Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • انڈونیشیا، کشتی ڈوبنے سے 4 افراد جاں بحق، 38 لاپتا

    انڈونیشیا، کشتی ڈوبنے سے 4 افراد جاں بحق، 38 لاپتا

    انڈونیشیا کے مشہور سیاحتی مقام، جزیرہ بالی کے قریب ایک دلخراش حادثہ پیش آیا ہے جہاں ایک کشتی سمندر میں ڈوب گئی، جس کے نتیجے میں اب تک 4 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں، جبکہ درجنوں افراد کی تلاش جاری ہے۔

    تفصیلات کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ گزشتہ شب پیش آیا جب ایک بڑی کشتی، جس میں مجموعی طور پر 65 افراد سوار تھے، بالی کے ساحلی علاقے کے قریب اچانک سمندر میں ڈوب گئی۔ کشتی میں سوار افراد میں 12 عملے کے ارکان بھی شامل تھے۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثے کے فوری بعد ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور اب تک 23 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔ تاہم 38 افراد تاحال لاپتا ہیں جن کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن بھرپور انداز میں جاری ہے۔ مقامی نیوی، کوسٹ گارڈز اور امدادی ادارے مل کر تلاش و بچاؤ کی کارروائیاں انجام دے رہے ہیں۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق کشتی ڈوبنے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ ابتدائی طور پر خراب موسم اور ممکنہ تکنیکی خرابی کو حادثے کی ممکنہ وجوہات قرار دیا جا رہا ہے، تاہم حتمی رپورٹ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سامنے آئے گی۔کچھ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ کشتی روانگی کے وقت سے ہی ہچکولے کھا رہی تھی اور عملہ بھی پریشان نظر آ رہا تھا۔ اچانک ایک زوردار آواز سنائی دی، جس کے بعد کشتی پانی میں جھکنے لگی اور تھوڑی ہی دیر میں مکمل طور پر الٹ گئی۔انڈونیشین حکام نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے .

  • سلامتی کونسل میں پاکستان کی سربراہی، بھارت کی سفارتی شکست

    سلامتی کونسل میں پاکستان کی سربراہی، بھارت کی سفارتی شکست

    پاکستان کی سفارتی حکمت عملی اور دہشتگردی کے خلاف مؤثر اقدامات کی عالمی سطح پر پزیرائی ہوئی ہے

    بھارت کے پاکستان مخالف جھوٹے پراپیگنڈے کوایک بار پھر شدید دھچکا لگا ہے،پاکستان کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا صدر مقرر کر دیا گیا،کچھ روز قبل ہی پاکستان کو اقوامِ متحدہ کی ‘کاؤنٹر ٹیرر ازم کمیٹی’ کا نائب چیئرمین بنایا گیا تھا،پاکستان کی بڑھتی ہوئی عالمی مقبولیت اور پزیرائی نے بی جے پی اور کانگریس کے درمیان سیاسی جنگ چھیڑ دی،کانگریس رہنماوں نے مودی سرکارکو سفارتی ناکامی پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا

    کانگریس کے میڈیا اور عوامی روابط کے سربراہ، پون کھیرا نے اپنے بیان میں کہا "مودی حکومت پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے میں ناکام رہی ہے”پہلگام حملے کے بعد مودی حکومت نے فوجیوں اور عوام کی قربانیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے انہیں دھوکہ دیا ہے، کانگریس کی رہنما رینیکا چودھری نے ایک پوسٹ میں کہا "میرا مودی سے سوال ہے کہ کیا ہماری خارجہ پالیسی ناکام ہو گئی ہے؟”وہ چار دہشت گرد جو پہلگام حملےمیں ملوث ہیں، ابھی تک کیوں آزاد ہیں؟، پہلگام واقعے کے بعدانٹیلی جنس کی ناکامی کا ذمہ دار کون ہے؟،151 دورے، 72 ممالک، بے شمار سفارتی ملاقاتیں، مگر کوئی کامیابی نہ ملی ،عوام کو فوری وضاحت چاہیے،پہلگام حملے کے بعد مودی حکومت نے پاکستان مخالف جھوٹا بیانیہ پھیلایا، آپریشن سندور کو انسداد دہشت گردی قرار دینے کی عالمی سفارتی مہم ناکام اور جھوٹ پر مبنی ثابت ہوئی،

