پاکستان میں سعودی سفارت خانہ کے شعبہ الملحق الدینی کے نمائندہ خصوصی وایڈیشنل ڈائیریکٹر انٹر نیشنل لنکجز اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور ڈاکٹر حافظ مسعودعبد الرشید اظہر نے وفد اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور ڈاکٹر کامران سے ملاقات کی اور انھیں یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا منصب سنبھالنے پر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی ، پھولوں کا گلدستہ پیش کیا اور امید ظاہر کی کہ ان کی قیادت میں یونیورسٹی عالمی رینکنگ تک پہنچے گی۔ ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشیداظہر نے ڈاکٹر کامران کو ماضی قریب میں المجلس الاسلامی باکستان، کلیة القرآن الکریم والتربیة الاسلامیة اور سعودی حکومت کے تعاون سے یونیورسٹی میں تعمیر کردہ تقریباََ چار کروڑ کی لاگت سے ایک ہزار نمازیوں کی گنجائش رکھنے والی پر شکوہ مسجد جامع ابن کثیر سمیت مختلف پراجیکٹ کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی اور وہ پراجیکٹس جو سعودی حکومت کی طرف سے منظور ہونے کے باوجود ابھی تک یونیورسٹی میں شروع نہیں کیے جاسکے ،ان پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ وائس چانسلر ڈاکٹر کامران نے رکے ہوئے پراجیکٹس از سر نو شروع کرنے پر زور دیا جس پر ڈاکٹر حافظ مسعودعبدالرشید نے کہا میں ابنائے جامعہ میں سے ہوں میری شدید خواہش ہے کہ میں اپنی مادر علمی کی خدمت کروں۔ ڈاکٹر کامران نے اسلامیہ یونیورسٹی میں سیرت چیئر کی مستقل بلڈنگ کی ضرورت پر بھی زور دیا جس پر ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر نے کہا ہم یونیورسٹی کو ڈیلیور کرنا چاھتے ہیں۔ڈاکٹر کامران نے سعودی حکومت کے تعاون سے اسلامیہ یونیورسٹی میں مکمل کئے گئے پراجیکٹس پر سعودی حکومت کا شکریہ ادا کیا اور ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی کو آپ جیسے ہونہار طالب علم پر فخر ہے۔رئیس المجلس الاسلامی ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر نے ڈاکٹر کامران کو کنگ فہد قرآن کمپلکس کے طبع شدہ درجنوں اردو ترجمہ وتفاسیر والے قرآن مجید پیش کیے ۔ ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر کے ہمراہ وفد میں معروف سکالر پروفیسر ڈاکٹر حافظ عبیدالرحمان ، حکیم احمد حسین اتحادی گولڈ میڈلسٹ ، حافظ عبداللہ بن مسعود اور دیگر بھی شامل تھے۔ وفد نے ڈاکٹر کامران کے علاوہ یونیورسٹی کے دیگر سٹاف شہزاد احمد ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز، رجسٹرار یونیورسٹی شجیع الرحمان اور خزانہ دار عبدالستارظہوری، عرفان غازی ایڈیشنل کنٹرولر امتحانات غلام محمد سے بھی ملاقات کی ۔
Author: ممتاز حیدر
-

سفارتی سطح پر بھارت کا تنہا رہ جانا پاکستان کے بیانیے کی فتح ہے،عرفان صدیقی
