Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • قازقستان میں عوامی مقامات پر نقاب پہننے پر پابندی عائد

    قازقستان میں عوامی مقامات پر نقاب پہننے پر پابندی عائد

    قازقستان نے عوامی مقامات پر چہرہ چھپانے والے لباس، بالخصوص نقاب، پہننے پر باضابطہ پابندی عائد کر دی ہے۔ ملک کے صدر قاسم جومارت توقایف نے پیر کے روز اس پابندی کے قانون پر دستخط کر دیے، جس کے تحت ایسے لباس پر پابندی ہوگی جو چہرے کی شناخت میں رکاوٹ بنتے ہیں۔

    سرکاری اعلامیے کے مطابق، یہ اقدام عوامی تحفظ، سماجی ہم آہنگی، اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ بل میں واضح کیا گیا ہے کہ "چہرے کو چھپانے والے ایسے تمام لباس جن سے شناخت ممکن نہ ہو، ان کا عوامی مقامات پر استعمال ممنوع قرار دیا گیا ہے۔”قازقستان اس نوعیت کی پابندی لگانے والا وسطی ایشیا کا پہلا ملک نہیں ہے۔ اس سے قبل کئی دیگر مسلم اکثریتی ممالک بھی اس جیسے اقدامات اٹھا چکے ہیں۔

    سال 2024 میں تاجکستان نے سرکاری طور پر حجاب پر مکمل پابندی عائد کی تھی، جس کے بعد خواتین کے لیے اسلامی طرزِ لباس پہننا قانونی طور پر ممنوع قرار پایا۔ اس کے علاوہ ازبکستان اور کرغزستان میں بھی خواتین کے مذہبی لباس، بالخصوص نقاب اور حجاب، پر مختلف نوعیت کی پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں۔

    نقاب اور حجاب پر پابندی کے ان اقدامات پر بین الاقوامی سطح پر بحث جاری ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا مؤقف ہے کہ ان پابندیوں سے مذہبی آزادی متاثر ہوتی ہے، جبکہ متعلقہ حکومتیں اسے قومی سلامتی اور معاشرتی استحکام کے لیے ضروری قرار دیتی ہیں۔قازق حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس قانون پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے انتظامی سزائیں اور جرمانوں کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔

  • جیل میں قید پی ٹی آئی رہنماؤں کا عمران خان سے اختلاف

    جیل میں قید پی ٹی آئی رہنماؤں کا عمران خان سے اختلاف

    سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے جیل میں قید چار سینئر رہنماؤں نے ملک کو درپیش سنگین سیاسی بحران سے نکلنے کا واحد راستہ’’سیاسی مذاکرات‘‘ کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی اور ادارہ جاتی سطح پر فوری مذاکرات کا آغاز کیا جائے۔

    یہ موقف پارٹی کے بانی عمران خان کے اس بیانیے سے مختلف ہے جس میں وہ صرف اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت پر آمادگی ظاہر کرتے رہے ہیں۔سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد، میاں محمود الرشید اور عمر سرفراز چیمہ کی جانب سے دستخط شدہ ایک خط میں زور دیا گیا ہے کہ ادارہ جاتی اور سیاسی سطح پر مذاکرات ضروری ہیں اور مذاکرات فوراً شروع کیے جائیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جیل میں قید رہنماؤں کا یہ خط پارٹی کے کچھ ایسے سرکردہ رہنماؤں کی مشاورت کے ساتھ جاری کیا گیا ہے جو وزیراعظم کی مذاکرات کی پیشکش کا مثبت جواب دینا چاہتے تھے لیکن عمران خان نے ان کی اس رائے کو مسترد کر دیا تھا۔ لاہور کی جیل میں قید ان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ انہیں اس مذاکراتی عمل کا حصہ بنایا جائے، ملکی تاریخ کے اس بدترین بحران سے نکلنے کا واحد طریقہ مذاکرات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات ضروری ہیں، سیاسی سطح پر بھی اور اسٹیبلشمنٹ کی سطح پر بھی۔ خط میں ان رہنمائوں کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں کسی بھی جانب سے پہل کو تنقید کا نشانہ بنانا دراصل اس عمل کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہوگا، اور ایسی رکاوٹ کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مذاکراتی کمیٹی نامزد کی جائے، پیٹرن انچیف عمران خان تک رسائی کو آسان بنایا جائے تاکہ قیادت کے ساتھ مشاورت کیلئے نقل و حرکت آسان ہو سکے، اور وقتاً فوقتاً مذاکراتی عمل جاری رہ سکے۔

    ’’دی نیوز‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے خط کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جیل میں قید رہنماؤں سے ہمیں یہ خط مل گیا ہے، خط اصل ہے، ہم ان کی رائے پر غور کر رہے ہیں تاہم، اس خط کے مندرجات عمران خان کے موقف سے بہت مختلف ہیں۔

    سابق وزیراعظم نے چند روز قبل واضح الفاظ میں اعلان کیا تھا کہ وہ موجودہ حکومتی اتحاد سے کسی قسم کی بات چیت کیلئے تیار نہیں اور صرف اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کو ممکن سمجھتے ہیں۔

    ان کا الزام ہے کہ موجودہ حکمران مبینہ انتخابی دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں آئے ہیں۔یہ پیش رفت پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت کے اندر بڑھتے اختلاف رائے کی عکاس ہے، جہاں پارٹی کے جیل میں قید سینئر رہنما اب کھل کر اقتدار میں بیٹھی موجودہ سیاسی قوتوں سے بھی بات چیت کی حمایت کر رہے ہیں تاکہ موجودہ سیاسی جمود کو توڑا جا سکے۔

  • گھر میں چوری کی واردات میں ملوث خاتون ملزمہ گرفتار

    گھر میں چوری کی واردات میں ملوث خاتون ملزمہ گرفتار

    لاہور پولیس نے شہر میں بڑھتے ہوئے چوری اور ڈکیتی کے واقعات پر قابو پانے کے لیے مؤثر کارروائیاں کرتے ہوئے متعدد چوروں اور گینگز کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ ان گرفتاریوں سے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

    ڈیفنس سی پولیس نے ایک گھر میں چوری کی واردات میں ملوث خاتون ملزمہ کو فوری کارروائی کرتے ہوئے گرفتار کر لیا ہے۔ایس پی کینٹ کیپٹن (ر) قاضی علی رضا کے مطابق، زاہد محمود قریشی نامی شہری کی درخواست پر ڈیفنس سی پولیس نے فوری رسپانس کیا اور ملزمہ مہوش کو لاکھوں روپے مالیت کے طلائی زیورات اور نقدی سمیت گرفتار کر لیا۔ایس پی کینٹ نے میڈیا کو بتایا کہ ملزمہ پولیس کو زیادہ دیر تک چکمہ نہ دے سکی اور دورانِ تفتیش اس نے اپنا جرم تسلیم کر لیا۔ ملزمہ کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشنز کے حوالے کر دیا گیا ہے۔متاثرہ شہری زاہد محمود نے اپنے طلائی زیورات اور نقدی کی واپسی پر پولیس کا شکریہ ادا کیا اور ڈھیروں دعائیں دیں۔ ایس پی کینٹ نے ایس ایچ او ڈیفنس سی سید رضا عباس اور پولیس ٹیم کو اس کامیاب کارروائی پر شاباش دی۔ایس پی کینٹ کیپٹن (ر) قاضی علی رضا نے مزید کہا کہ "پولیس عوام کے جان و مال کی حفاظت کے لیے ہمہ وقت الرٹ ہے۔”