    ناکام اور جھوٹ پر مبنی آپریشن سندور کو انسداد دہشت گردی قرار دینے کی عالمی سفارتی مہم چلائی گئی،آپریشن سندور کی جھوٹی مہم عالمی سطح پر بری طرح ناکام ثابت ہوئی،مودی کی ناکام سفارتی حکمت عملی نے بھارت کو عالمی تنہائی میں دھکیل دیا ہے

  • مودی کی خارجہ پالیسی پر بھارت میں تنقید جاری

    مودی کی خارجہ پالیسی پر بھارت میں تنقید جاری

    مودی سرکار کی خارجہ پالیسی پر شدید تنقیدجاری ہے

    مودی سرکار کی خارجہ پالیسی دکھاوے اور نعرے بازی تک محدود، بھارت عالمی سطح پر تنہائی کا شکارہو گیا ہے،آپریشن سندور کے دوران کسی بھی ملک کی جانب سے بھارت کی کھل کر حمایت نہ کی گئی ،اس کے برعکس پاکستان کے سفارتی تعلقات کو عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی،کانگریس رہنما پرمود تیواری نے مودی ناکام سفارتی حکمت عملی کو تنقید کا نشانہ بنایا ،پرمود تیواری کا کہنا تھا کہ آپریشن سندور کے دوران ایک بھی ملک ایسا نہیں تھا جس نے بھارت کی کھل کے حمایت کی ہو،چین اور ترکی جیسے طاقتور ممالک نے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا، مودی کا “اب کی بار، ٹرمپ سرکار” کا نعرہ بھی ناکام رہا جب ٹرمپ نے آپریشن سندور کے دوران بھارت سے دوری اختیار کی، ٹرمپ حکومت نے ثالثی کا دعویٰ کر کے پاکستان کو برابر کا فریق تسلیم کیا،مودی صرف غیرملکی دوروں میں مصروف رہے، لیکن ان دوروں سے بھارت کو کوئی ٹھوس سفارتی فائدہ نہیں پہنچا، آپریشن سندور کے دوران عالمی طاقتوں کی خاموشی نے واضح کر دیا کہ مودی سرکار کی خارجہ پالیسی ناکام رہی

  • تلنگانہ میں بی جے پی اندرونی خلفشار کا شکار

    تلنگانہ میں بی جے پی اندرونی خلفشار کا شکار

    تلنگانہ میں بی جے پی اندرونی خلفشار کا شکارہو گئی ہے

    اندرونی اختلافات اور خلفشار نے بی جے پی کو غیر مستحکم اور کمزور سیاسی جماعت بنا دیا،سفارتی ناکامیوں کے بعد مودی کی جماعت بی جے پی کے رہنما اقتدار اور عہدوں کی ہوس کا شکار ہو گئے،انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق "تلنگانہ میں رام چندر راؤ کو پارٹی صدر بنانےپر بی جے پی کے رہنما تھاکر راجہ سنگھ نے استعفیٰ دے دیا”رام چندر راؤ کو پارٹی صدر بنانے کے خلاف تھاکر راجہ سنگھ نے شدید احتجاج کیا، راجہ سنگھ شدید مایوسی کے بعد حمایتی کونسلرز کو دھمکیاں دینے پر اتر آئے،راجہ سنگھ نے اپنے استعفے میں لکھا کہ لاکھوں کارکنوں کو نظرانداز کیا جا رہا ہے،

    راجہ سنگھ نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ” پارٹی کے بعض سینئر رہنما ذاتی مفادات کی بنیاد پر فیصلے کر رہے ہیں اور کارکنوں کی رائے کو نظر انداز کر رہے ہیں” بی جے پی میں قربانیاں دینے والوں کو دھتکارا جا رہا ہے،بی جے پی کے اندر اقتدار کے لالچی لوگ تلنگانہ میں پارٹی کو کامیاب نہیں دیکھنا چاہتے،

