Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ژوب ،  پکنک منانے آئی فیملی کی دو گاڑیاں سیلابی ریلے میں بہہ گئیں

    ژوب ، پکنک منانے آئی فیملی کی دو گاڑیاں سیلابی ریلے میں بہہ گئیں

    سوات کے بعد بلوچستان کے ضلع ژوب میں ایک اور دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے، جہاں پکنک منانے کے لیے آنے والی فیملی کی دو گاڑیاں سیلابی ریلے کی زد میں آ کر بہہ گئیں، جس کے نتیجے میں دو بچوں سمیت چار خواتین جاں بحق جبکہ دو افراد زخمی ہو گئے۔ جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کا تعلق جنوبی پنجاب کے شہر ملتان سے بتایا جا رہا ہے۔

    یہ افسوسناک واقعہ ژوب کے تفریحی مقام سلیازہ ندی کے قریب پیش آیا، جہاں پکنک کی غرض سے آنے والی فیملی دو گاڑیوں، فیلڈر اور آلٹو میں سوار تھی۔ مقامی ذرائع کے مطابق دونوں گاڑیاں برساتی نالے میں طغیانی کے باعث آنے والے اچانک سیلابی ریلے میں پھنس گئیں۔ضلعی حکام نے بتایا کہ حادثہ کلی تکئی کے مقام پر پیش آیا، فیلڈر گاڑی میں سوار دو افراد کو زندہ بچا لیا گیا، جبکہ آلٹو گاڑی میں سوار تین افراد میں سے صرف ایک خاتون کو مقامی افراد نے بروقت نکال کر سول ہسپتال ژوب منتقل کیا۔ تاہم، گاڑی میں موجود دو بچے سیلابی پانی میں بہہ گئے۔چار خواتین بھی جاں بحق ہو گئیں (دو کی شناخت ہو چکی، دو کی لاشوں کی تلاش جاری ہے،دو بچے (بہہ گئے، تلاش جاری ہے)

    ژوب کے نواحی علاقے سلیازہ اور کپیپ میں حالیہ شدید بارشوں کے باعث ندی نالوں میں طغیانی آئی۔مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت کئی افراد کو ریلے سے نکالا۔ایک خاتون کی لاش کو شناخت کے بعد لواحقین کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ضلعی انتظامیہ اور محکمہ موسمیات کی جانب سے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بارشوں اور طغیانی کے دوران ندی نالوں کی طرف جانے سے گریز کریں۔ خطرناک علاقوں میں سفر یا تفریح سے گریز کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

  • کرینہ کپور کی خوراک سے محبت،   "سائز زیرو” کے دوران بھی پراٹھا اور مکھن

    کرینہ کپور کی خوراک سے محبت، "سائز زیرو” کے دوران بھی پراٹھا اور مکھن

    بالی ووڈ کی معروف اداکارہ کرینہ کپور خان نہ صرف اپنی جاندار اداکاری کے لیے مشہور ہیں بلکہ ان کے چاہنے والے جانتے ہیں کہ وہ دل سے "فوڈی” یعنی کھانے کی شوقین ہیں۔ حال ہی میں ہالی ووڈ رپورٹر انڈیا کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کرینہ نے اپنے کھانے سے متعلق شوق کا کھل کر اظہار کیا، جہاں ان کے ہمراہ موجود تھے نوجوان اداکار وکی کوشل، جو خود بھی پنجابی اور کھانے کے دلدادہ ہیں۔

    دونوں فنکاروں نے فلمی سفر کے 25 (کرینہ) اور 10 (وکی) سال مکمل ہونے پر یادگار لمحات، سخت ڈائٹس، کرداروں کے تقاضوں اور اپنی پنجابی خوراک سے جڑے تجربات پر کھل کر گفتگو کی۔وکی نے دورانِ گفتگو کہا "ڈائٹ پر ہوں تب بھی بریانی کی گنجائش نکال ہی لیتا ہوں۔”اس پر کرینہ نے فورا جواب دیا "مجھے تو سفید مکھن کے بغیر زندگی ادھوری لگتی ہے۔ ہر دو تین دن بعد مجھے آلو کا پراٹھا سفید مکھن کے ساتھ چاہیے ہوتا ہے۔ یہ تو لازمی ہے۔”

