Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • جنوبی ایشیا کا امن خطرے میں؟ اسرائیلی طرز پر بھارت کے فوجی عزائم بے نقاب

    جنوبی ایشیا کا امن خطرے میں؟ اسرائیلی طرز پر بھارت کے فوجی عزائم بے نقاب

    بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ ، ایک خاموش ڈرون حملے سے جنوبی ایشیا میں جنگ چھڑ سکتی ہے

    بھارت کی جانب سے جدید اور مہلک ہتھیاروں کی بڑے پیمانے پر خریداری اور ایران پر حالیہ اسرائیلی حملے جیسے ماڈل کو اپنانے کی رپورٹس سے خطے کے امن و استحکام پر سوالیہ نشان لگ گیاہے۔خبررساں ادارے کے مطابق ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت اپنی دفاعی پالیسی میں جارحانہ تبدیلی لا رہا ہے اور اسرائیلی ماڈل کو ایک مؤثر حکمت عملی کے طور پر دیکھ رہا ہے جس کے تحت حملے کا جواز پیدا کر کے کارروائی کی جاتی ہے۔گزشتہ چند برسوں میں بھارت نے اسرائیل ، فرانس اور روس سمیت مختلف ممالک سے اربوں ڈالر کا جنگی ساز و سامان خریدا ، جن میں فرانس سے 9 ارب ڈالر کے 36 رافیل طیاروں کی خریداری ، روس سے 5.4 ارب ڈالر کا S-400 دفاعی نظام کا معاہدہ ، اسرائیل سے بارک 8-میزائل سسٹم ، ہیرن و ہیرپ ڈرونز ، نائٹ وژن اور دیگر دفاعی آلات شامل ہیں۔حالیہ اسرائیل ایران کشیدگی کے دوران بھارت نے اسرائیلی کارروائی کو سراہا جس کے بعد خطے میں بھارت کی نیت اور عزائم پر عالمی سطح پر تشویش پیدا ہوئی ہے۔

