Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • چلاس میں لاپتا پشاور کے سیاحوں کا ڈراپ سین، پوری انتظامیہ کو دو دن دوڑاتے رہے

    چلاس میں لاپتا پشاور کے سیاحوں کا ڈراپ سین، پوری انتظامیہ کو دو دن دوڑاتے رہے

    گلگت بلتستان کے خوبصورت مگر دشوار گزار علاقے چلاس میں لاپتا ہونے والے پشاور کے سیاحوں کا ڈراپ سین خوشگوار انجام کے ساتھ ہوگیا۔ دو روز سے لاپتا سیاح خاندان کے افراد میں والدین، بیٹا اور بہو شامل تھے، جن کی تلاش کے لیے انتظامیہ، پولیس اور ریسکیو ٹیمیں دن رات سرگرم رہیں۔

    سیاحوں کی گمشدگی کی خبر پر مقامی انتظامیہ حرکت میں آئی، پولیس نے وائرلیس کے ذریعے پیغامات نشر کیے، جبکہ میڈیا نے خبر کو اجاگر کر کے معاملے کی سنگینی کو نمایاں کیا۔ نتیجتاً ریسکیو ٹیموں نے دریاؤں، پہاڑوں اور دشوار گزار راستوں کی چھان بین شروع کر دی۔ تاہم، تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ سیاحوں کی گاڑی راستے میں خراب ہو گئی تھی اور علاقے میں موبائل سگنلز نہ ہونے کے باعث وہ بیرونی دنیا سے رابطہ نہ کر سکے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ سیاحوں نے خود بھی کسی چیک پوسٹ یا قریبی پولیس اہلکار کو اطلاع دینا ضروری نہ سمجھا، جس سے ان کے اہلِ خانہ شدید پریشانی میں مبتلا ہو گئے اور انتظامیہ کو بھی غیر معمولی متحرک ہونا پڑا۔

    گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان کے مطابق یہ خاندان بابوسر ٹاپ کے قریب گاڑی خراب ہونے کے باعث رک گیا تھا۔ ان سے دو دن سے کوئی رابطہ نہیں ہو رہا تھا، جس کے بعد سی سی ٹی وی فوٹیج اور مقامی اطلاعات کی مدد سے ان تک رسائی ممکن ہوئی۔ بالآخر، ریسکیو ٹیموں نے انہیں بابوسر ٹاپ کے قریب تلاش کیا اور ان کی خیریت کی تصدیق کی۔واقعے کے بعد جب پشاور کے سیاح عثمان سے گلگت بلتستان پولیس نے استفسار کیا تو وہ مسکرا کر بولے: "سگنل نہیں تھے، اس لیے کسی سے رابطہ نہیں ہو سکا۔” انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ پولیس قریب ہی موجود تھی، مگر انہوں نے اطلاع دینا مناسب نہیں سمجھا۔

    ترجمان گلگت بلتستان حکومت نے سیاحوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ان علاقوں کا سفر کرتے ہوئے اپنی گاڑیوں کو چیک پوسٹوں پر لازمی رجسٹر کرائیں اور اپنے اہل خانہ سے مسلسل رابطے میں رہیں تاکہ کسی ہنگامی صورتِ حال میں بروقت مدد فراہم کی جا سکے۔

  • جوڈیشل کمیشن اجلاس،ہائیکورٹ کے مستقل چیف جسٹس صاحبان کی منظوری

    جوڈیشل کمیشن اجلاس،ہائیکورٹ کے مستقل چیف جسٹس صاحبان کی منظوری

    جوڈیشل کمیشن نے پشاور، بلوچستان، سندھ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے مستقل چیف جسٹس صاحبان کے ناموں کی منظوری دے دی ہے۔

    چار ہائی کورٹس کے مستقل چیف جسٹس کی تقرری کے لیے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس چیئرمین جوڈیشل کمیشن چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت ہوا، اجلاس میں سندھ، بلوچستان، پشاور اور اسلام آباد ہائی کورٹس کے مستقل چیف جسٹس صاحبان کی تقرری کے لیے ہر ہائی کورٹ کے سینئر ترین تین ججز کے ناموں پر غور کیا گیا،جوڈیشل کمیشن نے پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے لیے جسٹس عتیق شاہ کے نام کی منظوری دی ،چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کے لیے جسٹس سرفراز ڈوگرکے نام کی منظوری دی گئی،جوڈیشل کمیشن نے بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے لیے جسٹس روزی خان اور سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے لیے سینیئر ترین جج جسٹس جنید غفار کے نام کی منظوری دی۔

