Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • اجیت دوول کے جھوٹے دعوے،بھارت پھر پکڑاگیا،بھگوت مان نے آئینہ دکھا دیا

    اجیت دوول کے جھوٹے دعوے،بھارت پھر پکڑاگیا،بھگوت مان نے آئینہ دکھا دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشرلقمان نے کہا ہےکہ بھارت میں‌اگر کوئی وی لاگ سن رہا ہے اور اجیت دوول کی سوشل میڈیا پر ویڈیو دیکھ کر بھی بھارت کی تباہی کا یقین نہیں آ رہا اگر انکی سینا کی زبان پر اعتبار کرنے کو بھی تیار نہیں تو کرنل صوفیہ کی ویڈیو پریس کانفرنس والی دوبارہ دکھائی جانی چاہئے

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کرنل صوفیہ قریشی نے پریس کانفرنس میں نہ صرف فضائی اڈوں ،ایئر ڈیفنس سسٹم کی تباہی کا اعتراف کیا تھا بلکہ یہ بھی کہا تھا کہ بھارت مزید جنگ نہیں چاہتا،یہ بھارت کا اعتراف شکست تھا،اجیت میں تھوڑی سی بھی غیرت باقی ہے تو اس پریس کانفرنس کی وضاحت کرنی چاہئے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 22 بار یہ بات دوہرا چکے کہ پاکستان بھارت کے دوران سیز فائر انہوں نے کروایا اور اسکی درخواست انڈیا نے کی، اجیت میں تھوڑی سی شرم ہے تو اس کی تردید دکھا دیں،یہ بتائیں شیوانگی سمیت سات پائلٹ کہاں ہیں، اجیت دوول کے دل میں ملک اور سینا کا ذرا سا بھی احترام ہے تو ایک سوال کا جواب دے دیں،پاکستان کے جوابی حملے میں واقعی کوئی نقصان نہیں ہوا تو سو جوان بھارتی کیسے مر گئے ،پوری دنیا مانتی ہے پاکستان نے بھارت کو جنگ میں صرف زخمی نہیں کیا بلکہ زہریلے دانت کو بھی توڑ دیا، بھارتی تجزیہ کار مسلسل بھارت کو مسلسل ذلیل کر رہے ہیں

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مودی کے فریب کو بھارتی سمجھ چکے ہیں، میڈیا پر بھارت سرکار کا مذاق اڑا رہے ہیں،بھگونت مان بالکل ٹھیک کہہ رہا مودی کو اڈانی اور امبانی کے علاوہ کسی کی فکر نہیں.

  • طیارہ حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ پر ائیر انڈیا کے سی ای او کا ردعمل

    طیارہ حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ پر ائیر انڈیا کے سی ای او کا ردعمل

    بھارتی شہر احمد آباد میں پیش آنے والے المناک مسافر بردار طیارے کے حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے حوالے سے ائیر انڈیا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کیمبل ولسن نے اپنی تشویش اور وضاحت کا اظہار کیا ہے۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ائیر انڈیا کے سی ای او کیمبل ولسن نے بتایا ہے کہ AI171 حادثے کی ابتدائی رپورٹ میں تباہ شدہ طیارے یا اس کے انجنوں میں کسی قسم کی مکینیکل خرابی یا مینٹیننس کا مسئلہ نہیں پایا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ طیارے کی دیکھ بھال مکمل تھی اور اس کے انجن، ایندھن کے معیار، اور دیگر تکنیکی پہلوؤں میں کوئی غیر معمولی خرابی نہیں تھی۔ائیر انڈیا کے چیف ایگزیکٹو نے یہ ریمارکس اپنی کمپنی کے ملازمین کو لکھے گئے ایک خط میں دیے، جس میں انہوں نے میڈیا کی جانب سے گردش کرنے والی افواہوں، قیاس آرائیوں اور غیر مصدقہ نظریات کی سختی سے تردید کی۔ کیمبل ولسن نے کہا کہ ان قیاس آرائیوں پر توجہ دینے کے بجائے، تمام کو چاہیے کہ وہ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ پر دھیان دیں، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ طیارے اور اس کے انجنوں میں کوئی مکینیکل یا مینٹیننس کا مسئلہ نہیں تھا،ایندھن کے معیار میں کوئی کمی یا خرابی نہیں تھی،طیارے کے ٹیک آف رول میں کوئی غیر معمولی واقعہ پیش نہیں آیا،پائلٹس کی طبی حالت بھی حادثے سے قبل مکمل طور پر معمول کے مطابق تھی

