Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ہتک عزت کیس، سابق پی ٹی آئی رہنما نے صحافی مرتضیٰ علی شاہ سے مانگی معافی

    ہتک عزت کیس، سابق پی ٹی آئی رہنما نے صحافی مرتضیٰ علی شاہ سے مانگی معافی

    جیو لندن کے رپورٹر پر جھوٹے الزمات لگانے والے تحریک انصاف کے سابق عہدیدار نے غیر مشروط معافی مانگ لی۔

    تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی کے سابق ایڈیشنل جنرل سیکرٹری نارتھ ویسٹ ریجن ریاض حسین نے 4 برس تک اپنے مؤقف کا دفاع کرنے کے بعد بلآخر جرم تسلیم کرتے ہوئے غیر مشروط معافی مانگ لی۔ ریاض حسین نے تسلیم کیا کہ اس نے جیو کے رپورٹر مرتضیٰ علی شاہ کو بدنام کیا اور اس نے 40 ہزار پاؤنڈ کے قانونی اخراجات ادا کردیے ہیں جب کہ ریاض حسین نے اب مرتضیٰ علی شاہ کے خلاف لگائے گئے جھوٹے الزامات سے خود کو الگ کرتے ہوئے کیس سے دستبرداری اختیار کرلی۔ریاض حسین نے اردو میں پڑھا گیا معافی نامہ فیس بک پر بھی لگادیا جس میں اس نے میں تسلیم کرتا ہوں کہ ’مسٹر شاہ کے خلاف الزامات بے بنیاد تھے، یہ بھی تسلیم کرتا ہوں کہ مسٹر شاہ کرپٹ نہیں اور نہ وہ اپنی صحافی سے پاکستان کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور کمیونٹی کو گمراہ بھی نہیں کررہے‘۔

    ریاض حسین نے مختلف اوقات میں الزامات لگائے تھے کہ مرتضیٰ علی شاہ جان بوجھ کر توجہ کے حصول کے لیے بے بنیاد الزمات لگا رہے ہیں جب کہ ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا کہ مرتضیٰ علی شاہ کے خلاف الزامات ہتک آمیز تھے، انہوں نے جھوٹی خبریں دیں نہ اور سامعین کو گمراہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق مقدمے میں دیگر دو نامزد سابق عہدیداران میں نارتھ ویسٹ ریجن کے سابق صدر محمد عمران اور نارتھ ویسٹ کی جنرل سیکرٹری شہناز صدیقی شامل ہیں۔ جیو کے رپورٹر نے جھوٹے الزامات کی مہم چلانے پر تینوں افراد کے خلاف مقدمے کا آغاز تقریباً 5 برس قبل کیا تھا، سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جنگ و جیو کے ایڈیٹر انچیف کی گرفتاری کے حوالے شائع ہونے والی خبروں کے بعد رپورٹر کے خلاف ہتک آمیز مہم شروع ہوئی تھی۔

    عدالت نے گزشتہ برس اسٹرائیک آؤٹ درخواست کے بعد تینوں کو 23,115.60 پاؤنڈ صحافی کو ادا کرنے کا حکم دیا تھا جس کی تعمیل نہیں ہوئی۔عدالت قانونی اخراجات کے حصول کیلئے شہباز صدیقی کی پراپرٹی پر صحافی کے حق میں چارجنگ آرڈر بھی جاری کرچکی ہے، دفاع کرنے والے دیگر 2 ستمبر میں عدالت میں حاضر ہوں گے تاکہ ڈیبیرنگ درخواست کا سامنا کرسکیں گے۔

    مارچ 2020 میں مرتضیٰ علی شاہ کے خلاف تینوں افراد کی طرف سے چلائی گئی مہم کو پارٹی کی برطانیہ اور پاکستان کی قیادت کی حمایت حاصل نہیں تھی۔

  • ٹک ٹاکر کاشف ضمیر ایک بار پھر گرفتار

    ٹک ٹاکر کاشف ضمیر ایک بار پھر گرفتار

    معروف سوشل میڈیا شخصیت اور ٹک ٹاکر کاشف ضمیر کو ایک بار پھر قانون کی گرفت کا سامنا کرنا پڑا۔ سی آئی اے اقبال ٹاؤن پولیس نے کاشف ضمیر کو چند روز سے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز کی بنیاد پر حراست میں لے لیا ہے، جن میں وہ باوردی اور مسلح گارڈز کے ہمراہ نظر آ رہا تھا۔