    جوڈیشل کمیشن نے ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کی تقرری سے وزیراعظم کو آگاہ کر دیا ہے۔ سیکرٹری جوڈیشل کمیشن نے وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کو مراسلہ لکھ دیا ہے،مراسلے میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم آرٹیکل 175 اے کی ذیلی شق 8 کے تحت ججز کے تقرر کی کارروائی مکمل کریں۔

    واضح رہے کہ جوڈیشل کمیشن کے13مستقل اراکین ہیں تاہم ہائی کورٹ کےچیف جسٹس کے لیے کمیشن کے ممبران کی تعداد 16 ہوتی ہے جب کہ کم ازکم 9 ممبران کی اکثریت سے چیف جسٹس کا تقرر ہوتا ہے،جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں چیف جسٹس پاکستان، سپریم کورٹ کے 4 ججز، اٹارنی جنرل، 2 حکومتی اراکین اور 2 اپوزیشن اراکین شریک ہوئے۔ ہر صوبے کے چیف جسٹس کے لیے صوبائی وزیر قانون، ہائی کورٹ بار نمائندہ اور سابق جج شریک ہوا،جوڈیشل کمیشن میں پاکستان بار کی نمائندگی احسن بھون نے کی اور اسپیکر قومی اسمبلی کی نامزد روشن خورشید بھروچہ بھی شریک ہوئیں۔

  • حافظ طلحہ سعید کی سانحہ سوات میں جاں بحق افراد کے گھر آمد،  لواحقین سے ملاقات،اظہار افسوس

    حافظ طلحہ سعید کی سانحہ سوات میں جاں بحق افراد کے گھر آمد، لواحقین سے ملاقات،اظہار افسوس

    آنکھوں کے سامنے اپنوں کا بہہ جانا،کربناک لمحات،عافیت کی دعاکرنی چاہئے،حافظ طلحہ سعید
    دریائے سوات کنارے مرکزی مسلم لیگ واٹر ریسکیو سنٹر بنائے گی،حافظ طلحہ سعید کا اعلان

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے نائب صدر حافظ طلحہ سعید نے سانحہ سوات میں جاں بحق افراد کے لواحقین سے ڈسکہ میں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔

    مرکزی مسلم لیگ کے وفد نےڈسکہ میں متاثرہ اہلخانہ سے ملاقات کی اور سیلابی ریلے میں ڈوب کر اموات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا،مرحومین کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی گئی،وفدمیں مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم و دیگر بھی شامل تھے.اس موقع پر مرکزی مسلم لیگ کے نائب صدر حافظ طلحہ سعید کا کہنا تھا کہ انتہائی تکلیف دہ کیفیت ہے ،آنکھوں کے سامنے خاندان کے افراد سیلاب میں بہہ رہے تھے، یہ کربناک،المناک لمحات ہم سب کو جھنجھوڑنے کے لئے کافی ہیں، ہمیں اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگنی چاہئے،یہ ہمارا قومی و دینی فریضہ ہے کہ ہم اپنے بچھڑنے والوں کے لواحقین کے ساتھ کھڑے ہوں، حکومت کو چاہیے تھا کہ پیشگی حفاظتی اقدامات کرتی، پاکستان مرکزی مسلم لیگ ہر مشکل گھڑی میں عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور خدمت کی سیاست ہمارا مشن ہے،مرکزی مسلم لیگ دریائے سوات کنارے ریسکیو سنٹر قائم کر رہی ہے جہاں چوبیس گھنٹے تربیت یافتہ عملہ موجود ہو گا، آئندہ ایسے سانحات کی روک تھام کے لئےمرکزی مسلم لیگ کردار ادا کرے گی، سانحہ سوات پر سیاست کی بجائے حکمران ایسے سانحات کو روکنے کے لئے کردار ادا کریں،اب ضرورت اس امر کی ہے کہ سانحہ سوات کے ذمہ داران کا تعین کیا جائے اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، حکومت کی مجرمانہ غفلت کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا.

    حافظ طلحہ سعید کا مزید کہنا تھا کہ سوات میں جو افراد ڈوبے ان میں ڈاکٹر عبدالرحمان کے خاندان کے 10 افراد شہید ہوئے، ہم تعزیت کے لئے حاضر ہوئے، دکھ کا اظہار کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ لواحقین کو صبر جمیل دے،یہ بہت بڑی آزمائش ہے،آنکھوں کے سامنے پیاروں کا ڈوبنا ناقابل بیان اور ناقابل برداشت ہے، خاندان کو بچانے کی کافی کوشش کی گئی،ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کی دعا کرتے ہیں،اللہ تعالیٰ پاکستان کو محفوظ فرمائے، بے حسی سے سب کو بچائے، حکومت کو ماننا چاہئے کہ مجرمانہ غفلت ہوئی، رب سے معافی مانگنی چاہئے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے اقدامات ہونے چاہیے

  • محکمہ آبپاشی  نے سانحہ  سوات سے متعلق   رپورٹ تیار کر لی

    محکمہ آبپاشی نے سانحہ سوات سے متعلق رپورٹ تیار کر لی

    پشاور، محکمہ آبپاشی نے سانحہ سوات سے متعلق رپورٹ تیار کر لی
    27جون کو دریائے سوات میں پانی کابہاؤ 77ہزار782 کیوسک ہو ا ، رپورٹ کےمطابق سیلابی ریلے سے متعلق 27جون کی صبح 8بجکر 41منٹ پر وارننگ جاری کی ، سیلابی ریلے سے متعلق ڈی سی سوات، چارسدہ اور نوشہرہ کو بھی اطلاع دی گئی تھی، واٹس ایپ پر حکام کو دریا سوات میں پانی کے بہاؤ کی مسلسل اپڈیٹس دیتے رہے ،محکمہ آبپاشی کی جانب سے واقعے کے روز ساڑھے 10بجے سیلابی انتباہ جاری کیا گیا ڈی سی سوات، پی ڈی ایم اے اور اے ڈی سی ریلیف کو بار بار الرٹس بھیجے گئے، ریکارڈ سے واضح ہے کہ محکمہ آبپاشی نے بروقت ایمرجنسی کی اطلاع دی، سیاح دریائے سوات میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کی وجہ سے پھنس گئے ،

    محکمہ آبپاشی نے سیاحتی علاقوں میں داخلہ محدود کرنے اور ہوٹل مالکان کو پابند بنانے کی سفارش کی، رپورٹ میں مقامی انتظامیہ کو سیاحوں کو محفوظ مقام تک محدود رکھنے کیلئے پالیسی بنانے کی تجویز دی گئی ہے،مدین اور کالام میں اضافی گیجز لگانے کی بھی سفارش کی گئی،

  • پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت سنبھال لی

    پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت سنبھال لی

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان نے جولائی 2025 کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت سنبھال لی ہے۔ پاکستان سلامتی کونسل کی آٹھویں مدت (2025–26) کے دوران صدر منتخب ہوا۔

    محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر، عالمی قانون اور کثیرالجہتی اصولوں کے لیے پُرعزم ہے۔ عالمی تنازعات اور انسانی بحرانوں کے تناظر میں پاکستان کی قیادت ایک اہم موقع پر سامنے آئی ہے، پاکستان سلامتی کونسل کو مؤثر، بامعنی اور سفارت پر مبنی فیصلوں کی طرف لے جانے کا عزم رکھتا ہے۔ اس موقع پر اقوام متحدہ اور او آئی سی کے درمیان تعاون پر ایک اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت بھی پاکستان کرے گا،امن و سلامتی، تنازعات کے حل اور کثیرالجہتی عالمی نظام پر اہم دستخطی تقریبات پاکستان کی زیرصدارت ہوں گی۔ فلسطین کے مسئلے پر سہ ماہی کھلے مباحثے کی صدارت بھی پاکستان کرے گا،پاکستان تمام رکن ممالک کے ساتھ متوازن اور مؤثر نتائج کے لیے تعاون کا خواہاں ہے۔

  • کراچی میں ٹرمپ کیخلاف مقدمہ کی درخواست

    کراچی میں ٹرمپ کیخلاف مقدمہ کی درخواست

    کراچی کی ایڈیشنل سیشن عدالت نے عالمی قوانین و جنیوا کنونشنز کی خلاف ورزی اورایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملے سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مقدمے کے اندراج کی درخواست پر اختیارات اور حدود سے متعلق دلائل طلب کرلیے۔