    واضح رہے کہ بھارت کے ائیر کرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ اس حادثے کی بنیادی وجہ دونوں انجنوں کو ایندھن کی سپلائی کا بند ہونا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایندھن کنٹرول کرنے والے دونوں سوئچز تقریباً ایک سیکنڈ کے فرق سے یکے بعد دیگرے "CUTOFF” پوزیشن میں چلے گئے، جس کی وجہ سے انجنوں کی ایندھن کی فراہمی منقطع ہوگئی اور جہاز گرنا شروع ہو گیا۔

    یہ حادثہ جون کے مہینے میں پیش آیا تھا جب احمد آباد میں ائیر انڈیا کا مسافر طیارہ گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ اس المیے میں طیارے پر سوار 260 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے، جس نے پورے ملک کو غمزدہ کر دیا تھا۔ائیر انڈیا کے سی ای او کیمبل ولسن کے بیان سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ابتدائی تحقیقات نے طیارے یا اس کے انجنوں میں تکنیکی خرابی کو حادثے کی بنیادی وجہ سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ اس حوالے سے مزید تفصیلی تحقیقات اور رپورٹس کا انتظار کیا جا رہا ہے تاکہ حادثے کی حقیقی وجوہات معلوم کی جا سکیں اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔

  • جلیبی،سموسہ کھانے سے گریز کریں،سگریٹ کی طرح "مضرصحت” کا لیبل لگانے کا عندیہ

    جلیبی،سموسہ کھانے سے گریز کریں،سگریٹ کی طرح "مضرصحت” کا لیبل لگانے کا عندیہ

    نئی دہلی: مرکزی حکومت نے جنک فوڈ کے بے تحاشہ استعمال اور اس کے نتیجے میں بچوں و نوجوانوں میں تیزی سے بڑھتے موٹاپے کو روکنے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، اب جلیبی، سموسے، پکوڑے، بڑا پاؤ، اور دیگر عام طور پر پسند کیے جانے والے کھانے والے پکوانوں پر بھی وارننگ لیبل چسپاں کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے بالکل اسی طرح جیسے سگریٹ کے پیکٹوں پر صحت کے انتباہات دیے جاتے ہیں۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق وزارت صحت کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ خط میں تشویشناک اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں، جس کے مطابق اگر موجودہ حالات پر قابو نہ پایا گیا تو سال 2050 تک ہندوستان میں تقریباً 44.9 کروڑ لوگ موٹاپے یا زیادہ وزن کے شکار ہو سکتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار ملک کو دنیا کے سب سے بڑے موٹاپے والے ممالک کی صف میں لا سکتے ہیں۔ شہری علاقوں میں صورتحال پہلے ہی سنگین ہو چکی ہے، جہاں ہر پانچ میں سے ایک فرد زائد وزن سے دوچار ہے۔ایمس ناگپور سمیت متعدد اعلیٰ طبی اداروں کو وزارت صحت کی جانب سے ہدایت دی گئی ہے کہ وہ واضح وارننگ پوسٹرز آویزاں کریں جن میں صارفین کو یہ بتایا جائے کہ وہ ناشتہ یا کھانے کے دوران کتنی مقدار میں چھپی ہوئی چینی (شکر) اور نقصان دہ ٹرانس فیٹس استعمال کر رہے ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق، چینی اور ٹرانس فیٹس اب صحت کے لیے اتنے ہی خطرناک بن چکے ہیں جتنا کہ تمباکو۔