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کے چیئرمین سینیٹر عرفان الحق صدیقی نے کہا ہے کہ پے درپے دو جنگوں کے تناظر میں پاکستان کا موقف واضح کرنے اور ایک متوازن بیانیہ دنیا کے سامنے لانے کے لئے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کی قیادت میں دفترِ خارجہ نے انتہائی شاندار کرداراداکیا ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج سینیٹ قائمہ کمیٹی امورِ خارجہ کے اجلاس میں کیا۔ انہوں نے کمیٹی کے ا رکان شیری رحمان اور مصدق ملک کی خدمات کو سراہا جو پارلیمانی وفد کے ارکان کے طور پر انہوں نے بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں دنیا کو پاکستانی موقف سے آگاہی کے لئے سر انجام دیں۔ وزارتِ خارجہ کی سیکرٹری آمنہ بلوچ اور اعلیٰ عہدیداروں نے کمیٹی ارکان کو ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملوں کے بعد کی صورتِ حال،اس ضمن میں پاکستان کے کردار اور مستقبل کے امکانات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔مختلف ارکان کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے سیکرٹری امور ِ خارجہ نے کہا کہ ہماری تمام تر کوششیں خطے میں پائیدار امن کے قیام پر مرکوز ہیں اور پاکستان اس سلسلے میں مختلف ممالک کے اشتراک سے نہایت موثر کردار ادا کررہا ہے۔کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر عرفان الحق صدیقی نے ان ا قدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ مختلف عالمی فورمز پر بھارت کا تنہا رہ جانا اس کی شکست اور ہمارے بیانیے کی فتح ہے۔ کمیٹی کے اِن کیمرہ اجلاس میں سینیٹر شیری رحمان،سینیٹر انوار الحق کاکڑ،سینیٹر مصدق ملک، سینیٹر بیرسٹر علی ظفر اور سینیٹر ذیشان خانزادہ نے شرکت کی۔ جب کہ وزارتِ خارجہ کی نمائندگی میڈم آمنہ بلوچ اور دیگر سینیئر عہدیداروں نے کی۔
-

سوات سیلاب،پاک فوج سوات میں سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لئے پہنچ گئی
سوات سیلاب،پاک فوج سوات میں سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لئے پہنچ گئی
پاک فوج کے دستے ریسکیو اور ریلیف مشن میں ریسکیو 1122 کے ہمراہ حصہ لے رہے ہیں ،پاک فوج کے دستے ضروری ساز و سامان سے لیس ہیں ،اب تک تین لوگوں کو زندہ بچایا جا چکا ہے جب کہ سات لاشیں نکالی جا چکی ہیں ،صورتحال مزید خراب ہونے کی صورت میں مزید دستوں کو بھی روانہ کیا جائے گا،
واضح رہے کہ دریائے سوات میں تیزبہاؤ کی وجہ سے ایک ہی خاندان کے 18 افراد پانی میں بہہ گئے،سیاح دریا کے کنارے بیٹھا ناشتہ کررہا تھا تاہم اسی دوران بارش کی وجہ سے دریا میں تیز بہاؤ ہوا اور ایک ہی خاندان کے 18 افراد بہہ گئے،8 بجے کے قریب ان لوگوں کے ڈوبنے کی اطلاع ملی، بائی پاس پر مہمان آئے ہوئے تھے جو دریا کے کنارے بیٹھے تھے، ان لوگوں کو پانی کے ریلے کا علم نہیں تھا۔
-

سوات حادثہ،مولانا فضل الرحمٰن کا گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار
جمعیۃ علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے دریائے سوات میں پیش آنے والے افسوس ناک حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق ہونے والے سیاحوں کے اہلِ خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوات میں اتنی بڑی تعداد میں سیاحوں کی ہلاکت ایک دل خراش سانحہ ہے، جس پر ہر اہلِ دل کا دل اشکبار ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے اس افسوسناک واقعے کا ذمہ دار حکومتی نااہلی اور سیاحوں کے تحفظ کے حوالے سے موثر اقدامات نہ ہونے کو قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر متعلقہ ادارے اور حکومت پیشگی حفاظتی اقدامات کرلیتے تو شاید یہ قیمتی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔انہوں نے کہا کہ جمعیۃ علماء اسلام اس دکھ کی گھڑی میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کے غم میں برابر کی شریک ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے ریسکیو اداروں سے مطالبہ کیا کہ امدادی سرگرمیوں میں تیزی لائی جائے اور فوری حفاظتی اقدامات کیے جائیں تاکہ مزید قیمتی جانوں کا ضیاع نہ ہو۔