    انڈین ایکسپریس کے مطابق راجا سنگھ تیسری بار گوشا محل سے ایم ایل اے منتخب ہوئے ہیں، مگر اب پارٹی قیادت سے نالاں ہیں، تلنگانہ میں قیادت پر اختلافات بی جے پی کی ٹوٹ پھوٹ اور مرکز کی ناکامی کو بے نقاب کرتے ہیں،راجا سنگھ کو معطل کرکے انتخابات سے قبل بحال کرنا اور بعد میں نظر انداز کرنا ،یہ بی جے پی کی مفاد پرستی ہے

  • کواڈ کا غیر جانب دار مؤقف، پاکستان کی سفارتی حکمت عملی کامیاب

    کواڈ کا غیر جانب دار مؤقف، پاکستان کی سفارتی حکمت عملی کامیاب

    کواڈ کا غیر جانب دار مؤقف، پاکستان کی سفارتی حکمت عملی کامیاب

    پہلگام واقعے پر کواڈ ممالک کا واشنگٹن میں ایک مشترکہ بیان جاری کیا گیا ہے،سی این بی سی کے مطابق:
    "کواڈ ممالک ( بھارت، امریکہ جاپان، آسٹریلیا) کی جانب سے پہلگام واقعے کی شدید مذمت اور فوری انصاف کا مطالبہ کیا گیا ہے،تاہم کواڈ مشترکہ بیانیے میں نہ پاکستان کا نام لیا گیا اور نہ ہی پاکستان کو حملے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا، بھارت کے پاکستان پر عائد کردہ الزامات کو عالمی برادری نے ایک بار پھر مکمل طور پر مسترد کر دیا ،کواڈ کا مشترکہ بیان بھارتی بیانیے کی عالمی سطح پر عدم قبولیت کا منہ بولتا ثبوت ہے ،بھارت نے کواڈ تنظیم میں بھی پاکستان کو دہشتگردی سے جوڑنے کی ناکام کوشش کی،اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے بھارت کے یکطرفہ الزامات کے بجائے قانونی شواہد اور بین الاقوامی ضوابط پر انحصار کرتے ہیں،عالمی برادری کی غیر جانبداری اور پاکستان کا نام نہ لینا، پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی کی کامیابی کی عکاسی ہے،اس کے برعکس، بھارت کی خارجہ پالیسی ایک بار پھر ناکامی کا شکارہوئی ہے،مودی سرکار پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کے بجائے خود عالمی سطح پر بے اعتبار ثابت ہوئی،پہلگام حملے پر عالمی ردعمل اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ پاکستان اب ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر تسلیم کیا جا چکا ہے

  • وزیراعظم سے گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات،سانحہ سوات پر بریفنگ

    وزیراعظم سے گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات،سانحہ سوات پر بریفنگ

    وزیراعظم محمد شہباز شریف سے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی ملاقات ہوئی ہے

    گورنر خیبر پختونخوا نے وزیراعظم کو دریائے سوات میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے حوالے سے بریفنگ دی،وزیر اعظم نے قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا اور متعلقہ اداروں کو اس قسم کے واقعات کے تدارک اور روک تھام کے لئے اپنی استعداد بڑھانے کی ہدایت کی،ملاقات میں مجموعی ملکی صورت حال پر بھی تبادلہء خیال کیا گیا

    ملاقات میں وفاقی وزیر کشمیر، گلگت بلتستان و سرحدی امور انجینئر امیر مقام ، وفاقی وزیر پبلک افیئرز یونٹ رانا مبشر اقبال، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ ، وزیر مملکت برائے پاور عبدالرحمان کانجو اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور طلحہ برکی بھی موجود تھے۔

