Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بیرون ملک مقیم پاکستانی ہمارے ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں،وزیراعظم

    بیرون ملک مقیم پاکستانی ہمارے ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چیئرمین اوورسیز پاکستانی فاؤنڈیشن قمر رضا اور مینیجنگ ڈائریکٹر اوورسیز پاکستانی فاؤنڈیشن افضال بھٹی کی ملاقات ہوئی ہے،

    ملاقات میں معرکہ حق میں پاکستان کی فتح کے حوالے سے بیرون ملک منعقد ہونے والی تقریبات کے بارے میں وزیراعظم کو بریفنگ دی گئی ،ملاقات میں ایم ڈی اور چیئرمین او پی ایف انے وزیراعظم کو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے مسائل اور ان کو حل کرنے کے لیے حکومتی اقدامات سے آگاہ کیا،وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ہمارے ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں،عالمی مارکیٹ میں بیرون ملک مقیم پاکستانی بطور ایک قوی افرادی قوت اہم خدمات سر انجام دے رہے ہیں، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنا ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے،

  • پی آئی اے کا کمال، صرف ایک یا دو مسافروں کے ساتھ 1118 پروازیں آپریٹ

    پی آئی اے کا کمال، صرف ایک یا دو مسافروں کے ساتھ 1118 پروازیں آپریٹ

    پاکستان کی قومی ایئر لائن پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن (پی آئی اے) کی کارکردگی سے متعلق ایک چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) کی تازہ رپورٹ کے مطابق قومی ایئر لائن نے 2021 سے 2023 کے درمیان 1118 پروازیں ایسی آپریٹ کیں جن میں صرف ایک یا دو مسافر سوار تھے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسلام آباد سے روانہ ہونے والی 816 پروازیں صرف ایک مسافر کے ساتھ جبکہ 302 پروازیں صرف دو مسافروں کے ساتھ آپریٹ کی گئیں۔ یہ اعداد و شمار پی آئی اے کے اپنے فراہم کردہ ریکارڈ سے لیے گئے ہیں۔آڈٹ رپورٹ نے ایسے فیصلوں کو بدانتظامی اور ناقص منصوبہ بندی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ان پروازوں کو منسوخ کرکے مسافروں کو ریفنڈ کردیا جاتا تو قومی ایئر لائن کو بھاری نقصان سے بچایا جاسکتا تھا۔ لیکن ناقص حکمتِ عملی کے باعث پی آئی اے کو ایندھن، عملے کی تنخواہوں اور دیگر آپریشنل اخراجات کی مد میں بھاری خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔مزید یہ بھی انکشاف ہوا کہ متعدد پروازیں 3 سے 50 مسافروں کے ساتھ آپریٹ کی گئیں جن کی آمدنی اخراجات کے مقابلے میں انتہائی کم تھی۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف ادارے کی مالی مشکلات میں اضافہ کررہی ہے بلکہ قومی ایئر لائن کے انتظامی ڈھانچے پر بھی سوالیہ نشان ہے۔

    ذرائع کے مطابق، حکومت اور متعلقہ حکام نے رپورٹ کا نوٹس لے لیا ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس حوالے سے جلد سخت اقدامات کیے جائیں گے تاکہ قومی ایئر لائن کو مزید نقصانات سے بچایا جا سکے۔

  • سیلاب، ریسکیو ٹیمیں دن رات متاثرہ علاقوں میں سرگرم ہیں ،شرجیل میمن

    سیلاب، ریسکیو ٹیمیں دن رات متاثرہ علاقوں میں سرگرم ہیں ،شرجیل میمن

    سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے، صوبائی حکومت ہمہ وقت عوام کے ساتھ ہے،

    شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ سندھ کی ہدایات پر ریسکیو ٹیمیں دن رات متاثرہ علاقوں میں سرگرم رہیں عوام کی محفوظ مقامات طرف منتقلی جاری ہے، مجموعی طور پر 133,887 افراد، 380,363 مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہو چکے ہیں،چوبیس گھنٹوں میں 5,830 افراد اور 10,202 مویشی محفوظ مقامات پر منتقل ہو چکے ہیں،حکومت سندھ کی ہدایات پر ریسکیو 1122 نے مویشیوں، خوراک اور گھریلو سامان کو بھی بچایا تاکہ متاثرین کو زیادہ نقصان نہ اٹھانا پڑے، یہ صرف ایک آپریشن نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت ہے، حکومت سندھ ہر مشکل وقت میں عوام کے ساتھ ہے،سیلابی ریلے کی سب سے زیادہ خطرناک صورتحال اس وقت پنجند اور تریموں کے مقامات پر ہے،گڈو کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے، گڈو، سکھر اور کوٹری میں حالات قابو میں ہیں، پنجند میں پانی کی آمد و اخراج دونوں تقریباً 504,604 کیوسک ہیں جو انتہائی بلند سطح ہے، تریموں پر آمد و اخراج 543,579 کیوسک ریکارڈ کی گئی ہے، گڈوبیراج پر آمد 401,352 کیوسک اور اخراج 380,896 کیوسک ہے، سکھر بیراج پر آمد 340,766 کیوسک اور اخراج 311,666 کیوسک ہے جو نسبتاً کم سطح ہے، کوٹری بیراج پر پانی کی آمد 236,116 کیوسک اور اخراج 231,763 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے، حکومت سندھ مسلسل پانی کی سطح پر نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے،حالیہ سیلابی صورتحال کے دوران ریسکیو 1122 سندھ نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے ہزاروں متاثرہ خاندانوں کو سہارا دیا، ریسکیو ٹیمیں دن رات متاثرہ علاقوں میں موجود ہیں، نہ صرف انسانی جانوں کو بچایا بلکہ مویشیوں اور قیمتی سامان کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل کیا، ریسکیو 1122 سندھ نے 31 اگست سے 7 ستمبر تک جاری رہنے والے آپریشنز کے دوران مختلف اضلاع سے مجموعی طور پر 380 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا، ریسکیو سب سے زیادہ سرگرمیاں ضلع سکھر میں ہوئیں، 69 افراد کو امام بخش جتوئی، بشیرا آباد اور حاجی فقیر محمد جتوئی سمیت مختلف دیہات سے نکالا گیا، شہید بینظیر آباد سے مختلف دنوں میں 147 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، 30 مویشی، 40 سولر پلیٹس اور گندم کی بوریاں بھی بچائی گئیں،نوشہرو فیروز میں چھ روز کے دوران 147 افراد کو ریسکیو کیا گیا، متاثرہ لوگوں کا گھریلو سامان اور دیگر اشیاء بھی محفوظ طور پر منتقل کی گئیں،خیرپور میرس میں گاؤں گل حسن سے 5 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا،مقامی انتظامیہ اور صوبائی حکومت کے تعاون سے سیلاب متاثرین کو ہر ممکن مدد فراہم کی گئی،

  • جنات کے ہاتھوں مبینہ خاتون کا اغوا، پیر سے بھی تحقیقات

    جنات کے ہاتھوں مبینہ خاتون کا اغوا، پیر سے بھی تحقیقات

    لاہور پولیس نے 6 سال قبل مبینہ طور جنات کے ہاتھوں اغوا ہونے والی خاتون کے کیس کی تحقیقات کا آغاز کردیا۔

    لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر اسپیشل پولیس ٹیم نے تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے خاتون فوزیہ کی ماں، ساس اور شوہر سمیت 5 افراد کے پولی گرافک ٹیسٹ کروالیے۔پولیس کے مطابق پانچوں افراد کے پولی گرافک ٹیسٹ کے نتائج بےنتیجہ رہے، مغویہ کی تلاش کے لیے 5 ہزار موبائل فون نمبروں کی جیو فینسنگ کی گئی جن میں سے 100 سے زائد شارٹ لسٹ کیےگئے،پولیس کے مطابق نادرا، سیف سٹیز، آئی جی جیل خانہ جات اور اداروں سے تصدیق کا عمل جاری ہے۔پولیس کا کہنا ہےکہ فوزیہ کو اس کی والدہ حمیداں قصور میں دم کرانے لےکر جاتی تھی، قصور میں دم کرنے والے پیر عمرپاکستانی کو بھی شامل تفتیش کرلیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق والدہ کا ڈی این اے فارنزک سائنس ایجنسی میں کسی سے میچ نہیں ہوسکا۔

    پولیس کا کہنا ہےکہ فوزیہ 2019 میں غائب ہوئی تھی، سسرالیوں نے جنات پر اغوا کا الزام عائد کیا تھا، فوزیہ کے اغوا کا مقدمہ 2019 میں ہی اس کی والدہ کی مدعیت میں درج ہوا تھا، گزشتہ دنوں خاتون کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس ہائی کورٹ عالیہ نیلم نے آئی جی پنجاب کو مغوی خاتون کی بازیابی کے لیے 18 ستمبر تک کی مہلت دی تھی۔

  • ریچھ کے حملے کے بعد  قرۃ العین بلوچ کی ٹیم کا باضابطہ بیان جاری

    ریچھ کے حملے کے بعد قرۃ العین بلوچ کی ٹیم کا باضابطہ بیان جاری

    پاکستان کی مقبول ترین گلوکارہ قرۃ العین بلوچ کی ٹیم نے ان کی صحت سے متعلق پہلا باضابطہ بیان جاری کردیا۔

    قرۃ العین بلوچ کے انسٹاگرام پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ گلوکارہ حال ہی میں بلتستان کے سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے کام کرنے گئی تھیں جہاں وہ جامع ڈیزاسٹر ریسپانس سروسز (سی ڈی آر ایس) کے ہمراہ متاثرہ دیہات میں امدادی سرگرمیوں میں شریک تھیں، 4 ستمبر کی رات جب گلوکارہ خیمے میں سورہی تھیں، اس وقت ان پر بھورے ریچھ نے حملہ کیا تاہم سی ڈی آر ایس ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ریچھ کو بھگا دیا۔

    قرۃ العین بلوچ کو فوراً قریبی طبی مرکز منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے تصدیق کی کہ ان کی حالت خطرے سے باہر ہے اور کوئی فریکچر نہیں ہوا، وہ تیزی سے صحتیاب ہورہی ہیں،گلوکارہ کی ٹیم نے مداحوں سے دعاؤں کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت ان کی پرائیویسی کا خیال رکھیں کیونکہ گلوکارہ کو مکمل آرام کی ضرورت ہے جب کہ تمام عوامی سرگرمیوں کو ان کی صحت یابی تک ملتوی کردیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ یہ واقعہ گلگت بلتستان کے دیوسائی نیشنل پارک میں پیش آیا، جو بلند و بالا سطح مرتفع پر واقع ہے اور نایاب ہمالیائی بھورے ریچھوں کا مسکن ہے،گلگت بلتستان پولیس کے مطابق قرۃ العین بلوچ اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ دیوسائی کے کیمپنگ ایریا میں موجود تھیں، جب اچانک ایک بھورا ریچھ حملہ آور ہوا اور ان کے دونوں بازو زخمی کر دیے تاہم ان کا کیمرہ مین اور دوسرا ساتھی محفوظ رہے۔

  • سیلاب موج مستی والی چیز نہیں، پانی کا بہاو بہت تیز ہے،عظمیٰ بخاری

    سیلاب موج مستی والی چیز نہیں، پانی کا بہاو بہت تیز ہے،عظمیٰ بخاری

    وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے پنجاب میں سیلابی صورتحال بگڑ رہی ہے، سیلاب جنوبی پنجاب کے علاقوں میں پہنچ چکا ہے اور بارشیں بھی غضب ڈھا رہی ہیں۔

    لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا سیلاب متاثرین کو بارش اور پانی سے مشکلات ہو رہی ہیں، حکومت نے اتنی بڑی آفت میں بہترین کام کیا، ملکی تاریخ میں مثال نہیں ملتی، وزیر اعلیٰ مریم نواز بڑے ریلیف پیکج کا اعلان کرنے جا رہی ہیں، سیلاب کے باعث پنجاب مں اب تک 60 افراد جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں، 4 ہزار335 دیہات اور 42 لاکھ افراد متاثر ہیں، 18 لاکھ 581 ایکٹر زرعی رقبہ متاثر ہوا جس کے باعث دالیں سبزیاں مہنگی ہوئی ہیں۔ 21 لاکھ افراد اور ساڑھے 15 لاکھ مویشیوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا،جن علاقوں میں ڈینگی مچھر کی شکایات ہیں وہاں اسپرےکرائے جا رہے ہیں، انتظامیہ کے ساتھ لوگ تعاون کریں، جہاں پانی کم ہونا شروع ہوا ہے وہاں انتظامیہ کی اجازت کے بغیر نہ جائیں۔

    عظمیٰ بخاری کا مزید کہنا تھا کہ سیلاب کے پانی پر کسی کا کوئی اختیار نہیں ہے، پنجاب میں سیلابی صورتحال بگڑ رہی ہے، چار ماہ سے نہ مون سون ختم ہو رہا ہے نہ لوگوں کی پریشانیاں، جنوبی پنجاب کے علاقوں میں سیلاب پہنچ گیا ہے، بارشیں بھی غضب ڈھا رہی ہیں،خان بیلا اور جلالپور کے علاقوں میں ایمرجنسی کی صورتحال تھی، لیکن ہمارے لوگ شاید سیلاب کو بھی سنجیدہ نہیں لے رہے، سیلاب کوئی دیکھنے یا فن کرنے کی چیز نہیں، لوگ سوشل میڈیا پر وڈیوز ڈال رہے ہیں اور پانی میں مستیاں کر رہے ہیں، یہ سیلاب موج مستی والی چیز نہیں، پانی کا بہاو بہت تیز ہے،سیلاب زدہ علاقوں میں ڈینگی نے بھی سر اٹھانا شروع کر دیا ہے، عوام سے اپیل ہے ڈینگی کے حوالے سے احتیاطی تدابیر اختیار کریں، سیلاب زدہ علاقوں میں فیومیگیشن ہورہی ہے۔

  • بھارتی میڈیا ایک بار پھر فالس فلیگ آپریشنز کی فضاء ہموار کرنے میں مصروف

    بھارتی میڈیا ایک بار پھر فالس فلیگ آپریشنز کی فضاء ہموار کرنے میں مصروف

    بھارتی میڈیا ایک بار پھر فالس فلیگ آپریشنز کی فضاء ہموار کرنے میں مصروف ہے۔ذرائع کے مطابق ممبئی کے نائر ہسپتال کو موصول ہونے والی بم دھمکی ایک اور فالس فلیگ کے سکرپٹ کا حصہ ہے۔