مولانا فضل الرحمٰن نے جاں بحق افراد کی مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا کہ وہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے مؤثر اور بروقت حکمت عملی ترتیب دے تاکہ آئندہ اس قسم کے واقعات سے بچا جا سکے۔انہوں نے انصار الاسلام کے رضاکاروں کو بھی فوری طور پر متحرک ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ جائے وقوعہ پر پہنچ کر ریسکیو آپریشن میں بھرپور تعاون فراہم کریں تاکہ متاثرین کو فوری ریلیف دیا جا سکے۔
-

سوات سانحہ انتظامی نااہلی،مجرمانہ غفلت کا نتیجہ ، کاروائی ہونی چاہئے،خالد مسعود سندھو
سوات میں سیلابی ریلے کے باعث قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر صدر مرکزی مسلم لیگ کا اظہار افسوس
پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے سوات میں سیلابی ریلے کے باعث قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے خیبر پختونخوا حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سانحہ قدرتی آفت سے زیادہ انتظامی نااہلی اور مجرمانہ غفلت کا نتیجہ ہے جس کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے، خیبر پختونخوا حکومت متاثرہ خاندانوں کو فوری مالی امداد فراہم کرے، لاپتہ افراد کی تلاش میں جدید وسائل بروئے کار لائے جائیں، اور آئندہ ایسے سانحات سے بچنے کے لیے مؤثر حکمت عملی تیار کی جائے۔
خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ دریائے سوات میں سیاحوں کا سیلابی ریلے میں پھنس جانے کے بعد ریسکیو کا تاخیر سے پہنچنے کی ذمہ داری صوبائی حکومت پرعائد ہوتی ہے،انتہائی افسوس کی بات ہے کہ این ڈی ایم اے مسلسل ہدایات جاری کر رہا ہے لیکن صوبائی حکومت سیاحوں کی جانوں کی حفاظت کے لئے کوئی انتظام نہیں کر رہی،سوات جیسے سیاحتی علاقوں میں کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے نہ کوئی واضح حکمتِ عملی موجود ہے اور نہ ہی انفراسٹرکچر،صوبے کو تباہ کرنے والوں کا احتساب کرنا چاہئے،
خالد مسعود سندھو نے سوات کے سیلابی ریلے میں جاںبحق افراد کے لئے دعائے مغفرت کی ہے ،جبکہ ڈوبنے والے افراد کی تلاش کے لئے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ لاپتہ افراد کو تلاش کیا جائے،اور پیشگی حفاظتی انتظامات کو بھی یقینی بنایا جائے.
-

ایرانی وزیر خارجہ نے صدر ٹرمپ کے مذاکراتی دعوے کو مسترد کردیا
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ آئندہ ہفتے ایران سے مذاکرات ہوں گے۔ ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ نہ تو مذاکرات شروع کرنے کا کوئی انتظام طے پایا ہے اور نہ ہی کسی قسم کی گفت و شنید زیر غور ہے۔
سرکاری ایرانی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی نے واضح کیا کہ "ہم ٹرمپ کے اس بیان کو مسترد کرتے ہیں۔ نئے مذاکرات کے لیے کوئی معاہدہ، کوئی پیش رفت یا تیاری نہیں کی گئی۔ ایسی کسی بات چیت کا امکان بھی موجود نہیں ہے۔”
