Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • واپڈا آفس میں خاتون کے ساتھ انسانیت سوز سلوک،سیکورٹی گارڈ پر مقدمہ درج

    واپڈا آفس میں خاتون کے ساتھ انسانیت سوز سلوک،سیکورٹی گارڈ پر مقدمہ درج

    شیخوپورہ شہر کے معروف علاقے ریگل چوک میں واقع واپڈا دفتر میں افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں ایک سکیورٹی گارڈ نے نہ صرف ایک ضعیف العمر خاتون کے ساتھ بدتمیزی کی بلکہ اسے زبردستی دفتر سے دھکے دے کر باہر نکالا۔ شہری کی درخواست پر پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے۔

    ابتدائی اطلاعات کے مطابق، مدعی خاور شہزاد ولد نصراللہ سکنہ بدروم ادے، شیخوپورہ، نے پولیس تھانہ بی ڈویژن میں رپورٹ درج کروائی کہ وہ یکم جولائی 2025 کو شام 8 بجے کے قریب کسی ضروری کام سے ریگل چوک واپڈا دفتر آیا ہوا تھا۔ اس دوران اس نے ایک افسوسناک منظر دیکھا جس میں رب نواز ولد محمد خان، جو کہ واپڈا آفس میں بطور سکیورٹی گارڈ تعینات ہے، ایک ضعیف خاتون کو زبردستی گھسیٹتے ہوئے دفتر سے باہر نکال رہا تھا۔ سکیورٹی گارڈ نہ صرف خاتون کو دھکے دے رہا تھا بلکہ اسے سنگین نتائج اور قتل کی دھمکیاں بھی دے رہا تھا۔عینی شاہدین کے مطابق، رب نواز نے با آواز بلند کہا کہ "مجھے میرے افسران نے کہا ہے کہ اس عورت کو دفتر سے باہر نکالو، چاہے گھسیٹنا پڑے”۔ اس واقعے کو کئی دیگر شہریوں نے بھی اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ یہ واقعہ نامعلوم افسران کی ہدایت پر کیا گیا، جس سے نہ صرف خاتون کی تذلیل ہوئی بلکہ عوام کے جذبات کو بھی ٹھیس پہنچی۔

    مدعی کی تحریری درخواست پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے زیر دفعات 354 (خاتون سے بدتمیزی)، 506 (دھمکیاں دینا)، اور 509 (عزت نفس مجروح کرنا) کے تحت مقدمہ نمبر 2305/25 درج کر لیا ہے۔ پولیس کی ابتدائی رپورٹ نمبر SKP-CBD-016163 کے مطابق، وقوعہ تھانہ بی ڈویژن سے مشرق کی جانب تقریباً دو کلومیٹر کے فاصلے پر پیش آیا۔

    تفتیشی افسر اے ایس آئی محمد خالد بیگ کے مطابق، اصل درخواست اور ایف آئی آر کی نقول تفتیش کے لیے اعجاز احمد 819/C کے ذریعے متعلقہ افسران کو ارسال کر دی گئی ہیں، جب کہ SHO تھانہ بی ڈویژن کو بھی اس مقدمہ کی اطلاع دی گئی ہے۔ واقعہ کی مکمل تفتیش جاری ہے، اور ذمہ داران کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔

    ریگل چوک اور گرد و نواح کے شہریوں نے اس واقعے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے عناصر کو سخت ترین سزا دی جائے تاکہ آئندہ کسی کو ایسی جرأت نہ ہو۔ سوشل میڈیا پر بھی واقعے کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔

  • خریدار بن کر قیمتی موبائل اور موٹرسائیکلیں ہتھیانے والا گروہ بے نقاب

    خریدار بن کر قیمتی موبائل اور موٹرسائیکلیں ہتھیانے والا گروہ بے نقاب

    لاہور میں شہریوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے دھوکہ دینے والا گروہ آخرکار قانون کی گرفت میں آ گیا۔ پولیس نے گروہ کے سرغنہ شہباز کو گرفتار کر لیا ہے، جو خود کو خریدار ظاہر کرکے لوگوں کو قیمتی اشیاء سے محروم کر دیتا تھا۔