    کارڈیولوجیکل سوسائٹی آف انڈیا، ناگپور شاخ کے صدر ڈاکٹر امر امالے نے کہا،”چینی اور ٹرانس فیٹس آج کے دور میں تمباکو کے برابر نقصان دہ ہیں۔ عوام کا حق ہے کہ وہ جانیں کہ وہ جو کھا رہے ہیں، وہ ان کی صحت پر کیا اثر ڈال رہا ہے۔”

    حکومت کا منصوبہ صرف ہسپتالوں یا طبی اداروں تک محدود نہیں رہے گا۔ جلد ہی ملک بھر کے کیفے، اسکولوں کی کینٹین، اور عوامی مقامات پر فروخت ہونے والے کھانے پینے کی اشیاء پر بھی صحت سے متعلق تنبیہی لیبلز چسپاں کیے جائیں گے۔ ان لیبلز میں یہ واضح کیا جائے گا کہ ان میں موجود شکر اور چربی کس قدر نقصان دہ ہو سکتی ہے۔

    یہ پہلا موقع ہے کہ ہندوستان میں جنک فوڈ کو لے کر اتنے بڑے پیمانے پر صحت کی وارننگ دی جا رہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو آگاہ کرنا اور کھانے پینے کی عادتوں میں تبدیلی لانا ہے، تاکہ آنے والے وقت میں غیر متعدی بیماریوں جیسے موٹاپا، ذیابیطس، دل کی بیماریاں اور ہائی بلڈ پریشر سے بچا جا سکے۔

  • لاہور  ہائی کورٹ کے جسٹس اسجد جاوید گھرال کی گاڑی کو موٹروے پر  حادثہ

    لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس اسجد جاوید گھرال کی گاڑی کو موٹروے پر حادثہ

    لاہور: لاہور ہائی کورٹ کے معزز جج، جسٹس اسجد جاوید گھرال کی گاڑی کو موٹروے پر ایک شدید حادثہ پیش آیا ہے۔ حادثے کے فوری بعد جسٹس اسجد جاوید کو فوری طور پر سمندری تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی۔

    حادثے کی نوعیت اور اس کی وجوہات کی تفتیش جاری ہے،ابتدائی طبی معائنے کے بعد، جسٹس اسجد جاوید گھرال کو لاہور کے معروف سروسز ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے جہاں ان کا مزید معائنہ اور علاج کیا جائے گا۔ متعلقہ حکام نے تصدیق کی ہے کہ جسٹس اسجد جاوید کی حالت خطرے سے باہر ہے اور وہ محفوظ ہیں۔جسٹس اسجد جاوید گھرال کے خاندان کے افراد، خاص طور پر بیٹے رحمن اسجد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ والد کی طبیعت بہتر ہے اور وہ جلد صحتیاب ہو جائیں گے۔

  • ایف سی کو ملک بھر میں کام کرنے کا اختیار مل گیا

    ایف سی کو ملک بھر میں کام کرنے کا اختیار مل گیا

    وفاقی حکومت نے فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) کو ملک بھر میں کام کرنے کا بااختیار بنا دیا ہے۔ لا اینڈ جسٹس ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صدر مملکت نے فرنٹیئر کانسٹیبلری ری آرگنائزیشن آرڈیننس 2025 جاری کر دیا ہے، جس کے تحت فرنٹیئر کانسٹیبلری کا نام بدل کر فیڈرل کانسٹیبلری رکھا جائے گا۔

    اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ آرڈیننس کے مطابق فیڈرل کانسٹیبلری کی ساخت اور قوانین وضع کیے جائیں گے، جس میں ہر ڈویژن میں ایک ونگ کمانڈر تعینات کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، ایف سی کو چاروں صوبوں، اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی کام کرنے کا اختیار حاصل ہو گا۔آرڈیننس کے تحت، فیڈرل کانسٹیبلری کا دائرہ اختیار اب صرف قبائلی علاقوں تک محدود نہیں بلکہ پورے ملک میں پھیل جائے گا۔ یہ فیصلہ ایف سی ایکٹ 1915 میں ترامیم کے بعد لیا گیا ہے تاکہ ادارے کو جدید تقاضوں کے مطابق فعال بنایا جا سکے۔ اب ایف سی ملک کے تمام صوبوں اور وفاقی علاقوں میں داخلی سلامتی، قانون نافذ کرنے اور امن و امان کے قیام کے لیے کام کرے گی۔