  • تواہین عدالت کے مرتکب سیشن جج حویلی راجہ امتیاز احمد سپریم کورٹ سےگرفتار

    تواہین عدالت کے مرتکب سیشن جج حویلی راجہ امتیاز احمد سپریم کورٹ سےگرفتار

    آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ کے فل بینچ نے ایک اہم توہینِ عدالت کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے سیشن جج حویلی، راجہ امتیاز کو تین دن قید کی سزا سنائی ہے۔ چیف جسٹس راجہ سعید اکرم خان کی سربراہی میں قائم فل بینچ نے فیصلہ سنایا، جس کے بعد عدالت نے جج کو کمرۂ عدالت ہی سے گرفتار کرنے کا حکم جاری کیا۔

    پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے سیشن جج راجہ امتیاز کو عدالت کے اندر سے حراست میں لے لیا، جس کے مناظر عدالت میں موجود افراد نے حیرت اور سنجیدگی سے دیکھے۔فیصلے میں سپریم کورٹ نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ "سیشن جج راجہ امتیاز نے سپریم کورٹ کی اتھارٹی کو چیلنج کیا، اور اعلیٰ عدالتی احکامات کے برعکس ایک منشیات کے ملزم کی ضمانت منظور کی۔”عدالت نے مزید کہا کہ راجہ امتیاز نے عدالت میں جھوٹ بول کر نہ صرف عدالتی وقار کو مجروح کیا بلکہ انصاف کے عمل کو بھی نقصان پہنچایا۔ چیف جسٹس نے فیصلے میں یہ بات واضح کی کہ کسی بھی جج کو آئین و قانون سے بالا تر سمجھا نہیں جا سکتا اور عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ناقابلِ قبول ہے۔

    اس فیصلے کے بعد عدالتی و قانونی حلقوں میں شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔ ماہرینِ قانون کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ایک واضح پیغام ہے کہ آزاد جموں و کشمیر کی اعلیٰ عدلیہ اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے، چاہے مخاطب عدالتی نظام کا کوئی رکن ہی کیوں نہ ہو۔

    توہینِ عدالت کا یہ کیس اس وقت سامنے آیا جب سیشن جج راجہ امتیاز نے ایک ایسے ملزم کو ضمانت پر رہا کیا جس کی درخواستِ ضمانت کو سپریم کورٹ پہلے ہی مسترد کر چکی تھی۔ اس اقدام کو سپریم کورٹ نے اپنی اتھارٹی کو چیلنج کرنے کے مترادف قرار دیا۔

  • باجوڑ دھماکہ قابل مذمت،اسسٹنٹ کمشنر کی شہادت قومی سانحے سے کم نہیں،حافظ خالد نیک

    باجوڑ دھماکہ قابل مذمت،اسسٹنٹ کمشنر کی شہادت قومی سانحے سے کم نہیں،حافظ خالد نیک

    دہشت گردی کے خلاف پوری قوم اور سیاسی و عسکری قیادت متحد ہے،حافظ خالد نیک

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل حافظ خالد نیک نے باجوڑ بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ معصوم انسانی جانوں کا ضیاع ایک ناقابل معافی جرم ہے۔اسسٹنٹ کمشنر فیصل اسماعیل سمیت دیگر اہلکاروں کی شہادت ایک قومی سانحے سے کم نہیں، شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہیں.

    حافظ خالد نیک کا کہنا تھا کہ باجوڑ دھماکے میں اسسٹنٹ کمشنر ناوگئی، تحصیلدار ناوگئی وکیل، ایک پولیس صوبیدار اور پولیس اہلکار سمیت قیمتی جانوں کا نقصان ہوا،پاکستان میں دہشت گردی کی لہر بڑھ رہی ہے اور خیبر پختونخوا و بلوچستان دشمن قوتوں کا ہدف رہا ہے،دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں انہی علاقوں کی عوم نے دی ہیں، دہشت گردی کے خلاف پوری قوم اور سیاسی و عسکری قیادت متحد ہے، مرکزی مسلم لیگ وطن عزیز کو امن کا گہواہ بنانے کے لئے میدان عمل میں ہے، نفرت کی سیاست،انتشار، دہشتگردی کے خاتمے کے لئے اتحاد و یکجہتی ضروری ہے،ہم اس مشکل وقت میں شہداء کے لواحقین کے ساتھ کھڑے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعاگو ہیں کہ وہ شہداء کو اعلیٰ درجات عطا فرمائے اور زخمیوں کو جلد صحتیابی نصیب کرے۔