    کراچی سٹی کورٹ میں قائم ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت میں عالمی قوانین و جنیوا کنونشنز کی خلاف ورزی اورایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملے سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مقدمے کے اندراج کی درخواست دائر کی گئی،درخواست وکیل جمشید علی خواجہ کی جانب سے دائر کی گئی جس میں ایڈیشنل آئی جی کراچی، ایس ایس پی ساؤتھ اور ایس ایچ او ڈاکس کو فریق بنایا گیا ہے،درخواست میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بطور ملزم نامزد کیا گیا ہے،درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ مسلسل مجرمانہ سرگرمیوں، عالمی قوانین اور جنیوا کنونشنز کی خلاف ورزیوں پر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف شکایت کی، کراچی پولیس کے مختلف اعلیٰ افسران کو شکایتی درخواستیں دیں مگر درخواست پر نہ تو ایف آئی آر درج کی گئی اور نہ ہی بیان ریکارڈ کیا گیا،درخواست میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کرکے عالمی امن کو خطرے میں ڈالا گیا بلکہ کروڑوں مسلمانوں اور ہزاروں وکلا کو جسمانی، ذہنی و مالی نقصان پہنچا، پولیس کو سیکشن 154 سی آر پی سی کے تحت بیان ریکارڈ کرکے مقدمہ اندراج کا حکم دیا جائے،ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے درخواست سماعت کیلئے ایڈیشنل سیشن عدالت منتقل کردی۔ ایڈیشنل سیشن عدالت نے درخواست پر اختیارات اور حدود سے متعلق دلائل طلب کرلیا اور درخواست گزار کے وکیل کو آئندہ سماعت پر دلائل دینے کی ہدایت کردی،عدالت نے درخواست کی مزید سماعت جولائی تک ملتوی کردی۔

  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

    اسلام آباد: وفاقی حکومت نے نیا مالی سال 2025-26ء کے آغاز پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں واضح اضافہ کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔

    نئے نوٹیفیکیشن کے مطابق پٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 8 روپے 36 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد پٹرول کی نئی قیمت صارفین کو نافذ کی جائے گی، جس کے باعث گاڑیوں کے ایندھن کا مہنگا ہونا یقینی ہے۔اسی طرح، ڈیزل کی قیمت میں بھی 10 روپے 39 پیسے فی لیٹر کا اضافہ نوٹیفائی کیا گیا ہے۔ ڈیزل پر یہ اضافہ خاص طور پر ٹرانسپورٹ اور صنعتی شعبوں کو متاثر کرے گا کیونکہ ڈیزل پر چلنے والے گاڑیوں اور مشینری کی لاگت بڑھ جائے گی۔
    ماہرین کا کہنا ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں یہ اضافہ ملک میں مہنگائی کی موجودہ شرح کو مزید بڑھا سکتا ہے، جس سے اشیائے خورونوش اور دیگر ضروریات کی قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے۔ ٹرانسپورٹ کے کرایے بڑھنے کے باعث عام آدمی کی زندگی مزید مشکل ہو سکتی ہے۔

  • بلوچستان،سیلابی ریلوں میں دو روز میں 5 افراد کی موت

    بلوچستان،سیلابی ریلوں میں دو روز میں 5 افراد کی موت

    بلوچستان میں گزشتہ 2 روز کے دوران مون سون بارشوں کے باعث سیلابی ریلوں میں بہہ جانے اور ڈیم میں ڈوبنے کے واقعات میں 5 افراد جاں بحق ہوگئے۔

    بلوچستان میں مون سون کا آغاز 26 جون سے ہوا، صوبے کے متعدد اضلاع لسبیلہ، حب، بارکھان، ژوب، ہرنائی اور ڈیرہ بگٹی میں موسلا دھار بارشیں ہوئیں، ژوب میں سیلابی ریلے میں بہہ جانے سے ایک ہی خاندان کی 3 خواتین اور ایک لڑکی سمیت 4 افراد جاں بحق ہوئے،ادھر زیارت کے علاقے زڑگئی میں ڈیم میں ڈوبنے سے ایک خاتون جاں بحق ہوئی اور 2 خواتین کو بروقت ریسکیو کرلیا گیا، اسی طرح ہرنائی کے علاقے کھوسٹ میں سیلابی ریلے میں پھنسے 3 افراد کو بھی بحفاظت نکال لیا گیا،پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق مون سون بارشوں اور سیلابی ریلوں سے زرعی اراضی اور رہائشی مکانات کو نقصان پہنچا، خضدار میں 10 مکانات جب کہ زیارت میں ایک اسکول سمیت 2 عمارتیں گرگئیں، بارشوں سے کوئٹہ اور لسبیلہ میں 2 پلوں کو بھی جزوی نقصان پہنچا،محکمہ موسمیات نے 4 جولائی سے مون سون کے ایک اور اسپیل کی پیشگوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سال مون سون کے دوران معمول سے زیادہ بارشیں متوقع ہیں۔