یہ بیان صدر ٹرمپ کی نیٹو سمٹ کے دوران صحافیوں سے گفتگو کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں امریکی صدر نے دعویٰ کیا تھا کہ "ایران اور اسرائیل دونوں اب تھک چکے ہیں، جنگ کا اختتام ہو چکا ہے اور دونوں فریقین اس سے مطمئن ہیں۔”صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ "ایرانی جوہری تنصیبات کے خلاف ممکنہ کارروائی کا جائزہ لیتے ہوئے ہم صرف اسرائیلی انٹیلی جنس پر انحصار نہیں کر رہے۔ ایران کے خلاف دباؤ کی پالیسی بدستور جاری رہے گی۔””اگلے ہفتے ایران سے بات چیت ہوگی اور ممکن ہے کہ کسی معاہدے پر دستخط بھی ہو جائیں۔ میرے لیے معاہدہ اہم نہیں ہے۔ وہ (ایرانی) جنگ لڑ چکے ہیں، اب وہ واپس اپنے معمول کی دنیا میں جانا چاہتے ہیں۔ میرے لیے یہ فرق نہیں رکھتا کہ معاہدہ ہو یا نہ ہو۔”
-

کراچی سےجدہ جانے والی پرواز حادثے سے بچ گئی
کراچی سےجدہ جانے والی سعودی ائیرلائن کا طیارہ حادثے سے بال بال بچ گیا۔
ذرائع کے مطابق کراچی سےجدہ جانے والی سعودی ائیرلائن کے طیارے کے ٹیک آف کرنے کے چند منٹ بعد ہی کپتان کو طیارے میں تکنیکی خرابی محسوس ہوئی جس کے بعد طیارے کی کراچی میں ہنگامی لینڈنگ کروائی گئی،سعودی ائیر لائن کاطیارہ کراچی سے جدہ جارہا تھا جس میں 200 سے زائد مسافر سوار تھے، پرواز کے کچھ دیر بعد ہی طیارے کے انجن میں آگ کی وارننگ آئی جس کے بعد ہنگامی لینڈنگ کیلئے اے ٹی سی نے رن وے کو خالی کرواکر طیارے کو لینڈ کرایا،سعودی ائیرلائن کے طیارے کے معائنے کیلئے انجینئرنگ ٹیم کو طلب کرلیا گیا ہے۔
-

سوات فضا گٹ میں 18 افراد سیلابی ریلے میں بہہ گئے
سوات میں بارش کے باعث سیلابی صورتحال، کئی سیاح پھنس گئے
سوات،مختلف مقامات پر ریلوں میں 70 افراد پھنس گئے تھے، مختلف مقامات پر ریلوں میں پھنسے 55 افراد کو ریسکیو کر لیا گیا ،سوات سے ایک افسوسناک خبر سامنے آئی ہے جہاں سیالکوٹ سے سیاحت کے لیے آئے ایک خاندان کے 18 افراد تیز بارش کے باعث دریا کے شدید بہاؤ میں بہہ گئے۔ریسکیو حکام کے مطابق متاثرہ خاندان سیالکوٹ سے سوات کی سیاحت کے لیے آیا تھا۔ یہ لوگ دریا کے کنارے بیٹھ کر ناشتہ کر رہے تھے کہ اچانک بارش شروع ہو گئی، جس کی وجہ سے دریا میں پانی کی سطح تیزی سے بڑھ گئی اور بہاؤ اتنا شدید ہو گیا کہ خاندان کے 18 افراد پانی میں بہہ گئے۔
ریسکیو حکام نے بتایا کہ تقریباً 8 بجے کے قریب ڈوبنے کی اطلاع موصول ہوئی۔ اس مقام پر بائی پاس پر کئی مہمان موجود تھے جو دریا کے کنارے بیٹھے تھے اور انہیں پانی کی تیز لہر کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور ریسکیو آپریشن کا آغاز کیا۔ اب تک 3 افراد کو بحفاظت نکالا جا چکا ہے جبکہ 5 لاشیں بھی برآمد ہو چکی ہیں۔ باقی مفقود افراد کی تلاش جاری ہے اور ریسکیو حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ محفوظ مقامات پر رہیں اور بارش کے دوران دریا کے قریب نہ جائیں۔مقامی انتظامیہ اور ریسکیو ٹیمیں مسلسل آپریشن میں مصروف ہیں تاکہ مزید جانی نقصان کو روکا جا سکے اور تمام مفقود افراد کو بازیاب کرایا جا سکے۔
