Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • چین نے بھارت کو خصوصی کھاد کی ترسیل روک دی

    چین نے بھارت کو خصوصی کھاد کی ترسیل روک دی

    چین نے بھارت کو خصوصی کھاد کی ترسیل روک دی

    نایاب معدنیات کی برآمدات پر پابندی کے بعد چین نے اب بھارت کو کھادوں کی ترسیل بھی روک دی،خود انحصاری اور آتم نربھر کی دعویدار بھارت کی حقیقت، چینی کھاد کے بغیر زراعت مفلوج ہو گئی،بھارت کی قیمتی فصلیں چینی کھاد کے بغیر بے یار و مددگار، 80 فیصد خصوصی کھاد چین کے رحم و کرم پر ہیں،دی اکنامک ٹائمز آف انڈیا کے مطابق چین نے گزشتہ دو ماہ سےبھارت کو خصوصی کھاد کی ترسیل بند کر دی ہے،چین دیگر ممالک کو ان کھادوں کی ترسیل جاری رکھے ہوئے ہے، پھلوں و سبزیوں کی فصلوں کے لیےبھارت کا 80 فیصد خصوصی کھاد کا انحصار چین پر ہے، خصوصی کھادیں فصلوں کی پیداوار ، مٹی کی صحت اور غذائی اجزاء کے استعمال کو بہتر بناتی ہیں، چین بھارت کو براہِ راست پابندی کے بغیر مختلف طریقوں سے برآمدات روک رہا ہے، سرحدی کشیدگیوں اور بھارتی تجارتی پابندیوں کے ردعمل میں چین نے کھادوں کی برآمدات روکی ہیں،بھارت ،چین سے جون سے دسمبر تک 1.6 لاکھ ٹن خصوصی کھادیں درآمد کرتا ہے، بھارت کے پاس خصوصی کھادیں بنانے کی ٹیکنالوجی نہیں ہے،

    چین کی لگائی گئی پابندیوں نے بھارت کو غذائی عدم تحفظ کے دہانے پر لا کھڑا کردیا ،مودی سرکار کے آتم نربھر بھارت اور خود انحصاری کے نعرے محض سیاسی تماشہ ہیں

  • پہلگام فالس فلیگ کے بعد مودی سرکار کا ایک اور فالس فلیگ ڈرامہ بے نقاب

    پہلگام فالس فلیگ کے بعد مودی سرکار کا ایک اور فالس فلیگ ڈرامہ بے نقاب

    مودی سرکار کا ایک اور فالس فلیگ آپریشن بے نقاب ہو گیا

    جنگی جنون میں مبتلا مودی سرکار اپنی عوام کو بیوقوف بناتے ہوئے فالس فلیگ آپریشن کی حکمت عملی جاری رکھے ہوئے،مودی کے جنگی جنون کو سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلایا جا رہا ہے ،26 جون کو بھارتی ایکس اکاؤنٹ نے ادھم پور کے علاقے بسنت گڑھ میں دہشت گردوں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان تصادم کی اطلاع دی،بھارتی ٹویٹ میں کہا گیا کہ پاکستان کے جیش محمد کے دہشت گرد ہندوستانی فوج کے 6 پیراکے اسپیشل فورسز کے گھیرے میں ، جیش محمد اور بھارتی فو ج کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے،

    ابھی تک فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے جبکہ حسب روایت بغیر کسی ثبوت کے ان دہشتگردوں کو پاکستان سے جوڑ دیا گیا ،مودی سرکار خودساختہ بیانیے کو پھیلانے کے لئے فالس فلیگ کا سہارا لیتی ہے جبکہ یہ حربہ بری طرح ناکام ہو چکا ہے ،اس سے قبل بھی بھارت نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے جھوٹ کا سہارا لیکر پاکستان کیخلاف کھلی جارحیت کا ارتکاب کیا،مودی سرکار نے اگر دوبارہ جارحیت کی کوشش کی تو اسے منہ کی کھانا پڑے گی

  • ریپبلکنز کی جانب سے زہران ممدانی کی شہریت منسوخ کرنے  کی تیاری

    ریپبلکنز کی جانب سے زہران ممدانی کی شہریت منسوخ کرنے کی تیاری

    ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے قانون سازوں نے زہران ممدانی کی امریکی شہریت منسوخ کرنے اور انہیں ملک بدر کرنے کی قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

    زہران ممدانی بھارتی نژاد امریکی سیاستدان ہیں، وہ سوشلسٹ نظریات کے حامل اور عوامی فلاحی اسکیموں کے بھرپور حامی رہے ہیں، جن میں کم آمدنی والوں کے لیے رہائش، صحت کی سہولیات، اور تعلیم شامل ہیں۔ ان کی پالیسیاں اکثر ریپبلکن رہنماؤں کی مخالفت کا نشانہ بنتی رہی ہیں۔ذرائع کے مطابق، ریپبلکن پارٹی کے چند انتہا پسند حلقے زوہران ممدانی پر "امریکی مفادات کے خلاف سرگرمیوں” کا الزام لگا رہے ہیں۔ ان کے فلسطین کے حق میں دیے گئے بیانات اور اسرائیلی پالیسیوں پر شدید تنقید کو بنیاد بنا کر ان کے خلاف ملک دشمنی اور غیر وفاداری کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔

    ریپبلکن رہنما جیسن پیری کا کہنا تھا”ہم امریکہ میں ایسے لوگوں کو برداشت نہیں کر سکتے جو ہمارے دشمنوں کے بیانیے کو فروغ دیتے ہیں۔ شہریت ایک اعزاز ہے، اگر کوئی اس ملک کے مفاد کے خلاف کام کرے تو یہ اعزاز چھینا جا سکتا ہے۔”

    امریکی آئین کے مطابق، فطری طور پر پیدا ہونے والے شہریوں کی شہریت ختم نہیں کی جا سکتی، البتہ قدرتی طور پر (naturalized) شہریوں کی شہریت خاص قانونی بنیادوں پر واپس لی جا سکتی ہے، جیسے کہ جعلسازی، دشمن ریاست کے ساتھ تعلق یا دہشت گردی میں ملوث ہونا۔

    ادھر معروف امریکی سرمایہ کار بل ایک مین (Bill Ackman) نے جمعے کی صبح ایک پراسرار ٹویٹ کیا "مجھے ایک زبردست خیال آیا ہے جو نیویارک کے بارے میں ہے۔ میں جلد اسے شیئر کروں گا۔ صبح ڈپریس محسوس کر رہا تھا، اب پُرامید ہوں۔”چند لمحوں بعد انہوں نے ایک اور ٹویٹ میں کہا "ہم قانونی پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔”ان کے اس بیان نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا ان کا اشارہ زوہران ممدانی کے کیس کی طرف ہے یا نیویارک میں کسی ممکنہ سیاسی مداخلت یا تحریک کا۔

    واضح رہے کہ زہران ممدانی نے نیویارک میئر کے لیے ہونے والے ڈیموکریٹک پارٹی کے انتخاب میں کامیابی حاصل کرلی، مخالف امیدوار اینڈریو کومو نے اپنی شکست کو تسلیم کرلیا،بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق زہران ممدانی نے 43 فیصد سے زائد ووٹ حاصل کئے، جبکہ ان کے مخالف اُمیدوار اینڈریو کومو 36 فیصد ووٹ حاصل کر سکے،رپورٹس کے مطابق کامیابی کے بعد زہران ممدانی نے اپنے ووٹرز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ اُن کے لیے اعزاز کی بات ہے کہ وہ اب ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے نیو یارک کے مئیر کا انتخاب لڑیں گے،ممدانی کو امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے سیاسی، معاشی اور میڈیا اسٹیبلشمنٹ کا مقابلہ کیا اور انہیں شکست دی۔ اُمید ہے کہ آپ میئر کا الیکشن بھی جیتیں گے،کوئنز علاقے کے رکن اسمبلی ممدانی کو نوجوان ووٹرز کی خاص طور پر حمایت حاصل ہے جو آخری روز لانگ آئی لینڈ سٹی میں انتخابی مہم میں مصروف رہے،رپورٹس کے مطابق 33 برس کے ممدانی ڈیموکریٹک سوشلسٹ تصور کیے جاتے ہیں اور پچھلے چند ماہ میں تیزی سے ابھر کرصف اول کھڑے ہوچکے ہیں،ممدانی نے سٹی بس اور چائلڈ کیئر کومفت کرنے کا وعدہ کیا ہوا ہے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں کم کرنے کی مہم چلاتے رہے ہیں۔