    لاری اڈہ: موٹر سائیکل و موبائل چور گینگ گرفتار
    لاری اڈہ پولیس نے موٹر سائیکل اور موبائل چوری کی وارداتوں میں ملوث ایک متحرک گینگ کے سرغنہ سمیت دو ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ایس پی سٹی بلال احمد کے مطابق، لاری اڈہ پولیس نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے علی رضا عرف چٹا اور اس کے ساتھی آصف کو حراست میں لیا۔ ملزمان کے قبضے سے ایک موٹر سائیکل، چار موبائل فون اور غیر قانونی اسلحہ برآمد کیا گیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ یہ ملزمان لاری اڈہ کے گرد و نواح سمیت لاہور کے مختلف مقامات پر شہریوں کے ساتھ وارداتیں کرتے تھے۔ ان کا طریقہ واردات یہ تھا کہ وہ مسافروں کے موبائل فون چھینتے اور گلی محلوں میں کھڑی موٹر سائیکلیں لے کر فرار ہو جاتے۔گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر کے مزید تفتیش جاری ہے۔ ایس پی سٹی بلال احمد نے لاری اڈہ پولیس کو اس متحرک گینگ کی گرفتاری پر شاباش دی اور کہا کہ "واردات کرنے والے متحرک اسٹریٹ کریمنلز کی گرفتاری کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔”

    گجر پورہ: دو رکنی موٹر سائیکل چور گینگ گرفتار
    گجر پورہ پولیس نے بھی خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے ایک دو رکنی موٹر سائیکل چور گینگ کو گرفتار کر لیا ہے۔ایس ایچ او گجر پورہ ذکا کے مطابق، گرفتار ملزمان کی شناخت عمران اور بلال کے طور پر ہوئی ہے۔ ان کے قبضے سے چار چوری شدہ موٹر سائیکلیں اور دو غیر قانونی پسٹل برآمد کیے گئے ہیں۔پولیس نے بتایا کہ یہ ملزمان گجر پورہ سمیت لاہور کے مختلف مقامات پر وارداتیں کرتے تھے۔ ان کا نشانہ گلی محلوں، مارکیٹ بازاروں اور رش والے مقامات پر کھڑی ایسی موٹر سائیکلیں ہوتی تھیں جنہیں لاک نہیں کیا گیا ہوتا تھا۔ ملزمان بغیر لاک کے کھڑی موٹر سائیکلیں لے کر موقع سے فرار ہو جاتے۔گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر کے تفتیش جاری ہے۔ ایس پی سول لائنز چوہدری اثر علی نے گجر پورہ پولیس کو اس متحرک گینگ کی گرفتاری پر شاباش دیتے ہوئے کہا کہ "اسٹریٹ کریمنلز کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔”

  • چائلڈ کیئر ورکر پر جنسی زیادتی کےالزامات، 1200 بچوں کو ٹیسٹ کرانے کا مشورہ

    چائلڈ کیئر ورکر پر جنسی زیادتی کےالزامات، 1200 بچوں کو ٹیسٹ کرانے کا مشورہ

    آسٹریلیا کی ریاست وکٹوریہ میں والدین کو شدید تشویش کا سامنا ہے کیونکہ ایک چائلڈ کیئر ورکر پر جنسی زیادتی سمیت 70 سے زائد جرائم کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ حکام نے تقریباً 1200 بچوں کے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو متعدی بیماریوں کے ٹیسٹ کروائیں۔

    وکٹوریہ پولیس نے 26 سالہ جوشوا ڈیل براؤن کی گرفتاری کا اعلان کیا ہے، جس پر 2022 اور 2023 میں میلبرن کے ایک چائلڈ کیئر سینٹر میں 5 ماہ سے 2 سال کی عمر کے 8 بچوں کو جنسی طور پر زیادتی کا نشانہ بنانے کا الزام ہے۔اگرچہ تمام الزامات کا تعلق 8 مبینہ متاثرین سے ہے جو ایک ہی سینٹر میں زیرِ تعلیم تھے، تاہم پولیس نے 19 دیگر چائلڈ کیئر سینٹرز میں بھی ممکنہ متاثرین کے بارے میں تفتیش کا دائرہ بڑھا دیا ہے جہاں براؤن 2017 سے کام کر چکا ہے۔وکٹوریہ پولیس کی قائم مقام کمانڈر جینٹ اسٹیونسن نے براؤن کا نام منظر عام پر لانے کی وجہ یہ بتائی ہے کہ والدین یہ تصدیق کر سکیں کہ آیا ان کا بچہ اس کے رابطے میں آیا تھا یا نہیں۔ اسٹیونسن نے منگل کو ایک نیوز کانفرنس میں کہا، "یہ بہت اہم ہے کہ ہر وہ والدین جس کا بچہ چائلڈ کیئر میں ہے، اسے پتہ ہو کہ وہ کون ہے اور اس نے کہاں کام کیا ہے۔”

    پولیس نے منگل کو ایک نیوز ریلیز میں بتایا کہ براؤن اس وقت زیر حراست ہے اور 15 ستمبر کو میلبرن مجسٹریٹ کورٹ میں پیش ہوگا۔ وکٹوریہ پولیس کے سیکسوئل کرائم سکواڈ نے رواں سال مئی میں اس معاملے کی تحقیقات شروع کی جب تفتیش کاروں کو بچوں سے بدسلوکی کا مواد ملا۔ اس کے بعد پولیس نے براؤن کے گھر پر تلاشی وارنٹ پر عمل درآمد کیا، جس کے نتیجے میں اس کی گرفتاری عمل میں آئی۔ پھر پولیس نے مبینہ متاثرین کی شناخت کے لیے کام کیا۔اسٹیونسن نے کہا، "گزشتہ ہفتے، ہم نے آٹھ خاندانوں کو مطلع کیا کہ ہم نے براؤن پر ان کے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، "جیسا کہ آپ تصور کر سکتے ہیں، یہ خاندانوں کے لیے بہت تکلیف دہ خبر تھی۔ ہم نے اپنی شراکت دار ایجنسیوں کے ساتھ مل کر اس مشکل دور میں ان کی مدد کے لیے تمام امدادی انتظامات کیے ہیں۔”اسٹیونسن نے بتایا کہ براؤن کے پاس "بچوں کے ساتھ کام کرنے کی درست اجازت” تھی، جو آسٹریلیا میں بچوں سے متعلقہ کام کرنے والے افراد کے لیے لازمی جانچ پڑتال ہے۔ براؤن نے کچھ چائلڈ کیئر سینٹرز میں "بہت کم عرصے” کے لیے کام کیا۔