ایک سیاح نے کہا کہ ان کے خاندان کے 10 افراد دریا میں بہہ گئے جن میں سے ایک خاتون کی لاش مل گئی ہے اور 9 بچوں کی تلاش جاری ہے،سیاح نے بتایا کہ ہم ناشتہ کرکے چائے پی رہے تھے اور بچے دریا کے پاس سیلفی لینے گئے، اس وقت دریا میں اتنا پانی نہیں تھا، اچانک سے پانی آیا تو بچے پھنس گئے، ریسکیو کو آگاہ کیا تو وہ ڈیڑھ سے 2 گھنٹے بعد آئے، یہ سب ان کے سامنے ہوا، ریسکیو کی موجودگی میں بچے دریا میں ڈوبے اور وہ بچا نہیں سکے۔
علی امین گنڈا پور گیارہ کروڑ کے بسکٹ کھا سکتے ہیں مگر سیلاب میں پھنسے 15 افراد کو نہیں بچا سکے۔پیپلز پارٹی
پیپلزپارٹی خیبر پختونخوا کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کی ناکامی ، علی امین گنڈا پور گیارہ کروڑ کے بسکٹ کھا سکتے ہیں مگر سیلاب میں پھنسے 15 افراد کو نہیں بچا سکے۔ افسوسناک واقعہ، دریائے سوات میں ایک ہی خاندان کے 15 افراد سیلابی ریلے میں ڈوب گئے، کئی گھنٹے امداد کے منتظر رہے۔https://x.com/PPPKP_Official/status/1938498292801016210
دوسری جانب خیبر پختونخوا میں4 مقامات پر سیلاب وارننگ جاری کر دی گئی،دریائے سوات میں خوازہ خیلہ کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ریکاڈ کیا گیا،تربیلہ ، وارسک اور ادینزئی کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے،
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نےدریائے سوات میں خوازہ خیلہ کے مقام پر سیلابی ریلے میں سیاحوں کی اموات پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہارکیا ہے،وزیرِ اعظم نے جاں بحق ہونے والے افراد کی مغفرت اور ان کے اہل خانہ کیلئے صبر کی دعا کی ہے،وزیرِ اعظم نے واقعے میں لاپتہ افراد کی جلد تلاش مکمل کرنے کی ہدایت کی،وزیراعظم نے NDMA، انتظامیہ و ریسکیو اداروں کو دریاؤں و ندی نالوں کے قریب حفاظتی تدابیر مزید مربوط بنانے کی ہدایت کی،
پانی کے تیز بہاؤ کے باوجود ریسکیو1122 کی امدادی کاروائیاں جاری ہیں،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا
وزیر اعلی خیبر پختونخوا نےسوات واقعہ پر اظہار افسوس کیا ہے ، خیبرپختونخوا کے بالائی علاقوں میں بارشوں اور سیلابی ریلے کی تباہ کاریوں پر اظہار افسوس کیا ہے اور کہا ہےکہ دریائے سوات میں سیلابی ریلے میں متعدد افراد بہہ گئے ہیں، ریسکیو1122 اور ضلعی انتظامیہ کا مختلف مقامات پر سرچ آپریشن جاری ہے، اب تک مختلف مقامات سے 4 جسد خاکی نکالے گئے ہیں، پانی کے تیز بہاؤ کے باوجود ریسکیو1122 کی امدادی کاروائیاں جاری ہیں،ریسکیو1122 کو مزید کاروائیاں تیز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، ریسکیو1122 تمام تر وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے تمام افراد کو جلد از جلد نکالے، بارشوں اور سیلابی ریلوں سے متعلق پہلے ہی الرٹ جاری کیے گئے، انتظامیہ سیاحوں اور مقامی افراد کو ان الرٹ پر عملدرآمد یقینی بنائے، ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ضلعی انتظامیہ سخت ترین اقدامات کرے، -

مشرق وسطیٰ میں جاری بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ،پردہ اٹھ گیا
چین اور ایران کی مشترکہ تحقیقات نے بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ سے پردہ اٹھا دیا
