Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پاکستان میں جارحیت کا جواز ڈھونڈنے کے لیے مودی حکومت کی نئی سازش

    پاکستان میں جارحیت کا جواز ڈھونڈنے کے لیے مودی حکومت کی نئی سازش

    بھارت اندرونی انتشار، انتخابی کشیدگی اور کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باعث شدید عالمی دباؤ کا شکارہے،

    اندرونی بدامنی سے توجہ ہٹانے کے لیے مودی سرکار نے ایک بار پھر پاکستان مخالف مہم چلا دی،فالس فلیگ آپریشنز کے ذریعے بھارت دنیا کو گمراہ اور پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کی سازش میں مصروف ہے ،بھارتی انٹیلی جنس ذرائع نےالزام لگایا کہ مودی سرکار کا انوکھا دعویٰ، پاکستان "دہشتگرد لانچ پیڈز” دوبارہ تعمیر کر رہا ہے، لائن آف کنٹرول کے جنگلاتی علاقوں میں چھوٹے، جدید کیمپس تعمیر کیے جا رہے ہیں، این ڈی ٹی وی کے مطابق پاک فوج، آئی ایس آئی اور حکومت مل کر "آپریشن سندور” میں تباہ کیے گئے دہشتگرد انفراسٹرکچر کو فعال کر رہے ہیں، این ڈی ٹی وی کے دعوے کے مطابق؛ "نئے کیمپس سیٹلائٹ اور ڈرون سے بچنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہیں” پاکستان عالمی بینک و ایشیائی بینک کی امداد دہشتگرد کیمپس کی تعمیر نو میں استعمال کر رہا ہے، بہاولپور میں جیش محمد، لشکرطیبہ، حزب المجاہدین کمانڈرز اور آئی ایس آئی کا اجلاس، دہشتگردوں کی تنظیم نو اور بھرتی کی منصوبہ بندی کی گئی

    این ڈی ٹی وی کا پراپیگنڈہ ریاستی حمایت یافتہ اور پاکستان کو دباؤ میں لانے کی مذموم سازش ہے،مودی سرکار جھوٹے بیانیے اور الزامات کے ذریعے پاکستان کے خلاف جنگی فضا پیدا کر رہی ہے،مودی سرکار ایک مرتبہ پھر دہشتگردی کا فرضی خطرہ دکھا کر فوجی جارحیت کا جواز پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے،پاکستان مخالف بیانیہ دراصل بھارت کا ہندوتوا ایجنڈا ہے جو جنگی جنون سے جڑا ہوا ہے،جنگ کا ماحول تیار کرنے کے لیے بی جے پی میڈیا، فوج اور خفیہ اداروں کو پہلے بھی ہتھیار بنا چکی ہے،بی جے پی کا نام نہاد ترقی یافتہ بھارت سیٹلائٹ، ڈرون اور نگرانی کے باوجود پہلگام حملے کے واضح ثبوت پیش کرنے سے قاصر کیوں ہے؟انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے "دہشتگردی” کا بیانیہ استعمال کرنا مودی سرکار کا پرانا حربہ ہے