    چیف ہیلتھ آفیسر کرسچن میک گرا نے نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ محکمہ صحت کے حکام اور پولیس نے تقریباً 2,600 خاندانوں کی نشاندہی کی ہے اور ان سے رابطہ کیا ہے جن کے بچے ان چائلڈ کیئر سینٹرز میں زیر تعلیم تھے جہاں براؤن نے کام کیا۔

    میک گرا نے بتایا کہ تقریباً 1200 بچوں کو متعدی بیماریوں کے ٹیسٹ کرانے کی سفارش کی جا رہی ہے۔ میک گرا نے کہا، "ہم سفارش کر رہے ہیں کہ اس عرصے میں ممکنہ متاثر ہونے کے خطرے کی وجہ سے کچھ بچوں کو متعدی بیماریوں کے ٹیسٹ کروائے جائیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ صورتحال کا ایک اور پریشان کن پہلو ہے، اور ہم احتیاط کے طور پر یہ طریقہ اپنا رہے ہیں۔”انہوں نے یہ بتانے سے انکار کر دیا کہ بچوں کو کن بیماریوں کے ٹیسٹ کرانے کا کہا جا رہا ہے لیکن کہا کہ ان کا علاج اینٹی بائیوٹکس سے کیا جا سکتا ہے۔

    حکام کے مطابق، براؤن پر بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ بچوں سے بدسلوکی کا مواد تیار کرنے اور منتقل کرنے سمیت دیگر الزامات بھی ہیں۔ آٹھ مبینہ متاثرین میلبرن کے ایک مضافاتی علاقے پوائنٹ کک میں کرئیٹو گارڈنز ارلی لرننگ سینٹر میں زیرِ تعلیم تھے۔ پولیس نے متاثرین کی جنس کا انکشاف نہیں کیا۔

  • یورپ میں ساحل ،پارکوں میں سگریٹ نوشی کو الوداع کہنے میں فرانس پیش پیش

    یورپ میں ساحل ،پارکوں میں سگریٹ نوشی کو الوداع کہنے میں فرانس پیش پیش

    اس موسم گرما میں پیرس میں ایفل ٹاور کے نیچے شام کی سگریٹ آپ کو ایک غیر متوقع جرمانے کے ساتھ مل سکتی ہے۔ یکم جولائی سے فرانس نے بچوں کے کثرت سے آنے والے تمام بیرونی علاقوں میں سگریٹ نوشی پر پابندی عائد کر دی ہے، جن میں پارک، ساحل، عوامی باغات، بس اسٹاپ، اسکول کے داخلی دروازے اور کھیلوں کے مقامات شامل ہیں۔ یہ ایک وسیع پیمانے پر اٹھایا گیا قدم ہے جو صدر ایمانوئل میکرون کے 2032 تک "پہلی تمباکو سے پاک نسل” پیدا کرنے کے عزم کا حصہ ہے۔

    ان علاقوں میں سگریٹ پینے پر 15 دنوں کے اندر 90 یورو کا جرمانہ ہو سکتا ہے، جو اس کے بعد بڑھ کر 135 یورو (تقریباً $150) تک جا سکتا ہے، جس میں غیر متوقع سیاح بھی شامل ہیں۔ اس اقدام کا مقصد بچوں کو تمباکو کے دھوئیں سے بچانا اور عمومی طور پر سگریٹ نوشی کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔”فرانس تمباکو کنٹرول کے لحاظ سے یورپ کے سب سے فعال ممالک میں سے ایک کے طور پر اپنی پوزیشن بنا رہا ہے،” تمباکو کنٹرول کی وکالت کرنے والے یورپی گروپوں کے اتحاد، اسموک فری پارٹنرشپ کی سینئر پالیسی آفیسر راکیل وینانسیو نے سی این این کو بتایا۔ جبکہ اسپین اور اٹلی جیسے ممالک نے مقامی یا علاقائی سطح پر بعض علاقوں میں سگریٹ نوشی پر پابندیاں متعارف کرائی ہیں، فرانس ساحلوں پر سگریٹ نوشی کے خلاف ملک گیر پابندی نافذ کرنے والا واحد یورپی ملک ہے۔

    تاہم، تمام شہری اس نئے اقدام کی حمایت نہیں کرتے۔ پیرس میں 25 سالہ طالبہ ایلیس لیوکس نے سی این این کو بتایا، "جتنا وقت گزرتا جا رہا ہے، حکومت ہماری بنیادی آزادیوں کو چھیننا چاہتی ہے۔” "اگر آپ باوقار ہیں پارک یا ساحل پر سگریٹ کے ٹکڑے نہیں پھینک رہے، دوسروں کو پریشان نہیں کر رہے – تو مجھے کوئی مسئلہ نظر نہیں آتا۔ سگریٹ نوشی کو اچانک جرم کیوں سمجھا جانا چاہیے؟”

    فرانس میں سگریٹ نوشی 1990 کی دہائی کے بعد سے اپنی سب سے کم سطح پر ہے۔ فرانسیسی قومی صحت عامہ کی ایجنسی کی 2024 کی رپورٹ کے مطابق، آج، فرانس میں تقریباً ایک تہائی بالغ افراد سگریٹ نوشی کرتے ہیں، جن میں سے 23% بالغ آبادی روزانہ سگریٹ نوشی کرتی ہے۔ نوجوانوں میں تمباکو کا استعمال کم ہو رہا ہے، 2022 میں 17 سال کے بچوں میں سے صرف 16% روزانہ سگریٹ نوشی کی اطلاع دے رہے ہیں، جو دستیاب تازہ ترین اعداد و شمار ہیں – چھ سال پہلے کے 25% سے کم۔

    اس کے باوجود، فرانس یورپ کے سب سے زیادہ تمباکو پر منحصر ممالک میں سے ایک ہے، جس کی وجہ سے حکام نے سگریٹ کی اسمگلنگ میں "دھماکہ” قرار دیا ہے، جو زیادہ تر بلغاریہ، ترکی اور الجزائر سے ہوتی ہے۔ ایک مطالعے کے مطابق، جو تمباکو کی بڑی کمپنی فلپ مورس کے لیے کیا گیا تھا، صرف 2024 میں، فرانس نے اندازاً 18.7 بلین غیر قانونی سگریٹ استعمال کیے – جو تمباکو کے استعمال کا ایک حیران کن 38% حصہ بنتا ہے اور اسے یورپ کی سب سے بڑی غیر قانونی تمباکو مارکیٹ بناتا ہے۔ وزارت صحت کے مطابق، زیادہ تر باقاعدہ تمباکو نوشی کرنے والے اپنی نوعمری میں شروع کرتے ہیں، جن میں سے تقریباً 90% 18 سال کی عمر سے پہلے اس عادت کو اپناتے ہیں۔

