا گیا کہ پرال (PRAL) کے تحت نظام سے منسلک ہونے کی سہولت بغیر کسی لاگت کے مفت فراہم کی جارہی ہے. مزید بتایا گیا کہ تاجروں کی اس نظام کے حوالے سے تربیت یقینی بنائی جارہی ہے. اس نظام کے مکمل اطلاق کے بعد تاجروں کو سیلز ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کی ضرورت بھی نہیں رہے گی کیونکہ ہر خرید و فروخت خودکار طریقے سے نظام میں ریکارڈ ہورہی ہوگی.

    اسکے علاوہ بین الاقوامی سطح پر رائج نظام سے ہم آہنگ 8 ہندسوں پر مبنی مخصوص HS کوڈ فیک اور فلائنگ انوائسنگ کا خاتمہ کرے گا. ڈیجیٹل انوائسنگ کے ذریعے سیلز ٹیکس نظام کی کارکردگی کو جانچنا مزید سہل ہوگا. اجلاس کو بتایا گیا کہ نظام کو مؤثر بنانے کیلئے کاروباری افراد کے تربیتی سیشن بھی منعقد کئے گئے. وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ ڈیجیٹل انوائسنگ کی سہولت کا اردو میں بھی جلد اجراء کیا جائے.

    ٹیکس گوشواروں کو ڈیجیٹل اور آسان بنانے کے حوالے سے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ 15 جولائی سے تنخواہ دار طبقے کیلئے اسکا اجراء کیا جارہا ہے جبکہ 30 جولائی کو باقی شعبوں کے ٹیکس دہندگان کیلئے بھی یہ سہولت میسر ہوگی. مزید بتایا گیا کہ تنخواہ دار طبقے کیلئے اردو ٹیکس گوشوارے 30 جولائی تک میسر ہونگے. اجلاس کو نئے اور آسان ٹیکس گوشوارے کو بھرنے کے عمل پر بریفنگ دی گئی. وزیرِاعظم کی اس حوالے سے ہیلپ لائن کے قیام اور تھرڈ پارٹی عوامی سروے کی ہدایت.

    اجلاس کو کارگو ٹریکنگ سسٹم اور ای-بلٹی کے نظام پر پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا. اجلاس کو بتایا گیا کہ اس نظام کے تحت اشیاء کی آمدورفت کی ریئل ٹائم مانیٹرنگ اور ان اشیاء پر ٹیکس ادائیگی کی نگرانی ہم آہنگ ہونے کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت سے اسیسمنٹ ممکن ہوگی جس سے ٹیکس انفورسمنٹ مزید مؤثر اور بہتر ہوگی. اجلاس کو بتایا گیا کہ نظام کے پاکستان میں اطلاق اور بین الاقوامی معیار یقینی بنانے کیلئے ترکیہ سے اس حوالے سے معاونت لی جارہی ہے. حال ہی میں وزیرِ اعظم کے دورہء آذربائیجان میں ترکیہ کے صدر سے گفتگو کے بعد ترک وفد پاکستان پہنچ گیا ہے اور اس نظام کی پاکستان میں جلد تشکیل و اجراء کیلئے وفد کے ساتھ مشاورت جاری ہے.

  • گوگل کا پاکستان میں اے آئی اوور ویوزمیں  اشتہارات کا فیچر متعارف کرانے کا اعلان

    گوگل کا پاکستان میں اے آئی اوور ویوزمیں اشتہارات کا فیچر متعارف کرانے کا اعلان

    گوگل نے رواں برس کے آخر میں، پاکستان سمیت ایشیا بحرالکاہل (APAC) کی مارکیٹوں میں اے آئی اوورویوز(AI Overviews) میں اشتہارات متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے جو انگریزی زبان میں ہوں گے۔ اس اقدام کا مقصد کاروباری اداروں کو گوگل سرچ میں اے آئی کی مدد سے تیار کردہ خلاصوں کے ذریعے صارفین تک براہِ راست پہنچنے کے نئے مواقع فراہم کرنا ہے۔

    اے آئی اوورویوز، جسے اب دنیا بھر میں 1.5 ارب سے زائد افراد استعمال کر رہے ہیں، اہم مارکیٹوں میں مخصوص قسم کے استفسارات میں 10 فیصد سے زیادہ اضافہ کر رہا ہے اور تجارتی نوعیت کے استفسارات میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اب جب کہ اشتہارات براہِ راست اِن اوورویوز(overviews) میں شامل کیے جا رہے ہیں، پاکستان میں کاروباری اداروں کو لوگوں سے جُڑنے اور اُن کی فیصلہ سازی میں رہنمائی فراہم کرنے کے مزید مواقع میسر آئیں گے۔