  • مودی حکومت کی عالمی سطح پر دہشتگردی کی کاروائی بے نقاب

    مودی حکومت کی عالمی سطح پر دہشتگردی کی کاروائی بے نقاب

    مودی حکومت کی عالمی سطح پر دہشتگردی کی کاروائی بے نقاب ہو گئی ہے

    امریکی عدالت کے حالیہ دستاویزات میں بھارتی خفیہ ایجنسی "را” کی خالصتان رہنماؤں کے خلاف خفیہ سازش بے نقاب ہوئی ہے،امریکی عدالت کے دستاویزات کے مطابق "بھارتی تاجر نکھل گپتا نے تسلیم کیا کہ اسے ایک اعلیٰ بھارتی افسر نے قتل کی سازش کے لیے بھرتی کیا”گپتا کو گرپتونت سنگھ پنو کے قتل کا ٹاسک دیا گیا، گرپتونت سنگھ پنو امریکی اور کینیڈین شہری اور سکھ فار جسٹس کے سربراہ ہیں،گرپتونت سنگھ پنو جون 2023ء میں کینیڈا میں قتل ہونے والے ہردیپ سنگھ نجر کے قریبی ساتھی تھے، ہردیپ سنگھ نجر کا قتل کینیڈا نے اپنی خومختاری کیخلاف قرار دیتے ہوئے الزام بھارت پر لگایا،گپتا کو ازبکستان سے واپسی پر بھارتی عدالت میں پیش ہونے کو کہا گیا، جہاں اسے "امانت” نامی شخص نے رابطہ کیا،”امانت”، کی شناخت بعد میں وکاش یادو کے طور پر ہوئی، جو کہ را کا افسر تھا ، وکاش یادو مودی سرکار کو براہ راست رپورٹ کیا کرتا تھا، یادو نے گپتا کو پنون کا پتہ، فون نمبر اور دیگر معلومات دیں، قتل کے بدلے میں 100000 ڈالر دینے کا وعدہ کیا، گپتا کینیڈا میں مزید سکھ رہنماؤں کے قتل کی شازشیں بنا رہا تھا،گپتا نے پنوں کو فوری قتل کرنے کا حکم دیا، سازش اس وقت ناکام ہوئی جب گپتا کو پراگ ایئرپورٹ پر گرفتار کر لیا گیا، گپتا نے گرفتاری کے بعد فوراً یادو کا نام لیا،

    مودی سرکار سکھوں کو بیرون ملک بھی نشانہ بنانے کے لیے را اور مجرمانہ نیٹ ورکس کا استعمال کر رہی ہے،امریکی عدالتی دستاویزات سے واضح ہوا کہ بھارت سکھ مخالف دشمنی میں کس حد تک آگے بڑھ چکا ہے

  • جب بھی پارلیمان کو کمزور کیا گیا تو عوام کو نقصان پہنچا ،بلاول

    جب بھی پارلیمان کو کمزور کیا گیا تو عوام کو نقصان پہنچا ،بلاول

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نےعالمی یوم پارلیمان پر عوام کی جمہوری امنگوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے،

    بلاول بھٹوزرداری نےپارلیمان کی بالادستی کے ساتھ غیرمتزلزل وابستگی کااعادہ کیا اور کہا کہ پارلیمنٹ عوامی امنگوں کی نمائندہ، امیدوں کامرکز اور آزادیوں کی محافظ ہے،پارلیمنٹ میں گونجتی ہر منتخب آواز ہماری قوم کی جدوجہد اور قربانیوں کی عکاس ہے،جمہوریت کے شہداء میں قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو سرفہرست ہیں،
    مضبوط، خودمختار اور جامع پارلیمان امن، انصاف اور پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر ہے، ہمیں کسی کو بھی یہ اجازت نہیں دینی چاہیے کہ وہ مقننہ کے تقدس کو پامال کریں،پاکستان کی تاریخ نے سکھایا کہ جب بھی پارلیمان کو کمزور کیا گیا تو عوام کو نقصان پہنچا ،پارلیمنٹ کو جب بھی خاموش کیا گیا، قوم کو اس کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑی ہے، ملک کی تمام جمہوری قوتیں پارلیمان کو جائز مقام واپس دلانے کے لیے متحد ہوں، پارلیمان میں مساوات، انصاف کے خواب کو قانون کی شکل میں ڈھالا جا سکتا ہے، ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو شہیدکے ورثے کو آگے بڑھاؤں گایہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پارلیمان کا تحفظ ہمارا مقدس فریضہ ہے،

  • کراچی کا تاجر صادق آباد جاتے ہوئے اغوا،برہنہ ویڈیو اہلخانہ کو بھیج کر مانگا گیا تاوان

    کراچی کا تاجر صادق آباد جاتے ہوئے اغوا،برہنہ ویڈیو اہلخانہ کو بھیج کر مانگا گیا تاوان

    کراچی قائدآباد سے صادق آباد جانے والے معروف اسکریپ کے تاجر معین الدین کو اغوا کرلیا گیا ہے۔ پولیس نے واقعہ کا مقدمہ مغوی کے بیٹے غیاث الدین کی مدعیت میں قائدآباد تھانے میں درج کرلیا ہے۔