    دفاعی ماہرین کے مطابق بھارت کی یہ تیاری ممکنہ طور پر کسی بڑی علاقائی چال یا کارروائی کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔ ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق ”موساد” اور ”را” کے درمیان انٹیلی جنس تعاون بھی اسرائیلی ماڈل کو اپنانے کی حکمت عملی کا حصہ نظر آ رہا ہے۔2019ء کے پلوامہ حملے کے بعد بھارت نے اسرائیل سے متاثر ہو کر پیشگی حملے کی حکمت عملی اپنائی۔ بالاکوٹ میں فضائی حملہ اور بعدازاں 2025ء میں آپریشن سندور جیسی بزدلانہ جارحیت اسی پالیسی کا حصہ ہیں اور بھارت اپنے مذموم سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے آگے بھی اسرائیل کی مدد سے پاکستان کے خلاف جارحیت کا ارادہ رکھتا ہے ۔رپورٹ کے مطابق پاکستان کے خدشات میں بھارت کی اسرائیل سے جدید دفاعی ٹیکنالوجی اور AWACS اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کا حصول نمایاں ہیں۔ بھارت کی پیشگی حملے کی پالیسی اور اسرائیلی ماڈل کی تقلید خطے بالخصوص جنوبی ایشیاء کے امن کو سنگین خطرات سے دوچار کر سکتی ہے۔ بھارت اور اسرائیل کے درمیان 2015ء سے 2025ء کے دوران دفاعی شراکت داری میں نمایاں تیزی دیکھنے میں آئی۔ دونوں ممالک کے درمیان اربوں ڈالرز کے دفاعی معاہدے طے پائے جن میں جدید ہتھیاروں کی خریداری ، مشترکہ دفاعی پیداوار اور ٹیکنالوجی کا تبادلہ شامل ہیں۔ اس شراکت داری کا مرکز فوجی صلاحیتوں میں اضافہ اور مشترکہ مذموم عزائم کا تحفظ رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت نے اسرائیل کے ساتھ کئی اہم دفاعی منصوبوں پر کام کیاہے جن میں بارک-8 طویل فاصلے کے فضائی دفاعی میزائل ، اسپائیڈر ایئر ڈیفنس ، اسپائیک اینٹی ٹینک میزائل ، ہیرون UAVs اور ہاروپ ڈرونز کا حصول شامل ہیں۔ فضائی صلاحیت کے اضافے کے لیے بھی بھارت نے اسرائیلی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھایا۔ EL/W-2090 ریڈار سے لیس فالکن AWACS طیاروں کی خریداری سے بھارت ممکنہ فضائی خطرات کا جواب دینے کی تیاری میں مصروف ہے ۔ بھارت کی کئی دفاعی کمپنیاں جیسے HAL ، بھارت فورج ، ٹاٹا اور اڈانی گروپ نے اسرائیلی اداروں کے ساتھ مل کر ڈرون ، توپ خانے ، گائیڈڈ گولہ بارود اور الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز کی مشترکہ پیداوار شروع کی ہوئی ہے۔ اس سے بھارت کی دفاعی خودانحصاری میں مزید اِضافہ ہو رہا ہے ۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ میزائل اور فضائی دفاع کے میدان میں بھارت نے روسی S-400 نظام خریدا ، جبکہ اسرائیلی بارک-8 کو مقامی سطح پر تیار کیا گیا۔ دونوں نظام بری اور بحری پلیٹ فارمز پر نصب کیے گئے۔ اسرائیل سے ملنے والے ہتھیار جیسے ڈربی ، پائیتھن میزائل اور اسپائس بم بھارت نے کنٹرول لائن پر بھی استعمال کیے۔ڈرون ٹیکنالوجی میں بھارت نے اسرائیل سے ہیرون ، سرچر Mk-II اور ہاروپ جیسے ڈرون حاصل کیے۔بھارت کی دفاعی پالیسی صرف اسرائیل تک محدود نہیں رہی۔ فرانس سے رافیل لڑاکا طیارے ، روس سے S-400 سسٹمز اور امریکہ سے MQ-9B ڈرونز اور میزائل سسٹمز حاصل کر کے بھارت نے کئی محاذوں پر دفاعی تیاری کو بہتر کیا۔ اسرائیلی ، روسی اور فرانسیسی ٹیکنالوجی کا امتزاج بھارتی فوج کو جدید ہتھیاروں سے مسلسل لیس کر رہا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ سائبر وارفئیر ، ڈرون حملے اور چہرے کی شناخت جیسے جدید آلات بھارت نے اسرائیل سے سیکھ کر اپنی حکمت عملی میں شامل کیے ہیں۔ دوسری طرف پاکستان بھی بھارت کی بدلتی حکمت عملی کے جواب میں اپنی تیاریاں تیز کر رہا ہے ، خاص طور پر سائبر کمانڈ اور ڈرون ٹیکنالوجی کی اپ گریڈیشن پر توجہ دی جا رہی ہے اور دفاعی شعبے کی ٹیکنالوجی کو بڑھانا وقت کا تقاضا ہے ۔ یہ ساری پیش رفت جنوبی ایشیاء میں طاقت کے توازن کو تبدیل کر رہی ہے۔ مستقبل کی جنگ روایتی طرز پر نہیں بلکہ غیر اعلانیہ، ٹیکنالوجی پر مبنی اور ممکنہ طور پر ایک خاموش ڈرون حملے سے شروع ہو سکتی ہے۔ پاکستان امن کو ترجیح دیتا ہے، مگر کسی بھی جارحیت کا سخت، مربوط اور فیصلہ کن جواب دینے کے عزم پر قائم ہے۔

    پاکستان کے سکیورٹی ادارے بھارت کے ہر قدم پر نظر رکھے ہوئے ہیں اورانہوں نے واضح کیا ہے کہ وطن عزیز کی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ پاکستان کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے اور قومی سلامتی پر کسی بھی قیمت پر آنچ نہیں آنے دے گا۔

  • گنڈا پور میں اخلاقی جرات ہوتی تو اب تک استعفیٰ دے چکے ہوتے، گورنر کے پی

    گنڈا پور میں اخلاقی جرات ہوتی تو اب تک استعفیٰ دے چکے ہوتے، گورنر کے پی

    گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر کے ہمراہ ڈسکہ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا پر 13 سال سے نااہل حکومت مسلط ہے ،

    گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ سوات واقعہ کا مقدمہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کیخلاف درج ہونا چاہیے،،صوبائی حکومت کرپشن کے نئے ریکارڈ قائم کر رہی ہے ، علی امین گنڈا پور میں اخلاقی جرات ہوتی تو اب تک استعفیٰ دے چکے ہوتے ، پی ٹی آئی حکومت نے صوبے کو تباہی کی طرف دھکیل دیا ہے؛سوات واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں ، سوات واقعہ پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کابیان افسوسناک ہے ، سانحہ سوات کے متاثرین کے غم میں برابر کے شریک ہیں ، اگر صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ چاہتی تو آدھے گھنٹے میں ہیلی کاپٹر آسکتا تھا ،

  • 27 جون کو 8 مقامات پرآپریشنز کرکے107 سیاحوں کوریسکیوکیا،سابق  ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر  ریسکیو

    27 جون کو 8 مقامات پرآپریشنز کرکے107 سیاحوں کوریسکیوکیا،سابق ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ریسکیو

    سابق ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ریسکیو نے سوات واقعے کی تحقیقاتی کمیٹی کو بیان قلمبند کرا دیا ہے

    سرکاری ذرائع کے مطابق سابق ڈی ای او ریسکیو نے ریکارڈ اور شواہد بھی کمیٹی کو جمع کرادیے، فوٹیجز، عملہ اور گاڑیوں کا ریکارڈ انکوائری کمیٹی کو فراہم کیا گیا،کمیٹی نے سابق ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر سے سوال کیا کہ قیمیتی جانیں کیوں نہ بچائی جاسکیں؟ اس پر سابق ریسکیو آفیسر نے جواب دیاکہ ڈوبنےوالوں کو بچانےکی ہر ممکن کوشش کی، خوازخیلہ پل کےمقام پر پانی کا بہاو77 ہزار کیوسک سےتجاوز کرگیا تھا، 9 بج کر 49 منٹ پرشہری کی کال ملی کہ ہوٹل میں بچے پھنسے ہوئے ہیں، 10 بج کر4 منٹ پر ریسکیو میڈیکل ٹیم موقع پر پہنچی، 15منٹ میں غوطہ خور اور ٹیوب کشتی سےسیاحوں کوبچانےکی کوشش شروع کی، واقعے کی جگہ پر پانی کا بہاؤ بہت تیز اور زیادہ تھا، 40 سے 45 منٹ میں جوکرسکتےتھے، ہم نےکیا، 3 سیاحوں کو ریسکیوکیا، سوات واقعے سے قبل 2 ایمرجنسی آپریشن مکمل کرکے سیاحوں کو محفوظ مقامات تک پہنچایا، 27 جون کو 8 مقامات پرآپریشنز کرکے107 سیاحوں کوریسکیوکیا۔

    دوسری جانب سوات میں تجاوزات کے خلاف ضلعی انتظامیہ کا گرینڈ آپریشن جاری ہے، بائی پاس اور فضاگھٹ پر اب تک 26 ہوٹل او ریسٹورنٹس کےخلاف کارروائی کی جاچکی ہے، متاثرہ فیملی نے دریاک ے کنارے جس ہوٹل پر ناشتہ کیا تھا وہ ہوٹل بھِی گرادیاگیا،ضلعی انتظامیہ کے مطابق سنگوٹہ تک 49 ہوٹلز اور ریسٹورنٹس کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ دنوں دریائے سوات میں سیلابی ریلے میں طغیانی کے باعث بہنے والے17 افراد میں سے ایک بچہ تاحال نہ مل سکا، بچے کو ڈھونڈنے کیلئے ریسکیو آپریشن چوتھے روز بھی جاری ہے .