    جین، 25، نے، جس نے اپنا آخری نام نہیں بتایا، کہا، "میں 14 سال کی عمر سے سگریٹ پی رہی ہوں۔ میرے زیادہ تر دوست بھی اتنی ہی چھوٹی عمر میں شروع ہوئے۔ جرمانہ ہو یا نہ ہو، ہم سگریٹ پیتے رہیں گے۔ یہ فرانسیسی شناخت کا حصہ ہے – ہم جو چاہتے ہیں اس کے لیے لڑتے ہیں۔ ہم روبوٹ نہیں ہیں۔”

    وزیر صحت کیتھرین واٹرین نے کہا کہ "نوجوانوں کی حفاظت اور سگریٹ نوشی کو غیر معمولی بنانا” حکومت کے لیے "مکمل ترجیح” ہے۔ انہوں نے کہا، "17 سال کی عمر میں، آپ کو اپنا مستقبل بنانا چاہیے، نہ کہ اپنی لت۔ جہاں بچے ہیں، وہاں تمباکو کو غائب ہونا چاہیے۔”

    بیلجیم اور برطانیہ کے برعکس، جنہوں نے حال ہی میں ڈسپوزایبل ویپس کی فروخت پر پابندی لگائی ہے، فرانس کے نئے قوانین میں ای سگریٹ پر پابندی نہیں لگائی گئی ہے – کم از کم ابھی تک نہیں۔ تاہم، نئے ضوابط میں ویپنگ مصنوعات میں نیکوٹین کی مجاز سطحوں میں کمی، نیز کاٹن کینڈی جیسے ذائقوں پر سخت حدیں شامل ہیں، جن کے بارے میں ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ نوجوانوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔

    یورپی یونین کے اعداد و شمار کے مطابق، تمباکو کا استعمال یورپی یونین میں صحت کا سب سے بڑا قابل علاج خطرہ ہے، جو ہر سال تقریباً 700,000 قبل از وقت اموات کا سبب بنتا ہے۔ صرف فرانس میں، یہ ہر سال 75,000 اموات کا باعث بنتا ہے – جو ملک کی وزارت صحت کے مطابق روزانہ 200 اموات کے برابر ہے۔ سگریٹ نوشی کرنے والوں اور ان کے آس پاس کے لوگوں پر براہ راست نقصان کے علاوہ، تمباکو کی مصنوعات ماحولیاتی خطرہ بھی بنتی ہیں۔ وزارت صحت کے مطابق، ہر سال فرانس بھر میں اندازاً 20,000 سے 25,000 ٹن سگریٹ کے بٹ پھینکے جاتے ہیں۔

    فرانس نے 2009 میں 18 سال سے کم عمر بچوں کو سگریٹ کی فروخت پر پابندی لگائی تھی۔ لیکن نفاذ میں نرمی رہی ہے: نیشنل کمیٹی اگینسٹ ٹوبیکو (CNCT) کے ایک مطالعے سے پتہ چلا ہے کہ تقریباً دو تہائی تمباکو کی دکانیں کم عمر گاہکوں کو سگریٹ فروخت کرنا جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اور جب کہ نابالغوں کو تمباکو خریدنے سے منع کیا گیا ہے، کوئی قانون انہیں سگریٹ نوشی سے نہیں روکتا – ایک قانونی خامی جسے حکومت نے مستقبل کی قانون سازی میں دور کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

    سویڈن کے برعکس – جو ریستوراں اور بار کی چھتوں پر سگریٹ نوشی پر مکمل پابندی لگانے والا واحد یورپی ملک ہے – فرانس ان جگہوں پر سگریٹ نوشی کی اجازت دیتا ہے۔ یہاں تک کہ برطانیہ، جس میں یورپ کی سب سے سخت تمباکو نوشی مخالف پالیسیاں ہیں، پب باغات میں سگریٹ نوشی کی اجازت دیتا ہے۔

    فرانسیسی نیشنل کمیٹی فار ٹوبیکو کنٹرول (CNCT) کی ترجمان امیلی اسچینبرینر نے سی این این کو بتایا، "ہم تقریباً ایک دہائی سے چھتوں پر سگریٹ نوشی پر پابندی کے لیے زور دینے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن یہ بہت مشکل ہے۔” "شراب کے گلاس کے ساتھ سگریٹ پینا – یہ فرانسیسی ثقافت کا ایک لازمی حصہ ہے۔”تاہم، روایت ہی واحد رکاوٹ نہیں ہے۔ اسچینبرینر کے مطابق، چھتوں پر سگریٹ نوشی پر پابندی میں اہم رکاوٹ تمباکو کی صنعت کی لابنگ ہے۔ فرانس میں تقریباً 23,000 لائسنس یافتہ تباکوز – تمباکو کی دکانیں ہیں جو بہت سی شہری سڑکوں کے کونوں پر موجود ہیں۔ ایک مطالعے سے پتہ چلا ہے کہ تمباکو فروش عوامی صحت ایجنسیوں کے مقابلے میں مقبول حمایت کی سطح سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اسچینبرینر نے وضاحت کی، "وہ اپنی مقبولیت کا استعمال فیصلہ سازوں، خاص طور پر پارلیمنٹیرینز کو متاثر کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے وسیع پیمانے پر پابندی نافذ کرنا بہت مشکل ہے۔”

    سی این این نے پیرس میں درجنوں تمباکو فروشوں سے نئے قانون پر ان کا نقطہ نظر جاننے کے لیے رابطہ کیا، لیکن کوئی بھی بات نہیں کرنا چاہتا تھا۔

    پھر بھی، تبدیلی کا امکان موجود ہے۔ اسچینبرینر نے یاد دلایا، "2007 میں، جب فرانس نے ریستوراں، بارز اور نائٹ کلبوں کے اندر سگریٹ نوشی پر پابندی لگائی تھی، تو بہت زیادہ مخالفت ہوئی تھی۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ، لوگ اس کے عادی ہو گئے اور اسے قبول کر لیا۔ یہی ان نئے ضوابط کے ساتھ بھی ہونے کا امکان ہے – اور، امید ہے کہ، چھتوں پر سگریٹ نوشی پر مستقبل کی پابندی کے ساتھ بھی۔”

    کینسر کی شرح کو کم کرنے کی اپنی حکمت عملی کے تحت، یورپی کمیشن کا مقصد 2040 تک یورپی یونین کی آبادی میں تمباکو کے استعمال کو 5% سے کم کرنا ہے۔ اسی طرح، فرانس کی حکومت نے اشارہ دیا ہے کہ تازہ ترین پابندیاں تمباکو پر وسیع پیمانے پر کریک ڈاؤن کا پہلا قدم ہو سکتی ہیں۔واٹرین نے کہا، "تمباکو زہر ہے۔ یہ مارتا ہے، اس پر لاگت آتی ہے، یہ آلودگی پھیلاتا ہے۔ میں لڑائی ترک کرنے سے انکار کرتی ہوں۔ تمباکو کے بغیر ہر دن ایک جیتی ہوئی زندگی ہے۔ ہمارا ہدف واضح ہے: تمباکو سے پاک نسل – اور ہمارے پاس اسے حاصل کرنے کے ذرائع ہیں۔”