    مقدمے کے متن کے مطابق، معین الدین فیکٹریوں، سرکاری اداروں اور مارکیٹوں سے اسکریپ خریدنے کا کام کرتے ہیں۔ اغوا سے چند دن قبل معین الدین نے اپنے اہل خانہ کو اطلاع دی تھی کہ وہ صادق آباد جا کر اسکریپ خریداری کریں گے۔ 21 جون کو معین الدین کے چھوٹے بھائی ذیشان نے انہیں لانڈھی ریلوے اسٹیشن پر ٹرین کے لیے چھوڑا تھا، تاہم اگلے دن تک ان کا فون بند رہا اور رابطہ منقطع ہو گیا۔23 جون کو ذیشان کے فون پر معین الدین کے نمبر سے وائس میسج موصول ہوا جس میں اغواکاروں نے والد کی رہائی کے لیے بھاری تاوان کا مطالبہ کیا۔ اغواکاروں نے والد کی رہائی کے بدلے 2 کروڑ روپے، 2 مہنگی راڈو گھڑیاں اور 2 آئی فونز کا مطالبہ کیا ہے۔ علاوہ ازیں، انہوں نے معین الدین کی ایک تشدد زدہ اور برہنہ ویڈیو بھی اہلخانہ کو بھیجی ہے، پولیس نے مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کر دی ہے اور اغواکاروں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنے اور سراغ لگانے کا سلسلہ جاری ہے۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ جلد سے جلد معین الدین کی بازیابی کے لیے پرعزم ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے انصاف کی توقع رکھتے ہیں۔

  • جنگ کے بعد مشہد سے ایران ائیر کی پہلی پروازپہنچی کراچی

    جنگ کے بعد مشہد سے ایران ائیر کی پہلی پروازپہنچی کراچی

    : ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگ اور پھر سیز فائر کے بعد ایران کی سرکاری ایئر لائن ایران ائیر کی پہلی پرواز ایران کے شہر مشہد سے کراچی پہنچ گئی ہے۔

    ایران ائیر کی پرواز نمبر آئی آر 816، جو کہ ائیربس اے 319 طیارے کے ذریعے آپریٹ کی گئی، رات 1:13 بجے کراچی کے جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر لینڈ ہوئی۔ طیارے کے عملے اور مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ واپسی کی پرواز آئی آر 813 کراچی سے دارالحکومت تہران کے لیے شیڈول ہے۔ایوی ایشن ذرائع کے مطابق، 13 جون کو اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان جنگ شروع ہوئی جس کے باعث ایران کی فضائی سروسز بری طرح متاثر ہوئیں اور متعدد پروازیں منسوخ ہو گئیں۔ اس جنگ کے چند روز بعد دونوں ممالک نے سیز فائر کا اعلان کیا، جس کے بعد سے فضائی آپریشنز بحال کرنے کی کوششیں شروع ہوئیں۔

  • شمالی وزیرستان میں حملے کے پیچھے”را” کا ہاتھ ،سکھس فار جسٹس کا انکشاف

    شمالی وزیرستان میں حملے کے پیچھے”را” کا ہاتھ ،سکھس فار جسٹس کا انکشاف

    سکھس فار جسٹس نے کہا ہے کہ”بھارت کے R&AW نے پیراگ جین کے دہشت گرد نیٹ ورک کے ذریعے وزیرستان میں حملہ کرایا” –

    ایس ایف جے نےامریکی سیکریٹری خارجہ کو قانونی میمورنڈم میں کہا ہے کہ را کو "دہشت گرد تنظیم قرار دیا جائے کیونکہ را گذشتہ اور موجودہ سربراہ پیراگ جین کی قیادت میں مودی کی بین الاقوامی دہشت گرد کی پالیسی کو رو بہ عمل لا رہا ہے”شمالی امریکہ کے انسانی حقوق کے گروپ سکھس فار جسٹس (SFJ) نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں ہندوستان کی خفیہ ایجنسی را R&AW پر وزیرستان میں پاکستانی فوجیوں پر ہونے والے مہلک خودکش بم حملے کی منصوبہ بندی کا براہ راست الزام لگایا گیا ہے۔ایس ایف جے کے مطابق، یہ حملہ را کے نئے تعینات ہونے والے چیف پیراگ جین نے کروایا ہے جو پہلے بھارتی ایجنسی کے اسلام آباد ڈیسک کو چلاتے تھے اور پاکستان کے اندر گہرے دراندازی کے نیٹ ورک تیار کرتے تھے۔