    دہشتگردی کی پے درپے اطلاع کا بھارتی میڈیا پر آنامنظم پراپیگنڈے کی نشاندہی کرتا ہے۔ذرائع نے بتایا ہے کہ بھارتی میڈیا کی جانب سے اس طرح کی خبروں کا تسلسل بھارتی حکومت کی اندرونی ناکامیوں سے توجہ ہٹانا ہے۔ای میل اور فون کال کے ذریعے بم کی اطلاع دینا اور فوری سیکیورٹی ردعمل دکھانا طے شدہ سکرپٹ کا حصہ ہے۔یہ پروپیگنڈا اس وقت کیا جا رہا ہے جب بھارت کو عالمی سطح پر انسانی حقوق، اقلیتوں کے تحفظ اور کشمیریوں پر مظالم کے حوالے سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مودی سرکار ایک بار پھر خوف کی فضاء بنا کر عوامی جذبات کو بھڑکانا چاہتی ہے تاکہ اصل مسائل کو پسِ پشت دھکیلا جا سکے۔ایسے اقدامات عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہیں۔پلوامہ، اڑی اور پٹھان کوٹ جیسے واقعات میں بھارت نے خود اپنے ہی فوجیوں کو نشانہ بنایا۔2016 میں اُڑی فالس فلیگ کے بعد بھارت نے درجنوں فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا لیکن ایک بھی لاش سامنے نہ لائی گئی۔

    2019 میں پلوامہ فالس فلیگ الیکشن سے قبل بی جے پی کی سازش تھی جس میں 44 بھارتی فوجیوں کو مروایا گیا۔پلوامہ واقعہ میں بی جے پی کے ساتھی بھارتی پولیس آفیسر دیویندر سنگھ کے دہشت گردوں سے تعلقات بھی سامنے آ چکے ہیں۔چھتیس سنگھ پورہ میں 35 سکھوں کا قتل عام کر کے اسکا جھوٹا الزام بھی پاکستان پر لگایا گیا۔ماضی میں بھی فالس فلیگ کے فوری بعد پاکستان پر الزام لگایا گیا، مگر کوئی ٹھوس شواہد پیش نہ کیے جا سکے۔ذرائع کے مطابق آرٹیکل 370 کی منسوخی اور پہلگام فالس فلیگ جیسے ڈرامے مودی کی سیاسی شکست کا اظہار ہیں۔چھتیس پورہ میں سکھوں کا قتل بھی بھارت کی ریاستی دہشتگردی کی واضح مثال ہے۔ چند روز قبل بھی بھارتی میڈیا کی جانب سے ممبئی میں بم نصب ہونے کی جھوٹی خبر چلائی گئی۔بھارتی میڈیا نےخبر کو بنیاد بنا کر پاکستان کا تعلق دہشتگردوں کے ساتھ جوڑنے کی ناکام کوشش کی۔اس سے قبل بھی بھارتی میڈیا 3 پاکستانی شہری جو کمبوڈیا روزگار کیلئے جا رہے تھے کو دہشتگرد کہہ چکا ہے۔بھارت عالمی سطح پر پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے مسلسل جھوٹا پراپیگنڈا کر رہا ہے۔

  • دریائے چناب میں سیلاب، مظفر گڑھ میں کئی دیہات ڈوب گئے

    دریائے چناب میں سیلاب، مظفر گڑھ میں کئی دیہات ڈوب گئے

    دریائے چناب میں اونچے درجے کے سیلاب کے باعث مظفر گڑھ میں متعدد دیہات پانی میں ڈوب گئے جبکہ بڑی تعداد میں لوگوں کی محفوظ مقامات پر نقل مکانی جاری ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ 24 گھنٹوں میں ایک ہزار سے زائد لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، امدادی کارروائیاں رنگپور، دوآبہ، سنکی، خان گڑھ، وہیلاں والی، بنڈہ اسحاق اور عظمت پور میں کی گئیں۔پولیس کے مطابق ضلع بھر میں ریسکیو کی 32 اور پولیس کی 8 کشتیاں لوگوں کو ریسکیو کر رہی ہیں، آرمی، وائلڈ لائف کی کشتیاں اور پرائیویٹ کشتیاں بھی لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کررہی ہیں۔اوکاڑہ کی ضلعی انتظامیہ کا بتانا ہے کہ دریائے راوی اور دریائے ستلج میں بھی اونچے درجے کی سیلابی صورتحال برقرار ہے، 32 دیہات کے تمام سرکاری و نجی اسکولوں کی چھٹیوں میں 8 تا 14 ستمبر تک توسیع کر دی گئی ہے۔

    ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق پنجاب کے دریاؤں میں طغیانی کی صورتحال برقرار ہے، دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر انتہائی اونچے درجے اور سلیمانکی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے۔پی ڈی ایم اے ترجمان کے مطابق دریائے چناب میں خانکی ہیڈ ورکس کے مقام پر نچلے درجےکا سیلاب ہے جبکہ دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ ہیڈ سدھنائی کے مقام پر بھی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ترجمان پی ڈی ایم کے کا بتانا ہے کہ 9 ستمبر تک پنجاب کے دریاؤں میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے، بالائی علاقوں میں بارشوں کے باعث دریاؤں کے بہاؤ میں اضافے کا خدشہ ہے ہے۔

  • کراچی میں گھریلو ملازمہ پر تشدد، میاں بیوی گرفتار

    کراچی میں گھریلو ملازمہ پر تشدد، میاں بیوی گرفتار

    کراچی: کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس بلاک 2 میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں 12 سالہ گھریلو ملازمہ پر بہیمانہ تشدد کے الزام میں پولیس نے میاں بیوی کو گرفتار کرلیا ہے۔

    پولیس کے مطابق متاثرہ بچی گھر کے اندر کام کر رہی تھی کہ اس دوران دوپٹہ جلنے کا واقعہ پیش آیا۔ اس پر گھر کی مالکن نے انتہائی سفاکانہ رویہ اپناتے ہوئے بچی کو استری سے داغ دیا۔ تشدد کے باعث بچی کی حالت تشویش ناک ہوگئی اور اسے فوری طور پر جناح اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اس کے جسم پر شدید جلنے کے نشانات کی تصدیق کی ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی کارروائی عمل میں لائی گئی اور تشدد کرنے والے میاں بیوی کے خلاف مقدمہ درج کرکے دونوں کو گرفتار کرلیا گیا۔ ان کے خلاف فوجداری دفعات کے تحت کارروائی کی جارہی ہے۔

    ابتدائی تحقیقات کے مطابق متاثرہ بچی کا تعلق ایک غریب گھرانے سے ہے اور وہ گزشتہ کئی ماہ سے مذکورہ فلیٹ میں ملازمہ کے طور پر کام کر رہی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مزید تفتیش جاری ہے تاکہ یہ پتہ لگایا جا سکے کہ بچی پر پہلے بھی تشدد کیا جاتا تھا یا یہ پہلا واقعہ ہے۔

  • اسٹاک ایکسچینج کا تاریخی سطح عبور کرنا حکومت کی پالیسیوں پر اعتماد کا مظہر ہے،وزیراعظم

    اسٹاک ایکسچینج کا تاریخی سطح عبور کرنا حکومت کی پالیسیوں پر اعتماد کا مظہر ہے،وزیراعظم

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نےاسٹاک ایکسچینج ہنڈرڈ انڈیکس 1 لاکھ 56 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کرنے پر اظہار اطمینان کیا ہے

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا تاریخی سطح عبور کرنا، کاروباری برادری و سرمایہ کاروں کے حکومت کی پالیسیوں پر اعتماد کا مظہر ہے.اللہ کے فضل و کرم سے ملکی ترقی کا سفر معاشی ٹیم کی محنت کی وجہ سے جاری و ساری ہے.حال ہی میں چین کے نجی شعبے کے ساتھ پاکستان کی نجی کمپنیوں کے اربوں ڈالر کے معاہدے و مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے.ملک میں سرمایہ کاری میں اضافے سے صنعتیں لگیں گی، برآمدات میں اضافہ ہوگا اور روزگار کے مزید مواقع پیدا ہونگے. ملکی معاشی سمت کی بہتری اور ترقی کے سفر پر گامزن کرنے کے لئے معاشی ٹیم کی کوششیں قابل ستائش ہیں.