    وکی نے ہنستے ہوئے کہا”مجھے لگتا ہے کہ ہم پنجابی سفید مکھن سے متاثر ہی نہیں ہوتے!”کرینہ نے فوراً تائید کرتے ہوئے کہا "ہے نا؟ میں تو بار بار کہہ کہہ کر تھک گئی ہوں۔ مجھے تو اس کے بغیر کام کرنے میں بھی دقت ہوتی ہے۔”

    گفتگو کے دوران وکی کوشل نے کرینہ سے ایک دلچسپ سوال پوچھا "اگر آپ کو دوبارہ ‘تشن 2’ جیسی فلم کے لیے سائز زیرو بننا پڑے تو کیا کریں گی؟”کرینہ کا جواب سب کو حیران کر گیا۔ انہوں نے کہا "تشن کے وقت بھی میں صبح کے ناشتے میں پراٹھا اور سفید مکھن کھاتی تھی۔ میں کبھی بھی صرف جوس والی سائز زیرو ڈائٹ پر نہیں رہی۔ دن کے باقی اوقات میں خوراک کم کر سکتے ہیں، لیکن صبح کا ناشتہ تو بھرپور ہونا چاہیے۔”یہ انکشاف وکی کوشل کے لیے حیران کن تھا، کیونکہ انہیں یقین نہیں آ رہا تھا کہ کرینہ جیسے فٹ اداکارہ سائز زیرو حاصل کرنے کے باوجود پراٹھا کھاتی تھیں۔

    یاد رہے کہ کرینہ کپور نے فلم تشن کے لیے اپنا مشہور سائز زیرو روپ ماہر غذائیت رجوتا دیویکر کی نگرانی میں ایک متوازن اور سائنسی ڈائٹ پلان پر عمل کرتے ہوئے حاصل کیا تھا، جس میں خوراک کی کمی کے بجائے سمجھداری سے انتخاب کیا گیا تھا۔

  • پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کا امکان 59 فیصد سے کم ہو کر 47 فیصد رہ گیا،بلوم برگ

    پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کا امکان 59 فیصد سے کم ہو کر 47 فیصد رہ گیا،بلوم برگ

    غیر ملکی جریدے بلوم برگ نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کے ڈیفالٹ رسک میں گزشتہ 12 ماہ میں بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کا امکان 59 فیصد سے کم ہو کر 47 فیصد رہ گیا،عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے کریڈٹ آؤٹ لک میں بہتری سے ڈیفالٹ رسک میں کمی ہوئی ہے، معاشی استحکام اور اصلاحات کے باعث ڈیفالٹ رسک میں کمی ہوئی ہے، پاکستان کے ڈیفالٹ رسک میں کمی سرمایہ کاروں کے بڑھتے اعتماد کا مظہر ہے۔

    اس حوالے سے وزارتِ خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کا ایک بیان میں کہنا ہے کہ بلوم برگ انٹیلی جنس کے مطابق پاکستان نے خودمختار ڈیفالٹ رسک میں سب سے زیادہ بہتری دکھائی ہے،پاکستان نے عالمی درجہ بندی میں ڈیفالٹ رسک میں کمی کے لحاظ سے پہلا نمبر حاصل کیا ہے، گزشتہ 12 مہینوں میں ملک کا ڈیفالٹ رسک سب سے زیادہ کم ہوا، ڈیفالٹ کا امکان 59 فیصد سے کم ہو کر 47 فیصد پر آ گیا،یہ کمی تمام بڑی ابھرتی معیشتوں میں سب سے نمایاں ہے، پاکستان کے ڈیفالٹ رسک میں اس تیزی سے کمی عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کے باعث ہے۔