  • پیرس میں شدید گرمی، ایفل ٹاورسیاحوں کے لئے بند

    پیرس میں شدید گرمی، ایفل ٹاورسیاحوں کے لئے بند

    یورپ اس وقت شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے، جس کی وجہ سے کئی ممالک میں درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور معمولات زندگی متاثر ہو رہے ہیں۔ اس شدید گرمی کے پیش نظر پیرس میں مشہور ایفل ٹاور سیاحوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

    بحیرہ روم میں ایک شدید سمندری ہیٹ ویو چل رہی ہے، جس میں پانی کا درجہ حرارت اس سال کے اس وقت کے لیے اوسط سے 9 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ہے۔ مغربی بحیرہ روم میں، خاص طور پر فرانس کے جنوب میں، سب سے زیادہ شدت سے درجہ حرارت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ یہ سمندری حرارت خشکی پر درجہ حرارت میں اضافے کا باعث بن رہی ہے، جو ماضی میں مہلک سیلابوں اور تباہ کن آگ کو ہوا دینے میں بھی کردار ادا کر چکی ہے۔ایک طاقتور ہیٹ ڈوم بھی یورپ پر چھایا ہوا ہے، جو گرم ہوا کو ایک جگہ پر قید کر لیتا ہے اور درجہ حرارت کو بڑھاتا ہے۔افریقہ سے شمال کی طرف گرم ہوا کا بہاؤ بھی اس ہیٹ ویو کو مزید تقویت دے رہا ہے، جس سے ایک مثبت فیڈ بیک سائیکل بن رہا ہے جو سمندری ہیٹ ویو کو بھی تقویت دے رہا ہے۔

    شدید گرمی کی یہ لہر اسپین، پرتگال، فرانس، برطانیہ، جرمنی اور ترکی سمیت کئی یورپی ممالک کو متاثر کر رہی ہے۔ اسپین میں درجہ حرارت نے کئی ریکارڈ توڑے ہیں۔ اتوار کو ال گراناڈو کے قصبے میں درجہ حرارت 46 ڈگری سینٹی گریڈ (114.8 فارن ہائیٹ) تک پہنچ گیا، جو جون کے مہینے کا نیا قومی ریکارڈ ہے۔ اسپین کی قومی موسمیاتی سروس AEMET کے مطابق، گزشتہ ماہ اسپین کی تاریخ کا سب سے گرم جون تھا، جہاں درجہ حرارت نے "ریکارڈ توڑ دیے”۔پرتگال میں، مورا شہر میں عارضی طور پر 46.6 ڈگری سینٹی گریڈ (115.9 فارن ہائیٹ) درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا، جو جون کے مہینے کا نیا قومی ریکارڈ بن سکتا ہے۔ فرانس کا تقریباً پورا حصہ شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے۔ میٹیو فرانس کے عارضی ریکارڈ کے مطابق، پیر کو متعدد شہروں میں 100 ڈگری فارن ہائیٹ سے زیادہ درجہ حرارت رہا۔ پیرس سمیت 16 فرانسیسی ڈپارٹمنٹس کے لیے منگل کو ریڈ ہیٹ ویو وارننگ، جو سب سے اونچی درجہ بندی ہے، جاری کی گئی ہے۔ ایفل ٹاور کی چوٹی منگل اور بدھ کو سیاحوں کے لیے بند کر دی گئی ہے، اور عملے نے آنے والے سیاحوں سے شدید گرمی کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔ ایفل ٹاور کے عملے نے اپنی ویب سائٹ پر لکھا، "ہم تکلیف کے لیے معذرت خواہ ہیں،” مزید کہا، "درجہ حرارت کے اس عرصے کے دوران، براہ کرم اپنے آپ کو دھوپ سے بچانا اور باقاعدگی سے ہائیڈریٹ رہنا یاد رکھیں۔”

    برطانیہ بھی شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے، جہاں یہ گرمیوں کی دوسری ہیٹ ویو ہے۔ پیر کو درجہ حرارت 90 ڈگری فارن ہائیٹ سے اوپر چلا گیا، جس سے اس ملک میں، جہاں 5% سے بھی کم گھروں میں ایئر کنڈیشنگ ہے، حالات انتہائی غیر آرام دہ ہو گئے ہیں۔ ہیٹ ڈوم مشرق کی طرف پھیلنے کے ساتھ، منگل اور بدھ کو جرمنی میں بھی درجہ حرارت کے ریکارڈ ٹوٹنے کا امکان ہے، اس سے پہلے کہ مغربی یورپ میں ٹھنڈے محاذوں کا ایک سلسلہ شروع ہو۔ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے ساتھ کئی ممالک میں جنگلات میں آگ لگی ہوئی ہے۔ ترکی میں، 50,000 افراد کو انخلا کرایا گیا ہے کیونکہ فائر فائٹرز زیادہ تر مغربی ازمیر اور مانیسا صوبوں میں شدید آگ سے لڑ رہے ہیں۔

    یورپی سینٹر فار میڈیم رینج ویدر فارکاسٹنگ کی موسمیاتی حکمت عملی کی سربراہ سمانتھا برجس نے ایک بیان میں کہا، "موجودہ جون-جولائی کی ہیٹ ویو لاکھوں یورپیوں کو شدید گرمی کے دباؤ میں ڈال رہی ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ "حال ہی میں مشاہدہ کیے گئے درجہ حرارت جولائی اور اگست کے مہینوں کے زیادہ عام ہیں اور عام طور پر ہر موسم گرما میں چند بار ہی ہوتے ہیں۔”انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے ہونے والی موسمیاتی تبدیلی ہیٹ ویوز کو زیادہ بار بار، شدید اور دیرپا بنا رہی ہے۔ یورپ سب سے تیزی سے گرم ہونے والا براعظم ہے، اور باقی دنیا کے مقابلے میں دگنی رفتار سے گرم ہو رہا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی سمندری ہیٹ ویوز کو بھی زیادہ بار بار اور شدید بنا رہی ہے۔

  • کولکتہ میں قانون کی طالبہ سے مبینہ زیادتی،بنائی گئی ویڈیو،منت سماجت بھی کام نہ آئی

    کولکتہ میں قانون کی طالبہ سے مبینہ زیادتی،بنائی گئی ویڈیو،منت سماجت بھی کام نہ آئی