    پولیس ذرائع کے مطابق، کاشف ضمیر اور اس کے سیکیورٹی گارڈز کے خلاف تھانہ سی آئی اے اقبال ٹاؤن میں مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ مقدمات میں غیر قانونی اسلحہ کی نمائش، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی وردی کا ناجائز استعمال اور امن عامہ کو خطرے میں ڈالنے جیسی دفعات شامل کی گئی ہیں۔کارروائی کے دوران پولیس نے کاشف ضمیر کے ہمراہ موجود 13 مسلح گارڈز کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ گارڈز کے قبضے سے بھاری تعداد میں اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے، جسے پولیس نے ضبط کر لیا ہے۔ایس پی سی آئی اے کے مطابق، ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا ہے کہ گارڈز کی وردیاں اور اسلحہ لائسنس یافتہ نہیں تھے، جبکہ کاشف ضمیر نے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عوامی مقامات پر سیکیورٹی شو آف کیا۔

    یاد رہے کہ کاشف ضمیر اس سے قبل بھی متنازع حرکات اور جھوٹے دعووں کی بنا پر خبروں کی زینت بنتے رہے ہیں، جن میں ترکی کے معروف اداکار انگین التان (ارطغرل) سے جعلی معاہدہ اور فراڈ کے الزامات بھی شامل ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کی مزید تفتیش جاری ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

  • مخصوص نشستیں،سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں الیکشن کمیشن کا اہم فیصلہ

    مخصوص نشستیں،سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں الیکشن کمیشن کا اہم فیصلہ

    سپریم کورٹ آف پاکستان کے 27 جون 2025 کے فیصلے کے تناظر میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے 24 اور 29 جولائی 2024 کو جاری کیے گئے وہ تمام نوٹیفکیشنز واپس لے لیے ہیں جن کے تحت پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے امیدواروں کی واپسی کو تسلیم کیا گیا تھا۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ نئے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ان نوٹیفکیشنز کو کالعدم قرار دینا سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے پر عمل درآمد کی غرض سے کیا گیا ہے۔ اعلامیے میں مزید واضح کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے نظرثانی اپیلوں پر فیصلہ سناتے ہوئے ان امیدواروں کی واپسی کو غیرقانونی قرار دیا، جس کے بعد کمیشن کے پاس کوئی چارہ نہ رہا سوائے نوٹیفکیشنز واپس لینے کے۔اسی فیصلے کی روشنی میں الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی میں مخصوص نشستوں سے متعلق نیا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔ اس نوٹیفکیشن کے مطابق، خواتین کے لیے مخصوص 16 نشستیں اور اقلیتوں کے لیے 3 نشستیں بحال کر دی گئی ہیں۔ ان نشستوں کی تقسیم درج ذیل ہے،پاکستان مسلم لیگ (ن): 13 نشستیں،پاکستان پیپلز پارٹی: 4 نشستیں،جمعیت علمائے اسلام (ف): 2 نشستیں،الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ مخصوص نشستوں کی بحالی بھی سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کے فیصلے پر مکمل عمل درآمد کی ایک کڑی ہے۔ اس سے قبل 24 اور 29 جولائی 2024 کو مخصوص نشستوں سے متعلق جو نوٹیفکیشنز جاری کیے گئے تھے، انہیں بھی واپس لے لیا گیا ہے۔

    اسلام آباد،الیکشن کمیشن نے 76 مخصوص نشستیں دیگر جماعتوں کو دے دیں،قومی اسمبلی میں خیبرپختونخوا کی خواتین کی 5نشستیں بحال کر دی گئیں،قومی اسمبلی میں خیبرپختونخوا کی ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو 2،2 نشستیں مل گئیں، قومی اسمبلی میں خیبرپختونخوا کی ایک مخصوص نشست جے یو آئی کو مل گئی،قومی اسمبلی میں پنجاب کی خواتین کی 11مخصوص نشستیں بحال .قومی اسمبلی میں پنجاب کی خواتین کی 10نشستیں ن لیگ کو مل گئیں،قومی اسمبلی میں پنجاب کی خواتین کی ایک نشست پیپلز پارٹی کو دی گئی ، قومی اسمبلی کی 3غیر مسلم نشستوں پر ارکان کی رکنیت بحال، قومی اسمبلی میں ن لیگ ، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی کو ایک ایک اقلیتی نشست مل گئی