    آرڈیننس میں واضح کیا گیا ہے کہ ایف سی کے سربراہ یعنی انسپکٹر جنرل (آئی جی) کی تقرری وفاقی حکومت کرے گی۔ ہر ڈویژن میں تعینات ونگ کمانڈر کا رینک ڈپٹی انسپکٹر جنرل کے برابر ہوگا۔ وفاقی حکومت کو اختیار حاصل ہوگا کہ وہ وفاقی ریزرو فورس کے تحت اضافی اہلکار بھی بھرتی کر سکے تاکہ ضرورت پڑنے پر فوری طور پر مدد فراہم کی جا سکے۔فیڈرل کانسٹیبلری کی بنیادی ذمہ داریوں میں ملک بھر میں فسادات اور ہنگامی صورتحال کا کنٹرول، داخلی سکیورٹی کو یقینی بنانا، دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائیاں، اور اہم تنصیبات کا تحفظ شامل ہے۔ اس کے علاوہ ایف سی کی دو بڑی ڈویژنز قائم کی جائیں گی: ایک سکیورٹی ڈویژن اور دوسری فیڈرل ریزرو ڈویژن۔

    فیڈرل کانسٹیبلری کی تنظیم نو کے تحت، بھرتی کے لیے ملک بھر میں دفاتر قائم کیے جائیں گے۔ نئی کمانڈ اور آپریشنل ذمہ داریاں پولیس سروس آف پاکستان کے تجربہ کار افسران سنبھالیں گے تاکہ ادارے کی کارکردگی میں بہتری اور شفافیت لائی جا سکے۔

  • نوجوان پر تشدد کیس میں نامزد سلمان فاروقی پر مقدمہ ختم

    نوجوان پر تشدد کیس میں نامزد سلمان فاروقی پر مقدمہ ختم

    کراچی کی جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں ڈیفنس علاقے میں نوجوان پر تشدد کے کیس کی سماعت کے دوران پولیس نے عدالت کو آگاہ کیا کہ تشدد کے مقدمے میں نامزد ملزم سلمان فاروقی کے خلاف مقدمہ ختم کر دیا گیا ہے۔

    سماعت کے دوران پولیس نے عدالت میں رپورٹ جمع کرواتے ہوئے بتایا کہ متاثرہ نوجوان دھیرج عرف دھن راج نے ملزمان کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کی خواہش ظاہر نہیں کی اور اپنے حلفیہ بیان میں واضح کیا کہ ملزمان نے نہ تو اس سے اور نہ ہی اس کی بہنوں سے کوئی بدتمیزی کی ہے۔ پولیس رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ مدعی کے بیان کی بنیاد پر جان سے مارنے کی دھمکی اور دیگر الزامات کو بھی ختم کر دیا گیا ہے۔عدالت نے پولیس کی رپورٹ کو ریکارڈ کا حصہ بنا کر سماعت کو ملتوی کر دیا۔

    گزشتہ ماہ ڈیفنس کے علاقے خیابان اتحاد میں ایک موٹرسائیکل سوار نوجوان کو اس کی بہنوں کے سامنے مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں دکھایا گیا کہ موٹرسائیکل سوار نوجوان اور کار سوار سلمان فاروقی کے درمیان ٹکراؤ کے بعد سلمان فاروقی نے نوجوان پر تشدد کیا۔واقعے کے دوران نوجوان کی بہنیں بھی وہاں موجود تھیں اور انہوں نے سلمان فاروقی سے اپنے بھائی کو چھوڑنے کی درخواست کی، تاہم ملزم نے انہیں نہیں روکا۔ویڈیو کی وائرل ہونے کے بعد پولیس نے سلمان فاروقی اور اس کے ساتھی اویس ہاشمی کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔

  • چوہدری حمیدالحسن گجر مرکزی مسلم لیگ وسطی پنجاب کے صدر منتخب،استقبالیہ تقریب کا انعقاد

    چوہدری حمیدالحسن گجر مرکزی مسلم لیگ وسطی پنجاب کے صدر منتخب،استقبالیہ تقریب کا انعقاد

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل، حافظ خالد خالد نیک کی رہائش گاہ گجر ہاؤس جوہر ٹاؤن (حلقہ پی پی 162) میں چوہدری حمیدالحسن گجر کو وسطی پنجاب کا صدر منتخب ہونے پر ان کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا،

    تقریب میں مرکزی مسلم لیگ کے جوائنٹ سیکرٹری قاری محمد یعقوب شیخ، مزمل اقبال ہاشمی، انجنئیر عادل خلیق، ناصر محمود گھمن، شفاقت تتلہ، عمار یاسر، چوہدری شوکت، شیخ صداقت، صلاح الدین غزنوی، چوہدری خادم گجر، معاذ اشتیاق، حافظ اشفاق، عمران شامی، عبداللہ خالد، علی حیدر عباس، حافظ عبدالوہاب گجر سمیت حلقہ پی پی 162 کے دیگر معزز دوست احباب نے بھرپور شرکت کی۔اس موقع پر مرکزی مسلم لیگ کے رہنماؤں کی جانب سے چوہدری حمیدالحسن گجر کو مرکزی مسلم لیگ وسطی پنجاب کا صدرمنتخب ہونے پر مبارکباد دی گئی،شرکاء نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے چوہدری حمیدالحسن گجر کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ وہ وسطی پنجاب میں مرکزی مسلم لیگ کو مزید فعال اور منظم بنائیں گے،حافظ خالد نیک گجر نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی مقبولیت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے،مرکزی مسلم لیگ خدمت کی سیاست کر رہی ہے، ہمیں پاکستان کو درپیش مسائل کا شعور عوام میں بیدار کرنااور اتحاد کی ایک عظیم مثال قائم کر نی ہے،جس نظریئے پر پاکستان بنا تھا اسی نظریئے پر قوم کو دوبارہ متحدکیا جا سکتا ہے.

  • کوہ پیمائی کے دوران حادثہ، پولش کوہ پیما والڈیمار کووالوسکی کو  ریسکیو کرلیا گیا

    کوہ پیمائی کے دوران حادثہ، پولش کوہ پیما والڈیمار کووالوسکی کو ریسکیو کرلیا گیا

    دنیا کی 12ویں بلند ترین چوٹی براڈ پیک (بلندی: 8,051 میٹر) پر کوہ پیمائی کے دوران ایک سنسنی خیز واقعہ پیش آیا جب پولش کوہ پیما والڈیمار کووالوسکی برفانی ڈھلوان پر چڑھائی کرتے ہوئے پھسل گئے۔ اس حادثے کے نتیجے میں ان کا پاؤں شدید زخمی ہو گیا اور ٹوٹ گیا۔

    واقعہ اس وقت پیش آیا جب والڈیمار کووالوسکی چوٹی کی سخت برفانی صورت حال میں چڑھائی کر رہے تھے۔ پھسلنے کی وجہ سے ان کی چوٹ سنگین نوعیت کی تھی جس کے باعث انہیں فوری طبی امداد کی ضرورت تھی۔ کوہ پیمائی کی مشکل اور خطرناک جگہ ہونے کے باعث امدادی کاروائی ایک بڑا چیلنج تھی۔ریسکیو ٹیم نے فوری طور پر اپنی کارروائی شروع کی اور خطرناک برفانی اور پتھریلے راستوں سے گزر کر زخمی کوہ پیما تک پہنچ گئی۔ انہیں تقریباً 6,500 میٹر کی بلندی سے بحفاظت کیمپ ون تک منتقل کیا گیا جہاں ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی۔ ریسکیو ٹیم کی بروقت اور پیشہ ورانہ کاوشوں کی بدولت والڈیمار کووالوسکی کی جان بچانے میں کامیابی حاصل ہوئی۔