    ایس ایف جے کے قانونی وکیل، گروپتونت سنگھ پنوں نے کہا، "پاراگ جین سرحد پار دہشت گردی کا معمار ہے۔””پراگ جین نے پاکستان میں قیام کے دوران دہشت گردی کے نیٹ ورک بنائے – اور اب، R&AW کے سربراہ کی حیثیت سے، اس نے انہیں پاک فوج پر براہ راست حملے کرنے کے لیے فعال کیا ہے۔”بیان میں الزام لگایا گیا ہے کہ R&AW نے پاکستان میں مقیم گروپوں کو فنڈز فراہم کیے، مسلح کیا اور اپنے کارندوں کے ذریعے پاکسستان میں دراندازی کی اور وزیرستان میں خودکش بم دھماکے کیے ، یہ بھارت کی مودی حکومت کی ایک بڑی غیر اعلانیہ جنگ کا حصہ ہے۔پنوں نے کہا، ’’پاکستانی فوج کے قافلے پر حملہ ہندوستان کی مودی حکومتوں کی ریاستی منظور شدہ خفیہ دہشت گردی کی کارروائی ہے۔‘‘

    ایس ایف جے نے باضابطہ طور پر امریکی سکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو کو ایک قانونی پالیسی میمورنڈم جمع کرایا ہے، جس میں امریکہ پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ہندوستان کی R&AW کو امیگریشن اینڈ نیشنلٹی ایکٹ کی دفعہ 219 کے تحت ایک غیر ملکی دہشت گرد تنظیم (FTO) کے طور پر نامزد کرے – اس حملے کا حوالہ دیتے ہوئے مزید ثبوت کے طور پر اس بات کا ثبوت ہے کہ R&AW ایک دہشت گرد ریاست کے طور پر کام کرتا ہے۔

  • خراب مشروب پینے سے  مدرسے کے3 بچوں کی موت

    خراب مشروب پینے سے مدرسے کے3 بچوں کی موت

    پنجاب کے شہر منڈی بہاءالدین میں خراب مشروب پینے سے 3 بچوں کی موت ہو گئی ہے

    منڈی بہاءالدین کے علاقہ کدھر شریف میں مدرسہ میں زیر تعلیم 3 طالبعلم مبینہ طور پر خراب مشروب پینے کے باعث جاں بحق ہوگئے جبکہ ایک بچہ زیرعلاج ہے،ایس ایچ او تھانہ کٹھیالہ شیخاں محمد آصف رانجھا نےنجی ٹی وی کو بتایا کہ متاثرہ بچوں نے قریبی دکان سے مشروب کا پاؤڈر لیا تھا، شربت پینے کے بعد ان کی حالت غیر ہوگئی اور انہیں اسپتال منتقل کیاگیا،متاثرہ بچوں کی عمریں 11 سے 13 سال کے درمیان ہیں،پولیس نے دکاندار سمیت 2 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکے انہیں گرفتار کر لیا ہے۔3 بچوں کی لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے بعد ورثا کے حوالے کردیا گیا ہے۔

  • وزیرستان خود کش حملہ،دہشتگردوں کی ہلاکت پر سیکورٹی فورسز کو خراج تحسین،خالد مسعود سندھو

    وزیرستان خود کش حملہ،دہشتگردوں کی ہلاکت پر سیکورٹی فورسز کو خراج تحسین،خالد مسعود سندھو

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے شمالی وزیرستان میں خود کش حملے کی مذمت کی ہے اور 14 دہشتگردوں کی ہلاکت پر سیکیورٹی فورسز کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک دشمن عناصر کے لیے واضح پیغام ہے کہ پاک فوج ہر حال میں مادر وطن کے تحفظ کے لیے تیار ہے،

    خالد مسعود سندھو نے سیکیورٹی فورسز کے 13 جوانوں کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم شہدا کی قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں ،مرکزی مسلم لیگ ان کے لواحقین کے دکھ میں برابر کی شریک ہے، خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ فتنہ الہندوستان کے ذریعے پاکستان میں بدامنی پھیلانے کی کوششیں خطے کے امن کو خطرے میں ڈال رہی ہیں ،دہشتگردوں کے خلاف مضبوط اور متحدہ لائحہ عمل بنایا جائے، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، ہماری بہادر افواج نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ پاکستان کے دشمن، چاہے وہ اندرونی ہوں یا بیرونی، ان کے ناپاک عزائم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ شمالی وزیرستان میں فتنہ الہندوستان کے تربیت یافتہ دہشتگردوں کو جہنم واصل کرکے ہماری سیکیورٹی فورسز نے ملک دشمنوں کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی کی کوئی گنجائش نہیں،