    پاکستان اپنے مضبوط معاشی مستقبل کی جانب تیزی سے گامزن ہے ،وزیراعظم
    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستانی معیشت میں استحکام کے حوالے سے بلوم برگ کی رپورٹ پر اظہار اطمینان کیا اور کہا کہ رپورٹ میں مختلف شعبوں میں اہم ادارہ جاتی اصلاحات ، عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ کامیاب معاہدے اور بروقت قرض کی ادائیگی کا اعتراف کیا گیا ہے جو کہ یقینی طور پر حکومتی معاشی صورتحال میں بہتری کا ثبوت ہے ،پاکستان اُن چند ممالک میں شامل ہے جنہوں نے، بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق، پچھلے 12 مہینوں میں معیشت میں سب سے زیادہ بہتری دکھائی،پاکستان اپنے مضبوط معاشی مستقبل کی جانب تیزی سے گامزن ہے ،بہتر معاشی اشاریوں میں حکومت کی معاشی ٹیم کی دن رات کی محنت اور لگن شامل ہے

  • پاکستان ہر حال میں اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کا دفاع کرے گا،فیلڈ مارشل

    پاکستان ہر حال میں اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کا دفاع کرے گا،فیلڈ مارشل

    آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے123ویں مڈشپ مین اور 31ویں شارٹ سروس کمیشن (SSC) کورس کی کمیشننگ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’میری ٹائم واریئرز‘ کی شاندار پاسنگ آؤٹ پریڈ کا معائنہ کرنا میرے لیے اعزاز ہے، آج کی پریڈ میں کیڈیٹس کا مثالی ٹرن آؤٹ اور پرجوش انداز پاکستان نیول اکیڈمی کے اعلیٰ معیار کا مظہر ہے۔ کامیاب کیڈیٹس کے پُر اعتماد انداز میں ہماری قوم کی امیدیں اور توقعات سمٹ آئی ہیں،ایوارڈ جیتنے والے کیڈٹس اپنی شاندار کامیابیوں پر خصوصی تعریف کے مستحق ہیں،میں دوست ممالک ترکی، بحرین، عراق، فلسطین اور جبوتی کے کیڈٹس کو تربیت مکمل کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں،

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاس آؤٹ ہونے والے مڈ شپ مین اور کیڈٹس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ پاک بحریہ کا حصہ بننے جا رہے ہیں، جس کی پہچان اعلی عسکری اخلاقیات، غیر معمولی مہارت اور بے مثال پیشہ ورانہ روایات ہیں،میں آپ کو تلقین کرتا ہوں کہ اپنی آپریشنل صلاحیتوں کو مزید بہتر اور مضبوط بنانے کے لیے کوششیں جاری رکھیں، بحری جنگ کا میدان تیزی سے تبدیل ہو رہا ہےاور ہمیں اس سے ہم آہنگ ہونا ہوگا، پاکستان کے لیے ایک مضبوط اور موثر میری ٹائم فورس برقرار رکھنا ناگزیر ہو چکا ہے، ہمارا دشمن (بھارت) متکبرانہ اور جارحانہ رویے کا مسلسل مظاہرہ کر رہا ہے، بھارت اپنی فوجی طاقت، قوم پرستی، اور جعلی اسٹریٹجک اہمیت سے سیاسی فوائد حاصل کرنا چاہتا ہے، گزشتہ چند برسوں میں بھارت نے دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے بہانے دو بار پاکستان پر بلاوجہ حملے کئیے دونوں مواقع پر، پاکستان کے بھرپور اور مؤثر جواب سے پورے خطہ ایک بڑے تنازعے سے بچا لیا گیا،بھارت کی اشتعال انگیزیوں کے باوجود، پاکستان نے صبر و تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے امن کو ترجیح دی،آج پاکستان خطے میں ” نیٹ ریجنل سٹیبلائزر” کے طور پر جانا جاتا ہے، اگر دشمن یہ سمجھے کہ آئندہ پاکستان اپنی خودمختاری پر حملے کو برداشت کرے گا، تو یہ ایک خطرناک غلط فہمی ہوگی،ہم اپنی قومی طاقت میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں، اور اگر کوئی دشمن یہ سمجھے کہ پاکستان کمزور ہے یا جواب نہیں دے گا، تو وہ سخت غلطی پر ہے، اگر کوئی دشمن ہماری خودمختاری کو چیلنج کرتا ہے، تو اس کے نتائج کی ذمہ داری اسی پر ہوگی، اور وہ پورے خطے کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے،پاکستان ہر حال میں اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کا دفاع کرے گا، اور اس میں کسی قسم کی جھجک نہیں دکھائے گا،

    آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس موقع پر سورہ بقرہ کی آیت 249 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ فرماتا ہے ! "کتنی ہی بار ایسا ہوا کہ تھوڑی سی تعداد نے اللہ کے حکم سے بڑی تعداد کو شکست دی۔ اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔” (سورۃ البقرہ، آیت 249)ہمارا قومی جذبہ آزمائشوں کے دوران اور بھی مضبوط ہوا ہے ، آج ہم پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور پُرعزم ہیں،

  • سوات میں سیاحوں کو مرنے کے لئے چھوڑ دینے کا ذمہ دار کون ہے؟حافظ خالد نیک

    سوات میں سیاحوں کو مرنے کے لئے چھوڑ دینے کا ذمہ دار کون ہے؟حافظ خالد نیک

    سزا نہیں دی جائے گی تو ایسے واقعات تسلسل سے ہوتے رہیں گے،حافظ خالد نیک

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے رہنما حافظ خالد نیک نے کہا ہے کہ سوات میں سیاحوں کو مرنے کے لئے چھوڑ دینے کا ذمہ دار کون ہے؟ جب تک ذمہ داران کو کڑی سزا نہیں دی جائے گی تو ایسے واقعات تسلسل سے ہوتے رہیں گے،سیاحوں کی حفاظت کی ذمہ داری حکومت کی ہے

    حافظ خالد نیک کا کہنا تھا کہ سوات میں حکومتی غفلت کی وجہ سے انسانی جانیں چلی گئیں،یہ نااہلی اور مجرمانہ غفلت کی بدترین مثال ہے، اگر بروقت حفاظتی اقدامات کیے جاتے توانسانی جانیں بچ سکتی تھیں، ماضی میں بھی خیبر پختونخوا میں ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں،ہمیشہ کی طرح اب بھی ذمہ داران کا تعین کر کے سزا دینی چاہئے، خیبر پختونخوا میں ہر سانحے کے بعد صرف ایک دو افسران کی معطلی کر دینا مسئلے کا حل نہیں،سوات میں ہونے والی اموات کا مقدمہ ذمہ داروں کے خلاف درج کیا جائے، خیبرپختونخوا کی حکومت سیاحت کے فروغ کے دعوے تو کرتی ہے مگر سیاحوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے بنیادی اقدامات تک نہیں کیے گئے ،

    حافظ خالد نیک کا مزید کہنا تھا کہ دس جنازے اٹھانا آسان نہیں، آج اگر ہم خاموش رہے تو کل کوئی اور خاندان اس آزمائش سے گزرے گا،وقت آ گیا ہے کہ ان حکمرانوں کا محاسبہ کیا جائے جو کھانے منگوانے کے لئے ہیلی کاپٹروں کا استعمال کرتے ہیں لیکن انسانی جانیں بچانے کی انہیں پرواہ نہیں، قوم جاگے، ورنہ ہر سال یہی قیامت خیز منظر دیکھنے کو ملتے رہیں گے،

  • بھارت کو ذمہ داری سے راہِ فرار اختیار کرنے نہیں دیں گے ،شازیہ مری

    بھارت کو ذمہ داری سے راہِ فرار اختیار کرنے نہیں دیں گے ،شازیہ مری

    مرکزی ترجمان پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز شازیہ مری نے کہا ہے کہ عدالتِ ثالثی کا فیصلہ ، پاکستان کا مؤقف درست قرار پایا، بھارت کو ذمہ داری سے راہِ فرار اختیار کرنے نہیں دیں گے ،