  • ویتنام، ایئر پورٹ پر دو طیاروں کے ٹکراؤ کے بعد 4 پائلٹس معطل

    ویتنام، ایئر پورٹ پر دو طیاروں کے ٹکراؤ کے بعد 4 پائلٹس معطل

    ہنوئی: ویتنام کی ایئر لائنز نے 27 جون کو دارالحکومت ہنوئی کے نوئی بائی ایئر پورٹ پر پیش آنے والے ایک سنگین حادثے کے بعد اپنی چار پائلٹس کو معطل کر دیا ہے۔

    یہ واقعہ تب پیش آیا جب ایک بوئنگ 787 طیارے کو ہوچی منہ سٹی کی فلائٹ کے لیے رن وے پر ٹیک آف کے دوران ٹیکسیئنگ کی جا رہی تھی۔حادثہ دن دو بجے پیش آیا جب ایک بوئنگ 787 طیارہ رن وے پر اپنی جگہ پر حرکت کر رہا تھا کہ اچانک اس کی دُم دوسرے طیارے کے پر سے ٹکرا گئی۔ اس حادثے نے مسافروں اور عملے کے درمیان شدید خوف و ہراس پھیلا دیا۔ایئرلائن کے حکام نے بتایا ہے کہ واقعہ کی تحقیقات کے لیے فوری طور پر چار پائلٹس کو معطل کر دیا گیا ہے تاکہ ذمہ داروں کی نشاندہی کی جا سکے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔

    ویتنام ایئر لائنز نے مسافروں کی حفاظت کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایئرپورٹ سیکیورٹی اور فلائٹ آپریشنز کے معیارات کو مزید سخت کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے۔یہ واقعہ گزشتہ جمعہ کو پیش آیا، جس میں خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم یہ حادثہ ہوابازی کے معیار اور ایئرپورٹ کے آپریشنز میں احتیاط کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ویتنام کی ایئر لائنز کے حکام نے وعدہ کیا ہے کہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ آئندہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

  • مخصوص نشستیں نظر ثانی فیصلہ،پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ رجسٹرار کو خط،سنی اتحاد کونسل کی درخواست

    مخصوص نشستیں نظر ثانی فیصلہ،پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ رجسٹرار کو خط،سنی اتحاد کونسل کی درخواست

    مخصوص نشستوں سے متعلق نظرثانی کیس کے فیصلہ کے حوالے سے تحریک انصاف نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو خط لکھ دیا۔

    پی ٹی آئی نے خط میں کہا کہ مخصوص نشستوں پر نظرثانی کے مختصر فیصلے کا 12 ججز کا دستخط شدہ آرڈر آف دی کورٹ جاری کیا جائے، پی ٹی آئی نے سلمان اکرم راجہ کے توسط سے رجسٹرار سپریم کورٹ آف پاکستان کو خط لکھا،خط کے مطابق 27 جون کو سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں پر نظر ثانی کیس کا مختصر فیصلہ دیا، فیصلے کے آرڈر آف دی کورٹ میں صرف 10 ججز کے دستخط شامل ہیں،خط کے مطابق جسٹس صلاح الدین پنہور کے بنچ سے علیحدہ ہونے کے بعد 12 ججز کے دستخط ہونا لازم ہیں۔ جسٹس جمال مندوخیل نے الگ رائے دی اور جسٹس مظہر اور جسٹس حسن اظہر کی رائے بھی الگ ہے، تمام جج صاحبان کے الگ الگ فیصلوں کی مصدقہ نقول فراہم کی جائیں۔

    دوسری جانب سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں کے نظرثانی کیس کا 12 ججز کے دستخط کے ساتھ عدالتی حکم نامہ جاری کرنے کی استدعا کردی،سنی اتحاد کونسل کی جانب سے درخواست حامد خان نے دائر کی ہے، جس میں کہا گیا کہ 6 مئی کے حکم نامے میں کہا گیا تھا حتمی فیصلے پر اختلاف کرنے والے ججز کی رائے شامل ہوگی، درخواست میں کہا گیا کہ جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس عقیل عباسی کے دستخط 27 جون کے مختصر فیصلے میں موجود نہیں، یہ معاملہ بنیادی حقوق اور مفاد عامہ کا ہے، 12 ججز کے دستخط کے ساتھ جاری فیصلہ زیادہ مؤثر تصور ہوگا، جسٹس عائشہ اور جسٹس عقیل کے دستخط کے ساتھ آرڈر آف دا کورٹ ویب سائٹ پر دیا جائے۔