    کولکتہ: مغربی بنگال میں ایک 24 سالہ قانون کی طالبہ نے کالج کیمپس میں اپنے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی کا الزام عائد کیا ہے، جس نے ریاست میں ایک بار پھر خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ طالبہ نے اپنی شکایت میں بتایا ہے کہ زیادتی سے قبل اسے دل کا دورہ پڑا تھا اور مرکزی ملزم منوجیت مشرا نے اپنے ساتھی ملزم کو اس کے لیے انہیلر لانے کو کہا تھا۔

    متاثرہ طالبہ نے اپنی شکایت میں بتایا کہ 25 جون کو وہ ایک سیاسی میٹنگ کے لیے کیمپس میں موجود تھی۔ جب وہ جانے لگی تو منوجیت نے اسے روک لیا۔ بعد میں، اس نے اسے جنسی تعلقات پر مجبور کرنے کی کوشش کی۔ طالبہ نے اپنی شکایت میں کہا، "میں نے انکار کیا اور لڑتی رہی، اسے کچھ بھی کرنے سے روکا اور اسے پیچھے دھکیلا۔ میں مسلسل روتی رہی اور اسے مجھے جانے دینے کے لیے کہتی رہی۔” اس نے مزید کہا کہ اس نے منوجیت کو بتایا کہ اس کا بوائے فرینڈ ہے اور وہ اس سے محبت کرتی ہے۔طالبہ نے بتایا کہ "لیکن وہ نہیں مانا۔ وہ مجھے مجبور کرتا رہا۔ اور اس کے بعد اس سب کی وجہ سے مجھے گھبراہٹ کا دورہ پڑا اور سانس لینے میں دشواری ہونے لگی۔ میں نے ان سے کہا کہ مجھے روبی جنرل ہسپتال لے جاؤ۔ پھر میں نے ان سے کہا کہ کم از کم میرے لیے انہیلر لے آؤ۔ وہ لے آیا۔” اس نے لکھا، "میں نے اسے لیا اور بہتر محسوس کیا اور میں نے اپنی چیزیں پیک کیں اور فرار ہونے کے لیے باہر گئی اور دیکھا کہ انہوں نے مرکزی گیٹ بند کر دیا ہے اور گارڈ بے بس تھا اور اس نے میری مدد نہیں کی۔”

    متاثرہ نے بتایا کہ ساتھی ملزمان ذیب احمد اور پرمیت مکھرجی نے اسے زبردستی یونین روم میں گھسیٹا۔ اس نے کہا کہ اس نے منوجیت کے پاؤں چھو کر اسے جانے دینے کی بھیک مانگی۔ منوجیت نے ساتھی ملزمان کو اسے گارڈ کے کمرے میں لے جانے اور گارڈ کو باہر بٹھانے کو کہا – یہ حقیقت سی سی ٹی وی فوٹیج میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ متاثرہ نے بتایا کہ اس کے بعد منوجیت نے اس کے کپڑے اتارے اور اس کے ساتھ زیادتی کی۔ اس نے لکھا، "جب میں نے مقابلہ کیا تو اس نے مجھے بلیک میل کیا، دھمکیاں دیں جو وہ پہلے سے کر رہا تھا۔ اس نے مجھے دھمکی دی کہ وہ میرے بوائے فرینڈ کو مار ڈالے گا اور میرے والدین کو گرفتار کروا دے گا۔”

    متاثرہ نے اپنی ہولناک کہانی میں مزید لکھا، "میں اب بھی لڑتی رہی اور پھر اس نے مجھے میری برہنہ حالت میں دو ویڈیوز دکھائیں جب اس نے میرے ساتھ زیادتی کی۔ اس نے مجھے دھمکی دی کہ اگر میں تعاون نہیں کروں گی اور جب بھی وہ مجھے بلائے گا میں نہیں آؤں گی تو وہ یہ ویڈیوز سب کو دکھا دے گا۔”ایک موقع پر، اس نے لکھا کہ اس کے سر پر چوٹ لگی، لیکن حملہ جاری رہا۔ "میں اپنی زندگی کے لیے لڑ رہی تھی۔ اس نے مجھے ہاکی اسٹک سے مارنے کی بھی کوشش کی۔ میں نے خود کو ایک مردہ جسم کی طرح چھوڑ دیا۔”حملے کے بعد، اس نے بتایا کہ منوجیت نے اسے خاموش رہنے کی دھمکی دی۔ پھر وہ کالج سے نکلی، اپنے والد کو بلایا اور انہیں اسے لینے کو کہا۔

    متاثرہ کے بیان کی سی سی ٹی وی فوٹیج سے تصدیق ہوئی ہے جس میں ملزمان اسے جرم کی جگہ تک گھسیٹتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ مقامی میڈیا نے اس میڈیکل اسٹور کو بھی تلاش کیا ہے جہاں سے ذیب نے انہیلر خریدا تھا۔ اسٹور کے عملے نے تصدیق کی کہ وہ اس وقت انہیلر خریدنے آیا تھا جس کا ذکر متاثرہ نے اپنی شکایت میں کیا ہے۔

    اس ہولناک جرم نے، جو ریاستی سطح پر چلنے والے آر جی کار میڈیکل کالج اور ہسپتال میں ایک ڈاکٹر کے ساتھ ہونے والے سنگین ریپ اور قتل کے ایک سال سے بھی کم عرصے بعد پیش آیا ہے، ترنمول کانگریس حکومت کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ خاص طور پر مرکزی ملزم منوجیت مشرا کے حکمران جماعت سے تعلقات کی وجہ سے۔ جہاں ترنمول کانگریس کا کہنا ہے کہ ملزمان کو ان کے سیاسی روابط سے قطع نظر سخت سزا دی جائے گی، وہیں اپوزیشن کا الزام ہے کہ یہ حکمران جماعت کی حمایت ہے جو منوجیت جیسے لوگوں کو ایسے جرائم کے ارتکاب کے قابل بناتی ہے۔

    دوسری جانب مدھیہ پردیش کے شہر نرسنگھ پور میں 27 جون کو ایک 19 سالہ لڑکی سندھیا چودھری کو سرکاری ضلع اسپتال کے اندر دن دہاڑے سفاکانہ طریقے سے قتل کر دیا گیا، جس نے عوامی تحفظ اور اسپتالوں کی سیکیورٹی کے حوالے سے گہرے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب لڑکی کو ایک جنونی شخص نے نشانہ بنایا، اور سب سے زیادہ چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ اس دوران کوئی بھی مدد کے لیے آگے نہیں آیا۔پیر کو منظر عام پر آنے والی چونکا دینے والی فوٹیج میں ملزم ابھیشیک کوشتی کو سندھیا کا گلا کاٹتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جبکہ آس پاس موجود افراد – جن میں اسپتال کا عملہ بھی شامل تھا – حیرت زدہ اور بے حرکت کھڑے رہے، اور کسی نے بھی مداخلت نہیں کی۔ کچھ لوگ تو لڑکی کے اسپتال کے فرش پر خون بہنے کے دوران وہاں سے گزرتے ہوئے بھی نظر آئے۔جس جگہ کو شفا کا مرکز ہونا چاہیے تھا، وہ ایک قتل گاہ بن گئی۔ موبائل کیمرے کی فوٹیج میں ابھیشیک، کالی شرٹ پہنے، سندھیا کو تھپڑ مارتے، اسے زمین پر گراتے، اس کے سینے پر بیٹھ کر اسے جکڑتے اور پھر چاقو سے اس کا گلا کاٹتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔یہ سب کچھ دن کی روشنی میں، ایمرجنسی ونگ کے اندر، ڈاکٹروں اور محافظوں سے چند میٹر کے فاصلے پر ہوا۔ یہ حملہ تقریباً 10 منٹ تک جاری رہا۔ حملہ آور نے اس کے بعد اپنا گلا کاٹنے کی کوشش کی، لیکن ناکام رہا، اسپتال سے فرار ہوا، باہر کھڑی بائیک سٹارٹ کی اور غائب ہو گیا۔