  • پنجاب کے تمام اسکولوں میں مالیاتی خواندگی کا آغاز ،دستاویزات پر دستخط

    پنجاب کے تمام اسکولوں میں مالیاتی خواندگی کا آغاز ،دستاویزات پر دستخط

    2025 پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن (PEF)، کارانداز پاکستان(Karandaaz Pakistan) ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP)کے ذیلی ادارے، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف بینکنگ اینڈ فنانس (NIBAF) اور دی بینک آف پنجاب (BoP) نے شراکت کی ایک دستاویز پر باضابطہ دستخط کیے ہیں جس کا مقصد پور ے پنجاب میں، پاکستان ایجوکیشن فاونڈیشن کے زیر انتظام چلنے والے تمام اسکولوں میں مالیاتی خواندگی کو ضمنی تعلیم کے طور پر متعارف کروانا ہے۔ یہ اقدام پاکستان کی قومی مالی شمولیت کی حکمتِ عملی (National Financial Inclusion Strategy) اور سنہ2025ء تا سنہ2029ء کی قومی مالیاتی تعلیم کے روڈ میپ سے ہم آہنگ ہے، جس کا مقصد سنہ2028ء تک مالیاتی خواندگی کے مواد کو قومی نصاب کا حصہ بنانا ہے۔

    یہ مشترکہ اقدام ایک لاکھ سے زائد طلبہ کو مالیاتی خواندگی فراہم کرے گا۔ پائلٹ مرحلے میں، تقریباً 2,000 اساتذہ اور 25 ماسٹر ٹرینرز کو تربیت دی جائے گی تاکہ وہ فاؤنڈیشن کے 1,000 اسکولوں میں مالیاتی تعلیم کے سیشن منعقد کر سکیں ۔ مالیاتی تعلیم میں آمدنی کے حصول، بچت، بجٹ سازی، اور ڈیجیٹل بینکنگ جیسے موضوعات شامل ہوں گے۔ نِیباف (NIBAF) اس منصوبے کے عملی نفاذ کی قیادت کرے گا، اور اس کے ساتھ ایک قلیل مدتی نگرانی کا مرحلہ بھی ہوگا تاکہ اسکولوں میں تدریس کے معیار کو یقینی بنایا جا سکے۔

    شراکت کی دستاویز پر دستخط کرنے کی تقریب میں جن افراد نے شرکت کی اُن میں سیکریٹری اسکول ایجوکیشن،خالد نذیر وٹو، ؛چیئرمین،پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن ملک شعیب اعوان، ؛پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے منیجنگ ڈائریکٹر، شاہد فرید ؛ پنجاب ایجوکیشن انیشی ایٹوز منیجمنت اتھارٹی (PEIMA)کے چیئرپرسن،علی رضا ؛ وزیر اعلیٰ کی ایڈوائزری کمیٹی برائے تعلیم کے رُکن،شکیل احمد؛ کارانداز پاکستان کےچیف ڈیجیٹل آفیسر،شرجیل مرتضیٰ،اورنیباف پاکستان کی پروگرام لیڈ،ثنا بلال، شریک چیف ایگزیکٹو آفیسر،لبنیٰ فاروق ملک؛ ڈائریکٹر لرننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ،ساجد علی؛ پروجیکٹ ڈائریکٹر سلمان شہزاد، اوردی بینک آف پنجاب کے چیف آف اسٹاف اینڈ اسٹریٹیجی، اور گروپ ہیڈ،رضا بشیر شامل تھے۔