    یاد رہے کہ 27 جون کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے مخصوص نشستیں دینے کے فیصلے کے خلاف نظرِ ثانی درخواستیں منظور کی تھیں، فیصلے کے بعد پی ٹی آئی مخصوص نشستوں سے محروم ہو گئی،عدالت عظمیٰ کے آئینی فل بینچ نے نظرِ ثانی درخواستوں پر فیصلہ دیا اور جسٹس امین الدین خان نے مختصر فیصلہ سنا دیا، جس کے مطابق مخصوص نشستیں ن لیگ، پی پی اور دیگر جماعتوں کو ملیں گی۔

  • پی ٹی آئی حمایت یافتہ آزاد رکن اسمبلی کی وزیراعظم سے ملاقات،ن لیگ میں شامل

    پی ٹی آئی حمایت یافتہ آزاد رکن اسمبلی کی وزیراعظم سے ملاقات،ن لیگ میں شامل

    وزیراعظم شہباز شریف سے پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد رکن قومی اسمبلی چوہدری عثمان علی نے اہم ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات میں وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ بھی شریک تھے۔

    ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے چوہدری عثمان علی کو پاکستان مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کرنے پر دلی مبارکباد پیش کی۔ اس موقع پر چوہدری عثمان علی نے حکومتی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کی کاوشیں ملکی ترقی اور استحکام کے لیے بہت مثبت ہیں۔چوہدری عثمان علی نے آئندہ سال قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے والے بجٹ کی منظوری پر وزیراعظم کو مبارکباد بھی دی اور کہا کہ بجٹ میں عوامی فلاح و بہبود کے لیے اہم اقدامات شامل ہیں جو ملک کی ترقی میں مددگار ثابت ہوں گے۔

    ملاقات میں ساہیوال کے حلقے سے متعلق عوامی مسائل اور ترقیاتی منصوبوں پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی۔ چوہدری عثمان علی نے وزیراعظم کو ساہیوال کے مختلف مسائل سے آگاہ کیا اور ان کے حل کے لیے تعاون کی یقین دہانی کروائی گئی۔واضح رہے کہ چوہدری عثمان علی قومی اسمبلی کے حلقہ این اے-142 ساہیوال سے آزاد حیثیت میں منتخب ہوئے تھے اور وہ پاکستان تحریک انصاف کی حمایت یافتہ حیثیت رکھتے ہیں۔