    ملزم شہباز سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر قیمتی موبائل فونز، موٹرسائیکلوں اور دیگر اشیاء کے فروخت سے متعلق اشتہارات تلاش کرتا تھا۔ وہ مالک سے رابطہ کرکے خود کو سنجیدہ خریدار ظاہر کرتا، اور چیز چیک کرنے کے بہانے ملاقات طے کرکے موقع سے اشیاء لے کر فرار ہو جاتا تھا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شہباز کو سیف سٹی کیمروں کی مدد سے ٹریس کرکے گرفتار کیا گیا۔ گرفتاری کے وقت ملزم کے قبضے سے جعلی نمبر پلیٹ والی لگژری گاڑی، چار قیمتی موبائل فونز اور اسلحہ برآمد ہوا۔ابتدائی تفتیش میں ملزم نے لاہور، فیصل آباد اور اسلام آباد میں متعدد وارداتوں کا اعتراف کیا ہے۔ پولیس کے مطابق وہ اپنی وارداتوں میں جعلی نمبر پلیٹس والی گاڑیوں کا استعمال کرتا تھا تاکہ شناخت نہ ہو سکے۔

    حکام کے مطابق، گرفتار ملزم کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور توقع ہے کہ جلد باقی ملزمان کو بھی گرفتار کر لیا جائے گا۔پولیس کا کہنا ہے کہ شہری سوشل میڈیا پر کسی بھی قسم کی خرید و فروخت کے دوران احتیاط برتیں اور ذاتی ملاقات میں اشیاء دکھانے یا دینے سے گریز کریں، خاص طور پر تنہائی میں۔ اس قسم کی وارداتوں سے بچنے کے لیے پولیس سے مدد لینے کی بھی اپیل کی گئی ہے۔

  • ترکی میں  گستاخانہ خاکے شائع کرنے پر کارٹونسٹ اور ایڈیٹرز گرفتار

    ترکی میں گستاخانہ خاکے شائع کرنے پر کارٹونسٹ اور ایڈیٹرز گرفتار

    ترکی کے ایک ہفت روزہ میگزین میں خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے گستاخانہ خاکے شائع ہونے کے بعد ملک میں شدید ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔ ترکی کے میڈیا ذرائع کے مطابق، اس گستاخانہ خاکے کی اشاعت پر مذہبی حلقوں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے اور قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    استنبول کے چیف پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ 26 جون 2025 کو شائع ہونے والے اس شمارے میں ایسے کارٹون شائع کیے گئے جو کھلے عام مذہبی عقائد کی توہین کرتے ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ خاکے کی اشاعت میں ملوث تمام افراد کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے گئے ہیں اور ان کے خلاف تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔خبروں کے مطابق، جب یہ خبر عام ہوئی تو استنبول کے وسطی علاقے میں واقع اس بار پر، جہاں میگزین کا عملہ اکثر موجود رہتا ہے، مشتعل مظاہرین نے حملہ کر دیا۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں جن میں کئی افراد زخمی ہوئے۔

    ترک وزیر داخلہ علی یرلی قایا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں متنازعہ کارٹونسٹ کو گرفتار کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ "جس شخص نے یہ گستاخانہ خاکہ بنایا ہے اسے گرفتار کر لیا گیا ہے۔”مزید رپورٹس کے مطابق، کارٹونسٹ کے علاوہ میگزین کے دو ایڈیٹر ان چیف اور منیجنگ ایڈیٹر سمیت دیگر تین افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ ان افراد پر مذہبی عقائد کی توہین اور نفرت انگیز مواد شائع کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

    اس واقعہ پر ترک صدر رجب طیب اردوان نے بھی ردعمل دیا ہے اور کہا ہے کہ "جو لوگ حضرت محمد ﷺ اور دیگر انبیا کی شان میں گستاخی کریں گے، ان سے قانون کے مطابق سخت بازپرس کی جائے گی۔” انہوں نے واضح کیا کہ مذہبی اقدار کی توہین کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔

  • سانحہ سوات،17 سالہ نوجوان کی تاحال لاش نہ ملی

    سانحہ سوات،17 سالہ نوجوان کی تاحال لاش نہ ملی

    دریائے سوات کا وہ المناک سانحہ تو گزر گیا، مگر گھروں کے زخم آج بھی تازہ ہیں۔ وہ گھروالے جنہوں نے اپنی بیوی اور دو جواں سال بیٹیوں کی تدفین کی، اب 17 سالہ لاپتا بیٹے کے انتظار میں آنسو خشک کرتے نظر آ رہے ہیں۔ عبدالسلام، جو ایک غمزدہ والد ہیں، کا کہنا ہے کہ موت تو برحق ہے مگر اداروں کی نااہلی نے ان کا صبر آزما دیا ہے۔ بچے چیختے رہے، مگر مدد کے لیے کوئی نہ آیا۔