    قتل کے وقت ٹراما سینٹر کے باہر دو سیکیورٹی گارڈ تعینات تھے۔ اندر، اسپتال کے متعدد عملے کے ارکان موجود تھے، جن میں ایک ڈاکٹر، نرسیں اور وارڈ بوائے شامل تھے۔ کسی نے بھی حملہ آور کو نہیں روکا۔سیکیورٹی کی مکمل ناکامی نے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو خوفزدہ کر دیا۔ ٹراما وارڈ میں داخل 11 مریضوں میں سے آٹھ نے اسی دن چھٹی لے لی، اور باقی اگلے دن صبح چلے گئے۔سندھیا اس دن تقریباً 2 بجے اپنے گھر سے نکلی تھی، اور اپنے خاندان کو بتایا تھا کہ وہ زچہ و بچہ وارڈ میں ایک دوست کی بھابھی سے ملنے جا رہی ہے۔ ابھیشیک کوشتی مبینہ طور پر دوپہر سے ہی اسپتال کے آس پاس گھوم رہا تھا – غالباً اس کا انتظار کر رہا تھا۔ دونوں نے کمرہ نمبر 22 کے باہر مختصر بات کی اس سے پہلے کہ یہ تصادم جان لیوا ثابت ہو۔قتل تیزی سے ہوا، خون بہنے سے موت واقع ہو گئی۔ سندھیا موقع پر ہی دم توڑ گئی۔لڑکی کے خاندان کو تقریباً 3:30 بجے مطلع کیا گیا۔ جب تک وہ اسپتال پہنچے، اس کی لاش ابھی تک جائے وقوعہ پر پڑی تھی۔غصے میں آ کر اہل خانہ نے اسپتال کے باہر سڑک کو بلاک کر دیا۔ یہ احتجاج رات 10:30 بجے تک پرسکون ہو گیا، لیکن رات 2 بجے تک دوبارہ ماحول کشیدہ رہا، جب حکام نے غفلت کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی یقین دہانی کرائی۔ یہ واقعہ مدھیہ پردیش میں اسپتال سیکیورٹی اور عوامی مقامات پر بڑھتی ہوئی بے حسی کے بارے میں تشویشناک سوالات اٹھا رہا ہے۔

  • ایئر انڈیا طیارہ حادثہ، ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ 11 جولائی تک جاری ہونے کی توقع

    ایئر انڈیا طیارہ حادثہ، ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ 11 جولائی تک جاری ہونے کی توقع

    ایئر انڈیا کی پرواز AI-171 کے حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ 11 جولائی تک جاری کیے جانے کی توقع ہے۔ اس افسوسناک حادثے میں کم از کم 270 افراد جاں بحق ہوئے تھے، جن میں 241 افراد طیارے میں سوار تھے۔ رپورٹ چار سے پانچ صفحات پر مشتمل ہوگی اور حادثے کی ابتدائی وجوہات، طیارے کے حالات، موسم اور دیگر اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالے گی۔

    ذرائع کے مطابق، یہ رپورٹ بوئنگ 787-8 ڈریم لائنر طیارے، عملے کی معلومات، 12 جون کو احمد آباد ایئرپورٹ پر موجود حالات اور موسم کی صورتحال سمیت ملبے کی حالت کے بارے میں تفصیلات فراہم کرے گی۔ ساتھ ہی اس میں تحقیقاتی افسر کا نام، اب تک کی پیش رفت اور آئندہ کے لیے تجویز کردہ اقدامات شامل ہوں گے۔بین الاقوامی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن (ICAO) کے قواعد کے مطابق، حادثے کے 30 دن کے اندر ابتدائی رپورٹ جاری کرنا لازمی ہے۔ یہ رپورٹ حادثے کے اسباب کو سمجھنے اور مکمل تحقیق کی بنیاد رکھنے میں معاون ثابت ہوگی۔

    مرکزی مملکتی وزیر برائے شہری ہوا بازی، مرلی دھر موہول نے چند روز قبل بتایا کہ حادثے کی ہر زاویے سے تحقیقات کی جا رہی ہیں، یہاں تک کہ تخریب کاری کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا گیا۔ان کا کہنا تھا "یہ ایک المناک واقعہ ہے۔ ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹیگیشن بیورو (AAIB) نے مکمل تحقیقات شروع کر دی ہیں، اور تمام زاویوں سے جائزہ لیا جا رہا ہے، بشمول ممکنہ تخریب کاری۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور مختلف ایجنسیاں تحقیقات میں مصروف ہیں۔” "یہ پہلا موقع ہے کہ دونوں انجن ایک ساتھ بند ہو گئے… مکمل رپورٹ آنے کے بعد ہی ہم یہ کہہ سکیں گے کہ یہ انجن کا مسئلہ تھا، ایندھن کی فراہمی میں خرابی یا کوئی اور تکنیکی خلل۔ بلیک باکس میں موجود کوک پٹ وائس ریکارڈر پائلٹوں کی گفتگو محفوظ کیے ہوئے ہے۔ ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔”

    12 جون کی دوپہر کو ایئر انڈیا کی پرواز AI-171 لندن کے لیے احمد آباد سے روانہ ہوئی تھی، مگر محض 32 سیکنڈ بعد، دوپہر 1:39 پر، یہ طیارہ BJ میڈیکل کالج کے احاطے میں گر کر تباہ ہو گیا۔ طیارہ زمین سے محض 2 کلومیٹر کی فضائی مسافت طے کر پایا تھا۔طیارے میں 242 افراد سوار تھے، جن میں 10 عملے کے ارکان اور دو پائلٹس شامل تھے۔ ان میں سے صرف ایک شخص – 40 سالہ وِشوَش کمار رمیش، جو برطانوی نژاد بھارتی شہری تھے – معجزانہ طور پر زندہ بچے۔ زمین پر موجود تقریباً 30 افراد، جن میں بیشتر زیر تربیت ڈاکٹرز تھے، بھی اس حادثے میں جاں بحق ہوئے۔