    شازیہ مری کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری نے عالمی سطح پر انڈس واٹر پر پاکستان کا مقدمہ بھرپور انداز میں اٹھایا ، ہیگ کی عدالت، بھارت کی ‘معطلی’ کا دعویٰ عدالتی دائرہ اختیار پر اثر انداز نہیں ہو سکتا ، انفرادی طور پر معاہدے کو معطل کرنا بین الاقوامی قانون میں ناقابل قبول ہے،انڈس واٹر معاہدہ پوری طرح نافذ العمل ہے، اس میں یکطرفہ تبدیلی ممکن نہیں ، چیئرمین بلاول بھٹو کی سفارتی کوششوں سے پاکستان کا مؤقف عالمی برادری کے سامنے مؤثر انداز میں پہنچا،پاکستان کی قانونی فتح ، عالمی عدالت نے بھارت کے اعتراضات مسترد کر دیے، ہم پاکستان کے پانی کے حقوق کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرتے رہیں گے ,بھارت کی غیر حاضری کے باوجود عدالت نے کارروائی جاری رکھی ،یکطرفہ طور پر تنازعاتی عمل روکنا معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے ،آج کا فیصلہ انصاف، قانون اور خطے کے امن کی فتح ہے،

  • پنجاب اسمبلی میں توڑ پھوڑ، اسپیکر کا سخت ایکشن، 10 ارکان پر جرمانہ عائد

    پنجاب اسمبلی میں توڑ پھوڑ، اسپیکر کا سخت ایکشن، 10 ارکان پر جرمانہ عائد

    پنجاب اسمبلی کے حالیہ اجلاس کے دوران ایوان میں ہونے والی توڑ پھوڑ پر اسپیکر ملک محمد احمد خان نے سخت کارروائی کرتے ہوئے 10 ارکان اسمبلی پر 20 لاکھ سے زائد روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ اجلاس میں کچھ ارکان نے جذباتی ہو کر اسمبلی کے ڈیسکوں پر چڑھ کر مائیک توڑنے جیسے غیر مہذب رویے کا مظاہرہ کیا تھا، جس کے خلاف اسپیکر نے فیصلہ سنایا۔

    16 جون 2025 کو ہونے والے اجلاس میں ایوان کی املاک کو نقصان پہنچانے اور ایوان کی کارروائی کو متاثر کرنے والے 10 ارکان کو فی کس 2 لاکھ 3 ہزار 550 روپے ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس ضمن میں نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ اسپیکر نے واضح کیا ہے کہ یہ ادائیگی 7 روز کے اندر مکمل کرنا لازمی ہوگی، بصورت دیگر پنجاب حکومت ڈیو ریکوری آرڈیننس 1962 کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اسپیکر ملک محمد احمد خان نے کہا کہ ایوان کی املاک کو نقصان پہنچانا نہ صرف اسمبلی کی توہین ہے بلکہ یہ قانون کی بھی خلاف ورزی ہے، اس لیے ایسے رویے کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ویڈیو شواہد کی بنیاد پر فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ آئندہ ایسی صورتحال پیدا نہ ہو۔جرمانے کی زد میں آنے والے ارکان میں چوہدری جاوید کوثر، اسد عباس، محمد تنویر اسلم، سید رفعت محمود، محمد اسماعیل، شہباز احمد، امتیاز محمود، خالد زبیر نثار، رانا اورنگ زیب اور محمد احسن علی شامل ہیں۔

    یہ قدم پنجاب اسمبلی کے وقار کی حفاظت اور ایوان کے ماحول کو مثبت رکھنے کے لیے اٹھایا گیا ہے تاکہ ممبران اسمبلی نظم و ضبط کے دائرے میں رہ کر اپنے فرائض انجام دیں۔

  • اسلام آباد ہائیکورٹ کی وفاقی حکومت کو سی ڈی اے تحلیل کرنے کی ہدایت

    اسلام آباد ہائیکورٹ کی وفاقی حکومت کو سی ڈی اے تحلیل کرنے کی ہدایت

    اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت کو سخت ہدایت دی ہے کہ وہ جلد از جلد کپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کو تحلیل کرنے کا عمل شروع کرے اور مکمل کرے۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ سی ڈی اے کے تمام اختیارات اور اثاثے میٹروپولیٹن کارپوریشن کو منتقل کیے جائیں تاکہ اسلام آباد کی گورننس کو مزید شفاف اور موثر بنایا جا سکے۔