  • شہادتوں کا جذبہ زندہ قوموں کی تاریخ کا روشن باب ہے ، حافظ مسعود اظہر

    شہادتوں کا جذبہ زندہ قوموں کی تاریخ کا روشن باب ہے ، حافظ مسعود اظہر

    لاہور ( )پاکستان اسلامک کونسل کے چئیرمین، جامعہ سعیدیہ سلفیہ کے پرنسپل اور امن کمیٹی کے ممبر ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر نے آج یہاں ہنگامی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ شمالی وزیر ستان میں شہید ہونے والے پاک فوج کے 13جوانوں کے ایک ایک قطرے کا دہشت گردوں سے حساب لیا جائے گا ۔ پاک فوج کا ہر جوان ہماری جان ہے ۔ شمالی وزیر ستان میں 13فوجی جوانوں کی شہادت قومی المیہ ہے ۔ دشمنوں کا مقابلہ کرنے اور اپنی جانوں پر کھیل کر وطن کا دفاع کرنے والے جوانوں پر قوم کو فخر ہے ۔فوجی جوانوں کی شہادت میں قوم کی حیات ہے ۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان میں ہونے والی تمام تر دہشت گردی اور تخریب کاری میں بھارت ملوث ہے ۔ بھارت کی صورت میں ہمیں ایک نہایت ہی کمینے اور گھٹیا دشمن کا سامنا ہے جس نے اول دن سے پاکستان کو تسلیم نہیں کیا اور آج بھی وطن عزیز کے خلاف دشمنی اور دہشت گردی کی کاروائیوں میں مصروف ہے ۔ قوم وطن کے دفاع اور دشمنوں کے ساتھ مقابلہ کرنے والی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے ۔افواج کو کمزور کرنا وطن کو کمزور کرنے کرنے کے مترادف ہے ، وطن کے دفاع کےلئے جانیں قربان کرنے والے غازی اور شہید ہمارے لئے باعث فخر ہیں ، مضبوط فوج ہی پاکستان کے دفاع اور استحکام کی ضامن ہے ۔ پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت کرنے امن وامان کو برقرار رکھنے اور دہشت گردوں دشمنوں کا مقابلہ کرنے والے شہدا نے ناقابل فراموش جرا ت وبہادری اور جوانمردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی جانیں مادر وطن پر نچھاور کی ہیں ۔ قوم اپنے ان بیٹیوں کی قربانیوں کو کبھی بھی بھلا نہیں پائے گی ۔ پوری پاکستانی قوم شہدا اور غازیوں کے خاندانوں کے ساتھ ہے ۔ ہمیں شہدااور غازیوں کے خاندانوں پر ناز ہے ۔ شہادتوں کا جذبہ زندہ قوموں کی تاریخ کا روشن باب ہے ، سرحدوں پر مامور جوان ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں اور ملک کے محافظ ہیں ۔ اسلام اور پاکستان کی تاریخ شہدا اور غازیوں کے تذکروں سے روشن ہے ، جذبہ شہادت کے بغیرپاکستان اپنا وجود قائم نہیں رکھ سکتا ہے، جذبہ شہادت کے ساتھ ہی ملک کے دشمنوں کو شکست دی جاسکتی ہے ۔

  • پاک بھارت جنگ میں میرا واٹس ایپ اڑا دیا گیا،پلوشہ خان

    پاک بھارت جنگ میں میرا واٹس ایپ اڑا دیا گیا،پلوشہ خان

    پیپلز پارٹی کہ سینیٹر پلوشہ خان نے کہا ہے کہ پاک بھارت جنگ میں میرا واٹس ایپ اڑا دیا گیا، مجھے کوئی سائبر سیکیورٹی الرٹ نہیں ملا۔

    پلوشہ خان کی زیرِ صدارت سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کا اجلاس ہوا جس میں پی ایس ڈی پی سال 25-2024ء فنڈز کے استعمال سے متعلق ایجنڈا زیرِ بحث آیا،اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے پلوشہ خان نے کہا کہ وزارت آئی ٹی کے پی ایس ڈی پی فنڈز کے استعمال اور پلاننگ کمیشن کے ترقیاتی بجٹ میں تضاد ہے، سینیٹ کی پلاننگ کمیٹی سے جو خط ملا، اس میں اور آپ کے بریف پیپرز میں فرق ہے،وزارت آئی ٹی کے حکام نے کہا کہ پلاننگ کمیشن سے منصوبوں کی منظوری بھی تاخیر سے ہوئی ہے۔

    سینیٹر افنان اللّٰہ نے کہا کہ گزشتہ سال وزارت آئی ٹی کو 21 ارب روپے مختص ہوئے، اس سال 16 ارب مختص کیے گئے، اس کی وجہ کیا ہے،وفاقی وزیر شزا فاطمہ نے کہا کہ اس بار مجموعی طور پر پی ایس ڈی پی فنڈز سے متعلق کٹوتیاں کی گئی ہیں، ایک سال پہلے قومی سطح پر نیشنل کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم بنی تھی، اب صوبائی سطح پر بھی کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیمیں تیار ہیں، نیشنل کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم سائبر سیکیورٹی سے متعلق آگاہی فراہم کرتا ہے۔