    خیبرپختونخوا اسمبلی میں خواتین کی 21مخصوص نشستیں بحال، خیبرپختونخوا اسمبلی میں جے یو آئی کو 8 سیٹیں مل گئیں ،
    خیبرپختونخوا اسمبلی میں ن لیگ کو 6 اور پیپلز پارٹی کو5سیٹیں مل گئیں، خیبرپختونخوا اسمبلی میں اے این پی اور پی ٹی آئی پارلیمنٹیرین کو ایک ایک سیٹ ملی .خیبرپختونخوا اسمبلی میں اقلیتوں کی 4نشستیں بھی بحال کر دی گئیں ، خیبرپختونخوا اسمبلی میں جے یو آئی کو 2اقلیتی نشستیں دی گئی ہیں ، خیبرپختونخوا اسمبلی میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو ایک ایک اقلیتی نشست ملی، پنجاب اسمبلی میں خواتین کی 24مخصوص نشستیں بحال ،پنجاب اسمبلی میں خواتین کی 21نشستیں ن لیگ کو مل گئیںپنجاب اسمبلی میں پیپلز پارٹی،آئی پی پی ، ق لیگ کو ایک ایک نشست ملی،سندھ اسمبلی میں خواتین کی 2نشستیں بحال کر دی گئی ،سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کو ایک ایک نشست مل گئی،سندھ اسمبلی میں ایک اقلیتی نشست بھی پیپلز پارٹی کو دے دی گئی

    ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کا یہ اقدام نہ صرف آئینی دائرہ کار میں آتا ہے بلکہ یہ ملک میں انتخابی شفافیت کو فروغ دینے کی ایک اہم کوشش ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں پی ٹی آئی کو ممکنہ طور پر شدید سیاسی دھچکا پہنچ سکتا ہے، جبکہ دیگر جماعتوں کو پارلیمانی طاقت میں اضافہ حاصل ہوا ہے۔الیکشن کمیشن کے مطابق، وہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی روشنی میں مزید اقدامات بھی کرے گا تاکہ انتخابی عمل کو مکمل طور پر آئین و قانون کے مطابق رکھا جا سکے۔

  • سابق وزیراعظم "حسینہ” کو چھ ماہ قید کی سزا

    سابق وزیراعظم "حسینہ” کو چھ ماہ قید کی سزا

    بین الاقوامی جرائم ٹربیونل-1 نے بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کو عدالت کی توہین کے الزام میں چھ ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔ یہ فیصلہ بدھ کے روز تین رکنی بینچ نے سنایا جس کی سربراہی چیئرمین جسٹس محمد غلام مرتضیٰ مجومدر نے کی۔

    ٹربیونل کے فیصلے میں کہا گیا کہ سابق وزیر اعظم نے ایک آڈیو کلپ میں ایسے بیانات دیے جو عدالت کی توہین کے زمرے میں آتے ہیں۔ مذکورہ آڈیو کلپ میں شیخ حسینہ کو یہ کہتے سنا گیا کہ انہیں "227 افراد کو ہلاک کرنے کا اختیار ہے”، جو عدالتی وقار پر براہِ راست حملہ تصور کیا گیا۔عدالت کی جانب سے حسینہ کو پہلے شوکاز نوٹس جاری کیا گیا تھا، لیکن انہیں مقررہ تاریخ تک تسلی بخش جواب نہ دینے پر توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائی گئی۔ فیصلے میں کہا گیا کہ یہ سزا یکم جولائی 2025 سے نافذ العمل ہو گی۔اسی مقدمے میں ایک اور شخص، شکیل اکاند بلبُل، جو گوبندگنج (ضلع گیباندھا) سے تعلق رکھتے ہیں، کو بھی عدالت کی توہین کا مجرم قرار دیتے ہوئے دو ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

    یہ پہلا موقع ہے کہ شیخ حسینہ کو ان کے عہدہ چھوڑنے اور ملک سے فرار ہونے کے بعد کسی عدالتی مقدمے میں سزا سنائی گئی ہے۔ واضح رہے کہ شیخ حسینہ اقتدار چھن جانے کے بعد بھارت چلی گئیں اور وہیں مقیم ہیں، ان کے خلاف کئی سنگین الزامات کے مقدمات زیرِ سماعت ہیں، جن میں قتل، اغواء، اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں شامل ہیں۔

    سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ نہ صرف بنگلہ دیشی سیاست میں ایک نیا موڑ لا سکتا ہے بلکہ عدالتی خودمختاری اور انصاف کی بالادستی کا پیغام بھی دیتا ہے

  • باجوڑ بم دھماکہ، اسسٹنٹ کمشنر سمیت 4 افراد شہید، 11 زخمی

    باجوڑ بم دھماکہ، اسسٹنٹ کمشنر سمیت 4 افراد شہید، 11 زخمی

    خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ کی تحصیل خار میں واقع صدیق آباد پھاٹک کے قریب ہونے والے بم دھماکے میں اسسٹنٹ کمشنر ناوگئی سمیت 4 افراد شہید جبکہ کم از کم 11 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

    واقعہ ناوگئی روڈ پر پیش آیا جب اسسٹنٹ کمشنر کی سرکاری گاڑی پر نامعلوم شدت پسندوں نے حملہ کیا۔ دھماکہ اس وقت ہوا جب قافلہ معمول کی سیکیورٹی کے ساتھ علاقے سے گزر رہا تھا۔شہید ہونے والوں میں اسسٹنٹ کمشنر ناوگئی فیصل اسماعیل، تحصیلدار وکیل، ایک پولیس صوبیدار اور ایک پولیس اہلکار شامل ہیں۔ دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔زخمیوں کو فوری طور پر ڈی ایچ کیو اسپتال خار منتقل کیا گیا، جہاں بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ اسپتال انتظامیہ نے ایمرجنسی نافذ کر دی ہے اور ڈاکٹروں کی اضافی ٹیمیں طلب کر لی گئی ہیں۔سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکہ ریموٹ کنٹرول بم کے ذریعے کیا گیا، تاہم بم ڈسپوزل اسکواڈ اور تفتیشی ادارے موقع پر موجود ہیں اور شواہد جمع کیے جا رہے ہیں۔

  • مولانا فضل الرحمان کی پی ٹی آئی کو یقین دہانی

    مولانا فضل الرحمان کی پی ٹی آئی کو یقین دہانی

    جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی-ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو واضح یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کی جماعت خیبر پختونخوا (کے پی) حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا حصہ نہیں بنے گی۔ نجی ٹی وی کے مطابق یہ اطلاعات ذرائع نے دی ہیں جو دونوں جماعتوں کے مابین جاری رابطوں کی تصدیق کرتی ہیں۔

    ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن نے پی ٹی آئی قیادت کو باور کرایا ہے کہ جے یو آئی-ف صوبائی حکومت کے خلاف سیاسی محاذ آرائی میں شامل نہیں ہوگی، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جے یو آئی-ف کے حمایت یافتہ ارکان عدم اعتماد کی تحریک میں حصہ نہیں لیں گے۔ اس پیش رفت کو سیاسی محاذ پر اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے

    دوسری جانب سیاسی منظر نامے پر ایک اور اہم واقعہ جیل میں قید پی ٹی آئی کے پانچ اہم رہنماؤں سے متعلق سامنے آیا ہے۔ ان رہنماؤں نے پارٹی کو درپیش سنگین بحران سے نکلنے کے لیے مذاکرات کو واحد اور موثر راستہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے پارٹی قیادت کو مشورہ دیا ہے کہ سیاسی چیلنجز کے حل کے لیے آپسی بات چیت اور مذاکرات کی ضرورت ہے ،پارٹی رہنماؤں نے عمران خان کی پالیسی کے خلاف مذاکرات پر زور دیا ہے،عمران خان بات چیت کے حامی نہیں ہیں.