    ڈسکہ کا نوجوان عبد اللہ، نویں جماعت کا طالب علم، ماڈلنگ کا شوقین اور خوش مزاج لڑکا تھا۔ اس کا ہنستا مسکراتا چہرہ سب کی آنکھوں کا تارا تھا۔ اہل خانہ تین سال سے سیاحتی مقامات کی سیر کا پروگرام بنا رہے تھے تاکہ سب ایک ساتھ خوشیاں منائیں۔ مگر کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ عبد اللہ دریا کی تیز لہروں میں کہیں گم ہو جائے گا اور اس کے گھر والے بے بسی کے مارے ایک طویل انتظار میں مبتلا ہو جائیں گے۔

    دریائے سوات کے اس افسوسناک حادثے میں مجموعی طور پر 17 افراد بہہ گئے تھے، جن میں سے چار کو بچا لیا گیا جبکہ 12 کی لاشیں برآمد ہو چکی ہیں۔ عبد اللہ کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں ملا۔ عبدالسلام نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے اداروں کی لاپرواہی پر شدید تنقید کی اور کہا کہ “بچے جب مدد کے لیے چیختے رہے، کوئی نہیں آیا۔”عبد اللہ کے کزن اور دوست اسے واپس آنے کی امید رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عبد اللہ ضرور واپس آئے گا اور پھر سے سب کو ہنسائے گا، اپنے والد کا سہارا بنے گا۔ یہ امید کی کرن ہر دل میں زندہ ہے، جو گھروں کو امید کی روشنی فراہم کرتی ہے۔

    عبدالسلام جو اس وقت بیرون ملک مقیم ہیں، جب وہ پاکستان آئے تو انہوں نے اہل خانہ کے لیے سیاحتی دورے کا پروگرام بنایا تھا۔ بدقسمتی سے ان کی طبیعت ناساز ہونے کے باعث وہ خود اس دورے میں شریک نہیں ہو سکے۔ اب وہ اپنی فیملی کے اس سانحے میں الجھے ہوئے ہیں، مگر کہتے ہیں کہ “موت تو برحق ہے، مگر اداروں کی نااہلی پر افسوس ہے۔”

  • مستونگ میں دہشت گردوں کا لیویز لائن پر حملہ،جوابی کاروائی میں دہشتگرد ہلاک

    مستونگ میں دہشت گردوں کا لیویز لائن پر حملہ،جوابی کاروائی میں دہشتگرد ہلاک

    بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردوں نے لیویز لائنز پر ایک مسلح حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ایک نوجوان جاں بحق اور سات افراد زخمی ہوگئے۔ حملے کے دوران مسلح افراد نے تحصیل آفس کے ریکارڈ اور متعدد گاڑیوں کو بھی نذر آتش کردیا۔

    سی ٹی ڈی ذرائع کے مطابق، حملہ آوروں نے فورسز پر فائرنگ کی اور زخمیوں کو لے کر موقع سے فرار ہوگئے، تاہم سیکورٹی فورسز نے آماچ پہاڑی سلسلے میں ان کا پیچھا کیا۔ وہاں فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ کے تبادلے میں دو دہشت گرد ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔مقامی حکام کا کہنا ہے کہ فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر منظم کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا ہے تاکہ باقی حملہ آوروں کو گرفتار کیا جا سکے۔ سکیورٹی ادارے نہ صرف حملہ آوروں کی تلاش میں ہیں بلکہ ان کے سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے بھی کارروائیاں کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب، بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند نے مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے بتایا کہ دہشت گردوں نے بینک، تحصیل آفس اور دیگر سرکاری دفاتر پر بھی حملے کیے، جنہیں فورسز نے بروقت ردعمل دے کر پسپا کیا۔شاہد رند نے کہا کہ ایف سی، سی ٹی ڈی اور لیویز فورسز نے علاقے میں محاصرہ کر کے دہشت گردوں کو ناکام بنا دیا اور سیکورٹی صورتحال کو قابو میں لے لیا گیا ہے۔بلوچستان حکومت اور سکیورٹی ادارے اس واقعے کے پس پردہ عوامل کی تحقیقات میں مصروف ہیں اور یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ آئندہ بھی ایسے واقعات کا خاتمہ کیا جائے گا تاکہ عوام کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

  • ٹرمپ کا ایلون مسک کو ڈی پورٹ کرنے پر غور

    ٹرمپ کا ایلون مسک کو ڈی پورٹ کرنے پر غور

    امریکی اخبار کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ اپنے سابق اتحادی اور دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کو امریکا سے ڈیپورٹ کرنے پر غور کررہے ہیں۔