    جسٹس محسن اختر کیانی نے تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ سی ڈی اے آرڈیننس وفاقی حکومت کی جانب سے اسلام آباد کے قیام اور ترقیاتی کاموں کے لیے نافذ کیا گیا تھا لیکن موجودہ وقت میں نئے قوانین اور لوکل گورنمنٹ گورننس کے باعث اس آرڈیننس کی عملی افادیت ختم ہو چکی ہے۔عدالت نے واضح کیا کہ سی ڈی اے کے قیام کا اصل مقصد اب مکمل ہو چکا ہے اور اس کی تحلیل ضروری ہے تاکہ انتظامیہ کے تمام اختیارات اور ذمہ داریاں میٹروپولیٹن کارپوریشن کو منتقل کی جائیں۔ اس عمل سے اسلام آباد کی ایڈمنسٹریشن کو شفاف، مؤثر اور قابل احتساب بنایا جا سکے گا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ اسلام آباد کا تمام ایڈمنسٹریٹو، ریگولیٹری اور میونسپل فریم ورک اب لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت کام کر رہا ہے، جو منتخب نمائندوں کے ذریعے گورننس کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے بنایا گیا ہے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ قانون کے تحت لوکل گورنمنٹ کی منظوری کے بغیر کسی قسم کے ٹیکسز عائد کرنا غیر قانونی ہے۔عدالت نے یہ حکم بھی دیا کہ سی ڈی اے کے پاس "رائٹ آف وے” یا "ڈائریکٹ ایکسس” جیسے ٹیکسز عائد کرنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے سی ڈی اے کے جاری کردہ ایس آر او کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ مذکورہ ایس آر او کے تحت کیے گئے تمام اقدامات غیر قانونی سمجھے جائیں گے۔اگر سی ڈی اے نے اس ایس آر او کے تحت کسی شہری یا ادارے سے کوئی رقم وصول کی ہے تو اسے فوری طور پر واپس کرنا ہوگا۔ عدالت نے نوٹس لیا کہ سی ڈی اے نے پیٹرول پمپس اور سی این جی سٹیشنز پر "رائٹ آف ایکسس” ٹیکس نافذ کیا تھا اور ہاؤسنگ سوسائٹیز پر مرکزی شاہراہ سے "ڈائریکٹ ایکسس” ٹیکس بھی عائد کیا گیا تھا، جو اب کالعدم قرار دیا گیا ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے زور دیا ہے کہ شہریوں کے حقوق کا تحفظ قانون کے تحت یقینی بنایا جائے اور حکومت اس بات کو یقینی بنائے کہ اختیارات کی منتقلی کے بعد اسلام آباد کی انتظامیہ مکمل شفاف اور جوابدہ ہو۔

  • پاسپورٹ انڈیکس 2025: پاکستانی پاسپورٹ ٹاپ 100 میں شامل

    پاسپورٹ انڈیکس 2025: پاکستانی پاسپورٹ ٹاپ 100 میں شامل

    ہینلے پاسپورٹ انڈیکس کی جانب سے سال 2025 کی پاسپورٹ رینکنگ جاری کر دی گئی ہے، جس میں ایک خوش آئند پیشرفت سامنے آئی ہے۔ پاکستانی پاسپورٹ مسلسل بہتری کی جانب گامزن رہنے کے بعد بالآخر دنیا کے ٹاپ 100 پاسپورٹس میں شامل ہو گیا ہے۔ اس اہم پیشرفت کے تحت پاکستانی شہری اب 32 ممالک میں بغیر ویزہ سفر کی سہولت حاصل کر سکیں گے۔

    ڈائریکٹر جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس، مصطفیٰ جمال قاضی نے اس کامیابی پر پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی حکومت پاکستان، وزارت داخلہ، اور تمام متعلقہ اداروں کی انتھک محنت اور اصلاحاتی اقدامات کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے وزیر داخلہ محسن نقوی اور سیکریٹری داخلہ کے خصوصی تعاون کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کی رہنمائی سے پاسپورٹ نظام میں تاریخی تبدیلیاں ممکن ہو سکیں۔