  • مودی سرکار کی لاؤڈ اسپیکر پر اذان پر پابندی

    مودی سرکار کی لاؤڈ اسپیکر پر اذان پر پابندی

    مودی سرکار کی لاؤڈ اسپیکر پر اذان پر پابندی،مودی سرکار نےبھارتی مسلمانوں کی مذہبی آزادی پامال کر دی

    "ممبئی میں مساجد کے لاؤڈ اسپیکروں پر پابندی کے بعداذان پر بھی عملاً پابندی لگادی گئی”اذان سننے کے لیے ممبئی کے مسلمانوں نے ’آن لائن اذان‘ ایپ کا استعمال شروع کردیا، نماز کے اوقات معلوم کرنے کے لیے بھی اب یہی موبائل ایپ استعمال کی جا رہی ہے, ایپ تامل ناڈو کی کمپنی نے تیار کی ہے جو اب ممبئی کی مساجد اور نمازیوں کے ذریعے استعمال کی جا رہی ہے، لاؤڈ اسپیکر پر پابندی کے بعد ممبئی کی کئی مساجد نے ‘آن لائن اذان’ ایپ پر رجسٹریشن کروالی,نماز کے اوقات بھی اب ایپ کے ذریعے معلوم کیے جا رہے ہیں، پانچوں نمازوں کا وقت اور اذان کی اطلاع ایپ دیتی ہے , نمازیوں کو باجماعت نماز کے لیے بھی موبائل نوٹیفکیشن کے ذریعے اطلاع دی جاتی ہے ,

    ممبئی پولیس کمشنر دیوین بھارتی کے مطابق "ممبئی شہر اب مکمل طور پر لاؤڈ اسپیکرز سے پاک ہو چکا ہے”پولیس اہلکاروں نے تمام مذہبی مقامات سے پبلک ایڈریس سسٹمز ہٹانے کی کارروائی کامیابی سے مکمل کر لی ہے, "اب ممبئی شور سے پاک ہو چکا ہے”,مودی سرکار کا مسلمانوں پہ یہ نیا وارکیا بھارت کےمسلمانوں کی مذہبی پہچان مٹانے کی پالیسی کا حصہ ہے؟

  • مودی کا بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ کا جھوٹا نعرہ، کولکتہ  ریپ کیس ریاستی ناکامی کی زندہ مثال

    مودی کا بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ کا جھوٹا نعرہ، کولکتہ ریپ کیس ریاستی ناکامی کی زندہ مثال

    مودی راج میں خاتون ہونا جرم ،بھارت میں اجتماعی زیادتیاں عروج پر ہیں

    مودی سرکار میں خواتین کی جان، عزت اور آزادی غیر محفوظ تعلیمی ادارے جنسی درندگی کے مرکز بن گئے،بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ” صرف نعرہ رہ گیا، مودی حکومت خواتین کو تحفظ دینے میں مکمل ناکام ہو گئی ہے،این ڈی ٹی وی رپورٹ کے مطابق کولکتہ لاء کالج میں 24 سالہ طالبہ کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی گئی ہے، ملزمان میں دو سینئر طالبعلم اور ایک سابق طالبعلم شامل ہیں،متاثرہ طالبہ کو زبردستی گارڈ روم میں بند کر کے زیادتی کا نشانہ بنایاگیا، ملزمان طالبہ کو بلیک میل کرتے رہے،زیادتی کا مرکزی ملزم منوجیت مشرا، سابق طالبعلم اور استاد، کالج میں بااثر سیاسی رابطوں کی بدولت آزاد ہیںً،ملزم منوجیت مشرا "ترنمول کانگریس طلبہ تنظیم” سے وابستہ ہے,واقعے کی اطلاع کالج انتظامیہ کو پولیس یا طلبہ کی بجائے میڈیا کے ذریعے ملی،انتظامیہ کی بے خبری اور سکیورٹی کی سنگین ناکامی بے نقاب ہو گئی

    "25 جون کی رات جنوبی کولکتہ لاء کالج میں، مجرمان نے گارڈ کو ڈرا کر گارڈ روم میں طلبہ کیساتھ زیادتی کی، گارڈز خاموش تماشائی بنے رہے،متاثرہ لڑکی نے ملزمان کی شناخت حروف J، M اور P کے ذریعے کی، سی سی ٹی وی اور میڈیکل رپورٹ نے دعوے کی تصدیق کر دی بھارت کے تعلیمی ادارے اندرونی سکیورٹی کے بحران کا شکار ہیں،وائس پرنسپل کی سنگین غفلت نے کالج کے سکیورٹی نظام کو مکمل طور پر تباہ کر دیا، وائس پرنسپل نے لڑکی کی جان کو خطرے میں ڈال کر ذمے داری سے فرار اختیار کر لیا, بھارت خواتین کے لیے ایک جیل بن چکا ہے،قومی جرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق بھارت میں ہر سال 30,000 سے زائد ریپ کیسز رپورٹ ہوتے ہیں،بھارت میں ہر گھنٹے تقریباً 43 خواتین جنسی استحصال کا شکار ہوتی ہیں،حال ہی میں امریکہ کی جاری کردہ نئی ٹریول ایڈوائزری نے بھی مودی سرکار کی ناکامی پر مہر ثبت کر دی