خلیجی ممالک میں بڑی تعداد میں بھارتی شہری آباد ہیں ،متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، قطر، بحرین اور عمان میں 9 ملین سے زائد بھارتی مقیم ہیں،متحدہ عرب امارات میں مقیم 4.3 ملین بھارتیوں میں بڑی تعداد سافٹ ویئر اور آئی ٹی ماہرین کی شامل ہے،اس حوالے سے چین اور ایران کی مشترکہ تحقیقات کے مطابق "بیشتر بھارتی پروگرامرز اسٹار لنک کے ذریعے بھارت سے براہ راست رابطے میں سرگرم پائے گئے”بھارتی سافٹ ویئر انجینئرز نے خلیجی ریاستوں میں ایران مخالف سافٹ ویئر کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا، ایران میں استعمال ہونے والے سافٹ ویئر کے ذریعےحساس مقامات کی تفصیلات اسرائیل منتقل ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے،
ایران میں 8 سے 10 سالہ منصوبہ بندی کے تحت تخریب کاری یونٹس نصب کیےگئے ، خلیجی ممالک میں مقیم بھارتیوں کے اسرائیل سے گٹھ جوڑ کے باعث پاکستان سمیت خطے کی سائبر سیکیورٹی کو شدید خطرات لاحق ہیں،پہلگام فالس فلیگ کی آڑ میں اسرائیل کی معاونت سے بھارت نے پاکستان پر بھی اسی طرز کی جارحیت کی ،مودی سرکار پاکستان کو عالمی سطح پر غیر مستحکم کرنے کے لیے بین الاقوامی فورمز کو ہتھیار بنا رہی ہے ،بھارت پاکستان میں منظم طریقے سے دہشتگردی پھیلا رہا ہے ،پاکستان میں دہشتگردی کے لیے بھارت کی فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کی سرپرستی کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں ،مشرق وسطیٰ میں بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان کے خلاف بھی اسی طرز کی سازش کی جا سکتی ہے
-

جھوٹے الزامات، مودی سرکار کی پاکستان دشمن مہم بے نقاب
مودی سرکار کا اندرونی انتشار اور سیکیورٹی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان پر بے بنیاد الزامات کا سلسلہ جاری ہے
ٹھوس ثبوت اور شواہد کی عدم موجودگی کے باوجود پاکستان پر الزام تراشی جاری ہے،بھارت میں پہلگام فالس فلیگ کی بنیاد پرگرفتاریوں کا سلسلہ تاحال تھم نہ سکا،فالس فلیگ آپریشنز اور الزام تراشیاں مودی کا سیاسی ہتھیار ہے،بے بنیاد الزامات اور بغیر کسی ثبوت کے آئے روز مودی کے زیرِ سرپرستی پولیس کے ہاتھوں نہتی عوام نشانے پرہے،حالیہ آپریشن سندور میں ہوئی ہزیمت چھپانے کے لیے مودی سرکار کی جانب سےبے گناہ شہریوں کی بلا ثبوت گرفتاریاں کی جا رہی ہیں
25 جون کو بھارتی نیول ہیڈکوارٹرز کے کلرک کو بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے پاکستان کے لیے جاسوسی میں ملوث ہونے پر گرفتار کر لیا گیا،بھارتی میڈیا "این ڈی ٹی وی” کے مطابق "کلرک وشال یادو کی گرفتاری کے بعد انٹیلیجنس ونگ نے وجوہات ظاہر کرنے سے گریز کیا” گرفتار کلرک کا تعلق ہریانہ سے ہے، نیوی ہیڈکوارٹر میں اپر ڈویژن کلرک کے طور پر تعینات تھا، ویشال یادو کی گرفتاری کے باوجود اب تک واضح نہیں ہو سکا کہ مبینہ طور پر فراہم کردہ معلومات کی نوعیت کیا تھی، سنگین الزامات کے باوجود شواہد اور تفصیلات منظرِ عام پر نہیں لائی گئیں، وشال یادو نے مبینہ طور پر آپریشن سندور کے دوران حساس معلومات شیئر کیں،
اس سے قبل مودی سرکار نے بی جے پی کی حامی یوٹیوبر پر پاکستان کے لیے جاسوسی کا بے بنیاد الزام عائد کیاتھا،بغیر شواہد پاکستان پر الزام تراشی، بھارتی سیکیورٹی اداروں کی پیشہ ورانہ ناکامی کا ثبوت ہے،مودی راج میں فالس فلیگ، الزام تراشی، اور میڈیا ٹرائل بھارتی ریاستی پالیسی بن چکی ہے،بی جے پی حکومت کی طے شدہ منصوبے کے تحت پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کی ناکام کوششیں