    ڈی جی پاسپورٹس نے بتایا کہ پاکستانی پاسپورٹ میں جدید سیکیورٹی فیچرز متعارف کرائے گئے ہیں تاکہ اسے عالمی معیار کے مطابق محفوظ اور معتبر بنایا جا سکے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ای-پاسپورٹ رکھنے والے شہریوں کو جلد ہی تمام بڑے ایئرپورٹس پر ای گیٹس کی سہولت فراہم کی جائے گی، جس سے امیگریشن کا عمل نہایت تیز اور مؤثر ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پاسپورٹ دفاتر میں آنے والے شہریوں کو جدید سہولیات اور ٹیکنالوجی کے تحت تیزی سے خدمات فراہم کی جا رہی ہیں، تاکہ عوام کو قطاروں اور تاخیر کے مسائل سے نجات ملے۔ مزید یہ کہ دنیا بھر میں پاکستانی پاسپورٹ کے حوالے سے "بیگ لاک” یعنی بلاک یا روک کی شرح مکمل طور پر صفر ہو چکی ہے۔

    مصطفیٰ جمال قاضی نے بتایا کہ اورسیز پاکستانیوں کے لیے آن لائن پاسپورٹ سروسز بھی مہیا کر دی گئی ہیں، جس سے وہ بیرونِ ملک رہتے ہوئے بھی اپنے پاسپورٹ کی تجدید یا حصول ممکن بنا سکتے ہیں۔ ڈی جی پاسپورٹس نے یہ بھی اعلان کیا کہ پاسپورٹ کے اجرا اور فیس ادائیگی کو مزید آسان بنانے کے لیے "پاسپورٹ آسان فیس ایپ” متعارف کرا دی گئی ہے، جس کے ذریعے شہری چند سیکنڈز میں فیس ادا کر سکتے ہیں۔انہوں نے مستقبل کی ایک اور بڑی سہولت کا عندیہ دیتے ہوئے بتایا کہ جلد ہی شہری گھر بیٹھے موبائل ایپ کے ذریعے پاسپورٹ حاصل کرنے کی سہولت سے بھی مستفید ہو سکیں گے۔

    ڈی جی پاسپورٹس نے یقین دہانی کرائی کہ وزارت داخلہ کے مکمل تعاون سے پاسپورٹ رینکنگ میں بہتری کا سفر اسی طرح جاری رہے گا اور پاکستانی شہریوں کو مزید بین الاقوامی سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جائے گی۔

  • خود کو پولیس اہلکار ظاہر کرنے والے تین ملزمان گرفتار

    خود کو پولیس اہلکار ظاہر کرنے والے تین ملزمان گرفتار

    تھانہ بنی گالہ پولیس کی فوری اور موثر کارروائی کے نتیجے میں خود کو پولیس اہلکار ظاہر کرنے والے تین ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ گرفتار ملزمان سے ایک مغوی کو بحفاظت بازیاب کروا لیا گیا ہے۔

    پولیس نے کارروائی کے دوران چھینی گئی گاڑی، ہتھکڑیاں، پولیس یونیفارم، ماسک، وائرلیس سیٹ، واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی، اسلحہ اور ایمونیشن بھی برآمد کر لی ہے۔ ملزمان کی شناخت خالد محمود، محمد ظفر اور جمیل احمد کے طور پر ہوئی ہے۔

    ڈی آئی جی اسلام آباد محمد جواد طارق نے تھانہ بنی گالہ پولیس ٹیم کی بروقت اور موثر کارروائی پر خصوصی طور پر شاباش دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کی جان و مال پر حملہ کرنے والوں کے خلاف پولیس آہنی ہاتھوں سے نمٹے گی۔گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے تاکہ واردات کے دیگر پہلوؤں کو بھی کھوجا جا سکے اور اس نوعیت کے جرائم کی روک تھام کی جا سکے۔ڈی آئی جی اسلام آباد کا کہنا تھا کہ پولیس ہر صورت قانون کی حکمرانی قائم رکھے گی اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