    زہران قامی ممدانی کا نیویارک کے آئندہ میئر کی حیثیت سے انتخاب یقینی ہوچکا ہے ۔ وہ ماہر تعلیم محمود ممدانی اور فلم میکر میرا نائر کے فرزند ہیں۔ زہران ممدانی نیویارک اسٹیٹ اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ان کا تعلق ڈیموکریٹک پارٹی سے ہے اور ان کا نیویارک میئر کے عہدہ کیلئے ہونے والے چناؤ میں انتخاب یقینی دکھائی دے رہا ہے ۔ ممدانی 18 اکتوبر 1991 کو یوگنڈا میں پیدا ہوئے اور کچھ عرصہ تک ساؤتھ افریقہ میں قیام کے بعد 7 سال کی عمر میں امریکہ منتقل ہوئے اور نیو یارک میں مستقل مقیم ہوگئے۔ برانکس ہائی اسکول آف سائنس سے ممدانی نے گریجویٹ کیا اور باوڈوین کالج سے افریقین اسٹڈیز میں بیچلرس کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے سیاست میں داخلہ سے قبل ہاؤزنگ کونسلر اور میوزیشن کی حیثیت سے کام کیا تھا ۔ 2020 میں پہلی مرتبہ نیویاریک اسٹیٹ اسمبلی کیلئے منتخب ہوئے۔ انہوں نے چار میعادوں تک رکن رہنے والے اراویلا سموٹاس کو شکست دی تھی۔ 2024 میں ممدانی نے میئر کے الیکشن کیلئے اپنی امیدواری کا اعلان کیا۔ انتخابی مہم میں وہ عوام سے کئی وعدے کئے جن میں فری سٹی بس سرویس ، پبلک چائلڈ کیر سرکاری سطح پر گراسیری اسٹورس اور معاشی طورپر کمزور افراد کیلئے رعایتی ہاؤزنگ شامل ہیں۔ وہ اسرائیل کے ناقد ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران زہران ممدانی کو مختلف گوشوں کی تائید حاصل ہوئی ہے۔ وہ ساؤتھ ایشین پہلے شہری ہیں جو نیویارک کے میئر ہوں گے۔ وہ نیویارک کے پہلے مسلم میئر بھی ہوں گے ۔ 33 سال کی عمر میں میئر کے عہدہ پر فائز ہونے والے زہران ممدانی پہلے نوجوان میئر ہوں گے۔ممدانی غزہ میں فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیل کے رویہ کے سخت خلاف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نتن یاہو کو گرفتار کیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے منتخب ہونے کے بعد نفرت پر مبنی جرائم کو روکنے کا تیقن دیا ۔ نیویارک میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً ایک ملین ہے اور ممدانی نے مہم کے دوران مساجد کا دورہ کرتے ہوئے تائید کی اپیل کی۔ انتخابی مہم کے لئے سوشیل میڈیا کا بھی موثر استعمال کیا جارہا ہے ۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک شہر کی میئر شپ کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کے تمہیدی انتخابات میں بھارتی نژاد امیدوار زہران ممدانی کی کامیابی پر ڈیموکریٹس کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا، اور ممدانی کے خلاف سخت اور ذاتی حملے کییٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ٹروتھ سوشل” پر لکھا کہ زہران ممدانی ”سو فی صد پاگل کمیونسٹ ہے”۔ انھوں نے نہ صرف سیاسی بلکہ ذاتی سطح پر بھی ممدانی کو ہدف بنایا۔ ٹرمپ کے مطابق ”وہ دیکھنے میں بھی خوف ناک لگتا ہے، اس کی آواز کرخت ہے، اور وہ زیادہ ذہین بھی نہیں ہے”۔ ٹرمپ نے ممدانی کی جیت کو ”ملکی تاریخ کا ایک بڑا لمحہ” قرار دیا، جس سے ان کے بقول امریکہ ایک انتہا پسند بائیں بازو کی طرف بڑھ رہا ہے۔زہران ممدانی، جو خود کو ”ڈیموکریٹک سوشلسٹ” کہتے ہیں، نیویارک کے عوام کو درپیش اہم مسائل جیسے کرایوں پر پابندی، مفت بس سروس، اور بچوں کے لیے ہمہ گیر نگہداشت کی فراہمی جیسے نکات پر اپنی مہم چلا کر نمایاں ہوئے۔

  • مخصوص نشستیں ،نظر ثانی کیس،سپریم کورٹ کا بینچ ٹوٹ گیا

    مخصوص نشستیں ،نظر ثانی کیس،سپریم کورٹ کا بینچ ٹوٹ گیا

    مخصوص نشستوں سے متعلق نظر ثانی کیس سننے والا سپریم کورٹ کا بینچ ٹوٹ گیا۔

    سپریم کورٹ میں جاری مخصوص نشستیں کی نظر ثانی کیس کی سماعت کے آغاز میں جسٹس صلاح الدین پنہور نےکیس سننے سے معذرت کرلی جس پر کیس کی سماعت کرنے والا بینچ ٹوٹ گیا،سماعت کے آغاز میں جسٹس صلاح الدین پنہور نے کہا کہ عوام کا عدلیہ پر اعتماد لازم ہے، ضروری ہے کسی فریق کا بینچ پر اعتراض نا ہو،جسٹس صلاح الدین نے کہا کہ حامد خان نے بینچ میں کچھ ججز کی شمولیت پر اعتراض کیا، جن ججز کی 26 ویں ترمیم کےبعد بینچ میں شمولیت پراعتراض ہوا میں بھی ان میں شامل ہوں، میں ان وجوہات کی بنا پر بینچ میں مزید نہیں بیٹھ سکتا، میں اپنا مختصر فیصلہ پڑھنا چاہتا ہوں۔

    جسٹس صلاح الدین نے وکیل حامد خان سے کہا کہ آپ کا اعتراض ہمارے اس بینچ میں بیٹھنے سے تھا، ذاتی طور پر تو آپ کا میرا ساتھ 2010 سے رہا ہے، آپ کےدلائل سے میں ذاتی طور پر رنجیدہ ہوا مگریہاں میری ذات کا معاملہ نہیں ہے،جسٹس صلاح الدین نے کہا کہ ججز پر جانبداری کا الزام لگاجس سے تکلیف ہوئی، عوام میں یہ تاثرجانا کہ جج جانبدار ہے، درست نہیں ہے۔

    اس موقع پر وکیل حامد خان نے کہا کہ میں آپ کے اقدام کا خیر مقدم کرتا ہوں، اس پر جسٹس امین الدین نے کہا کہ یہ خیرمقدم کرنے کا معاملہ نہیں ہے، ہم اسی کیس میں سنی اتحادکونسل کے دوسرے وکیل کو سن رہے ہیں،جسٹس جمال مندوخیل نے وکیل حامد خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب آپ کے کنڈکٹ کی وجہ سے ہوا ہے، ہم نے آپ کا لحاظ کرتے ہوئے آپ کو موقع دیا، آپ اس کیس میں دلائل دینے کے حقدار نہیں تھے،بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت میں 10 منٹ کا وقفہ کردیا۔

  • بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی   کے ساتھ  معاہدے کی معطلی لازم ہوگئی،ایرانی وزیرخارجہ

    بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ساتھ معاہدے کی معطلی لازم ہوگئی،ایرانی وزیرخارجہ

    تہران: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے ساتھ ایران کے تعاون کے معاہدے کی معطلی اب قانونی طور پر لازم ہوگئی ہے۔ یہ قدم ایرانی شوریٰ نگہبان (Guardian Council) کی منظوری کے بعد قابل عمل ہوگا۔

    عباس عراقچی نے کہا کہ ایران اور آئی اے ای اے کے مابین تعلقات اور تعاون اب ایک نئی شکل اختیار کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ شوریٰ نگہبان کی توثیق کے بعد پارلیمنٹ کے منظور کردہ بل کے تحت ایٹمی ایجنسی کے ساتھ موجودہ معاہدے کو معطل کرنا ایران پر لازم ہو گیا ہے، اور اس عمل میں کسی قسم کا کوئی شک و شبہ نہیں۔

    ایرانی پارلیمنٹ نے حال ہی میں ایک بل منظور کیا تھا جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ ایران بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ساتھ اپنے تعاون کو معطل کر دے، جس کی توثیق شوریٰ نگہبان نے گزشتہ روز کر دی۔یہ اقدام ایران کے عالمی ایٹمی معاہدے اور اس کے نفاذ کے حوالے سے ایک اہم موڑ سمجھا جا رہا ہے، جو ملک کی بین الاقوامی پوزیشن اور خطے میں ایٹمی صورتحال پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔

  • ایریزونا میں 51 سالہ شخص نے پادری کو سولی پر چڑھا دیا، گرفتار

    ایریزونا میں 51 سالہ شخص نے پادری کو سولی پر چڑھا دیا، گرفتار

    ایریزونا سے ایک سنسنی خیز خبر آ رہی ہے جہاں ایک 51 سالہ شخص کو گرفتار کیا گیا ہے جس نے ایک عیسائی پادری کو سولی پر چڑھا دیا اور اس کے سر پر کانٹوں کا تاج رکھ دیا۔

    ملزم، ایڈم کرسٹوفر شیف، جس کے گردن پر عبرانی زبان میں ایک ٹیٹو ہے، نے خود اعتراف کیا ہے کہ اس نے 10 ریاستوں میں 14 عیسائی رہنماؤں کے قتل کی منصوبہ بندی کی تھی۔ اس کا کہنا ہے کہ اس کا یہ عمل ایک مذہبی مشن کا حصہ تھا جسے اس نے "آپریشن فرسٹ کمانڈمنٹ” کا نام دیا تھا۔ایڈم شیف کا پرانا عہد نامہ کے ساتھ گہرا جنون تھا اور وہ نئے عہد نامہ کی سخت مخالفت کرتا تھا۔ اس کے مطابق اس کی یہ کارروائیاں مذہب کی شدت پسندی کی بنیاد پر کی گئی تھیں۔یہ ملزم تب گرفتار ہوا جب وہ سڈونا جا رہا تھا تاکہ دو کیتھولک پادریوں کو سولی پر چڑھا سکے۔یہ واقعہ ایک بڑے مذہبی تشدد کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے اور اس کی تحقیقات جاری ہیں۔

  • فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا سول سروسز اکیڈمی کے  افسران سے خطاب

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا سول سروسز اکیڈمی کے افسران سے خطاب

    فیلڈ مارشل، چیف آف آرمی اسٹاف سید عاصم منیر، نے سول سروسز اکیڈمی کے 52ویں عام تربیتی پروگرام (CTP) کے پروبیشنری افسران کے ساتھ آرمی آڈیٹوریم میں ایک سیشن میں ملاقات کی۔

    سول سروسز اکیڈمی کے یہ پروبیشنری افسران پاکستان آرمی کی مختلف یونٹوں کے ساتھ پرامن مقامات اور کشمیر، خیبرپختونخواہ اور بلوچستان کے آپریشنل علاقوں میں منسلک رہے۔ اس دوران انہیں تینوں مسلح افواج کے مختلف شعبوں میں قیمتی تجربات حاصل ہوئے۔چیف آف آرمی اسٹاف کے ساتھ یہ ملاقات ایک وسیع تر قومی مہم کا حصہ تھی جس کا مقصد پاکستان کی سول و عسکری قیادت کے درمیان باہمی ہم آہنگی اور تفہیم کو فروغ دینا ہے۔

    اپنے خطاب میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے قومی سلامتی، اندرونی اور بیرونی چیلنجز، اور پاکستان آرمی کے علاقائی امن اور قومی استحکام میں کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے ادارہ جاتی ہم آہنگی، باہمی احترام اور قومی مفادات کے لیے متحدہ کاوشوں کی ضرورت پر زور دیا۔چیف آف آرمی اسٹاف نے ایک موثر، شفاف اور خدمت گزار سول بیوروکریسی کے کردار کو بھی اجاگر کیا اور نوجوان افسران سے ملک کے لیے اعلیٰ اخلاقیات، پیشہ ورانہ مہارت اور حب الوطنی کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی۔

    پروبیشنری افسران نے سینئر عسکری قیادت سے ملاقات کے موقع پر پاکستان آرمی کی حکمت عملی، آپریشنل تیاری اور قومی ترقی میں اس کے متنوع کردار کو سمجھنے کا موقع ملنے پر گہری قدردانی کا اظہار کیا۔ملاقات کے اختتام پر ایک سوال و جواب کا سیشن بھی ہوا جس میں تعمیری مکالمے، مشترکہ ذمہ داری اور پاکستان کی ترقی کے لیے اجتماعی عزم کا مظاہرہ کیا گیا۔

  • حکومت نے ہمارے تمام مطالبات مانے اس لیے بجٹ کی حمایت کی۔ بلاول

    حکومت نے ہمارے تمام مطالبات مانے اس لیے بجٹ کی حمایت کی۔ بلاول

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ خوشی ہے اس بجٹ کو سپورٹ کر رہے ہیں، حکومت نے ہمارے تمام مطالبات مانے اس لیے ہم نے بجٹ کی حمایت کی۔

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نے بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام میں 20 فیصد اضافہ کیا،پی ٹی آئی دور میں بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام کی مد میں رقم کم کی گئی،حکومت نے سولر سے متعلق ہمارے مطالبات کو مانا اس لیے ہم نے سپورٹ کیا،سولر کے ٹیکس میں کمی کی گئی،کل ہمارے حکومت نے مطالبات مانے، ہم حکومت کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، ایف بی آر کو گرفتاری کا اختیار دینے سے متعلق ہمارے مطالبات مانے گئے، ایف بی آر کی گرفتاری کو قابل ضمانت قرار دیا، جو ترامیم پیپلز پارٹی بجٹ میں چاہ رہی تھی وہ حکومت نے مان لئے ہیں ،اس لئے ہم اس بجٹ کو منظور کریں گے

  • کراچی سے گرفتار ’را‘ کے 4 مبینہ ایجنٹس جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

    کراچی سے گرفتار ’را‘ کے 4 مبینہ ایجنٹس جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

    کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن سے گرفتار بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ سے تعلق رکھنے والے چار مبینہ ایجنٹس کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے تمام ملزمان کو سات روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔

    عدالت نے حکم دیا کہ تفتیشی افسر آئندہ سماعت پر، جو کہ 2 جولائی 2025 کو مقرر کی گئی ہے، پیشرفت رپورٹ کے ہمراہ ملزمان کو دوبارہ عدالت میں پیش کریں۔گرفتار ملزمان کی شناخت محمد خان، اختر علی، امید علی تھہیم اور جمین ملاح کے ناموں سے ہوئی ہے۔ تفتیشی افسر کے مطابق، چاروں افراد بھارتی خفیہ ایجنسی "را” کے تربیت یافتہ ایجنٹس ہیں اور انہوں نے اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر پاکستان کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی سازش کی۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزمان کے قبضے سے ہینڈ گرنیڈ بھی برآمد ہوئے ہیں۔

    یاد رہے کہ اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) نے گزشتہ دنوں کراچی کے علاقے قائدآباد سے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے چاروں دہشتگردوں کو گرفتار کیا تھا۔ ایس ایس پی ایس آئی یو شعیب میمن کے مطابق، گرفتار ملزمان سال 2024 میں سجاول کے راستے غیر قانونی طور پر بھارت گئے جہاں انہوں نے دہشت گردی کی تربیت حاصل کی۔پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار دہشتگرد بھارت میں ایک بھارتی کرنل کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے اور ان کے موبائل فونز سے ملک دشمن مواد بھی برآمد ہوا ہے، جس سے ان کے ’را‘ سے رابطے کی تصدیق ہوتی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور مزید اہم انکشافات کی توقع کی جا رہی ہے۔ اس کارروائی کو کراچی میں بھارتی خفیہ نیٹ ورک کے خلاف ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

  • نوجوان نسل کو نشے کے زہر سے بچانا قومی ذمے داری ہے،ڈاکٹر ضیاء الدین اسلام

    نوجوان نسل کو نشے کے زہر سے بچانا قومی ذمے داری ہے،ڈاکٹر ضیاء الدین اسلام

    وزارتِ صحت کے تمباکو کنٹرول سیل کے سابق تکنیکی سربراہ، ڈاکٹر ضیاء الدین اسلام نے انسداد منشیات کے عالمی دن کے موقع پر منشیات کے پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نشہ آور اشیاء خصوصاً تمباکو اور دیگر منشیات کا زہر ہمارے معاشرے میں خطرناک حد تک پھیلتا جا رہا ہے، جو بالخصوص تعلیمی اداروں میں نوجوان نسل کو متاثر کر رہا ہے۔

    ڈاکٹر ضیاء الدین اسلام کا کہنا تھا کہ نوجوان ہمارا مستقبل ہیں، اور اگر وہ نشے جیسی لعنت میں مبتلا ہو گئے تو ملک کی ترقی کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا،یہ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم طلبا کو تمباکو نوشی اور منشیات کے طویل المدتی مضر اثرات سے آگاہ کریں، تاکہ وہ ذہنی دباؤ یا کسی اور پریشانی میں مبتلا ہوکر غلط فیصلے نہ کریں۔ڈاکٹر ضیاء الدین اسلام نے زور دیا کہ نوجوانوں کو مثبت، تعمیری اور صحت مند سرگرمیوں کی طرف راغب کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے والدین، اساتذہ، پالیسی سازوں اور سول سوسائٹی سے اپیل کی کہ وہ ایک مشترکہ قومی حکمتِ عملی کے تحت اس سماجی ناسور کے خلاف متحد ہو جائیں،انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ اگر ہم سب مل کر اپنا کردار ادا کریں تو تمباکو نوشی اور منشیات کے خلاف جنگ جیتی جا سکتی ہے اور ہم ایک صحت مند، باوقار اور باشعور معاشرہ تشکیل دینے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

    انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تمباکو مصنوعات پر ٹیکس مزید بڑھائے تاکہ نوجوانوں کی رسائی ان تک محدود ہو جائے۔انسدادِ تمباکو و منشیات قوانین پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے، خاص طور پر تعلیمی اداروں کے ارد گرد تمباکو مصنوعات کی فروخت پر مکمل پابندی عائد کی جائے اور ہر ضلع میں ٹاسک فورس تشکیل دی جائے جو منشیات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