    یہ اقدام ایک کامیاب ماڈل پر مبنی ہے جو اس سے قبل وفاقی وزارت برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت (MoFE&PT) اور وفاقی محکمہ تعلیم (پی ڈی ای) کے اشتراک سے وفاقی اسکولوں میں نافذ کیا گیا اور،بعد ازاں،مالیاتی تعلیم کو ہفتہ وار نظام الاوقات میں شامل کیا گیا تھا۔ پنجاب میں اس پروگرام کا آغاز نچلی سطح پر صلاحیت سازی کے لیے ایک اہم مداخلت کی حیثیت رکھتا ہے، جو پاکستان کے پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) سے وابستگی کی عکاسی کرتا ہے، بالخصوص ہدف 4 (معیاری تعلیم)، ہدف 8 (باعزت روزگار اور معاشی ترقی)، اور ہدف 10 (عدم مساوات میں کمی) جیسے اہداف شامل ہیں۔

    ابتدائی مالیاتی تعلیم کی اہمیت پر تبصرہ کرتے ہوئے سیکرٹری،اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ، جناب خالد نذیر وٹو نے کہا:”یہ ایک قابلِ تحسین کوشش ہے اور وقت کی اہم ضرورت بھی۔ یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ مختلف فریقین اس اہم شعبے پر توجہ دینے کے لیے یکجا ہو رہے ہیں۔ مالیاتی خواندگی کو زندگی کی ایک بنیادی مہارت کے طور پر دیکھنا چاہیے اور ایسے اقدامات کو پنجاب کے مزید اسکولوں تک وسعت دینا چاہیے۔“

    ایک مشترکہ بیان میں پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے چیئرمین ،ملک شعیب اعوان اور پیما کے بورڈ آف گورنرز کے چیئر پرسن، علی رضا نے کہا:”ہم پاکستان ایجوکیشن فاؤنڈیشن کےاسکولوں میں مالیاتی خواندگی کو منظم انداز میں متعارف کرانے کی اس کوشش کو بے حد سراہتے ہیں۔ یہ خوش آئند ہے کہ اسے پائلٹ پروگرام کے طور پر نافذ کیا جا رہا ہے، جو آئندہ وسعت کے لیے سیکھنے کا موقع فراہم کرے گا۔ یہ تصور بروقت اور انتہائی ضروری ہے، اور ہم اس اقدام کو پنجاب کے مزید اسکولوں تک پھیلانے کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔“

    اس اقدام کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے، پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے منیجنگ ڈائریکٹر، شاہد فرید نے کہا:”یہ شراکت ہمارے طلبہ کو عملی زندگی میں کامیابی کے لیے تیار کرنے میں مدد دیتی ہے۔ مالیاتی خواندگی نہایت اہم ہے، اور ہمیں خوشی ہے کہ ہم اسے پاکستان ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے اسکولوں کے نصاب میں شامل کر رہے ہیں تاکہ طلبہ کو کلاس روم سے باہر کی زندگی کے لیے بہتر طور پر تیار کیا جا سکے۔“

    تعاون کی حکمتِ عملی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے، کارانداز پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، وقاص الحسن نے کہا:”مالیاتی خواندگی ایک بنیادی مہارت ہے جسے نوجوانوں کو ان کے ، ان برسوں میں سکھانا ضروری ہے جب ان کا کیرئیرتشکیل پا رہا ہوتا ہے۔ یہ نہ صرف انہیں ذاتی مالی معاملات کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دے گی بلکہ انہیں کاروبار کو ایک پیشہ ورانہ راستے کے طور پر اپنانے کی مہارت دے گی اور وسیع تر معیشت میں کارفرما معاشی عوامل کو سمجھنے کے قابل بنائے گی۔ یہ اقدام مالی شمولیت کے فروغ کے لیے مؤثر، قابلِ توسیع اور نظامی سطح کی مداخلتوں کے ذریعے کارانداز کے جاری عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ ہم ملک بھر میں اس خیال کو مقبول ہوتے دیکھ رہے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ سرکاری تعلیمی محکمے اور نجی شعبے کے تعلیمی ادارے/معاونین اس ماڈل کو اپنانے پر غور کریں گے۔“