    اگرچہ ابتدائی رپورٹ چند دنوں میں جاری ہو جائے گی، مکمل تحقیقاتی رپورٹ اگلے دو ماہ میں متوقع ہے، یعنی حادثے کے تین ماہ بعد۔ اس رپورٹ سے حادثے کی مکمل وجوہات، ذمے دار عناصر اور مستقبل میں ایسے سانحات سے بچاؤ کی ممکنہ سفارشات سامنے آئیں گی۔

  • سانحہ سوات پر پوری قوم اشکبار تھی،وزیراعظم

    سانحہ سوات پر پوری قوم اشکبار تھی،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مستقبل میں قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے اعلیٰ سطح کی تیاریوں پر زور دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ پی ٹی اے کے ساتھ مل کر ایس ایم ایس اور فون پیغامات کے ذریعے موسمیاتی وارننگ اور آفات کے خطرات باقاعدگی سے جاری کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ این ڈی ایم اے کی استعداد کار میں اضافہ کیلئے ہرممکن تعاون کریں گے، بھارت پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے، بھارت کو سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے یا ختم کرنے کا کوئی اختیار نہیں، اپنے وسائل سے دیامر بھاشا ڈیم سمیت دیگر مقامات پر غیر متنازعہ آبی ذخائر کی صلاحیت تعمیر کریں گے۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے این ڈی ایم اے کے تحت نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے دورہ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر میں بہترین سہولیات دستیاب ہیں، 2022ء میں تباہ کن سیلاب کے بعد یہ آپریشن سینٹر قائم کیا گیا، اس سیلاب کے دوران ملک کا وسیع علاقہ زیر آب آ گیا اور کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں، لاکھوں گھر مکمل طور پر تباہ ہو گئے، 2022ء کے سیلاب کے بعد ادارے کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کثیر المقاصد اہم قومی ادارہ ہے اور اس کے صوبوں کے ساتھ مربوط روابط ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ادارہ میں ارلی وارننگ سسٹم اور صوبوں کو بروقت آگاہی کا نظام موجود ہے اور اس کے پاس حفاظتی جدید آلات موجود ہیں جو ریسکیو اور ریلیف کیلئے بہت مددگار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی اور کلاؤڈ برسٹ سے سب سے زیادہ متاثرہ 10 ممالک میں شامل ہے، پاکستان کا گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر منصوبہ بندی اور وزیر موسمیات کو ہدف دیاکہ وہ پاکستان میں زراعت اور ہاؤسنگ سمیت دیگر شعبوں اور ریزیلیئنٹ انفراسٹرکچر کیلئے قرضوں پر نہیں بلکہ گرانٹس اور پبلک پرائیویٹ سرمایہ کاری کیلئے مذاکرات کریں، ہماری معیشت اور سماجی و معاشی سٹرکچر کیلئے یہ بہترین پلیٹ فارم ہے، حکومت اس ادارے اور اس کی صلاحیتوں میں بہتری اور صوبوں کے ساتھ ہر ممکن تعاون کیلئے تیار ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ یہ ادارہ بالخصوص دوست ممالک سمیت دیگر ممالک کو بروقت آگاہی اور معلومات فراہم کر رہا ہے، ترکیہ میں تباہ کن زلزلہ کے بعد اس ادارے نے وہاں منظم ریسکیو آپریشن کیلئے انتھک محنت کی، اسی طرح میانمار سمیت دیگر مقامات پر بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی کریں۔ انہوں نے کہا کہ غیر متوقع ہیٹ ویو کے باعث گلیشیئرز پگھل رہے ہیں، اس تناظر میں ہمیں اعلیٰ سطح کی تیاریوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوات میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر انتہائی افسوس ہے، پوری قوم اس واقعہ پر اشکبار تھی، ہمیں سیاست سے بالاتر ہو کر اس معاملہ کا دیانتداری سے جائزہ لینا چاہئے، این ڈی ایم اے اس معاملہ کی رپورٹ بنا کر پیش کرے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں حالیہ بارشوں میں تقریباً 50 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے ہیں، مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے صوبائی حکومتوں اور پی ڈی ایم اے سے مل کر مربوط حکمت عملی وضع کرنی چاہئے۔

    انہوں نے کہا کہ ہمارا دشمن پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے، عالمی ثالثی عدالت کی جانب سے فیصلے سے اس کو پسپائی ہوئی ہے، عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدہ کو یکطرفہ طور پر نہ معطل کر سکتا ہے اور نہ ہی اس سے الگ ہو سکتا ہے لیکن بدقسمتی سے اس کے ناپاک اور خطرناک عزائم ہیں، حکومت نے سندھ طاس معاہدہ کے خلاف بھارتی اقدامات سے نمٹنے کیلئے فیصلہ کیا ہے کہ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کیا جائے گا، اپنے وسائل سے دیامر بھاشا ڈیم سمیت دیگر مقامات پر غیر متنازعہ آبی ذخائر کی صلاحیت تعمیر کریں گے، چاروں صوبوں کے درمیان 1991ء کے آبی معاہدہ کے تحت یہ آبی ذخائر تعمیر کئے جائیں گے، اس میں این ڈی ایم اے کا اہم کردار ہے، این ڈی ایم اے کے پاس ڈرون سمیت دیگر جدید آلات کی موجودگی خوش آئند ہے۔ اس موقع پر چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر نے مون سون کی تازہ ترین صورتحال اور دیگر امورپربریفنگ بھی دی۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال، وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اﷲ تارڑ، چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر اور این ڈی ایم اے کے اعلیٰ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔

  • سوشل میڈیا،نفرت انگیز مواد اپ لوڈ  کرنے کے 33 واقعات،18مقدمے،20 گرفتار

    سوشل میڈیا،نفرت انگیز مواد اپ لوڈ کرنے کے 33 واقعات،18مقدمے،20 گرفتار

    لاہور، سوشل میڈیا پر قابل اعتراض مواد کی تشہیر کرنے والوں کیخلاف کارروائی کی گئی ہے

    گزشتہ 24 گھنٹوں میں قابل اعتراض و نفرت انگیز مواد اپ لوڈ کرنے کے 33 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق سوشل میڈیا پر قابل اعتراض مواد شیئر کرنے پر 18 مقدمات درج کئے گئے ہیں،سوشل میڈیا پر قابل اعتراض مواد شیئر کرنے پر 20 افراد گرفتار کئے گئے ہیں،فیس بک پر قابل اعتراض مواد اپ لوڈ کرنے کے 21 واقعات رپورٹ ہوئے،واٹس ایپ کے 3 جبکہ 9 واقعات دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر رپورٹ ہوئےاب تک سوشل میڈیا پر قابل اعتراض مواد شیئر کرنے پر 34 مقدمات درج، 37 افراد گرفتار کئے گئے، آئی جی پنجاب کا کہنا ہے کہ مذہبی منافرت پھیلانے اور فرقہ واریت میں ملوث عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں ،