Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • اینکر عائشہ جہانزیب سے متعلق غیر مناسب گفتگو ،یوٹیوبر کا جسمانی ریمانڈ منظور

    اینکر عائشہ جہانزیب سے متعلق غیر مناسب گفتگو ،یوٹیوبر کا جسمانی ریمانڈ منظور

    ضلع کچہری لاہور ،اینکر عائشہ جہانزیب سے متعلق غیر مناسب گفتگو کرنے کا مقدمہ ،عدالت نے یوٹیوبر حسیب سجاد خان کا پانچ دوزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا

    جوڈیشل مجسٹریٹ محمد نعیم وٹو نے جسمانی ریمانڈ کی درخواست کا تحریری فیصلہ جاری کردیا ،عبوری حکم میں کہا گیا ہےکہ ایف آئی اے کے تفتیشی نے ملزم کے چودہ روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی ،تفتیشی افسر نے ریکوری کے لیے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی،ملزم کو یکم جولائی کو عدالت میں پیش کیا جائے ،ملزم سے تفتیش سے متعلق رپورٹ بھی عدالت پیش کی جائے ،

    مدعیہ عائشہ جہانزیب کی جانب سے زین علی قریشی ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے ،ایف آئی اے لاہور نے یوٹیوب حسیب سجاد خان کو گرفتار کررکھا ہے ،اینکر عائشہ جہانزیب سے متعلق غیر مناسب گفتگو کرنے کا مقدمہ ایف آئی اے لاہور نے درج کیا

  • جنوبی پنجاب کے اضلاع کو ای بسیں فراہم کی جائیں،وزیراعلیٰ

    جنوبی پنجاب کے اضلاع کو ای بسیں فراہم کی جائیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں محکمہ ٹرانسپورٹ کے جاری اور مستقبل کے منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

    اجلاس میں الیکٹریک بس منصوبے پر ہونے والی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت دی کہ جنوبی پنجاب اور دُور دراز کے اضلاع کو ترجیحی بنیادوں پر الیکٹریک بسیں فراہم کی جائیں تاکہ ترقی کے ثمرات صرف بڑے شہروں تک محدود نہ رہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ ہر نئی سہولت صرف شہری مراکز تک محدود کرنے کے کلچر کو تبدیل کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ دیہی علاقوں کو بھی بڑے شہروں کے برابر لایا جائے گا۔ اس سلسلے میں پہلے مرحلے میں 24 اضلاع کو 240 الیکٹریک بسیں دی جائیں گی۔ اگست سے اکتوبر کے درمیان لاہور، فیصل آباد، بہاولپور، ملتان اور راولپنڈی کو 500 الیکٹریک بسیں فراہم کی جائیں گی، جبکہ نومبر سے دسمبر تک پنجاب بھر میں مزید 600 الیکٹریک بسیں شامل کی جائیں گی۔پنجاب کلین ایئر پروگرام کے تحت لاہور، شیخوپورہ، ننکانہ اور قصور کو بھی 400 الیکٹریک بسیں فراہم کی جائیں گی تاکہ ماحولیاتی بہتری کے ساتھ ساتھ عوامی نقل و حرکت میں آسانی پیدا کی جا سکے۔

    اجلاس میں گوجرانوالہ بی آر ٹی منصوبے پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ منصوبہ راہوالی سے ایمن آباد تک تقریباً 22 کلومیٹر طویل ہوگا، جس پر 28 اسٹیشنز قائم کیے جائیں گے۔ پورے شہر اور مضافاتی علاقوں کو اس سسٹم سے منسلک کرنے کے لیے 80 فیڈر بسیں چلائی جائیں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ گکھڑ منڈی تک توسیع کی تجویز پر بھی غور کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے بی آر ٹی روٹ پر ٹریفک کو بہتر انداز میں کنٹرول کرنے کے لیے سمارٹ سلوشنز اپنانے کی ہدایت بھی جاری کی، اور بتایا کہ اس منصوبے کے لیے 4 الیکٹریک بس ڈپو بھی قائم کیے جائیں گے۔

    فیصل آباد میں اورنج لائن اور ریڈ لائن ٹرانسپورٹ سسٹم پر بھی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ ریڈ لائن 23.4 کلومیٹر طویل ہوگی اور اس پر 24 اسٹیشنز ہوں گے، جس سے روزانہ 1 لاکھ 85 ہزار سے زائد مسافر مستفید ہوں گے۔ اورنج لائن 29 کلومیٹر طویل ہوگی جس پر 21 اسٹیشنز تعمیر کیے جائیں گے، اور یہ یومیہ 1 لاکھ 11 ہزار سے زائد مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرے گی۔ وزیراعلیٰ نے فیڈمک سے سلامی چوک تک روٹ کو بھی اس منصوبے کا حصہ بنانے کی ہدایت دی۔

    مریم نواز نے محکمہ ٹرانسپورٹ کو ہدایت کی کہ تمام عوامی فلاحی منصوبے بلا تاخیر شروع کیے جائیں، اور ای بسوں کے روٹس عوام کی سفری ضروریات کو مدنظر رکھ کر مقرر کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام اضلاع ان کے لیے برابر ہیں اور ہر علاقے کو ترقی کے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت صرف عوام کی بہتری کے لیے سوچتی ہے اور یہی اس کے ہر فیصلے کی بنیاد ہے۔

  • محسن نقوی کا اچانک دورہ نادرا میگا سنٹر، شہریوں کا سہولیات پر اظہار اطمینان

    محسن نقوی کا اچانک دورہ نادرا میگا سنٹر، شہریوں کا سہولیات پر اظہار اطمینان

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد کے علاقے بلیو ایریا میں قائم 24/7 نادرا میگا سنٹر کا اچانک دورہ کیا اور وہاں شہریوں کے لیے فراہم کی جانے والی سہولتوں کا جائزہ لیامحسن نقوی نے شناختی کارڈز اور دیگر دستاویزات کے حصول کے لیے آئے شہریوں سے ملاقات کی اور ان سے فراہم کی جانے والی سہولتوں سے متعلق دریافت کیا۔

    شہریوں نے وزیر داخلہ کو بتایا کہ اب انتظار کی زحمت نہیں ہوتی اور باری جلد آجاتی ہے جبکہ عملہ بھی بھرپور تعاون کرتا ہے، شہریوں نے سہولتوں کی فراہمی پر وزیر داخلہ اور نادرا انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کے آنے سے حالات مزید بہتر ہوئے ہیں۔وزیر داخلہ نے نادرا میگا سنٹر کے شفٹ انچارج اور عملے کو شاباش دیتے ہوئے مزید محنت اور شہریوں کی خدمت کے جذبے کے ساتھ کام کرنے کی ہدایت کی، انہوں نے چیئرمین نادرا لیفٹیننٹ جنرل محمد منیر افسر اور ان کی ٹیم کی کارکردگی کو بھی سراہا۔محسن نقوی نے ویٹنگ ایریا اور مختلف کاؤنٹرز پر جا کر شہریوں سے براہ راست ملاقات کی اور ان کے مسائل سنے جبکہ شناختی کارڈز کے حوالے سے شہریوں کے مسائل کے فوری حل کے لیے موقع پر ہی احکامات جاری کیے۔

    وزیر داخلہ نے جدید خودکار مشین کا معائنہ بھی کیا اور خود شناختی کارڈ نمبر فیڈ کر کے اور فنگر پرنٹس کے ذریعے خودکار نظام کا مشاہدہ کیا۔اس موقع پر محسن نقوی نے کہا ہے کہ خوشی ہے نادرا سنٹر میں شہریوں کو بغیر انتظار کے خدمات مل رہی ہیں، شہریوں کے لیے ہر سطح پر آسانیاں پیدا کرنے کے لیے اقدامات جاری رہیں گے۔

  • مودی کی معاشی پالیسوں کی ناکامی،  بھارت امریکہ تجارتی مذاکرات ڈیڈ لاک کا شکار

    مودی کی معاشی پالیسوں کی ناکامی، بھارت امریکہ تجارتی مذاکرات ڈیڈ لاک کا شکار

    مودی کی معاشی پالیسوں کی ناکامی، بھارت امریکہ تجارتی مذاکرات ڈیڈ لاک کا شکارہو گئے

    مودی حکومت کی غیر واضح پالیسیوں پر امریکہ نے اظہار تشویش کیا ہے ، بھارت عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہے،مودی سرکار کا "وشو گرو” بیانیہ معاشی میدان میں ناکام ہو چکا ہے، ٹیرف سے خوفزدہ مودی نے پالیسی یوٹرن لیا ہے،بھارتی حکومتی ذرائع کے مطابق آٹو، اسٹیل اور زرعی اشیاء پر محصولات کا تنازع شدت اختیار کر گیا،بھارت کا دوہرا معیار، خود 68فیصد درآمدی ٹیرف لیکن امریکا سے رعایت کا مطالبہ کیا ہے،معرکہ حق کے دوران امریکا کی پاکستان سے رغبت پر بھی بھارت تذبذب کا شکار ہےبھارتی سفارتی ناکامی سے معیشت کو دھچکا لگا ہے،

    صدر ٹرمپ کا پاکستان کی جانب جھکاؤ ، پاکستان سے ٹرمپ کی قربت پر بھارت میں کھلبلی مچی ہوئی ہے،بھارت امریکا کے ساتھ گہرے اسٹریٹجک تعلقات قائم کرنے پر خوفزدہ ہے،مودی کی جانب سے باہمی رعایت نہ ملنے پر ٹرمپ کی جانب سے ٹیرف عائد کرنے کی وارننگ دی گئی ہے،نام نہاد خود مختار بھارت کی اقتصادی دیواریں ہلنے لگیں ، تجارتی محاذ پر پسپائی کا سامناکر رہا ہے

  • علمی تحقیق میں بھارت کی ترقی صرف مودی کے دعووں تک محدود

    علمی تحقیق میں بھارت کی ترقی صرف مودی کے دعووں تک محدود

    علمی تحقیق میں بھارت کی ترقی صرف مودی کے دعووں تک محدود، زمینی حقیقت مالی بحران اور بدحالی کا شکار ہے،

    سائنسی تحقیق اور ترقی کے لیے مخصوص اسکیم وِگیان دھارا مودی سرکار کےسیاسی ڈرامے سے بڑھ کر کچھ نہیں،حکومتی اسکیم INSPIRE کے تحت محققین 9 ماہ تک وظائف سے محروم، کئی قرض لینے یا تحقیق چھوڑنے پر مجبور ہیں،الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق "تحقیق کیلئے 70 فیصد بجٹ سود سے پاک قرضوں کی شکل میں نجی اداروں کو بانٹ دیا گیا”INSPIRE جیسے تحقیقی منصوبوں پر 22 فیصد بجٹ کٹوتی، وگیان دھارا کی آڑ میں اصل کٹوتی کو چھپایا گیا، نئی اسکیم وگیان دھارا نے وظائف کی ادائیگی کو بحران اور بدنظمی میں دھکیل دیا، حکومتی فنڈز کی عدم ادائیگی سے محققین لیپ ٹاپ تک خریدنے سے قاصر، بچتیں بھی ختم ہو گئیں، IITs اور IISERs کے محققین بیوروکریسی کی بے حسی، مبہم جوابات اور حکومتی نظراندازی کا شکار ہیں،تمام محققین تین مہینے سے لے کر نو مہینے تک بغیر وظائف کے گزارا کر رہے ہیں، وِگْیان دھارا کے بجٹ میں 67.5 فیصد کمی، 2016-17کے 43.89 ارب سے کم ہو کر 2025-26 میں 14.25 ارب روپے رہ گیا،

    بھارتی محقیقین نے وظائف کی عدم ادائیگی کے بارے میں الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا "وظیفہ نہ ملنے کے خدشے پر سالانہ کانفرنس میں شرکت نہ کر سکا”ستمبر 2024 سے اب تک انہیں ادائیگیاں موصول نہیں ہوئیں، پیشہ ورانہ سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں،پی ایچ ڈی سکالر کا کہنا تھا کہ ہم نے بار بار کالز اور ای میلز کیں، لیکن اکثر کا کوئی جواب نہیں آیا یا صرف مبہم اور بعض اوقات بدتمیز جوابات ملے، سرکاری بے حسی نے سائنسدانوں کی زندگی اجیرن بنا دی، کوئی سننے والا نہیں،

  • افغان طالبان کے  دور میں  افغانستان دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ

    افغان طالبان کے دور میں افغانستان دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ

    افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان ایک بار پھر دہشتگرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے

    داعش خراسان ، تحریک طالبان پاکستان اور دیگر دہشتگرد گروپ افغانستان میں منظم ہو رہے ہیں،اس حوالے سے امریکی امور خارجہ برائے جنوبی و وسطی ایشیا کی ذیلی کمیٹی کے چیئرمین بل ہائزنگا نے حقائق پیش کردیئے،بل ہائزنگا کے مطابق "طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے جنوبی اور وسطی ایشیا میں دہشت گردی کے واقعات خطرناک حد تک بڑھ گئے”افغان طالبان دوحہ معاہدے کے مطابق دہشتگردوں کو محفوظ پناہ گاہیں دینے کے وعدے پر قائم نہ رہ سکے،طالبان حکومت میں داعش خراسان اور فتنہ الخوارج جیسی تنظیموں کی دہشتگردانہ کارروائیاں سرگرم ہیں،طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد 2024ء میں پاکستان کو اپنی تاریخ کے بدترین دہشتگردانہ حملوں کا سامنا رہا، افغان طالبان کی سہولت کاری میں ہونے والی دہشتگردی کے باعث معصوم پاکستانی اور سکیورٹی اہلکار جاں بحق ہوئے،طالبان کے زیر اقتدار،بی ایل اے اور فتنہ الخوارج جیسے گروہ پاکستان میں بدامنی کو ہوا دے رہے ہیں،خطے میں عسکریت پسندی کا خطرہ افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ہی شدید حد تک بڑھ گیا،طالبان حکومت کی دہشتگردی کے خلاف غیر سنجیدہ حکمت عملی پورے جنوبی اور وسطی ایشیا کو عدم استحکام کی طرف دھکیل رہی ہے ،

    بل ہائزنگا کے شواہد تصدیق کرتے ہیں کہ افغان طالبان کی ناکامیوں کے باعث افغانستان دہشتگردی کے پھیلاؤ کا مرکز بن گیا ہے

  • اسرائیلی حملے میں شہید ایرانی اعلیٰ حکام،فوجی کمانڈرز،سائنسدانوں کی نماز جنازہ ادا

    اسرائیلی حملے میں شہید ایرانی اعلیٰ حکام،فوجی کمانڈرز،سائنسدانوں کی نماز جنازہ ادا

    اسرائیلی حملے میں شہید ہونے والے تہران میں ایران کے اعلیٰ فوجی کمانڈرز، نیوکلیئر سائنسدانوں اور شہریوں کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی جس میں ہزاروں شہری شریک ہوئے

    تہران میں آج ایک عظیم الشان جنازے کا اہتمام کیا گیا جہاں ہزاروں افراد نے ملک کے 60 افراد کو خراج عقیدت پیش کیا، جن میں اعلیٰ فوجی افسران اور نیوکلیئر سائنسدان شامل تھے، جو اس مہینے کے شروع میں اسرائیل کے ساتھ ایران کے 12 روزہ تصادم میں شہید ہوئے۔ایرانی سرکاری میڈیا ادارے نے اس موقع پر حب الوطنی کے نغمات چلائے جبکہ جنازے کی ویڈیو میں سوگوار افراد کو ایران کے سرخ، سفید اور سبز پرچم میں لپٹے تابوتوں کو ہاتھ لگاتے دیکھا جا سکتا تھا۔صدر مسعود پزشکیان بھی اس موقع پر موجود تھے، جن کے ہمراہ سیکورٹی اہلکار بھی موجود تھے۔

    جنازے کے مرکزی اسٹیج پر شہید ہونے والے اعلیٰ فوجی کمانڈرز کی تصاویر لگائی گئی تھیں جن میں بریگیڈیئر جنرل حسین سلامی اور جنرل محمد باقری کی تصاویر نمایاں تھیں۔کچھ شرکاء کے ہاتھوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تصاویر بھی تھیں اور لوگوں نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف نعرے بازی کی، جیسا کہ ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے رپورٹ کیا۔

    حسین سلامی اسلامی انقلاب کی گارڈ کور کے سربراہ تھے اور ایران کے سب سے بااثر شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔محمد باقری ایران کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف تھے، جن کی قیادت میں ایرانی فوج تقریباً 500,000 فعال جوانوں پر مشتمل ہے، جیسا کہ برطانیہ کے انسٹیٹیوٹ فار سٹریٹیجک اسٹڈیز کا اندازہ ہے۔

    اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ سلامی، باقری اور کئی نیوکلیئر سائنسدانوں کے قتل اس کی ان حملوں کی بڑی کامیابیاں تھیں جو اس نے ایران کے خلاف کی تھیں۔گزشتہ ہفتوں میں ایران کے اعلیٰ فوجی کمانڈرز، سائنسدانوں اور عام شہریوں کی شہادت پر تہران میں سوگواروں کی بڑی تعداد جمع ہوئی، جہاں ایک سرکاری جنازے کا انعقاد کیا گیا۔ ایران کے دیگر شہروں میں بھی ایسے ہی جنازے منعقد کیے جائیں گے۔

    امریکی ثالثی میں طے پانے والا جنگ بندی معاہدہ، جس کے بعد دونوں ممالک نے 12 روز کے میزائل حملے تبادلہ کیے، اب بھی برقرار ہے۔ لیکن نیوکلیئر مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی کوششوں میں خاص پیش رفت نہیں ہوئی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو کہا کہ اگر انہیں ایران کے یورینیم افزودگی پر مزید رپورٹس میں خطرہ نظر آیا تو وہ ایران کے نیوکلیئر مقامات پر دوبارہ بمباری کرنے پر غور کر سکتے ہیں۔

    دوسری جانب اسرائیل میں، حماس کے ہاتھوں اغوا کیے گئے افراد کے اہل خانہ تل ابیب میں احتجاج کریں گے تاکہ غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کریں۔ وہ اسے “تاریخی موقع” قرار دے رہے ہیں تاکہ جنگ ختم ہو اور اغوا شدگان کو واپس لایا جا سکے۔ غزہ میں کم از کم 50 افراد اغوا ہیں، جن میں سے 20 کی زندگی کی اطلاعات موصول ہیں۔

  • پنجاب اسمبلی،26 اپوزیشن اراکین کی رکنیت 15 اجلاسوں کیلیے معطل

    پنجاب اسمبلی،26 اپوزیشن اراکین کی رکنیت 15 اجلاسوں کیلیے معطل

    اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کی خلاف ورزی پر 26 اپوزیشن ارکان 15 اجلاسوں کے لیے معطل کر دیئے گئے

    ایوان میں ہنگامہ آرائی، نعرے بازی، دھکم پیل اور دستاویزات پھاڑنے پر کارروائی کی گئی، اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کا کہنا ہے کہ ایوان کی حرمت اور نظم و ضبط ہر قیمت پر برقرار رکھا جائے گا،احتجاج کا حق تسلیم شدہ لیکن اس کی حدود آئین، قانون اور قواعد کے تابع ہیں

    اسپیکر نے عالمی پارلیمانی روایات کا حوالہ دے کر ہنگامہ آرائی کو غیرپارلیمانی قرار دیا اور کہا کہ رولنگ کے باوجود اپوزیشن ارکان کا ہنگامہ، قواعد کی کھلی خلاف ورزی ہے، قواعد 223 اور 210 کی خلاف ورزی کرنے والے ارکان کے خلاف کارروائی کی گئی

    معطل ارکان کے نام اور حلقہ نمبر

    ملک فہد مسعود (PP-13)
    محمد تنویر اسلم (PP-19)
    سید رفعت محمود (PP-24)
    یاسر محمود قریشی (PP-25)
    کلیم اللہ خان (PP-60)
    محمد انصر اقبال (PP-73)
    علی آصف (PP-75)
    ذوالفقار علی (PP-76)
    احمد مجتبیٰ چودھری (PP-99)
    شاہد جاوید (PP-115)
    محمد اسماعیل (PP-116)
    خیال احمد (PP-118)
    شہباز احمد (PP-130)
    طیب رشید (PP-141)
    امتیاز محمود (PP-155)
    علی امتیاز (PP-156)
    راشد طفیل (PP-175)
    رائے محمد مرتضیٰ اقبال (PP-203)
    خالد زبیر نثار (PP-231)
    چوہدری محمد اعجاز شفیع (PP-258)
    محترمہ صاٸمہ کنول (PP-260)
    محمد نعیم (PP-263)
    سجاد احمد (PP-265)
    رانا اورنگ زیب (PP-276)
    شعیب امیر (PP-281)
    اسامہ اصغر علی گجر (PP-282)