    یہ اشتہارات کاروباری اداروں کو درج ذیل فوائد فراہم کرتے ہیں:
    ● تحقیق سے فیصلہ سازی تک کا سفر کم کریں:اے آئی اوورویوز میں اشتہارات کے ذریعے اپنا کاروبار ان جوابات میں شامل کریں جو صارفین کی دلچسپی اور اطمینان میں اضافہ کر رہے ہیں۔ صارفین سے اس وقت جُڑیں جب وہ گوگل سرچ پر اپنی نئی سرچ کا آغاز کر رہے ہوں۔
    ● صارف کا اگلا قدم بنیں: اپنے اشتہار کو صارف کے سوال اوراےآئی کے فراہم کردہ سیاق و سباق سے ہم آہنگ کریں، تاکہ آپ کا برانڈ اُن کے لیے قدرتی اور فوری انتخاب بن سکے۔
    ● نئے، غیر استعمال شدہ لمحات میں رابطہ قائم کریں:اے آئی اوورویوز صارفین کی پیچیدہ ضروریات اور نئے ابھرتے سوالات کو سمجھتے ہیں، جس سے اشتہارات کو ان لمحات میں صارفین سے جُڑنے کا موقع ملتا ہے جہاں پہلے رسائی ممکن نہ تھی۔

    اے آئی اوورویوز میں اشتہارات گوگل سرچ اور یوٹیوب پر اے آئی سے چلنے والے جدید ٹولز کی نئی نسل کا حصہ ہیں، جنہیں اس تیزی سے بدلتے ہوئے پیچیدہ ڈیجیٹل ماحول میں برانڈز اور مارکیٹرز کو آگے رکھنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ تخلیقی مواد میں تبدیلی سے لے کر سرچ اشتہارات کو نئے انداز میں پیش کرنے تک، گوگل اے آئی کو عملی اقدامات میں تبدیل کر رہا ہے اور مارکیٹرز کو زیادہ اسمارٹ ٹولز براہِ راست فراہم کر رہا ہے۔

    گوگل ساؤتھ ایسٹ ایشیا اور ساؤتھ ایشیا فرنٹیئر کی نائب صدر، سپنا چڈھا نے کہا:”ہم کئی سالوں سے اے آئی پر مبنی اشتہارات کے میدان میں سب سے آگے رہے ہیں۔ جیسے جیسے صارفین کا سفر مزید پیچیدہ اور وسائل محدود ہوتے جا رہے ہیں، ہم مارکیٹرز کو اپنے اب تک کے سب سے جدید ماڈلز فراہم کر رہے ہیں: جو زیادہ ذہین، زیادہ خودکار، اور ذاتی نوعیت کے حامل ہیں۔ اس کا مطلب ہے تیزی، تخلیقی کام ، وسیع تر رسائی، اہم معلومات ، اور بہتر نتائج کا حصول۔“

  • ڈالا کلچر اور اسلحہ کی نمائش مجھے بالکل پسند نہیں،وزیراعلیٰ پنجاب

    ڈالا کلچر اور اسلحہ کی نمائش مجھے بالکل پسند نہیں،وزیراعلیٰ پنجاب

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پولیس اہلکار کی جانب سے چند روز قبل بیٹے کے چالان کا قصہ سنا دیا۔

    لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا ڈالا کلچر اور اسلحہ کی نمائش مجھے بالکل پسند نہیں، گھر آتے وقت میرے بیٹے جنید کے ساتھ سکیورٹی کی گاڑیاں تھیں، پولیس نے گاڑیوں کو روکا تو پیچھے گاڑی میں جنید بیٹھے ہوئے تھے،جنید کو دیکھ کر پولیس اہلکار نے معذرت کی کہ ہمیں نہیں پتا تھا، اہلکار نے کہا کہ نہیں پتا تھا کہ گاڑی میں وزیراعلیٰ کا بیٹا بیٹھا ہوا ہے، پولیس اہلکار نے جنید کو کہا کہ ہم آپ سے معافی مانگتے ہیں کہ آپ کو روکا،فخر ہے کہ جنید نے پولیس اہلکار کو کہا کہ آپ نے اپنی ڈیوٹی سرانجام دی، میرے بیٹے نے اپنی سکیورٹی کی گاڑی کا چالان کرنے والے کو شاباش دی، جنید نے اہلکار سے کہا کہ آپ نے روکا تو اپنی ڈیوٹی نبھائی، چالان کریں،مجھے واقعے کا پتہ چلا تو میں نے بھی اس اہلکار کو فون کر کے شاباش دی، وزیراعلیٰ کا بیٹا ہو یا کوئی اور، کوئی قانون سے بالاتر نہیں، آج ملزمان قسم اٹھا کر کانوں کو ہاتھ لگا کر جرائم سے تائب ہو رہے ہیں،طاقت میرے ہاتھ میں ہے، یہ اللّٰہ کی وہ امانت ہے جو وہ ریاست کے سپرد کرتا ہے،کرپشن کا پیسہ آتا تو بہت تیزی کے ساتھ ہے لیکن جب لگتا ہے تو یہ بیماریوں پر لگتا ہے یا نقصانات پر لگتا ہے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ قیمتوں پر کنٹرول کرنے کیلئے ادارے کا قیام عمل میں لایاگیا ہے،