    فلوریڈا میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ ٹیکس بل کی مخالفت پر ایلون مسک کو ڈیپورٹ کریں گے جس پر ٹرمپ نے جواب دیا کہ مجھے نہیں پتا، ہم اسے دیکھیں گے،ایلون مسک پریشان ہیں کہ انہوں نے الیکٹرک وہیکل مینڈیٹ کھودیا، ایلون مسک مزید بھی بہت کچھ کھوسکتے ہیں، امید ہے اخراجات کابل ہم پاس کروالیں گے۔

    خیال رہے کہ دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کی پیدائش جنوبی افریقا کی ہے، ایلون مسک ری پبلکن ٹیکس بل کے کھلے عام مخالف ہیں، ری پبلکن ٹیکس بل کی بدولت الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری پرکنزیومر کریڈٹ ختم ہوجائے گا،امریکی اخبار کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی فروخت کی بڑی وجہ کنزیومر کریڈٹ کی دستیابی ہے

  • اخوت کے نام پر آن لائن دھوکہ دہی کی بڑھتی وارداتیں، عوام کو خبردار رہنے کی ہدایت

    اخوت کے نام پر آن لائن دھوکہ دہی کی بڑھتی وارداتیں، عوام کو خبردار رہنے کی ہدایت

    ملک بھر میں اخوت فاؤنڈیشن کے نام پر آن لائن دھوکہ دہی کی متعدد شکایات سامنے آنے کے بعد ادارے نے عوام الناس کو خبردار کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی نام نہاد اسکیم یا جعلی پلیٹ فارم کے جھانسے میں نہ آئیں۔

    بعض جعلساز گروہ سادہ لوح عوام کو "بلاسود قرض” دینے کا جھانسہ دے کر ان سے ایزی پیسہ یا جاز کیش کے ذریعے فیسوں کی مد میں رقم وصول کر رہے ہیں۔ یہ گروہ سوشل میڈیا، یوٹیوب چینلز، فیس بک پیجز، اور جعلی واٹس ایپ نمبرز کے ذریعے اخوت کے نام پر عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔اخوت انتظامیہ کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ اخوت فاؤنڈیشن کبھی بھی آن لائن قرض کی درخواست وصول نہیں کرتا۔قرض صرف اخوت کے دفاتر کے ذریعے ہی دیا جاتا ہے۔ادارے کی کوئی بھی فیس یا رقم ایزی پیسہ/جاز کیش کے ذریعے وصول نہیں کی جاتی۔کسی کو اخوت کے نام پر پیسے ٹرانسفر نہ کریں، چاہے وہ کتنا ہی معتبر دکھائی دے۔عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ صرف اور صرف اخوت کی آفیشل ویب سائٹ www.akhuwat.org.pk سے ہی معلومات حاصل کریں اور کسی بھی مشکوک لنک یا پیغام کو نظرانداز کریں۔

  • فیک نیوز کی مانیٹرنگ، روک تھام کیلئے سپیشل کنٹرول روم قائم

    فیک نیوز کی مانیٹرنگ، روک تھام کیلئے سپیشل کنٹرول روم قائم

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر محرم الحرام کے دوران قیام امن کے لئے فیک نیوز کی مانیٹرنگ اور روک تھام کے لئے پہلی مرتبہ خصوصی اقدامات،نیا سسٹم نافذ اورسپیشل کنٹرول روم قائم کر دیا گیا ہے۔

    وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے محرم کے دوران سوشل میڈیا پر فیک نیوز نشر کرنے پر سخت قانونی کارروائی کرنے کا حکم دیا۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پرسوشل میڈیا اکاؤنٹ پر متنازع مواد کی تشہیر کرنے والے افراد کی ٹریسنگ کا آغاز کر دیا گیا اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جارہی ہے۔ پنجاب میں سپیشل برانچ کی رپورٹ پر درجنوں متنازع سوشل میڈیا اکاؤنٹس بلاک کر دیئے گئے۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کی ہدایت پر عشرہ محرم الحرام کے دوران صوبے میں پہلی مرتبہ سائبر پٹرولنگ یونٹ ذمہ داریاں سرانجام دے گا۔قابل اعتراض سوشل میڈیا موادکی مانیٹرنگ اور رپورٹنگ کے لئے پی آئی ٹی بی کا خصوصی پورٹل بھی فعال کر دیا گیا۔ سپیشل سیل میں مذہبی منافرت اور فرقہ واریت پر مشتمل سوشل میڈیا مواد کی 24/7 مانیٹرنگ کی جائیگی۔ پورٹل پر متنازع مواد کی رپورٹنگ کے بعد اکاؤنٹ کی بندش اوراکاؤنٹ ہولڈر کو ٹریس کیا جاتا ہے۔ مذہبی منافرت پر مبنی مواد کی تشہیر و اشاعت اور تقاریر پر مکمل پابندی یقینی بنانے کیلئے خصوصی اقدامات کیے جائیں۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ڈرون کیمروں کے استعمال پر پابندی ہر صورت یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے محرم الحرام کے جلوس اور مجالس کومحفوظ بنانے کے لئے کوئیک رسپانس فورس تعینات کرنے کا حکم دیا۔جلوسوں کے دوران سکیورٹی کے لئے چاروں اطراف آہنی پائپ کی تنصیب کیے جائیں گے۔ عشرہ محرم کے ہر جلوس کے داخلی گیٹ پر خصوصی کیمرے نصب کیے جائیں تاکہ آنے والوں کو چہروں سے شناخت کیا جا سکے۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے مجالس اور جلوسوں میں خواتین عزاداروں کی سیکورٹی کے لئے خواتین پولیس افسر اور اہلکار تعینات کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا کہنا ہے کہ واقعہ کربلا امن اور رواداری کا درس دیتا ہے۔ عشرہ محرم الحرام کے دوران امن و امان کو یقینی بنانے کیلئے تمام ممکنہ اقدام کریں گے۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں عشرہ محرم الحرام حساس ہے، کوتاہی کی قطعاً گنجائش نہیں۔

  • آل  پارٹیز حریت کانفرنس وفد کی نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان سے ملاقات

    آل پارٹیز حریت کانفرنس وفد کی نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان سے ملاقات

    آل پارٹیز حریت کانفرنس وفد کی نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان سے ملاقات ہوئی ہے

    مسلہ کشمیر پر ہر دور میں آواز اٹھانے پر آل پارٹیز حریت وفد نے پیپلز پارٹی کا شکریہ ادا کیا ،وفد نے کہا کہ کشمیر کے حوالے سے مسائل پر قومی اور بین الااقوامی سطح پر پیپلز پارٹی نے ہمیشہ سپورٹ کیا ، وفد نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور دیگر اراکین کو شاندار عالمی سفارتی کامیابی سمیٹنے پر مبارکباد پیش کی ، وفد نے چیئرمین پیپلز پارٹی کی کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ بیانیے کی جنگ میں بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں پاکستانی وفد نے بھارت کو شکست دی،ووفد نے کشمیر کے حوالے سے اپنی سیاسی جہدوجہد کے بارے میں سینیٹر شیری رحمان کو آگاہ کیا،وفد اراکین نے کہا کہ جب بھی مسلہ کشمیر کو کسی بھی سطح پر اٹھانا ہو تو ڈائسپورہ ہمیشہ پیپلز پارٹی کے طرف دیکھتی ہے ،

  • وزیر اعظم کا ایرانی سفارتخارنے کا دورہ، اظہار تعزیت

    وزیر اعظم کا ایرانی سفارتخارنے کا دورہ، اظہار تعزیت

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے آج اسلام آباد میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارت خانے کا دورہ کیا اور ایرانی سفارت خانے کی جانب سے ایران کے خلاف حالیہ اسرائیلی جارحیت کے دوران شہید اور زخمی ہونے والے ایرانیوں کی یاد میں کھولی گئی تعزیتی کتاب پر اپنے تاثرات درج کئے ۔

    نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر اعظم کے مشیر طارق فاطمی اور سیکرٹری خارجہ بھی ان کے ہمراہ تھے۔سفارت خانے آمد پر پاکستان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم اور سفارت کے سینئر ارکان نے نے وزیر اعظم کا استقبال کیا۔ وزیر اعظم نے اس مشکل وقت میں ایران کے ساتھ پاکستان کی ہمدردی اور یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ایران کے عوام اور حکومت کے ساتھ گہری تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے ایرانی قوم کی استقامت اور حوصلے کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے شہید ہونے والوں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔

    ایران کو پاکستان کی مسلسل حمایت کا یقین دلاتے ہوئے، وزیراعظم نے ایرانی سپریم لیڈر عزت مآب آیت اللہ علی خامنہ ای اور صدر ڈاکٹر مسعود پیزشکیان کے لیے اپنی نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