  • 3,194 خواتین کو شادی کے پیغام،کروڑوں ہتھیانے والا گرفتار

    3,194 خواتین کو شادی کے پیغام،کروڑوں ہتھیانے والا گرفتار

    بھارت کی پونے پولیس نے آسٹریلیا میں مقیم بھارتی نژاد شخص کو ایک شادی کے ویب سائٹ پر جعلی پروفائل بنا کر دہلی کی ایک خاتون کو شادی کا جھانسہ دے کر 3 کروڑ 60 لاکھ روپے کا فراڈ کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔

    پولیس کے مطابق ملزم نے خود کو ’ڈاکٹر روہت اوبرائے‘ کے نام سے ظاہر کیا اور خاتون کو شادی کا وعدہ کرکے قریبی تعلقات قائم کیے۔ اس کے بعد خاتون سے بھاری رقم ایک مبینہ کاروباری منصوبے کے نام پر لے لی۔ایڈیشنل کمشنر کرائم پونے، پانکج دیشمکھ نے بتایا کہ گرفتار شخص کا اصل نام ابھشیک شکلا ہے، جو لکھنؤ کا رہائشی ہے مگر آسٹریلوی پاسپورٹ رکھتا ہے۔ پولیس نے بدھ کے روز اسے ممبئی ایئرپورٹ سے اس وقت گرفتار کیا جب وہ سنگاپور سے واپس آیا۔متاثرہ خاتون دہلی کی رہائشی اور فی الحال پونے میں مقیم ہے۔ اس نے شادی کی تلاش کے لیے ایک میٹرومونیل ویب سائٹ پر اپنا پروفائل بنایا تھا جہاں سے 2023 میں ابھشیک شکلا عرف ’ڈاکٹر روہت اوبرائے‘ نے اس سے رابطہ کیا۔

    دونوں نے مختلف شہروں میں ساتھ وقت گزارا۔ خاتون کو اپنے سابق شوہر سے 5 کروڑ روپے بطور خلع ملے تھے اور وہ بچوں کے لیے ذہنی سکون و روحانی تربیت پر مبنی ایک کاروبار شروع کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی تھی۔ملزم نے خاتون کو بیرونِ ملک سرمایہ کاری اور کاروبار کو عالمی سطح پر لے جانے کا جھانسہ دے کر دو فرضی افراد ’یوان ہینڈایانی‘ اور ’وینسنٹ کوان‘ سے بھی متعارف کروایا، جنہیں اس نے سنگاپور کے شہری بتایا۔پولیس کے مطابق خاتون نے مختلف بھارتی اور سنگاپورین بینک اکاؤنٹس میں مجموعی طور پر 3 کروڑ 60 لاکھ 18 ہزار 540 روپے منتقل کیے۔بعدازاں ملزم نے خاتون کو بتایا کہ وہ منہ کے کینسر کا شکار ہو چکا ہے اور پھر اس سے رابطہ ختم کر دیا۔ ستمبر 2024 میں خاتون کو وینسنٹ کوان کی جانب سے ای میل موصول ہوئی کہ ’ڈاکٹر روہت اوبرائے‘ کا انتقال ہو گیا ہے۔یہ جان کر خاتون کو شبہ ہوا اور اس نے ایک دوست کو اطلاع دی، جس پر دوست نے پولیس کو الرٹ کیا۔ نومبر 2024 میں متاثرہ خاتون نے پونے سائبر پولیس اسٹیشن میں باضابطہ شکایت درج کروائی۔

    تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ملزم دراصل ابھشیک شکلا ہے اور آسٹریلیا کے شہر پرتھ میں مقیم ہے۔ پولیس نے اس کے خلاف فراڈ کا مقدمہ درج کیا اور ملک بھر میں لوک آؤٹ سرکلر جاری کر دیا۔پولیس کو اطلاع ملی کہ وہ سنگاپور سے ممبئی آ رہا ہے، جس پر سب انسپکٹر سشیل دامرے کی سربراہی میں ٹیم نے ایئرپورٹ سے اسے گرفتار کر لیا۔