  • یورپ شدید گرمی کی لپیٹ میں، اسپین اور پرتگال میں درجہ حرارت نئی بلندیوں کو چھو گیا

    یورپ شدید گرمی کی لپیٹ میں، اسپین اور پرتگال میں درجہ حرارت نئی بلندیوں کو چھو گیا

    یورپ اس وقت تاریخ کی بدترین گرمی کی لہر کی زد میں ہے، جس کے باعث درجہ حرارت کئی ممالک میں ریکارڈ سطح تک پہنچ گیا ہے، جنگلات میں آگ بھڑک اُٹھی ہے، درجنوں اسکول بند ہو چکے ہیں اور عوام کو گھروں میں رہنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

    اسپین کے صوبہ ہُیلوہ کے علاقے ال گرانیڈو میں ہفتے کے اختتام پر درجہ حرارت 46 ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا، جو کہ جون میں اسپین کا اب تک کا سب سے زیادہ درجہ حرارت ہے۔ اس سے قبل 1965 میں سیویل میں 45.2 ڈگری سیلسیس ریکارڈ ہوا تھا۔پرتگال کے شہر مورا میں اتوار کو 46.6 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔ ملک کے سات علاقوں بشمول دارالحکومت لزبن کو مسلسل دوسرے دن "ریڈ الرٹ” پر رکھا گیا ہے۔ فائر بریگیڈ کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے اور جنگلاتی علاقوں میں شدید خطرات لاحق ہیں۔ عوام کو دن کے گرم ترین اوقات میں گھروں سے نہ نکلنے کی تاکید کی گئی ہے۔

    برطانیہ میں بھی گرمی کی شدت معمولات زندگی کو متاثر کر رہی ہے۔ جنوب مشرقی انگلینڈ میں پیر کو درجہ حرارت 34 ڈگری سیلسیس تک جا پہنچا۔ ویمبلڈن میں ٹینس ٹورنامنٹ کے دوران درجہ حرارت ریکارڈ 29.7 ڈگری رہا، جو کہ اس ایونٹ کی تاریخ کا سب سے گرم آغاز ثابت ہوا۔ویمبلڈن میں عالمی چیمپئن کارلوس الکاراز کے میچ کے دوران ایک تماشائی گرمی کے باعث بے ہوش ہو گیا، جسے کرسی پر اٹھا کر باہر لے جایا گیا۔ یہ واقعہ میچ میں 15 منٹ کا وقفہ بھی بن گیا۔

    برطانیہ بھر کے ساحلی علاقوں میں لوگ گرمی سے بچاؤ کے لیے اُمڈ آئے۔ برائٹن اور بورن ماؤتھ کے ساحلوں پر معمول سے کہیں زیادہ بھیڑ دیکھی گئی۔ سڑکوں پر بھی ٹریفک جام معمول سے کہیں زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔

    یونان کے شہر اسکالا، میسینیا میں درجہ حرارت 43 ڈگری سیلسیس تک جا پہنچا۔ جنوبی ایتھنز کے قریب جنگلات میں آگ بھڑک اٹھی۔ جمعے کے روز یونانی جزیرے کارپاتھوس پر 55 سالہ برطانوی سیاح لاپتہ ہو گیا جس کی تلاش تاحال جاری ہے۔