    نیباف کے نقطۂ نظر کو بیان کرتے ہوئے نِیباف کی شریک چیف ایگزیکٹو آفیسر، لبنیٰ فاروق ملک نے کہا:”مالیاتی صلاحیت زندگی کی ایک بنیادی مہارت ہے، اور ہمیں فخر ہے کہ ہم اس بامقصد شراکت میں اپنا تعلیمی مواد اور تربیتی مہارت فراہم کر رہے ہیں۔ نِیباف کا مقصد معیاری تربیت اور تعلیم کو یقینی بنانا ہے جو ذمہ دار مالی رویے کو فروغ دے۔“

    مالیاتی شعبے کے کردار پر تبصرہ کرتے ہوئے دی بینک آف پنجاب کے چیف آف اسٹاف اینڈ اسٹریٹیجی، اور گروپ ہیڈ، رضا بشیر نے کہا:”مالیاتی خواندگی ڈیجیٹل مالی شمولیت کے لیے ایک بنیادی شرط ہے۔دی بینک آف پنجاب کو اس مشترکہ کاوش کا حصہ بننے پر فخر ہے، جو ایک زیادہ مالی طور پر بااختیار نسل کی بنیاد رکھ رہی ہے۔“

    ادارہ جاتی ہم آہنگی، نفاذ کے شراکت داروں کی موجودگی، اور مضبوط پالیسی پس منظر کے ساتھ، یہ اقدام ملک کے دیگر صوبوں میں وسیع پیمانے پر اپنانے کے لیے تیار ہے۔ کارانداز، پاکستان ایجوکیشن فاؤنڈیشن، نیباف پاکستان، اور دی بینک آف پنجاب جیسے ماحولیاتی نظام کے تمام فریقین — بشمول عطیہ دہندگان، سرکاری اداروں اور سول سوسائٹی کے ارکان زور دیتے ہیں کہ وہ ان کوششوں کو وسعت دینے کے لیے تعاون کریں اور مالیاتی خواندگی کو تمام پاکستانی طلبہ کے لیے تعلیم کا ایک بنیادی جزو بنا دیں۔

  • یوٹیلیٹی اسٹورز کی بندش کا حکومت کا فیصلہ شرمناک ہے، خالد مسعود سندھو

    یوٹیلیٹی اسٹورز کی بندش کا حکومت کا فیصلہ شرمناک ہے، خالد مسعود سندھو

    یوٹیلٹی اسٹور ملازمین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے،حکومت بندش کا فیصلہ واپس لے،خالد مسعود سندھو

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ یوٹیلیٹی اسٹورز کی بندش کا حکومت کا فیصلہ شرمناک ہے،1700 اسٹورز سے 5 ہزار سے زائد ملازمین کی بے روزگاری کا ذمہ دار کون ہو گا؟ مرکزی مسلم لیگ یوٹیلٹی اسٹور ملازمین کو تنہا نہیں چھوڑے گی،حکومت بندش کا فیصلہ واپس لے،

    خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ ایک طرف پٹرول،گیس مہنگی ،دوسری جانب بے روزگاری کا طوفان لایا جا رہا،حکمران عوام کو ریلیف نہیں دے سکتے تو اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں، مرکزی مسلم لیگ کئی شہروں میں سستا سہولت بازار چلا کر عوام کو ریلیف دے رہی ہے،مرکزی مسلم لیگ کے سستے سہولت بازاروں میں اشیاء خورونوش کی قیمتیں عام بازاروں کی نسبت کم رکھی جاتی ہیں، اگر مرکزی مسلم لیگ عوام کے لئے سستے سہولت بازار چلا سکتی ہے تو حکمران عوام کو ریلیف دینے والے یوٹیلٹی اسٹورز کو بند کر کے ہزاروں گھرانوں کو فاقہ کشی پر مجبور کیوں‌کر رہے ہیں،پاکستان میں بے روزگاری پہلے عروج پر ہے، نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں لئے پھر رہے ہیں لیکن نوکریاں نہیں ملتیں ایسے میں مزید ملازمین کی بے روزگاری سے ملک میں ایک نیا بحران کھڑا ہو گا،حکمران اپنی عیاشیوں کو کم کرتے ہوئے عوام کو ریلیف دیں.