    ایڈیشنل کمشنر دیشمکھ کے مطابق "ٹیکنیکل تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ ملزم نے جعلی شناخت ’ڈاکٹر روہت اوبرائے‘ کے ذریعے شادی کی ویب سائٹ پر 3,194 خواتین کو پیغام بھیجے ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ فراڈ کا دائرہ بہت وسیع ہو سکتا ہے۔”

  • محبت کی شادی،تیونس سے لڑکی آئی کراچی،چند ماہ کی شادی کے بعدطلاق

    محبت کی شادی،تیونس سے لڑکی آئی کراچی،چند ماہ کی شادی کے بعدطلاق

    کراچی میں ایک اور محبت کی کہانی جو خوشگوار انجام نہ پا سکی، سامنے آئی ہے۔ جنوبی افریقی ملک تیونس کی 19 سالہ سندا ایاری نے وومن تھانے میں پناہ کی درخواست دی ہے، جہاں اس نے اپنے پاکستانی شوہر کی جانب سے طلاق اور دیگر مشکلات کا ذکر کیا۔

    سندا ایاری تیونس کے دارالحکومت سے تعلق رکھتی ہے۔ اس نے 28 نومبر 2024 کو پاکستان کا سفر کیا، جہاں اس کی سوشل میڈیا پر محمد عامر نامی نوجوان سے ملاقات ہوئی جو لیاری کے علاقے نیا آباد کھڈا مارکیٹ کا رہائشی ہے۔ محبت میں گرفتار دونوں نے شادی کا فیصلہ کیا اور سندا نے پاکستانی ویزا حاصل کر کے کراچی پہنچنے کا فیصلہ کیا۔سندا کو عامر اور اس کے اہلخانہ نے کراچی ائیرپورٹ سے وصول کیا، اور اگلے دن ہی ایک تقریب میں دونوں کی شادی کی گئی۔ نکاح کا رجسٹریشن 6 مارچ کو لیاری کی یونین کونسل بغدادی میں قانونی طور پر مکمل ہوا۔ شادی کے ابتدا میں دونوں خوشگوار زندگی گزار رہے تھے۔

    چند ماہ بعد معمولی باتوں پر دونوں کے درمیان تلخیوں کا آغاز ہوا، جو بڑھتی گئیں۔ آخرکار محمد عامر نے سندا کو طلاق دے دی۔ سندا کا کہنا ہے کہ اب وہ پاکستان میں مزید نہیں رہنا چاہتی بلکہ اپنے ملک واپس جانا چاہتی ہے، مگر مسئلہ یہ ہے کہ اس کا پاکستانی ویزا 18 فروری کو ختم ہو چکا ہے۔ ویزا کی تجدید یا ایگزٹ پرمٹ کے بغیر وہ ملک چھوڑنے کی صورت میں قانونی پیچیدگیوں کا شکار ہو سکتی ہے۔ویزہ تجدید کے اخراجات تقریباً 400 امریکی ڈالر ہیں، جبکہ واپسی کی فلائٹ کا کرایہ دو لاکھ پاکستانی روپے سے بھی زائد ہے، جو سندا کے لیے ایک بڑا مالی بوجھ ہے۔ وومن پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی نے اپنے شوہر کے خلاف بدسلوکی کی شکایت نہیں کی، اور انہیں اس کی حفاظت کے لیے پناہ دی گئی ہے۔ پولیس نے محمد عامر کو تھانے طلب کیا تھا، جہاں اس نے بیوی کو طلاق دینے کی بات تسلیم کی اور واپس چلا گیا۔ بعد ازاں جب پولیس نے اس سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو اس کا موبائل فون بند تھا۔

    یہ واقعہ امریکی خاتون اونیجا اینڈریو رابنسن کی ناکام محبت کی کہانی کے بعد سامنے آیا ہے، جو سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کر چکی ہے۔ کراچی میں محبت کی کہانیاں اکثر سماجی، معاشرتی اور قانونی پیچیدگیوں کی زد میں آتی ہیں، اور سندا ایاری کی کہانی اس کا ایک اور دردناک ثبوت ہے۔سوشل میڈیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے توقع کی جا رہی ہے کہ ایسے کیسز میں جلد اور موثر مدد فراہم کی جائے تاکہ محبت میں گرفتار افراد کو قانونی اور معاشرتی تحفظ حاصل ہو۔