    فرانس کے شہر آؤدے، ٹولوز کے قریب، 400 ہیکٹر زمین پر مشتمل جنگلات میں آگ لگ گئی، جس کا سبب ایک غیر مکمل طور پر بجھا ہوا باربی کیو بتایا جا رہا ہے۔ ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ فرانس کی ماحولیاتی وزیر اگنیس پنیے-روناشر کے مطابق ملک کے 96 میں سے 84 علاقوں میں اورنج الرٹ جاری کیا گیا ہے۔فرانس میں 4 کروڑ 40 لاکھ افراد ایسی شہری جگہوں میں مقیم ہیں جنہیں ہیٹ آئی لینڈز کہا جاتا ہے۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں عمارتیں، سڑکیں اور کنکریٹ درجہ حرارت کو بڑھا دیتے ہیں، اور یہاں کی گرمی دیہی علاقوں کی نسبت 4 سے 12 ڈگری سیلسیس زیادہ ہو سکتی ہے۔

    شدید گرمی کے باعث یورپ بھر میں تقریباً 200 اسکول بند یا جزوی طور پر بند کر دیے گئے ہیں۔ بچوں، بزرگوں اور مزدور طبقے کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ خاص طور پر کھلی جگہوں پر کام کرنے والوں کو سایہ دار جگہوں پر وقفے اور پانی پینے کی ہدایت کی گئی ہے۔برطانوی محکمہ موسمیات نے لندن، مشرقی انگلینڈ، ساؤتھ ویسٹ، ساؤتھ ایسٹ اور مڈلینڈز میں ایمبر ہیٹ الرٹ جاری کر دیا ہے، جو منگل شام 6 بجے تک مؤثر رہے گا۔ ماہرین کے مطابق منگل کو جنوب مشرقی علاقوں میں درجہ حرارت 35 ڈگری سیلسیس تک پہنچ سکتا ہے۔ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں ایسی شدید اور جان لیوا گرمیوں کا تسلسل مستقبل میں مزید بڑھے گا، جس سے نہ صرف انسانی زندگی بلکہ ماحولیات، معیشت اور زرعی شعبے پر بھی تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔

  • بچوں کے معروف ادیب اظہر عباس کی وفات،اپووا کا اظہار افسوس

    بچوں کے معروف ادیب اظہر عباس کی وفات،اپووا کا اظہار افسوس

    بچوں کے معروف ادیب اور نوے کی دہائی سے لے کر موجودہ دور تک ادبِ اطفال کی مختلف تحریکوں کے روح رواں، بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ممتاز چائلڈ رائٹر اظہر عباس طویل علالت کے بعد لاہور میں انتقال کر گئے۔ ان کی عمر تقریباً 65 برس تھی۔

    اظہر عباس ریڑھ کی ہڈی کے مہروں کی شدید تکلیف میں مبتلا تھے اور کئی ماہ سے صاحبِ فراش تھے۔ ان کے انتقال کی خبر نے نہ صرف بلوچستان بلکہ ملک بھر کے ادبی و تعلیمی حلقوں کو افسردہ کر دیا۔ وہ بچوں کے ادب کے حوالے سے ایک پہچانا ہوا نام تھے جنہوں نے کئی دہائیوں تک بچوں کے لیے تخلیقی اور تعلیمی مواد تخلیق کیا۔ ان کی تحریریں نہ صرف معصوم ذہنوں کی تربیت کرتی تھیں بلکہ ان میں اخلاقی اقدار اور حب الوطنی کا جذبہ بھی اُجاگر کرتی تھیں۔

    آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) کے بانی صدر ایم ایم علی، سینئر وائس چیئرمین ملک یعقوب اعوان، خواتین ونگ کی سینئر نائب صدر سلمیٰ کشم، سیکرٹری جنرل مدیحہ کنول، نائب صدر حافظ محمد زاہد، سفیان علی فاروقی، اسلم سیال، صدر خواتین ونگ خیبر پختونخوا فائزہ شہزاد،جنرل سیکرٹری خواتین ونگ خیبر پختونخوا ناز پروین،ضلع چکوال سے اپووا کوآرڈینیٹر فیضان شیخ، سیالکوٹ سے خرم میر، قصور سے طارق نوید سندھو، کلرکہار سے اعجاز الحق عثمانی ،ڈی جی خان سے ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی اور دیگر اراکین نے اظہر عباس کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئےاظہر عباس کی وفات کو بچوں کے ادب کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا اور کہا کہ ان کی علمی و ادبی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی،اظہر عباس کی وفات ایک چراغِ علم کے بجھنے کے مترادف ہے۔ ان کا تخلیقی سرمایہ نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ بنا رہے گا۔