  • سیالکوٹ میں آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن(اپووا)کے ضلعی دفتر کا  افتتاح

    سیالکوٹ میں آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن(اپووا)کے ضلعی دفتر کا افتتاح

    اتوار 13 جولائی کو سیالکوٹ کی ادبی فضاؤں میں ایک نئی خوشبو بکھرتی نظر آئی جب سنیئر صحافی خرم میر ،شاہد ریاض، پروفیشنل پرنٹ اینڈ الیکٹرانک میڈیا ایسوسی ایشن، نے آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے بانی و صدر جناب ایم ایم علی اور ان کے ہمراہ اپووا عہدیداران کا شہرِاقبال میں پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پرکاروانِ قلم رائٹر فورم پاکستان و گھوئینکی لائنز کلب کے ممبران و عہدیداران بھی موجود تھے۔

    آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے سیالکوٹ میں دفتر کے قیام کی پر وقار افتتاحی تقریب اقبال منزل( رہائش گاہ شاعر مشرق علامہ اقبال )منعقد ہوئی جس میں اپووا کے اعلی سطحی وفد نے شرکت کی ۔ افتتاحی تقریب میں بانی و صدر اپووا ایم ایم علی،سنئیر نائب صدر حافظ محمد زاہد، ایڈیٹر باغی ٹی وی اور اپووا کے متحرک رکن ممتاز اعوان،نائب صدور سفیان علی فاروقی ،محمد اسلم سیال ،سیکرٹری کوآرڈینیشن محمد توصیف ملک،گھوئنکی لائن کلب کے سابقہ صدر اور معروف کاروباری شخصیت عمر سلیم گھمن،سنئیر صحافی مہر اشتیاق ،انچارج سوشل میڈیا سیل ثوبیہ راجپوت،نائب صدر پنجاب قرۃ العین خالد،جنرل سیکرٹری پنجاب الماس العین،فاکہہ قمر ،مہک شہزادی سمیت دیگر اہم عہدیداران شامل تھے۔

    پرنٹ اینڈ الیکٹرانک میڈیا ایسوسی ایشن کے نمائندگان نے مہمانوں کا پھولوں کے ہاروں اور پرجوش نعروں سے استقبال کیا۔پروگرام کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ کلام پاک اور نعتِ رسول مقبول سے کیا گیا۔بانی اپووا ایم ایم علی نے اپنے خطاب میں سیالکوٹ کے اہلِ قلم، دانشوروں اور میزبانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سیالکوٹ ہمیشہ ادب، حب الوطنی اور تہذیب و ثقافت کا مرکز رہا ہے۔ یہاں آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کا دفتر قائم کرنا ہمارے لیے اعزاز کی بات ہے۔ اس پلیٹ فارم سے ہم ملک بھر کے ادیبوں، شاعروں اور قلم کاروں کو نہ صرف نمائندگی فراہم کریں گے بلکہ ان کے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات بھی اٹھائیں گے۔انہوں خرم میر اور شاہد ریاض کو ضلعی کور آرڈینیٹراور میڈیا کو آرڈینیٹر کے نوٹیفکیشن بھی دئیے ۔

    ایم ایم علی کےعلاوہ حافظ محمد زاہد، خرم میر،شاہد ریاض،عمر سلیم گھمن،ثوبیہ راجپوت،قرۃ العین خالد سمیت دیگر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہم اس بات پر خوش ہیں کہ سیالکوٹ میں ایک قومی سطح کی ادبی و فلاحی تنظیم کی بنیاد رکھی جا رہی ہے۔ ہم ہر سطح پر اس مشن کا حصہ بننے کے لیے پرعزم ہیں۔

    تقریب کے آخر میں شرکاء کےلیے پرنٹ اینڈ الیکٹرانک میڈیا ایسوسی ایشن کی طرف سے مقامی ہوٹل میں پرتکلف کھانے کا اہتمام کیا گیاتھا۔ اپووا کے سیالکوٹ میں تنظیمی دفتر کے قیام پر سیالکوٹ کے، ادبی، صحافتی اور سماجی حلقوں کی طرف سے بے حد سراہا جارہا ہے۔

    آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کا یہ نیا دفتر یقیناً سیالکوٹ اور گردونواح کے ادیبوں، شاعروں اور لکھاریوں کے لیے ایک مرکز کی حیثیت اختیار کرے گا۔ یہاں ادبی سرگرمیوں، مشاعروں، ورکشاپس، اور فلاحی اقدامات کا تسلسل جاری رکھا جائے گا۔ان شاءاللہ