  • شمالی وزیرستان میں دہشتگرد حملہ، 13 جوان شہید، 14 دہشتگرد ہلاک

    شمالی وزیرستان میں دہشتگرد حملہ، 13 جوان شہید، 14 دہشتگرد ہلاک

    شمالی وزیرستان کے ی علاقے میر علی میں سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر ایک بزدلانہ دہشتگرد حملہ کیا گیا، جس کی منصوبہ بندی اور سرپرستی بھارت جیسے دہشتگرد ریاست نے کی، جبکہ اس پر عمل درآمد اس کے آلہ کار گروہ فتنہ الخوارج نے کیا۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، دہشتگردوں نے ایک بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے قافلے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم فورسز کے اگلے دستے نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اس ناپاک منصوبے کو ناکام بنایا۔ اسی دوران ایک اور دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی کو زبردستی فورسز کی گاڑی سے ٹکرا دیا گیا، جس کے نتیجے میں 13 جوان جام شہادت نوش کر گئے۔اس افسوسناک واقعے میں تین شہری، جن میں دو بچے اور ایک خاتون شامل ہیں، شدید زخمی ہوئے۔حملے میں صوبیدار زاہد اقبال (45 سال، ضلع کرک)،حوالدار سہراب خان (39 سال، ضلع نصیرآباد)،حوالدار میاں یوسف (41 سال، ضلع بونیر)،نائیک خطاب شاہ (34 سال، ضلع لوئر دیر)،لانس نائیک اسماعیل (32 سال، ضلع نصیرآباد)،سپاہی روحیل (30 سال، ضلع میرپور خاص)،سپاہی محمد رمضان (33 سال، ضلع ڈیرہ غازی خان)،سپاہی نواب (30 سال، ضلع کوئٹہ)،سپاہی زبیر احمد (24 سال، ضلع نصیرآباد)،سپاہی محمد سخی (31 سال، ضلع ڈیرہ غازی خان)،سپاہی ہاشم عباسی (20 سال، ضلع ایبٹ آباد)،سپاہی مدثر اعجاز (25 سال، ضلع لیّہ)،سپاہی منظر علی (23 سال، ضلع مردان)شہید ہوئے

    واقعے کے فوری بعد علاقے میں بڑے پیمانے پر سرچ اور کلیئرنس آپریشن کیا گیا، جس کے دوران سیکیورٹی فورسز نے شدید فائرنگ کے تبادلے میں 14 خوارج دہشتگردوں کو جہنم واصل کر دیا۔ حکام کے مطابق علاقے میں آپریشن تاحال جاری ہے اور اس حملے میں ملوث تمام عناصر کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔

    پاک فوج اور قوم دہشتگردی کے خلاف یک جان اور مضبوط موقف پر قائم ہیں۔ ترجمان افواج پاکستان کے مطابق "ہمارے سپاہیوں اور معصوم شہریوں کی قربانیاں ہمارے قومی عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں کہ ہم اپنی سرزمین سے بھارت کی پشت پناہی میں پلنے والی دہشتگردی کو ہر قیمت پر ختم کریں گے۔”قوم ایک بار پھر اپنے شہداء کو سلام پیش کرتی ہے جنہوں نے وطن کی حفاظت میں اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر تاریخ رقم کی۔

  • سانحۂ سوات، کوتاہی، لاپرواہی یا ناقص حکمت عملی

    سانحۂ سوات، کوتاہی، لاپرواہی یا ناقص حکمت عملی

    دریائے سوات میں پکنک منانے آئے سیاحوں کی ہولناک ہلاکتوں نے پورے ملک کو افسردہ کر دیا ہے۔ حادثے میں جاں بحق ہونے والے 11 افراد میں سے 8 کی نماز جنازہ ڈسکہ میں ادا کر دی گئی جبکہ 2 افراد کی تلاش اب بھی جاری ہے۔ یہ اندوہناک واقعہ کئی سوالات چھوڑ گیا ہے جن کے جوابات لواحقین، عوام، اور سوسائٹی مانگ رہی ہے۔

    جاں بحق افراد کے اہل خانہ اور عینی شاہدین نے الزام عائد کیا ہے کہ ریسکیو 1122 کی ٹیمیں ڈیڑھ گھنٹے کی تاخیر سے پہنچیں، اور جب پہنچیں تو ان کے پاس نہ کشتیاں تھیں، نہ جال۔ متاثرین بتاتے ہیں کہ ان کے عزیز دریا کے بیچ ایک ٹِیلے پر پھنسے رہے، چیختے رہے، مدد کے لیے پکارا، مگر موجیں سب کچھ بہا لے گئیں۔ضلعی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ سیاحوں کو خطرے سے خبردار کیا گیا تھا اور انہیں روکا بھی گیا، لیکن وہ نہ مانے۔ ذرائع کے مطابق متاثرہ فیملی صبح 8:30 پر ہوٹل کے کیفے میں ناشتے کے لیے پہنچی مگر ہوٹل بند تھا، جس کے بعد وہ پچھلے راستے سے دریا کے اندر چلے گئے۔ سیاحوں نے دریا کے اندر جا کر سیلفیاں لینا شروع کر دیں، مقامی لوگوں نے بار بار خبردار کیا کہ پانی کا ریلا آ سکتا ہے، مگر وہ باز نہ آئے۔

    سرکاری ذرائع کے مطابق 9:50 پر ریسکیو 1122 کو کال کی گئی، مگر حادثے کی نوعیت کا اندازہ نہ ہونے کے باعث ٹیمیں بغیر کشتی و جال کے پہنچیں۔ بعد ازاں 10 منٹ میں یہ سامان منگوایا گیا اور کارروائی شروع کی گئی۔ کارروائی کے دوران تین سیاحوں اور ایک مقامی شخص کو بچایا گیا۔

    واقعے کی سنگینی کے پیش نظر خیبر پختونخوا حکومت نے ڈپٹی کمشنر سوات سمیت متعدد افسران کو معطل کر دیا ہے اور ایک انکوائری کمیٹی قائم کر دی گئی ہے تاکہ ذمہ داروں کا تعین ہو سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ سوات بار ایسوسی ایشن نے احتجاجاً عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور سانحے میں غفلت برتنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

    کمشنر مالاکنڈ عابد وزیر نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں انکشاف کیا کہ سیاحتی پوائنٹس پر تجاوزات کے خلاف آپریشن شروع کیا جا رہا ہے۔ جس نجی ہوٹل سے سیاح دریا کی طرف گئے تھے، اسے سیل کر کے مالک کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ دریائے سوات کے اندر اور اطراف غیر قانونی مائننگ پر مکمل پابندی لگا دی گئی ہے۔سرکاری رپورٹ کے مطابق ضلع بھر میں دفعہ 144 نافذ تھی، جس پر عملدرآمد پولیس کی ذمہ داری تھی۔ مگر حیرت انگیز طور پر پولیس جائے وقوعہ پر سب سے آخر میں پہنچی۔ سوال یہ ہے کہ جب قانون لاگو تھا تو دریا کے اندر سیاح کیسے پہنچے؟ ہوٹل کا پچھلا راستہ کیوں کھلا تھا؟ پولیس اور انتظامیہ کہاں تھی؟

    اہم سوالات جو اب بھی جواب طلب ہیں ،اگر دفعہ 144 نافذ تھی تو سیاحوں کو دریا میں جانے سے کس نے روکا؟ریسکیو اہلکار بغیر سامان کیوں پہنچے؟حادثے کے وقت ہوٹل کھلا کیوں نہ تھا، اور پچھلا راستہ بند کیوں نہ تھا؟انتظامیہ اور پولیس موقع پر تاخیر سے کیوں پہنچے؟اگر سیاحوں نے مقامی لوگوں کی بات نہ مانی تو کیا سرکاری ادارے مزید سختی نہیں کر سکتے تھے؟

    سانحہ سوات صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک نظام کی ناکامی کی علامت بن گیا ہے۔ انتظامیہ، پولیس، ریسکیو ادارے، سب کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ یہ وقت ہے کہ حکومتی سطح پر ٹھوس اقدامات کیے جائیں تاکہ آئندہ ایسی غفلت انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب نہ بنے۔