    اب زخمی کوہ پیما کو موسم کی بہتری کے بعد سکردو منتقل کیا جائے گا جہاں انہیں مزید طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ علاقائی حکام اور ریسکیو ٹیم نے اس کامیاب مشن پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مستقبل میں بھی کوہ پیماؤں کی حفاظت کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کریں گے۔

    براڈ پیک، جو اپنے شدید موسم اور مشکل چڑھائی کی وجہ سے دنیا کی مشکل چوٹیوں میں شمار ہوتی ہے، پر اس حادثے نے ایک بار پھر کوہ پیمائی کی جان لیوا نوعیت کو اجاگر کیا ہے۔

  • وزیراعلیٰ مریم نواز کا اپنی چھت اپنا گھر منصوبے کی رفتار مزید تیز کرنے کا حکم

    وزیراعلیٰ مریم نواز کا اپنی چھت اپنا گھر منصوبے کی رفتار مزید تیز کرنے کا حکم

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت “اپنی چھت اپنا گھر” منصوبے پر اہم اجلاس ہوا،

    وزیر اعلی مریم نواز شریف کو منصوبے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی،51 ہزار سے زائد خاندانوں کا خواب حقیقت بن گیا،وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اپنی چھت اپنا گھر منصوبے کی رفتار مزید تیز کرنے کا حکم دیا،بریفنگ میں بتایا گیا کہ اپنی چھت اپنا گھر پروگرام کے پلیٹ فارم سے 51 ہزار نو سو گیارہ نادار خاندانوں کو قرضہ فراہم کیا جا چکا ہے۔اپنی چھت اپنا گھر پروگرام کے تحت اب تک 60 ارب 50 کروڑ روپے کی خطیر رقم تقسیم کی جا چکی ہے-45,178 گھر زیر تعمیر ہیں جبکہ 6,160 گھر مکمل ہو چکے ہیں-

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کاکہنا تھا کہ ہر فیصلے کامقصد عوام کی ترقی،تحفظ اور سہولت ہے یہی قائد محمد نواز شریف کا ویژن ہےاور میرا عہد-جس دن ایک غریب کے سر پر چھت آ جاتی ہے اس دن ریاست کامیاب ہو جاتی ہے-روایتی سیاست کا دروازہ بند کیا، اور خدمت کا در کھول دیا-اپنی چھت اپنا گھر محض اینٹوں اور دیواروں کا منصوبہ نہیں نادار افراد کے لئے نئی زندگی کا آغاز ہے-پاکستان میں پہلی بار ہوا ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر غریب اور بے گھر خاندانوں کیلئے عملی اقدامات ہو رہے ہیں۔میری دن رات کوشش ہے کہ پنجاب کا کوئی شہری بغیر چھت کے نہ رہے-

  • اوکاڑہ میں آسمانی بجلی گرنے کا المناک واقعہ، 2 افراد جاں بحق

    اوکاڑہ میں آسمانی بجلی گرنے کا المناک واقعہ، 2 افراد جاں بحق

    اوکاڑہ کے علاقے حویلی لکھا میں آسمانی بجلی گرنے سے دو افراد جان کی بازی ہار گئے۔ ریسکیو حکام کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب جاں بحق افراد اور ایک زخمی لڑکی کھیتوں میں کام کر رہے تھے۔مقامی ذرائع کے مطابق، حادثہ اتنا شدید تھا کہ ایک نوجوان اور ایک خاتون موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے جبکہ ایک لڑکی شدید زخمی حالت میں قریبی ہسپتال منتقل کی گئی ہے۔ ریسکیو ٹیم نے موقع پر پہنچ کر زخمی کو فوری طبی امداد کے لیے اسپتال پہنچایا۔

    حویلی لکھا کے رہائشیوں نے بتایا کہ آسمان پر گرج چمک کے دوران اچانک بجلی گرتی ہوئی ان کے نزدیک کھیتوں میں موجود افراد کو جاں بحق کر دیا۔ حکام نے بتایا کہ موسمی حالات کے پیش نظر کسانوں کو خاص احتیاط برتنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