  • خلیل الرحمان قمر کیس،آمنہ عروج کی سزا معطلی کیخلاف درخواست،سماعت ملتوی

    خلیل الرحمان قمر کیس،آمنہ عروج کی سزا معطلی کیخلاف درخواست،سماعت ملتوی

    لاہور ہائیکورٹ،خلیل الرّحمٰان قمر کے مقدمے میں سزا یافتہ مجرمہ آمنہ عروج کی سزا معطلی کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    خلیل الرّحمٰان قمر کے وکیل مدثر چوہدری ایڈووکیٹ نے وکالت نامہ جمع کروا دیا ،وکیل خلیل الرحمان قمر نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالت دلائل کے لیے مہلت فراہم کرے ،جسٹس سید شہباز علی رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے درخواست پر سماعت کی ،آمنہ عروج نے سزا کی معطلی کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کررکھا ہے، آمنہ عروج سمیت دیگر نے سزا کے خلاف اپیلیں دائر کر رکھی ہیں،آمنہ عروج ،ذیشان قیوم اور ممنون حیدر نے سات سات سال قید کے خلاف اپیل لاہور ہائیکورٹ میں دائر کی ،اپیل میں مؤقف اپنایا گیا کہ ٹرائل کورٹ نے حقائق کا درست جائزہ نہیں لیا۔سزا معطل کی جائے

    دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ ،ریاست مخالف مواد اپ لوڈ کرنے کا مقدمہ ،عدالت نے صنم جاوید کی ضمانت منظور کرلی ،عدالت نے پانچ لاکھ روپے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کی ،جسٹس فاروق حیدر نے صنم جاوید کی ضمانت بعدازگرفتاری پر سماعت کی ،صنم جاوید کی جانب سے میاں علی اشفاق ایڈووکیٹ پیش ہوئے ،ایف آئی اے لاہور نے مقدمہ درج کررکھا ہے

  • پاکستان کو ایک ٹورزم برانڈ کے طور پر بیرون ملک متعارف کروایا جائے،وزیراعظم

    پاکستان کو ایک ٹورزم برانڈ کے طور پر بیرون ملک متعارف کروایا جائے،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پاکستان میں سیاحت کو فروغ دینے کے حوالے سے اجلاس ہوا

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کے شعبہ سیاحت میں زر مبادلہ کمانے کی لا محدود استعداد موجود ہے، اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو قدرتی وسائل اور لازوال خوبصورتی سے نوازا ہے،شمالی علاقوں میں برف پوش پہاڑ، جنگلات، دریا، حتی کہ میدان اور ریگستانی علاقے اور ایسے دیگر قدرتی وسائل کی بدولت ہمارا ملک دنیا میں کسی بھی ملک سے سیاحت کے ضمن میں کم نہیں، پاکستان کو ایک ٹورزم برانڈ کے طور پر بیرون ملک متعارف کروایا جائے. صوبوں کے تعاون سے پورے ملک میں سیاحت کے فروغ کے لیے اقدامات لیے جائیں، ملکی ترقی کے ویژن کے تحت پاکستان کو دنیا کے اولین سیاحتی مراکز کی فہرست میں شامل کریں گے

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان ٹورزم ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (پی ٹی ڈی سی) کو ملک میں سیاحت کے فروغ کے لیے فوری عملی اقدامات کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ سیاحت کے فروغ کے لئے خصوصی ٹورزم زون بنائے جائیں. بین الاقوامی سیاحوں کی پاکستان کے سیاحتی مقام پر آمدورفت کو سہل بنانے کے لئے پبلک اور پرائیوٹ سیکٹر مل کر کام کریں۔ اندرون ملک سیاحت اور ملکی سیاحوں کی تفریحی مقامات پر آمد کے لیئے خصوصی اقدامات کئے جائیں ۔ٹورزم سیکٹر میں مستقل سرمایہ کاری کے حوالے سے منصوبہ بندی کی جائے.

    اجلاس میں وزیراعظم کو ملک میں شعبہ سیاحت کی استعداد کو بروئے کار لانے کے لیے تجاویز پیش کی گئیں،بریفنگ میں‌بتایا گیا کہ سیاحت کو فروغ دینے کے لیے شمالی علاقوں جیسے سیاحتی مقامات کی تشہیر، میڈیکل ٹورزم اور دیگر اقدامات لیے جا سکتے ہیں،اجلاس میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی، وفاقی وزیر برائے آزاد کشمیر و گلگت بلتستان انجنئیر امیر مقام، وزیر قومی ورثہ اورنگزیب کھچی، وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ، معاون خصوصی حذیفہ رحمان اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام شریک تھے۔