  • ایران نے آئی اے ای اے سے تعاون معطل کردیا، ایرانی صدر

    ایران نے آئی اے ای اے سے تعاون معطل کردیا، ایرانی صدر

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) سے تعاون معطلی کے قانون کو باضابطہ طور پر نافذ کردیا ہے۔ یہ فیصلہ اسرائیل اور ایران کے مابین حالیہ کشیدگی کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں ایرانی پارلیمنٹ اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے کلیدی کردار ادا کیا۔

    ایرانی خبر رساں ایجنسی "ارنا” کے مطابق، ملک کی پارلیمنٹ نے ایک بل منظور کیا تھا جس کے تحت آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون کو اس وقت تک معطل رکھا جائے گا جب تک ایجنسی پیشہ ورانہ اور غیر جانبدارانہ رویہ اختیار نہیں کرتی۔ اس بل کو ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کی توثیق بھی حاصل ہوچکی ہے، اور اب صدر پزشکیان نے اس قانون پر دستخط کرتے ہوئے اسے نافذ العمل بنا دیا ہے۔

    اس نئے قانون کے تحت، ایران نے آئی اے ای اے کے انسپکٹرز کو اپنی جوہری تنصیبات تک رسائی کی اجازت دینا بند کردی ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کا مؤقف ہے کہ آئی اے ای اے کا رویہ ایران کے خلاف تعصب پر مبنی ہے، خاص طور پر حالیہ اسرائیل ایران کشیدگی کے تناظر میں ایجنسی کا ردعمل غیر متوازن رہا۔

    ایرانی پارلیمانی ذرائع کے مطابق، ایک نیا بل بھی زیر غور ہے جس کے تحت آئی اے ای اے سے تمام تر تعاون اس وقت تک معطل رکھا جائے گا جب تک ادارہ مکمل پیشہ ورانہ اور شفاف رویہ اختیار نہیں کرتا۔ اس ضمن میں ایران کی اعلیٰ قیادت کے اندر سخت موقف اپنایا جا رہا ہے۔

    علاوہ ازیں، ایران کی پارلیمنٹ اور اعلیٰ حکام آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی کے ایران میں داخلے پر پابندی لگانے پر بھی غور کر رہے ہیں۔ ایک سینئر رکن پارلیمنٹ نے اس حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہا کہ "ہم نے سپریم کونسل پر زور دیا ہے کہ رافیل گروسی کے داخلے پر پابندی عائد کی جائے تاکہ ایران کے قومی مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔”

    اس اقدام سے ایران اور عالمی جوہری نگران ادارے کے تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ عالمی سطح پر بھی اس کے سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

  • اسرائیل کا غزہ میں 60 روزہ جنگ بندی کو حتمی شکل دینے کے لیے شرائط سے اتفاق،ٹرمپ

    اسرائیل کا غزہ میں 60 روزہ جنگ بندی کو حتمی شکل دینے کے لیے شرائط سے اتفاق،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں 60 روزہ جنگ بندی کو حتمی شکل دینے کے لیے شرائط سے اتفاق کرلیا ہے۔

    امریکی صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں بتایا ہے کہ میرے نمائندوں کی اسرائیلی حکام سے غزہ کی صورتحال پر آج طویل و نتیجہ خیز ملاقات ہوئی ہے جس میں اسرائیل کی جانب سے غزہ میں 60 روزہ جنگ بندی کو حتمی شکل دینے کے لیے شرائط پر اتفاق کیا گیا،60 روز کے دوران تمام جنگ کے خاتمے کیلئے تمام پارٹیز کے ساتھ مل کرکام کریں گے، قطر اور مصر کے حکام حتمی تجاویز پیش کریں گے، امید ہے حماس اس معاہدے کو قبول کرے گی۔ اگر ایسا نہ ہو ا تو صورتحال مزید خراب ہوتی چلی جائے گی ۔